Surat Younus

Surah: 10

Verse: 30

سورة يونس

ہُنَالِکَ تَبۡلُوۡا کُلُّ نَفۡسٍ مَّاۤ اَسۡلَفَتۡ وَ رُدُّوۡۤا اِلَی اللّٰہِ مَوۡلٰىہُمُ الۡحَقِّ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾  8 النصف

There, [on that Day], every soul will be put to trial for what it did previously, and they will be returned to Allah , their master, the Truth, and lost from them is whatever they used to invent.

اس مقام پر ہر شخص اپنے اگلے کئے ہوئے کاموں کی جانچ کر لے گا اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ جھوٹ باندھا کرتے تھے سب ان سے غائب ہوجائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

هُنَالِكَ تَبْلُو كُلُّ نَفْسٍ مَّا أَسْلَفَتْ ... There! Every person will know (exactly) what he had earned before, This will be the state of accounting on the Day of Resurrection. Every soul shall know all that it had sent forth, both good and evil. Similarly, Allah said: يَوْمَ تُبْلَى السَّرَايِرُ The Day when all the secrets will be examined. (86:9) يُنَبَّأُ الاِنسَـنُ يَوْمَيِذِ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ On that Day man will be informed of what he sent forward (of deeds), and what he left behind. (75:13) and, وَكُلَّ إِنْسَـنٍ أَلْزَمْنَـهُ طَـيِرَهُ فِى عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ كِتَابًا يَلْقَـهُ مَنْشُوراً اقْرَأْ كَتَـبَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا ...and on the Day of Resurrection, We shall bring out for him a book which he will find wide open. (It will be said to him): "Read your book. You yourself are sufficient as a reckoner against you this Day." (17:13-14) Then Allah said, ... وَرُدُّواْ إِلَى اللّهِ مَوْلاَهُمُ الْحَقِّ ... and they will be brought back to Allah, their rightful Mawla. All affairs and matters will be brought back to Allah, the Judge, the All-Just. He will judge everyone, and then admit the people of Paradise in Paradise and the people of Hell to Hell. ... وَضَلَّ عَنْهُم ... and will vanish from them, meaning what the idolators worshipped, ... مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ what they invented. what they worshipped besides Allah that they invented.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

30۔ 1 یعنی جان لے گا یا مزہ چکھ لے گا۔ 30۔ 2 یعنی کوئی معبود اور ' مشکل کشا ' وہاں کام نہیں آئے گا، کوئی کسی کی مشکل کشائی پر قادر نہیں ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٤] مشرکوں کے اپنے مشکل کشاؤں کے متعلق عقائد اور بےجا توقعات :۔ مشرک مندرجہ ذیل غلط عقائد کی بنا پر اپنے معبودوں کی پرستش کرتے ہیں : یہ معبود ہمارے حاجت روا اور مشکل کشا ہیں ہم جہاں کہیں سے ان کو پکاریں وہ ہماری بات کو سنتے اور فریاد کو پہنچتے ہیں۔ اللہ ہماری بات نہیں سنتا۔ ہمارے یہ معبود درمیان میں واسطہ کا کام دیتے ہیں۔ ہمارے معبود ہمیں اللہ سے قریب کرنے کا ذریعہ ہیں اگر قیامت ہوئی تو یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے اور ہمیں اخروی عذاب سے بچا لیں گے حتیٰ کہ بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ فلاں پیر کی بیعت ہوجانا ہی اخروی عذاب سے نجات کی ضمانت ہے جب قیامت کے دن حقیقت حال مشرکوں کے سامنے آجائے گی تو ایسی سب باتیں بھول جائیں گی اور انہیں خود بھی یاد نہ رہے گا کہ وہ کا ہے کو ان معبودوں کی عبادت کرتے رہے تھے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

هُنَالِكَ ” اس وقت، اس جگہ “ دونوں معنی میں آتا ہے، اس لیے ترجمہ ” اس موقع پر “ کیا ہے، تاکہ دونوں معنی شامل ہوجائیں۔ ” تَبْلُوْا “ آزمائش کرنا، جانچ لینا۔ جانچنے پرکھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو اس چیز کا پوری طرح علم ہوجاتا ہے، یعنی اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی پوری حقیقت ہر شخص کے سامنے پوری طرح کھل جائے گی اور اپنے اصل مالک کے پاس پہنچنے کے بعد نہ ان کے اپنے گھڑے ہوئے اور بنائے ہوئے مشکل کشا کہیں نظر آئیں گے، نہ کوئی زبردستی سفارش کے ساتھ چھڑا لینے والا کہیں ڈھونڈے سے ملے گا۔ سب لغو اور جھوٹی باتیں ہوا ہوجائیں گی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Described in the sixth verse (30) is what would happen to both the peoples of Jannah and Jahannam by saying that, in this excruciating place called the plains of Resurrection, everyone would have assessed his or her respective deeds, individually and personally, whether they were beneficial or harmful. And they all would then be taken to their true Lord, the only One worthy of worship. At that time, all options of trust and support one usually looks up to will stand terminated. Even the idols the Mushriks used to take as their patrons and intercessors will evaporate in thin air en-block.

