Surat Younus

Surah: 10

Verse: 27

سورة يونس

وَ الَّذِیۡنَ کَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَۃٍۭ بِمِثۡلِہَا ۙ وَ تَرۡہَقُہُمۡ ذِلَّۃٌ ؕ مَا لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ عَاصِمٍ ۚ کَاَنَّمَاۤ اُغۡشِیَتۡ وُجُوۡہُہُمۡ قِطَعًا مِّنَ الَّیۡلِ مُظۡلِمًا ؕ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۷﴾

But they who have earned [blame for] evil doings - the recompense of an evil deed is its equivalent, and humiliation will cover them. They will have from Allah no protector. It will be as if their faces are covered with pieces of the night - so dark [are they]. Those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally.

اور جن لوگوں نے بد کام کئے ان کی بدی کی سزا اس کے برابر ملے گی اور ان کو ذلت چھائے گی ان کو اللہ تعالٰی سے کوئی نہ بچا سکے گا گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے پرت کے پرت لپیٹ دیئے گئے ۔ ہیں یہ لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں ، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Reward of the Wicked Criminals Allah says; وَالَّذِينَ كَسَبُواْ السَّيِّيَاتِ جَزَاء سَيِّيَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ... And those who have earned evil deeds, the recompense of an evil deed is the like thereof, and humiliating disgrace will cover them (their faces). After Allah told us about the state of those happy people who have done right and He promised increase in reward, He continued to tell us about the unlucky, miserable ones. He told us about His justice with them. He will reward them with similar evil, without any increase وَتَرْهَقُهُمْ (and will cover them), meaning that their faces will be covered and overtaken by humiliation because of their sins and their fear from these sins. Similarly Allah said: وَتَرَاهُمْ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا خَـشِعِينَ مِنَ الذُّلِّ And you will see them brought forward to it, (Hell) made humble by disgrace. (42:45) He also said: وَلاَ تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَـفِلً عَمَّا يَعْمَلُ الظَّـلِمُونَ إِنَّمَا يُوَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الاَبْصَـرُ مُهْطِعِينَ مُقْنِعِى رُءُوسِهِمْ Consider not that Allah is unaware of that which the wrongdoers do, but He gives them respite up to a Day when the eyes will stare in horror. (They will be) hastening forward with necks outstretched, their heads raised up (towards the sky). (14:42�43) Allah then said: ... مَّا لَهُم مِّنَ اللّهِ مِنْ عَاصِمٍ ... No defender will they have from Allah. meaning, there will be no protectors to prevent them from punishment as Allah said: يَقُولُ الاِنسَـنُ يَوْمَيِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ كَلَّ لاَ وَزَرَ إِلَى رَبِّكَ يَوْمَيِذٍ الْمُسْتَقَرُّ On that Day man will say: "Where (is the refuge) to flee!" No! There is no refuge! Unto your Lord (alone) will be the place of rest that Day. (75:10-12) Allah's statement: ... كَأَنَّمَا أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ اللَّيْلِ مُظْلِمًا ... Their faces will be covered as it were pieces from the darkness of night. means that their faces will be dark in the Hereafter. This is similar to His statement: يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكْفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَـنِكُمْ فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِى رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ On the Day (the Day of Resurrection) when some faces will become white and some faces will become black; as for those whose faces will become black (to them will be said): "Did you reject faith after accepting it! Then taste the torment (in Hell) for rejecting faith." And for those whose faces will become white, they will be in Allah's mercy (Paradise), therein they shall dwell forever. (3:106-107) He also said: وُجُوهٌ يَوْمَيِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَـحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَيِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ Some faces that Day will be bright, laughing, rejoicing at good news (of Paradise). And other faces that Day will be dust-stained. (80:38-40) ... أُوْلَـيِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ They are the dwellers of the Fire, they will abide therein forever.

ایک تقابلی جائزہ نیکوں کا حال بیان فرما کر اب بدوں کا حال بیان ہو رہا ہے ۔ ان کی نیکیاں بڑھا کر ان کی برائیاں برابر ہی رکھی جائیں گی ۔ نیکی کم مگر بدکاریاں ان کے چہروں پر سیاہیاں بن کر چڑھ جائیں گی ذلت و پستی سے ان کے منہ کالے پڑ جائیں گے ۔ یہ اپنے مظالم سے اللہ کو بےخبر سمجھتے رہے حالانکہ انہیں اس دن تک کی ڈھیل ملی تھی ۔ آج آنکھیں چڑھ جائیں گی شکلیں بگڑ جائیں گی ، کوئی نہ ہوگا جو کام آئے اور عذاب سے بچائے ، کوئی بھاگنے کی جگہ نہ نظر آئے گی ۔ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ کافروں کے چہرے ان کے کفر کی وجہ سے سیاہ ہوں گے ، اب کفر کا مزہ اٹھاؤ ۔ مومنوں کے منہ نورانی اور چمکیلے ، گورے اور صاف ہوں گے ، کافروں کے چہرے ذلیل اور پست ہوں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

