Surat ul Aadiyaat

Surah: 100

Verse: 1

سورة العاديات

وَ الۡعٰدِیٰتِ ضَبۡحًا ۙ﴿۱﴾

By the racers, panting,

ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم!

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Swearing by the Horses of War about the Ungratefulness of Man and His Zeal for Wealth Allah swears وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا By the `Adiyat(steeds), snorting. Allah swears by the horses when they are made to gallop into battle in His path (i.e., Jihad), and thus they run and pant, which is the sound that is heard from the horse when it runs. فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا

انسان کا نفسیاتی تجزیہ: مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کرکام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردوغباراڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے ۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ والعادیات سے مراد اونٹ ہیں حضرت علی بھی یہی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کا قول کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں جب حضرت علی کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ خطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں وہ یہ پوچھ کر حضرت علی کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟ کہا ہاں حضرت ابن عباس سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں حضرت علی نے فرمایا جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا جب وہ آ گئے تو حضرت علی نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک شخص حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دوسرا حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کا تو عادیات ضبحا یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں حضرت عبدالہل فرماتے ہیں یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور حضرت علی نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں ، غرض حضرت علی کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اون ٹہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور حضرت ابن عباس سے گھوڑے مروی ہیں مجاہد ، عکرمہ ، عطاء قتادہ اور ضحاک بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ حضرت ابن عباس اور حضرت عطا سے مروی ہے کہ ضبح یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے ابن عباس فرماتے ہیں ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز اح اح کی نکلتی ہے یہی ضبح ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکرو دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں خواہ حج میں غبار اڑانا پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں جمعا حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا ابو بکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گذر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ کنود وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے اس کی اسناد ضعیف ہے پھر فرمایا اللہ اس پر شاہد ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے شاہدین علی انفسھم بالکفر یعنی مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں پھر فرمایا یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے یعنی اسے مال کی بیحد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بےرغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائی گی سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے ۔ سورہ عادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی ، فالحمد اللہ ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1۔ 1 عادیات، عادیۃ کی جمع ہے۔ یہ عدو سے ہے جیسے غزو ہے غازیات کی طرح اس کے واؤ کو بھی یا سے بدل دیا گیا ہے۔ تیز رو گھوڑے۔ ضبح کے معنی بعض کے نزدیک ہانپنا اور بعض کے نزدیک ہنہنانا ہے۔ مراد وہ گھوڑے ہیں جو ہانپتے یا ہنہناتے ہوئے جہاد میں تیزی سے دشمن کی طرف دوڑتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] عَادِیَاتٌ کا لغوی مفہوم :۔ عَادِیَاتٌ: عادیۃ کی جمع ہے جو عادی کا مونث ہے اور عادی بمعنی وہ جماعت جو قتل و قتال کے لیے تیار ہوا اور تَعَادَالْقَوْمُ بمعنی لوگوں نے دوڑ میں مقابلہ کیا اور عَدَاالْفَرْسِ بمعنی گھوڑے نے دوڑ لگائی اور عادِیَاتٌ سے مراد وہ جنگ پر جانے والے (گھوڑے) ہیں جو مقابلہ کی دوڑ میں حصہ لیتے رہے ہوں۔ واضح رہے کہ عادیات کے معنی میں گھوڑوں کا مفہوم شامل نہیں ہے۔ بلکہ ضَبْحًا کا لفظ عادیات کو گھوڑوں سے مخصوص کردیتا ہے۔ کیونکہ ضبح صرف اس آواز کو کہتے ہیں جو سرپٹ دوڑنے کی وجہ سے گھوڑوں کے منہ سے نکلتی ہے۔ یعنی گھوڑوں کا ہانپنا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(والعدیت ضبحاً :” العدیت “ ” عدا یعدوا عدوا “ (ن) (دوڑنا) سے اسم فاعل ہے، دوڑنے والے۔ ” صبح “ اس آواز کو کہتے ہیں جو گھوڑے کے تیز دوڑنے کی وجہ سے اس کے جوف سے نکلتی ہے، جو نہ سانس کی آواز ہوتی ہے اور ہنہنانے کی، اس لئے اس کا معنی ” ہانپ کر “ کرنا محل نظر ہے۔ آیت میں اگرچہ گھوڑوں کا لفظ نہیں، مگر لغت عرب میں ” ضبح “ کا لفظ گھوڑے کیلئے آتا ہے یا کتے کے لئے، کیونکہ یہ مخصوص آواز انھی دو جانوروں سے نکلتی ہے۔ اس جگہ کتے مراد ہو ہی نہیں سکتے، اس لئے گھوڑے ہی مراد ہیں۔ یہاں تیز دوڑنے والے گھوڑوں کو بطور شاہد پیش کیا گیا ہے، وہ گھوڑے مسلمانوں کے ہوں یا کافروں کے، انہیں غازیوں کے ساتھ مخصوص بھی نہیں کیا گیا، کیونکہ مقصد گھوڑوں کی فضیلت بیان کرنا نہیں بلکہ انہیں آئندہ آنے والے دعروے کی دلیل کے طور پر پیش کرنا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Place of Revelation According to Sayyidna Ibn Masud, Jabir, Hasan Basri, ` Ikramah and ` Ata& رحمۃ اللہ علیہم Surah Al-` Adiyat was revealed in Makkah and, according to Sayyidna Ibn ` Abbas, Anas (رض) ، Imam Malik and Qatadah رحمۃ اللہ علیہما ، the Surah was revealed in Madinah. [ Qurtubi ]. In this Surah Allah describes the special features of war-horses or chargers, and swears by them. The subject of the oath states that man is very ungrateful to his Lord. It has been explained time and again previously that it is the prerogative of Allah to swear oath by any of his creatures to recount an event or set down ordinances. It is not permitted for any of the human beings to take oath by any of the creatures. The purpose of swearing an oath is to confirm or give weight to a subsequently stated truth. It is also mentioned earlier that when the Holy Qur&an swears an oath by an object, it has some nexus with the subject of the oath. Here the hard tasks of the war-horses are called to bear testimony to the fact that man is very ungrateful for Allah&s favours. In other words, man needs to look at the horses, especially the war-horses, who risk their lives to travel under very dangerous and difficult conditions, especially in the battlefields where they follow the commands of their masters, whereas man has not created them, he has not even created the fodder he gives to them. His task is merely to give them the fodder that Allah has created. The horses recognize and acknowledge this little favor man does to them, and are prepared to risk their lives and bear the greatest of hardships. As against this, Allah has created man with an insignificant drop of sperm and endowed him with high faculties, abilities, intellect and senses to perform various types of tasks, thus making him the crown of His creation. He [ Allah ] provided him with all types of food. Facilities are created for all his needs and necessities in an amazing manner. But man does not recognize and acknowledge any of these sublime favors, nor does he express his gratitude to his Creator. Lexicographical Analysis The word عَادِیَات adiyat is derived from the root ` adw& which means &to run&. The ضَبح dabh means &the sound coming out of the chest of a horse when it runs fast and breathes laboriously; panting.& The word مُورِیَاتِ muriyat is the active participle of the infinitive of اِیراَء ‘ira. The infinitive means &to strike or produce fire with a particular piece of wood.& The word قَدح qadh means &to strike or produce fire with a flint; striking sparks of fire when the horse runs fast on a rocky ground with horse-shoes on&. The word مُغِیرَات mughirat is active participle of the infinitive اِغَارَۃ igharah. The infinitive means &to attack, or make a sudden hostile excursion upon, an enemy&. The word subh means &morning or dawn&. This time has been specifically mentioned because it was the practice of Arabs to attack their enemy at dawn, and not at night in order to show off their bravery. They thought making a hostile excursion on the enemy in the darkness of night was an act of cowardice. The word اَثَرنَ atharna is derived from ` itharah, which means &to raise dust&. The word نَقع naq& means &dust&. This implies that the dust became stirred up and spread upon the horizon, especially in the morning when the horses run fast. Normally, this is not the time for clouds of dust to fly in this way, unless it was caused by very fast running.

خلاصہ تفسیر قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں پھر (پتھر پر) ٹاپ مار کر آگے جھاڑتے ہیں پھر صبح کے وقت تاخت تاراج کرتے ہیں پھر اس وقت غبارا ڑاتے ہیں پھر اس وقت (دشمنوں کی) جماعت میں جا گھستے ہیں (مراد اس سے لڑائی کے گھوڑے ہیں۔ جہاد ہو یا غیر جہاد، عرب چونکہ حرب وضرب اور جنگ کے عادی تھے جس کے لئے گھوڑے پالتے تھے ان کی مناسبت سے ان جنگی گھوڑوں کی قسم کھائی گئی آگے جواب قسم ہے کہ) بیشک (کافر) آدمی اپنے پروردگار کا بڑا ناشکر ہے اور اس کی خود بھی اس کی خبر ہے (کبھی ابتداء ہی اور کبھی کچھ غور کے بعد اپنی ناشکری کا احساس کرلیتا ہے) اور وہ مال کی محبت میں بڑا مظبوط ہے (یہی اس کی ناشکری کا سبب ہے، آگے حط مال اور ناشکری پر وعید ہے یعنی) کیا اس کو وہ وقت معلوم نہیں جب زندہ کئے جاویں گے جتنے مردے قبروں میں ہیں اور طاہر ہوجائے گا جو کچھ دلوں میں ہے بیشک ان کا پروردگار ان کے حال سے اس روز پورا آگاہ ہے (اور مناسب جزا دے گا۔ حاصل یہ ہے کہ انسان کو اگر اس وقت کی پوری خبر ہوتی اور آخرت کا حال مستحضر ہوتا تو اپنی ناشکری اور حب مال سے باز آجاتا) معارف ومسائل سورة عادیت حضرت ابن مسعود اور جابر اور حس بصری، عکرمہ، عطاء رحمہم اللہ کے نزدیک مکی اور ابن عباس، انس، امام مالک، قتاعدہ کے نزدیک مدنی سورت ہے (قرطبی) اس سورت میں حق تعالیٰ نے جنگی گھوڑوں کے کچھ خاص حالات وصفات کا ذکر فرمایا اور ان کی قسم کھا کر یہ ارشاد فرمایا کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکر ہے۔ یہ بات تو قرآن میں باربار معلوم ہوچکی ہے کہ حق تعالیٰ اپنی مخلوقات میں سے مختلف چیزوں کی قسم کھا کر خاص واقعات اور احکام بیان فرماتے ہیں یہ حق تعالیٰ کی خصوصیت ہے، انسان کے لئے کسی مخلوق کی قسم کھانا جائز نہیں ہے اور قسم کھانے کا مقصد عام قسموں کی طرح اپنی بات کو محقق اور یقینی بتلانا ہے اور یہ بات بھی پہلے آچکی ہے کہ قرآن کریم جس چیز کی قسم کھا کر کوئی مضمون بیان فرماتا ہے تو اس چیز کو اس مضمون کے ثبوت میں دخل ہوتا ہے اور یہ چیز گویا اس مضمون کی شہادت دیتی ہے۔ یہاں جنگی گھوڑوں کی سخت خدمات کا ذکر گویا اس کی شہادت میں لایا گیا ہے کہ انسان بڑا ناشکر ہے۔ تشریح اس کی یہ ہے کہ گھوڑوں کے اور خصوصاً جنگی گھوڑوں کے حالات پر نظر ڈالئے کہ وہ میدان جنگ میں اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر کیسی کیسی سخت خدمات انسان کے حکم و اشارہ کے تابع انجام دیتے ہیں حالانکہ انسان ان گھوڑوں کو پیدا نہیں کیا، انکو جو گھاس دانہ انسان دیتا ہے وہ بھی اس کا پیدا کیا ہوا نہیں، اس کا کام صرف اتنا ہے کہ خدا تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے رزق کو ان تک پہنچانے کا ایک واسطہ بنتا ہے اب گھوڑے کو دیکھئے کہ وہ انسان کے اتنے سے احسان کو کیسا پہچانتا اور مانتا ہے کہ اس کے ادنیٰ اشارہ پر اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے اور سخت سے سخت مشقت برداشت کرتا ہے، اسکے بالمقابل انسان کو دیکھو جس کو ایک حقیر قطرہ سے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور اس کو مختلف کاموں کی قوت بخشی، عقل وشعوردیا، ان کے کھانے پینے کی ہر چیز پیدا فرمائی اور اس کی تمام ضروریات کو کس قدر آسان کر کے اس تک پہنچادیا کہ عقل حیران رہ جاتی ہے مگر وہ ان تمام اکمل واعلیٰ احسانات کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا اب الفاظ آیت کی تشریح دیکھئے عادیات، عدو سے مشتق ہے جس کے معنی دوڑنے کے ہیں۔ ضبحاً ، ضبح وہ خاص آواز ہے جو گھوڑے کے دوڑنے کے وقت اس کے سینے سے نکلتی ہے جس کا ترجمہ ہانپتا کیا گیا ہے۔ موریات، ایراء سے مشتق ہے جس کے معنی آگ نکالنے کے ہیں جیسے چقماق کو مار کر یا دیا سلائی کو رگڑ کر نکالی جاتی ہے۔ قدحاً ، قدح کے معنے ٹاپ مارنے کے ہیں پتھریلی زمین پر جب گھوڑا تیزی سے دوڑے خصوصاً جبکہ اس کے پاؤں میں آہنی نعل بھی ہو ٹکراؤ سے آگ کی چنگاریاں نکلتی ہیں۔ مغیرات، اغارہ سے مشتق ہے جس کے معنے حملہ کرنے اور چھاپہ مارنے کے ہیں۔ صبحاً صبح کے وقت کی تحضیص بیان عادت کے طور پر ہے کیونکہ عرب لوگ اظہار شجاعت کے لئے رات کی اندھیری میں چھاپہ مارنا معیوب سمجھتے تھے حملہ صبح ہونے کے بعد کیا کرتے تھے اثرن، اثارت سے دوڑتے ہیں کہ ان کے سموں سے غبار اڑ کر چھا جاتا ہے خصوصاً صبح کے وقت میں غبار اڑنا زیادہ سرعت اور تیزی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ یہ وقت عادةً غبار اڑنے کا نہیں، کسی سخت دوڑ ہی سے اس وقت غبار اٹھ سکتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا۝ ١ ۙ عادیات العادیات : جمع العادية مؤنّث العادي، اسم فاعل من عدا بمعنی رکض وزنه فاعل، وفيه إعلال بالقلب، أصله العادو، تحرّكت الواو بعد کسر قلبت ياء جمع ہے عادیۃ کی۔ اس کا مادہ عدد ہے جس سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث عادوۃ ہے واو ما قبل مکسور کو یاء سے بدل دیا عادیۃ ہوا۔ جس کی جمع عادیات ہوئی جیسے غزو کی جمع غازیات ( جمع مؤنث غائب کا صیغہ) ( اعراب القرآن) ضبح مصدر الثلاثيّ ضبحت الخیل تضبح باب فتح أي أسمعت صوتا ليس بصهيل ولا حمحمة، وزنه فعل بفتح فسکون ضبح قال تعالی: وَالْعادِياتِ ضَبْحاً [ العادیات/ 1] ، قيل : الضَّبْحُ : صوتُ أنفاس الفرس تشبيها بالضِّبَاحِ ، وهو صوت الثّعلب، وقیل : هو الخفیف العدو، وقد يقال ذلک للعدو، وقیل : الضَّبْحُ کا لضّبع، وهو مدّ الضّبع في العدو، وقیل : أصله إحراق العود، شبّه عدوه به کتشبيهه بالنار في كثرة حركتها ( ض ب ح ) الضبح کے معنی سرپٹ دوڑ کے وقت گھوڑے کے ہانپنے کے ہیں ) چناچہ آیت کریمہ : وَالْعادِياتِ ضَبْحاً [ العادیات/ 1] ان سرپٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جو ہانپ اٹھتے ہیں ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں ضباح کے معنی گھوڑوں کے ہانپنے کی آواز کے ہیں ۔ کیونکہ وہ ضباح یعنی لومڑ کی آواز سے یک گونہ مشابہت رکھتی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس کی معنی دوڑنے کی آواز کے ہیں اور یہ لفظ سرپٹ دوڑنے پر بھی بولاجاتا ہے ۔ اور بقول بعض ضبح اور ضبع دونوں لفظ ہم معنی ہیں اور ان کے معنی گھوڑے کا اپنے بازؤوں کو پوری طرح پھیلا کر دوڑنا کے ہیں ۔ اور بعض نے کہا ہے ک اس کے اصل معنی لکڑی کو جلانا کے ہیں پھر تشبیہ کے طور پر گھوڑے کے دوڑنے پر بھی بولاجاتا ہے جیسا کہ سرعت رفتاری میں گھوڑے کو آگ کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(1 ۔ 2) رسول اکرم صلی اللہ نے بنی کنانہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا آپ کے پاس اس کی خبر آنے میں تاخیر ہوئی جس سے آپ پریشان ہوئے تب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم کو ان کی حالت سے بطور قسم کے آگاہ فرمایا کہ قسم ہے ان غازیوں کے گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں پھر پتھر پر ٹاپ مار کر آگ جھاڑتے ہیں جیسا کہ پتھر کی آگ یہی اس سورة کا شان نزول ہے حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی یہی مروی ہے۔ کہ ابی حباب کی آگ کی طرح اس سے بھی فائدہ نہیں ۃ وتا یہ عرب میں ایک بہت بخیل آدمی تھا جب لشکر میں ہوتا تو کھانے پکانے کے لیے آگ نہیں جلاتا تھا جب سب لشکر والے سوجاتے تب یہ آگ جلاتا اور پھر اگر کوئی درمیان میں اٹھ جاتا تو یہ آگ بجھا دیا کرتا تھا۔ شان نزول : وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا (الخ) بزاز ابن ابی حاتم اور حاکم نے حضرت ابنع باس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھوڑے سوار ایک لشکر روانہ کیا ایک مہینہ تک اس کی کچھ خبر نہیں آئی تب یہ آیت نازل ہوئی وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا (الخ)

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 There is no indication in the words of the verse to show whether "those who run" imply the horses; only the word waI- `Adiyat (by, those who run) has been used. That is why the commentators have disputed as to what is implied by "those who run" ..One section of the Companions and their immediate successors has been to think that it implies the horses; another section says that it implies the camels. But since the peculiar sound called dabh is produced only by the panting, snorting horses, and the following verses also in which mention has been made of striking sparks and raiding a settlement early at dawn and raising clouds of dust, apply only to the horses, most scholars are of the opinion that horses are meant. Ibn Jarir says: "Of the two views this view is preferable that by "those who run" horses are implied, for the camel does not breathe hard in running, it is the horse which does so, and Allah has said: "By those runners which pant and breathe hard in running'." Imam Razi ays: "The words of these verses proclaim that horses are meant, for the sound of dabh (panting breath) is only produced by the horses, and the act of striking sparks of fire with the hoofs too is associated with the horses, and, likewise, mounting of a raid early at. dawn is easier by means of the horses than by other animals."

