Surat Younus

Surah: 10

Verse: 4

سورة يونس

اِلَیۡہِ مَرۡجِعُکُمۡ جَمِیۡعًا ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقًّا ؕ اِنَّہٗ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ لِیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالۡقِسۡطِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَہُمۡ شَرَابٌ مِّنۡ حَمِیۡمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ بِمَا کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ ﴿۴﴾

To Him is your return all together. [It is] the promise of Allah [which is] truth. Indeed, He begins the [process of] creation and then repeats it that He may reward those who have believed and done righteous deeds, in justice. But those who disbelieved will have a drink of scalding water and a painful punishment for what they used to deny.

تم سب کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے اللہ نے سچا وعدہ کر رکھا ہے بیشک وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا تاکہ ایسے لوگوں کو جو کہ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے انصاف کے ساتھ جزا دے اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے واسطے کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور دردناک عذاب ہوگا ان کے کفر کی وجہ سے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Return of Everything is to Allah Allah says; إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا وَعْدَ اللّهِ حَقًّا إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ... To Him is the return of all of you. The promise of Allah is true. It is He Who begins the creation and then will repeat it, Allah tells us that the return of the creatures on the Day of Resurrection is to Him. He will not leave anyone of them without bringing everyone into being as He brought them in the beginning. Then Allah states that He is going to bring all the creatures into being. وَهُوَ الَّذِى يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ And He it is Who originates the creation, then He will repeat it (after it has perished); and this is easier for Him. (30:27) ... لِيَجْزِيَ الَّذِينَ امَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ ... that He may reward with justice those who believed and did deeds of righteousness. meaning, the reward will be with justice and complete recompense. ... وَالَّذِينَ كَفَرُواْ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ But those who disbelieved will have a drink of boiling fluids and painful torment because they used to disbelieve. meaning, because of their disbelief they will be punished on the Day of Resurrection by different forms of torment, such as fierce hot winds, boiling water, and the shadow of black smoke. هَـذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ This is so! Then let them taste it; a boiling fluid and dirty wound discharges. And other (torments) of similar kind all together! (38: 57-58) هَـذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ This is the Hell which the criminals denied. They will go between it (Hell) and the fierce boiling water! (55:43-44)

قیامت کا عمل اسی تخلیق کا اعادہ ہے قیامت کے دن ایک بھی نہ بچے گا سب اپنے اللہ کے پاس حاضر کئے جائیں گے جیسے اس نے شروع میں پیدا کیا تھا ۔ ایسے ہی دوبارہ اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہوگا ۔ اس کے وعدے اٹل ہیں ۔ عدل کے ساتھ وہ اپنے نیک بندوں کو اجر دے گا اور پورا پورا بدلہ عنایت فرمائے گا ۔ کافروں کو بھی ان کے کفر کا بدلہ ملے گا ۔ طرح طرح کی سزائیں ہوں گی ۔ گرم پانی ، گرمی ، گرم لو ان کے حصے میں آئیں گے اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوتے رہیں گے ۔ وہ جہنم جسے یہ جھٹلا رہے تھے ان کا اوڑھنا بچھونا ہوگی ۔ اس کے اور گرم پگھلے ہوئے تانبے جیسے پانی کے درمیان یہ حیران و پریشان ہوں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 اس آیت میں قیامت کے وقوع، بارگاہ الٰہی میں سب کی حاضری اور جزا سزا کا بیان ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں مختلف اسلوب سے متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦] اخروی زندگی کا مقصد :۔ پہلی دلیل اللہ کے مالک و مختار ہونے سے متعلق تھی اور یہ دوسری دلیل دوسری زندگی کے حشر و نشر سے متعلق ہے اور وہ دلیل یہ ہے کہ جس اللہ نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے وہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے بلکہ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے پہلے کی نسبت زیادہ آسان ہے اور تمہیں دوبارہ پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس دارفانی میں جس کسی نے ایمان لاکر اچھے کام کیے ہوں انہیں اس کا بدلہ دیا جائے اور جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہو انہیں اس کا بدلہ دیا جائے کیونکہ اس دنیا میں نہ تو انسان کے ایمان کا بدلہ دیا جانا ضروری ہے اور نہ ہی یہ دنیا کی زندگی اتنی طویل ہے کہ اس میں اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جاسکے لہذا دوسری زندگی کا قیام ناگزیر ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا ۔۔ : اس میں قیامت، یعنی سب لوگوں کے دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے حضور پیش ہونے کا بیان ہے۔ یہ اللہ کا پکا سچا وعدہ ہے کیونکہ دنیا میں نیک و بد کی جزا و سزا نہ ضروری ہے نہ ممکن، نہ یہاں اس کے لیے مطلوب فرصت میسر ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ہر حال میں اپنے سچے وعدے کو پورا کرتے ہوئے تمہیں دوبارہ زندہ کرکے ایمان والوں کو انصاف کے ساتھ جزا دے گا اور کافروں کو ان کے کفر کا بدلہ دے گا۔ اگر کوئی اسے ناممکن سمجھے تو سوچ لے کہ جو ذات تمہیں شروع میں پیدا کرتی ہے، یعنی عدم سے وجود میں لاتی ہے، کیا اس کے لیے یہ مشکل ہے کہ تمہارے مرجانے کے بعد تمہیں دوبارہ زندگی دے۔ مزید دیکھیے سورة روم (٢٧) ” حَمِیْمٍ “ وہ پانی جو گرمی کی انتہا کو پہنچا ہوا ہو۔ دیکھیے سورة رحمن (٤٤) اور سورة محمد (١٥) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The fourth verse describes the ` Aqidah of &Akhirah (Belief in the Hereafter) إِلَيْهِ مَرْ‌جِعُكُمْ جَمِيعًا (Towards Him is the return of you all). The an¬nouncement is asserted by saying: وَعْدَ اللَّـهِ حَقًّا (a real [ and true ] promise from Allah). That it must be as promised has been explained through the simple logic of: إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ (Surely, He originates the creation, then He will bring it again). The sentence is telling us that there is nothing surprising about it and that there is no sense in worrying about as to how this entire universe would start pulsating with life af¬ter it has been eliminated. The reason is that the Sacred Power who has the mastery to create something the first time, without any pre-existing matter and without any prototype of form and shape, should hardly find any difficulty in creating once again everything He had made then unmade.

