Surat Younus

Surah: 10

Verse: 65

سورة يونس

وَ لَا یَحۡزُنۡکَ قَوۡلُہُمۡ ۘ اِنَّ الۡعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا ؕ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۶۵﴾

And let not their speech grieve you. Indeed, honor [due to power] belongs to Allah entirely. He is the Hearing, the Knowing.

اورآپ کو ان کی باتیں غم میں نہ ڈالیں تمام تر غلبہ اللہ ہی کے لئے ہے وہ سنتا جانتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

All Might and Honor is for Allah -- He Alone has Full Authority within the Universe Allah said to His Messenger, وَلاَ يَحْزُنكَ قَوْلُهُمْ ... Do not grieve over their speech, Do not grieve because of the remarks of these idolators, and depend on Allah and ask for His help. Put your trust in Him. ... إِنَّ الْعِزَّةَ لِلّهِ جَمِيعًا ... For all power and honor belong to Allah. All might and honor belong to Him, His Messenger and the believers. ... هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ He is the All-Hearer, the All-Knower. He hears the utterances of His servants and knows their affairs.

عزت صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے ان مشرکوں کی باتوں کا کوئی رنج و غم نہ کر ۔ اللہ تعالیٰ سے ان پر مدد طلب کر اس پر بھروسہ رکھ ، ساری عزتیں اسی کے ہاتھ میں ، وہ اپنے رسول کو اور مومنوں کو عزت دے گا ۔ وہ بندوں کی باتوں کو خوب سنتا ہے وہ ان کی حالتوں سے پورا خبردار ہے ۔ آسمان و زمین کا وہی مالک ہے ۔ اس کے سوا جن جن کو تم پوجتے ہو ان میں سے کوئی کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا کوئی نفع نقصان ان کے بس کا نہیں ۔ پھر ان کے عبادت بھی محض بےدلیل ہے ۔ صرف گمان ، اٹکل ، جھوٹ اور افترا ہے ۔ حرکت ، رنج و تعب ، تکلیف اور کام کاج سے راحت و آرام سکون و اطمینان حاصل کرنے کے لیے اللہ نے رات بنا دی ہے ۔ دن کو اس سے روشن اور اجالے والا بنا دیا ہے تاکہ تم اس میں کام کاج کرو ۔ معاش اور روزی کی فکر ، سفر تجارت ، کاروبار کر سکو ، ان دلیلوں میں بہت کچھ عبرت ہے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو ان آیتوں کو دیکھ کر ان خالق کی عظمت و جبروت کا تصور باندھتے اور اس خالق و مالک کی قدر عزت کرتے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٠] اولیاء اللہ کے بعد اب ساتھ ہی اعداء اللہ کا ذکر فرمایا جو حق کا انکار کرتے تھے پیغمبر اسلام اور مسلمانوں پر پھبتیاں کستے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اور انھیں تکلیفیں پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے تھے اس آیت میں پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کو یہ کہہ کر تسلی دی جارہی ہے کہ غلبہ، قوت، اقتدار اور عزت تو سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تمہیں کبھی اس حال میں نہ رہنے دے گا بلکہ ایسے حالات پیدا کردے گا کہ منکرین حق ذلیل اور رسوا ہوں اور عزت اور غلبہ اہل حق کو نصیب ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَا يَحْزُنْكَ قَوْلُھُمْ ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کی دنیا اور آخرت کی سعادت بیان کرنے کے بعد اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی کہ دشمنوں کی باتوں، مثلاً جادوگر، دیوانہ اور کذاب وغیرہ کہنے سے آپ کو جو تکلیف پہنچی ہے اس سے آپ غم زدہ نہ ہوں۔ غم اگرچہ ایک طبعی چیز ہے مگر آپ نہ بددل ہوں نہ مایوس، کیونکہ عزت یعنی غلبہ، اقتدار اور فتح تو سب اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہی جسے چاہے غالب اور جسے چاہے مغلوب کرتا ہے، لہٰذا آپ کو ان کافروں کی دھمکیوں، ان کے کفر و شرک اور طعن و تشنیع سے رنجیدہ خاطر ہونے کی ضرورت نہیں، آپ اللہ کے رسول ہیں، آخر کار غلبہ اور اقتدار آپ کو اور آپ کے پیش کردہ دین ہی کو حاصل ہوگا۔ نیز دیکھیے سورة مجادلہ (٢١) اور منافقون (٨) ۔ ھُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ : وہ ان کی فضول باتیں سن رہا ہے اور آپ کے ساتھ ان کا سلوک بھی خوب جانتا ہے، وہ جلد ہی آپ کے مخالفین سے نپٹ لے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر اور آپ کو ان کی باتیں غم میں نہ ڈالیں (یعنی ان کے کفریات سے مغموم ہوں کیونکہ علم و حفاظت مذکورہ کے علاوہ) تمام تر غلبہ ( اور قدرت بھی) خدا ہی کے لئے ( ثابت) ہے ( وہ اپنی قدرت سے حسب وعدہ آپ کی حفاظت کرے گا) وہ ( ان کی باتیں) سنتا ہے ( اور ان کی حالت) جانتا ہے ( وہ آپ کا بدلہ ان سے خود لے لے گا) یاد رکھو کہ جتنے کچھ آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں ( یعنی فرشتے اور جن و انس) یہ سب اللہ ہی کے ( مملوک) ہیں ( اس کی حفاظت یا مکافات کو کوئی روک نہیں سکتا پس باہمہ وجوہ تسلی رکھنا چاہئے) اور ( اگر کسی کو شبہ ہو کہ شاید شرکاء مزاحمت کرسکیں تو اس کی حقیقت سن لو کہ) جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے شرکاء کی عبادت کر رہے ہیں ( خدا جانے) کس چیز کا اتباع کر رہے ہیں ( یعنی ان کے اس عقیدہ کی کیا دلیل ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ کچھ بھی دلیل نہیں) محض بےسند خیال کا اتباع کر رہے ہیں اور محض خیالی باتیں کر رہے ہیں ( پس واقع میں ان میں صفات الوہیت کے مثل علم وقدرت وغیرہ نہیں ہیں پھر ان میں احتمال مزاحمت کی کب گنجائش ہے) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَا يَحْزُنْكَ قَوْلُھُمْ۝ ٠ ۘ اِنَّ الْعِزَّۃَ لِلہِ جَمِيْعًا۝ ٠ ۭ ھُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۝ ٦٥ عز العِزَّةُ : حالةٌ مانعة للإنسان من أن يغلب . من قولهم : أرضٌ عَزَازٌ. أي : صُلْبةٌ. قال تعالی: أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً [ النساء/ 139] ( ع ز ز ) العزۃ اس حالت کو کہتے ہیں جو انسان کو مغلوب ہونے سے محفوظ رکھے یہ ارض عزاز سے ماخوذ ہے جس کے معنی سخت زمین کے ہیں۔ قرآن میں ہے : ۔ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً [ النساء/ 139] کیا یہ ان کے ہاں عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ عزت تو سب خدا ہی کی ہے ۔ جمع الجَمْع : ضمّ الشیء بتقریب بعضه من بعض، يقال : جَمَعْتُهُ فَاجْتَمَعَ ، وقال عزّ وجل : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] ، وَجَمَعَ فَأَوْعى [ المعارج/ 18] ، جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] ، ( ج م ع ) الجمع ( ف ) کے معنی ہیں متفرق چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ملا دینا ۔ محاورہ ہے : ۔ چناچہ وہ اکٹھا ہوگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے ۔ ( مال ) جمع کیا اور بند رکھا ۔ جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، وذلک ضربان : أحدهما : إدراک ذات الشیء . والثاني : الحکم علی الشیء بوجود شيء هو موجود له، أو نفي شيء هو منفيّ عنه . فالأوّل : هو المتعدّي إلى مفعول واحد نحو : لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] . والثاني : المتعدّي إلى مفعولین، نحو قوله : فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [ الممتحنة/ 10] ، وقوله : يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ إلى قوله : لا عِلْمَ لَنا «3» فإشارة إلى أنّ عقولهم طاشت . والعِلْمُ من وجه ضربان : نظريّ وعمليّ. فالنّظريّ : ما إذا علم فقد کمل، نحو : العلم بموجودات العالَم . والعمليّ : ما لا يتمّ إلا بأن يعمل کالعلم بالعبادات . ومن وجه آخر ضربان : عقليّ وسمعيّ ، وأَعْلَمْتُهُ وعَلَّمْتُهُ في الأصل واحد، إلّا أنّ الإعلام اختصّ بما کان بإخبار سریع، والتَّعْلِيمُ اختصّ بما يكون بتکرير وتكثير حتی يحصل منه أثر في نفس المُتَعَلِّمِ. قال بعضهم : التَّعْلِيمُ : تنبيه النّفس لتصوّر المعاني، والتَّعَلُّمُ : تنبّه النّفس لتصوّر ذلك، وربّما استعمل في معنی الإِعْلَامِ إذا کان فيه تكرير، نحو : أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] ، ( ع ل م ) العلم کسی چیش کی حقیقت کا اور راک کرنا اور یہ قسم پر ہے اول یہ کہ کسی چیز کی ذات کا ادراک کرلینا دوم ایک چیز پر کسی صفت کے ساتھ حکم لگانا جو ( فی الواقع ) اس کے لئے ثابت ہو یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی کرنا جو ( فی الواقع ) اس سے منفی ہو ۔ پہلی صورت میں یہ لفظ متعدی بیک مفعول ہوتا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے : ۔ لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ۔ اور دوسری صورت میں دو مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [ الممتحنة/ 10] اگر تم کا معلوم ہو کہ مومن ہیں ۔ اور آیت يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَاسے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے ہوش و حواس قائم نہیں رہیں گے ۔ ایک دوسری حیثیت سے علم کی دوقسمیں ہیں ( 1) نظری اور ( 2 ) عملی ۔ نظری وہ ہے جو حاصل ہونے کے ساتھ ہی مکمل ہوجائے جیسے وہ عالم جس کا تعلق موجودات عالم سے ہے اور علم عمل وہ ہے جو عمل کے بغیر تکمیل نہ پائے جسیے عبادات کا علم ایک اور حیثیت سے بھی علم کی دو قسمیں ہیں ۔ ( 1) عقلی یعنی وہ علم جو صرف عقل سے حاصل ہو سکے ( 2 ) سمعی یعنی وہ علم جو محض عقل سے حاصل نہ ہو بلکہ بذریعہ نقل وسماعت کے حاصل کیا جائے دراصل اعلمتہ وعلمتہ کے ایک معنی ہیں مگر اعلام جلدی سے بتادینے کے ساتھ مختص ہے اور تعلیم کے معنی با ر بار کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں ۔ حتٰی کہ متعلم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہوجائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ تعلیم کے معنی تصور کیلئے نفس کو متوجہ کرنا کے ہیں اور تعلم کے معنی ایسے تصور کی طرف متوجہ ہونا کے اور کبھی تعلیم کا لفظ اعلام کی جگہ آتا ہے جب کہ اس میں تاکید کے معنی مقصود ہوں جیسے فرمایا ۔ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو ۔ اور حسب ذیل آیات میں تعلیم کا لفظ استعمال ہوا ہے جیسے فرمایا ۔ الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] خدا جو نہایت مہربان اس نے قرآن کی تعلیم فرمائی ۔ قلم کے ذریعہ ( لکھنا ) سکھایا ؛