27۔ 1 گزشتہ آیت میں اہل جنت کا تذکرہ تھا، اس میں بتلایا گیا تھا کہ انہیں ان کے نیک اعمال کی جزا کئی کئی گنا ملے گی اور پھر مزید دیدار الٰہی سے نوازے جائیں گے۔ اس آیت میں بتلایا جا رہا ہے کہ برائی کا بدلہ برائی کے مثل ہی ملے گا سَيِّئَاتِ سے مراد کفر اور شرک اور دیگر معاصی ہیں۔ 27۔ 2 جس طرح اہل ایمان کو بچانے والا اللہ تعالیٰ ہوگا اس طرح انہیں اس روز اپنے فضل خاص سے نوازے گا علاوہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے مخصوص بندوں کو شفاعت کی اجازت بھی دے گا، جن کی شفاعت بھی وہ قبول فرمائے گا۔ 27۔ 3 یہ مبالغہ ہے کہ ان کے چہرے اتنے سخت سیاہ ہونگے۔ اس کے برعکس اہل ایمان کے چہرے ترو تازہ اور روشن ہونگے جس طرح سورة ال عمران، آیت 106 اور سورة عبس 38۔ 41 اور سورة قیامت میں ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٠] اس دنیا میں بھی جب کوئی مجرم پکڑا جاتا ہے یا اپنی رہائی سے مایوس ہوجاتا ہے تو اس کے چہرے پر سیاہی اور ذلت چھا جاتی ہے اور یہ لوگ چونکہ عادی مجرم ہوں گے پھر ان کے بچاؤ کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ لہذا ان کے چہروں پر اس قدر تاریکی چھا رہی ہوگی جیسے اندھیری رات کا کچھ حصہ ان کے چہروں پر جما دیا گیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ ۔۔ : اوپر محسنین (نیکی کرنے والوں) کا بیان تھا، اب ان لوگوں کی حالت بیان کی جو سیئات (برائیوں) کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ” سَیِّئَۃٍ “ میں تنوین تنکیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ” کسی بھی برائی “ کیا ہے۔ گزشتہ آیت میں ذکر ہے کہ نیکی کا بدلہ اس سے بہت اچھا، یعنی جنت اور مزید دیدارِ الٰہی کی صورت میں ملے گا، اب بتایا کہ برائی خواہ کوئی ہو اس کا بدلہ صرف اس کے برابر ملے گا، زیادہ یا کئی گنا نہیں ملے گا۔ انھیں بہت بڑی ذلت گھیرے ہوئے ہوگی، یعنی ” ذِلَّۃٌ“ میں تنوین تہویل و تعظیم کے لیے ہے۔ مَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ : حقیقت میں تو دنیا ہو یا آخرت، کہیں بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں، مگر انسان دنیا میں بہت سے سہارے تلاش کرلیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان کے ذریعے سے میں نے اپنی مراد حاصل کرلی ہے، مگر آخرت میں اس قسم کے سب اسباب ختم ہوجائیں گے اور ہر ایک کو یہ یقین ہوجائے گا کہ اب اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں، جیسا کہ سورة قیامہ میں فرمایا : (ۙيَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ 10۝ۚكَلَّا لَا وَزَرَ 11۝ۭاِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمُسْتَــقَرّ ) [ القیامۃ : ١٠ تا ١٢ ] ” اور انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ؟ ہرگز نہیں، پناہ کی جگہ کوئی نہیں، اس دن تیرے رب ہی کی طرف جا ٹھہرنا ہے۔ “ اَنَّمَآ اُغْشِيَتْ وُجُوْهُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّيْلِ مُظْلِمًا : ” غَشِیَ یَغْشٰی “ (ع) ڈھانپنا۔ ” اَغْشٰی یُغْشِیْ “ (افعال) کسی پر کوئی چیز ڈال دینا جو اسے ڈھانپ لے۔ ان کے چہروں کی حد سے بڑھی ہوئی سیاہی کو تشبیہ دی ہے کہ گویا اندھیری رات کے اندھیروں کے کئی ٹکڑے ملا کر ان کے چہروں پر ڈال دیے گئے ہوں، جنھوں نے ان کو ڈھانپ رکھا ہو۔ مجرموں کے چہروں کی سیاہی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر کیا ہے، مثلاً دیکھیے سورة آل عمران (١٠٦، ١٠٧) ، قیامہ (٢٢ تا ٢٥) اور عبس (٣٨ تا ٤١) ” مٗظٌلِماً “ یہ ” اَلَّیٌلِ “ سے حال ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the two verses (27, 28) appearing next, there is a dialogue between the people of Jahannam and the idols or satans who had led them astray. The locale will be the plain of Resurrection. It was said: On that day, We shall gather everyone. Then, to the Mushriks We shall say that, ` you and your gods whom you had associated& with Us in Our divinity stay in your places where you are, so that you can find out the reality of your conviction.& After that, the connection between these people and their so-called gods as it existed in the mortal world will be disconnected. The result will be that their idols will speak up: ` you never worshipped us.& Making Allah their witness, they will say, ` as for us, we were certainly unaware of your worship& - because we have no senses, no movement and no intelligence to understand these matters.

