Surat Younus

Surah: 10

Verse: 42

سورة يونس

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّسۡتَمِعُوۡنَ اِلَیۡکَ ؕ اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ وَ لَوۡ کَانُوۡا لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴۲﴾

And among them are those who listen to you. But can you cause the deaf to hear, although they will not use reason?

اور ان میں بعض ایسے ہیں آپ کی طرف کان لگائے بیٹھے ہیں کیا آپ بہروں کو سناتے ہیں گو ان کو سمجھ بھی نہ ہو؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah then said: وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ ... And among them are some who listen to you, They listen to your beautiful talk and to the Glorious Qur'an. They listen to your truthful, eloquent and authentic Hadiths that are useful to the hearts, the bodies and their faith. This is indeed a great benefit and is sufficient. But guiding the people to the truth is not up to you or to them. You cannot make the deaf hear. Therefore you cannot guide these people except if Allah wishes. ... أَفَأَنتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُواْ لاَ يَعْقِلُونَ but can you make the deaf to hear -- even though they apprehend not!

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

42۔ 1 یعنی ظاہری طور پر وہ قرآن سنتے ہیں، لیکن سننے کا مقصد طلب ہدایت نہیں، اس لئے انہیں، اسی طرح کوئی فائدہ نہیں ہوتا، جس طرح ایک بہرے کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ بالخصوص جب بہرا غیر عاقل بھی ہو، کیونکہ عقلمند بہرہ پھر بھی اشاروں سے کچھ سمجھ لیتا ہے۔ لیکن ان کی مثال تو غیر عاقل بہرے کی طرح ہے بالکل ہی بےبہرہ رہتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمِنْھُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ ۔۔ : پچھلی آیت (٤٠) کی ایک تفسیر کے مطابق کفار کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جو قرآن کے حق ہونے پر یقین رکھتے ہیں، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے اسے جھٹلا رہے ہیں اور ایک وہ جو عقل کے اندھے ہیں، جنھیں قرآن کے حق ہونے کا یقین ہی نہیں۔ دوسری تفسیر کے مطابق کچھ وہ کفار ہیں جو آئندہ ایمان لے آئیں گے، کچھ وہ جن کی قسمت میں یہ نعمت نہیں ہے۔ اس آیت میں کفار کی اس دوسری قسم کا ذکر ہے جن کی قسمت میں ایمان نہیں اور جنھوں نے ہر حال میں کفر پر اڑے رہنا ہے۔ فرمایا کہ ان میں سے کچھ لوگ آپ کی بات اور قرآن کی قراءت پر کان لگاتے ہیں مگر فائدہ نہیں اٹھا سکتے، کیونکہ حق سننے سے ان کے کان بہرے ہیں، پھر بہرے بھی اگر عقل رکھتے ہیں تو بات سمجھ جاتے ہیں مگر جو بہرے بھی ہوں اور عقل سے بھی خالی ہوں، آپ اپنی بات ان تک کیسے پہنچا سکتے ہیں۔ ” الصُّمَّ “ جمع ہے ” اَصَمُّ “ کی، یعنی بہرے۔ اسی طرح کچھ لوگ آپ کی طرف دیکھتے ہیں، اگر کوئی عبداللہ بن سلام (رض) جیسا سعادت مند ہو تو چہرہ دیکھ کر ہی پہچان لیتا ہے کہ یہ جھوٹے شخص کا چہرہ نہیں ہوسکتا۔ [ ترمذی : ٢٤٨٥۔ ابن ماجہ : ١٣٣٤ ] مگر جو جان بوجھ کر اندھا بن جائے اور دل کا بھی اندھا ہو، کیا آپ اسے راہ راست پر لاسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ ” اَفَاَنْتَ تَهْدِي الْعُمْيَ وَلَوْ كَانُوْا لَا يُبْصِرُوْنَ “ میں ” اَلْعُمْیُ “ ” اَعْمٰی “ کی جمع ہے، مراد آنکھوں کا اندھا ہونا اور ” لَایُبْصِرُوْن “ میں مراد بصارت نہیں بلکہ بصیرت کا نہ ہونا ہے، تاکہ تکرار لازم نہ آئے۔ ایسے لوگوں کو اندھے و بہرے کے علاوہ مردہ بھی کہا گیا ہے، فرمایا : (اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى ) [ النمل : ٨٠ ] ” بیشک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔ “ مقصد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے کہ ایسے لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ پریشان خاطر یا دل برداشتہ نہ ہوں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنْھُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ۝ ٠ ۭ اَفَاَنْتَ تُسْمِـــعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُوْا لَا يَعْقِلُوْنَ۝ ٤٢ اسْتِمَاعُ : الإصغاء نحو : نَحْنُ أَعْلَمُ بِما يَسْتَمِعُونَ بِهِ ، إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [ الإسراء/ 47] ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ [ محمد/ 16] ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [يونس/ 42] ، وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ [ ق/ 41] ، وقوله : أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] ، أي : من الموجد لِأَسْمَاعِهِمْ ، وأبصارهم، والمتولّي لحفظها ؟ والْمِسْمَعُ والْمَسْمَعُ : خرق الأذن، وبه شبّه حلقة مسمع الغرب «1» . اسمامع اس کے معنی غور سے سننے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ نَحْنُ أَعْلَمُ بِما يَسْتَمِعُونَ بِهِ ، إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [ الإسراء/ 47] ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس سے یہ سنتے ہیں ۔ ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔ وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ [ محمد/ 16] اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو تمہاری ( باتوں کی) طرف کان رکھتے ہیں ۔ وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [يونس/ 42] اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں ۔ وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ [ ق/ 41] اور سنو ( ن پکارنے والا پکارے گا ۔ اور آیت : ۔ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] یا ( تماہرے ) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے ۔ یعنی ان کا پیدا کرنے والا اور ان کی حفاظت کا متولی کون ہے ۔ اور مسمع یا مسمع کے معنی کان کے سوراخ کے ہیں اور اسی کے ساتھ تشبیہ دے کر ڈول کے دستہ کو جس میں رسی باندھی جاتی ہے مسمع الغرب کہا جاتا ہے صمم الصَّمَمُ : فقدانُ حاسّة السّمع، وبه يوصف من لا يُصغِي إلى الحقّ ولا يقبله . قال تعالی: صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] ، ( ص م م ) الصمم کے معیم حاصہ سماعت ضائع ہوجانا کے ہیں ( مجاز) اس کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوتا ہے جو نہ تو حق کی آواز سنے اور نہ ہی اسے قبول کرے ( بلکہ اپنی مرضی کرتا چلا جائے ) قرآن میں ہے : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں ۔ عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٢) اور ان یہود میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ظاہرا آپ کے کلام اور گفتگو سنتے ہیں یا یہ کہ ان مشرکین عرب میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ظاہرا آپ کے کلام اور گفتگو کو سنتے ہیں، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ بہروں کو سناتے ہیں جو سمجھنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ کَانُوْا لاَ یَعْقِلُوْنَ ) یہ لوگ تو پہلے سے ہی نہ سننے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں ‘ اس لیے ان کے کان حق کی طرف سے بہرے ہوچکے ہیں۔ ان کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتوں کو سننا صرف دکھاوے کا سننا ہے تاکہ دوسرے لوگوں کو بتاسکیں کہ ہاں جی ہم تو محمد کی محفل میں بھی جاتے ہیں ‘ ساری باتیں بھی سنتے ہیں مگر ان میں ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں جسے ماناجائے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