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٥) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاص طور پر آپ کو ان لوگوں کا جھٹلانا غم میں نہ ڈالے، ان کو ہلاک کرنے کی تمام تر قدرت اور غلبہ اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے، وہ ان کی باتیں سنتا اور ان کی حالت اور ان کے انجام کو جانتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٥۔ ٦٧۔ مشرکین مکہ حضرت رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلاتے تھے اور طرح طرح سے آپ کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر طعن کرتے تھے اس سے حضرت کو ایک قسم کا ملام ہوا کرتا تھا اس واسطے اللہ پاک نے یہ آیت اتاری اور آپ کو تسکین دی کہ ان مشرکوں کی باتوں کا آپ خیال نہ فرمائیں۔ کیوں کہ ہر طرح کی عزت خدا ہی کو حاصل ہے اور وہ ہر شخص کے قول و فعل کو سنتا اور دیکھتا ہے یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ پھر تسلی کے بعد اس بات کی بشارت دی کہ خدا تمہاری مدد کرے گا کیونکہ زمین و آسمان میں جتنی چیزیں بےجان یا جاندار ہیں ان سب کا مالک اکیلا خدا ہی ہے اس میں کسی کی شراکت ذرہ برابر بھی نہیں ہے یہ مشرکین اپنے جن معبودوں کو پوجتے ہیں ان پر بھی خدا کا پورا پورا قبضہ ہے اور مشرکین محض اپنے وہم کے پیرو ہیں کہاں کی شفاعت اور کیسے جھوٹے معبود اس کے بعد فرمایا کہ خدا نے رات بنائی اور دن پیدا کیا دن کی روشنی میں لوگ اپنی اپنی روزی کی تلاش میں نکلتے ہیں آدمی اپنی ضروریات دن کے وقت رفع کرتے چلتے پھرتے رہتے ہیں راتوں کے تھکے ماندے آکر آرام کرتے ہیں جو لوگ غور کرنے والے ان کے واسطے یہ بہت بڑی نشانیاں ہیں ایک یہ نشانی ہے کہ جس نے انسان کو اور انسان کی ان سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا تعظیم کے قابل وہی ہے ان بتوں کو اس کی تعظیم میں شریک ٹھہرانے کا کسی کو کوئی حق نہیں ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر بردبار کون ہوسکتا ہے کہ لوگ اس کی تعظیم اور عبادت میں اوروں کو شریک کرتے ہیں اور وہ ان کی راحت ان کے رزق کے انتظام میں کچھ خلل نہیں ڈالتا۔ ١ ؎ یہ حدیث آیتوں کی گویا تفسیر ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی بردباری اس کی قدرت اور مشرکوں کی ناشکری سرکشی اور وہم و خیال کی پیروی کی تفصیل اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ ١ ؎ مشکوٰۃ ص ١٢ کتاب الایمان