اس کے بعد کی دو آیتوں میں ایک مکالمہ مذکور ہے جو اہل جہنم میں اور ان کو گمراہ کرنے والے بتوں یا شیطانوں کے درمیان محشر میں ہوگا، ارشاد فرمایا کہ اس دن ہم سب کو جمع کریں گے پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے تجویز کئے ہوئے معبود ذرا اپنی جگہ ٹھہرو تاکہ تمہیں اپنے عقیدہ کی حقیقت معلوم ہوجائے، اس کے بعد ان لوگوں میں اور ان کے معبودوں میں جو رشتہ اتحاد دنیا میں پایا جاتا تھا اس کو قطع کردیا جائے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کے بت خود بول اٹھیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے، اور خدا کو گواہ بنا کر کہیں گے کہ ہم کو تمہاری مشرکانہ عبادت کی کچھ خبر بھی نہ تھی، کیونکہ نہ ہم میں حس و حرکت ہے اور نہ ان مسائل کو سمجھنے کے قابل عقل و شعور ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاۗءُ سَـيِّئَۃٍؚبِمِثْلِہَا۝ ٠ ۙ وَتَرْہَقُھُمْ ذِلَّۃٌ۝ ٠ ۭ مَا لَھُمْ مِّنَ اللہِ مِنْ عَاصِمٍ۝ ٠ ۚ كَاَنَّمَآ اُغْشِيَتْ وُجُوْہُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّيْلِ مُظْلِمًا۝ ٠ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ۝ ٠ ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝ ٢٧ كسب ( عمل رزق) الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه اجتلاب نفع، و تحصیل حظّ ، كَكَسْبِ المال، وقد يستعمل فيما يظنّ الإنسان أنه يجلب منفعة، ثم استجلب به مضرّة . والکَسْبُ يقال فيما أخذه لنفسه ولغیره، ولهذا قد يتعدّى إلى مفعولین، فيقال : كَسَبْتُ فلانا کذا، والِاكْتِسَابُ لا يقال إلّا فيما استفدته لنفسک، فكلّ اكْتِسَابٍ کسب، ولیس کلّ كَسْبٍ اکتسابا، وذلک نحو : خبز واختبز، وشوی واشتوی، وطبخ واطّبخ، وقوله تعالی: أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] روي أنه قيل للنّبي صلّى اللہ عليه وسلم «4» : أيّ الکسب أطيب ؟ فقال عليه الصلاة والسلام، «عمل الرجل بيده» ، وقال : «إنّ أطيب ما يأكل الرجل من کسبه وإنّ ولده من كَسْبِهِ» «1» ، وقال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] وقد ورد في القرآن في فعل الصالحات والسيئات، فممّا استعمل في الصالحات قوله : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] ، وقوله : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] «2» . وممّا يستعمل في السّيّئات : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] ، أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] ( ک س ب ) الکسب ۔ اصل میں جلب نفع یا خوش نصیبی حاصل کرنے کے لئے کسی چیز کا قصد کرنے کو کسب کہتے ہیں جیسے کسب مال وغیرہ ایسے کام کے قصد پر بولا جاتا ہ جسے انسان اس خیال پر کرے کہ اس سے نفع حاصل ہوگا لیکن الٹا اس کو نقصان اٹھا نا پڑے ۔ پس الکسب ایسا کام کرنے کو کہتے ہیں جسے انسان اپنی ذا ت اور اس کے ساتھ دوسروں کے فائدہ کے لئے کرے اسی لئے یہ کبھی دو مفعولوں کو طرف متعدی ہوتا ہے جیسے کسبت فلانا کذا میں نے فلاں کو اتنا کچھ حاصل کرکے دیا ۔ مگر الاکتساب ایسا کام کرنے کو کت ہے ہیں جس میں انسان صرف اپنے مفاد کو پیش نظر رکھے لہذا ہر اکتساب لازم نہیں ہے ۔ اور یہ خبز و اختبرزو شوٰ ی واشتویٰ ، وطبخ و طبخ کی طرف ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کھاتے ہو ۔۔۔۔ اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرو ۔ کے متعلق آنحضرت سے سوال کیا گیا ای الکسب اطیب کہ کونسا کسب زیادہ پاکیزہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عمل الرجل بیدہ کہ انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور نیز فرمایا : ان طیب مایکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ سب سے زیادہ پاکیزہ رزق وہ ہی جو انسان اپنے ہاتھ سے کماکر کھا اور اسکی اولاد اس کے کسب سے ہے : قرآن میں ہے : لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] اسی طرح ( یہ ریا کار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے ۔ اور قرآن میں نیک وبددونوں قسم کے اعمال کے متعلق یہ فعل استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ اعمال صالحہ کے متعلق فرمایا : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] یا اپنے ایمان کی حالت میں نیک عمل نہیں کئ ہونگے اور آیت کریمہ : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] کے بعد فرمایا : انکے کاموں کا ( حصہ ) اور اعمال بدکے متعلق فرمایا : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] تاکہ ( قیامت کے دن کوئی شخص اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے ۔ أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ۔ سَّيِّئَةُ : الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] سَّيِّئَةُ : اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :، ، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ چناچہ قرآن میں ہے اور سیئۃ کے معنی برائی کے ہیں اور یہ حسنۃ کی ضد ہے قرآن میں ہے : بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] جو برے کام کرے رهق رَهِقَهُ الأمر : غشيه بقهر، يقال : رَهِقْتُهُ وأَرْهَقْتُهُ ، نحو ردفته وأردفته، وبعثته وابتعثته قال : وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [يونس/ 27] ، وقال : سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً [ المدثر/ 17] ، ومنه : أَرْهَقْتُ الصّلاة : إذا أخّرتها حتّى غشي وقت الأخری. ( ر ھ ق ) رھقہ ( س ) رھقا ۔ الامر ۔ کسی معاملہ نے اسے بزور و جبر دبا لیا ۔ اور رھقہ وارھقہ ( مجرد و مزید فیہ ) دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے ۔ ردفہ اردفہ وبعثہ وابعثہ ۔ قرآن میں ہے ۔ وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [يونس/27] اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی ۔ سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً [ المدثر/ 17] ہم عنقریب اس کو عذاب سخت میں مبتلا کردیں گے ، اور اسی سے ارھقت الصلوٰۃ ہے جس کے معنی نماز کو آخر وقت تک موخر کرنے کے ہیں ۔ حتی ٰ کہ دوسری نماز کا وقت آجائے ۔ عصم العَصْمُ : الإمساکُ ، والاعْتِصَامُ : الاستمساک . قال تعالی: لا عاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ [هود/ 43] ، أي : لا شيء يَعْصِمُ منه، والاعْتِصَامُ : التّمسّك بالشیء، قال : وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً [ آل عمران/ 103] ( ع ص م ) العصم کے معنی روکنے کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ لا عاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ [هود/ 43] آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ۔ بعض نے لاعاصم کے معنی کا معصوم بھی کئے ہیں یعنی آج اللہ کے حکم سے کوئی بیچ نہیں سکے گا۔ الاعتصام کسی چیز کو پکڑ کر مظبوطی سے تھام لینا قرآن میں ہے ۔ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً [ آل عمران/ 103] غشي غَشِيَهُ غِشَاوَةً وغِشَاءً : أتاه إتيان ما قد غَشِيَهُ ، أي : ستره . والْغِشَاوَةُ : ما يغطّى به الشیء، قال : وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23] ( غ ش و ) غشیۃ غشاوۃ وغشاء اس کے پاس اس چیز کی طرح آیا جو اسے چھپائے غشاوۃ ( اسم ) پر دہ جس سے کوئی چیز ڈھانپ دی جائے قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23] اور اس کی آنکھوں پر پر دہ ڈال دیا ۔ قطع القَطْعُ : فصل الشیء مدرکا بالبصر کالأجسام، أو مدرکا بالبصیرة كالأشياء المعقولة، فمن ذلک قَطْعُ الأعضاء نحو قوله : لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] ، ( ق ط ع ) القطع کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں خواہ اس کا تعلق حاسہ بصر سے ہو جیسے اجسام اسی سے اعضاء کا قطع کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] میں پہلے تو ) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسرے طرف کے پاؤں کٹوا دونگا ظلم) تاریکی) الظُّلْمَةُ : عدمُ النّور، وجمعها : ظُلُمَاتٌ. قال تعالی: أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍ [ النور/ 40] ، ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] ، وقال تعالی: أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ النمل/ 63] ، وَجَعَلَ الظُّلُماتِ وَالنُّورَ [ الأنعام/ 1] ، ويعبّر بها عن الجهل والشّرک والفسق، كما يعبّر بالنّور عن أضدادها . قال اللہ تعالی: يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [ البقرة/ 257] ، أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [إبراهيم/ 5] ( ظ ل م ) الظلمۃ ۔ کے معنی میں روشنی کا معدوم ہونا اس کی جمع ظلمات ہے ۔ قرآن میں ہے : أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍ [ النور/ 40] ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے ) جیسے دریائے عشق میں اندھیرے ۔ ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] ( غرض ) اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ایک پر ایک چھایا ہوا ۔ أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ النمل/ 63] بتاؤ برو بحری کی تاریکیوں میں تمہاری کون رہنمائی کرتا ہے ۔ وَجَعَلَ الظُّلُماتِ وَالنُّورَ [ الأنعام/ 1] اور تاریکیاں اور روشنی بنائی ۔ اور کبھی ظلمۃ کا لفظ بول کر جہالت شرک اور فسق وفجور کے معنی مراد لئے جاتے ہیں جس طرح کہ نور کا لفظ ان کے اضداد یعنی علم وایمان اور عمل صالح پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [ البقرة/ 257] ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے ۔ أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [إبراهيم/ 5] کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٧) اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور شرک کیا تو اس کے بدلہ میں انہیں جہنم ملے گی اور ان پر ذلت و غم سوار ہوگا اور انھیں اللہ کی عذاب سے کوئی نہ بچا سکے گا گویا کہ غم سے ان کے چہروں پر اندھیری رات پردے چڑھادیئے گئے یہ لوگ دوزخی ہیں اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٧ (وَالَّذِیْنَ کَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّءَۃٍم بِمِثْلِہَالا) یعنی جیسی ان کی برائی ہوگی ویسا ہی اس کا بدلہ ہوگا ‘ اس میں کچھ اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