چھٹی آیت میں دونوں فریق اہل جنت اور اہل جہنم کا ایک مشترک حال بیان فرمایا ہے کہ اس مقام یعنی محشر میں ہر شخص اپنے اپنے کئے ہوئے اعمال کو آزما لے گا کہ وہ نفع بخش تھے یا نقصان رسان، اور سب کے سب اپنے معبود حق کے پاس پہنچا دیئے جائیں گے، اور سارے بھروسے اور سہارے جو دنیا میں انسان ڈھونڈتا ہے ختم کردیئے جائیں گے، اور مشرکین جن بتوں کو اپنا مددگار اور سفارشی سمجھا کرتے تھے وہ سب غائب ہوجائیں گے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ہُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّآ اَسْلَفَتْ وَرُدُّوْٓا اِلَى اللہِ مَوْلٰىھُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۝ ٣٠ ۧ هنالک هُنَا يقع إشارة إلى الزمان، والمکان القریب، والمکان أملک به، يقال : هُنَا، وهُنَاكَ ، وهُنَالِكَ ، کقولک : ذا، وذاک، وذلک . قال اللہ تعالی: جُنْدٌ ما هُنالِكَ [ ص/ 11] ، إِنَّا هاهُنا قاعِدُونَ [ المائدة/ 24] ، هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ [يونس/ 30] ، هُنالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ [ الأحزاب/ 11] ، هُنالِكَ الْوَلايَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ [ الكهف/ 44] ، فَغُلِبُوا هُنالِكَ [ الأعراف/ 119] ( ھنا ) ھنا یہاں یہ زمانہ اور جگہ قریب کی طرف اشارہ کرنے کے آتا ہے لیکن عموما جگہ کیطرف اشارہ کیلئے استعمال ہوتا ہے اور ذا ذالک کی طرح ھنا ھنا لک وھنا لک تینوں طرح بولا جاتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ جُنْدٌ ما هُنالِكَ [ ص/ 11] یہاں شکست کھائے ہوئے گروہوں میں سے یہ بھی ایک لشکر ہے ۔ إِنَّا هاهُنا قاعِدُونَ [ المائدة/ 24] یہیں بیٹھے رہیں گے ۔ هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ [يونس/ 30] وہاں ہر شخص ( پانے اعمال کی ) جو اس نے آگے بھیجے ہونگے آزمائش کرلے گا ۔ هُنالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ [ الأحزاب/ 11] وہاں مؤمن آز مائش کرلے گا ۔ وہاں مومن آز مائے گئے ۔ هُنالِكَ الْوَلايَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ [ الكهف/ 44] یہاں سے ثابت ہوا کہ حکومت خدائے برحق کی ہے ۔ فَغُلِبُوا هُنالِكَ [ الأعراف/ 119] اور وہ مغلوب ہوگئے ۔ بلی يقال : بَلِيَ الثوب بِلًى وبَلَاءً ، أي : خلق، ومنه قيل لمن سافر : بلو سفر وبلي سفر، أي : أبلاه السفر، وبَلَوْتُهُ : اختبرته كأني أخلقته من کثرة اختباري له، وقرئ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ [يونس/ 30] ، أي : تعرف حقیقة ما عملت، ولذلک قيل : بلوت فلانا : إذا اختبرته، وسمّي الغم بلاءً من حيث إنه يبلي الجسم، قال تعالی: وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] ، وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ الآية [ البقرة/ 155] ، وقال عزّ وجل : إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وسمي التکليف بلاء من أوجه : - أحدها : أن التکالیف کلها مشاق علی الأبدان، فصارت من هذا الوجه بلاء . - والثاني : أنّها اختبارات، ولهذا قال اللہ عزّ وجل : وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَا أَخْبارَكُمْ [ محمد/ 31] . - والثالث : أنّ اختبار اللہ تعالیٰ للعباد تارة بالمسار ليشکروا، وتارة بالمضار ليصبروا، فصارت المحنة والمنحة جمیعا بلاء، فالمحنة مقتضية للصبر، والمنحة مقتضية للشکر . والقیام بحقوق الصبر أيسر من القیام بحقوق الشکر فصارت المنحة أعظم البلاء ین، وبهذا النظر قال عمر : ( بلینا بالضراء فصبرنا وبلینا بالسراء فلم نشکر) «4» ، ولهذا قال أمير المؤمنین : من وسع عليه دنیاه فلم يعلم أنه قد مکر به فهو مخدوع عن عقله «1» . وقال تعالی: وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً [ الأنبیاء/ 35] ، وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلاءً حَسَناً [ الأنفال/ 17] ، وقوله عزّ وجل : وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] ، راجع إلى الأمرین، إلى المحنة التي في قوله عزّ وجل : يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِساءَكُمْ [ البقرة/ 49] ، وإلى المنحة التي أنجاهم، وکذلک قوله تعالی: وَآتَيْناهُمْ مِنَ الْآياتِ ما فِيهِ بَلؤُا مُبِينٌ [ الدخان/ 33] ، راجع إلى الأمرین، كما وصف کتابه بقوله : قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدىً وَشِفاءٌ وَالَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ فِي آذانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى [ فصلت/ 44] . وإذا قيل : ابْتَلَى فلان کذا وأَبْلَاهُ فذلک يتضمن أمرین : أحدهما تعرّف حاله والوقوف علی ما يجهل من أمره، والثاني ظهور جو دته ورداء ته، وربما قصد به الأمران، وربما يقصد به أحدهما، فإذا قيل في اللہ تعالی: بلا کذا وأبلاه فلیس المراد منه إلا ظهور جو دته ورداء ته، دون التعرف لحاله، والوقوف علی ما يجهل من أمره إذ کان اللہ علّام الغیوب، وعلی هذا قوله عزّ وجل : وَإِذِ ابْتَلى إِبْراهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ [ البقرة/ 124] . ويقال : أَبْلَيْتُ فلانا يمينا : إذا عرضت عليه الیمین لتبلوه بها ( ب ل ی ) بلی الوقب ۔ بلی وبلاء کے معنی کپڑے کا بوسیدہ اور پرانا ہونے کے ہیں اسی سے بلاہ السفرہ ای ابلاہ ۔ کا تج اور ہ ہے ۔ یعنی سفر نے لا غر کردیا ہے اور بلو تہ کے معنی ہیں میں نے اسے آزمایا ۔ گویا کثرت آزمائش سے میں نے اسے کہنہ کردیا اور آیت کریمہ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ «3» [يونس/ 30] وہاں ہر شخص ( اپنے اعمال کی ) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا ۔ میں ایک قرآت نبلوا ( بصیغہ جمع متکلم ) بھی ہے اور معنی یہ ہیں کہ وہاں ہم ہر نفس کے اعمال کی حقیقت کو پہچان لیں گے اور اسی سے ابلیت فلان کے معنی کسی کا امتحان کرنا بھی آتے ہیں ۔ اور غم کو بلاء کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جسم کو کھلا کر لاغر کردیتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی دسخت آزمائش تھی ۔ ۔ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ الآية [ البقرة/ 155] اور ہم کسی قدر خوف سے تمہاری آزمائش کریں گے ۔ إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ اور تکلف کو کئی وجوہ کی بناہ پر بلاء کہا گیا ہے ایک اسلئے کہ تکا لیف بدن پر شاق ہوتی ہیں اس لئے انہیں بلاء سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ دوم یہ کہ تکلیف بھی ایک طرح سے آزمائش ہوتی ہے ۔ جیسے فرمایا وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَا أَخْبارَكُمْ [ محمد/ 31] اور ہم تو لوگوں کو آزمائیں گے تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ان کو معلوم کریں ۔ سوم اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کبھی تو بندوں کو خوش حالی سے آزماتے ہیں کہ شکر گزار بنتے ہیں یا نہیں اور کبھی تنگی کے ذریعہ امتحان فرماتے ہیں کہ ان کے صبر کو جانچیں ۔ لہذا مصیبت اور نعمت دونوں آزمائش ہیں محنت صبر کا تقاضا کرتی ہے اور منحتہ یعنی فضل وکرم شکر گزاری چاہتا ہے ۔ اور اس میں شک نہیں کہ کہا حقہ صبر کرنا کہا حقہ شکر گزاری سے زیادہ آسان ہوتا ہے اس لئے نعمت میں یہ نسبت مشقت کے بڑی آزمائش ہے اسی بنا پر حضرت عمر فرماتے ہیں کہ تکا لیف پر تو صابر رہے لیکن لیکن فراخ حالی میں صبر نہ کرسکے اور حضرت علی فرماتے ہیں کہ جس پر دنیا فراخ کی گئی اور اسے یہ معلوم نہ ہوا کہ آزامائش کی گرفت میں ہے تو و فریب خوردہ اور عقل وفکر سے مخزوم ہے قرآن میں ہے ۔ وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً [ الأنبیاء/ 35] اور ہم تم لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں ۔ وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلاءً حَسَناً «2» [ الأنفال/ 17] اس سے غرض یہ تھی کہ مومنوں کو اپنے ( احسانوں ) سے اچھی طرح آزما لے ۔ اور آیت کریمہ : وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] اور اس میں تمہاراے پروردگار کی طرف سے بڑی ( سخت ) آزمائش تھی میں بلاء کا لفظ نعمت و مشقت دونوں طرح کی آزمائش کو شامل ہی چناچہ آیت : يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِساءَكُمْ [ البقرة/ 49]( تہمارے بیٹوں کو ) تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے ۔ میں مشقت کا بیان ہے اور فرعون سے نجات میں نعمت کا تذکرہ ہے اسی طرح آیت وَآتَيْناهُمْ مِنَ الْآياتِ ما فِيهِ بَلؤُا مُبِينٌ [ الدخان/ 33] اور ان کو نشانیاں دی تھیں جنیہں صریح آزمائش تھی میں دونوں قسم کی آزمائش مراد ہے جیسا کہ کتاب اللہ کے متعلق فرمایا ۔ قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدىً وَشِفاءٌ وَالَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ فِي آذانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى [ فصلت/ 44] ( کسی کا امتحان کرنا ) یہ دو امر کو متضمن ہوتا ہے ( 1) تو اس شخص کی حالت کو جانچنا اور اس سے پوری طرح باخبر ہونا مقصود ہوتا ہے دوسرے ( 2 ) اس کی اچھی یا بری حالت کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا ۔ پھر کبھی تو یہ دونوں معنی مراد ہوتے ہیں اور کبھی صرف ایک ہی معنی مقصود ہوتا ہے ۔ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف تو صرف دوسرے معنی مراد ہوتے ہیں یعنی اس شخص لہ خوبی یا نقص کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے ۔ کیونکہ ذات ہے اسے کسی کی حالت سے باخبر ہونے کی ضرورت نہیں لہذا آیت کریمہ : وَإِذِ ابْتَلى إِبْراهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ [ البقرة/ 124] اور پروردگار نے چند باتوں میں ابراھیم کی آزمائش کی تو وہ ان میں پورے اترے ۔ دوسری معنی پر محمول ہوگی ( یعنی حضرت ابراھیم کے کمالات کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا مقصود تھا ) ابلیت فلانا یمینا کسی سے آزمائش قسم لینا ۔ سلف السَّلَفُ : المتقدّم، قال تعالی: فَجَعَلْناهُمْ سَلَفاً وَمَثَلًا لِلْآخِرِينَ [ الزخرف/ 56] ، أي : معتبرا متقدّما، وقال تعالی: فَلَهُ ما سَلَفَ [ البقرة/ 275] ، أي : يتجافی عمّا تقدّم من ذنبه، وکذا قوله : وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا ما قَدْ سَلَفَ [ النساء/ 23] ، أي : ما تقدّم من فعلکم، فذلک متجافی عنه، فالاستثناء عن الإثم لا عن جواز الفعل، ولفلان سَلَفٌ كريم، أي : آباء متقدّمون، جمعه أَسْلَافٌ ، وسُلُوفٌ. والسَّالِفَةُ صفحة العنق، والسَّلَفُ : ما قدّم من الثّمن علی المبیع، والسَّالِفَةُ والسُّلَافُ : المتقدّمون في حرب، أو سفر، وسُلَافَةُ الخمر : ما بقي من العصیر، والسُّلْفَةُ : ما يقدّم من الطعام علی القری، يقال : سَلِّفُوا ضيفكم ولهّنوه ( س ل ف ) السلف کے معنی متقدم یعنی پہلے گزر جانے والا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ؛ فَجَعَلْناهُمْ سَلَفاً وَمَثَلًا لِلْآخِرِينَ [ الزخرف/ 56] ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لئے عبرت بنا دیا ۔ فَلَهُ ما سَلَفَ [ البقرة/ 275] تو جو پہلے ہوچکا وہ اسکا ۔ یعنی اس کے پہلے گناہ کو معاف کردیا جائے گا ۔ اور اس پر کوئی گرفت نہیں ہوگی ۔ اس طرح آیت إِلَّا ما قَدْ سَلَفَ [ النساء/ 23] مگر ( جاہلیت میں ) جو ہوچکا ( سو ہوچکا ) میں ما سلف سے مراد یہ ہے کہ جو گناہ اس سے قبل ہوچکے ہیں وہ معاف کردیے جائیں گے ۔ تو یہاں استثناء جواز فعل سے نہیں ہے کہ جو نکاح پہلے ہوچکے ہیں وہ جائز اور مباح ہیں بلکہ یہاں استثناء گناہ سے ہے یعنی اس سے قبل جو نکاح ہوچکے ہیں ان کا گناہ معاف کردیا جائیگا اور اس پر کوئی گرفت نہیں ہوگی اور لفلان سلف کریم کے معنی ہیں اس کے آباؤ اجداد کریم تھے ۔ سلف کی جمع اسلاف اور سلوف آتی ہے ۔ اور کسی چیز کی پیشگی قیمت ادا کرنے کو بھی سلف کہا جاتا ہے ۔ السالفۃ گردن کے کنارے کو کہتے ہیں اور لڑائی میں ہراول دستہ یا سفر میں قافلہ سے آگے جانے والے لوگوں کو سالفۃ اور سلاف کہا جاتا ہے ۔ سلافۃ الخمر باقی ماندہ عصیرہ ۔ السلفۃ ( ناشتہ ) یعنی وہ طعام جو مہمانی سے پہلے مہمان کو پیش کیا جائے ۔ محاورہ ہے ۔ سَلِّفُوا ضيفكم ولهّنوه : اپنے مہمان کو نکل کھلاؤ ۔ ( س ل ق ) السلق قہر و غلبہ کے ساتھ دست یا زبان درازی کرنا کے ہیں اور اسی سے تسلق علی الحائط ہے جس کے معنی دیوار پھاندنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : سَلَقُوكُمْ بِأَلْسِنَةٍ حِدادٍ [ الأحزاب/ 19] تو تیز زبانوں کے ساتھ تمہارے بارے میں زبان درازی کریں گے ۔ محاورہ ہے : سَلَقَ امرأته : اپنی عورت کو زبردستی لٹا کر اس کے ساتھ جماع کیا ۔ (235) ( وإن شئت سلقناک ... وإن شئت علی أربع ) چاہو تو چت لیٹ جاؤ اور چاہو تو پٹ لیٹو ۔ اور سلق کے معنی شلیتے کے ایک حلقے کو دوسرے میں داخل کرنے کے ہیں اور میدہ کی روٹی کو سلیقۃ کہا جاتا ہے اس کی جمع سلائق آتی ہے اور سلیقۃ بمعنی طبیعت بھی آتا ہے اور سلق کے معنی ہموار اور عمدہ زمین کے ہیں ۔ رد الرَّدُّ : صرف الشیء بذاته، أو بحالة من أحواله، يقال : رَدَدْتُهُ فَارْتَدَّ ، قال تعالی: وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( رد د ) الرد ( ن ) اس کے معنی کسی چیز کو لوٹا دینے کے ہیں خواہ ذات شے کہ لوٹا یا جائے یا اس کی حالتوں میں سے کسی حالت کو محاورہ ہے ۔ رددتہ فارتد میں نے اسے لوٹا یا پس وہ لوٹ آیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( مگر بکے ) لوگوں سے اس کا عذاب تو ہمیشہ کے لئے ٹلنے والا ہی نہیں ۔ ولي والوَلِيُّ والمَوْلَى يستعملان في ذلك كلُّ واحدٍ منهما يقال في معنی الفاعل . أي : المُوَالِي، وفي معنی المفعول . أي : المُوَالَى، يقال للمؤمن : هو وَلِيُّ اللهِ عزّ وجلّ ولم يرد مَوْلَاهُ ، وقد يقال : اللهُ تعالیٰ وَلِيُّ المؤمنین ومَوْلَاهُمْ ، فمِنَ الأوَّل قال اللہ تعالی: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] ، إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ [ الأعراف/ 196] ، وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 68] ، ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا[ محمد/ 11] ، نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ [ الأنفال/ 40] ، وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلى[ الحج/ 78] ، قال عزّ وجلّ : قُلْ يا أَيُّهَا الَّذِينَ هادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِياءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ [ الجمعة/ 6] ، وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ [ التحریم/ 4] ، ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِ [ الأنعام/ 62] ( و ل ی ) الولاء والتوالی الولی ولمولی ۔ یہ دونوں کبھی اسم فاعل یعنی موال کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی اسم مفعول یعنی موالی کے معنی میں آتے ہیں اور مومن کو ولی اللہ تو کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن مولی اللہ کہنا ثابت نہیں ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰٰ کے متعلق ولی المومنین ومولاھم دونوں طرح بول سکتے ہیں ۔ چناچہ معنی اول یعنی اسم فاعل کے متعلق فرمایا : ۔ اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] جو لوگ ایمان لائے ان کا دوست خدا ہے إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ [ الأعراف/ 196] میرا مددگار تو خدا ہی ہے ۔ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 68] اور خدا مومنوں کا کار ساز ہے ۔ ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا[ محمد/ 11] یہ اسلئے کہ جو مومن ہیں ان کا خدا کار ساز ہے ۔ نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ [ الأنفال/ 40] خوب حمائتی اور خوب مددگار ہے ۔ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلى[ الحج/ 78] اور خدا کے دین کی رسی کو مضبوط پکڑے رہو وہی تمہارا دوست ہے اور خوب دوست ہے ۔ اور ودسرے معنی یعنی اسم مفعول کے متعلق فرمایا : ۔ قُلْ يا أَيُّهَا الَّذِينَ هادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِياءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ [ الجمعة/ 6] کہدو کہ اے یہود اگر تم کو یہ دعوٰی ہو کہ تم ہی خدا کے دوست ہو اور لوگ نہیں ۔ وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ [ التحریم/ 4] اور پیغمبر ( کی ایزا ) پر باہم اعانت کردگی تو خدا ان کے حامی اور ودست دار ہیں ۔ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِ [ الأنعام/ 62] پھر قیامت کے تمام لوگ اپنے مالک پر حق خدائے تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ ضَلل وإذا کان الضَّلَالُ تركَ الطّريق المستقیم عمدا کان أو سهوا، قلیلا کان أو كثيرا، صحّ أن يستعمل لفظ الضَّلَالِ ممّن يكون منه خطأ ما، ولذلک نسب الضَّلَالُ إلى الأنبیاء، وإلى الكفّار، وإن کان بين الضَّلَالَيْنِ بون بعید، ألا تری أنه قال في النّبي صلّى اللہ عليه وسلم : وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدى[ الضحی/ 7] ، أي : غير مهتد لما سيق إليك من النّبوّة . وقال في يعقوب : إِنَّكَ لَفِي ضَلالِكَ الْقَدِيمِ [يوسف/ 95] ، وقال أولاده :إِنَّ أَبانا لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ [يوسف/ 8] ، إشارة إلى شغفه بيوسف وشوقه إليه، وکذلك : قَدْ شَغَفَها حُبًّا إِنَّا لَنَراها فِي ضَلالٍ مُبِينٍ [يوسف/ 30] ، وقال عن موسیٰ عليه السلام : فَعَلْتُها إِذاً وَأَنَا مِنَ الضَّالِّينَ [ الشعراء/ 20] ، تنبيه أنّ ذلک منه سهو، وقوله : أَنْ تَضِلَّ إِحْداهُما[ البقرة/ 282] ، أي : تنسی، وذلک من النّسيان الموضوع عن الإنسان . جب کہ ضلال کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں خواہ وہ ہٹنا عمدا ہو یا سہوا تھوڑا ہو یا زیادہ تو جس سے بھی کسی قسم کی غلطی سرزد ہوگی اس کے متعلق ہم ضلالت کا لفظ استعمال کرسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انبیاء اور کفار دونوں کی طرف ضلالت کی نسبت کی گئی ہے گو ان دونوں قسم کی ضلالت میں بون بعید پایا جاتا ہے ۔ دیکھئے آنحضرت کو آیت کریمہ : وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدى[ الضحی/ 7] میں ضالا میں فرمایا ہے جس کے معنی یہ ہیں ک ہدایت نبوت کے عطا ہونے سے قبل تم اس راہ نمائی سے محروم تھے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارے میں ان کی اولاد کا کہنا إِنَّكَ لَفِي ضَلالِكَ الْقَدِيمِ [يوسف/ 95] کہ آپ اسی پرانی غلطی میں مبتلا ) ہیں ۔ یا یہ کہنا :إِنَّ أَبانا لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ [يوسف/ 8] کچھ شک نہیں کہ اباصریح غلطی پر ہیں ۔ تو ان آیات میں ضلال سے مراد یہ ہے کہ وہ یوسف ( (علیہ السلام) ) کی محبت اور ان کے اشتیاق میں سرگردان ہیں اسی طرح آیت کریمہ : قَدْ شَغَفَها حُبًّا إِنَّا لَنَراها فِي ضَلالٍ مُبِينٍ [يوسف/ 30] اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہیں ۔ میں بھی ضلال مبین سے والہانہ محبت مراد ہے ۔ اور آیت کریمہ :إِذاً وَأَنَا مِنَ الضَّالِّينَ [ الشعراء/ 20] اور میں خطا کاروں میں تھا ۔ میں موسیٰ ٰ (علیہ السلام) نے اپنے ضال ہونے کا اعتراف کرکے اشارہ کیا ہے کہ قتل نفس کا ارتکاب مجھ سے سہوا ہوا تھا ۔ اور آیت : أَنْ تَضِلَّ إِحْداهُما[ البقرة/ 282] اور اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی ۔ میں تضل کے معنی بھول جانا کے ہیں اور یہی وہ نسیان ہے جسے عفو قرار دیا گیا ہے فری الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ للإفساد، والِافْتِرَاءُ فيهما، وفي الإفساد أكثر، وکذلک استعمل في القرآن في الکذب والشّرک والظّلم . نحو : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] ، ( ف ری ) الفری ( ن ) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں اور افراء افعال ) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ۔ افتراء ( افتعال کا لفظ صلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال افسادی ہی کے معنوں میں ہوتا ہے اسی لئے قرآن پاک میں جھوٹ شرک اور ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٠) اس موقعہ پر ہر ایک انسان اپنے کیے ہوئے کاموں کو جان لے گا کہ کیا اس نے نیکیاں کی ہیں اور کیا کیا برائیاں اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا معبود حقیقی ہے، لوٹا دیے جائیں گے اور انہوں نے جھوٹے معبود تراش رکھے تھے وہ سب باطل اور ان سے علیحدہ اور غائب ہوجائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٠ (ہُنَالِکَ تَبْلُوْا کُلُّ نَفْسٍ مَّآ اَسْلَفَتْ وَرُدُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ مَوْلٰٹہُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ( یعنی اس دن جب شفاعت کی امیدوں کے سارے سہارے ہوا ہوجائیں گے تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔ تب انہیں معلوم ہوگا کہ ع ” خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ‘ جو سنا افسانہ تھا ! “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :37 یعنی وہ تمام فرشتے جن کو دنیا میں دیوی اور دیوتا قرار دے کر پوجا گیا ، اور وہ تمام جن ، ارواح ، اسلاف ، اجداد ، انبیاء ، اولیاء ، شہداء وغیرہ جن کو خدائی صفات میں شریک ٹھیرا کر وہ حقوق انہیں ادا کیے گئے جو دراصل خدا کے حقو ق تھے ، وہاں اپنے پرستاروں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم ہماری عبادت بجا لا رہے ہو ۔ تمہاری کوئی دعا ، کوئی التجا ، کوئی پکار اور فریاد ، کوئی نذر و نیاز ، کوئی چڑھاوے کی چیز ، کوئی تعریف و مدح اور ہمارے نام کی جاپ اور کوئی سجدہ ریزی و آستانہ بوسی و درگاہ گردی ہم تک نہیں پہنچی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

17: یعنی ہر عمل کی قلعی کھل جائے گی کہ اس کی حقیقت کیا تھی؟

