Surat ul Aadiyaat
Surah: 100
Verse: 8
سورة العاديات
وَ اِنَّہٗ لِحُبِّ الۡخَیۡرِ لَشَدِیۡدٌ ؕ﴿۸﴾
And indeed he is, in love of wealth, intense.
یہ مال کی محبت میں بھی بڑا سخت ہے ۔
وَ اِنَّہٗ لِحُبِّ الۡخَیۡرِ لَشَدِیۡدٌ ؕ﴿۸﴾
And indeed he is, in love of wealth, intense.
یہ مال کی محبت میں بھی بڑا سخت ہے ۔
And verily, he is violent in the love of wealth. meaning, and indeed in his love of the good, which is wealth, he is severe. There are two opinions concerning this. One of them is that it means that he is severe in his love of wealth. The other view is that it means he is covetous and stingy due to the love of wealth. However, both views are correct. The Threat about the Hereafter Then Allah encourages abstinence from worldly things and striving for the Hereafter, and He informs of what the situation will be after this present condition, and what man will face of horrors. He says, أَفَلَ يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ
8۔ 1 خَیْر، ُ سے مراد مال ہے، اور ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ نہایت حریص اور بخیل ہے جو مال کی شدید محبت کا لازمی نتیجہ ہے۔
[٨] مال ودولت سے انسان کی بےپناہ محبت :۔ تیسری بات جس پر قسم کھائی گئی ہے یہ ہے کہ انسان مال کی محبت میں بری طرح پھنسا ہوا ہے۔ پیسہ ہی اس کا دین و ایمان ہے۔ مال و دولت کے حصول کی خاطر ہی وہ حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتا۔ لوگوں سے فریب اور جھگڑے کرتا اور اللہ کی نافرمانی پر اتر آتا ہے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں انتہائی بخیل واقع ہوا ہے۔ مال و دولت سے جس قدر انسان کو محبت ہوتی ہے وہ ہر انسان بذات خود مشاہدہ کرسکتا ہے۔ نیز درج ذیل حدیث بھی اسی بات کی وضاحت کر رہی ہے : سیدنا انس فرماتے ہیں کہ بحرین (بصرے اور عمان کے درمیان ایک شہر) سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بہت سی رقم آئی۔ اور یہ رقم ان سب رقوم سے زیادہ تھی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے پیشتر آئی تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے مسجد میں ڈال دو ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے تشریف لائے اور اس رقم کو دیکھا تک نہیں۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس رقم کے پاس آبیٹھے۔ پھر جس کسی پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظر پڑی اسے دینا شروع کیا۔ اتنے میں سیدنا عباس آئے اور کہنے لگے : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے بھی عطا کیجیے۔ میں نے اپنا بھی فدیہ ادا کیا تھا اور عقیل کا بھی (جنگ بدر میں اور اب زیر بار ہوں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (جتنا چاہو) لے لو۔ سیدنا عباس لپیں بھر بھر کر اپنے کپڑے میں ڈالنے لگے۔ پھر اسے اٹھانے لگے تو اٹھا نہ سکے۔ کہنے لگے، یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کسی کو حکم دیجیے کہ مجھے اٹھوا دے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں (یہ نہیں ہوسکتا) پھر سیدنا عباس کہنے لگے :&& اچھا پھر ذرا خود ہی اٹھوا دیجیے && آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : && نہیں (یہ بھی نہ ہوگا) && آخر انہوں نے کچھ درہم نکال دیے۔ پھر اٹھانے لگے تو بھی نہ اٹھا سکے اور کہا : && یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کسی کو حکم دیجیے کہ مجھے اٹھوا دے && آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :&& یہ نہیں ہوسکتا && پھر سیدنا عباس نے کہا : && آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ذرا آسرا کیجیے && آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں پھر انہوں نے مجبوراً اور درہم نکال دیئے اور اپنے کندھے پر لاد کر چل دیے۔ آپ انہیں اس وقت تک دیکھتے رہے جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا عباس کی حرص پر بہت تعجب کیا۔ غرض آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں سے اس وقت اٹھے جبکہ ایک درہم بھی باقی نہ رہا۔ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ۔ باب القسمۃ فی المسجد)
وانہ لحب الخیر لشدید : یعنی اس ناشکری کا سبب مال کی شدید محبت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حرص، طمع اور بخل کی بد دعاتیں ہیں جن کی وجہ سے یہ اپنے منعم حقیقی کو بھلا بیٹھا ہے۔