34. The manner in which the evil ones will be treated is quite different from the way in which the righteous will be treated. As we have seen, the reward of the righteous will be far in excess of their good deeds. However, so far as the evil-doers are concerned, their punishment will be strictly in proportion to the evil they have committed, not even an iota more than that. (For further elaboration see a!-Nahl 16, n. 109a.) 35. This refers to the darkness and gloom that covers the faces of the criminals after they have been seized and after they have lost all hope of escaping God's punishment.

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :34 یعنی نیکوکاروں کے برعکس بدکاروں کے ساتھ معاملہ یہ ہوگا کہ جتنی بدی ہے اتنی ہی سزا دے دی جائے گی ۔ ایسا نہ ہوگا کہ جرم سے ذرہ برابر بھی زیادہ سزا دی جائے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو النمل ، حاشیہ ۱۰۹ الف ) ۔ سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :35 وہ تاریکی جو مجرموں کے چہرے پر پکڑے جانے اور بچاؤ سے مایوس ہو جانے کے بعد چھا جاتی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

15: یعنی نیکیوں پر تو ثواب کئی گنا دیا جائے گا جس میں اﷲ تعالیٰ کی زیارت کی وہ نعمت بھی داخل ہے جس کا ابھی ذکر ہوا، لیکن بُرائی کی سزا اُسی بُرائی کے برابر ملے گی، اس سے زیادہ نہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:27) والذین کسبوا السیئات۔ اس کا عطف للذین احسنوا پر ہے۔ ای وللذین کسبوا السیئات۔ اور سیئات سے مراد برائیاں از قسم کفر و شرک۔ جزائ۔ یہاں بمعنی سزا کے ہے۔ یا بمعنی بدلہ۔ بمثلہا۔ باء زائدہ ہے۔ یا متعلقہ بجزاء ہے۔ جزاء سییۃ بمثلہا۔ برائی کی سزا اس برائی جیسی ہی ہوگی۔ یعنی یہ لوگ جیسا کریں گے ویسا بھریں گے یہاں اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کریں گے اور برائی کا بدلہ اس سے زیادہ نہیں بلکہ اس کے برابر ہی دیں گے بخلاف اپنی اس کرم نوازی کے جو احسان کرنے والوں پر فرمائی تھی وہاں نیکی بدلہ الحسنیٰ سے دے کر فرمایا بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ عاصم۔ بچانے والا۔ حفاظت کرنے والا۔ روکنے والا۔ عصمۃ سے جس کے معنی حفاظت کرنے اور روکنے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ مالہم من اللہ من عاصم ای لا یعصمہم احد من عقابہ۔ کوئی ان کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکے گا۔ کانما۔ کان حرف مشبہ بالفعل ما زائدہ ۔ ماکے آنے سے کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ کان کا لفظی تصرف باطل ہوجاتا ہے اس وقت یہ اپنے مابعد کو نہ منصوب کرسکتا ہے نہ مرفوع۔ گویا کہ ۔ اغشیت۔ اغشاء (افعال) سے ماضی مجہول۔ واحد مؤنث غائب۔ وہ ڈھانک دی گئی۔ (ان کے چہرے ڈھانک دئیے گئے ہیں) ۔ قطعا۔ قطعۃ کی جمع ۔ ٹکڑے ۔ من اللیل۔ قطعا کا بیان ہے۔ مظلما۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اظلام (افعال) مصدر۔ تاریکی میں پڑا ہوا۔ تاریک۔ ظلمۃ اندھیرا ظلمت جمع۔ مظلما۔ الیل سے حال ہے۔ کانما اغشیت وجوہہم قطعا من اللیل مظلما۔ ترجمہ ہوگا : گویا کہ ان کے چہرے ڈھانپ دئیے گئے ہیں تاریک رات کے ٹکڑوں سے۔ صاحب تفسیر مظہری نے ترجمہ کیا ہے :۔ ایسا معلوم ہوگا کہ گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے پرت پرت لپیٹ دئیے گئے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 ۔ اوپر محسنین کا ذکر فرمایا اب ان لوگوں کی حالت بیان کی جو سینئات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ (کبیر) دراصل تو دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں ہے مگر دنیا میں انسان بہت سے سہارے تلاش کرلیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان کے ذریعہ میں نے اپنی مراد حاصل کرلی ہے مگر آخرت میں اس قسم کے اسباب سب ختم ہوجائیں گے اور ہر ایک کو یہ یقین ہوجائے گا کہ اب اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہے جیسا کہ سورة قیامہ میں ہے “۔ کلا لا ولد، الھار بامہ یومئذ المستقر “ ہرگز کوئی پناہ کی جگہ نہ ہوگی اور رب ہی کے پاس اس روز ٹھکانا ملے گا۔ (ابن کثیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی شرک وکفر کیا۔ 5۔ اوپر مشرکین کے حق میں فرمایا تھا مالھم من اللہ من عاصم چونکہ وہ لوگ اپنے معبودوں کو اپناشفیع کہتے تھے اس لیے آگے ان معبودین کا ان عابدین سے قیامت میں بےتعلقی ظاہر کرنا جس کے لیے عدم نفع لازم ہے بیان فرماتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نیک لوگوں کے انجام کے بعد برے لوگوں کا انجام اور ان کی سزا کا بیان۔ فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے اصحاب کو یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک کے بعد بد اور جنت کی نعمتوں کے بعد جہنم کی ہولناکیوں کا تذکرہ کرتے ہیں تاکہ اچھے اور برے انجام کا تصور بیک وقت سامنے آئے اور قرآن کی تلاوت کرنے والا اپنے کردار کا تجزیہ کرسکے۔ پچھلی آیت میں نیک لوگوں کو ان کی نیکی کے بدلے جزا دینے کے ساتھ مزید عنایات کا اعلان ہوا ہے۔ یہاں برے لوگوں کو ان کے برے اعمال کی سزا بتلاتے ہوئے یہ وضاحت کی گئی کہ انہیں فقط اتنی سزا دی جائے گی جس درجے کے انہوں نے گناہ اور جرائم کیے ہوں گے۔ گناہوں کے مطابق ہی ان کے چہرے خوفناک، منحوس اور کالے ہوں گے۔ اتنے کالے جس طرح رات کا گھٹا ٹوپ اندھیرا ہوتا ہے یہ لوگ اپنے کفرو شرک کی وجہ سے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ یَقُوْلُ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لأَہْوَنِ أَہْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ کَانَتْ لَکَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا أَکُنْتَ مُفْتَدِیًا بِہَا فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیَقُوْلُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْکَ أَہْوَنَ مِنْ ہَذَا وَأَنْتَ فِیْ صُلْبِ اٰدَمَ أَنْ لاَ تُشْرِکَ أَحْسَبُہُ قَالَ وَلاَ أُدْخِلَکَ النَّارَ فَأَبَیْتَ إِلاَّ الشِّرْکَ ) [ رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب طَلَبِ الْکَافِرِ الْفِدَاءَ بِمِلْءِ الأَرْضِ ذَہَبًا ] ” حضرت انس بن مالک (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ جہنمیوں میں سے کم ترین عذاب والے سے کہے گا۔ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اگر تیرے لیے ہو۔ کیا تو اسے فدیہ کے طور پردے گا وہ کہے گا جی ہاں ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تجھ سے اس سے بھی ہلکی بات کا مطالبہ کیا تھا جب تو آدم کی صلب میں تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا راوی کا خیال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تجھے جہنم میں داخل نہ کرتا لیکن تو شرک سے باز نہ آیا۔ “ مسائل ١۔ برے لوگوں کو ان کی برائی کے مطابق سزا دی جائے گی۔ ٢۔ برے لوگوں کے چہروں پر ذلت و ندامت ہوگی۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے برے لوگوں کو کوئی نہیں بچا سکتا۔ ٤۔ برے لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ ٥۔ برائی کرنے والوں کے چہرے اندھیری رات کی طرح سیاہ ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن برے لوگوں کا موت سے لے کر جہنم میں داخل ہونے تک انجام : ١۔ کاش آپ دیکھیں جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے وقت ان کے منہ اور پیٹھوں پر ماریں گے۔ (الانفال : ٥٠) ٢۔ اس وقت دیکھیں جب ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ہاتھ بڑھا کر کہیں گے اپنی جان نکالو۔ آج تمہیں رسوا کن عذاب سے دوچار کیا جائے گا۔ ( الانعام : ٩٤) ٣۔ جس شخص نے برائی کی اور اس کو اس کی برائیوں نے گھیر لیا وہ جہنم میں ہمیشہ رہے گا۔ (البقرۃ : ٨١) ٤۔ جو شخص برے اعمال کے ساتھ آیا اسے اوندھے منہ جہنم میں پھینکا جائے گا۔ (النمل : ٩٠) ٥۔ برے لوگوں کو ان کی برائی کا بدلہ برائی کی مثل ملے گا اور ان کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ (یونس : ٢٧) ٧۔ قیامت کے دن مجرموں کا عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ (فاطر : ٣٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

