Surat ul Fateha
Surah: 1
Verse: 2
سورة الفاتحة
الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۲﴾
The Entirely Merciful, the Especially Merciful,
بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ۔
الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۲﴾
The Entirely Merciful, the Especially Merciful,
بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ۔
Ar-Rahman (the Most Gracious), Ar-Rahim (the Most Merciful). We explained these Names in the Basmalah. Al-Qurtubi said, "Allah has described Himself by `Ar-Rahman, Ar-Rahim' after saying `the Lord of the Alamin', so His statement here includes a warning, and then an encouragement. Similarly, Allah said, نَبِّىءْ عِبَادِى أَنِّى أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ الْعَذَابُ الاٌّلِيمُ Declare (O Muhammad) unto My servants, that truly, I am the Oft-Forgiving, the Most Merciful. And that My torment is indeed the most painful torment. (15:49-50) Allah said, إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ Surely, your Lord is swift in retribution, and certainly He is Oft-Forgiving, Most Merciful. (6:165) Hence, Rabb contains a warning while Ar-Rahman Ar-Rahim encourages. Further, Muslim recorded in his Sahih that the Messenger of Allah said, لَوْ يَعْلَمُ الْمُوْمِنُ مَا عِنْدَ اللهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ فِي جَنَّتِهِ أَحَدٌ وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ مِنْ رَحْمَتِهِ أَحَدٌ If the believer knew what punishment Allah has, none would have hope in acquiring His Paradise, and if the disbeliever knew what mercy Allah has, none will lose hope of earning His earning. Indicating Sovereignty on the Day of Judgment Allah said next, مَـالِكِ يَوْمِ الدِّينِ (
بہت بخشش کرنے والا بڑا مہربان اس کی تفسیر پہلے پوری گزر چکی ہے اب اعادہ کی ضرورت نہیں ۔ قرطبی فرماتے ہیں آیت ( رب العلمین کے وصف کے بعد آیت ( الرحمن الرحیم کا وصف ترہیب یعنی ڈراوے کے بعد ترغیب یعنی امید ہے ۔ جیسے فرمایا آیت ( نبی عبادی الخ یعنی میرے بندوں کو خبر دو کہ میں ہی بخشنے والا مہربان ہوں اور میرے عذاب بھی دردناک عذاب ہیں ۔ اور فرمایا تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور مہربان اور بخشش بھی کرنے والا ہے ۔ رب کے لفظ میں ڈراوا ہے اور رحمن اور رحیم کے لفظ میں امید ہے ۔ صحیح مسلم شریف میں بروایت حضرت ابوہریرہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ایماندار اللہ کے غضب و غصہ سے اور اس کے سخت عذاب سے پورا وقف ہوتا تو اس کے دل سے جنت کی طمع ہٹ جاتی اور اگر کافر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی رحمتوں کو پوری طرح جان لیتا تو کبھی ناامید نہ ہوتا ۔
ف 1 رحمن بروز فعلان اور رحیم بر وزن فعیل ہے۔ دونوں مبالغے کے صیغے ہیں۔ جن میں کثرت اور دوام کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ بہت رحم کرنے والا ہے اور اس کی یہ صفت دیگر صفات کی طرح دائمی ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں رحمٰن میں رحیم کی نسبت زیادہ مبالغہ ہے اسی لیے رحمٰن الدنیا والآخرہ کہا جاتا ہے۔ دنیا میں اس کی رحمت جس میں بلا تخصیص کافر و مومن سب فیض یاب ہو رہے ہیں اور آخرت میں وہ صرف رحیم ہوگا۔ یعنی اس کی رحمت صرف مومنین کے لئے خاص ہوگی۔ اللھم اجعلنا منھم۔ آمین
[٧] رحمن اور رحیم کا فرق پہلی آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم میں بتایا جاچکا ہے۔ ان الفاظ کو یہاں دوبارہ لانے کا مقصد صرف اس بات کا اظہار ہے کہ تمام جہانوں کی ربوبیت عامہ کے تقاضے صرف اسی صورت میں پورے ہوسکتے ہیں جب ان عالمین کا پروردگار رحمن بھی ہو اور رحیم بھی ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ رحمن اور رحیم نہ ہوتا تو یہ دنیا کبھی آباد نہ رہ سکتی بلکہ کب کی فنا ہوچکی ہوتی۔
الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. یہ دوسری اور تیسری صفت ہے۔ جب سارے جہانوں کی ربوبیت کا ذکر ہوا تو ساتھ ہی اللہ کی بیحد و حساب رحمت کا ذکر ہوا، کیونکہ رحمت کے بغیر ربوبیت ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ دونوں رحم میں سے مبالغے کے صیغے ہیں۔ معنی دونوں کا بہت زیادہ رحم والا ہے، مگر اس پر اتفاق ہے کہ ” الرَّحْمٰنِ “ میں مبالغہ زیادہ ہے، کیونکہ اس کے حروف ” الرَّحِيْمِ “ سے زیادہ ہیں (اور حروف کی زیادتی سے معنی میں زیادتی ظاہر ہوتی ہے) اور اس لیے بھی کہ لفظ ” اللہ “ کی طرح ” رحمان “ بھی صرف باری تعالیٰ کے لیے بولا جاتا ہے، جب کہ ” رحیم “ بعض اوقات مخلوق پر بھی آجاتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق فرمایا : (بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيم) [ التوبۃ : ١٢٨ ] ” مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے یہاں رحم میں مبالغے کا اظہار کرنے کے لیے دو لفظ کیوں ذکر فرمائے ؟ بعض اہل علم نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ تاکید کے لیے ہے، مگر اکثر علماء ایک مادے (رحم) سے مشتق ہونے کے باوجود ان دونوں کے درمیان فرق مانتے ہیں۔ اکثر مفسرین نے فرمایا کہ ” الرَّحْمٰنِ “ کا معنی بڑی بڑی نعمتیں عطا کرنے والا اور ” الرَّحِيْمِ “ کا معنی دقیق اور باریک نعمتوں سے نوازنے والا ہے۔ بعض نے فرمایا کہ رحمٰن وہ ہے جس کی رحمت سب کے لیے عام ہے، مسلم ہوں یا کافر، جب کہ رحیم وہ ہے جو خاص طور پر مومنوں کو رحمت سے نوازنے والا ہے۔ بعض نے فرمایا کہ رحمٰن وہ ہے جس کی رحمت دنیا میں مسلم و کافر سب کے لیے اور آخرت میں صرف مسلمانوں کے لیے ہے اور رحیم وہ جو آخرت میں خاص مسلمانوں پر رحم کرنے والا ہے۔ مگر ان تینوں اقوال کی پختہ دلیل، جس پر اعتراض نہ ہو، مجھے معلوم نہیں ہوسکی۔ مفسر قاسمی نے شیخ محمد عبدہ مصری (رض) سے ایک مدلل و مضبوط فرق نقل کیا ہے، میں اسے تھوڑی سی وضاحت اور اضافے سے نقل کرتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ رحمٰن ” فَعْلَانُ “ کے وزن پر ہے، جو معنی کی کثرت پر دلالت کرتا ہے، مثلاً ” عَطْشَانُ “ بہت زیادہ پیاسا، ” غَرْثَانُ “ بہت زیادہ بھوکا اور ” غَضْبَانُ “ غصے سے بھرا ہوا۔ اس وزن میں معنی کی کثرت تو ہوتی ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ اس میں ہمیشہ رہے، بلکہ وہ ختم بھی ہوسکتی ہے، جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) طور سے لوٹے تو ” غَضْبَانُ “ (غصے سے بھرے ہوئے) تھے، مگر ہارون (علیہ السلام) کا عذر سن کر غصہ ختم ہوگیا، بلکہ ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ گویا رحمٰن کا معنی وہ ذات ہے جس میں بہت ہی زیادہ رحمت ہے، جو بیحد و بےحساب ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق پیدا فرمائی تو اس کتاب میں لکھ دیا جو اس کے پاس عرش پر ہے کہ بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ “ [ بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ : ( ویحذرکم اللہ نفسہ ) : ٧٤٠٤، عن أبی ہریرہ (رض) ] ” فَعِیْلٌ“ کا وزن کسی چیز میں مفہوم کے لزوم، دوام اور ہمیشگی کے لیے آتا ہے، وہ صفت اس سے جدا نہیں ہوسکتی، مثلاً علیم، حلیم، عظیم، خبیر، بصیر، سمیع، رؤف اور رحیم۔ یعنی وہ ذات جس کی رحمت دائمی ہے، کبھی اس سے جدا نہیں ہوتی۔ دونوں صفتوں کے ملنے سے صفت رحمت کی وسعت بھی ثابت ہوئی اور اس کا دوام بھی۔ اگر اس کی رحمت میں وسعت و کثرت نہ ہو تو بعض مخلوق محروم رہ جائے اور اگر اس میں دوام نہ ہو تو کوئی چیز نہ پایۂ تکمیل تک پہنچے، نہ باقی رہ سکے۔ 3 قرآن مجید میں ثنائے الٰہی پر مشتمل تمام آیات ” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ کی تفصیل ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان نماز کی تقسیم والی حدیث قدسی کے مطابق بندہ جب ” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” میرے بندے نے میری ثنا کی۔ “ [ مسلم، الصلوۃ، وجوب قراء ۃ الفاتحۃ ۔۔ : ٣٩٥ ]
The second verse speaks of the Divine quality of mercy, employing two adjectives Rahman and Rahim of which are hyperbolic terms in Arabic, and respectively connote the superabundance and perfection of Divine mercy. The reference to this particular attribute in this situation is perhaps intended to be a reminder of the fact that it is not through any external compulsion or inner need or any kind of necessity whatsoever that Allah has assumed the responsibility of nurturing the whole of His creation, but in response to the demand of His own quality of mercy. If this whole universe did not exist, He would suffer no loss; if it does exist, it is no burden to Him.
الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ٢ ۙ یہ دونوں نام رحمۃ سے مشتق ہیں، دونوں میں مبالغہ ہے رحمن کے معنی میں رحیم کی نسبت زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے اس میں رحیم کی نسبت ایک حرف زائد ہے اور زیادۃ اللفظ تدل علی زیادۃ المعنی یعنی زائد حروف زیادۃ معنی پر دلالت کرتے ہیں۔ رحمن کا لفظ اللّٰہ کی طرف ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے اور اس کی دلیل یہ آیت شریفہ ہے : قل ادعوا اللّٰہ ادادعوا الرحمن ایاما تدعوا فلہ الاسمآء الحسنی (17:11) کہہ دو تم ( خدا کو) اللہ ( کے نام سے) پکارو یا رحمن ( کے نام سے) جس نام سے پکارو اس کے سب نام اچھے ہیں۔ بخلاف اس کے رحیم کا لفظ ماسوی اللہ کے لئے بھی مستعمل ہے مثلاً رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رؤف رحیم، کہا گیا ہے آیۃ شریفہ ہے لقد جآء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمومنین رء وف الرحیم ۔ (6:128) ( لوگو) تمہارے پاس تمہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں جو چیز تمہیں مضرت پہنچاتی ہے انہیں بہت گراں گزرتی ہے تمہاری ( بھلائی) کے حریص ہیں ایمان والوں کے حق میں تو بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔ بعض کے نزدیک اللہ تعالیٰ دنیا میں رحمن اور آخرت میں رحیم ہے کہ دنیا میں مومن اور کافر سب اس کی رحمت سے متمتع ہوتے ہیں اور آخرت میں رحمت سے فائدہ اٹھانے والے صرف مومن ہوں گے۔ اس بارے میں اور بھی بہت سے اقوال ہیں ۔ گرامر کے لحاظ سے الرحمن الرحیم ۔ کی دو صورتیں ہیں (1) یہ اللہ کی صفت ہیں اس صورت میں ترجمہ ہوگا اللہ کے نام سے جو کہ رحمن اور رحیم ہے۔
(٢) لفظ رحمن میں رحیم سے زیادہ رقت و رحمت ہے اور رحیم بمعنی رقیق ہے۔
(الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ) رحمت کے مادہ سے یہ اللہ کے دو اسماء ہیں۔ ان دونوں میں فرق کیا ہے ؟ رَحْمٰن ‘ فَعْلَان کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے ‘ چناچہ اس کے اندر مبالغہ کی کیفیت ہے ‘ یعنی انتہائی رحم کرنے والا۔ اس لیے کہ عرب جو اس وزن پر کوئی لفظ لاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں نہایت شدت ہے۔ مثلاً غَضْبان ” غصہ میں لال بھبھوکا شخص “۔ سورة الاعراف میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے الفاظ آئے ہیں : (غَضْبَانَ اَسِفًا) ” غصہ اور رنج میں بھرا ہوا “۔ عرب کہے گا : اَنَا عَطْشَانُ : میں پیاس سے مرا جا رہا ہوں۔ اَنَا جَوْعَانُ : میں بھوک سے مرا جا رہا ہوں۔ تو رحمن وہ ہستی ہے جس کی رحمت ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی مانند ہے۔ اور ” رَحِیْم “ فعیل کے وزن پر صفت مشبہّ ہے۔ جب کوئی صفت کسی کی ذات میں مستقل اور دائم ہوجائے تو وہ فعیل کے وزن پر آتی ہے۔ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ دونوں صفات اکٹھی ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس کی رحمت ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کے مانند بھی ہے اور اس کی رحمت میں دوام بھی ہے ‘ وہ ایک دریا کی طرح مستقل رواں دواں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی یہ دونوں شانیں بیک وقت موجود ہیں۔ ہم اس کا کچھ اندازہ ایک مثال سے کرسکتے ہیں۔ فرض کیجیے کہیں کوئی ایکسیڈنٹ ہوا ہو اور وہاں آپ دیکھیں کہ کوئی خاتون بےچاری مرگئی ہے اور اس کا دودھ پیتا بچہ اس کی چھاتی کے ساتھ چمٹا ہوا ہے۔ یہ بھی پتا نہیں ہے کہ وہ کون ہے ‘ کہاں سے آئی ہے ‘ کوئی اس کے ساتھ نہیں ہے۔ اس کیفیت کو دیکھ کر ہر شخص کا دل پسیج جائے گا اور ہر وہ شخص جس کی طبیعت کے اندر نیکی کا کچھ مادہ ہے ‘ چاہے گا کہ اس لاوارث بچے کی کفالت اور اس کی پرورش کی ذمہ داریّ میں اٹھا لوں۔ لیکن ہوسکتا ہے کہ جذبات کے جوش میں آپ یہ کام تو کر جائیں لیکن کچھ دنوں کے بعد آپ کو پچھتاوا لاحق ہوجائے کہ میں خواہ مخواہ یہ ذمہ داری لے بیٹھا اور میں نے ایک بوجھ اپنے اوپر ناحق طاری کرلیا۔ چناچہ ہمارے اندر رحم کا جو جذبہ ابھرتا ہے وہ جلد ہی ختم ہوجاتا ہے ‘ وہ مستقل اور دائم نہیں ہے ‘ جبکہ اللہ کی رحمت میں جوش بھی ہے اور دوام بھی ہے ‘ دونوں چیزیں بیک وقت موجود ہیں۔
4. Whenever we are deeply impressed by the greatness of something we try to express our feelings by using superlatives. If the use of one superlative does not do full justice to our feelings, we tend to re-emphasize the extraordinary excellence of the object of our admiration by adding a second superlative of nearly equivalent meaning. This would seem to explain the use of the word Rahim following Rahman. The form of the word Rahman connotes intensity. Yet God's mercy and beneficence towards His creatures is so great, so extensive and of such an infinite nature that no one word, however strong its connotation, can do it full justice. The epithet Rahim was therefore added to that of Rahman