Verse [ 100:8] وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ (and in his love for wealth, he is very intense.) Literally, the word khair means &any good thing&. Idiomatically, the word khair, in Arabic, means &wealth& implying that &wealth& is an embodiment of goodness and benefit. However, some type of wealth can involve man in untold misery. In the Hereafter, this will be the position of all wealth acquired through unlawful means. Sometimes, wealth in this world too can prove to be nuisance and disaster. Nonetheless, according to Arabic idiom, worldly goods in this verse have been described as khair as the same word in another verse [ 2:180] اِن تَرَکَ خَیراً |"...he leaves some wealth...|". In this verse as well the word khair means &wealth&. To recap, having taken oath by war-horses, the subject states two points: [ 1] man is ungrateful or he is a blamer of his Lord who remembers misfortunes and forgets His favours; and [ 2] he is passionate in his love for wealth. Both these points are evil, rationally as well as from the Shari&ah point of view. These statements warn man against these evils. The evil of ingratitude is quite obvious and needs no elaboration, but the evil of man&s violent love for wealth is not that obvious, and needs some elaboration. Wealth is the axis of man&s needs and necessities. Shari&ah has not only permitted its acquisition, but it has also made its acquisition obligatory to the degree of his needs. Therefore, what is condemned in the verse is either the &intense& or excessive love for wealth that makes one neglectful to one&s obligations, and oblivious of the divine injunctions, or the sense is that earning wealth, even saving it according to one&s needs is though permissible, having its love in the heart is bad. Let us consider the following illustration: When man feels the need to answer the call of nature, he does it out of necessity. In fact, he makes arrangements for it, but he does not develop love or passion for it in his heart. Likewise, when he falls sick and takes medication, or even undergoes surgery, but he does not develop attachment for it in his heart. He does it only out of necessity. The believer should treat the wealth in this way: A believer should acquire wealth, as Allah has commanded him, to the extent of his need, save it, look after it and utilize it whenever and wherever necessary, but his heart should not be attached to it. How elegantly Maulana Rumi (رح) has put it in one of his verses! آب اندر زیر کشتی پشتی است آب در کشتی ھلاک کشتی است |"As long as the water remains under the boat, it helps the boat [ to sail ]; but if the water seeps into the boat, it sinks it.|" Likewise, as long as the wealth floats around the boat of heart, it would be useful; but when it seeps into the heart, it will destroy it. Towards the conclusion of the Surah a warning has been sounded against these two evil qualities of man for which he will be punished in the Hereafter.
انہ لحب الخیر لشدید، خیر کے لفظی معنی ہر بھلائی کے ہیں۔ عرب میں مال کو بھی لفظ خیر سے تعبیر کرتے تھے، گویا مال بھلائی ہی بھلائی اور فائدہ ہی فائدہ ہے حالانکہ درحقیقت بعض مال انسان کو ہزاروں مصیبتوں میں بھی مبتلا کردیتے ہیں۔ آخرت میں تو ہر مال حرام کا یہی انجام ہے کبھی کبھی دنیا میں بھی مال انسان کے لئے وبال بن جاتا ہے مگر عرب کے محاورہ کے مطابق اس آیت میں مال کو لفظ خیر سے تعبیر کردیا ہے جیسا ایک دوسری آیت میں فرمایا ان ترک خیرا، یعنی یہاں بھی خیر سے مراد مال ہے۔ آیت مذکور میں گھوڑوں کی قسم کھا کر انسان کے متعلق دو باتیں کہی گئیں، ایک یہ کہ وہ ناشکر ہے۔ مصیبتوں تکلیفوں کو یادرکھتا ہے نعمتوں اور احسانات کو بھول جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ مال کی محبت میں شدید ہے۔ یہ دونوں باتیں شرعاً وعقلاً مذموم ہیں ان میں انسان کو ان مذموم خصلتوں پر متنبہ کرنا مقصود ہے۔ ناشکری کا مذموم ہانا تو بالکل ظاہر ہے۔ مال کی مخبت کو جو مذموم قرار دیا حالانکہ وہ انسانی ضروریات کا مدار ہے۔ اور اس کے کسب واکتساب کو شریعت نے صرف حلال ہی نہیں بلکہ بقدر ضرورت فرض قرار دیا ہے تو مال کی محبت کا مذموم ہونا یا تو وصف شدت کے اعتبار سے ہے کہ مال کی محبت میں ایسا مغلوب ہوجاوے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے بھی غافل ہوجائے اور حلال و حرام کی پروانہ رہے، اور یا اسلئے کہ مال کا کسب واکتساب اور بقدر ضرورت جمر کنا تو مذموم نہیں بلکہ فرض ہے مگر محبت اس کی بھی مذموم ہے کیونکہ محبت کا تعلق دل سے ہے اس کا حاصل یہ ہوگا کہ مال کو بقدر ضرورت حاص کرنا اور اس سے کام لینا تو ایک فریضہ اور محمود ہے لیکن دل میں اس کی محبت ہونا پھر بھی مذموم ہی ہے۔ جیسا انسان پیشاب پاخانے کی ضرورت کو پورا بھی کرتا ہے اس کا اہتمام بھی کرتا ہے مگر اس کے دل میں محبت نہیں ہوتی۔ بیماری میں دوا بھی پیتا ہے آپریشن بھی کراتا ہے مگر دل میں ان چیزوں کی محبت نہیں ہوتی بلکہ بدرجہ مجبوری کرتا ہے اس طرح اللہ کے نزدیک مومن کو ایسا ہونا چاہئے کہ بقدر ضرورت مال کو حاصل بھی کرے اس کی حفاظت بھی کرے اور مواقع ضرورت میں اس سے کام بھی لے مگر دل اس کے ساتھ مشغول نہ ہو، جیسا کہ مولانا رومی نے بڑے بلیغ انداز میں فرمایا ہے آب اندر زید کشتی پشتی است آب درکشتی ہلاک کشتی است یعنی پانی جب تک کشتی کے نیچے رہے تو کشتی کا مددگار ہے مگر یہی پانی جب کشتی کے اندر آجائے تو کشتی کو لے ڈوبتا ہے۔ اس طرح مال جب تک دل کی کشتی کے اردگرد رہے تو مفید ہے جب دل کے اندر گھس گیا تو ہلاکت ہے۔ آخرسورت میں انسان کی ان دونوں مذموم خصلتوں پر آخرت کی وعید سنائی گئی۔
وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ ٨ ۭ إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من المطعومات في أصل الشرع هو هذه المذکورات . وأَنْ علی أربعة أوجه : الداخلة علی المعدومین من الفعل الماضي أو المستقبل، ويكون ما بعده في تقدیر مصدر، وينصب المستقبل نحو : أعجبني أن تخرج وأن خرجت . والمخفّفة من الثقیلة نحو : أعجبني أن زيدا منطلق . والمؤكّدة ل «لمّا» نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] . والمفسّرة لما يكون بمعنی القول، نحو : وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا [ ص/ 6] أي : قالوا : امشوا . وكذلك «إِنْ» علی أربعة أوجه : للشرط نحو : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبادُكَ [ المائدة/ 118] ، والمخفّفة من الثقیلة ويلزمها اللام نحو : إِنْ كادَ لَيُضِلُّنا [ الفرقان/ 42] ، والنافية، وأكثر ما يجيء يتعقّبه «إلا» ، نحو : إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا [ الجاثية/ 32] ، إِنْ هذا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ [ المدثر/ 25] ، إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَراكَ بَعْضُ آلِهَتِنا بِسُوءٍ [هود/ 54] . والمؤكّدة ل «ما» النافية، نحو : ما إن يخرج زيد ( ان حرف ) ان وان ( حرف ) یہ دونوں اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ ان جملہ مستقل پر آتا ہے اور ان کا مابعد ایسے مفرد کے حکم میں ہوتا ہے جو اسم مرفوع ، منصوب اور مجرور کی جگہ پر واقع ہوتا ہے جیسے اعجبنی انک تخرج وعجبت انک تخرج اور تعجب من انک تخرج جب ان کے بعد ما ( کافہ ) آجائے تو یہ عمل نہیں کرتا اور کلمہ حصر کے معنی دیتا ہے ۔ فرمایا :۔ { إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ } ( سورة التوبة 28) ۔ مشرک تو پلید ہیں (9 ۔ 28) یعنی نجاست تامہ تو مشرکین کے ساتھ مختص ہے ۔ نیز فرمایا :۔ { إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ } ( سورة البقرة 173) اس نے تم امر ہوا جانور اور لہو حرام کردیا ہے (2 ۔ 173) یعنی مذکورہ اشیاء کے سوا اور کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیا اس میں تنبیہ ہے کہ معلومات میں سے جو چیزیں اصول شریعت میں حرام ہیں ان میں سے یہ چیزیں سب سے بڑھ کر ہیں ۔ ( ان ) یہ چار طرح پر استعمال ہوتا ہے (1) ان مصدریہ ۔ یہ ماضی اور مضارع دونوں پر داخل ہوتا ہے اور اس کا مابعد تاویل مصدر میں ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں یہ مضارع کو نصب دیتا ہے جیسے :۔ اعجبنی ان تخرج وان خرجت ۔ ان المخففہ من المثقلۃ یعنی وہ ان جو ثقیلہ سے خفیفہ کرلیا گیا ہو ( یہ کسی شے کی تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے جیسے ۔ اعجبنی ان زید منطلق ان ( زائدہ ) جو لما کی توکید کے لئے آتا ہے ۔ جیسے فرمایا { فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَشِيرُ } ( سورة يوسف 96) جب خوشخبری دینے والا آپہنچا (12 ۔ 92) ان مفسرہ ۔ یہ ہمیشہ اس فعل کے بعد آتا ہے جو قول کے معنیٰ پر مشتمل ہو ( خواہ وہ لفظا ہو یا معنی جیسے فرمایا :۔ { وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ } ( سورة ص 6) ان امشوا اور ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے ( اور بولے ) کہ چلو (38 ۔ 6) یہاں ان امشوا ، قالوا کے معنی کو متضمن ہے ان ان کی طرح یہ بھی چار طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ان شرطیہ جیسے فرمایا :۔ { إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ } ( سورة المائدة 118) اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں (5 ۔ 118) ان مخففہ جو ان ثقیلہ سے مخفف ہوتا ہے ( یہ تا کید کے معنی دیتا ہے اور ) اس کے بعد لام ( مفتوح ) کا آنا ضروری ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا } ( سورة الفرقان 42) ( تو ) یہ ضرور ہم کو بہکا دیتا ہے (25 ۔ 42) ان نافیہ اس کے بعداکثر الا آتا ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا } ( سورة الجاثية 32) ۔۔ ،۔ ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں (45 ۔ 32) { إِنْ هَذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ } ( سورة المدثر 25) (ٌپھر بولا) یہ ( خدا کا کلام ) نہیں بلکہ ) بشر کا کلام سے (74 ۔ 25) { إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ } ( سورة هود 54) ۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا ( کر دیوانہ کر ) دیا ہے (11 ۔ 54) ان ( زائدہ ) جو ( ما) نافیہ کی تاکید کے لئے آتا ہے جیسے : مان یخرج زید ۔ زید باہر نہیں نکلے گا ۔ حب والمحبَّة : إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه : - محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه : وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] . - ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] . - ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم . ( ح ب ب ) الحب والحبۃ المحبۃ کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں اور محبت تین قسم پر ہے : ۔ ( 1) محض لذت اندوزی کے لئے جیسے مرد کسی عورت سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ آیت : ۔ وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] میں اسی نوع کی محبت کی طرف اشارہ ہے ۔ ( 2 ) محبت نفع اندوزی کی خاطر جیسا کہ انسان کسی نفع بخش اور مفید شے سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13 اور ایک چیز کو تم بہت چاہتے ہو یعنی تمہیں خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح حاصل ہوگی ۔ ( 3 ) کبھی یہ محبت یہ محض فضل وشرف کی وجہ سے ہوتی ہے جیسا کہ اہل علم وفضل آپس میں ایک دوسرے سے محض علم کی خاطر محبت کرتے ہیں ۔ خير ( مال) الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، وقال في موضع آخر : أَيَحْسَبُونَ أَنَّما نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مالٍ وَبَنِينَ نُسارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْراتِ [ المؤمنون/ 55- 56] ، وقوله تعالی: إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، أي : مالا . وقال بعض العلماء : لا يقال للمال خير حتی يكون کثيرا، ومن مکان طيّب، كما روي أنّ عليّا رضي اللہ عنه دخل علی مولی له فقال : ألا أوصي يا أمير المؤمنین ؟ قال : لا، لأنّ اللہ تعالیٰ قال : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ولیس لک مال کثير «1» ، وعلی هذا قوله : وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ [ العادیات/ 8] ، أي : المال الکثير وقال بعض العلماء : إنما سمّي المال هاهنا خيرا تنبيها علی معنی لطیف، وهو أنّ الذي يحسن الوصية به ما کان مجموعا من المال من وجه محمود، وعلی هذا قوله : قُلْ ما أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوالِدَيْنِ [ البقرة/ 215] ، وقال : وَما تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ [ البقرة/ 273] ، وقوله : فَكاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْراً [ النور/ 33] ، قيل : عنی به مالا من جهتهم «2» ، وقیل : إن علمتم أنّ عتقهم يعود عليكم وعليهم بنفع، أي : ثواب «3» . ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ اور دوسرے مقام پر فرمایا : ۔ أَيَحْسَبُونَ أَنَّما نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مالٍ وَبَنِينَ نُسارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْراتِ [ المؤمنون/ 55- 56] کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم جود نیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں ( تو اس سے ) ان کی بھلائی میں جلد کرتے ہیں ۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ مال پر خیر کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب وہ مال کثیر ہو اور حلال طریق سے جمع کیا گیا ہو جیسا کہ مروی ہے کہ حضرت علی اپنے ایک غلام کے پاس گئے تو اس نے دریافت کیا اے امیرالمومنین : میں کچھ وصیت نہ کر جاؤں تو حضرت علی نے فرمایا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وصیت کیلئے فرمایا ہے ۔ اور خیر مال کثیر کو کہا جاتا ہے ، ، چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ [ العادیات/ 8] وہ تو مال کی سخت محبت کرنے والا ہے ۔ میں بھی خیر کے معنی مال کثیر کے ہیں ۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ آیت کریمہ میں مال کو خیر کہنے میں ایک باریک نکتہ کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ وصیت صرف اس مال میں بہتر ہے جو محمود طریق سے جمع کیا گیا ہو اس معنی میں فرمایا : ۔ قُلْ ما أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوالِدَيْنِ [ البقرة/ 215] کہدو ( جو چاہو ہو خرچ کرو لیکن ) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ دو درجہ بدرجہ اہل استحقاق میں ) مال باپ کو وما تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ [ البقرة/ 197] اور جو نیک کام کرو گے وہ خدا کو معلوم ہوجائیگا ۔ اور آیت کریمہ : فَكاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْراً [ النور/ 33] اگر تم ان میں ( صلاحیت اور ) نیکی پاؤ تو ان سے مکاتب کرلو ۔ میں بعض نے خیرا سے مال مراد لیا ہے یعنی اگر تمہیں معلوم ہو کہ ان کے پاس مال ہے شدید والشِّدَّةُ تستعمل في العقد، وفي البدن، وفي قوی النّفس، وفي العذاب، قال : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] ، عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ، يعني : جبریل عليه السلام، وقال تعالی: عَلَيْها مَلائِكَةٌ غِلاظٌ شِدادٌ [ التحریم/ 6] ، وقال : بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ، فَأَلْقِياهُ فِي الْعَذابِ الشَّدِيدِ [ ق/ 26] . والشَّدِيدُ والْمُتَشَدِّدُ : البخیل . قال تعالی: وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ [ العادیات/ 8] . ( ش دد ) الشد اور شدۃ کا لفظ عہد ، بدن قوائے نفس اور عذاب سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے ۔ عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا ؛نہایت قوت والے سے حضرت جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں ۔ غِلاظٌ شِدادٌ [ التحریم/ 6] تندخواہ اور سخت مزاج ( فرشتے) بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ان کا آپس میں بڑا رعب ہے ۔
آیت ٨{ وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ ۔ } ” اور وہ مال و دولت کی محبت میں بہت شدید ہے۔ “ مال و دولت کی محبت میں انسان اکثر اوقات حلال و حرام کی تمیز تک بھلا دیتا ہے ۔ حتیٰ کہ حرام کھاتے ہوئے وہ اپنے نفس ِلوامہ (بحوالہ سورة القیامہ ‘ آیت ٢) اور ضمیر کی ملامت کی بھی پروا نہیں کرتا۔
6 Literally "He is most ardent in the love of khair". But the word khair is not only used for goodness and virtue in Arabic but also for worldly wealth. In Surah Baqarah: 180, khair has been used in the meaning of worldly wealth. The context itself shows where khair has been used in the sense of goodness and where in that of worldly goods. The context of this verse clearly shows that here khair means worldly wealth and not virtue and goodness. For about the man who is ungrateful to his Lord and who by his conduct is himself testifying to his ingratitude it cannot be said that he is very ardent in the love of goodness and virtue.