والذین کسبوا السیات جزاء سیءۃ بمثلھا وترھقھم ذلۃ اور جن لوگوں نے برے کام کئے ‘ ان کو بدی کی سزا بدی کے برابر ملے گی ‘ اور ان پر ذلت چھائے گی۔ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا کا عطف اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْاپر ہے ‘ یا یہ مبتداء ہے اور جزآء سیءۃ خبر ہے ‘ یا کَاَنَّمَا اُغْشِیَتْ خبر ہے ‘ یا اولٰءِکَ اَصْحٰبُ النَّار خبر ہے۔ تَرْھَقُھُمْ یعنی ان کو ڈھانک لے گی۔ مالھم من اللہ من عاصم ان کو اللہ کے غضب سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ مِنْ عَاصِمٍ میں مِنْ زائد ہے۔ یا اللہ کی طرف سے کوئی بھی ان کو عذاب سے بچانے والا نہ ہوگا۔ کانما اغشیت وجوھھم قطعًا من الیل مظلمًا ایسا معلوم ہوگا کہ گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے پرت پرت لپیٹ دئیے گئے ہیں۔ قِطع جمع ہے ‘ اس کا واحد قطعۃ ہے۔ مِنَ الَّیْلِ قِطَعًا کا بیان ہے ‘ مُظْلِمًا الیل سے حال ہے۔ اولئک اصحٰب النار ھم فیھا خٰلدون یہی لوگ دوزخی ہیں ‘ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ شبہ : فرقۂ معتزلہ قائل ہے کہ مرتکب کبائر ہمیشہ دوزخ میں رہے گا (یعنی گناہ کبیرہ کرنے والا مؤمن نہیں رہتا) اس آیت سے معتزلہ نے استدلال کیا ہے۔ جواب : السَّءِّاٰت (بدیاں ‘ برے اعمال) کا لفظ صغیرہ گناہوں کو بھی ہے اور کبیرہ گناہوں کو بھی اور کفر کو بھی شامل ہے۔ اب اگر اس لفظ کا عمومی معنی مراد لیا جائے گا تو صغیرہ گناہ کے مرتکب کو بھی دوامی دوزخی کہنا پڑے گا اور اس کا کوئی قائل نہیں۔ جَزَآءُ سَیِّءَۃٍم بِمِثْلِھَا بھی اس قول کے خلاف شہادت دے رہا ہے کیونکہ اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ سزا کے درجات مختلف ہیں۔ کبیرہ گناہ کی سزا صغیرہ سے زیادہ اور کفر سے کم ہے۔ لامحالہ اولٰٓءِکَ کا اشارہ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا السَّیِّاٰتِ کی طرف عموماً نہیں ہو سکتا بلکہ مرتکبین سیّآت کے بعض کی طرف ہوگا ‘ یعنی صرف کفار کی طرف ہوگا۔ جیسا والْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھُنَّ کے بعد وَبَعْوْلَتُھنَّ احق بِرَدِّھِنَّ آیا ہے اور ھن کا مرجع عام مطلقات نہیں ہیں (بلکہ وہ عورتیں ہیں جن کو رجعی طلاق دی گئی ہو) ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا السَّیِّاٰتِ سے مراد کفار ہوں کیونکہ ان کے مقابل اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا کو ذکر کیا گیا ہے اور چونکہ ایمان تمام نیکیوں کی چوٹی ہے ‘ اسلئے کبیرہ گناہ کرنے والے مؤمن بھی اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا میں داخل ہیں اور جب مرتکبین کبائر کو اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا شامل ہے تو لامحالہ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا السَّیِّاٰتِ سے مراد کفار ہی ہوں گے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا السَّیِّاٰتِ سے وہ بدکار مراد ہوں جو رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کے زمانہ میں موجود تھے ‘ کیونکہ مؤمن جو رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کے زمانہ میں تھے ‘ وہ سب صحابی تھے اور صحابہ کا عدول (غیرفاسق) ہونا بالاجماع ثابت ہے۔ اگر کسی صحابی سے کسی گناہ کا صدور ہو بھی جاتا تھا تو وہ فوراً توبہ کرلیتا تھا جس کی وجہ سے گناہ معاف ہوجاتا تھا۔ گناہ سے توبہ کرنے والا بےگناہ کی طرح ہوجاتا ہے ‘ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بدکار گناہگار اس زمانہ میں صرف کافر تھے اور اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا سے وہی لوگ مراد ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