سورة العدیات حاشیہ نمبر : 1 آیت کے الفاظ میں یہ تصریح نہیں ہے کہ دوڑنے والوں سے مراد گھوڑے ہیں ، بلکہ صرف وَالْعٰدِيٰتِ ( قسم ہے دوڑنے والوں کی ) فرمایا گیا ہے ۔ اسی لیے مفسرین کے درمیان اس باب میں اختلاف ہوا ہے کہ دوڑنے والوں سے مراد کیا ہے ۔ صحابہ و تابعین کا ایک گروہ اس طرح گیا ہے کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں ، اور ایک دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ اس سے مراد اونٹ ہیں ۔ لیکن چونکہ دوڑتے ہوئے وہ خاص قسم کی آواز جسے ضبح کہتے ہیں ، گھوڑوں ہی کی شدت تنفس سے نکلتی ہے ، اور بعد کی آیات بھی جن میں چنگاریاں جھاڑنے اور صبح سویرے کسی بستی پر چھاپہ مارنے اور وہاں گرد اڑانے کا ذکر آیا ہے ، گھوڑوں ہی پر راست آتی ہیں ، اس لیے اکثر محققین نے اس سے مراد گھوڑے ہی لیے ہیں ۔ ابن جریر کہتے ہیں دونوں اقال میں سے یہ قول ہی قابل ترجیح ہے کہ دوڑنے والوں سے مراد گھوڑے ہیں ، کیونکہ اونٹ ضبح نہیں کرتا ، گھوڑا ہی ضبح کیا کرتا ہے ، اور اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ ان دوڑنے والوں کی قسم جو دوڑتے ہوئے ضبح کرتے ہیں ۔ امام رازی کہتے ہیں کہ ان آیات کے الفاظ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ مراد گھوڑے ہیں ، کیونکہ ضبح کی آواز گھوڑے کے سوا کسی سے نہیں نکلتی ، اور آگ جھاڑنے کا فعل بھی پتھروں پر سموں کی ٹاپ پڑنے کے سوا کسی اور طرح کے دوڑنے سے نہیں ہوتا ، اور اسی طرح صبح سویرے چھاپہ مارنا بھی دوسرے جانوروں کی بہ نسبت گھوڑوں ہی کے ذریعہ سے سہل ہوتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١۔ ١١۔ اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لئے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے تھے ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گرد و غبار اٹھنے اور اس گرد و غبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ انسان کی حالت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ بڑا ناشکرا ہے کیونکہ اللہ نے اس کو پیدا کیا۔ اس کی زیست بھر کے سب طرح کے آرام کا بندوست کیا۔ پھر یہ انسان اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو اپنا معبود ٹھہراتا ہے اس سے بڑھ کر اور کون سی حالت ناشکری کی ہوگی۔ پھر فرمایا کہ دین کی باتوں سے یہ انسان اس لئے غافل ہے کہ جا و بےجا مال کے سمیٹنے میں ہر دم اس کا دل پڑا ہوا ہے۔ یہ نہیں جانتا کہ ایک دن خود یہ دنیا سے چل بسے گا اور اس کا سمیٹا ہوا سب مال یہیں دنیا میں پڑا رہ جائے گا اور جب قبروں سے اٹھیں گے اور دل کے منصوبوں تک کی تحقیقات ہوگی اس دن جس نیت سے اس نے یہ مال جمع کیا ہے اس کا نتیجہ اس کے سامنے آئے گا۔ صحیح ٣ ؎ بخاری کی انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کے جنازہ کے ساتھ مال اولاد اور عمل یہ تین چیزیں جاتی ہیں دفن کے بعد مال واولاد تو ایسی چیزیں ہیں کہ دنیا کی دنیا ہی میں رہ جاتی ہیں فقط عمل ہی ایک ایسی چیز ہے جو اس کے ساتھ جاتا ہے۔ معتبر سند سے عبد اللہ بن شخیر کی ترمذی ٤ ؎ کی یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ آدمی تمام میرا مال میرا مال کہتا مرجاتا ہے لیکن مرنے کے بعد ساتھ اس کے وہی جاتا ہے جس کو وہ اپنی زندگی میں اللہ کے نام دے جاتا ہے۔ اوپر یہ صحیح ١ ؎ حدیث قدسی بھی گزر چکی ہے کہ برے کام کو جب تک آدمی ہاتھ پیر سے نہ کر گزرے تو فقط دل کے ارادہ پر نامہ اعمال میں کچھ برائی نہیں لکھی جاتی ظاہر میں اگرچہ آیت وحصل ما فی الصدور کا مطلب اس حدیث قدسی کے مضمون کے مخالف معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس آیت کے مطلب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بھید کے طور پر جو باتیں لوگوں کے دل میں ہوں گی۔ وہ بھی نامہ اعمال میں لکھی جائیں گی اور ان کا بھی حساب و کتاب ہوگا۔ علماء محدثین اور مفسرین نے اس طرح کی آیتوں اور حدیثوں کو ایک جگہ جمع کرکے جو مطلب قرار دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بعض دل کے منصوبے ایسے ہوتے ہیں کہ ہاتھ پیروں کے کام سے ان کو تعلق نہیں۔ محض وہ دل کے ہی منصوبے ہیں اس طرح کے منصوبے اگر توحید یا نبوت یا قیامت کے شک کے متعلق ہوں تو یہ کفر کا درجہ ہے۔ اس کے نامہ اعمال میں لکھے جانے میں کسی کو اختلاف نہیں ہے اور یہ آیت اسی طرح کے منصوبوں سے متعلق ہے کیونکہ آیت میں ہاتھ پیروں کے عمل کا کچھ تذکرہ نہیں ہے اور بعض دل کے منصوبے ایسے ہیں کہ ان منصوبوں کو ظاہر میں ہاتھ پاؤں کے کام سے بھی تعلق ہے مثلاً جس طرح زنا کاری یا چوری کا منصوبہ وہ حدیث قدسی اسی طرح کے منصوبوں سے متعلق ہے کیونکہ اس حدیث میں عمل کا بھی ذکر ہے اور اس طرح کے منصوبوں کے باب میں علماء کے دو قول ہیں ایک تو یہ کہ اس طرح کے منصوبوں کا فقط دل میں خیال ہی خیال ہو تو کچھ نہیں اگر دل میں مضبوط پکا ارادہ کسی برے کام کرنے کا جم جائے تو وہ گناہ ہے دوسرا قول یہ ہے کہ اس طرح کے منصوبہ کے موافق جب تک ہاتھ پیر سے کام نہ ہوجائے تو خالی پکا منصوبہ کچھ گناہ میں داخل نہیں ہے۔ ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ اور مسند امام احمد ترمذی ابن ماجہ کی ابی کبشہ انماری کی حدیث سے پہلے قول کی پوری تائید ہوتی ہے یہ وہ حدیث ہے جس کو ترمذی ٢ ؎ نے صحیح کہا ہے اور جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار شخصوں کا ذکر فرما کر ایک شخص کو فرمایا ہے کہ نہ اس کے پاس کچھ مال ہو نہ اس کو کچھ علم ہو مگر وہ دل میں منصوبے باندھے کہ میرے پاس مال ہوتا تو یوں کرتا مجھ کو علم ہوتا تو یوں کرتا اس حدیث میں برے کام کے منصوبے کا برا انجام ٹھہرایا ہے اور بھلے کا بھلا۔ اگرچہ اس سورة کے مکی اور مدنی ہونے میں سلف کا اختلاف ہے لیکن مسند ٣ ؎ بزار اور متدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ صحابہ کو ایک لڑائی پر بھیجا تھا اور مہینہ بھر کے عرصہ سے ان لوگوں کی کچھ خبر نہ معلوم ہونے سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دل پریشان تھا ان لوگوں کے حال میں اللہ نے یہ سورة نازل فرمائی۔ اس شان نزول سے اس سورة کے مدنی ہونے کا قول صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ جہاد مکہ میں کہاں تھا۔ (١ ؎ صحیح بخاری باب من ھم بحسنہ اوسیئۃ ص ٩٦٠ ج ٢۔ ) (٢ ؎ جامع ترمذی۔ باب ماجاء مثل الدنیا مثل اربعۃ لفد ص ٦٧ ج ٢) (٣ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٥٤٢ ج ٤۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(100:1) والعدیت ضبحا : جملہ قسمیہ ہے۔ واؤ قسم کے لئے ہے۔ العدیت جمع ہے عادیۃ کی۔ اس کا مادہ عدد ہے جس سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث عادوۃ ہے واو ما قبل مکسور کو یاء سے بدل دیا عادیۃ ہوا۔ جس کی جمع عادیات ہوئی جیسے غزو کی جمع غازیات (جمع مؤنث غائب کا صیغہ) ضبحا۔ کی درج ذیل دو صورتیں ہیں۔ (1) ضبحا مصدر ہے منصوب ہے جس کا فعل یضبحن (باب فتح) محذوف ہے ای یضبحن ضبحا اور جملہ موضع حال میں ہے (2) ضبحا مفعول مطلق ہے اسم فاعل کی تاکید کے لئے ہے۔ العدیت : تیز دوڑنے والی گھوڑیاں یا گھوڑے۔ عدو سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے۔ امام راغب فرماتے ہیں :۔ عدو کے معنی ہیں تجاوز کرنے اور پیوستگی ختم کرنے کے۔ اگر یہ چیز چلنے میں ہو تو اس کو عدو (دوڑنا) کہتے ہیں۔ یہاں عدیت سے کیا مراد ہے اس کے متعلق مفسرین کے دو قول ہیں۔ (1) حضرت ابن عباس (رض) مجاہد، عکرمہ، حسن بصری، کلبی، قتادہ، مقاتل اور ابو المعالیہ کا قول ہے کہ یہ غازیوں کے گھوڑوں کی صفت ہے۔ (2) حضرت علی اور حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ مراد اونٹنیاں ہیں۔ ضبح مصدر۔ جس کے معنی ہیں (گھوڑے کا) دوڑنے کے سبب پیٹ سے آواز نکالنا۔ ہانپنا۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ :۔ چو پاؤں میں سے سوائے کتے اور گھوڑے کے کوئی جانور نہیں ہانپتا۔ سو آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ قسم ہے (غازیوں کے) ان گھوڑوں کی جو سرپٹ دوڑنے سے ہانپتے ہیں ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی ٹاپوں کی آواز یا ہانپنے کی آواز

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

سورة العادیات۔ آیات ١ تا ١١ اسرار ومعارف۔ قسم ہے جہاد میں دوڑنے والے گھوڑوں کی انکی مشقت کی ان کے نعلوں سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور جب وہ علی الصبح کسی پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور پھر جب ہر طرف گرد اڑتی ہے اور دشمنوں کی فوج میں گھس پڑتے ہیں یعنی جہاد کا یہ سارامنظر اس بات پہ گواہ ہے انسان اپنے پروردگار کا سخت ناشکرا ہے کہ جو بات یعنی نظام اسلام اس کی بھلائی کے لیے تھا اس کے لیے روکاوٹ بن گیا اور اس کے نفاذ کے لیے جہاد کی ضرورت پیش آئی اللہ کو وہ جانور بھی پیارے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد میں کام آئیں اور یہ انسان ہو کر اور خوب جانتے ہوئے کہ اسلام ہی سلامتی ہے اور یہ حق ہے پھر بھی اس کی مخالفت پہ کمربستہ ہے اس لیے کہ انہیں دولت اور مالی مفادات بہت زیادہ پیارے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ یہ لوگ اس بات کو سمجھ لیں کہ ایک روز سب کو قبروں سے پھر زندہ کیا جائے گا اور ظاہر توکیادل کے بھیدوں کی بھی پرسش ہوگی اور کوئی کچھ چھپانہ سکے گا کہ ان کا پروردگار ہر بات سے باخبر ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