سورة العدیات حاشیہ نمبر : 6 اصل الفاظ ہیں وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ اس فقرے کا لفظی ترجمہ یہ ہوگا کہ وہ خیر کی محبت میں بہت سخت ہے ۔ لیکن عربی زبان میں خیر کا لفظ نیکی اور بھلائی کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ مال و دولت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ چنانچہ سورہ بقرہ آیت 180 میں خیر بمعنی مال و دولت ہی استعمال ہوا ہے ۔ یہ بات کلام کے موقع و محل سے معلوم ہوتی ہے کہ کہاں خیر کا لفظ نیکی کے معنی میں ہے اور کہاں مال و دولت کے معنی میں ۔ اس آیت کے سیاق و سباق سے خود ہی یہ ظاہر ہورہا ہے کہ اس میں خیر مال و دولت کے معنی میں ہے نہ کہ بھلائی اور نیکی کے معنی میں ، کیونکہ جو انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اپنے طرز عمل سے خود اپنی ناشکری پر شہادت دے رہا ہے ، اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ نیکی اور بھلائی کی محبت میں بہت سخت ہے ۔
3: اِس سے مراد مال کی وہ محبت ہے جو اِنسان کو اپنے دِینی فرائض سے غافل کردے، یا گناہوں میں مبتلا کردے۔
(100:8) وانہ لحب الخیر لشدید : (ترکیب نحوی کے لئے ملاحظہ ہو آیت سابقہ) الخیر سے یہاں مراد مال و دولت ہے اور مال و دولت سے انسان کی محبت اظہر من الشمس ہے۔ گناہوں کا یہ سیل بےپناہ۔ مظالم کی یہ آندھیاں۔ مزدور اور سرمایہ دار کے درمیان یہ خونریز تصادم، سب کے پس پردہ دولت کی یہی بےپناہ محبت اور لالچ کار فرما ہے۔ ترجمہ :۔ اور بیشک وہ (یعنی انسان) مال کی محبت میں بہت پکا ہے۔
ف 12 یعنی حرص و طمع اور بخل نے اسے اندھا کردیا ہے یہاں تک کہ اپنے منعم حقیقی کو بھی بھلا بیٹھا ہے۔
﴿وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌؕ٠٠٨﴾ (اور بیشک وہ حب الخیر یعنی مال کی محبت میں بڑا سخت اور مضبوط ہے) مال دینے سے اور خرچ کرنے سے اس کا دل دکھتا ہے ہاتھ ہاتھ کا ایک ہونے کے لیے بڑھتا ہی نہیں ہے اور مال جمع کرنے میں بہت تیز اور آگے آگے ہے۔
3:۔ ” وانہ لحب “ یہ سبب مرض کا بیان ہے۔ انسان کے ناشکر گذارہونے کا سبب یہ ہے کہ دولت دنیا کی محبت میں بہت متشدد ہے حب مال اسے بخل وامساک پر اکساتی ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کر کے اس کا شکر گزار کرنے سے روکتی ہے۔
(8) اور بیشک انسان مال کی محبت میں بڑا قوی اور بڑا سخت ہے۔ یعنی مال کی محبت میں اندھا ہورہا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ اس مال کا انجام کیا ہونے والا ہے یا شدید کے معنی بخیل کے ہیں جیسا کہ بعض نے کہا ہے کہ یہ مال کی محبت میں بڑا بخیل ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے جان چراتا ہے۔ اوپر چونکہ جنگ کا ذکر فرمایا تھا اس لئے شاید اس آیت میں اس کا سبب بیان فرمایا ہو کہ انسان کی کنودیت اور مال کی محبت تمام جھگڑوں کی جڑ ہے آگے اس حالت پر وعید کے طور پر ارشاد فرماتے ہیں۔