تیسری آیت میں دوزخیوں کا تذکرہ فرمایا (وَالَّذِیْنَ کَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّءَۃٍ م بِمِثْلِھَا) اور جن لوگوں نے برے کام کئے (جن میں سب سے زیادہ برا عمل کفر و شرک ہے) ان کی سزا ان کے اعمال جیسی ہوگی ان پر نہ کوئی ظلم ہوگا نہ زیادتی ہوگی۔ برابر سرابر کا بدلہ ہوگا (وَتَرْھَقُھُمْ ذِلَّۃٌ) (اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی) (مَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ عَاصِمٍ ) قیامت کے دن انہیں اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ (کَاَنَّمَا اُغْشِیَتْ وُجُوْھُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا) ان کی بد صورتی کا یہ حال ہوگا کہ گویا ان کے چہروں کو اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانک دیا گیا ہے کافر دنیا میں کتنا ہی خوبصورت ہو قیامت کے دن نہایت ہی بدترین صورت میں ہوگا ‘ جس کا آیت بالا میں تذکرہ فرمایا ہے ‘ سورة زمر میں فرمایا (وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ تَرَی الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلَی اللّٰہِ وُجُوْھُھُمْ مُّسْوَدَّۃٌ اَلَیْسَ فِیْ جَھَنَّمَ مَثْوًی لِّلْمُتَکَبِّرِیْنَ ) (اور اے مخاطب تو قیامت کے دن ان لوگوں کو دیکھے گا جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا کہ ان کے چہرے سیاہ ہیں کیا دوزخ تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ نہیں ہے۔ سورة عبس میں فرمایا (وَوُجُوْہٌ یَّوْمَءِۃٍ عَلَیْھَا غَبَرَۃٌ تَرْھَقُھَا قَتَرَۃٌ اُولٰءِکَ ھُمُ الْکَفَرَۃُ الْفَجَرَۃُ ) (اور اس دن بہت سے چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر بد رونقی ہوگی ان پر بدصورتی چھائی ہوئی ہوگی۔ وہ لوگ کافر اور فاجر ہوں گے) ۔ پھر فرمایا (اُولٰءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ) (یہ لوگ دوزخ والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

42: تخویف برائے مشرکین۔ جن لوگوں نے لذات دنیا میں منہمک ہو کر حق کو ٹھکرا دیا، بد اعمالیوں اور مشرکانہ افعال میں زندگیاں بسر کردیں آخرت میں ان کا بہت برا حال ہوگا۔ میدان حشر میں ذلیل ورسوا ہوں گے اور ان کے چہرے اس قدر سیاہ ہوں گے گویا کہ ان کے چہروں پر اندھیری رات کی تاریکی کی تہیں جمی ہوئی ہیں وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے اور ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ “ کَاَنَّمَا اُغْشِیَتْ الخ یعنی کانما البست وجوھھم سوادا من اللیل المظلم ” (خازن ج 3 ص 187) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

27 اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں اور برے کام کئے تو برائی کا بدلہ اسی برائی کی مثل ہوگا اور ان پر ذلت و پھٹکار برستی ہوگی اور ذلت و نکبت چھائی ہوگی ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا ان کے منہ ایسے سیاہ ہوں گے گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے ٹکڑے ڈھانک دئیے گئے ہیں اور تاریک رات کے ٹکڑوں کو ان کے چہروں پر چپکا دیا گیا ہے یہی لوگ اہل جہنم ہیں وہ اس جہنم میں ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ یعنی اہل کفر و شرک کے ساتھ یہ سلوک ہوگا ۔ بدی کی سزا میں کوئی زیادتی نہ ہوگی جیسی بدی ویسی سزا ، چہروں کی سیاہی کو تشبیہ اندھیری رات کے ٹکڑوں سے کیا خوب تشبیہہ ہے گویا اندھیری رات کے ٹکڑے کاٹ کر چہرے پر چپکا دئیے گئے ہیں۔