Surat ul Fateha
Surah: 1
Verse: 5
سورة الفاتحة
اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾
Guide us to the straight path -
ہمیں سیدھی ( اور سچی ) راہ دکھا ۔
اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾
Guide us to the straight path -
ہمیں سیدھی ( اور سچی ) راہ دکھا ۔
Guide us to the straight path. The guidance mentioned in the Surah implies being directed and guided to success. Allah said, اهدِنَــــا الصِّرَاطَ المُستَقِيم (Guide us to the straight path), meaning guide, direct, lead and grant us the correct guidance. Also, وَهَدَيْنَـهُ النَّجْدَينِ And shown him the two ways (good and evil), (90:10), means, `We explained to him the paths of good and evil.' Also, Allah said, اجْتَبَـهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ He (Allah) chose him (as an intimate friend) and guided him to a straight path, (16:121) and, فَاهْدُوهُمْ إِلَى صِرَطِ الْجَحِيمِ And lead them on to the way of flaming Fire (Hell). (37:23) Similarly, Allah said, وَإِنَّكَ لَتَهْدِى إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ And verily, you (O Muhammad) are indeed guiding (mankind) to the straight path. (42:52) and, الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى هَدَانَا لِهَـذَا All praise and thanks be to Allah, Who has guided us to this. (7:43) meaning, guided us and directed us and qualified us for this end - Paradise. The Meaning of As-Sirat Al-Mustaqim, the Straight Path As for the meaning of As-Sirat Al-Mustaqim, Imam Abu Jafar At-Tabari said, "The Ummah agreed that Sirat Al-Mustaqim, is the clear path without branches, according to the language of the Arabs. For instance, Jarir bin `Atiyah Al-Khatafi said in a poem, `The Leader of the faithful is on a path that will remain straight even though the other paths are crooked." At-Tabari also stated that, "There are many evidences to this fact." At-Tabari then proceeded, "The Arabs use the term, Sirat in reference to every deed and statement whether righteous or wicked. Hence the Arabs would describe the honest person as being straight and the wicked person as being crooked. The straight path mentioned in the Qur'an refers to Islam." Imam Ahmad recorded in his Musnad that An-Nawwas bin Sam`an said that the Prophet said, ضَرَبَ اللهُ مَثَلً صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَعَلَى جَنْبَتَيِ الصِّرَاطِ سُورَانِ فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ وَعَلَى الاَْبْوَابِ سُتُورٌ مُرْخَاةٌ وَعَلَى بَابِ الصِّرَاطِ دَاعٍ يَقُولُ يَاأَيُّهَا النَّاسُ ادْخُلُوا الصِّرَاطَ جَمِيعًا وَلاَا تَعْوَجُّوا وَدَاعٍ يَدْعُو مِنْ فَوْقِ الصِّرَاطِ فَإِذَا أَرَادَ الاِْنْسَانُ أَنْ يَفْتَحَ شَيْيًا مِنْ تِلْكَ الاَْبْوَابِ قَالَ وَيْحَكَ لاَا تَفْتَحْهُ فَإِنَّكَ إِنْ فَتَحْتَهُ تَلِجْهُ فَالصِّرَاطُ الاْاِسْلَامُ وَالسُّورَانِ حُدُودُ اللهِ وَالاْاَبْوَابُ الْمُفَتَّحَةُ مَحَارِمُ اللهِ وَذَلِكَ الدَّاعِي عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ كِتَابُ اللهِ وَالدَّاعِي مِنْ فَوْقِ الصِّرَاطِ وَاعِظُ اللهِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُسْلِمٍ Allah has set an example: a Sirat (straight path) that is surrounded by two walls on both sides, with several open doors within the walls covered with curtains. There is a caller on the gate of the Sirat who heralds, 'O people! Stay on the path and do not deviate from it.' Meanwhile, a caller from above the path is also warning any person who wants to open any of these doors, 'Woe unto you! Do not open it, for if you open it you will pass through.' - The straight path is Islam, - the two walls are Allah's set limits, - while the doors resemble what Allah has prohibited. - The caller on the gate of the Sirat is the Book of Allah, - while the caller above the Sirat is Allah's admonishment in the heart of every Muslim. The Faithful ask for and abide by Guidance If someone asks, "Why does the believer ask Allah for guidance during every prayer and at other times, while he is already properly guided Has he not already acquired guidance?" The answer to these questions is that if it were not a fact that the believer needs to keep asking for guidance day and night, Allah would not have directed him to invoke Him to acquire the guidance. The servant needs Allah the Exalted every hour of his life to help him remain firm on the path of guidance and to make him even more firm and persistent on it. The servant does not have the power to benefit or harm himself, except by Allah's permission. Therefore, Allah directed the servant to invoke Him constantly, so that He provides him with His aid and with firmness and success. Indeed, the happy person is he whom Allah guides to ask of Him. This is especially the case if a person urgently needs Allah's help day or night. Allah said, يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ ءَامِنُواْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَـبِ الَّذِى نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَالْكِتَـبِ الَّذِى أَنَزلَ مِن قَبْلُ O you who believe! Believe in Allah, and His Messenger (Muhammad), and the Book (the Qur'an) which He has sent down to His Messenger, and the Scripture which He sent down to those before (him). (4:16) Therefore, in this Ayah Allah commanded the believers to believe, and this command is not redundant since what is sought here is firmness and continuity of performing the deeds that help one remain on the path of faith. Also, Allah commanded His believing servants to proclaim, رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ Our Lord! Let not our hearts deviate (from the truth) after You have guided us, and grant us mercy from You. Truly, You are the Bestower. (3:8) Hence, اهدِنَــــا الصِّرَاطَ المُستَقِيم (Guide us to the straight way) means, "Make us firm on the path of guidance and do not allow us to deviate from it." Allah then guides, صِرَاطَ الَّذِينَ أَنعَمتَ عَلَيهِمْ غَيرِ المَغضُوبِ عَلَيهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ (
حصول مقصد کا بہترین طریقہ جمہور نے صراط پڑھا ہے ۔ بعض نے سراط کہا ہے اور زے کی بھی ایک قراۃ ہے ۔ فرا کہتے ہیں بنی عذرہ اور بنی کلب کی قراۃ یہی ہے چونکہ پہلے ثنا و صفت بیان کی تو اب مناسب تھا کہ اپنی حاجت طلب کرے ۔ جیسے کہ پہلے حدیث میں گزر چکا ہے کہ اس کا آدھا حصہ میرے لئے ہے اور آدھا میرے بندے کے لئے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو وہ طلب کرے ۔ خیال کیجئے کہ اس میں کس قدر لطافت اور عمدگی ہے کہ پہلے پروردگار عالم کی تعریف و توصیف کی ، پھر اپنی اور اپنے بھائیوں کی حاجت طلب کی ۔ یہ وہ لطیف انداز ہے جو مقصود کو حاصل کرنے اور مراد کو پا لینے کے لئے تیر بہدف ہے ، اس کامل طریقہ کو پسند فرما کر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی ہدایت کی ۔ کبھی سوال اس طرح ہوتا ہے کہ سائل اپنی حالت اور حاجت کو ظاہر کر دیتا ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا آیت ( رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر ) پروردگار جو بھلائیاں تو میری طرف نازل فرمائے میں اس کا محتاج ہوں ۔ حضرت یونس علیہ السلام نے بھی اپنی دعا میں کہا آیت ( اَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ) 21 ۔ الانبیآء:87 ) الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے میں ظالموں میں سے ہوں کبھی سوال اس طرح بھی ہوتا ہے کہ سائل صرف تعریف اور بزرگی بیان کر کے چپ ہو جاتا ہے جیسے کسی شاعر کا قول ہے کہ مجھے اپنی حاجت کے بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تیری مہربانیوں بھری بخشش مجھے کافی ہے میں جانتا ہوں کہ داد و دہش تیری پاک عادتوں میں داخل ہے لیکن تیری پاکیزگی بیان کر دینا ، تیری حمد و ثنا کرنا ہی مجھے اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے کافی ہے ۔ ہدایت کے معنی یہاں پر ارشاد اور توفیق کے ہیں ۔ کبھی تو ہدایت بنفسہ متعدی ہوتی ہے جیسے یہاں ہے تو معنی حدیث ( الھمنا وفقنا ارزقنا اور اعطنا ) یعنی ہمیں عطا فرمائے ہوں گے اور جگہ ہے آیت ( وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ ) 90 ۔ البلد:10 ) یعنی ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی اور برائی دونوں کے ۔ اور کبھی ہدایت الی کے ساتھ متعدی ہوتی ہے جیسے فرمایا آیت ( اِجْتَبٰىهُ وَهَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْم ) 16 ۔ النحل:121 ) اور فرمایا آیت ( فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِيْمِ ) 37 ۔ الصافات:23 ) یہاں ہدایت ارشاد اور دلالت کے معنی میں ہے ۔ اسی طرح فرمان ہے آیت ( وانک لتھدی ) الخ یعنی تو البتہ سیدھی راہ دکھاتا ہے اور کبھی ہدایت لام کے ساتھ متعدی ہوتی ہے جیسے جنتیوں کا قول قرآن کریم میں ہے آیت ( الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدٰىنَا لِھٰذَا ۣ وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَآ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ ) 7 ۔ الاعراف:43 ) یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی یعنی توفیق دی اور ہدایت والا بنایا ۔ صراط مستقیم کے معنی سنئے ۔ امام ابو جعفر ابن جریر فرماتے ہیں مراد اس سے واضح اور صاف راستہ ہے جو کہیں سے ٹیڑھا نہ ہو ۔ عرب کی لغت میں اور شاعروں کے شعر میں یہ معنی صاف طور پر پائے جاتے ہیں اور اس پر بیشمار شواہد موجود ہیں ۔ صراط کا استعمال بطور استعارہ کے قول اور فعل پر بھی آتا ہے اور پھر اس کا وصف استقامت اور ٹیڑھا پن کے ساتھ بھی آتا ہے ۔ سلف اور متاخرین مفسرین سے اس کی بہت سی تفسیریں منقول ہیں اور ان سب کا خلاصہ ایک ہی ہے اور وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور تابعداری ہے ۔ صراط مستقیم کیا ہے؟ ٭٭ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ صراط مستقیم کتاب اللہ ہے ۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے بھی روایت کی ہے فضائل قرآن کے بارے میں پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ، حکمتوں والا ذکر اور سیدھی راہ یعنی صراط مستقیم یہی اللہ کی کتاب قرآن کریم ہے ۔ مسند احمد ترمذی حضرت علی کا قول بھی یہی ہے اور مرفوع حدیث کا بھی موقوف ہونا ہی زیادہ مشابہ ہے واللہ اعلم ۔ حضرت عبداللہ سے بھی یہی روایت ہے ابن عباس کا قول ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آیت ( اھدنا الصراط مستقیم ) کہئے یعنی ہمیں ہدایت والے راستہ کا الہام کر اور اس دین قیم کی سمجھ دے جس میں کوئی کجی نہیں ۔ آپ سے یہ قول بھی مروی ہے کہ اس سے مراد اسلام ہے ۔ ابن عباس ، ابن مسعود اور بہت سے صحابہ سے بھی یہی تفسیر منقول ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں صراط مستقیم سے مراد اسلام ہے جو ہر اس چیز سے جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے زیادہ وسعت والا ہے ۔ ابن حنفیہ فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ دین ہے جس کے سوا اور دین مقبول نہیں ۔ عبدالرحمن بن زید بن اسلم کا قول ہے کہ صراط مستقیم اسلام ہے ۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی کہ صراط مستقیم کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں ، ان میں کئی ایک کھلے ہوئے دروازے اور دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں ، صراط مستقیم کے دروازے پر ایک پکارنے والا مقرر ہے ، جو کہتا ہے کہ اے لوگو! تم سب کے سب اسی سیدھی راہ پر چلے جاؤ ، ٹیڑھی ترچھی ادھر ادھر کی راہوں کو نہ دیکھو نہ ان پر جاؤ ۔ اور اس راستے سے گزرنے والا کوئی شخص جب ان دروازوں میں سے کسی ایک کو کھولنا چاہتا ہے تو ایک پکارنے والا کہتا ہے خبردار اسے نہ کھولنا ۔ اگر کھولا تو اس راہ لگ جاؤ گے اور صراط مستقیم سے ہٹ جاؤ گے ۔ پس صراط مستقیم تو اسلام ہے اور دیواریں اللہ کی حدیں ہیں اور کھلے ہوئے دروازے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور دروازے پر پکارنے والا قرآن کریم ہے اور راستے کے اوپر سے پکار نے والا زندہ ضمیر ہے جو ہر ایماندار کے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور واعظ کے ہوتا ہے ۔ یہ حدیث ابن ابی حاتم ابن جریر ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور اس کی اسناد حسن صحیح ہیں واللہ اعلم ۔ مجاہد فرماتے ہیں اس سے مراد حق ہے ۔ ان کا قول سب سے زیادہ مقبول ہے اور مذکورہ اقوال کا کوئی مخالف نہیں ۔ ابو العالیہ فرماتے ہیں اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد کے آپ کے دونوں خلیفہ ہیں ۔ ابو العالیہ اس قول کی تصدیق اور تحسین کرتے ہیں دراصل یہ سب اقوال صحیح ہیں اور ایک دوسرے سے ملے جلے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں خلفاء صدیق و فاروق کا تابعدار حق کا تابع ہے اور حق کا تابع اسلام کا تابع ہے اور اسلام کا تابع قرآن کا مطیع ہے اور قرآن اللہ کی کتاب اس کی طرف کی مضبوط رسی اور اس کی سیدھی راہ ہے ۔ لہذا صراط مستقیم کی تفسیر میں یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں ۔ فالحمد للہ ۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں ۔ صراط مستقیم وہ ہے جس پر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا ۔ امام ابو جعفر بن جریر رحمۃ اللہ علیہ کا فیصلہ ہے کہ میرے نزدیک اس آیت کی تفسیر میں سب سے اولیٰ یہ ہے کہ ہم کو توفیق دی جائے اس کی جو اللہ کی مرضی کی ہو اور جس پر چلنے کی وجہ سے اللہ اپنے بندوں سے راضی ہوا ہو اور ان پر انعام کیا ہو ، صراط مستقیم یہی ہے ۔ اس لئے کہ جس شخص کو اس کی توفیق مل جائے جس کی توفیق اللہ کے نیک بندوں کو تھی جن پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا تھا جو نبی ، صدیق ، شہید اور صالح لوگ تھے انہوں نے اسلام کی اور رسولوں کی تصدیق کی ، کتاب اللہ کو مضبوط تھام رکھا ، اللہ تعالیٰ کے احکام کو بجا لائے ۔ اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے رک گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے چاروں خلیفوں اور تمام نیک بندوں کی راہ کی توفیق مل جائے گی تو یہی صراط مستقیم ہے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ مومن کو تو اللہ کی طرف سے ہدایت حاصل ہو چکی ہے پھر نماز اور غیر نماز میں ہدایت مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مراد اس سے ہدایت پر ثابت قدمی اور رسوخ اور بینائی اور ہمیشہ کی طلب ہے اس لئے کہ بندہ ہر ساعت اور ہر حالت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا محتاج ہے وہ خود اپنی جان کے نفع نقصان کا مالک نہیں بلکہ دن رات اپنے اللہ کا محتاج ہے اسی لئے اسے سکھایا کہ ہر وقت وہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کرتا رہے اور ثابت قدمی اور توفیق چاہتا رہے ۔ بھلا اور نیک بخث انسان وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے در کا بھکاری بنا لے وہ اللہ ہر پکارنے والے کی پکار کے قبول کرنے کا کفیل ہے ۔ بالخصوص بےقرار محتاج اور اس کے سامنے اپنی حاجت دن رات پیش کرنے والے کی ہر پکار کو قبول کرنے کا وہ ضامن ہے ۔ اور جگہ قرآن کریم میں ہے ۔ آیت ( يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ) 4 ۔ النسآء:136 ) اے ایمان والو اللہ پر ، اس کے رسولوں پر اس کی اس کتاب پر ، جو اس نے اپنے رسول کی طرف نازل فرمائی اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل ہوئیں ، سب پر ایمان لاؤ ۔ اس آیت میں ایمان والوں کو ایمان لانے کا حکم دینا اور ہدایت والوں کو ایمان لانے کا حکم دینا ایسا ہی ہے جیسے یہاں ہدایت والوں کو ہدایت کی طلب کرنے کا حکم دینا ۔ مراد دونوں جگہ ثابت قدمی اور اور استمرار ہے اور ایسے اعمال پر ہمیشگی کرنا جو اس مقصد کے حاصل کرنے میں مدد پہنچائیں ۔ اس پر یہ اعتراض وارد ہو بھی نہیں سکتا کہ یہ حاصل شدہ چیز کا حاصل کرنا ہے ۔ واللہ اعلم ۔ اور دیکھئے اللہ رب العزت نے اپنے ایمان دار بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ کہیں آیت ( رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ ) 3 ۔ آل عمران:8 ) یعنی اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو ہدایت کے بعد ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما تو بہت بڑا دینے والا اور عطا کرنے والا ہے ۔ یہ بھی وارد ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز مغرب کی تیسری رکعت سورۃ فاتحہ کے بعد اس آیت کو پوشیدگی سے پڑھا کرتے تھے پس آیت ( اھدنا الصراط المستقیم ) کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھ اور اس سے ہمیں نہ ہٹا ۔
ف 1 ہدایت کے کئی مفہوم ہیں، راستے کی طرف رہنمائی کرنا، راستے پر چلا دینا، منزل مقصود تک پہنچا دینا۔ اسے عربی میں ارشاد توفیق، الہام اور دلالت سے تعبیر کیا جاتا ہے، یعنی ہماری صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرما، اس پر چلنے کی توفیق اور اس پر استقامت نصیب فرما، تاکہ ہمیں تیری رضا (منزل مقصود) حاصل ہوجائے۔ یہ صراط مستقیم محض عقل اور ذہانت سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ یہ صراط مستقیم وہی ، الاسلام، ہے، جسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا اور جو اب قرآن و احادیث صحیحہ میں محفوظ ہے۔
[١٣] سیدھی راہ کون سی ہے ؟:۔ صراط مستقیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ وہ سیدھی راہ ہے جو بندے کو اللہ تک پہنچانے والی ہے۔ اور اس میں کوئی پیچ و خم یا افراط وتفریط نہیں اور یہ ایک ہی ہوسکتی ہے جبکہ باطل راہیں لاتعداد ہوتی ہیں۔ اسی راہ کو اللہ تعالیٰ نے حبل اللہ بھی فرمایا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے & مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِیْ & سے تعبیر فرمایا ہے اور صراط مستقیم کی دوسری تعبیر یہ بھی ہوسکتی ہے کہ حق کا وہ راستہ جو سیدنا آدم سے لے کر تاقیامت ایک ہی رہا اور رہے گا اور وہی راستہ توحید ہر نبی کو وحی کیا گیا ہے۔ قرآن کریم ایسی آیات سے بھرا پڑا ہے جن میں لوگوں کو اللہ سے دعا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اور پہلی دعا ( اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ۙ ) 1 ۔ الفاتحة :6) سورة فاتحہ میں ہی آگئی ہے پھر بعض آیات میں دعا کے قبول ہونے کا ذکر بھی موجود ہے۔ اس کے باوجود مسلمانوں کا ہی ایک طبقہ، جس پر عقل پرستی اور اعتزال کا رنگ غالب ہے اور ہر معجزہ یا خرق عادت بات کی تاویل کرنے کا عادی ہے۔۔ دعا کی قبولیت کا منکر ہے کیونکہ دعا کی قبولیت کا تعلق بھی غیر مرئی اسباب سے ہے۔ لہذا یہ حضرات اس قسم کی آیات میں عجیب و غریب قسم کی تاویلات کا سہارا لیتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں اس طبقہ کے سرخیل سرسید احمد خان (١٨١٧ ء تا ١٨٩٨ ء) تھے۔ آپ نے مغرب میں ہی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور مغربی افکار و نظریات سے شدید متاثر تھے اور مغرب صرف اس بات کو ماننے پر آمادہ ہوسکتا تھا جو عقل و تجربہ کی کسوٹی پر پرکھی جاسکتی ہو۔ آپ نے مسلمانوں میں مغربی افکار اور عقل پرستی کو رائج اور راسخ کرنے کے لیے کئی قسم کے اقدامات فرمائے جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ نے تفسیر القرآن لکھ ڈالی۔ اس تفسیر میں آپ دعا کے متعلق لکھتے ہیں کہ : دعا کے متعلق سرسید احمد خان کا نظریہ :۔ & دعا جب دل سے کی جاتی ہے بیشتر مستجاب ہوتی ہے مگر لوگ دعا کے مقصد اور استجابت کا مطلب سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس مقصد کے لئے ہم دعا کرتے ہیں وہ مطلب حاصل ہوجائے گا اور استجابت کے معنی اس مطلب کا حاصل ہوجانا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ غلطی ہے حصول مطلب کے جو اسباب اللہ نے مقرر کئے ہیں وہ مطلب تو انہی اسباب کے جمع ہونے سے حاصل ہوتا ہے۔ مگر دعا نہ تو اس مطلب کے اسباب میں سے ہے اور نہ اس مطلب کے اسباب کو جمع کرنے والی ہے۔ بلکہ وہ اس قوت کو تحریک کرنے والی ہے جس سے اس رنج و مصیبت اور اضطراب کو جو مطلب حاصل نہ ہونے سے ہوتا ہے تسکین دینے والی ہے & (تفسیر القرآن، ج ١ ص ١٨) خان صاحب کے مندرجہ بالا اقتباس سے دو سوال ذہن میں ابھرتے ہیں : (١) اگر ظاہر میں کوئی سبب نظر نہ آرہا ہو تو آیا اللہ تعالیٰ کوئی سبب پیدا کرنے پر قادر ہے یا نہیں۔ بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے یا نہیں ؟ (٢) کیا ظاہری اسباب کے علاوہ کچھ باطنی اور غیر مرئی اسباب بھی ممکن ہیں اور دعا کی بنا پر اللہ تعالیٰ بندہ کے حصول مطلب کے لئے کوئی ظاہری یا باطنی سبب بناسکتا ہے یا نہیں ؟ اگر تو ان سوالات کا جواب نفی میں ہو تو فی الواقع سرسید صاحب کے نظریات کے مطابق دعا کا کچھ اثر نہیں ہوتا اور نہ ہی ہونا چاہئے۔ اس صورت میں دعا کی استجابت کا مطلب صرف وہی رہ جاتا ہے۔ جو سرسید صاحب فرما رہے ہیں کہ دعا صرف قلبی واردات اور سکون سے تعلق رکھتی ہے۔ ظاہر میں ہوتا ہوا کچھ بھی نہیں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن سرسید صاحب کے اس نظریہ کی پرزور تردید کرتا ہے۔ مثلاً درج ذیل آیات ملاحظہ فرمائیے : ( فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ‘ فَفَتَحْنَآ اَبْوَاب السَّمَاۗءِ بِمَاۗءٍ مُّنْهَمِرٍ 10 ) 54 ۔ القمر :10) & تو نوح (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میں کمزور ہوں۔ اب تو ان سے بدلہ لے۔ پس ہم نے زور کے مینہ سے آسمان کے دہانے کھول دیئے اور زمین سے چشمے جاری کردیئے۔ تو پانی اس کام کے لئے جو مقدر ہوچکا تھا جمع ہوگیا & اب دیکھئے کہ کیا دعا کے بعد آسمان سے بےتحاشا پانی برسنا اور زمین کے چشمے مل کر طوفان کی شکل بننا اور کشتی میں نوح کو سوار کرکے کرب عظیم سے بچا لینا، کیا یہ سب قلبی واردات ہیں یا یہ کام فی الواقع ظہور پذیر ہوئے تھے ؟ پھر ایک مقام پر خان صاحب فرماتے ہیں کہ & بسا اوقات دعا کی جاتی ہے مگر حاجت براری نہیں ہوتی پس معلوم ہوا کہ دعا موجب حصول مقصد نہیں ہے ورنہ ایسا نہ ہوتا & (تہذیب الاخلاق، ماہ ربیع الاول، ١٣١٣ ھ) اس اقتباس میں لفظ & بسا اوقات & سے ظاہر ہے کہ دعا کبھی کبھار حصول مقصد کا سبب بن جاتی ہے۔ بس یہی ہمارا مقصد ہے، رہا یہ معاملہ کہ بسا اوقات قبول نہیں ہوتی تو دعا کی قبولیت کے کئی موانع ہیں جن کی تفصیل یہاں خارج از بحث ہے۔ نیز ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ دعا کی طرح دوا بھی بسا اوقات مرض کا علاج نہیں بن سکتی۔ حالانکہ وہ ایک ظاہری سبب ہے تاہم کبھی کبھار حصول مقصد کا سبب بن بھی جاتی ہے۔ دوا کا استعمال جسمانی تکلیف کو رفع کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور جب تک تکلیف رفع نہ ہو مریض کو کبھی تسکین نہیں ہوسکتی اور دعا کا دائرہ اثر دوا سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ دعا دفع مضرت اور جلب منفعت دونوں کے لیے کی جاتی ہے۔ نیز اس کا استعمال مادی اور روحانی یا ذہنی دونوں طرح کے عوارضات کے لیے ہوتا ہے پھر جب تک دعا کے اثر سے ایسے عوارضات دور نہ ہوں یا نئے اسباب مہیا نہ ہوں دل کو تسکین ہو کیسے سکتی ہے ؟
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ہدایت کا ایک معنی نرمی اور مہربانی کے ساتھ راستہ بتانا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : (وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ) [ الشوریٰ : ٥٢ ] ” اور بیشک تو یقیناً سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ “ یہ ہدایت اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور دوسرے لوگ سبھی کرسکتے ہیں۔ ہدایت کا دوسرا معنی راستے پر چلنے کی توفیق دینا ہے، یہ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب کرکے فرمایا : (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ) [ القصص : ٥٦ ] ” بیشک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ “ ” الصِّرَاطَ “ اس کا اصل ” سِرَاطٌ“ ہے، جو ” سَرَطَ یَسْرُطُ سَرَطًا، سَرَطَانًا (ن، ع ) “ سے مشتق ہے، سین کو صاد سے بدل دیا گیا، اس کا معنی نگلنا ہے۔ ” سِرَاطٌ“ کا معنی واضح راستہ ہے، کیونکہ اس پر چلنے والا اس طرح غائب ہوجاتا ہے جیسے نگلا ہوا کھانا غائب ہوجاتا ہے۔ (القاموس) ” الْمُسْتَـقِيْمَ “ ” قَامَ یَقُوْمُ “ میں سے باب استفعال سے اسم فاعل ہے، جو اصل میں ” مُسْتَقْوِمٌ“ ہے، معنی اس کا وہی ہے جو ” قَامَ یَقُوْمُ “ کا ہے۔ حروف کی زیادتی سے معنی میں تاکید پیدا ہوگئی، بالکل سیدھا راستہ۔ پچھلی آیت میں ” اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “ سے سوال پیدا ہوتا تھا کہ کیا مدد چاہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے جواب یہ سکھایا کہ کہو پروردگار ! ہمیں زندگی کے ہر لمحے میں اور اپنے ہر کام میں تیری ہدایت کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر تو نہ بتائے تو ہم ظلوم و جہول کسی چیز کے متعلق جان ہی نہیں سکتے کہ اس میں صحیح راستہ کیا ہے۔ اگر جان بھی لیں تو اپنے نفس کی کمزوریوں، شہوت، غضب، حسد، طمع، بخل اور کبر وغیرہ کی وجہ سے اور شیطان اور دوسرے دشمنوں کی وجہ سے اس صحیح راستے پر چلنا اور قائم رہنا تیری توفیق کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے ہماری درخواست ہے کہ ہر کام اور ہر لمحے میں ہمیں سیدھے راستے کو جاننے کی اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ بعض لوگ یہاں ایک سوال ذکر کرتے ہیں کہ جب ہم پہلے ہی ہدایت پر ہیں تو پھر ہدایت کی درخواست کا کیا مطلب ؟ اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ مقصد یہ ہے کہ ہمیں ہدایت پر قائم رکھ۔ یہ مطلب بھی درست ہے، مگر آپ خود سوچ لیں کہ انسان کو ہر لمحے کسی نہ کسی کام کے متعلق فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ مجھے اس میں کیا کرنا ہے، تھوڑی سی لغزش اسے بہت دور پہنچا سکتی ہے، اس لیے یہ کہنا کہ ہم ہر وقت اور ہر کام میں ہدایت پر ہیں، بہت بڑی دلیری کی بات ہے۔ اس لیے یہ حقیقت تسلیم کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے بغیر ہم کسی بھی قدم پر گمراہی کا شکار ہوسکتے ہیں، ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ہدایت مانگتے رہنا لازم ہے۔ الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ : سے مراد دین اسلام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تک اور جنت تک پہنچانے والا یہی واضح، صاف اور سیدھا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی صراحت فرمائی : (قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ڬ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ. قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ١٦٢ۙلَا شَرِيْكَ لَهٗ ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْن)[ الأنعام : ١٦١ تا ١٦٣ ] ” کہہ دے بیشک مجھے تو میرے رب نے سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کردی ہے جو مضبوط دین ہے، ابراہیم کی ملت، جو ایک ہی طرف کا تھا اور مشرکوں سے نہ تھا۔ کہہ دے بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمین (حکم ماننے والوں) میں سب سے پہلا ہوں۔ “ نواس بن سمعان (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم (سیدھے راستے) کی مثال بیان فرمائی۔ اس راستے کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں جن میں کھلے ہوئے دروازے ہیں۔ ان دروازوں پر پردے لٹکے ہوئے ہیں اور اس راستے کے دروازے پر ایک بلانے والا ہے جو کہتا ہے : ” اے لوگو ! تم سب اس راستے میں داخل ہوجاؤ اور ٹیڑھے مت ہونا۔ “ اور ایک بلانے والا اس راستے کے اوپر کنارے سے آواز دے رہا ہے۔ جب کوئی انسان ان دروازوں میں سے کسی کو کھولنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے : ” افسوس تجھ پر ! اسے مت کھول، کیونکہ اگر تو اسے کھولے گا تو اس میں داخل ہوجائے گا۔ “ سو ” الصِّرَاطَ “ (وہ راستہ) اسلام ہے اور دونوں دیواریں اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں اور کھلے دروازے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور راستے کے شروع میں بلانے والی چیز اللہ کی کتاب ہے اور راستے کے اوپر کنارے والا اللہ تعالیٰ کا نصیحت کرنے والا ہے جو ہر مسلم کے دل میں ہے۔ “ [ مسند أحمد : ٤؍١٨٢، ١٨٣، ح : ١٧٦٥٢۔ ترمذی : ٢٨٥٩، قال ابن کثیر حسن صحیح و صححہ الألبانی والسیوطی ] معلوم ہوا صراط مستقیم اسلام ہے جو ہمارے پاس کتاب و سنت کی صورت میں موجود ہے، اس لیے جب کوئی کتاب و سنت سے ہٹ کر کسی شخصیت یا گروہ کے پیچھے لگتا ہے تو وہ صراط مستقیم سے ہٹ جاتا ہے، پھر اس کے لیے منزل مقصود جنت تک پہنچنا کسی صورت ممکن نہیں، جب تک ان تمام ٹیڑھی راہوں سے ہٹ کر کتاب و سنت کی واضح، کشادہ، روشن اور سیدھی راہ پر نہیں آتا۔ الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ : میں پورا اسلام اور اس کے احکام آگئے، باقی قرآن و سنت اس کی تفصیل ہے۔