العدیت۔ دوڑنے والے گھوڑے۔ ضبح۔ ہانپتے ہوئے۔ الموریت۔ چنگاریاں نکالنے والے۔ قدح۔ آگ جھاڑ کر۔ المغیرات۔ وہ حملہ کرنے والے ہیں۔ اثرن۔ اٹھاتے ہیں۔ نقع۔ گردوغبار۔ وسطن۔ وہ بیچ میں گھس جاتے ہیں۔ کنود ۔ ناشکرا۔ شہید۔ گواہ۔ الخیر۔ مال و دولت۔ بعثر۔ باہر نکالا گیا۔ حصل۔ حاصل کیا گیا۔ تشریح : انسان کیچ اروں طرف اللہ نے اتنی نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جنہیں شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ یہ نعمتیں انسان سے اس بات کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں کہ اسے ہر سانس میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی گزارنی چاہیے۔ اسے وہی کرنا چاہیے جس کے کرنے کا اس کو حکم دیا گیا ہے اور ہر اس بات سے رک جانا چاہیے جس سے اسے منع کیا گیا ہے۔ شکر کا یہی وہ انداز ہے جسے اللہ تعالیٰ بہت پسند فرماتے ہیں۔ جو اللہ ورسول کے فرمان بردار ہیں وہ اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت پر شکر ادا کرتے ہیں۔ انہیں اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ انہیں موت آئے گی پھر وہ ایک دن اٹھ کر میدان حشر کی طرف جائیں گے ان کے تمام نیکیوں اور برائیوں کی جانچ ہوگی اور ان کے تمام وہ اعمال جو پوشیدہ تھے کھل کر ان کے سامنے آجائیں گے اور پھر جزا یا سزا کا فیصلہ سامنے آئے گا۔ لیکن وہ لوگ جو اللہ و رسول کی فرماں برداری سے محروم، آخرت کے یقین سے عاری، مال و دولت کی محبت میں غرق ہوتے ہیں وہ یہ بات کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچتے کہ ان کو کس ذات نے وجود بخشا، چاند، سورج، ستارے، فضائیں ہوائیں کس کے اشارے پر اس کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ ہر طرح کی نعمتوں کو کس نے بکھیر رکھا ہے ؟ دن کی روشنی اور رات کا سکون کس نے عطا کیا ہے۔ ایسا آدمی یہ نہیں سوچتا کہ اس کو ایک دن مر کر قبر میں جانا ہے پھر اس کو دوبارہ زندہ ہوکر میدان حشر میں پہنچ کر زندگی بھر کے معاملات کا حساب دینا ہے۔ ایسے ناشکرے لوگوں کو گھوڑے جیسے جانور کی مثالیں دے کر فرمایا گیا ہے کہ انسان تو جانوروں سے بھی گیا گزرا ہوگیا۔ انسان ایک گھوڑے کو دانہ اور گھاس ڈالتا اور اسے رہنے کے لیے چھت مہیا کرتا ہے تو وہ گھوڑا اپنے مالک کے احسان کو پہچان کر صبح و شام اس کی فرماں برداری میں دوڑتا بھاگتا ، ہانپتا، پاؤں سے چنگاریاں اور گرد و غبار اڑاتا اس منزل کی طرف پہنچنے کی کوشش کرتا ہے جہاں اس کا مالک اسے پہنچانا چاہتا ہے۔ اگر وہ دشمن کی صفوں میں گھسنا چاہتا ہے تو گھوڑا اپنی جان کی پر واکئے بغیر صفوں کو چیرتا ہوا درمیان میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ اپنے مالک کی وفاداری میں اپنی جان تک دے ڈالتا ہے مگر اپنے مالک پر آنچ نہیں آنے دیتا۔ فرمایا کہ ایک گھوڑا تو ذرا سے دانے اور گھاس کا شکر اس طرح اپنی وفاداریوں کے ذریعہ پیش کرتا ہے۔ لیکن انسان جس کو اللہ نے بیشمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں وہ اپنے مالک کا احسان تک نہیں مانتا اور اپنی ناشکریوں اور نافرمانیوں میں لگا رہتا ہے۔ اسے مال و دولت اور دنیا کی چکاچوندے نے اتنا اندھا کردیا ہے کہ وہ اپنی آخرت اور اس کے انجام تک کو بھول جاتا ہے۔ وہ اس ابتکو بھول رہا ہے کہ اس دنیا میں اس کا ہر عمل اور ہر حرکت ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ اللہ کو اس کے ظاہر و باطن اور اچھے برے سب اعمال کا پوری طرح علم ہے لیکن جب قیامت کے دن اس کے اعمال کا ریکارڈ اس کے سامنے رکھا جائے گا تو اسے کسی بات سے انکار کی گنجائش نہ ہوگی اور اس کے سینے میں چھپے ہوئے راز جو دنیا میں ہر ایک سے چھپایا کرتا تھا وہ سارے پوشیدہ راز کھل کر سامنے آجائیں گے۔ وہ نتیجہ کا وقت ہوگا پھر عمل کرنے کا موقع نہیں ہوگا۔ وہ لوگ یقینا خوش نصیب ہیں جو ہر وقت فکر آخرت کرتے اور اللہ کے احسانات کو یاد رکھتے اور شکر ادا کرتے ہیں۔ جنت کی ابدی راحتیں ان کی منتظر ہیں لیکن ناشکرے اور اللہ کے احسانات کو نہ ماننے والوں کا عبرت ناک انجام ہوگا اور ان کو ایسی جہنم میں دھکیل دیا جائے گا جس میں انہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط سورت : سورة زلزال کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ جس نے نیکی کی وہ اپنی نیکی کو دیکھ لے گا اور جس نے برائی کی وہ بھی اپنی برائی کو اپنے سامنے پائے گا۔ العادیات کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کو قبر سے اٹھایا جائے گا اور جو کچھ اس نے کیا ہے اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں پانچ قسمیں اٹھائی ہیں جو جنگ کے دوران گھوڑوں کی مختلف حالتوں سے متعلق ہیں۔ ارشاد ہوا کہ قسم ہے ان گھوڑوں کی جو تیز دوڑتے ہوئے ہانپتے ہیں پھر اپنی ٹاپوں سے چنگاریاں نکالتے ہیں پھر صبح کے وقت دشمن پر دھاوابولتے ہیں اور گردوغبار اڑاتے ہوئے دشمن کے لشکر میں گھس جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لیے اور بھی جانور پیدا کیے ہیں مگر جو اوصاف اور قوت گھوڑے میں رکھی ہے وہ کسی اور جانور میں دکھائی نہیں دیتی۔ بیشک انسان نے اپنی سواری کے لیے بڑی تیز رفتار اور آرام دہ گاڑیاں ایجاد کرلی ہیں لیکن گاڑی پر بیٹھے ہوئے آدمی کا وہ رعب نہیں ہوتا جو گھوڑے کے شاہسوار کا رعب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا میں مال دار لوگ، بڑے بڑے جرنیل اور سیاستدان گھوڑ سواری کرنا اپنے لیے فخر سمجھتے ہیں۔ اس لیے نسلی اور قیمتی گھوڑے رکھنا ان کا شوق ہوتا ہے۔ میدان جنگ بالخصوص پہاڑی علاقے میں جہاں گاڑیاں اور ٹینک نہیں جاسکتے وہاں گھوڑا ہی واحد سواری ہے جو دشمن کے خلاف کار آمد ثابت ہوتا ہے۔ قدیم دور میں جس قبیلے یا فوج کے پاس جنگی گھوڑے زیادہ ہوتے تھے وہ فوج زیادہ طاقتور سمجھی جاتی تھی۔ پہلے زمانے میں عام طور پر دشمن پر حملہ آور ہونے کے لیے صبح کا وقت بڑا مناسب سمجھا جاتا تھا تاکہ دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا جائے۔ اس وقت گھوڑوں کو سرپٹ دوڑایا جاتا جس سے گھوڑوں کے سینے سے ہاپنے کی آواز نکلتی جو گھوڑے اور شاہسوار کی بہادری اور قوت کی دلیل سمجھی جاتی۔ شاہسوار خاص طور پر جب دشمن کی صفوں میں گھسنے کے لیے گھوڑے کو ایڑ لگاتا تو جنگجو گھوڑا زمین پر پاؤں مار کر ہنہناتا ہوا اپنی جرأت اور آمادگی کا اظہار کرتا گھوڑا پتھریلی زمین پر سم مارتا تو رات کے وقت اس کے پاؤں کے نیچے سے چنگاریاں نکلتی تھیں جو مجاہد کے حوصلے کو دوبالا کرتی تھیں۔ قرآن مجید نے اس منظر کو اس لیے بیان کیا ہے تاکہ مسلمانوں میں قتال فی سبیل اللہ کا جذبہ زندہ اور بیدار رہے۔ گھوڑا بہادر ہونے کے ساتھ اپنے مالک کا وفادار اور اپنے کام میں نہایت ہی سمجھ دار جانور ہے، اسے سینکڑوں میل دور جاکر گھر کی طرف موڑ دیا جائے تو اکیلا ہی اپنے کھونٹے پر پہنچ جاتا ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :۔۔ گھوڑے تین طرح کے ہیں ایک اپنے مالک پر بوجھ ہے دوسرا اپنے مالک کی کمزوری چھپانے والا ہے اور تیسرا اپنے مالک کے لیے ثواب کا باعث ہے۔ وہ گھوڑا جو لوگوں کو دکھلاوے کے لیے رکھا جائے اور گھوڑے کے ذریعے مالک لوگوں میں فخر کرے اور مسلمانوں سے عداوت رکھے یہ اپنے مالک کے حق میں وبال ہے۔ جو کمزوری چھپانے والا گھوڑا وہ ہے جس کو اللہ کی راہ میں باندھا گیا ہو، اس کا مالک اس کی سواری میں اللہ کا حق نہیں بھولتا اور نہ اس کے گھاس اور چارہ میں کمی آنے دیتا ہے یہ مالک کی کمزوری چھپانے والا ہے۔ یعنی مالک کی طاقت کا سبب ہے۔ تیسرا گھوڑا ثواب کا باعث ہے یہ وہ گھوڑا ہے جو اللہ کی رضا اور اہل اسلام کی مدد کے لیے رکھا گیا ہے۔ یہ گھوڑا جو چراگاہ یا باغ سے کھائے گا اتنی نیکیاں اس کے مالک کے نامۂ اعمال میں لکھ دی جائیں گی اور اس کی لید اور پیشاب کو بھی نیکیوں میں شامل کیا جائے گا۔ جب یہ گھوڑا اپنی لمبی رسی توڑ کر کسی ٹیلے پر چڑھ جاتا ہے تو اس کے قدموں کے مطابق نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور جب اس کا مالک اس کو کسی ندی پر لے جاتا ہے اور وہ گھوڑا اس سے پانی پیتا ہے بیشک مالک کا پانی پلانے کا ارادہ ہو یا نہ ہو تب بھی پانی کے قطروں کے موافق مالک کے حق میں نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گدھے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا گدھوں کے بارے میں مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں کیا گیا۔ (فَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہُ وَمَن یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہُ ) جس نے ذرہ کے برابر نیکی کی وہ اسے قیامت کے دن دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔ “ (رواہ مسلم : کتاب الزکاۃ، باب اثم مانع الزکاۃ) مسائل ١۔ انسان ہر صورت قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور جو کچھ ان کے سینوں میں ہے ظاہر کردیا جائے گا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر انسان کے عمل سے باخبر ہوگا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اللہ تعالیٰ یہاں سواروں کے دستے کی قسم اٹھاتے ہیں۔ ان کی ایک ایک جنگی حرکت کو ترتیب کے ساتھ لایا جاتا ہے۔ جب یہ دستہ اپنے حملے کا آغاز کرتا ہے اور تیز رفتاری کے ساتھ منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ گھوڑے پھنکارمارتے آگے جارہے ہیں۔ یہ اپنے سموں سے پتھروں سے چنگاڑیاں نکالتے جاتے ہیں۔ پھر عین صبح کے وقت یہ دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہیں ، یہ حملہ نہایت سرعت کے ساتھ ہوتا ہے اور اچانک ہوتا ہے۔ حملہ کے وقت گھوڑوں کی بھگدڑ سے غبار اڑتا ہے۔ کیونکہ دشمن حملے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور اس کی حرکات غیر مرتب ہیں ، جب یہ دستہ دشمن کی صفوں میں خلاف توقع جاگھستا ہے تو سخت انتشار و اضطراب برپا ہوجاتا ہے۔ یہ کسی بھی حملہ کے وہ پے درپے اقدامات ہیں جن سے عرب خوف واقف تھے۔ اس قسم کے دستے اور گھوڑوں کی حرکات کی قسم کھانے کا مطلب یہی ہوا کہ اسلام میں اس قسم کے معرکے بہت محبوب ہیں ، یہ اللہ کو بھی محبوب ہیں ، اللہ ایسی حرکات کو اچھی نظروں سے دیکھتا ہے اور یہ پسندیدہ قدریں ہیں۔ پھر ، یہ مناظر اور جنگی ایکشن ان معانی سے زیادہ ہم آہنگ ہیں جن پر یہاں قسم اٹھائی جارہی ہے ، جیسا کہ ہم نے تبصرے میں وضاحت کی۔ جس مفہوم اور معنی پر قسم اٹھائی جارہی ہے۔ یہ انسان کی ایک نفسیاتی بیماری ہے اور یہ انسان کو اس وقت لاحق ہوتی ہے جب انسان نفسیات ایمان سے خالی ہوں۔ قرآن مجید اس حقیقت کی طرف بار بار اشارہ کرتا ہے تاکہ لوگ اس کے خلاف جدوجہد کریں ۔ اس لئے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ انسانی نفسیات کے اندر یہ بیماری کس قدر گہری جڑیں رکھتی ہیں۔ اور انسانی شخصیت پر اس کے کتنے اثرات ہوا کرتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہ سورة العادیات کا ترجمہ ہے اس میں گھوڑوں کی پانچ حالتوں کی قسم کھا کر انسان کا ناشکرا ہونا بتایا ہے۔ عادیات سے دوڑنے والے گھوڑے۔ ضبحا سے وہ گھوڑے مراد ہیں جو دوڑتے وقت ہانپتے ہیں یہ لفظ فعل محذوف تضح کا مفعول مطلق ہے، اور الموریات اور ی یوری سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کا معنی آگ جلانے کا ہے اور قدحا اس کا مفعول ہے چقماق کو ایک دوسرے پر مار کر آگ لگانے کو قدح کہا جاتا ہے۔ دونوں آیتوں کا مطلب یہ ہوا کہ قسم ہے ان گھوڑوں کی جو دوڑتے ہوئے ہانپنے والے ہیں اور جو چلتے ہوئے آگ جلانے والے ہیں یعنی جس طرح چقماق سے آگ نکلتی ہے اسی طرح ان کے پاؤں مارنے سے آگ نکلتی ہے (خاص کر جن میں لوہے کے نعل لگے ہوئے ہوتے ہیں) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔ ” والعادیات ضبحا “ ہانپ ہانپ کر دوڑنے والے گھوڑے۔ ” فالموریات قدحا “ پتھریلی زمین پر دوڑتے وقت اپنے سموں سے چنگاریاں نکالنے والے۔ ” فالمغیرات صبحا “ پھر صبح صبح لوٹ مار کرنے والے۔ ” فاثرن بہ نقعا “ دوڑتے وقت گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ ” فوسطن بہ جمعا “ پھر تیز رفتار کے ساتھ جماعتوں کے اندر گھس جاتے ہیں۔ ” ان الانسان لربہ لکنود “ یہ لوٹ مار کرنے والے گھوڑے اس پر شاہد ہیں کہ انسان اپنے پروردگار کا نہایت ہی ناشکر گذار ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ عامۃ المفسرین کے نزدیک یہ صفتیں مجاہدین کے گھوڑوں کی ہیں اور بعض کے نزدیک ان صفات سے فرشتے مراد ہیں۔ ” وانہ علی ذلک لشہید “ مذکورہ شواہد کے علاوہ انسان اپنی اس بیماری اور کمزوری پر خود بھی شاہد ہے اور اسے اپنا کردار خوب معلوم ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(1) قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑنے والے ہیں یعنی تیز دوڑنے میں ان کے سانس کی آواز سننے میں آتی ہے۔