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:30) ھنالک۔ تب ۔ ظرف مکان ہے مجازا ! یہاں بطور ظرف زمان استعمال ہوا ہے بطور ظرف مکان مطلب ہوگا۔ وہاں ۔ میدان حشر میں۔ تبلوا۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ بلاء سے۔ ہر جان آزمالے گی۔ جان لیگی۔ خبر پالے گی۔ بلو مادہ۔ ما اسلفت۔ یعنی جو اعمال اس نے آگے بھیجے تھے۔ اسلفت ماضی واحد مؤنث غائب وہ پہلے کرچکی۔ اس نے آگے بھیجا۔ ردوا۔ ماضی مجہول۔ جمع مذکر غائب۔ ماضٰ بمعنی مضارع۔ وہ لوٹائے جائیں گے۔ وہ واپس لائے جائیں گے۔ اس کا عطف زیلنا پر ہے۔ اور ضمیر جمع مذکر غائب الذین اشرکوا کے لئے ہے۔ ضل عن۔ ذھب عن۔ چھوڑ جائیں گے۔ ان سے کھو جائیں گے۔ ما کانوا یفترون۔ جو انہوں نے من گھڑت خود ساختہ (معبود) بنا رکھے تھے۔ یا جو افترائ۔ وہ باندھا کرتے تھے ۔ وہ ان سے گم ہوجائیگا۔ وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے۔ گم ہوجائیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ یعنی خوب جان لے گا اور مشاہدہ کرلے گا کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے اور اس کے اعمال کا اسے کیا بدلہ ملتا ہے۔ پس یہاں مجازاً اتبلا بمعنی انکشاف ہے۔ من قبیل اطلاق السبب علی المسبب۔ 3 ۔ مثلاً یہ کہ بت یا معبود اللہ کے مقرب ہیں اور یہ اللہ سے ہماری سفارش کریں گے تو ان کے سفارش لازماً قبول کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی تمام جھوٹی اور لغو باتیں ہوا ہوا جائینگی اور ان کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ حضرت عبد اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن ان لوگوں کے سامنے ان کے معبود لائے جائیں گے۔ وہ آگے آگے اور یہ ان کے پیچھے پیچھے چلیں گے یہاں تک کہ جہنم میں داخ (رح) ہوجائیں گے پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (در منشور) مگر اس حدیث پر یہ آیت اسی وقت شاہد بن سکتی ہے۔ جبکہ ” تبلو “ کی بجائے ” تتلو “ پڑھا جائے۔ ای تتبع کل نفس ما اسلفت کیونکہ قیامت کے روز جنت یا جہنم کی طرف انسان کا عمل اس کی رہنمائی کرے گا۔ (رازی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یہاں اللہ کا کفار کا مولی فرمادینا باعتبار معنی مالکیت کے ہے لامولی لھم میں نفی باعتبار معنی محب وناصر کے ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کو ان کے شرک کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہوگا لیکن دنیا میں بھی ان سے سوال کیا جاتا ہے۔ ان کے پاس نہ قیامت کو اپنے شرک کا جواب ہوگا اور نہ دنیا میں جواب دے سکتے ہیں۔ اس سے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مشکل کشا ہونے کے دلائل دیئے تھے۔ جس کا اقرار مشرک صرف سمندری سفر میں بھنور میں پھنسنے کے وقت کرتے تھے۔ یہی مشرک اور مؤاحد کے درمیان فرق ہے۔ مشرک جب اپنے مشکل کشاؤں سے مایوس ہوجاتا ہے تب خالصتاً ایک اللہ کو پکارتا ہے، مؤاحد ہر حال میں ایک اللہ کو پکارتا ہے۔ اب توحید کے وہ دلائل دیے جاتے ہیں۔ جن کا مشرک ہر حال میں اقرار کرتے ہیں۔ چناچہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ہر مؤاحد کو کہا گیا ہے کہ آپ ان سے سوال کریں کہ زمین و آسمان سے تمہیں کون رزق دینے والا ہے ؟ پھر ان سے پوچھیں کس نے تمہیں سننے کے لیے کان، دیکھنے کے لیے آنکھیں عطا فرمائیں ؟ کون ہے جو زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کو پیدا کرتا ہے ؟ پھر پوری کائنات کے نظام کو سنبھالنے اور چلانے والا کون ہے ؟ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ صرف اللہ ہی سب کچھ کرنے اور کائنات کا نظام چلانے والا ہے۔ ان سے پوچھیں پھر تم کیوں نہیں اللہ سے ڈر کر شرک و کفر چھوڑتے ؟ لوگو ! یہ ہے تمہارا ” اللہ “ اس کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرنا یا کسی کو اللہ کی ذات کے ساتھ کسی اعتبار سے شریک بنانا گمراہی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ پھر کیوں زیادتی کرتے ہو۔ توحید فطرت کی آواز ہے۔ اس لیے انسان کو اس کا اقرار کیے بغیر چارہ نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور کا مشرک توحید کے ٹھوس اور واضح دلائل کے سامنے خاموش ہوجاتا ہے۔ یہی حالت مکہ کے مشرکین کی تھی جب ان سے اللہ تعالیٰ کے خالق، مالک، رازق اور قادر مطلق ہونے کے بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ برملا اس کا اقرار اور اظہار کرتے تھے۔ یہاں ان کے اقرار کا ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن مشرکین کا یہ اقرار لاجواب ہونے کی صورت میں ہے۔ ایمان لانے کی نیت سے نہیں کیونکہ مشرک حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا منکر ہوتا ہے۔ اس لیے مشرک کو کافر بھی کہا گیا ہے۔ تفسیر بالقرآن مشرک اللہ تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرتا ہے : ١۔ مشرک سے سوال کیا جائے کہ آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے کہتے ہیں اللہ ہی رزق دیتا ہے۔ (یونس : ٣١) ٢۔ مشرکین سے پوچھا جائے مخلوق کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ جواب دیتے ہیں اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے۔ (یونس : ٣٤) ٣۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ کہتے ہیں اللہ ہی ہے۔ (الزمر : ٣٨) ٤۔ مشرکوں سے پوچھاجائے سات آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ؟ جواباً کہتے ہیں، اللہ ہی ہے۔ (المومنون : ٨٦۔ ٨٧) ٥۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ ہر چیز پر بادشاہت کس کی ہے ؟ جواب دیتے ہیں اللہ کی ہے۔ (المومنون : ٨٨۔ ٨٩) ٦۔ یقیناً اگر تو ان سے پوچھے کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو مسخر کیا ؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، فرمائیں پھر کہاں سے بہکائے جا رہے ہیں۔ (العنکبوت : ٦١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ھنالک تبلوا کل نفس ما اسلفت اس مقام پر ہر شخص اپنے اگلے کئے ہوئے کاموں کو جانچ لے گا اور اپنے گذشتہ اعمال کے نفع و ضرر کو دیکھ لے گا۔ وردوا الی اللہ مولھم الحق اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے ‘ لوٹائے جائیں گے۔ یعنی اللہ کے فیصلہ کی طرف یا اللہ کے عذاب کی طرف۔ مَوْلٰھُمُ الْحَقِّ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ ہی حقیقت میں ان کا مالک اور ان کے امور کا ذمہ دار ہے ‘ وہ معبود مالک نہیں جن کو کافروں نے معبود بنا رکھا ہے۔ ایک شبہ : کافروں کا تو کوئی مولیٰ نہیں ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَاَنَّ الْکَافِرِیْنَ لاَ مَوْلٰی لَھُمُ ۔ ازالہ : آیت زیر بحث میں مولیٰ کا معنی ہے رب اور مالک اور لاَ مَوْلٰی لَھُمُ میں مولیٰ کا معنی ہے مددگار اور حمایتی۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون۔ اور جو معبود انہوں نے (از خود) تراش رکھے تھے ‘ وہ سب غائب ہوجائیں گے ‘ کھو جائیں گے (کوئی بھی ان کا ساتھی نہ ہوگا) یَفْتَرُوْنَکا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کو شفیع سمجھے ہوئے تھے ‘ یا ان معبودیت کے مدعی تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخر میں فرمایا (ھُنَالِکَ تَبْلُوْا کُلُّ نَفْسٍ مَّا اَسْلَفَتْ ) (الایۃ) وہاں یعنی روز قیامت ہر شخص اپنے کئے ہوئے اعمال کو جانچ لے گا۔ یعنی ہر ایک کے اپنے اپنے عمل کا نتیجہ سامنے آجائے گا جس میں مشرکین کے شرک کی حقیقت کھل جائے گی اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم جن کی عبادت کرتے تھے ان سے ہمیں جو نفع کی امید تھی وہ غلط تھی وہ تو آج ہمارے خلاف بول رہے ہیں ان لوگوں کی ساری آرزوئیں ختم ہوجائیں گی اور اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو حقیقی مولا اور مالک ہے ‘ اور جو کچھ باتیں تراشتے تھے غیر اللہ کو معبود جانتے تھے وہ سب کچھ غائب ہوجائے گا۔ اور کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ اللہ تعالیٰ سب کا مولیٰ یعنی مالک حقیقی ہے۔ اور سورة محمد میں جو (وَاَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰی لَھُمْ ) فرمایا ہے وہاں مولا مددگار کے معنی میں ہے یعنی کافروں کا وہاں کوئی مددگار نہ ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

45: یہ ظرف زمان ہے یا ظرف مکان۔ “ تَتْلُوْا ” پالے گا، جان لے گا یا چکھ لے گا۔ “ مَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ” جن معبودان باطلہ کو انہوں نے کارساز اور سفارشی سمجھ رکھا تھا وہ سب غائب ہوں گے اور کوئی بھی ان کے کام نہ آسکے گا۔ “ (مَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ) من ان اٰلھتھم تشفع لھم او ما کانوا یدعون انھا اٰلھة ” (ابو السعود ج 1، کبیر ج 44 ص 838) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

30 اس جگہ اور اس وقت ہر شخص اپنے ان اعمال کو اور ان کاموں کو جانچ لے گا اور امتحان کرلے گا جو اس نے کئے ہوں گے اور تمام گزشتہ اعمال سامنے آجائیں گے اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف جو ان کا حقیقی مالک ہے لوٹائے جائیں گے اور جو افترا پردازیاں یہ کیا کرتے تھے وہ سب ان سے گم ہوجائیں گے اور غائب ہوجائیں گی۔ یعنی اس موقعہ پر ہر شے کی حقیقت ظاہر ہوجائے گی سب اعمال اچھے ہوں یا بُرے سامنے آجائیں گے اور جن کو سہارا سمجھتے تھے اور شفیع کہتے تھے وہی مخالف میں بولیں گے اور سوائے اس مالک حقیقی کے کوئی دوسرا ٹھکانہ نہ ہوگا پھر ایسے وقت میں وہ دنیا کی افترا پردازیاں اور شرارتیں کہاں سے آئیں گی۔