The Prayer for Guidance The last three verses of the Surah consist of a prayer on the part of man. In other words, Allah Himself, in His great mercy, has taught man what to pray for: “Guide us in the straight path, the path of those on whom You have bestowed Your grace, not of those who have incurred Your wrath, nor of those who have gone astray.” The Implications of Guidance A problem of highest significance arises here. The teaching with regard to the prayer for being guided in the straight path is addressed equally to all men or all Muslims and to saints and prophets who have already received guidance and are even a source of guidance for other men. Why should these repeatedly pray for something they already possess? The answer to this question depends on knowing all that is implied by guidance. The answer would, at the same time, remove all difficulties and confusions which arise in the minds of those who, not being familiar with the true signification of guidance, begin to suspect that certain verses of the Holy Qur'an were contradicting certain others. The Meaning of Hidayah or Guidance The best explanation of the word, Hidayah (guidance) has been offered by Imam Raghib al-Isfahani in his Mufradat al-Quran, which can be summed up thus: Hidayah signifies leading someone towards his destination, gently and kindly; while guidance, in the real sense, issues forth from Allah alone, and it has several degrees. The First Degree of Guidance The first degree of guidance is general, and covers everything that exists in the universe -- minerals, plants, animals etc. It would surprise many to hear of guidance in relation to minerals. But the Holy Qur'an makes it quite clear that all forms of existents in the universe, and every particle of dust possesses life, sensitivity, and even consciousness and understanding in its own degree and according to its own sphere of existence. Some of these existents possess more of this essence than others, and some less. Hence, those who have very little of it are considered to be inanimate and devoid of consciousness. The Shariah too has recognized this difference, and such creatures have not been made to bear the obligation of observing the injunctions of Allah. The creatures which show obvious signs of life but not those of consciousness and reason are considered to be living, but not rational; whereas, creatures showing the signs of consciousness and reason, along with those of life, are called rational beings. Because of these differences in the degrees of consciousness, men and jinn alone, of all the existents in the universe, have been made subservient to the injunctions of the Shariah and accountable for their actions, for they alone have the necessary consciousness and understanding. But, it does not mean that other creatures or existents are totally devoid of life or sensitivity, or of consciousness and understanding. The Holy Quran is very explicit on this point: “Nothing exists that does not celebrate His praise, but you do not understand their (mode of) praising.” (17:44) “Have you not seen that everything in the heavens and the earth proclaims Allah's purity, and the birds too that spread their wings? Each of them knows its prayer and its (mode of) praising. And Allah is aware of what they do.” (24:41) Evidently, one cannot extol and praise Allah without knowing Allah. It is equally evident that knowing Allah is the highest form of knowledge possible, and such knowledge cannot be gained unless one possesses consciousness and understanding. These verses, therefore, show that everything that exists in the universe possesses life, sensitivity, understanding and consciousness, though it may not always be apparent to the ordinary observer -- a truth which has been endorsed by all the great religions, by certain ancient philosophers, and lately even by experimental science. This, then, is the first degree of guidance which is common to minerals, plants, animals, men, jinns and all the forms of creation. The Holy Qur'an speaks of this primary and general guidance in these words: “He gave to everything its distinctive form, and then guided it.” (20:50) Or, as we find in another Surah: “Celebrate the name of your Lord, the Most High, Who has created all things, well proportioned them, and Who has determined and guided them.” (87:1-2) That is to say, Allah has given every creature a particular nature and function, and guided it in a way which should correspond to its station in the scheme of things. Thanks to this general guidance, everything in the universe is performing its allotted function with such marvelous efficiency. For example, it is the ears that hear a sound and not the eyes or the nose. Similarly, the nose smells but cannot see; the eyes see but cannot smell. In short: “There is nothing in the heavens and the earth but comes to the All-Merciful as a servant.” (19:93) The Second Degree of Guidance Unlike the first, the second degree of guidance is not general but particular. It is limited to those creatures which are considered to be rational, that is, men and jinns. This kind of guidance comes to every man through prophets and revealed books. Some accept this guidance, and become believers (Muslims): some reject it and become disbelievers (Kafirs). The Third Degree of guidance The third degree of guidance is still more particular, being special to true believers (Muminin) and the God-fearing (Muttaqin). Like the first degree, the third kind of guidance too descends directly to the individual from Allah, and it is called, Tawfiq That is to say, Allah's grace provides a man with internal and external means and circumstances which should make it easy, and even pleasant for him to accept and act upon the guidance of the Holy Quran, and difficult to ignore or oppose it. The scope of the third degree of guidance is limitless, and its levels indefinite.5 Here is the sphere in which man, not only can, but is required to make a progress in the veritable sense of the term. The agency of this progress is the performance of virtuous deeds. All increase in virtuous deeds brings with it an increase in divine guidance. The Holy Qur'an itself gives us the promise of such increase: “As for those who follow the straight path, Allah will increase their guidance.” (47:17) “And whoever believes in Allah, He guides his heart.” (64:11) “Those who strive for (literally, 'in') Us, We will surely guide them in Our paths.” (29:69) It is in this field of progress that we see even the greatest prophets and men of Allah striving, and it is an increase in divine guidance and help that they keep seeking to their last breath. A Cumulative view of guidance Keeping in mind the three distinct degrees of guidance, one can easily see that guidance is a thing which everyone does possess in some way, and yet no one, not even the greatest, can do without wishing to attain more of its advanced and higher stages. Hence, of all the prayers man can address to Allah, the most important is the prayer for guidance, which has been taught to us in the very first Surah of the Holy Qur'an; and this prayer is as necessary for the greatest of prophets and men of Allah as for an ordinary Muslim. That is why the Surah Al-Fath (Victory), in enumerating the material and spiritual benefits of the conquest of Makkah in the last days of the Holy Prophet (peace be upon him) also says: (and to guide you on the straight path) (48:20). When these verses were revealed, the Holy Prophet (peace be upon him) had already received guidance and was a source of guidance for others. The good tidings of receiving guidance can, in this situation, have only one meaning that he attained some very high station of guidance at the time. Guidance: Some notes of caution In concluding this discussion about the different implications of 'guidance' (Hidayah), we repeat points that would help the reader of the Holy Qur'an avoid certain confusions and errors: 1. The Holy Quran sometimes speaks of divine guidance as being general and common to believers and non-believers, in fact to all creatures, and sometimes makes it out to be particular and special to the God-fearing. So, the unwary may be led to sense a contradiction here. But once it is understood that one degree of guidance is common to all, whereas another degree is limited to particular cases, the doubt and confusion readily resolves itself. 2. On the one hand, the Holy Quran reminds us again and again that Allah does not grant guidance to the unjust and the unrighteous; on the other hand, it repeatedly declares that Allah guides all. The misunderstanding which may arise here is also dispelled by knowledge of the degrees of guidance. Now we can easily see that the general guidance is given to all without any distinction, but the third and very special degree of guidance is not granted to the unjust and the unrighteous. 3. The first and the third degrees of guidance pertain to a direct act of divine grace, and no prophet can have anything to do with it, for the function of the prophets is related only to the second degree. Whenever the Holy Qur'an speaks of Prophets (peace be upon them) as guides, it is always referring to this second degree, and to it alone. On the other hand when Holy Qur'an, addressing the noble Prophet (peace be upon him), says: (You cannot guide whom you please) (28:56), it is the third degree of guidance which is intended, that is to say, it is neither the function of a prophet nor is it in his power to provide tawfiq to anyone, in other words, to make it easy for anyone to accept guidance. To sum up, the Qur'anic prayer (guide us in the straight path) is most comprehensive, and certainly, one of the most important prayers taught to man. No member of the human family can claim not to need it. No success, no prosperity in this or in the other world can really come without being on the straight path. Particularly so, for man lost in the anxieties of mortal life, the prayer for the straight path is an elixir, though people do not realize it.