چوتھی آیت میں عقیدہ آخرت کا بیان ہے (آیت) اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا، یعنی اسی کی طرف لوٹنا ہے تم سب کو، وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا، یہ وعدہ ہے اللہ کا حق اور صحیح، (آیت) اِنَّهٗ يَبْدَؤ ُ ا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ ، یعنی وہ اول پیدا کرتا ہے تمام مخلوق کو اور وہی اس کو قیامت میں دوبارہ زندہ فرمائے گا، اس جملہ میں بتلا دیا کہ اس پر کوئی تعجب کرنے کی جگہ نہیں کہ یہ ساری کائنات فنا ہوجانے کے بعد پھر کیسے زندہ ہوگی کیونکہ جس ذات اقدس کے قبضہ میں یہ ہے کہ اول کسی چیز کو بغیر کسی مادہ کے اور بغیر کسی سابقہ شکل و صورت کے پیدا کردے اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ پیدا شدہ مخلوق کو فنا کرنے کے بعد پھر دوبارہ پیدا کردے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِلَيْہِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا۝ ٠ ۭ وَعْدَ اللہِ حَقًّا۝ ٠ ۭ اِنَّہٗ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُہٗ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ۝ ٠ ۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِيْمٌۢ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ۝ ٤ رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے جمع الجَمْع : ضمّ الشیء بتقریب بعضه من بعض، يقال : جَمَعْتُهُ فَاجْتَمَعَ ، وقال عزّ وجل : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] ، وَجَمَعَ فَأَوْعى [ المعارج/ 18] ، جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] ، ( ج م ع ) الجمع ( ف ) کے معنی ہیں متفرق چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ملا دینا ۔ محاورہ ہے : ۔ چناچہ وہ اکٹھا ہوگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے ۔ ( مال ) جمع کیا اور بند رکھا ۔ جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ بدأ يقال : بَدَأْتُ بکذا وأَبْدَأْتُ وابْتَدَأْتُ ، أي : قدّمت، والبَدْءُ والابتداء : تقدیم الشیء علی غيره ضربا من التقدیم . قال تعالی: وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسانِ مِنْ طِينٍ [ السجدة/ 7] ( ب د ء ) بدء ات بکذا وابتدءات میں نے اسے مقدم کیا ۔ اس کے ساتھ ابتدا کی ۔ البداء والابتداء ۔ ایک چیز کو دوسری پر کسی طور مقدم کرنا قرآن میں ہے { وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ } ( سورة السجدة 7) اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا ۔ عود الْعَوْدُ : الرّجوع إلى الشیء بعد الانصراف عنه إمّا انصرافا بالذات، أو بالقول والعزیمة . قال تعالی: رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] ( ع و د ) العود ( ن) کسی کام کو ابتداء کرنے کے بعد دوبارہ اس کی طرف پلٹنے کو عود کہاجاتا ہی خواہ وہ پلٹا ھذایۃ ہو ۔ یا قول وعزم سے ہو ۔ قرآن میں ہے : رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] اے پروردگار ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر ( ایسے کام ) کریں تو ظالم ہوں گے ۔ جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو کافی ہو جیسے خیر کا بدلہ خیر سے اور شر کا بدلہ شر سے دیا جائے ۔ کہا جاتا ہے ۔ جزیتہ کذا بکذا میں نے فلاں کو اس ک عمل کا ایسا بدلہ دیا قرآن میں ہے :۔ وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، اور یہ آں شخص کا بدلہ ہے چو پاک ہوا ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ قسط الْقِسْطُ : هو النّصيب بالعدل کالنّصف والنّصفة . قال تعالی: لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالْقِسْطِ [يونس/ 4] ، وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] والقِسْطُ : هو أن يأخذ قسط غيره، وذلک جور، والْإِقْسَاطُ : أن يعطي قسط غيره، وذلک إنصاف، ولذلک قيل : قَسَطَ الرّجل : إذا جار، وأَقْسَطَ : إذا عدل . قال : أَمَّا الْقاسِطُونَ فَكانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَباً [ الجن/ 15] وقال : وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ [ الحجرات/ 9] ، وتَقَسَّطْنَا بيننا، أي : اقتسمنا، والْقَسْطُ : اعوجاج في الرّجلین بخلاف الفحج، والقِسْطَاسُ : المیزان، ويعبّر به عن العدالة كما يعبّر عنها بالمیزان، قال : وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الإسراء/ 35] . ( ق س ط ) القسط ( اسم ) ( ق س ط ) القسط ( اسم ) نصف ومصفۃ کی طرح قسط بھی مبنی بر عدل حصہ کو کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالْقِسْطِ [يونس/ 4] تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے ۔ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] اور قسط کے معنی دوسرے کا حق مررنا بھیآتے ہیں اس لئے یہ ظلم اور جو رے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے القسط پاؤں میں ٹیڑھا پن یہ افجع کی ضد ہے جس کے نزدیک اور ایڑیوں کی جانب سے دور ہو نیکے ہیں ۔ الا قساط اس کے اصل معنی کسی کو اس کا حق دینے کے ہیں اسی چیز کا نام انصاف ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ قسط الرجل فھو قاسط ) کے معنی ظلم کرنے اوراقسط کے معنی انصاف کرنے کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ أَمَّا الْقاسِطُونَ فَكانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَباً [ الجن/ 15] اور گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ [ الحجرات/ 9] اور انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ فقسطنا بیننا ہم نے ( کسی چیز کو آپس میں برا بر تقسیم کرلیا چناچہ القسطاس تراز دکو کہتے ہیں اور لفظ میزان کی طرح اس سے بھی عدل ونصاف کے معنی مراد لئے جاتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الإسراء/ 35] اور جب تول کر دو تو ترا زو سیدھی رکھ کر تولا کرو ۔ شرب الشُّرْبُ : تناول کلّ مائع، ماء کان أو غيره . قال تعالیٰ في صفة أهل الجنّة : وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] ، وقال في صفة أهل النّار : لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمِيمٍ [يونس/ 4] ، وجمع الشَّرَابُ أَشْرِبَةٌ ( ش ر ب ) الشراب کے معنی پانی یا کسی اور مائع چیز کو نوش کرنے کے ہیں ۔ قرآن نے ہی جنت کے متعلق فرمایا : ۔ وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] اور ان کا پروردگار انہیں نہایت پاکیزہ شراب پلائیگا ۔ اور اہل دوزخ کے متعلق فرمایا : ۔ لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمِيمٍ [يونس/ 4] ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی ۔ شراب کی جمع اشربۃ ہے اور شربتہ شربا وشربا کے معنی پینے کے ہیں حم الحمیم : الماء الشدید الحرارة، قال تعالی: وَسُقُوا ماءً حَمِيماً [ محمد/ 15] ، إِلَّا حَمِيماً وَغَسَّاقاً [ عمّ/ 25] ، وقال تعالی: وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمِيمٍ [ الأنعام/ 70] ، وقال عزّ وجل : يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؤُسِهِمُ الْحَمِيمُ [ الحج/ 19] ، ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْها لَشَوْباً مِنْ حَمِيمٍ [ الصافات/ 67] ، هذا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ [ ص/ 57] ، وقیل للماء الحارّ في خروجه من منبعه : حَمَّة، وروي : «العالم کالحمّة يأتيها البعداء ويزهد فيها القرباء» وسمي العَرَق حمیماعلی التشبيه، واستحمّ الفرس : عرق، وسمي الحمّام حمّاما، إمّا لأنه يعرّق، وإمّا لما فيه من الماء الحارّ ، واستحمّ فلان : دخل الحمّام، وقوله عزّ وجل : فَما لَنا مِنْ شافِعِينَ وَلا صَدِيقٍ حَمِيمٍ [ الشعراء/ 100- 101] ، وقوله تعالی: وَلا يَسْئَلُ حَمِيمٌ حَمِيماً [ المعارج/ 10] ، فهو القریب المشفق، فكأنّه الذي يحتدّ حماية لذويه، وقیل لخاصة الرّجل : حامّته، فقیل : الحامّة والعامّة، وذلک لما قلنا، ويدلّ علی ذلك أنه قيل للمشفقین من أقارب الإنسان حزانته أي : الذین يحزنون له، واحتمّ فلان لفلان : احتدّ وذلک أبلغ من اهتمّ لما فيه من معنی الاحتمام، وأحمّ الشّحم : أذابه، وصار کالحمیم، وقوله عزّ وجل : وَظِلٍّ مِنْ يَحْمُومٍ [ الواقعة/ 43] ، للحمیم، فهو يفعول من ذلك، وقیل : أصله الدخان الشدید السّواد ، وتسمیته إمّا لما فيه من فرط الحرارة، كما فسّره في قوله : لا بارِدٍ وَلا كَرِيمٍ [ الواقعة/ 44] ، أو لما تصوّر فيه من لفظ الحممة فقد قيل للأسود يحموم، وهو من لفظ الحممة، وإليه أشير بقوله : لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ [ الزمر/ 16] ، وعبّر عن الموت بالحمام، کقولهم : حُمَّ كذا، أي : قدّر، والحُمَّى سمّيت بذلک إمّا لما فيها من الحرارة المفرطة، وعلی ذلک قوله صلّى اللہ عليه وسلم : «الحمّى من فيح جهنّم» وإمّا لما يعرض فيها من الحمیم، أي : العرق، وإمّا لکونها من أمارات الحِمَام، لقولهم : «الحمّى برید الموت» ، وقیل : «باب الموت» ، وسمّي حمّى البعیر حُمَاماً بضمة الحاء، فجعل لفظه من لفظ الحمام لما قيل : إنه قلّما يبرأ البعیر من الحمّى. وقیل : حَمَّمَ الفرخ : إذا اسودّ جلده من الریش، وحمّم ( ح م م ) الحمیم کے معنی سخت گرم پانی کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ وَسُقُوا ماءً حَمِيماً [ محمد/ 15] اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا ۔ إِلَّا حَمِيماً وَغَسَّاقاً [ عمّ/ 25] مگر گرم پانی اور یہی پیپ ۔ وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمِيمٍ [ الأنعام/ 70] اور جو کافر ہیں ان کے پینے کو نہایت گرم پانی ۔ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؤُسِهِمُ الْحَمِيمُ [ الحج/ 19]( اور ) ان کے سروں پر جلتا ہوا پانی دالا جائیگا ۔ ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْها لَشَوْباً مِنْ حَمِيمٍ [ الصافات/ 67] پھر اس ( کھانے ) کے ساتھ ان کو گرم پانی ملا کردیا جائے گا ۔ هذا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ [ ص/ 57] یہ گرم کھولتا ہوا پانی اور پیپ ( ہے ) اب اس کے مزے چکھیں ۔ اور گرم پانی کے چشمہ کو حمتہ کہا جاتا ہے ایک روایت میں ہے ۔ کہ عالم کی مثال گرم پانی کے چشمہ کی سی ہے جس ( میں نہانے ) کے لئے دور دور سے لوگ آتے ہیں ( اور شفایاب ہوکر لوٹتے ہیں ) اور قرب و جوار کے لوگ اس سے بےرغبتی کرتے ہیں ( اس لئے اس کے فیض سے محروم رہتے ہیں ) اور تشبیہ کے طور پر پسینہ کو بھی حمیم کہا جاتا ہے اسی سے استحم الفرس کا محاورہ ہے جس کے معنی گھوڑے کے پسینہ پسینہ ہونے کے ہیں اور حمام کو حمام یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ پسینہ آور ہوتا ہے اور یا اس لئے کہ اس میں گرم پانی موجود رہتا ہے ۔ استحم فلان ۔ حمام میں داخل ہونا ۔ پھر مجازا قریبی رشتہ دار کو بھی حمیم کہا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ انسان اپنے رشتہ داروں کی حمایت میں بھٹرک اٹھتا ہے اور کسی شخص کے اپنے خاص لوگوں کو حامتہ خاص وعام کا محاورہ ہے ۔ قرآن میں ہے : فَما لَنا مِنْ شافِعِينَ وَلا صَدِيقٍ حَمِيمٍ [ الشعراء/ 100- 101] تو ( آج ) نہ کوئی ہمارا سفارش کرنے والا ہے اور نہ گرم جوش دوست نیز فرمایا ۔ وَلا يَسْئَلُ حَمِيمٌ حَمِيماً [ المعارج/ 10] اور کوئی دوست کسیز دوست کا پر سان نہ ہوگا ۔ اور اس کی دلیل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ انسان کے قریبی مہر بانوں کو حزانتہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اس کے غم میں شریک رہتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ احتم فلان لفلان فلاں اس کے لئے غمگین ہوا یا اس کی حمایت کے لئے جوش میں آگیا ۔ اس میں باعتبار معنی اھم سے زیادہ زور پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں غم زدہ ہونے کے ساتھ ساتھ جوش اور گرمی کے معنی بھی پائے جاتے ہیں ۔ احم الشحم چربی پگھلا ۔ یہاں تک کہ وہ گرم پانی کی طرح ہوجائے اور آیت کریمہ : وَظِلٍّ مِنْ يَحْمُومٍ [ الواقعة/ 43] اور سیاہ دھوئیں کے سایے میں ۔ میں یحموم حمیم سے یفعول کے وزن پر ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے اصل معنی سخت سیاہ دھوآں کے ہیں اور اسے یحموم یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں شیت حرارت پائی جاتی ہے جیسا کہ بعد میں سے اس کی تفسیر کی ہے اور یا اس میں حممتہ یعنی کوئلے کی سی سیاہی کا تصور موجود ہے ۔ چناچہ سیاہ کو یحموم کہا جاتا ہے اور یہ حممتہ ( کوئلہ ) کے لفظ سے مشتق ہے چناچہ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ [ الزمر/ 16] ان کے اوپر تو اگ کے سائبان ہوں گے اور نیچے ( ان ) کے فرش پونگے اور حمام بمعنی موت بھی آجاتا ہے جیسا کہ کسی امر کے مقدر ہونے پر حم کذا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے اور بخار کو الحمی کہنا یا تو اس لئے ہے کہ اس میں حرارت تیز ہوجاتی ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں آنحضرت نے فرمایا : کہ بخار جہنم کی شدت ست ہے اور یا بخار کو حمی اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں پسینہ اترتا ہے اور یا اس لئے کہ یہ موت کی علامات میں سے ایک علامت ہے ۔ جیسا کہ عرب لوگ کہتے ہیں الحمی بریدالموت ( کہ بخار موت کا پیغام پر ہے ) اور بعض اسے باب الموت یعنی موت کا دروازہ بھی کہتے ہیں اور اونٹوں کے بخار کو حمام کہا جاتا ہے یہ بھی حمام ( موت ) سے مشتق ہے کیونکہ اونٹ کو بخار ہوجائے تو وہ شازو نادر ہی شفایاب ہوتا ہے ۔ حمم الفرخ پرندے کے بچہ نے بال وپر نکال لئے کیونکہ اس سے اس کی جلد سیاہ ہوجاتی ہے ۔ حمم وجھہ اس کے چہرہ پر سبزہ نکل آیا یہ دونوں محاورے حممتہ سے موخوز ہیں ۔ اور حمحمت الفرس جس کے معنی گھوڑے کے ہنہنانے کے ہیں یہ اس باب سے نہیں ہے ۔ ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے ) كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤) مرنے کے بعد تم سب لوگوں کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے، یہ سچا وعدہ کر رکھا ہے، جو یقیناً پورا ہونے والا ہے، بیشک وہی پہلی بار نطفہ سے پیدا کرتا ہے، پھر وہی مرنے کے بعد بھی پیدا کرے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤ (اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًاط وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا ط) ” تم سب کا لوٹنا اسی کی جانب ہے۔ یہ وعدہ ہے اللہ کا سچا۔ “ (اِنَّہٗ یَبْدَؤُالْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ) ” وہی ہے جو خلق کا آغاز کرتا ہے ‘ پھر وہی اس کا اعادہ کر دے گا “ پہلے پہل کسی کام کا کرنا یا ابتدائی طور پر کسی چیز کو تخلیق کرنا مشکل ہوتا ہے جبکہ اس کا اعادہ کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ یہ ایک معقول اور منطقی بات ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہی نے یہ سب کچھ پیدا فرمایا ہے اور پہلی بار اسے اس تخلیق میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیونکر مشکل ہوجائے گا ! بہر حال وہ تمام انسانوں کو دوبارہ پیدا کرے گا : (لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بالْقِسْطِ ط) ” تاکہ وہ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے عمل کیے انصاف کے ساتھ۔ “ وہ اہل ایمان جنہوں نے اللہ اور اس کے دین کے لیے ایثار کیا ہے ‘ ان کی قربانیوں اور مشقتوں کے بدلے میں انہیں انعامات سے نوازا جائے گا اور ان کے ان اعمال کی پوری پوری قدر کی جائے گی۔ (وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَہُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِیْمٌم بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ ) ” اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے پینے کے لیے ہوگا کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ‘ اس کفر کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

