Background and detailed insights on Surat ul Qariya (سورة القارعة), a Meccan Surah of 11 verses meaning “The Calamity”.
تعارف : قیامت اور آخرت پر ایمان و یقین دین اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے جسے دلوں میں جمانے اور بٹھانے کے لیے قرآن کریم میں جگہ جگہ اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سورت میں قیامت اور آخرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ اچانک ایک زبردست اور ہولناک حادثہ ہوگا۔ اس دن کی شدت کو ذہنوں میں بٹھانے کے لیے سوالیہ انداز اختیار کرتے ہوئے پوچھا ہے کیا آپ کو معلوم ہے وہ عظیم حادثہ کیا ہوگا ؟ جواب عنایت فرمایا کہ وہ ایسا ہولناک حادثہ ہوگا جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ایک دوسرے پر گرتے پڑتے ہوں گے۔ وہ عظیم الشان پہاڑ جن کی وجہ سے زمین اپنے تو ازن کو قائم رکھے ہوئے ہے وہ پہاڑ رنگ برنگ کی دھنکی ہوئی اون کی طرح فضاؤں میں اڑتے پھریں گے۔ ظاہر ہے کہ جب زمین بےوزن ہوجائے گی تو اس پر ہر چیز اور بڑی سے بڑی بلڈنگیں بھی تنکوں کی طرح ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جائیں گی۔ جو اہل ایمان ہوں گے وہ نہایت اطمینان و سکون سے اپنی قبروں سے اٹھیں گے اور کفار و مشرکین پر زبردست گھبراہٹ طاری ہوگی۔ اس کے بعد میدان حشر قائم کیا جائیگا۔ جو لوگ ابتداء سے قیامت تک پیدا ہوئے اور مرگئے ان کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا پھر اس میدان میں ” میزان عدل “ قائم کی جائے گی تاکہ ہر شخص کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق عدل و انصاف کیا جاسکے۔ ہر ایک کے اعمال کو اس ترازہ پر تول کر دیکھا جائے گا۔ جس کے اعمال میں اخلاص کی برکت سے وزن ہوگا اس کو من پسند جنت کی راحتوں میں داخل کیا جائے گا۔ اور جن لوگوں کے اعمال بےوزن اور ہلکے ہوں گے ان کو آگے سے بھرے گڑھے یعنی جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اصل میں ہمیشہ سے دنیا میں ماپ تول کا رواج رہا ہے۔ پہلے صرف ترازو اور بٹے ہوئے ہوتے تھے جن کے ذریعہ چیزوں کو تولا جاتا تھا۔ پھر سائنسی ترقی کا دور آیا تو اس میں ہوا، بارش، پانی، سردی، گرمی ، برف تک تولنے کے آلات ایجاد کئے گئے لیکن اللہ کی میزان عدل یعنی انصاف کی ترازو میں ایمان و کفر، اچھے برے اخلاق، ثواب اور گناہ، شہیدوں کا لہو اور علماء کی لکھنے والی روشنائی تک کو تول کر دیکھا جائے گا۔ اس سلسلہ میں قرآن کریم اور احادیث میں بہت سی تفصیلات اور ارشاد فرمائی گئی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ! ہم قیامت کے دن میزان عدل (انصاف کی ترازو) قائم کریں گے ۔ اس لیے کسی پر ادنی سا بھی ظلم نہ ہوگا۔ جو بھلائی اور برائی رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگی وہ بھی میزان عدل میں رکھی جائے گی اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور حساب لینے کے لیے تو ہم ہی کافی ہیں۔ فرمایا ! جس کی نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا وہ من پسند عیش و آرام میں ہوگا اور جس کی نیکیوں کا پلہ ہلکا ہوگا تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ (القارعہ) حضرت ابوذر غفاری (رض) سے روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تمہیں ایسے کام بتاتا ہوں جن پر عمل کرنا انسان کے لیے کچھ بھاری نہیں ہے لیکن میزان عدل میں وہ سب سے بھاری ہوں گے ایک حسن اخلاق اور دوسرے زیادہ تر خاموش رہنا یعنی بلاضرورت کوئی کلام نہ کرنا۔ (ابودائود۔ ترمذی) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن علماء ( کے قلم) کی روشنائی جس سے انہوں نے علم دین اور احکام دین لکھے تھے ان کو اور شہیدوں کے لہو کو تولا جائے گا تو علماء کی روشنائی کا وزن شہیدوں کے خون کے وزن سے بڑھ جائے گا۔ (امام ذہبی) حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص حاضر ہوگا جب اس کا نامہ اعمال سامنے آئے گا تو وہ نیک اعمال کم پاکر گھبرا جائے گا۔ اچانک ایک چیز بادل کی طرح اٹھ کر آئے گی اور اس کے نیک اعمال کے پہلے میں گرجائے گی اس کو بتایا جائے گا کہ یہ تیرے ان اعمال کا ثمرہ ہے جو تو دنیا میں لوگوں کو دین کے احکام و مسائل بتاتا اور سکھاتا تھا۔ یہ تیری تعلیم کا سلسلہ جب آگے چلا تو جس شخص نے اس پر عمل کیا ان سب کے اعمال میں تیرا حصہ بھی لگایا گیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اللہ کے خوف سے روتا ہے تو اس کا عمل تو لانہ جائے گا بلکہ اس کا ایک آنسو جہنم کی بڑی سے بڑی آگ کو بجھانے کے لے کافی ہوگا۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انسان کے میزان عدل میں سب سے پہلے جو عمل رکھا جائے گا وہ ہوگا جو اس نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کا عمل کیا ہوگا۔ (عبرانی) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے میدان حشر کی ” میزان عدل “ میں سے زیادہ وزن دار چیز کلمہ طیبہ ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ ہوگا۔ میزان کے جس پلے میں یہ کلمہ آگیا وہ سب سے بھاری ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں اور رحمن کو بہت محبوب ہیں مگر میزان عدل میں بہت بھاری ہوں گے۔ وہ دو کلمے یہ ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ ۔ (بخاری شریف)
سورة القارعہ کا تعارف یہ سورت اپنے نام سے شروع ہوتی ہے اس کی گیارہ آیات ہیں جو ایک رکوع پر مشتمل ہیں یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اس میں قیامت کا ایک منظر پیش کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ اس دن پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑ رہے ہوں گے اور لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح منتشر ہوں گے۔ اس دن جس کے اعمال بھاری ہوئے وہ عیش کی زندگی میں ہوگا اور جس کے وزن ہلکے ہوئے وہ دھکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا۔
سورة القارعة ایک نظر میں القارعہ کے معنی ہیں کھٹکھٹانے والی یعنی قیامت ، الطامہ ، الصاخہ ، الحاقہ ، الغاشیہ سب قیامت کے صفاتی معنی ہیں۔ القارعة قیامت کو اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے انسانی قلوب کو جھنجھوڑدے گی اور خوفزدہ کردے گی۔ یہ پوری سورت ایک ہی خوفناک منظر پر مشتمل ہے۔ اس کا مفہوم ، اس کے واقعات اور اس کا انجام سب کے سب کھٹکھٹانے والے ہیں۔ یہ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر ہے۔ اس منظر میں انسان اپنی کثرت کے باوجود نہایت ہی چھوٹے اور حقیر نظر آتے ہیں۔ ان کو اس میں۔ کالفراش المبثوث (4:101) بکھرے ہوئے پروانوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ اس طرح اڑتے ہیں ، اس طرح بکھرے پڑے ہیں اور سب کے سب موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں جس طرح پروانے اڑاڑ کر چراغ پر مرتے اور جلتے ہیں اور پھر ادھر ادھر بکھرے پڑے ہوتے ہیں۔ اور اپنے اوپر کوئی قابو نہیں رکھتے۔ نہ ان کے نزدیک اس ہلاکت کا کوئی مقصد ہے ، اور نہ وہ کوئی مقصد اپنے پیش نظر رکھتے ہیں اور نہایت ہی مضبوط اور اونچے پہاڑ اس طرح ہلکے اڑتے نظر آتے ہیں جس طرح دھنی ہوئی اون۔ جسے ہوا کے جھونکے ادھر سے ادھر اڑاتے پھرتے ہیں ، یہاں تک کہ ایک سانس بھی ان کو اڑا لیتی ہے۔ معانی کی جو تصویر اس فریم میں سجائی گئی ہے۔ اسے القارعہ کا نام دینا نہایت ہی موزوں ہے۔ یہ لفظ اپنی سخت آواز ، اپنے حروف کی سختی کیوجہ سے پہاڑوں اور انسانی دلوں کو کھٹکھٹانے کے مفہوم کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے اور انسانی قلب و شعور پر اس کے نہایت ہی اچھے اثرات پڑتے ہیں اور انسان آگے حساب و کتاب کے منظر کو دیکھنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