حدثنا سويد بن نصر اخبرنا عبد الله بن المبارك عن حماد بن سلمة عن عبيد الله بن ابي بكر بن انس عن انس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هذا ابن آدم وهذا اجله ووضع يده عند قفاه ثم بسطها فقال: وثم امله وثم امله وثم امله قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح وفي الباب عن ابي سعيد.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ابن آدم ہے اور یہ اس کی موت ہے“، اور آپ نے اپنا ہاتھ اپنی گدی پر رکھا پھر اسے دراز کیا اور فرمایا: ”یہ اس کی امید ہے، یہ اس کی امید ہے، یہ اس کی امید ہے“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الزہد ۲۷ (۴۲۳۲) (تحفة الأشراف : ۱۰۷۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : مفہوم یہ ہے کہ ابن آدم کی زندگی کی مدت بہت مختصر ہے، موت اس سے قریب ہے، لیکن اس کی خواہشیں اور آرزوئیں لامحدود ہیں، اس لیے آدمی کو چاہیئے کہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنی مختصر زندگی کو پیش نظر رکھے، اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے کی فکر کرے۔
2334
Sahih