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:65) العزۃ۔ عزت۔ سرفرازی۔ غلبہ۔ قدرت ۔ بزرگی۔ اقبال۔ عزیعز کا مصدر ہے بطور اسم بھی مستعمل ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 ۔ عزت یعنی غلبہ، اقتدار اور فتحمندی۔ مطلب یہ ہے کہ جب غلبہ و اقتدار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی جسے چاہے غالب اور جسے چاہے مغلوب کرتا ہے۔ تو ان کافروں کی دھمکیوں، ان کے کفر و شرک اور طعن وتشنیع سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رنجیدہ خاطر ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ آخر کار غلبہ اور اقتدار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور آپو کے پیش کردہ دین کو ہی حاصل ہوگا۔ نیز دیکھئے سورة مجادلہ آیات 12 سورة منافقون آیت 8 ۔ (کبیر، شوکانی) ۔ 11 ۔ وہ عنقریب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخالفین سے مجھ لے گا۔ (کبیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ وہ اپنی قدرت سے حسب وعدہ آپ کی حفاظت کرے گا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اولیاء اللہ کو آخرت کے خوف و خطر، غم اور پریشانی سے محفوظ رہنے کی خوشخبری دینے کے بعد بالخصوص رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کو دشمنوں اور ان کی ہرزہ سرائی سے غم زدہ اور دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ آپ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اور اس کے محبوب ہیں۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کی اصلاح اور فلاح کے لیے دن رات جدوجہد کررہے تھے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ آپ کا اخلاص اور کردار دیکھ کر منکرین حق اسلام کی سچائی اور نبی کی نبوت پر ایمان لاتے۔ لیکن انہوں نے صحیح اور فطری راستے کو چھوڑ کر نہ صرف کفرو شرک اور نبی کی بغاوت کا راستہ اختیار کیا بلکہ انہوں نے آپ کو پریشان اور ناکام کرنے کے لیے گھٹیا سے گھٹیا ترین سلوک کرنا اپنے لیے باعث فخر سمجھا۔ آپ کی مقدس ذات پر بد ترین الزامات لگائے۔ دانشوروں کے رہبر اور پیشوا ہونے کے باوجود آپ کو پاگل کہا گیا، کائنات کے سب سے بڑے خیر خواہ کو مجنون اور لوگوں کا دشمن قرار دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر والوں کو ہراساں کیا گیا اور آپ کے ساتھیوں پر بےانتہا مظالم ڈھائے گئے۔ جن پر آپ کا پریشان ہونا طبعی اور فطری بات تھی مگر اس کے باوجود آپ کو حوصلہ دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے رحمت عالم آپ کو غمگین اور آزردہ نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ عزت و اقبال کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی کے اختیار میں عزت و سر بلندی اور کائنات کے اسباب و وسائل ہیں وہ ہر بات سننے والا اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس فرمان میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حوصلہ دینے کے ساتھ خوشخبری سنائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دشمنوں کو ناکام کرے گا۔ آپ کو دنیا اور آخرت میں ایسی عزت و شرف سے سرفراز فرمائے گا۔ جس کا کوئی شخص تصور بھی نہیں کرسکتا۔ چناچہ دنیا جانتی ہے کہ جو احترام و مقام اور عزت و سرفرازی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نصیب ہوئی وہ قیامت تک کسی کے مقدر کا حصہ نہیں بن سکتی اور قیامت کے دن آپ کو وہ مرتبہ اور شان دی جائے گی۔ جو آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کسی کے حصہ میں نہیں آئے گی۔ سورة المنافقون میں فرمایا کہ عزت ” اللہ “ اور رسول اور مومنوں کے لیے لیکن منافق نہیں سمجھتے۔ حیات مبارکہ میں سب سے بڑی پریشانی : غز وہ احد کے موقعہ پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دانت مبارک شہید ہوئے۔ پیشانی پر گہرا زخم آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بےہوش کر گرپڑے۔ حضرت عائشہ (رض) نے نہایت غم کا اظہار کرتے ہوئے عرض کی کہ کیا اس سے بڑھ کر آپ کو کبھی کوئی تکلیف پہنچی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے سب سے زیادہ تکلیف طائف میں پہنچی تھی۔ اس موقعہ پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا کی : (اَللَّہُمَّ إلَیْکَ أشْکُوْ ضَعْفِ قُوَّتِیْ ، وَقِلَّۃِ حِیْلَتِیْ ، وَہَوَإنِیْ عَلَیْ النَّاسِ ، یَا أرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ، أنْتَ رَبِّ المُسْتَضْعَفِیْنَ ، وَأنْتَ رَبِّیْ ، إلیٰ مَنْ تَکِلُنِیْ ؟ إلیٰ بَعِیْد یَتَجَہَّمُنِیْ ؟ أمْ إلیٰ عَدُوِّ مَلَکْتَہٗ أمْرِیْ ؟ إنْ لَّمْ یَکُنْ بِکَ عَلیَّ غَضَب فَلَا أُبَالِیْ ، وَلٰکِنْ عَافِیَتُکَ ہِیَ أوْسَعُ لِیْ ، أعُوْذُ بِنُوْرِ وَجْہِکَ الَّذِیْ أشْرَقْتَ لَہٗ الظُّلُمَاتِ ، وَصَلِّحْ عَلَیْہِ أَمْرَ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃُ مَنْ أنْ تُنَزِّلَ بِیْ غَضْبُکَ ، أوْ یَحِلُّ عَلَیَّ سَخَطُکَ ، لَکَ العُتْبَی حَتّٰی تَرْضٰی، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إلَّا بکَ ) [ الرحیق المختوم ] ” اے اللہ میں شکایت کرتا ہوں اپنی کمزوری کا اور وسائل کی کمی کا اور لوگوں کے مقابلے میں کمزور ہونے کا، اے رحم کرنے والے، آپ کمزوروں کے رب ہیں اور آپ میرے رب ہیں تو مجھے کس کے سپرد کرتا ہے دوری کی طرف جو مجھے غصہ میں مبتلا کر دے یا دشمن کی طرف جس کو تو نے میرے معاملے کا مالک بنایا اگر تو مجھ پر ناراض نہیں تو مجھے کوئی پروا نہیں لیکن تیری عافیت مجھے درکار ہے میں پناہ چاہتا ہوں تیرے چہرے کے نور سے جس کے ساتھ تو نے اندھیروں کو جلا بخشی اور اسی کے ساتھ دنیا اور آخرت کا معاملہ درست ہوا۔ اس چیز سے کہ مجھ پر تیرا غضب نازل ہو۔ یا تیری ناراضگی مجھ پر حلال ہو۔ تیرے ہی لیے دونوں جانب ہیں یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے تیری توفیق کے بغیر نیکی کی طاقت اور گناہوں سے بچا نہیں جاسکتا۔ “ مسائل ١۔ کفار کی باتوں سے غم زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ٢۔ عزت وسطوت اللہ کے لیے ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے اور ہر بات کو سننے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن عزت اور ذلت اللہ کے اختیار میں ہے : ١۔ ہر قسم کی عزت اللہ کے لیے ہے وہ سننے اور جاننے والا ہے۔ (یونس : ٦٥) ٢۔ اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ (آل عمران : ٢٦) ٣۔ عزت اللہ ہی کے پاس ہے۔ (فاطر : ١٠) ٤۔ کیا اللہ کے ماسوا عزت تلاش کرتے ہو حالانکہ ہر قسم کی عزت اللہ ہی کے پاس ہے۔ (النساء : ١٣٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولا یحزنک قولھم ان کا قول آپ کو رنجیدہ نہ کرے (آپ ان کی باتوں سے غمگین نہ ہوں) قول سے مراد ہے کلمۂ شرک اور رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی تکذیب اور دکھ پہنچانے کی دھمکیاں۔ ان العزۃ اللہ جمیعًا کیونکہ غلبہ تو سارا کا سارا اللہ ہی کو حاصل ہے (ساری طاقت اسی کو حاصل ہے) کسی کے قبضہ میں کوئی چیز نہیں۔ اللہ سب پر غالب ہے ‘ وہی آپ کی مدد کرے گا اور کامیاب فرمائے گا۔ ھو السمیع العلیم۔ وہی (ان کے اقوال کو) سننے والا (اور ان کی نیتوں کو) جاننے والا ہے۔ یعنی ان کو خود سزا دے گا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

83: یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی ہے، “ اِنَّ الْعِزَّةَ الخ ” یہ ماقبل کے لیے علت ہے یعنی اے میرے پیغمبر آپ مشرکین کی ایذا رسانی اور ان کے توہین آمیز سلوک سے دل برداشتہ اور غمگین نہ ہوں اس سے وہ آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے کیونکہ عزت و ذلت تو اللہ کے اختیار میں اور اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا وآخرت میں عزت و آبرو دینے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ “ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ” وہی ہر بات کو سننے اور جاننے والا ہے اور کوئی نہیں۔ اس سے مقصود شرک فی العلم کی نفی ہے گویا یہ دلیل نہم کا مقدمہ ہے جس سے نفی شرک فی التصرف مقصود ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

65 اور اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان منکرین دین حق کی باتیں آپ کو آزردہ خاطر نہ کریں اور آپ کو غم میں نہ ڈالیں کیونکہ ہر قسم کا غلبہ اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے وہی سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے یعنی اس کو علم بھی ہے سنتا بھی ہے اور قدرت بھی ہے اس لئے آپ کو ایسے زبردست حامی کی موجودگی میں فکر نہیں ہونا چاہئے۔