50. In its most elementary sense even animals are possessed of the faculty of hearing. But 'hearing' in its true sense is applicable only when the act of hearing is accompanied with the attention required to grasp the meaning of what one hears, and with the readiness to accept it if it is found reasonable. Those who have fallen prey to prejudices, who have made up their minds that they will not hear, let alone accept anything, howsoever reasonable it might be, if it goes against their inherited beliefs and behaviour-patterns, or is opposed to living a life of heedlessness, as the animals do, or who focus all their attention on the gratification of their palate, or who recklessly pursue their lusts in total disregard of all consideration of right and wrong may also be rightly characterized as incapable of hearing. Such people are not deaf of hearing, but their minds and hearts are certainly deaf to the truth.

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :50 ایک سننا تو اس طرح کا ہوتا ہے جیسے جانور بھی آواز سن لیتے ہیں ۔ دوسرا سننا وہ ہوتا ہے جس میں معنی کی طرف توجہ ہو اور یہ آمادگی پائی جاتی ہو کہ بات اگر معقول ہوگی تو اسے مان لیا جائے گا ۔ جو لوگ کسی تعصب میں مبتلا ہوں ، اور جنہوں نے پہلے سے فیصلہ کر لیا ہو کہ اپنے موروثی عقیدوں اور طریقوں کے خلاف اور اپنے نفس کی رغبتوں اور دلچسپیوں کے خلاف کوئی بات ، خواہ وہ کیسی ہی معقول ہو ، مان کر نہ دیں گے ، وہ سب کچھ سن کر بھی نہیں سنتے ۔ اسی طرح وہ لوگ بھی کچھ سن کر نہیں دیتے جو دنیا میں جانوروں کی طرح غفلت کی زندگی بسر کر تے ہیں اور چرنے چگنے کے سوا کسی چیز سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ، یا نفس کی لذتوں اور خواہشوں کے پیچھے ایسے مست ہوتے ہیں کہ انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ ہم یہ جو کچھ کر رہے ہیں یہ صحیح بھی ہے یا نہیں ۔ ایسے لوگ کانوں کے تو بہرے نہیں ہوتے مگر دل کے بہرے ہوتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:42) یستمعون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ استماع (افتعال) سے وہ سنتے ہیں۔ وہ کان لگا کر سنتے ہیں۔ تسمع۔ اسماع (افعال) سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ تو سناتا ہے۔ تو سنائے گا۔ الصم۔ جمع ۔ اس کا واحد اصم ہے۔ اس کی مؤنث واحد صماء ہے۔ دونوں کی جمع صم و صمان ہے دم یصم صمما وصما اونچا سننا۔ بالکل نہ سننا۔ بہرہ ہونا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ اوپر بتایا کہ کفار دو قسم کے ہیں جو باطن میں یقین رکھتے ہیں اور جو یقین نہیں رکھتے۔ اور جو یقین نہیں رکھتے ان میں بعض تو ایسے ہیں جو بظاہر کان لگا کر ہمارا کلام سنتے ہیں مگر درحقیقت یہ بہرے ہیں کیونکہ ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ (کبیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ومنھم من یستمعون الیک اور ان میں سے کچھ لوگ آپ کی طرف (بظاہر) کان لگاتے ہیں۔ جب آپ قرآن پڑھتے ہیں اور حکمت و شریعت کی باتیں کرتے ہیں تو بظاہر کان لگا کر سنتے ہیں لیکن دل کے کانوں سے نہیں سنتے ‘ دلوں سے توجہ نہیں کرتے۔ حکمت و شریعت کی حقیقت کو اپنی استعداد کی خرابی کی وجہ سے نہیں سمجھتے ‘ گویا وہ ایسے پیٹ بھرے ہیں جو کان لگاتے ہیں اور شنوائی کی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے سن نہیں پاتے۔ افانت تسمع الصم ولو کانوا لا یعقلون۔ تو کیا آپ بہروں کو سنا دیں گے جبکہ وہ بےسمجھ بھی ہوں۔ اگر بہرے کے پاس سمجھ ہو تو قرائن کی وجہ سے وہ کچھ سمجھ بھی لیتا ہے اور بےسمجھ بہرا ہو تو وہ کچھ نہیں سمجھ سکتا۔ پس جس طرح بےعقل بہرے کو آپ نہیں سنا سکتے ‘ ایسے ہی ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو گوش دل سے سننے اور فکر و نظر سے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

تکذیب کرنے والوں کی بےحسی ‘ قیامت کا منظر ‘ دنیا میں عذاب آنے کی وعید گزشتہ آیات میں مکذبین اور معاندین کا ذکر تھا ‘ ان آیات میں ان کے مزید عناد اور تکذیب کا تذکرہ فرمایا۔ اَوَّلًا تو یہ فرمایا کہ ان میں بعض ایسے لوگ ہیں جو بظاہر آپ کی طرف کان لگا کر بیٹھتے ہیں لیکن ان میں نہ حق طلبی ہے نہ ایمان لانے کا ارادہ ہے۔ ان کا سننا اور نہ سننا برابر ہے۔ لہٰذا ان کی حالت بہرے انسانوں کی طرح ہوگئی۔ جیسے بہروں کو سنانا فائدہ مند نہیں ہوسکتا اسی طرح ان کو سنانا اور نہ سنانا برابر ہے۔ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ بہروں کی مانند ہیں بلکہ سمجھ سے بھی محروم ہیں۔ انہیں کان لگانے والوں کی طرح وہ لوگ ہیں جو آپ کی طرف دیکھتے ہیں ان کا ارادہ بھی حق کے قبول کرنے کا نہیں۔ لہٰذا دیکھا ان دیکھا ان کے نزدیک برابر ہے۔ اندھوں میں اور ان میں کوئی فرق نہیں ‘ آپ اندھوں کو کیسے ہدایت دیں گے۔ حالانکہ وہ دیکھ نہیں رہے۔ اس مضمون کو سورة انفال میں یوں بیان فرمایا (وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ) (اور تم لوگ ان لوگوں میں سے نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

59: یہ بھی زجر ہے۔ منکرین میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو ظاہری کانوں سے تو آپ کی باتیں اور آپ کی تلاوت سنتے ہیں۔ مگر ان کے دلوں میں انابت نہیں اور یہ باتیں ان کے دلوں میں نہیں اترتیں۔ “ اَ فَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الخ ” یہ استفہام انکاری ہے اور “ الصُّمَّ ” (بہروں) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دلوں مہر جباریت کی بنا پر ماننے کی استعداد سلب کرلی گئی ہو اور اس کے ساتھ وہ عقل و فکر سے بھی محروم ہوں یعنی جن لوگوں کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے ان کو راہ راست پر لانا آپ کے اختیار میں نہیں۔ “ و جعلھم کالصم للختم علی قلوبھم والطبع علیھا اي لا تقدر علی ھدایة من اصمه اللہ عن سماع الھدي ” قرطبی)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

42 اور اس میں سے بعض وہ ہیں جو بظاہر آپ کی جانب خوب کان لگا کر بیٹھے ہیں اور آپ کا کلام خوب کان لگا کر سنتے ہیں تو کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں اگرچہ وہ سمجھ بوجھ نہ رکھتے ہوں یعنی حق کے قبول کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تو ان کا سننا ایسا ہی ہے جیسے کسی بہرے کو آپ سنا رہے ہیں مزید برآں یہ کہ بہرہ بھی بےعقل ہو اگر عقل ہوتی تو قرینے اور قیاس سے ہی کچھ سمجھ لیتا۔