8. The Prophet's teachings comprise two fundamental doctrines: (i) that God alone is man's Lord and hence man should worship Him, and (ii) that man is bound to return to his Lord in the Next Life wherein he will be made to render an account to his Lord. This particular verse focuses on the second of these two doctrines. 9. This Qur'anic statement combines the enunciation of a basic doctrine with its supporting argument. The doctrine that is being enunciated here is that God will resurrect man. This is supported by the argument that it is God Who brought about the creation in the first place. All those who believe that the original creation was an act of God can neither consider it impossible nor 10. The present verse sets forth the rationale of resurrection. The preceding verses had conclusively established that resurrection is possible, that there is no reasonable ground to dub it as a far-fetched idea. Drawing upon the above, the verse under consideration points out that the requirements of justice and reason can only be fulfilled by resurrection, and that this calls for a repetition of the original act of creation by God. The point that is being made here is that those who accept God as their One and the Only Lord and truly live in service and devotion to Him deserve to be fully rewarded for their righteous conduct. Likewise, those who reject the truth and act according to their own whim deserve to be duly punished for their unrighteous conduct. The present life is so constituted that reward and punishment are not being meted out and cannot be meted out in the manner described above. This is a plain fact, and one which is evident to all except those who are obstinate, This being the case, reason and justice demand fresh creation in order that such reward and punishment be meted out. (For further

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :8 یہ نبی کی تعلیم کا دوسرا بنیادی اصول ہے ۔ اصل اول یہ تمہارا رب صرف اللہ ہے لہٰذا اسی کی عبادت کرو ۔ اور اصل دوم یہ کہ تمہیں اس دنیا سے واپس جا کر اپنے رب کو حساب دینا ہے ۔ سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :9 یہ فقرہ دعوے اور دلیل دونوں کا مجموعہ ہے ۔ دعوی یہ ہے کہ خدا دوبارہ انسان کو پیدا کرے گا اور اس پر دلیل یہ دی گئی ہے کہ اسی نے پہلی مرتبہ انسان کو پیدا کیا ۔ جو شخص یہ تسلیم کرتا ہو کہ خدا نے خلق کی ابتدا کی ہے ( اور اس سے بجز ان دہریوں کے جو محض پادریوں کے مذہب سے بھاگنے کے لیے خلق بے خالق جیسے احمقانہ نظریے کو اوڑھنے پر آمادہ ہو گئے اور کون انکار کر سکتا ہے ) وہ اس بات کو ناممکن یا بعد از فہم قرار نہیں دے سکتا کہ وہی خدا اس خلق کا پھر اعادہ کرے گا ۔ سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :10 یہ وہ ضرورت ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ انسان کو دوبارہ پیدا کرے گا ۔ اوپر جو دلیل دی گئی ہے وہ یہ بات ثابت کرنے کے لیے کافی تھی کہ خلق کا اعادہ ممکن ہے اور اسے مستبعد سمجھنا درست نہیں ہے ۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ اعادہ خلق ، عقل و انصاف کی رو سے ضروری ہے اور یہ ضرورت تخلیق ثانیہ کے سوا کسی دوسرے طریقے سے پوری نہیں ہو سکتی ۔ خدا کو اپنا واحد رب مان کر جو لوگ صحیح بندگی کا رویہ اختیار کریں وہ اس کے مستحق ہیں کہ انہیں اپنے اس بےجا طرز عمل کی پوری پوری جزا ملے ۔ اور جو لوگ حقیقت سے انکار کر کے اس کے خلاف زندگی بسر کریں وہ بھی اس کے مستحق ہیں کہ وہ اپنے اس بے جا طرز عمل کا برا نتیجہ دیکھیں ۔ یہ ضرورت اگر موجودہ دنیوی زندگی میں پوری نہیں ہو رہی ہے ( اور ہر شخص جو ہٹ دھرم نہیں ہے جانتا ہے کہ نہیں ہو رہی ہے ) تو اسے پورا کرنے کے لیے یقینا دوبارہ زندگی ناگزیر ہے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ اعراف ، حاشیہ نمبر ۳۰ و سورہ ہود ، حاشیہ نمبر ۱۰۵ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤۔ منکرین حشر کی تنبیہ کے لئے فرمایا کہ یہ بھی یاد رکھو ایک نہ ایک روز سب کے سب خدا الٰہی کی طرف اکھٹے ہو کر آؤ گے پھر جیسے جس کے عمل ہوں گے ویسا اس کو اس کا بدلہ ملے گا ایمان والوں اور نیک عمل والوں کو ان کے عمل جیسا اور کافروں کو ان کے عمل جیسا ایمان والوں کو جنت کی نعمتیں نصیب ہوں گی اور منکر شریعت لوگوں کو کھولتا ہوا پانی پینے کو دیا جائے گا اور طرح طرح کے عذاب ہوں گے بعضے کافر یہ اعتراض کرتے تھے کہ جب سب کے سب مر کر خاک ہوجائیں گے ہڈیاں تک گھل کر خاک ہوجائیں گی تو پھر کیوں کر ویسے کا ویسا کوئی اٹھ کھڑا ہوگا اس کے جواب میں فرمایا (انہ یبدؤا الخلق ثم یعیدہ) جس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے پہلے پیدا کیا ہے وہی پھر دوبارہ بنادے گا جب کسی چیز کی کوئی بنیاد بھی نہ تھی تو اس نے بنا دیا پھر دوبارہ بنا دینا اس کے نزدیک کیا بڑی بات ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں دنیا کی پیدائش کا ذکر فرما کر اس آیت میں حشر کا ذکر فرمایا تاکہ عقلی تجربہ کے موافق ان منکرین حشر کی سمجھ میں یہ بات اچھی طرح سے آجاوے کہ جو کام ایک دفعہ کیا جا چکے تو پھر دوبارہ اس کا کیا جانا کچھ مشکل نہیں رہتا اسی طرح پیدا ہونے سے پہلے جیسے یہ لوگ نیست و نابود تھے مرنے کے بعد ویسے ہی ہوجاویں گے اور جس نے پہلی دفعہ ان کو نیست سے ہست کیا ہے وہی ان کو نیست سے ہست کر دے گا پھر یہ بھی سمجھایا کہ یہ دوبارہ پیدا کرنا اس انصاف کی بنا پر ہے کہ اس دوسرے جہاں میں نیک و بد کی جزا و سزا ہوجاوے کیوں کہ نیک و بد کو ایک حالت پر رکھنا بڑی ناانصافی ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس طرح میں نے انسان کو پہلی دفعہ پیدا کیا اسی طرح پھر اس کے دوبارہ پیدا کرنے کا ذکر میں نے اپنے کلام پاک میں کیا لیکن انسان نے حشر کا انکار کر کے میرے کلام پاک کو جھٹلایا۔ ١ ؎ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے نعمان بن بشیر (رض) کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس دوزخی پر سب سے کم عذاب ہوگا وہ یہ ہے کہ اس کے پاؤں میں آگ کی جوتیاں پہنا دی جاویں گی جس سے اس کا بھیجا پگل کر نکل پڑے گا۔ ٢ ؎ صحیح مسلم میں مغیرہ بن شعبہ (رض) کی روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عقبی میں ادنی درجہ کے اول جنت کو اس قدر سازو سامان دیا جاوے گا جو دنیا کی پانچ بادشاہتوں کے برابر ہوگا۔ ٣ ؎ ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان منکرین حشر کے ذمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے کلام کے جھٹلانے کا الزام ہے اور اس طرح کے ادنی درجہ کے ملزموں کو بھی قیامت کے دن جو عذاب بھگتنا پڑے گا وہ انسان کی برداشت سے باہر ہے پھر اعلیٰ درجہ کے ملزموں کے عذاب کا کیا ٹھکانا ہے اسی طرح جن لوگوں نے قرآن کی نصیحت پر عمل کر کے حشر کا کچھ سامان کرلیا ہے ان میں سے کم درجہ کے جنتیوں کو وہ سازو سامان دیا جاوے گا جو دنیا کی پانچ بادشاہتوں کے برابر ہوگا جس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اعلیٰ درجہ کے جنتیوں کا سازو سامان آدمی کی سمجھ سے باہر ہے۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ٤٥٣ ج ١ کتاب بدء الخلق۔ ٢ ؎ صحیح مسلم ص ١١٥ ج ١ باب شفاعتہ النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الخ و مشکوۃ ص ٥٠٢ باب صفۃ النار و اہلہا ٣ ؎ صحیح مسلم ص ٦۔ ١ ج ١ باب اثباب الشفاعۃ و اخراج الموحدین من النار۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:4) وعد اللہ۔ وعد۔ اسم ومصدر منصوب۔ مضاف الیہ مضاف الیہ (یہ) اللہ کا وعدہ (ہے) یہاں وعدہ سے مراد الیہ مرجعکم جمیعا ہے۔ حقا اسم ومصدر۔ وعدہ کی تاکید ہے وعد اللہ حقا۔ ای وعدکم اللہ ذلک وعدا حقا یہ ایک سچا وعدہ ہے جو اللہ نے تم سے کیا ہے۔ انہ یبدؤ الخلق۔ مضارع واحد مذکر غائب بدء مصدر (باب فتح) یہ جملہ مستانفہ (نیا) ہے وہ ابتدائی تخلیق کرتا ہے۔ یہاں مضارع بمعنی ماضی ہے۔ یعنی تخلیق اول اسی نے کی۔ یعیدہ۔ اس کو دہراتا ہے۔ اس کا اعادہ کرتا ہے۔ یعنی دوبارہ پیدا کرے گا۔ لوٹائے گا۔ بالقسط۔ ای بالعدل۔ عدل و انصاف کے ساتھ۔ حمیم۔ نہایت گرم پانی۔ گہرے دوست کو بھی حمیم کہتے ہیں۔ کہ اپنے دوست کی حمایت میں گرم ہوجاتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7۔ جو ذات تمہیں شروع میں پیدا کرتی ہے یعنی عدم سے وجودم میں لاتی ہے کیا اس کے لئے یہ مشکل ہے کہ تمہارے مرجانے کے بعد تمہیں دوبارہ زندگی دے۔ (کذافی ابن کثیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ ہی نے ساری کائنات اور انسان کو پیدا کیا وہی اس کائنات کو ملیا میٹ کرکے نئی صورت میں پیدا کرے گا۔ ہر انسان کو اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا اور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ ہر دور میں بیشمار ایسے لوگ رہے ہیں اور ہوں گے۔ جن کا یہ نظریہ ہے کہ کائنات کا نظام اسی طرح ہی چلتا رہتا ہے۔ انسان بھی مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے۔ ہندوؤں اور کچھ لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ کائنات کا نظام اس طرح چلتا رہے گا۔ مگر انسان جب مرجاتا ہے تو اس کی روح دنیا میں کسی دوسرے روپ میں پلٹ آتی ہے۔ جسے آواگون کا عقیدہ کہا جاتا ہے۔ آخرت کے منکرین میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ کائنات اور انسان بالآخر ختم ہوجائیں گے اور انسان کو دنیا میں ہی مکافات عمل کے اصول کے تحت جزا اور سزا مل جاتی ہے۔ اسی طرح یہ لوگ موت کے بعد زندہ ہونا اور اللہ کے حضور پیش ہونے کے عقیدہ کا انکار کرتے ہیں۔ جبکہ قرآن مجید اور تمام آسمانی کتابیں اور عقل سلیم اس بات پر متفق ہیں کہ ایک دن ضرور ایسا آئے گا اور اسے آنا چاہیے کہ جب برے کو اس کی برائی کے برابر اور نیک کو اس کی نیکی کا پورا پورا اجر دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں کتنے قاتل ہیں جنہیں عدالت ایک ہی دفعہ پھانسی دے سکتی ہے اور دوسرے مقتولوں کا بدلہ اور مظلوموں کو حق نہیں دلوا سکتی۔ اسی طرح انبیاء (علیہ السلام) ، صحابہ کرام (رض) اور مصلحین کس قدر محنت کرتے اور تکلیفیں اٹھاتے رہے۔ جن کا پورا اجر دنیا میں ملنا مشکل ہے۔ اس بنا پر آخرت کی حاضری اور اپنے اپنے اعمال کی جوابدہی کا عقیدہ رکھنا فرض ہے۔ یہی عقیدہ انسان میں نیکی کا شوق اور برائی کا خوف پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے ایمانیات میں بعثت بعد الموت کا تیسرا نمبر اور عقیدہ توحید کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہے۔ جو شخص آخرت کی حاضری اور حساب و کتاب کو نہیں مانتا۔ حقیقتاً وہ اللہ تعالیٰ کی دائمی خدائی اور اس کے جزا اور سزا کے نظام کا انکار کرتا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے قیامت برپا کرنا اللہ کا سچا وعدہ ہے کہ ہر کسی نے ضرور اس کے حضور پیش ہونا ہے۔ جہاں تک بعض لوگوں کے بوسیدہ خیالات کا تعلق ہے کہ انسان مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے۔ دوبارہ کس طرح انسان بنے گا اور پیدا ہوگا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس اللہ نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا۔ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے آسان ہے یا مشکل ؟ اور پھر سوچو کیا آدم کو مٹی سے نہیں پیدا کیا تھا۔ اللہ تمہارے باپ آدم کو پیدا کرسکتا ہے تو اس کی اولاد کو پیدا نہیں کرسکتا ؟ وہ تمہیں پیدا ہی نہیں کرے گا بلکہ اپنی عدالت میں پیش کرے گا۔ جہاں نیکوں کو ان کی نیکی کی جزا دے گا اور منکروں کو جہنم میں کھولتا ہوا پانی پلانے کے ساتھ انہیں اذیت ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ سوچ لو ! اللہ کی ذات اور اس کے احکام کا انکار کرنا بہتر ہے یا اقرار۔ (عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوْقَ إِلٰی أَھْلِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ‘ حَتّٰی یُقَاد للشَّاۃِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَاءِ ) [ رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ، باب تحریم الظلم ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں قیامت کے دن لوگوں کے حقوق ان کے مالکوں کو ادا کرنا پڑیں گے، یہاں تک کہ جس بکری کے سینگ نہیں ہیں اس کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ “ مسائل ١۔ سب نے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پہلی بار پیدا فرمایا اور وہی دوبارہ پیدا فرمائے گا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ایمان دار اور نیکی کرنے والے کو صلہ عطا فرمائے گا۔ ٥۔ کفار کو جہنم کے کھولتے ہوئے پانی کے ساتھ اذیت ناک عذاب دیا جائے گا۔ ٧۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دلائل : ١۔ قیامت قریب ہے۔ (الانبیاء : ١) ٢۔ قیامت کی ہولناکیاں بڑی سخت ہوں گی۔ (الحج : ١) ٣۔ قیامت قریب آگئی اور اس کے آنے کو اللہ کے سوا کوئی نہیں روک سکتا۔ (النجم : ٥٧۔ ٥٨) ٤۔ قیامت واقع ہوگی اس کے واقع ہونے کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ (الواقعۃ : ٢٠١) ٥۔ اللہ مخلوق کو دوبارہ لوٹائے گا تاکہ نیک و بد کو جزاو سزا مل سکے۔ (یونس : ٤) ٦۔ جس نے ذرہ برابر نیکی کی اسے اجر ملے گا۔ جس نے ذرہ برابر برائی کی اسے اس کی سزا ملے گی۔ (الزلزال : ٧۔ ٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

الیہ مرجعکم جمیعًا (مرنے کے بعد قیامت کے دن زندہ ہو کر) تم سب کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے۔ مرجع مصدر ہے یا ظرف مکان۔ وعد اللہ حقًا اللہ نے اس کا سچا وعدہ کر رکھا ہے۔ وعد اللہ مفعول مطلق ہے۔ اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ اللہ کی طرف سے وعدہ ہے ‘ اس وعدہ کی تاکید وعد اللہ کا لفظ کر رہا ہے۔ حقًّا بھی مفعول مطلق ہے اور اس مضمون کی تاکید کر رہا ہے جس پر وعد اللہ کا لفظ دلالت کر رہا ہے۔ گویا اول مفعول مطلق ہے تاکید لنفسہ کا اور دوسرا تاکید بغیرہ کا فائدہ دے رہا ہے۔ انہ یبدوا الخلق بلاشبہ وہی ابتدائی تخلیق کرتا ہے۔ یعنی یہ دنیوی زندگی وہی دیتا ہے۔ ثم یعیدہ پھر (موت دینے کے بعد آخرت میں) دوبارہ زندگی بھی وہی دے گا) ۔ لیجزی الذین امنوا وعملوا الصلحت بالقسط تاکہ جن مؤمنوں نے نیک کام کئے ‘ ان کو انصاف کے ساتھ جزاء عنایت کرے) اس صورت میں بالقسط سے مراد ہوگا اللہ کی طرف سے انصاف) یا قسط سے مراد ہے اہل ایمان کا عادل ہونا اور تمام امور میں عدل پر قائم رہنا۔ یا ایمان مراد ہے کیونکہ ایمان ہی سب سے بڑا عدل ہے ‘ جس طرح شرک ظلم عظیم ہے۔ مؤخر الذکر معنی مراد لینا ہی اس جگہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ آئندہ آیت میں کافروں کو کفر کی پاداش دئیے جانے کا ذکر ہے (اسلئے اوپر کی آیت میں اہل ایمان کو ان کے ایمان کی جزاء ملنے کا ذکر کیا جانا زیادہ مناسب ہے) ۔ والذین کفروا لھم شراب من حمیم و عذاب الیم بما کانوا یکفرون اور جن لوگوں نے کفر کیا ‘ ان کیلئے کفر کی سزا میں انتہائی کھولتا پانی اور درد رساں عذاب ہوگا۔ عبارت کی رفتار سے کافروں کا مستحق عذاب ہونا پرزور طور پر ظاہر ہو رہا ہے اور اس امر پر تنبیہ بھی مستفاد ہو رہی ہے کہ تخلیق اول و دوئم کی اصل غرض تو مؤمنوں کو ثواب دینا ہے ‘ کافروں کا عذاب تو بالواسطہ (ذیلی طور پر) ہوجائے گا ‘ گویا عذاب ایک بیماری ہے جو بداعتقادی اور بداعمالی سے پیدا ہوتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا) (اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے) (وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا) (اللہ نے وعدہ فرمایا ہے اس کا وعدہ حق ہے) اس کے علم میں قیامت کا جو وقت مقرر ہے اس وقت آجائے گی سب زندہ ہوجائیں گے پھر پشیمانیاں ہوں گی۔ حساب دینا ہوگا۔ قیامت کے آنے میں جو دیر لگ رہی ہے اس دیر کی وجہ سے کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ وہ نہیں آئے گی ‘ اللہ کا وعدہ سچا ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا (اِنَّ الْاٰخِرَۃَ وَعْدٌ صَادِقٌ یَحْکُمُ فِیْھَا مَلَکٌ عَادِلٌ قَادِرٌ) (بلاشبہ آخرت کا وعدہ سچا وعدہ ہے اس میں وہ بادشاہ فیصلے فرمائے گا جو عادل بھی ہے اور قادر بھی ہے۔ ) (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤٤٥) (اِنَّہٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ) یعنی بلاشبہ وہ ابتداءً مخلوق کو پیدا فرماتا ہے۔ پھر (موت دے کر) دوبارہ زندہ فرما دے گا۔ اس میں منکرین قیامت کے اس اشکال کا جواب ہے کہ قبروں میں جا کر ریزہ ریزہ ہوجانے کے بعد کیسے زندہ ہوں گے۔ ان لوگوں کو بتادیا کہ جس نے ابتداءً پیدا فرمایا وہی دوبارہ زندگی عطا فرمائے گا سورة روم میں فرمایا (وَھُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَھُوَ اَھْوَنُ عَلَیْہِ ) (اور وہی اول بار پیدا فرماتا ہے پھر دوبارہ زندگی دے گا اور وہ اس کے لئے زیادہ آسان ہے) ۔ یہ اعتراض کرنے والوں کی سمجھ کے اعتبار سے فرمایا ہے کہ جس نے پہلی بار پیدا فرمایا ہے اسے تو تمہاری سمجھ کے مطابق دوبارہ پیدا کرنا آسان ہونا چاہئے حالانکہ اس کے لئے ابتداء اور اعادہ قدرت کا ملہ کی وجہ سے دونوں برابر ہیں۔ اس کے بعد اہل ایمان واہل کفر کی جزا کا تذکرہ فرمایا (لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بالْقِسْطِ ) (تاکہ اللہ ان لوگوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے) (وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِیْمٌ م بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ ) (اور جن لوگوں نے کفر کیا انہیں کھولتا ہوا گرم پانی پینے کے لئے ملے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ کفر کرتے تھے) سورة محمد میں اس کھولتے ہوئے گرم پانی کے بارے میں فرمایا ہے (وَسُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَ ھُمْ ) (اور ان کو گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

12:“ اِلَیْهِ مَرْجِعُکُمْ الخ ” یہ ما بعد کے لیے تمہید ہے۔ مشرکین اگر مسئلہ توحید مان لیں تو ان کا فائدہ ہے کیونکہ ماننے والے اور نہ ماننے والے سب آخرت میں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں حاضر ہوں گے۔ “ لِیَجْزِيَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ ” لام برائے عاقبت ماننے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ “ بِالْقِسْطِ ” یعنی انصاف کے ساتھ۔ حرف جار “ لِیَجْزِيَ ” سے متعلق ہے۔ “ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ ” نہ مانے والوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

4 تم سب کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف واپس جانا ہے اور تم سب کی جائے رجوع اسی کے پاس ہے یہ وعدہ کیا ہے اللہ نے وعدہ سچا۔ بلاشبہ وہی مخلوق کو پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے اور وہی اس کو دوبارہ بھی قیامت میں پیدا کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کو انصاف کے ساتھ پورا صلہ عطا فرمائے اور جو لوگ کفر کرتے رہے ان کو سخت کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور ان کو سخت دردناک عذاب ہوگا۔ اس کفر و انکار کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے۔ یعنی واپس ہونا خدا کی طرف ضروری ہے۔ اول تو وہی پہلی بار اور دوسری بار پیدا کرنے والا ہے پھر اس کا وعدہ حق ہے نیز یہ کہ نیکودں کو ان کے اعمال کا صلہ اور منکروں کو ان کے انکار کی سزا ملنی ہے اور اس کے لئے حقیقی طور پر قیادت کا دن مقرر ہے۔ لتجزیٰ کل نفس بما تسعیٰ ط