سورة الْفَاتِحَة حاشیہ نمبر :4 انسان کا خاصہ ہے کہ جب کوئی چیز اس کی نگاہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے تو وہ مبالغہ کے صیغوں میں اس کو بیان کرتا ہے ، اور اگر ایک مبالغہ کا لفظ بول کر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس شے کی فراوانی کا حق ادا نہیں ہوا ، تو پھر وہ اسی معنی کا ایک اور لفظ بولتا ہے تاکہ وہ کمی پوری ہوجائے جو اس کے نزدیک مبالغہ میں رہ گئی ہے ۔ اللہ کی تعریف میں رحمن کا لفظ استعمال کرنے کے بعد پھر رحیم کا اضافہ کرنے میں بھی یہی نقطہ پوشیدہ ہے ۔ رحمان عربی زبان میں بڑے مبالغہ کا صیغہ ہے ۔ لیکن خدا کی رحمت اور مہر بانی اپنی مخلوق پر اتنی زیادہ ہے ، اس قدر وسیع ہے ، ایسی بے حد و حساب ہے کہ اس کے بیان میں بڑے سے بڑا مبالغہ کا لفظ بول کر بھی جی نہیں بھرتا ۔ اس لیے اس کی فراوانی کا حق ادا کرنے کے لیے پھر رحیم کا لفظ مزید استعمال کیا گیا ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہم کسی شخص کی فیاضی کے بیان میں سخی کا لفظ بول کر جب تشنگی محسوس کرتے ہیں تو اس پر داتا کا اضافہ کرتے ہیں ۔ رنگ کی تعریف میں جب گورے کو کافی نہیں پاتے تو اس پر چٹےّ کا لفظ اور بڑھا دیتے ہیں ۔ درازیِ قد کے ذکر میں جب لمبا کہنے سے تسلّی نہیں ہوتی تو اس کے بعد تڑنگا بھی کہتے ہیں ۔
(1 ۔ 7) ۔ الحمد للہ حمد کے معنی زبان سے تعریف کرنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ نازل فرما کر اپنے بندوں کو سکھایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف اس طرح کیا کریں رب العالمین رب اللہ کے ناموں میں سے ایک ہے جس کے معنی مربی کے ہیں یہ لفظ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی مخلوق کی شان میں بغیر نسبت واضافت کے نہیں استعمال کیا جاسکتا۔ یا مخلوق کی شان میں اضافت کے ساتھ استعمال ہوسکتا ہے۔ مثلاً رب الدار کہہ سکتے ہیں جس کے معنی گھر کے مالک کے ہوں گے العالمین عالم کی جمع ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا سب مخلوقات کو عالم کہتے ہیں۔ آسمان و زمین کی آبادی جنگل و دریا میں اللہ تعالیٰ کی طرح طرح کی مخلوقات ہے جن سب کا مربی اور معبود اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لئے لفظ عالم کو جو خود جمع ہے پھر جمع کر کے فرمایا الرحمن الرحیم صاحب رحمت کے معنوں میں یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے نام ہیں { مَا لِکِ یَوْمِ الدِّیْنَ } کسی چیز کا مالک وہ کہلاتا ہے جس کو اس چیز میں ہر طرح کے تصرف کا اختیار ہو۔ قیامت کے دن ہر طرح کی جزا و سزا کا اختیار خاص اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔ اس واسطے اپنے آپ کو اس دن کا مالک فرمایا ایاک نعبد شروع سورة سے یہاں تک حمد و ثنا کا ذکر تھا اور حمد و ثنا ممدوح کی غائبانہ حالت میں اعلیٰ درجہ کی حمد و ثنا کہلاتی ہے۔ اس لئے یہاں تک غائب کے صیغے تھے۔ اس آیت سے دعا کی حالت شروع ہوئی اور دعا میں حاضری مناسب ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے طرز کلام کو بدل دیا { اِیَّاکَ نَعْبُدُ } کے معنے اس طرز کلام کے موافق یہ ہوئے کہ یا اللہ سوا تیری ذات کے اور کسی کی عبادت ہم نہیں کرتے کیونکہ تو نے ہی ہم کو پیدا کیا اور تیری ہی ہدایت سے ہم کو عبادت کی توفیق ہوئی { وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ } اور یا اللہ ہماری قابل قبول عبادت میں شیطان کا وسوسہ اور خواہش نفسانی ہر طرح سے ہارج ہے۔ اس لئے ہم تیری ذات پاک سے قابل قبول عبادت کے ادا ہونے کی مدد چاہتے ہیں۔ کیونکہ جس عبادت میں وسوسہ شیطانی کا دخل ہوگا اس میں نمائش اور ریا کاری کا اور جس عبادت میں خواہش نفسانی ہوگی اس میں بدعت کا اندیشہ ہے اور عبادت کا یہ اندیشہ اور نقصان بغیر تیری مدد کے رفع نہیں ہوسکتا اھدنا الصراط المستقیم مسند امام احمد اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے بسند معتبر روایت ہے جس میں خود صاحب وحی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لفظ صراط مستقیم کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ صراط مستقیم سے مراد اسلام ہے۔ ١ اس لئے اب کسی دوسری تفسیر کی ضرورت نہیں۔ اس تفسیر کی بنا پر آخر سورة تک کی دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ جس طرح تو نے اپنے فضل سے ہم کو اسلام کے راستہ پر لگایا ہے اسی طرح تا قیامت ہم کو اسی راستہ پر قائم اور ثابت قدم رکھ کیونکہ یہ راستہ انبیاء اور ایسے کامل دینداروں کا ہے جن پر تو نے اپنی طرح طرح کی دین اور دنیا کی نعمتیں ختم کی ہیں اور پچھلی امتوں کے جو لوگ راہ راست سے بہک گئے ہیں اور ان کی اسی گمراہی کے سبب سے تو ان سے ناراض اور ان پر تیرہ غصہ ہے ان کی چال اور روش سے ہم کو بچا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { اَلَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ } حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کی امت میں کے وہ لوگ ہیں جو اپنے دین پر قائم رہے۔ مسلم وغیرہ کی صحیح حدیثوں کے موافق سورة فاتحہ کے ختم کے بعد آمین کہنا سنت ہے امام مالک شافعی اور احمد کے نزدیک سورة فاتحہ کا پڑھنا نماز کا ایک رکن ہے۔ بغیر اس کے ان کے نزدیک نماز نہیں ہوتی۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس کے مخالف ہیں۔ دلیلیں جانبین کے مذہب کی فقہ کی کتابوں میں ہیں۔ اس سورت کی اول کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی تعریف اور آخر کی آیتوں میں بندوں کی طرف سے بار گاہ الٰہی میں دعا ہے اسی واسطے حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مجھ میں اور میری بندوں اس سورت کی نصفا نصفی کی تقسیم ہے یہ حدیث قدسی صحیح مسلم میں ابوہریرہ (رض) کی روایت سے ہے
(2:2) الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ : ہر دو کی وضاحت اوپر بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کے بیان میں ہوچکی ہے اللہ کی صفت دوم، سوم یا اللہ کا بدل ہیں۔
(5) یہ اسمائے حسنی میں سے ہیں۔ رحمان بروزن نعملان ہے جس میں کسی کی کثرت پائی جاتی ہے اور رحیم بروزن فعیل ہے جس میں دوام کے معنی پائے جاتے ہیں گو یا اللہ تعالیٰ بہت رحم کرنے والا ہے اور ہمیشہ رحم کرنے والا بھی ہے بعض نے کہا ہے کہ دنیا میں عموم رحمت کے اعبات سے رحمن ہے جو ہر مومن اور ہر کافر کا شامل ہے اور آخرت میں خاص طور پر اپنے فرما نبردار بندوں پر رحمت کے اعتبار سے رحیم ہے
(الرحمٰن الرحیم) : رحمٰن اور رحیم یہ دونوں الفاظ مبالغہ والے ہیں۔ مبالغہ یعنی کسی بات یا حقیقت کے اظہار کے لئے اس کو اہمیت دینے کے لئے بڑھا چڑھا کر بیان کرنا ۔ ” رحمۃ “ کے لفظ سے یہ رحمٰن اور رحیم بنائے گئے ہیں۔ ان کے معنی ہیں ہر مخلوق پر بےانتہا مہربانیاں کرنے والا اللہ جس کے فضل و کرم سے یہ دنیا قائم ہے۔ جس نے اس دنیا کو پھیلا کر اس میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعے روحانی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا اور پھر ان پیغمبروں نے ساری دنیا کے انسانوں کو صراط مستقیم پر چلنے کی دعوت دی۔ رحمٰن و رحیم وہ ذات ہے جو دنیا اور آخرت میں کام آنے والی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ لفظ رحمٰن کا تعلق دنیا میں بسنے والے انسانوں سے ہے یعنی وہ اللہ جو اس کائنات میں بسنے والے انسانوں پر بےانتہا مہربان ہے۔ لیکن الرحیم کا تعلق دنیا اور آخرت دونوں سے ہے یعنی وہ اللہ جس قدر اپنے بندوں پر اس دنیا میں مہربان ہے آخرت میں اس سے بھی زیادہ مہربان ہوگا۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر اس دنیا میں جتنا مہربان ہے آخرت میں اس سے نناوے درجے زیادہ مہربان ہوگا۔ جب قرآن کریم میں لفظ رحمٰن آیا تو عربوں نے بڑی حیرت سے کہا کہ یہ رحمٰن کیا ہے اور کون ہے تب اللہ تعالیٰ نے سورة رحمٰن نازل کر کے بتایا کہ اللہ اور رحمٰن دو ذاتیں نہیں ہیں بلکہ ایک ہی ذات کے دو نام ہیں۔ رحمٰن وہ ہے جس نے اپنے کرم سے کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہی آخرت میں بھی کام آنے والا ہے۔
فہم القرآن رحمن فعلان کے وزن پر مبالغے یعنی سپر ڈگری (Super Degree) اور رحیم فعیل کے وزن پر اسم صفت مشبہ (۔۔ لکھنا ہے) کے صیغے ہیں۔ اہل علم کے نزدیک رحمن کی صفت سب کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ کا رحیم ہونا صرف مومنوں کے لیے خاص ہے۔ الرحمن : لامتناہی اور رحمت مجسم کا ترجمان ہے اور لفظ ” الرحیم “ کائنات پر نازل ہونے والی مسلسل اور دائمی رحمت کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس لحاظ سے معنٰی یہ ہوا کہ وہ ” اللہ “ بےانتہا مہربان ‘ ہمہ وقت اور ہر حال میں رحم فرمانے والا ہے۔ فرق یہ ہے کہ رحیم کسی مشفق شخصیت کو کہا جاسکتا ہے مگر کسی کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ ” الرحمن “ کہنا بہت بڑا گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور رحیمیت کسی اضطرار اور مجبوری کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ اس کی رحمانیت کا عین تقاضا ہے۔ اس صفت کا تذکرہ قرآن مجید میں مختلف الفاظ اور انداز میں پایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان جس قدر سرکشی اور بغاوت پر اتر آئے لیکن جب اللہ کے حضور یہ کہتے ہوئے آب دیدہ ہوتا ہے کہ الٰہی ! میرے جرائم اور خطاؤں کی آندھیوں نے میرے گلشن حیات کو برباد کردیا ہے۔ جس طرح تو ویران وادیوں، تپتے ہوئے صحراؤں اور اجڑے ہوئے باغوں کو اپنے کرم کی بارش سے سرسبز و شاداب بنا دیتا ہے اسی طرح مجھے بھی حیات نو سے ہمکنار کردے۔ بندۂ مومن کی عاجزی اور سرافگندگی پر رحمن ورحیم کی رحمت کے سمندر میں ایک تلاطم برپا ہوجاتا ہے۔ جس کی وسعتوں کا تذکرہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوں فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کی رحمت اس قدر وسیع و عریض ہے جیسے بحر بیکراں میں سوئی ڈبو کر نکال لی جائے تو اس سے سمندر کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایسے ہی کائنات کے تمام جن وانس کی حاجات اور تمناؤں کو پورا کردیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سمندر میں سوئی ڈبو کر باہر نکال لینے کے برابر بھی کمی واقع نہیں ہوتی۔ [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ و الآداب، باب تحریم الظلم ] اللہ تعالیٰ معافی اور درگزر سے کام لیتا ہے کیونکہ اس نے ابتدائے آفرینش سے لکھ رکھا ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی۔ [ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ ویحذرکم اللہ نفسہ ] مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میری رحمت و شفقت ہر آن ان کے قریب رہتی ہے۔ (رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ ) [ الأعراف : ١٥٦] ” میری رحمت تمام اشیاء پر محیط ہے۔ “ (کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ ) [ الأنعام : ٥٤] ” تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کرلیا ہے۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُوْلُ لَنْ یُّدْخِِلَ أَحَدًا عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ قَالُوْا وَلَآ أَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ لَا وَلَآ أَنَا إِلَّا أَنْ یَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰہُ بِفَضْلٍ وَّرَحْمَۃٍ فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَلَا یَتَمَنَّیَنَّ أَحَدُکُمُ الْمَوْتَ إِمَّامُحْسِنًا فَلَعَلَّہٗ أَنْ یَّزْدَادَ خَیْرًا وَإِمَّا مُسِیْءًا فَلَعَلَّہٗ أَنْ یَّسْتَعْتِبَ ) [ رواہ البخاری : کتاب المرضٰی، باب تمني المریض الموت ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ فرماتے تھے کہ کسی کو اس کے عمل جنت میں داخل نہیں کریں گے۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے پاک نبی ! آپ بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! میں بھی نہیں سوائے اس کے کہ اللہ اپنے فضل و رحمت سے مجھے نوازدے۔ اس لیے میانہ روی اختیار کرو اور قریب قریب چلو۔ تم میں کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ وہ نیک ہوگا تو اس کے اعمال میں اضافہ ہوجائے گا۔ اگر وہ برا ہے تو ممکن ہے وہ توبہ کرلے۔ “ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا : (اَللّٰھُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُو فَلَا تَکِلْنِيْ إِلٰی نَفْسِيْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ وَّأَصْلِحْ لِيْ شَأْنِيْ کُلَّہٗ لَآإِلٰہَ إِلَّآ أَنْتَ ) [ رواہ ابوداؤد : کتاب الأدب، باب مایقول إذا أصبح ] ” اے اللہ ! میں تیری رحمت کا طلب گار ہوں مجھے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کرنا اور میرے سب کاموں کی اصلاح فرما تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ ٢۔ اللہ کی شفقت و مہربانی نے زمین و آسمان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعتیں : ١۔ اللہ ایک ہے ‘ بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ ( البقرۃ : ١٦٣) ٢۔ سب کچھ جاننے کے باوجود نہایت ہی مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ (الحشر : ٢٢) ٣۔ اس کی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ (الاعراف : ١٥٦) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر مہربانی کرنا از خود اپنے آپ پر لازم قرار دے لیا ہے۔ (الانعام : ٥٤) ٥۔ اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ (الزمر : ٥٣) ٦۔ اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہوا کرتی ہے۔ (الاعراف : ٥٦) حوالہ۔۔ اللہ کی رحمت نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔
الرحمن الرحیم کی صفت کو یہاں وسط سورت میں بطور ایک مستقل آیت پھر دہرایا جارہا ہے ۔ یہ رحمت و شفقت کے تمام معانی ‘ تمام حالات اور تمام وسعتوں کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے ۔ اور یہاں دوبارہ لانے کی غرض وغایت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عالمگیر ربوبیت کی ان صفات کے ایک نہایت ہی ممتاز پہلو کو نمایاں کیا جائے اور خالق و مخلوق اور اللہ اور اس کے پروردہ بندوں کے درمیان ربط وتعلق کو حمد وثناپر ابھارتا ہے اور یہ وہ تعلق ہے جو اطمینان قلب کی اساس پر قائم ہے اور اس کی تاریں محبت کے ساتھ بھرے ہوئے دل میں جڑی ہوئی ہیں ۔ لہٰذا الحمد للہ درحقیقت انسانی فطرت کی وہ آواز ہے جو وہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت کے جواب میں بلند کرتی ہے ۔ اسلام نے اللہ اور رب کا جو تصور پیش کیا ہے وہ اس تصور سے سراسر مختلف ہے جو اولمپک (Olympic) خداؤں کے متعلق یونانی افکار نے پیش کیا ۔ اس تصور کے مطابق یہ قسی القلب خدا زمانہ امن اور حالت جنگ دونوں میں یکساں طور پر اپنے بندوں کے پیچھے پڑے رہتے تھے ۔ اور ایک دشمن کی طرح اپنے بندوں کے تعاقب میں لگے رہتے تھے ۔ لیکن اسلام کا الٰہ العالمین اپنے بندوں کے لئے وہ انتظامی تدابیر اختیار نہیں کرتا جن کا ذکر عہد نامہ قدیم کی منحرف روایات میں ہوا ہے ۔ مثلاً سفر تکوین کے باب ١١ میں بابل کے متعلق جو داستان بیان کی گئی ہے وہ اس کی واضح ترین مثال ہے (” اور تمام زمین پر ایک ہی زبان اور ایک ہی بولی تھی اور ایسا ہوا کہ مشرق کی طرف سفر کرتے ان کو ملک سنمار میں ایک میدان ملا اور وہاں بس گئے اور انہوں نے آپس میں کہا آؤ ہم اینٹیں بنائیں اور ان کو آگ میں خوب پکائیں ۔ سو انہوں نے پتھر کی جگہ اینٹ سے اور چونے کی جگہ گارے سے کام لیا ۔ پھر وہ کہنے لگے آؤہم اپنے واسطے ایک شہر اور ایک برج جس کی چوٹی آسمان تک پہنچے ‘ بنائیں اور یہاں اپنانام کریں ۔ ایسا نہ ہو کہ ہم تمام روئے زمین پر پراگندہ ہوجائیں اور خداوند اس شہر اور برج کو جس کو بنی آدم بنانے لگے ‘ دیکھنے کو اترا اور خداوند نے کہا دیکھو ! یہ لوگ سب ایک ہیں اور ان سبھوں کی ایک ہی زبان ہے ۔ وہ جو یہ کرنے لگے ہیں تو اب کچھ بھی جس کا وہ ارادہ کریں ان سے باقی نہ چھوٹے گا۔ سو آؤ ہم وہاں جا کر ان کی زبان میں اختلاف ڈالیں تاکہ وہ ایک دوسرے کی زبان نہ سمجھ سکیں ۔ پس خداوند نے ان کو وہاں سے تمام روئے زمین میں پراگندہ کیا ۔ سو وہ اس شہر کے بنانے سے باز آئے ۔ اس لئے اس کا نام بابل ہوا کیونکہ خدا نے وہاں ساری زمین کی زبان میں اختلاف ڈالا اور وہاں سے خداوند نے ان کو تمام روئے زمین پر پراگندہ کیا۔ “ )
بہت بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ : یہ دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں رحم سے مشتق ہیں، بعض علماء کا قول ہے کہ دونوں کا ایک معنی ہے اور اکثر علماء یہ فرماتے ہیں کہ رحمن میں رحیم سے زیادہ مبالغہ ہے چونکہ دونوں ہی مبالغہ کے صیغے ہیں۔ اس لیے ہر ایک کے ترجمہ میں معنی مبالغہ کا خیال رکھا جاتا ہے۔ رَحْمٰن اللہ پاک کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے اور رحیم اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس کی مخلوق کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ کما قال تبارک و تعالیٰ فی شان نبیہ علیہ الصلٰوۃ والسلام (بالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ط) اللہ تعالیٰ کی رحمت عامہ کا برابر مظاہرہ ہوتا رہتا ہے وہ ساری مخلوق پر رحم فرماتا ہے، سب کا وجود اور بقا آرام و سکون سب اسی کی رحمت سے ہے۔
5: الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ یہ دونوں صفت مشبہ کے صیغے ہیں اور دونوں میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اور دونوں رحم سے مشتق ہیں مفسرین کرام نے دونوں لفظوں کے مفہوم میں مختلف طریقوں سے فرق بیان فرمایا ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ کہ رحمان دنیا کے اعتبار سے ہے اور رحیم آخرت کے اعتبار سے یعنی دنیا میں اس کی رحمت مومنوں اور کافروں کے لیے عام ہے۔ دنیا میں دنیوی فوائد سے مومن اور کافر یکساں طور پر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ اس کی صفت رحمان کا اثر ہے اور آخرت میں اس کی رحمت مومنوں کے ساتھ مخصوص ہوگی اور کافر اس سے محروم رہیں گے۔ یہ اس کی صفت رحیم کا اثر ہوگا۔ جاء فی الدعاء یا رحمن الدنیا لانہ یعم المؤمن والکافر ورحیم الاخرۃ لانہ یخص المؤمن (مدارک ص 5 ج 1) ۔ حضرت شیخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دونوں صفتوں میں ایک نہایت لطیف فرق بیان فرمایا کہ رحمان اس موصوف کو کہتے ہیں جو بالفعل رحمت کر رہا ہو اور جس کی رحمت کائنات کے ذرہ ذرہ کو شامل ہو۔ اور رحیم (صیغہ صفت مشبہ) اس ذات کو کہتے ہیں رحم جس کی صفت لازمہ اور خصوصیت ذاتیہ ہو صفت عارضہ نہ ہو تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ جو بالفعل ہر آن میں اپنی ساری مخلوق پر رحم فرما رہا ہے۔ یہ رحم اس کی ذات پاک کو لازم ہے اور اس کی صفت ذاتیہ ہے۔ اسی نکتہ کی طرف اشارہ کرنے کے لیے رحمان کے بعد رحیم کو بھی ذکر کیا گیا۔ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ کے بعدالرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِکا ذکر کر کے اس طرف اشارہ فرمایا کہ نظام ربوبیت کے بعد تمام نظام عالم اللہ تعالیٰ کی صفت رحم کا ظہور ہے گویا یہ تمام کارگاہ عالم اور اور یہ ساری کائنات صرف اس لیے بنی ہے تاکہ اس سے ہمیں فائدہ پہنچے اور ہماری ضرورتیں پوری ہوں اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ تفصیل سے بیان فرمایا ہے ایک جگہ ارشاد ہے۔ وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ (جاثیہ رکوع 2) (اور تابع کیا اس نے تمہارے (فائدے) کے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں سارا اپنے حکم سے یقیناً اس میں سوچنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں) نہ صرف زمین و آسمان کے درمیانی خلاء میں بلکہ زمین کے پیٹ میں بھی اس نے اپنی رحمت ونعمت کے بیشمار خزانے اپنی مخلوق کے لیے مخفی کر رکھے ہیں۔ جو محض اس کی شفقت سے اور مہربانی سے زمین کی سطح پر نمودار ہوتے ہیں۔ اور اس کی ساری مخلوق ان سے فائدہ اٹھاتی ہے زمین کی سطح پھلوں، پھولوں، غلہ، ترکاریوں اور میووں سے مالا مال ہے اور پانی کے شفاف اور شیریں دشمے اس کے پیٹ سے ابل کر اس کی سطح پر بہ رہے ہیں۔ اور زمین کی گہرائیاں سونے چاندی اور دیگر قیمتی معدنیات سے پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وَهُوَ الَّذِيْ مَدَّ الْاَرْضَ وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ وَاَنْهٰرًا ۭ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيْهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاۗءٍ وَّاحِدٍ ۣ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ ( سورة رعد رکوع 1) (اور وہ ایسا ہے کہ اس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور نہریں پیدا کیں اور اس میں ہر قسم کے پھلوں سے دو دو قسم کے پیدا کیے، شب کو دن سے چھپا دیتا ہے، بیشک ان (مذکورہ بالا امور) میں سوچنے والوں کے لیے (توحید کے) دلائل موجود ہیں اور زمین میں پاس پاس مختلف خطے اور انگوروں کے باغ ہیں اور کھیتیاں ہیں اور کھجوریں ہیں جن میں سے بعضی تو اوپر جا کر دو تنے ہوجاتی ہیں۔ اور بعضی میں دو تنے نہیں ہوتے۔ سب کو ایک طرح کا پانی دیا جاتا ہے اور ہم ایک کو دوسرے پر پھلوں میں فوقیت دیتے ہیں ان امور میں (بھی) سمجھداروں کے لیے (توحید) کے دلائل ہیں) خشکی کے علاوہ تری میں بھی اس کی رحمت عامہ کے آثار نمایاں اور ہویدا ہیں مثال کے طور پر سمندروں کی سطح جہازوں اور کشتیوں کے ذریعے نقل و حرکت اور آمدورفت کے لیے ایک اعلی شاہراہ کا کام دیتی ہے۔ اور اس کی گہرائی موتیوں اور دیگر مفید اور قیمتی اشیاء سے مالا مال ہے۔ نیز دریاؤں اور سمندروں سے مچھلی کا تازہ بتازہ گوشت حاصل ہوتا ہے۔ جو انسان کے لیے بہترین غذا ہے۔ وَهُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا ۚ وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (نحل رکوع 2) (اور وہ ایسا ہے کہ اس نے دریا کو بھی مسخر بنایا کہ اس میں سے بھی تازہ تازہ گوشت کھاؤ اور اس میں سے (موتیوں کا) گہنا نکالو جسے تم پہنتے ہو اور تو کشتیوں کو دیکھتا ہے کہ اس میں پانی کو چیرتی ہوئی چلی جارہی ہیں۔ اور تاکہ تم خدا کی (پیدا کی ہوئی) روزی تلاش کرو اور شکر کرو) ۔ ان آیتوں کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اس جہان کا ذرہ ذرہ پیدا کر کے پورے نظام عالم کو اپنے نظام ربوبیت کے تحت رکھا ہوا ہے اور اس کا نظام ربوبیت اس کے رحم وکرم اور اس کی رحمت و شفقت کے تحت چل رہا ہے۔ پورے نظام عالم کا ایک ذرہ بھی ایک لمحہ کے لیے بھی اس کی رحمت سے بےنیاز نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح یہ خشکی اور تری کی ساری نعمتیں عالم جسمانی کی تربیت اور پرورش کے لیے پیدا فرمائی ہیں۔ اسی طرح اس کی رحمت بےپایاں نے عالم روحانی کی ترقی اور نشوونما کے لیے بھی انتظام فرمایا ہے اور دنیا میں انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی کتابوں کے ذریعے عالم روحانی کی غذا کا بندوبست کیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اور اپنے آخری پیغام قرآن مجید کی تعلیم کو خصوصیت سے اپنی رحمت کے ساتھ متعلق فرمایا چانچہ ارشاد ہے۔ وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (انبیاء :107) رَحْمَةً ۔ اَرْسَلْنٰكَ کا مفعول لہ ہے یعنی ہم نے آپ کو اس لیے بھیجا ہے تاکہ سارے عالم پر رحم کریں۔ یا رَحْمَةًمصدر بمعنی صیغہ صفت اَرْسَلْنَا کے فاعل یا كَضمیر مفعول یا دونوں سے حال ہے۔ مطلب ظاہر ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ اَلرَّحْمٰنُ ۙعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ۭخَلَقَ الْاِنْسَانَ ۙعَلَّمَهُ الْبَيَانَ (الرحمن : 14) (رحمان نے قرآن کی تعلیم دی۔ اس نے انسان کو پیدا کیا (پھر) اس کو بولنا سکھایا۔ اس کی ربوبیت اور رحمت کس قدر عام اور حاوی ہے۔ کہ ایک طرف روح اور جسد کا تعلق باقی رکھنے کے لیے بیشمار مادی غذائیں مہیا کیں۔ اور دوسری طرف روح کی نشوونما کے لیے اعلی درجہ کی روحانی غذائیں مہیا فرمائی۔ ۭفَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