آخری تین آیتیں جن میں انسان کی دعا و درخواست کا مضمون ہے اور ایک خاص دعا کی تلقین ہے یہ ہیں (آیت) ۔ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ٩ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ بتلا دیجئے ہم کو راستہ سیدھا، راستہ ان لوگوں کا جن پر آپ نے انعام فرمایا نہ راستہ ان لوگوں کا جن پر آپ کا غضب کیا گیا اور نہ ان لوگوں کا جو راستہ سے گم ہوگئے، ان تینوں آیات میں چند باتیں قابل غور ہیں : تکمیل الدرایہ فی تفصیل درجات الہدایہ : یہاں پہلی بات قابل غور یہ ہے کہ صراط مستقیم کی ہدایت کے لئے دعا جو اس آیت میں تعلیم فرمائی گئی ہے اس کے مخاطب جس طرح تمام انسان اور عامہ مؤمنین ہیں، اسی طرح اولیاء اللہ اور حضرات انبیاء (علیہم السلام) بھی اس کے مامور ہیں جو بلاشبہ ہدایت یافتہ بلکہ دوسروں کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہیں، پھر اس حاصل شدہ چیز کی باربار دعا مانگنے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کا جواب ہدایت کی پوری حقیقت معلوم کرنے پر موقوف ہے اس کو کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے جس سے سوال مذکور کے علاوہ ان تمام اشکالات کا بھی جواب معلوم ہوجائیگا جو مفہوم ہدایت کے متعلق قرآن کریم کے بہت سے مقامات میں عموماً پیش آتے ہیں اور ہدایت کی حقیقت سے ناآشنا قرآن کی بہت سی آیات میں باہمی تضاد واختلاف محسوس کرنے لگتا ہے، لفظ ہدایت کی بہترین تشریح امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں تحریر فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہدایت کے اصلی معنی ہیں کسی شخص کو منزل مقصود کی طرف مہربانی کے ساتھ رہنمائی کرنا اور ہدایت کرنا حقیقی معنی میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کا فعل ہے جس کے مختلف درجات ہیں : ایک درجہ ہدایت کا عام ہے جو کائنات و مخلوقات کی تمام اقسام جمادات، نباتات، حیوانات وغیرہ کو شامل ہے یہاں آپ یہ خیال نہ کریں کہ ان بےجان بےشعور چیزوں کو ہدایت سے کیا کام ؟ کیونکہ قرآنی تعلیمات سے یہ واضح ہے کہ کائنات کی تمام اقسام اور ان کا ذرہ ذرہ اپنے اپنے درجے کے موافق حیات و احساس بھی رکھتا ہے اور عقل و شعور بھی، یہ دوسری بات ہے کہ یہ جوہر کسی نوع میں کم کسی میں زیادہ ہے اسی وجہ سے جن اشیاء میں یہ جوہر بہت کم ہے ان کو بےجان، بےشعور سمجھا اور کیا جاتا ہے احکام الٰہیہ میں بھی ان کے ضعف شعور کے آثار کا اتنا اثر آیا کہ ان کو احکام کا مکلّف نہیں بنایا گیا، جن مخلوقات میں حیات کے آثار تو نمایاں ہیں مگر عقل و شعور نمایاں نہیں ان کو ذی حیات جاندار مگر بےعقل و شعور کہا جاتا ہے اور جن میں حیات کے ساتھ عقل و شعور کے آثار بھی نمایاں نظر آتے ہیں ان کو ذوی العقول کہا جاتا ہے اور اسی اختلاف درجات اور عقل و شعور کی کمی بیشی کی وجہ سے تمام کائنات میں احکام شرعیہ کا مکّلف صرف انسان اور جنات کو قرار دیا گیا ہے کہ ان میں عقل و شعور بھی مکمل ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ دوسری انواع و اقسام میں حیات و احساس یا عقل و شعور بالکل نہیں کیونکہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے، وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ( سورة بنی اسرائیل : ٤٤) یعنی کوئی چیز ایسی نہیں جو تعریف کے ساتھ اس کی پاکی (قالاً یاحالاً ) بیان نہ کرتی ہو لیکن تم لوگ ان کی پاکی بیان کرنے کو سمجھتے نہیں ہو، اور سورة نور میں ارشاد ہے : اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّيْرُ صٰۗفّٰتٍ ۭ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسْبِيْحَهٗ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ (آیت نمبر ٤١) یعنی کیا تجھ کو معلوم نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں سب جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں (مخلوقات) ہیں اور (بالخصوص) پرندے جو پر پھیلائے ہوئے اڑتے ہیں سب کو اپنی اپنی دعا اور تسبیح معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور اس کی پاکی بیان کرنا اللہ تعالیٰ کی معرفت پر موقوف ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت ہی سب سے بڑا علم ہے اور یہ علم بدون عقل شعور کے نہیں ہوسکتا اس لئے ان آیات سے ثابت ہوا کہ تمام کائنات کے اندر روح وحیات بھی ہے ادراک و احساس بھی عقل و شعور بھی مگر بعض کائنات میں یہ جو جوہر اتنا کم اور مخفی ہے کہ عام دیکھنے والوں کو اس کا احساس نہیں ہوتا اسی لئے عرف میں ان کو بےجان یا بےعقل کہا جاتا ہے اور اس بناء پر ان کو احکام شرعیہ کا مکلف بھی نہیں بنایا گیا قرآن کریم کا یہ فیصلہ اس وقت کا ہے جب دنیا میں نہ کہیں کوئی فلسفی تھا نہ کوئی فلسفہ مدون تھا بعد میں آنے والے فلاسفروں نے بھی اپنے اپنے وقت میں اس کی تصدیق کی قدیم فلاسفہ میں بھی اس خیال کے کچھ لوگ گذرے ہیں اور جدید فلاسفہ اور اہل سائنس نے تو پوری وضاحت کے ساتھ اس کو ثابت کیا ہے، الغرض ہدایت خداوندی کا یہ درجہ اولیٰ تمام مخلوقات، جمادات، نباتات، حیوانات، انسان اور جنات کو شامل ہے اسی ہدایت عامہ کا ذکر قرآن کریم کی آیت اعطٰی کل شیء خلقہ ثم ھدی (٥٠: ٢٠) میں فرمایا گیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اس کی خلقت عطا فرمائی پھر اس خلقت کے مناسب اس کو ہدایت دی اور یہی مضمون سورة اعلیٰ میں ان الفاظ سے ارشاد ہوا : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى وَالَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى، یعنی آپ اپنے پروردگار عالی شان کی تسبیح کیجئیے جس نے ساری مخلوقات کو بنایا پھر ٹھیک بنایا اور جس نے تجویز کیا پھر راہ بتائی۔ یعنی جس نے تمام مخلوقات کے لئے خاص خاص مزاج اور خاص خاص خدمتیں تجویز فرما کر ہر ایک کو اس کے مناسب ہدایت کردی، اسی ہدایت عامہ کا نتیجہ ہے کہ کائنات عالم کے تمام انواع واصناف اپنا اپنا مقررہ فرض نہایت سلیقہ سے ادا کر رہے ہیں جو چیز جس کام کے لئے بنادی ہے وہ اس کو ایسی خوبی کے ساتھ ادا کر رہی ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے حضرت مولانا رومی نے اسی مضمون کو بیان فرمایا ہے ، خاک وباد و آب وآتش بندہ اند بامن وتو مردہ باحق زندہ اند زبان سے نکلی ہوئی آواز کے معنی کا ادارک نہ ناک کرسکتی ہے نہ آنکھ، حالانکہ یہ زبان سے زیادہ قریب ہیں اس ادراک کا فریضہ اللہ تعالیٰ نے کانوں کے سپرد کیا ہے وہی زبان کی بات کو لیتے ہیں اور ادراک کرتے ہیں، دانائے روم نے خوب فرمایا۔ مر زبان را مشتری جز گوش نیست واقف این راز جز بےہوش نیست اسی طرح کانوں سے دیکھنے یا سونگھنے کا کام نہیں لیا جاسکتا ناک سے دیکھنے یا سننے کا کام نہیں لیا جاسکتا سورة مریم میں اسی مضمون کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے : اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا (٩٣: ١٩) یعنی کوئی نہیں آسمان اور زمین میں جو نہ آوے رحمٰن کو بندہ ہو کر ، دوسرا درجہ ہدایت کا اس کے مقابلے میں خاص ہے یعنی صرف ان چیزوں کے ساتھ مخصوص ہے جو عرف میں ذوی العقول کہلاتی ہیں یعنی انسان اور جن، یہ ہدایت انبیاء اور آسمانی کتابوں کے ذریعہ ہر انسان کو پہنچتی ہے پھر کوئٰی اس کو قبول کرکے مومن مسلم ہوجاتا ہے کوئی رد کرکے کافر ٹھہرتا ہے، تیسرا درجہ ہدایت کا اس سے بھی زیادہ خاص ہے کہ صرف مؤمنین ومتقین کے ساتھ مخصوص ہے یہ ہدایت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلا واسطہ انسان پر فائض ہوتی ہے اس ہدایت کا دوسرا نام توفیق ہے یعنی ایسے اسباب اور حالات پیدا کردینا کہ قرآنی ہدایات کا قبول کرنا اور ان پر عمل کرنا آسان ہوجائے اور ان کی خلاف ورزی دشوار ہوجائے اس تیسرے درجے کی وسعت غیر محدود اور اس کے درجات غیرمتناہی ہیں یہی درجہ انسان کی ترقی کا میدان ہے اعمال صالحہ کے ساتھ ساتھ اس درجہ ہدایت میں زیادتی ہوتی رہتی ہے، قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس زیادتی کا ذکر ہے، مثلاً وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى (١٧: ٤٧) وَمَنْ يُّؤ ْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ جو شخص اللہ پر ایمان لائے اس کے دل کو ہدایت کردیتے ہیں، وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا (٦٩: ٢٩) جو لوگ ہمارے راستے میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان کو اپنے راستوں کی مزید ہدایت کردیتے ہیں، یہی وہ میدان ہے جہاں ہر بڑے سے بڑا نبی و رسول اور ولی اللہ آخر عمر تک زیادتی ہدایت و توفیق کا طالب نظر آتا ہے اسی مقام ہدایت کے متعلق مولانا رومی نے فرمایا، اے برادر بےنہایت در گہے ست ہرچہ بروے میرسی بروے مأیست اور سعدی شیرازی نے فرمایا۔ نگویم کہ برآب قادر نیند کہ برساحل نیل مستسقی اند درجات ہدایت کی اس تشریح سے آپ نے سمجھ لیا ہوگا کہ ہدایت ایک ایسی چیز ہے جو سب کو حاصل بھی ہے اور اس کے مزید درجات عالیہ حاصل کرنے سے کسی بڑے سے بڑے انسان کو استغناء بھی نہیں اسی لئے سورة فاتحہ کی اہم ترین دعا ہدایت کو قرار دیا گیا جو ایک ادنیٰ مومن کے لئے بھی مناسب حال ہے اور بڑے سے بڑے رسول اور ولی کے لئے بھی اتنی ہی اہم ہے یہی وجہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آخر عمر میں سورة فتح کے اندر فتح مکہ کے فوائد وثمرات بتلاتے ہوئے یہ بھی ارشاد ہوا کہ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْاً یعنی مکہ مکرمہ اس لئے آپ کے ہاتھوں فتح کرایا گیا تاکہ آپ کو صراط مستقیم کی ہدایت ہو، ظاہر ہے کہ سید الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے سے نہ صرف ہدایت یافتہ بلکہ دوسروں کے لئے بھی ہدایت مجسم تھے پھر اس موقع پر آپ کو ہدایت ہونے کے اس کے سوا کوئی معنی نہیں ہوسکتے کہ ہدایت کا کوئی بہت اعلیٰ مقام آپ کو اس وقت حاصل ہوا، ہدایت کی اس تشریح سے آپ کے لئے فہم قرآن میں بہت سے فوائد حاصل ہوگئے، اوّل یہ کہ قرآن میں کہیں تو ہدایت کو ہر مومن و کافر کے لئے بلکہ کل مخلوقات کے لئے عام فرمایا گیا ہے اور کہیں اس کو محض متقین کے ساتھ مخصوص لکھا گیا جس میں ناواقف کو تعارض کا شبہ ہوسکتا ہے ہدایت کے عام و خاص درجات معلوم ہونے کے بعد یہ شبہ خود بخود رفع ہوجاتا ہے کہ ایک درجہ سب کو عام اور شامل ہے اور دوسرا درجہ مخصوص ہے، دوسرا فائدہ : یہ ہے کہ قرآن میں ایک طرف تو جگہ جگہ یہ ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالمین یا فاسقین کو ہدایت نہیں فرماتے اور دوسری طرف مکرّر سکّرر یہ ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت فرماتے ہیں اس کا جواب بھی درجات کی تفصیل سے واضح ہوگیا کہ ہدایت عامہ سب کو کی جاتی ہے اور ہدایت کا تیسرا مخصوص درجہ ظالمین وفاسقین کو نصیب نہیں ہوتا، تیسرا فائدہ : یہ ہے کہ ہدایت کے تین درجات میں سے پہلا اور تیسرا درجہ بلاواسطہ حق تعالیٰ کا فعل ہے، اس میں کسی نبی یا رسول کا دخل نہیں انبیاء (علیہم السلام) اور رسولوں کا کام صرف دوسری درجہ ہدایت سے متعلق ہے، قرآن کریم میں جہاں کہیں انبیاء (علیہم السلام) کو ہادی قرار دیا ہے وہ اسی دوسرے درجے کے اعتبار سے ہے اور جہاں یہ ارشاد ہے اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ (٥٦: ٢٨) یعنی آپ ہدایت نہیں کرسکتے جسکو چاہیں تو اس میں ہدایت کا تیسرا درجہ مراد ہے یعنی توفیق دینا آپ کا کام نہیں، الغرض اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ایک جامع اور اہم ترین دعا ہے جو انسان کو سکھلائی گئی ہے، انسان کا کوئی فرد اس سے بےنیاز نہیں، دین اور دینا دونوں میں صراط مستقیم کے بغیر فلاح و کامیابی نہیں دنیا کی الجہنوں میں بھی صراط مستقیم کی دعا نسخہ اکسیر ہے مگر لوگ توجہ نہیں کرتے ترجمہ اس آیت کا یہ ہے کہ بتلا دیجئے ہم کو راستہ سیدھا۔ صراط مستقیم کونسا راستہ ہے ؟ سیدھا راستہ وہ ہے جس میں موڑ نہ ہوں، اور مراد اس سے دین کا وہ راستہ ہے جس میں افراط اور تفریط نہ ہو افراط کے معنی حد سے آگے بڑہنا اور تفریط کے معنی کوتاہی کرنا پھر اس کے بعد کی دو آیتوں میں اس صراط مستقیم کا پتہ دیا گیا ہے جسکی دعا اس آیت میں تلقین کی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے، صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی راستہ ان لوگوں کا جن پر آپ نے انعام فرمایا |" اور وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا ان کی تفصیل ایک دوسری آیت میں اس طرح آئی ہے اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا یعنی وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا یعنی انبیاء، اور صدیقین اور شہداء اور صالحین، مقبولان بارگاہ الہی کے یہ چار درجات ہیں جن میں سب سے اعلیٰ انبیاء (علیہم السلام) ہیں اور صدیقین وہ لوگ ہیں جو انبیاء کی امت میں سب سے زیادہ رتبے کے ہوتے ہیں جن میں کمالات باطنی بھی ہوتے ہیں عرف میں ان کو اولیاء کہا جاتا ہے، شہداء وہ ہیں جنہوں نے دین کی محبت میں اپنی جان تک دے دی اور صلحاء وہ ہیں جو شریعت کے پورے متبع ہوتے ہیں واجبات میں بھی مستحبات میں بھی جن کو عرف میں نیک دیندار کہا جاتا ہے .
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ٥ ۙ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔
(٦۔ ٧) ان لوگوں کا دین جن پر تو نے دین عطا کرکے احسان کیا ہے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم ہے اور ان کا وہ وقت جب تک اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی نعمتوں کو واپس نہیں لیا تھا کہ ان پر وادی تیہ میں بادل نے سایہ کیے رکھا اور اس امت پر بطور نعمت من وسلوی آسمان سے اتارا گیا۔ اور یہ تفسیر بھی ہے کہ انعام والی جماعت سے نبیوں کی جماعت مراد ہے جو ان یہودیوں کے دن کی طلب گار نہیں جن پر تو نے اپنا غصہ کیا اور ان کو ذلیل ورسوا کیا اور ان کے دلوں کو مضبوط نہیں کیا، یہاں تک کہ وہ یہودی بن گئے۔ اور نہ ان نصاری کے دین کے طلب گار ہیں، ان کے دلوں کو مضبوط نہیں کیا۔ یہاں تک کہ وہ یہودی بن گئے، اور نہ ان نصاری کے دین کے طلب گار ہیں، جو اسلام سے بےراہ ہوگئے، اس طرح ہماری یہ امیدیں بڑھتی رہیں اور اسی طرح ہوتا رہے یا یہ کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم نے جو تجھ سے دلی درخواست کی ہے، وہ وہی ہمیں عطا فرما، (اور ہماری ان جملہ دعاؤں کو قبول فرما)
(اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ ٥ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ ) (آمین ! ) اب دیکھئے ‘ یہ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ہی کی تشریح ہے جو آخری تین آیتوں میں ہے۔ ہمیں اللہ سے کیا مدد چاہیے ؟ پیسہ چاہیے ؟ دولت چاہیے ؟ نہیں نہیں ! اے اللہ ہمیں یہ نہیں چاہیے۔ پھر کیا چاہیے ؟ (اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ) ” ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما “۔ یہ جو زندگی کے مختلف معاملات میں دورا ہے ‘ سہ را ہے اور چورا ہے آجاتے ہیں ‘ وہاں ہم فیصلہ نہیں کرسکتے کہ صحیح کیا ہے ‘ غلط کیا ہے۔ لہٰذا اے اللہ ! ہمیں سیدھے راستہ کی طرف ہدایت بخش۔ ” اِھْدِ “ ہدایت سے فعل امر ہے کہ ہمیں ہدایت دے۔ ہدایت کا ایک درجہ یہ بھی ہے کہ سیدھا راستہ بتادیا جائے۔ ہدایت کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ سیدھا راستہ دکھا دیا جائے ‘ اور ہدایت کا آخری مرتبہ یہ ہے کہ انگلی پکڑ کر سیدھے راستے پر چلایا جائے ‘ جیسے بچوں کو لے کر آتے ہیں۔ لہٰذا سیدھے راستے کی ہدایت کی دعا میں یہ سارے مفہوم شامل ہوں گے۔ اے اللہ ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا دے۔ اے اللہ ! اس سیدھے راستے کے لیے ہمارے سینوں کو کھول دے۔ اَللّٰھُمَّ نَوِّرْ قُلُوْبَنَا بالْاِیْمَانِ وَاشْرَحْ صُدُوْرَنَا لِلْاِسْلَامِ ” اے اللہ ! ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کر دے اور ہمارے سینوں کو اسلام کے لیے کھول دے “۔ ہمیں اس پر انشراح صدر ہوجائے۔ اور پھر یہ کہ ہمیں اس سیدھے راستے کے اوپر چلا۔ اب آگے اس صراط مستقیم کی بھی وضاحت ہے ‘ اور یہ وضاحت دو طرح سے ہے۔ صراط مستقیم کی وضاحت ایک مثبت انداز میں اور ایک منفی انداز میں کی گئی ہے۔ مثبت انداز یہ ہے کہ (صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ ) ” (اے اللہ ! ) ان لوگوں کے راستہ پر (ہمیں چلا) جن پر تو نے اپنا انعام نازل فرمایا “۔ یہ مضمون جا کر سورة النساء میں کھلے گا کہ منعم علیہم چار گروہ ہیں : (مِنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیْنَ ج وَحَسُنَ اُولٰٓءِکَ رَفِیْقًا) ” کہ وہ نبی ‘ صدّ یقین ‘ شہداء اور صالحین ہیں۔ اور بہت ہی خوب ہے ان کی رفاقت “۔ اے اللہ ! ان کے راستہ پر ہمیں چلا۔ یہ تو مثبت بات ہوگئی۔ منفی انداز یہ اختیار فرمایا : (غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ ) ” نہ ان پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ ہی وہ گمراہ ہوئے “۔ جو لوگ صراط مستقیم سے بھٹک گئے وہ دو قسم کے ہیں۔ ان میں فرق یہ ہے کہ جو شرارت نفس کی وجہ سے غلط راستہ پر چلتا ہے اس پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے ‘ اور جس کی نیت تو غلط نہیں ہوتی ‘ لیکن وہ غلو کر کے جذبات میں آکر کوئی غلط راستہ اختیار کرلیتا ہے تو وہ ضالّّ (گمراہ) ہے۔ چناچہ ” مَغْضُوْب عَلَیْہِمْ “ کی سب سے بڑی مثال یہود ہیں کہ اللہ کی کتاب ان کے پاس تھی ‘ شریعت موجود تھی ‘ لیکن شرارت نفس اور تکبر کی وجہ سے وہ غلط راستہ پر چل پڑے۔ جبکہ نصاریٰ ” ضَآلِّیْن “ ہیں ‘ انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں صرف غلو کیا ہے۔ جیسے ہمارے یہاں بھی بعض نعت گو اور نعت خواں نبی کریم کی شان بیان کرتے ہیں تو مبالغہ آرائی کرتے ہوئے کبھی انہیں اللہ سے بھی اوپر لے جاتے ہیں۔ یہ غلو ہوتا ہے ‘ لیکن ہوتا ہے نیک نیتی سے ‘ محبت سے۔ چناچہ نصاریٰ نے حب رسول میں غلو سے کام لیتے ہوئے حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا بنا دیا۔ ہمارے شیعہ بھائیوں میں سے بھی بعض لوگ ہیں جو حضرت علی کو خدا ہی بنا بیٹھے ہیں۔ مثلاً ” لیکن نہیں ہے ذات خدا سے جدا علی ! “ بہرحال یہ غلو ہوتا ہے جو انسان کو گمراہ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے : (قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ غَیْرَ الْحَقِّ ) (المائدۃ : ٧٧) ” اے کتاب والو ! اپنے دین میں ناحق غلو سے کام نہ لو “۔ لیکن نصاریٰ نے اپنے دین میں اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی محبت میں غلو سے کام لیا تو وہ گمراہ ہوگئے۔ تو اے اللہ ! ان سب کے راستے سے ہمیں بچا کر سیدھے راستے پر چلا ‘ جو صدّ یقین کا ‘ انبیاء کا ‘ شہداء کا اور صالحین کا راستہ ہے۔ حدیث قدسی آخر میں وہ حدیث قدسی پیش کر رہا ہوں جس میں سورة الفاتحہ ہی کو الصَّلَاۃ (نماز) قرار دیا گیا ہے۔ یہ مسلم شریف کی روایت ہے اور حضرت ابوہریرہ اس کے راوی ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ( قَسَمْتُ الصَّلَاۃَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ نِصْفَیْنِ وَلِعَبْدِیْ مَا سَأَلَ ‘ فَاِذَا قَالَ الْعَبْدُ (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) قَال اللّٰہُ تَعَالٰی : حَمِدَنِیْ عَبْدِیْ ‘ وَاِذَا قَالَ (اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ) قَال اللّٰہُ تَعَالٰی : اَثْنٰی عَلَیَّ عَبْدِیْ ‘ وَاِذَا قَالَ (مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ) قَالَ مَجَّدَنِیْ عَبْدِیْ وَقَالَ مَرَّۃً : فَوَّضَ اِلَیَّ عَبْدِیْ فَاِذَا قَالَ (اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ) قَالَ ہٰذَا بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَا سَأَلَ ‘ فَاِذَا قَالَ (اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ ) قَالَ ہٰذَا لِعَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَا سَأَلَ ) (٧) ” میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو برابر حصوں میں تقسیم کردیا ہے ( اس کا نصف حصہ میرے لیے اور نصف حصہ میرے بندے کے لیے ہے ) اور میرے بندے کو وہ عطا کیا گیا جو اس نے طلب کیا۔ جب بندہ کہتا ہے : ” اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ “ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی (میرا شکر ادا کیا) ۔ جب بندہ کہتا ہے : ” الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری ثنا کی۔ جب بندہ کہتا ہے : ” مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ “ تو اللہ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری بزرگی اور بڑائی بیان کی اور ایک مرتبہ آپ نے یہ بھی فرمایا : ” میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے سپرد کردیا (گویا یہ پہلا حصہ کل کا کل اللہ کے لیے ہے۔ ) پھر جب بندہ کہتا ہے : ” اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ “ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ حصہ میرے اور میرے بندے کے مابین مشترک ہے اور میں نے اپنے بندے کو بخشا جو اس نے مانگا۔ (گویا یہ حصہ ایک قول وقرار اور عہد و میثاق ہے۔ اسے میں نے کہا تھا کہ یہ اللہ اور بندے کے درمیان hand shake ہے۔ ) پھر جب بندہ کہتا ہے : ” اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ “ تو اللہ فرماتا ہے کہ یہ حصہ (کل کا کل) میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے نے جو کچھ مجھ سے طلب کیا وہ میں نے اسے بخشا “۔ اس حدیث کی رو سے سورة الفاتحہ کے تین حصے بن جائیں گے۔ پہلا حصہ کلیتاً اللہ کے لیے ہے اور آخری حصہ کلیتاً بندے کے لیے ‘ جبکہ درمیانی و مرکزی آیت : ” اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ “ بندے اور اللہ کے مابین قول وقرار ہے۔ گویا اس کا بھی نصفِ اوّل اللہ کے لیے اور نصف ثانی بندے کے لیے ہے۔ اس طرح نصف نصف کی تقسیم بتمام و کمال پوری ہوگئی ! ایک بات یہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ اس حدیث قدسی میں ” قَسَمْتُ الصَّلَاۃَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ نِصْفَیْنِ “ کے بعد آیت ” بسم اللہ “ کا ذکر نہیں ہے ‘ بلکہ ” اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ “ سے بات براہ راست آگے بڑھتی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اس ضمن میں امام ابوحنیفہ (رح) کا موقف درست ہے کہ آیت بسم اللہ سورة الفاتحہ کا جزو نہیں ہے۔ اس سورة مبارکہ کے اختتام پر ” آمین “ کہنامسنون ہے۔ ” آمین “ کے معنی ہیں ” اے اللہ ایسا ہی ہو ! “ اس سورة مبارکہ کا اسلوب چونکہ دعائیہ ہے ‘ لہٰذا دعا کے اختتام پر ” آمین “ کہہ کر بندہ گویا پھر بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتا ہے کہ اے پروردگار ! میں نے یہ عرضداشت تیرے حضور پیش کی ہے ‘ تو اسے شرف قبول عطا فرما ! بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیم
8. We beseech God to guide us in all walks of life to a way which is absolutely true, which provides us with a properly-based outlook and sound principles of behaviour, a way which will prevent our succumbing to false doctrines and adopting unsound principles of conduct, a way that will lead us to our true salvation and happiness. This is man's prayer to God as he begins the study of the Qur'an. It is, in short, to illuminate the truth which he often tends to lose in a labyrinth of philosophical speculation; to enlighten him as to which of the numerous ethical doctrines ensures a sound course of conduct; to show which of the myriad ways and by-ways is the clear, straight, open road of sound belief and right behaviour.
سورة الْفَاتِحَة حاشیہ نمبر :8 یعنی زندگی کے ہر شعبہ میں خیال اور عمل اور برتاؤ کا وہ طریقہ ہمیں بتا جو بالکل صحیح ہو ، جس میں غلط بینی اور غلط کاری اور بدنامی کا خطرہ نہ ہو ، جس پر چل کہ ہم سچی فلاح و سعادت حاصل کر سکیں -------- یہ ہے وہ درخواست جو قرآن شروع کرتے ہوئے بندہ اپنے خدا کے حضور پیش کرتاہے ۔ اس کی گزارش یہ ہے کہ آپ ہماری رہنمائی فرمائیں اور ہمیں بتائیں کہ قیاسی فلسفوں کی اس بھول بھلیاں میں حقیقتِ نفس الامری کیا ہے ، اخلاق کے ان مختلف نظریات میں صحیح نظام اخلاق کونسا ہے ، زندگی کی ان بے شمار پگڈنڈیوں کے درمیان فکر و عمل کی سیدھی اور صاف شاہراہ کونسی ہے ۔
(1:5) اِھْدِنَا۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم ھدایۃ باب ضرب، مصدر سے، تو ہم کو راہ بتلا، تو ہماری رہنمائی کر، اصل میں فعل لازم ہے اور ل الیٰ کے ساتھ متعدی کے معنی دیتا ہے لیکن بغیر صلہ کے بھی بطور متعدی استعمال ہوتا ہے مثلاً ھدی الرجل آدمی کا ہدایت پانا۔ (فعل لازم) اور ھداہ الطریق کسی کو راہ بتانا۔ بمعنی ھداہ الی الطریق وللطریق۔ فعل متعدی ہے۔ ہدایت کے اصلی معنی لطف و مہربانی کے ساتھ رہنمائی کرنے اور راستہ بتانے کے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کا استعمال ہمیشہ خیر و نیکی میں ہوا کرتا ہے۔ اور جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو پھر مقصد تک پہنچانے کے معنی میں ہوتی ہے۔ الصِّرَاطَ ۔ راہ۔ راستہ، سیدھے اور آساں راستے کو صراط کہتے ہیں اس کی جمع صرط ہے۔ الصِّرَاطَ یہاں موصوف ہے اس کی صفت المستقیم آگے آتی ہے۔ الْمُسْتَـقِيْمَ ۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر منصوب۔ استقامۃ (استفعال) قوم۔ مادہ بمعنی سیدھا۔ صحیح، الصِّرَاطَ کی صفت ہے۔ ااِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ، کی ترکیب یوں ہوگی۔اِھْدِ ۔۔ فعل فعل اپنے فاعل اور دو مفعولوں سے انت۔ ضمیر مستتر فاعل مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔نَا ۔۔ مفعول ول الصِّرَاطَ ۔۔ موصوف موصوف وصفت مل کر الْمُسْتَـقِيْمَ ۔۔ صفت مفعول ثانی
(8) طبعی اور فطری ہدایت کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انسان اپنے منا فع و مضرات کا اندازہ کرسکتا ہے اور سب سے بڑی نعمت ہدایت دین ہے جو اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمروں کے ذریعہ نازل ہوئی۔ ہدایت کی ان جملہ انواع کا ذکر قرآن میں مذکور ہے اور پھر سب سے بڑے کر انبیاء اسؤہ حسنہ ہے جو ہدایت الہی کی عملی تعبیر ہے یہی وجہ ہے کہ دعا میں صراط مستقیم کی ہدایت کی بیان میں صراط الذین انعمت لایا گیا ہے، صراط مستقیم قرآن و حدیث کی اتباع کا نام ہے اجتہادی مسائل میں غلطیوں کا زیادہ امکان ہے اس لیے پانچ اوقات نماز میں یہ دعا اسی شعور کے ساتھ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی لغزشوں سے دور رکھے۔ (9) یعنی انبیاء صدقین، شہدا اور صالحین دیکھیے سورة النساء آیت 69 ۔
(اھدنا): ہمیں ہدایت دیجئے۔ ہمیں راستہ دکھائیے۔ ہمیں منزل تک پہنچا دیجئے۔ ہدایت کے معنی ہیں راستہ دکھانا۔ راستے پر چلانا۔ جو بھی منزل مقصود ہو اس تک پہنچا دینا۔ ایک مومن ہر وقت سیدھے اور سچے راستے تک پہنچنے کی درخواست کرتا ہے۔ کیونکہ کہ زندگی میں خطرناک موڑ آتے رہتے ہیں۔ اگر اللہ کی مدد شامل نہ ہو تو قدم قدم پر بہکنے اور پھسلنے کا اندیشہ لگا رہتا ہے۔ نفس اور شیطان انسان کو بہکانے اور ڈگمگادینے کے ہزاروں دلکش راستے دکھاتے رہتے ہیں۔ اس لئے اس ہدایت اور رہنمائی کی آرزو ہر دل میں ہر آن رہنی چاہئے جو صرف اللہ نے اپنے دست قدرت میں رکھی ہوئی ہے۔ (الصراط المستقیم): سیدھا سچا راستہ۔ صراط مستقیم۔ ایک مومن اپنے اللہ سے یہ درخواست کرتا ہے کہ الٰہی ! ہمیں وہ سیدھا اور سچا راستہ دکھا دیجئے جس کا آپ کا فضل و کرم شامل ہو یعنی نیک اور برگزیدہ ہستیوں کا راستہ۔ ثابت قدمی اور صبرو تحمل کا راستہ۔ کامیابی کا راستہ ، راستے کی وہ توفیق جو ہمیں اس دنیا اور آخرت میں نجات عطا کر دے اور منزل مراد تک پہنچا دے۔
فہم القرآن اہل علم نے ہدایت کے مدارج کی بہت سی قسمیں بیان فرمائی ہیں لیکن بنیادی طور پر اس کی چار اقسام ہیں : 1 طبعی اور فطری ہدایت 2 الہامی ہدایت 3 توفیقی ہدایت 4 ہدایت وحی۔ طبعی اور فطری ہدایت : چاند، سورج اور سیارے طبعی رہنمائی کے مطابق اپنے مدار میں رواں دواں ہیں۔ ہوائیں اسی اصول کی روشنی میں رخ بدلتی اور چلتی ہیں۔ بادل فطری رہنمائی سے ہی راستے تبدیل کرتے اور برستے ہیں حتیٰ کہ اسی اصول کے تحت درخت روشنی کی تلاش میں ایک دوسرے سے اوپر نکلتے ہیں۔ فطری ہدایت کے مطابق ہی مرغی کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی ماں کے قدموں میں پڑجاتا ہے، بطخ کا بچہ خود بخود پانی کی طرف چلتا اور انسان کا نومولود ماں کی چھاتی کے ساتھ چمٹتا ہے۔ اس طبعی اور فطری ہدایت کی قرآن نے اس طرح رہنمائی فرمائی ہے : (وَھَدَیْنَاہ النَّجْدَیْنِ ۔ )[ البلد : ١٠] ” ہم نے اسے دو واضح راستے دکھا دیئے۔ “ الہامی ہدایت : الہام وحی کی ایک قسم ہے لیکن وحی اور الہام میں فرق یہ ہے کہ وحی صرف انبیاء کے ساتھ خاص ہے جب کہ الہام انبیاء کے علاوہ نیک اور عام آدمی حتی کہ قرآن مجید نے شہد کی مکھیوں کے لیے بھی وحی یعنی الہام کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنٰی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے دل میں کوئی بات القا فرما دیتا ہے۔ اسے ہدایت وہبی بھی کہا جاتا ہے۔ ہدایت بمعنٰی توفیق اور استقامت : ہدایت کی تیسری قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی عنایت اور توفیق سے اپنے بندے کی رہنمائی کرتے ہوئے اسے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کی توفیق عطا فرما دے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر یہ دعا کرتے تھے۔ (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ ) (رواہ الترمذی : کتاب الدعوات) ” اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا۔ “ (اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ وَأَعِذْنِیْ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ ) (رواہ الترمذی : کتاب الدعوات، باب ماء فی جامع الدعوات) ” اے اللہ ! میری راہنمائی فرما اور مجھے میرے نفس کے شر سے محفوظ فرما۔ “ وحی اور حقیقی ہدایت : یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اس ہدایت کی دو شکلیں ہیں اور دونوں آپس میں لازم وملزوم اور ضروری ہیں۔ ایک ہدایت ہے ہر نیکی کی ظاہری حالت اور اس کی ادائیگی کا طریقہ جو ہر حال میں سنت نبوی کے مطابق ہونا چاہیے۔ دوسری اس کی روح اور اصل۔ اسے قرآن نے اخلاص سے تعبیر فرمایا ہے۔ اخلاص کے اثرات دل پر اثرا نداز ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل ہوگی جس کا بدلہ جنّت ہے۔ کردار پر مرتب ہوں گے تو نفس اور معاشرے میں پاکیزگی پیدا ہوگی جس سے آدمی کو دنیا میں نیک نامی اور کامیابی حاصل ہوگی۔ بندہ اللہ کے حضور ہاتھ باندھے، نظریں جھکائے، نہایت عاجزی اور بےبسی کے عالم میں عرض کرتا ہے۔ میرے خالق ومالک ! میں تیری بارگاہ میں عرض گزارہوں کہ میں دنیا کی رزم گاہ میں کمزور اور ناتواں ہوں۔ میرا دشمن بڑا ذلیل، طاقت ور، عیّار اور چالاک ہے جو چاروں طرف سے اپنے لشکروں کے ساتھ ہر آن مجھ پر حملہ آور ہو رہا ہے۔ اور میں اسے دیکھ بھی نہیں سکتا۔ وہ ہر دم مجھے پھسلانے کے درپے ہے۔ تیری دست گیری اور رہنمائی کے بغیر نہ میں اس کا مقابلہ کرسکتا ہوں اور نہ ہی سیدھی راہ پر گامزن رہ سکتا ہوں۔ دنیا کے گھٹا ٹوپ اندھیروں، مسائل کے طوفانوں اور مشکلات کے جھکڑوں میں میری عاجزانہ درخواست ہے کہ مجھے لمحہ لمحہ اور قدم قدم پر صراط مستقیم کی رہنمائی اور اس پر ثابت قدمی کی توفیق نصیب فرما۔ مومن اپنے ساتھ دوسروں کے لیے بھی ہدایت اور مدد کا طالب ہوتا ہے تاکہ ایک فرد کی بجائے ہدایت یافتہ لوگوں کا ایک قافلہ اور کارواں ہو تاکہ شیطانی لشکروں کا مقابلہ کرنا اور غلبۂ دین آسان ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گفتگو کا ملکہ اور ایسا معجزانہ اسلوب عنایت فرمایا تھا جو بنی نوع انسان میں کسی کو نہ حاصل ہوا نہ ہوگا۔ آپ نے بڑے بڑے پیچیدہ مسائل چند الفاظ اور انتہائی سادہ انداز میں بیان فرمادیے ہیں۔ لیکن صراط مستقیم کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر اس مسئلہ کو ایک نقشہ کے ذریعے سمجھانے کا طریقہ اختیار فرمایا تاکہ کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ خَطَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خَطًّا بِیَدِہٖ ثُمَّ قَالَ ھٰذَا سَبِیْلُ اللّٰہِ مُسْتَقِیْمًا قَالَ ثُمَّ خَطَّ عَنْ یَّمِیْنِہٖ وَشِمَالِہٖ ثُمَّ قَالَ ھٰذِہِ السُّبُلُ وَلَیْسَ مِنْھَا سَبِیْلٌ إِلَّا عَلَیْہِ شَیْطَانٌ یَدْعُوْ إِلَیْہِ ثُمَّ قَرَأَ (وَاََنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ ) (مسند احمد : کتاب مسند المکثرین من الصحابۃ، باب مسند عبدا اللہ بن مسعود) ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے ایک لکیر کھینچی پھر فرمایا یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے پھر اس کے دائیں اور بائیں خط کھینچ کر فرمایا یہ راستے ہیں۔ ان میں ہر ایک پر شیطان کھڑا ہے اور وہ اس کی طرف بلاتا ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی (بےشک یہ میرا سیدھا راستہ ہے اسی پر چلتے رہنا اور پگڈنڈیوں پر نہ چلنا۔ “ قرآن مجید نے اس راستے کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا راستہ قرار دیا اور اسے بصیرت سے تعبیر کیا ہے۔ (قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِيْ أَدْعُو إِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ ) (یوسف : ١٠٨) ” آپ فرمادیجئے یہ میرا راستہ ہے میں اور میرے پیرو کار بصیرت کی بنیاد پر اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔ “ (عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ (رض) یَقُوْلُ وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَوْعِظَۃً ذَرَفَتْ مِنْھَا الْعُیُوْنُ وَوَجِلَتْ مِنْھَا الْقُلُوْبُ فَقُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ إِنَّ ھٰذِہٖ لَمَوْعِظَۃُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْھَدُ إِلَیْنَا قَالَ قَدْ تَرَکْتُکُمْ عَلَی الْبَیْضَآءِ لَیْلُھَا کَنَھَارِھَا لَایَزِیْغُ عَنْھَا بَعْدِيْ إِلَّاھَالِکٌ مَنْ یَّعِشْ مِنْکُمْ فَسَیَرٰی اخْتِلَافًا کَثِیْرًا فَعَلَیْکُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِيْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاء الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَ عَضُّوْا عَلَیْھَا بالنَّوَاجِذِ وَعَلَیْکُمْ بالطَّاعَۃِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِیًّا فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ کَالْجَمَلِ الْأَنِفِ حَیْثُمَا قِیْدَانْقَادَ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب المقدمۃ، باب اتباع سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین ] ” حضرت عرباض بن ساریہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا وعظ فرمایا جس سے آنکھیں بہہ پڑیں اور دل ڈر گئے ہم نے کہا اللہ کے رسول یقیناً یہ تو الوداعی وعظ لگتا ہے لہٰذا آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں تمہیں واضح دین پر چھوڑ کر جارہا ہوں جس کی رات بھی دن کی مانند ہے ہلاک ہونے والے کے علاوہ کوئی اس سے نہیں ہٹے گا تم میں سے جو زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔ تم پر جو میرا اور میرے صحابہ کا طریقہ پر چلنا لازم ہے اسے داڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑنا اور امیر کی اطاعت کرتے رہنا اگرچہ وہ حبشی ہی کیوں نہ ہو۔ مومن نکیل والے اونٹ کی طرح ہوتا ہے اسے جہاں بھی لے جایا جائے وہ جاتا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ سے ہر لمحہ اور ہر قدم پر صراط مستقیم کی درخواست کرتے رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن صراط مستقیم : ١۔ صراط مستقیم کی بنیاد۔ (آل عمران : ١٠١) ٢۔ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا صراط مستقیم ہے۔ (آل عمران : ٥١) ٣۔ صراط مستقیم کے سنگ میل۔ (الانعام : ١٥١ تا ١٥٣) ٤۔ ہر کسی کو صراط مستقیم کی ہی دعوت دینا چاہیے۔ ( الانعام : ١٥٣) ٥۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا صراط مستقیم پر ہے۔ (یٰس : ٦١)
ہمیں سیدھا راستہ دکھا ۔ ” ہمیں سیدھا راستہ دکھا ۔ یعنی ہمیں سیدھے اور منزل مقصود تک پہنچانے والے راستے کو سمجھنے کی توفیق دے۔ اور اس کو سمجھنے کے بعد اس پر چلنے کی استقامت دے ۔ کیونکہ معرفت حق اور پھر اس پر استقامت دراصل اللہ کی رحمت شفقت اور رہنمائی کا ثمرہ ہوتی ہے اور اسی بارے میں اللہ کی طرف رجوع کرنا دراصل عقیدہ توحید کا ثمرہ ہے۔ لہٰذا ایک مومن جن معاملات میں اپنے رب سے مدد اور نصرت طلب کرتا ہے ان میں سے صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق کی دعا ایک نہایت ہی اہم اور عظیم مطلوب ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا وعقبیٰ کی سعادت اس پر موقوف ہے کہ انسان جادہ مستقیم کی طرف راہنمائی پائے ۔ اور جادہ مستقیم تک رسائی دراصل اس الٰہی ناموس تک رسائی ہوتی ہے جو اس پوری کائنات کی حرکت اور اس کے اندر اس چھوٹے سے انسان کی حرکت کے درمیان توازن وتناسق پیدا کررہا ہے اور ان دونوں کو اللہ رب العالمین کی طرف متوجہ کررہا ہے۔ اس کے بعد باری تعالیٰ اس راستے کی حقیقت کو بیان فرماتے ہیں ” وہ ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے انعام فرمایا ، جو معتوب نہیں ہوئے اور جو بھٹکے ہوئے نہیں۔ “ یعنی ان لوگوں کا راستہ جن کی قسمت میں اللہ کا انعام لکھا ہوا ہے اور ان لوگوں کا راستہ نہیں جنہوں نے حق کو جانا اور پھر اس سے روگردانی اختیار کی ۔ یا جو سرے سے راہ حق کی معرفت ہی سے محروم رکھے گئے ۔ اور ہدایت ہی نہ پاسکے ۔ بلکہ ان لوگوں کی راہ سعادت مند اور واصلین حق ہیں ۔ غرض یہ ایک مختصر اور بکثرت نماز میں دہرائے جانے والی سورت ہے ، جس کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور مختصر ہونے کے باوجود اسلامی نظریہ حیات کے نہایت ہی اہم اور اصولی عقائد پر مشتمل ہے ۔ نیز اس میں وہ شعوری ہدایات دی گئی ہیں جن کے سرچشمے اسلامی تصور حیات سے پھوٹتے ہیں ۔
صراط مستقیم کی دعا : راہِ حق کو دکھانا اور مطلوب حق تک پہنچانا یہ سب کچھ ہدایت کے مفہوم میں داخل ہے۔ مدد مانگنے کے ذیل میں جہاں اور باتیں ہیں وہاں ہدایت کی طلب بھی ہے اور در حقیقت ہدایت ہی مخلوق کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ اگر سب کچھ موجود ہو اور بندہ ہدایت پر نہ ہو عقیدہ اور عمل سے گمراہ ہو تو دنیاوی چیزوں سے تھوڑا بہت فائدہ اٹھا کر عذاب دوزخ میں مبتلا ہونا پڑے گا۔ اس اعتبار سے حقیقی نعمت ہدایت ہی ہوئی۔ لہٰذا یہ کہہ کر کہ ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں فوراً ہدایت کا سوال کیا گیا۔ یعنی صحیح راستہ پر چلانے کی دعا کرلی گئی۔ صحیح راستہ کون سا ہے اس کی تعیین کے لیے (صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ) لایا گیا جس کی تفسیر ابھی آتی ہے انشاء اللہ تعالیٰ ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ مؤمن ہیں قرآن کو مانتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں وہ تو ہدایت پر ہیں ہی ان لوگوں سے بار بار ہدایت کا سوال کیوں کرایا جاتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہدایت یافتہ ہوتے ہوئے ہدایت کی دعا کرنا موت تک ہدایت پر جمے رہنے اور ثابت قدم رہنے کا سوال ہے جیسا کہ دوسری آیت میں اہل ایمان کی دعا کا اس طرح تذکرہ فرمایا ہے۔ (رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَ ھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃًج اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ ) (اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں کو حق سے نہ ہٹا دیجیے بعد اس کے کہ آپ نے ہمیں ہدایت دی اور ہم کو اپنے پاس سے رحمت عطا فرما دیجیے، بیشک آپ بہت زیادہ دینے والے ہیں) قال النسفی ای ثبتنا علی المنھاج الواضح کقولک للقائم قم حتی اعود الیک ای اثبت علی ما انت علیہ أو اھدنا فی الاستقبال کما ھدیتنا فی الحال (مدارک التنزیل ص ٧ ج ١) (علامہ نسفی (رض) فرماتے ہیں : یعنی آپ ہمیں واضح شاہراہ پر ثابت قدم رکھیں۔ جیسے آپ کھڑے ہوئے کو کہیں قُمْ (کھڑا رہ) یہاں تک کہ میں تیرے پاس واپس آؤں یعنی جس طرح تم کھڑے ہو اسی طرح کھڑے رہو یا (اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ) کا معنی ہے کہ یا اللہ ! آپ ہمیں مستقبل میں بھی اسی طرح ہدایت سے مشرف رکھیں جس طرح حال میں ہدایت سے مشرف رکھا ہے۔ )
