Surat Younus

Surah: 10

Verse: 97

سورة يونس

وَ لَوۡ جَآءَتۡہُمۡ کُلُّ اٰیَۃٍ حَتّٰی یَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ ﴿۹۷﴾

Even if every sign should come to them, until they see the painful punishment.

گو ان کے پاس تمام نشانیاں پہنچ جائیں جب تک کہ وہ دردناک عذاب کو نہ دیکھ لیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لاَ يُوْمِنُونَ وَلَوْ جَاءتْهُمْ كُلُّ ايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاَلِيمَ Truly, those, against whom the Word (wrath) of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment. meaning they would not believe in a way that they might benefit from that belief. This is when they believe at a time one may not be able to benefit from his belief. An example is when Musa prayed against Fir`awn and his chiefs, saying: رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَ يُوْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment. (10:88) And Allah said: وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَأ إِلَيْهِمُ الْمَلَـيِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَىْءٍ قُبُلً مَّا كَانُواْ لِيُوْمِنُواْ إِلاَّ أَن يَشَأءَ اللَّهُ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ And even if We had sent down unto them angels, and the dead had spoken unto them, and We had gathered together all things before their very eyes, they would not have believed, unless Allah willed, but most of them behave ignorantly. (6:111) Allah then said:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

97۔ 1 یہ وہی لوگ ہیں جو کفر و مصیت الٰہی میں اتنے غرق ہوچکے ہوتے ہیں کہ کوئی و عظ ان پر اثر نہیں کرتا اور کوئی دلیل ان کے کارگر نہیں ہوتی۔ اسلئے نافرمانیاں کرکے قبول حق کی فطری استعداد و صلاحیت کو وہ ختم کر لئے ہوتے ہیں، ان کی آنکھیں اگر کھلتی ہیں تو اس وقت، جب عذاب الٰہی ان کے سروں پر آجاتا ہے، تب وہ ایمان اللہ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا (فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا) (40 ۔ المومن۔ 85) ' جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان کے ایمان نے انھیں کوئی فائدہ نہیں دیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَوْ جَاۗءَتْھُمْ كُلُّ اٰيَةٍ ۔۔ : یعنی کوئی بھی نشانی یا معجزہ آجائے، وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ عذاب الیم دیکھ لیں، مگر اس وقت انھیں ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکے گا، جیسا کہ فرعون اور اس کی قوم کو کچھ فائدہ نہیں ہوا اور اسی طرح دوسرے پیغمبروں کی امتوں کے کفار کو اللہ کا عذاب دیکھنے پر ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ دیکھیے سورة مومن (٨٥) اس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ اگر اس وقت ان کو چھوڑ دیا جائے تو وہ دوبارہ کفر کی روش پر چل نکلیں گے۔ دیکھیے سورة انعام (٢٧، ٢٨) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَوْ جَاۗءَتْھُمْ كُلُّ اٰيَۃٍ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ۝ ٩٧ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٧) خواہ ان کے پاس تمام دلائل پہنچ جائیں جن کا وہ آپ سے مطالبہ کرتے ہیں، پھر بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ بدر، احد اور احزاب کے واقعات نہ دیکھ لیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٧ (وَلَوْ جَآءَ تْہُمْ کُلُّ اٰیَۃٍ حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ) جیسا کہ فرعون کا معاملہ ہوا کہ جب غرق ہونے لگا تب ایمان لایا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:97) لایؤمنون پر وقف نہیں ہے۔ عبارت یوں ہے۔ لایؤمنون ولو جاء تہم کل ایۃ۔ اگرچہ ان کے پاس ساری نشانیاں آجائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (حتی کہ وہ دردناک عذاب میں اپنے آپ کو گھرا ہوا پائیں گے اس وقت ان کا ایمان ان کو نفع بخش نہ ہوگا) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 ۔ مگر اس وقت ایمان لانے کا کوئی فائدہ انہیں نہیں پہنچ سکے گا جیسا کہ فرعون اور اس کی قوم کو کچھفائدہ نہ ہوا۔ (ابن کثیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولوجاء تھم کل ایۃ اگرچہ آجائے ان کے پاس ہر نشانی۔ جو صداقت پر دلالت کر رہی ہو اور ایمان کی مقتضی ہو ‘ کیونکہ ایمان کا اصلی سبب تو اللہ کا ارادہ ہے اور مشیت ایمان نہیں تو پھر ایمان کیسے لا سکتے ہیں۔ حتی یروا العذاب الیم ۔ جب تک کہ دردناک عذاب (آنکھوں سے) نہ دیکھ لیں گے۔ یعنی مرنے کے وقت غرغرہ کی حالت میں ‘ یا مرنے کے بعد قبروں میں ‘ یا قیامت کے دن دوزخ میں اور یہ اوقات ایسے ہیں کہ ان میں ایمان لانا فرعون کیلئے سودمند نہ ہوا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَلَوْ جَآءَتْھُمْ کُلُّ اٰیَۃٍ حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ) (اگرچہ ان کے پاس تمام دلیلیں آجائیں جب تک درد ناک عذاب کو نہ دیکھیں) اس وقت ایمان لانا معتبر نہ ہوگا اور اس وقت کا ایمان عذاب سے نہ بچا سکے گا۔ جیسا کہ فرعون نے ڈوبتے وقت یوں کہا کہ میں اسی معبود پر ایمان لایا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے لیکن اس کا یہ ایمان اس کے لئے کچھ کام نہ آیا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

97 جب تک درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں گے یعنی جن لوگوں کے متعلق یہ بات ازل میں طے ہوچکی کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے وہ تمام نشانیوں کا معائنہ کرنے کے باوجود بھی ایمان نہیں لائیں گے تاوقتیکہ درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔ ظاہر ہے کہ معائنہ عذاب کے بعد ایمان مقبول نہیں یا علم ازلی کی یہ بات کہ شیطان اور اس کے متبعین سے دوزخ کو بھر دوں گا یہ کہ جن پر حکم عذاب ثابت ہوچکا ہے ان کا احوال مذکور ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ٹھیک آئی بات یعنی ابلیس کو جو فرمایا تھا کہ تجھ کو اور تیرے ساتھیوں کو دوزخ میں بھر دوں گا 12