حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ الْمَالُ، حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Hurairah narrated that the Prophet(s.a.w) said:
By the One in Whose Hand is my soul! Ibn Mariam shall soon descend among you, judging justly. He shall break the cross, kill the pig, remove the Jizyah, and wealth will be so bountiful that there will be none to accept it.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عنقریب تمہارے درمیان عیسیٰ بن مریم حاکم اور منصف بن کر اتریں گے، وہ صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، اور مال کی زیادتی اس طرح ہو جائے گی کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہ ہو گا“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع ۱۰۲ (۲۲۲۲)، والمظالم ۳۱ (۲۴۷۶)، والأنبیاء ۴۹ (۳۴۴۸)، صحیح مسلم/الأیمان ۷۰ (۱۵۵)، سنن ابن ماجہ/الفتن ۳۳ (۴۰۷۸) (تحفة الأشراف : ۱۳۲۲۸)، و مسند احمد (۲/۲۳۰، ۲۷۲، ۳۹۴، ۴۸۲، ۵۳۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : علماء کا کہنا ہے کہ دیگر انبیاء کو چھوڑ کر عیسیٰ علیہ السلام کے نزول میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ اس نزول سے یہود کے اس زعم کو کہ انہوں نے عیسیٰ کو قتل کیا ہے، باطل کرنا مقصود ہے، چنانچہ نزول عیسیٰ سے ان کے جھوٹ کی قلعی کھل جائے گی۔
2233
Sahih