8: اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ۔ پہلی آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ سب کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور پھر ہر چیز اور ہر جاندار کو رفتہ رفتہ حد کمال تک پہنچانے والا بھی وہی ہے۔ سارے عالم کا نظام بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہی متصرف ومختار ہے اور پھر محاسبۂ اعمال کے دن یعنی قیامت کے دن کا مالک بھی وہی ہے۔ جب انسان ان چاروں حقیقتوں کا اعتراف کرلے اور ان پر پختہ ایمان لے آئے تو وہ بلا ساختہ پکار اٹھے گا اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ۔ یہ در اصل بندوں کا اپنے خدا سے عہد ہے کہ اے اللہ ہم صرف تیری ہی بندگی کریں گے۔ صرف تجھے ہی حاجات ومشکلات میں مدد کے لیے پکاریں گے۔ اس کے بعد اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ میں اسی عہد پر استقامت کی دعا مانگی جارہی ہے مطلب یہ ہے کہ اے اللہ یہ سیدھی راہ جو تو نے ہمیں دکھا دی ہے یعنی توحید اور صرف تیری عبادت و پکار اور صرف تجھی سے استعانت واستمداد کی راہ اب اس پر ہمیں قائم رکھ اور تادم آخرین ہمیں اس پر چلا۔ الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَسے توحید اور اللہ کی خالص عبادت و پکار کی طرف اشارہ ہے۔ ایک جگہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَکا یہ مفہوم بیان فرمایا۔ وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۭھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ (مریم :36) اور بیشک اللہ ہی میرا پروردگار ہے اور وہی تمہارا پروردگار اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو اور صرف اسے ہی پکارو یہی ہے صراط مستقیم (سیدھی راہ) ۔ اور ایک جگہ تمام بنی آدم کو خطاب کر کے فرمایا اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ 60ۙوَّ اَنِ اعْبُدُوْنِيْ ڼ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَــقِيْمٌ (یس :60، 61) اے اولاد آدم ! کیا میں تمہیں اس بات کی تاکید نہیں کی تھی کہ شیطان کی بندگی مت کرنا اور صرف میری ہی بندگی کرنا۔ یہی ہے صراط مستقیم۔ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس سے مطلق راہ حق مراد ہے جو اسلام کے تمام احکام کو شامل ہے۔ مثلاً عبادات، معاملات، اخلاق، معاشیات، سیاسیات، احکام برزخ و اصول آخرت وگیرہ۔ والمراد بہ طریق الحق وھو ملۃ الاسلام (مدارک جلد 1 ص 7) سورة انعام رکوع 19 میں بھی اس طرف اشارہ ہے۔ وہاں پہلے اللہ تعالیٰ نے شرک سے منع فرمایا پھر والدین سے احسان اور حسن سلوک کا حکم دیا۔ پھر قتل اولاد، قتل نفس محرمہ اور دیگر تمام فواحش سے منع کیا۔ پھر یتیموں کی حق تلفی سے روکا پھر ناپ تول پورا کرنے اور ہر حال میں عدل و انصاف کو قائم رکھنے کا حکم دیا اور آخر میں جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اعلان کرنے کا حکم فرمایا۔ وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۔ اور بیشک یہ ہے میرا راستہ جو بالکل سیدھا ہے۔ سو اس راہ پر چلو۔ یہاں دین کے تمام احکام کو صراط مستقیم فرمایا۔ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ : مرکب توصیفی ہے اور الْمُسْتَـقِيْمَ اس چیز کو کہتے ہیں جو بالکل سیدھی ہو اور اس میں کسی قسم کی کجی اور پیچ وخم نہ ہو اور الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ (سیدھی راہ) توحید یا پوری ملت اسلام کو اس لیے فرمایا کہ توحید کی راہ بالکل سیدھی ہے جس پر چلنے سے انسان خدا تک پہنچ سکتا ہے۔ اگر وہ توحید سے سرمو ہٹ گیا تو سیدھا جہنم میں پہنچے گا۔ اسی طرح ملت اسلام بھی سیدھی اور درمیانی راہ ہے اس میں نہ افراط ہے نہ تفریط جیسا کہ یہود نے حضرت عزیر کے بارے میں افراط اور حضرت مسیح (علیہما السلام) کے بارے میں تفریط سے کام لیا اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں افراط سے کام لیا اور حضرت خاتم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں تفریط کی اسی طرح باقی احکام شرعیہ میں بھی پہلی امتوں میں افراط وتفریط تھی لیکن شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام ہر قسم کی اعتقادی اور عملی افراط وتفریط سے بالکل پاک ہے۔ لفظ ہدایۃ ہمیشہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ مفعول اول کی طرف ہمیشہ بلا واسطہ حرف جر اور مفعول ثانی کی طرف کبھی بواسطہ حرف جرمثلاً وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ (یونس :25) اور وَهَدَيْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَـقِيْمٍ (الانعام :87) اور کبھی بلاواسطۂ جر مثلاً ۚوَهَدَيْنٰهُمَا الـصِّرَاطَ الْمُسْتَــقِيْمَ (الصافات :118) اور وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا (الفتح :2) لیکن استعمال کی ان دونوں صورتوں کے معنوں میں فرق ہے۔ پہلی صورت میں ہدایت کے معنی اراءۃ الطریق، راہ نمودن یعنی راہ دکھانے کے ہوں گے۔ اور دوسری صورت میں اس کے معنی ایصال الی المطلوب بمنزل رسانیدن یعنی منزل مقصود تک پہنچانے کے ہوں گے۔ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ میں ناضمیر منصوب متکلم مفعول اول ہے اور الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ مفعول ثانی ہے جو بلاواسطہ حرف جر استعمال ہوا ہے۔ اس لیے ہدایت کے معنی یہاں ایصال الی المطلوب (منزل مقصود تک پہنچادینے) کے ہیں۔ یہاں چونکہ منزل مقصود صراط مستقیم ہے اسلیے معنی یہ ہوں گے کہ ہم کو صراط مستقیم (سیدھی راہ) پر چلا اور اس پر قائم رکھ جیسا کہ حضرت شاہ عبدالقادر (رح) نے اس کا ترجمہ کیا ہے " چلا ہم کو راہ سیدھی " اور یہاں یہی معنی موزوں اور مناسب ہیں کیونکہ جب ایک شخص الحمدللہ سے ایاک نستعین تک بیان کردہ تمام باتوں پر ایمان لے آتا ہے اور ان پر عامل ہوجاتا ہے تو صراط مستقیم تو اس نے دیکھ لیا اور سیدھی راہ اسے مل چکی۔ اس لیے اب اھدنا الصراط المستقیم۔ میں وہ سیدھی راہ دیکھنے کی دعا نہیں کر رہا بلکہ وہ یہ التجا کر رہا ہے کہ اے اللہ جو سیدھی راہ تو نے مجھے دکھا دی ہے۔ اب اس پر مجھے قائم رکھ۔ ومعناہ اَدِمْ ہدایتنا۔ (قرطبی ص 148 ج 1) ہدایت کی دو قسمیں ہیں ایک فطری دوسری کسبی۔ فطری ہدایت تو انسان اور غیر انسان سب کے لیے عام ہے اور اللہ کی طرف سے ہر ذی روح کو پیدائش کے ساتھ ہی عطا کی جاتی ہے جیسا کہ ارشاد ہے اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى(طہ :50) اور اس نے ہر چیز کو صورت عطا کی اور پھر اس کی رہنمائی فرمائی۔ اور ایک جگہ فرمایا وَالَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى (الاعلی :3) وہ جس نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کیا اور رہنمائی فرمائی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مرغی کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی دانہ چگنے لگتا ہے جانوروں کے بچے پیدا ہوتے ہی پستان مادر سے دودھ پینے لگتے ہیں آخر انہیں کون بتاتا ہے کہ یہ ہماری غذا ہے اور اسے حاصل کرنے کا مقام اور طریقہ یہ ہے۔ یہ راہنمائی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور ہر ذی روح کی فطرت میں ودیعت ہوتی ہے۔ ہدایت کی دوسری قسم کسبی ہے جو اللہ کی طرف سے انبیاء (علیہم السلام) اور کتب سماویہ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے پھر اس کے چار درجے ہیں : 1 ۔ انابت یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنا اور ضد وعناد کو چھوڑ کر راہ ہدایت کی تلاش و جستجو کرنا۔ ہدایت صرف انہی لوگوں کو ملتی ہے جن میں انابت الی اللہ اور تلاش حق کا جذبہ ہوتا ہے۔ چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ اَنَابَ (الرعد :27) اور دوسری جگہ فرمایا وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ (الشوری :13) یعنی اللہ تعالیٰ ہدایت کی توفیق صرف ان لوگوں کو دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع اور انابت کرتے ہیں۔ 2 ۔ ہدایت : یعنی سیدھی راہ پانا یہ انابت اور رجوع الی اللہ کے بعد حاصل ہوتی ہے جیسا کہ پہلے مذکور ہوا۔ 3 ۔ استقامت : ہدایت کے بعد استقامت کا درجہ ہے جب ایک آدمی کو ہدایت حاصل ہوجاتی ہے اور اسے صراط مستقیم مل جاتا ہے تو اب وہ اللہ کی ہدایت کے مطابق سیدھی راہ پر چلتا ہے اور اس پر قائم ہوجاتا ہے۔ اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا (حم السجدہ :30) اس میں دوسرے اور تیسرے درجہ کا بیان ہے قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ میں ہدایت آگئی اور ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا میں استقامت۔ 4 ۔ ربط القلب : راہ ہدایت اور صراط مستقیم پر استقامت کے بعد ربط القلب کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ یہ درجہ رسوخ ایمان اور یقین کی پختگی کا سب سے اونچا اور بلند مقام ہے۔ جب مؤمن کو ایمان ویقین کا یہ درجہ حاصل ہوجائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے راہ ہدایت سے نہیں ہٹا سکتی اور نہ اس کے ایمان ویقین کو متزلزل کرسکتی ہے یہ درجہ بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتا ہے اصحاب کہف کو یہ درجہ حاصل تھا چناچہ ارشاد ہے ۭ اِنَّهُمْ فِتْيَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنٰهُمْ هُدًى 13 ڰ وَّرَبَطْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَاالایة۔ (الکہف :14) وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی ہدایت میں ترقی کردی اور ان کے دل مضبوط کردئیے اس آیت میں تین درجات کا ذکر ہے۔ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْمیں ہدایت۔ وَزِدْنٰهُمْ هُدًىمیں استقامت اور وَّرَبَطْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْمیں ربط القلب کا ذکر ہے۔ ہدایت کا یہ درجہ حضرات صحابہ کرام (رض) کو بھی حاصل تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَلٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَرَّهَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ (الحجرات :7) لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہارا محبوب بنادیا اور اس کو تمہارے دلوں میں مرغوب کردیا اور کفر اور فسق اور نافرمانی سے تم کو نفرت دے دی۔ اِھْدِنَا میں ہدایت کے آخر دو درجے حاصل کرنے کی درخواست کی گئی ہے یعنی استقامت اور ربط القلب۔ کیونکہ انابت اور ہدایت تو پہلے حاصل ہوچکی ہے۔ ہدایت کی طرح ضلالت کے بھی چار درجے ہیں۔ ان کا ذکر آگے آرہا ہے