Surat ul Feel
Surah: 105
Verse: 3
سورة الفيل
وَّ اَرۡسَلَ عَلَیۡہِمۡ طَیۡرًا اَبَابِیۡلَ ۙ﴿۳﴾
And He sent against them birds in flocks,
اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے ۔
وَّ اَرۡسَلَ عَلَیۡہِمۡ طَیۡرًا اَبَابِیۡلَ ۙ﴿۳﴾
And He sent against them birds in flocks,
اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے ۔
And He sent against them birds, in flocks (Ababil). Hammad bin Salamah narrated from Asim, who related from Zirr, who related from `Abdullah and Abu Salamah bin `Abdur-Rahman that they said, ( طَيْراً أَبَابِيلَ birds Ababil.) "In groups." Ibn `Abbas and Ad-Dahhak both said, "Ababil means some of them following after others." Al-Hasan Al-Basri and Qatadah both said, "Ababil means many." Mujahid said, "Ababil means in various, successive groups." Ibn Zayd said, "Ababil means different, coming from here and there. They came upon them from everywhere." Al-Kasa'i said, "I heard some of the grammarians saying, "The singular of Ababil is Ibil." Ibn Jarir recorded from Ishaq bin Abdullah bin Al-Harith bin Nawfal that he said concerning Allah's statement, وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْراً أَبَابِيلَ "This means in divisions just as camels march in divisions (in their herds)." It is reported that Ibn `Abbas said, وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْراً أَبَابِيلَ "They had snouts like the beaks of birds and paws like the paws of dogs." Ikrimah said commenting on Allah's statement, طَيْراً أَبَابِيلَ "They were green birds that came out of the sea and they had heads like the heads of predatory animals." It has been reported from `Ubayd bin `Umayr that about طَيْراً أَبَابِيلَ he commented: "They were black birds of the sea that had stones in their beaks and claws." And the chains of narration (for these statements) are all authentic. تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ
3۔ 1 ابابیل پرندے کا نام نہیں بلکہ اس کے معنی غول در غول۔
(وارسل علیھم…:” ابابیل “ عام طور پر ایک خاص قسم کی چڑیوں کو ” ابابیل “ کہا اجتا ہے، مگر یہ درست نہیں۔” ابابیل “ ان گھوڑوں یا پرندوں کو کہا جاتا ہے جو گروہ درگروہ اور ھنڈ کے جھنڈ آئیں۔ یہ لفظ جمع ہی اسعتمال ہوتا ہے، بعض نے اس کی واحد ” ابالۃ “ بیان کی ہے۔
Verse [ 105:3] طَيْرًا أَبَابِيلَ (... birds in flocks.) The word ababil is plural and is said to have no singular. It means birds in flocks, or swarms of birds. It is not the name of a particular bird. In Urdu usually ababil refers to &swallows&, they are not implied in the verse as indicated in the above narration. These birds were somewhat smaller in size than pigeon and they were birds that were never seen before. [ Said Ibn Jubair, as quoted by Qurtubi ].
وَّاَرْسَلَ عَلَيْہِمْ طَيْرًا اَبَابِيْلَ ٣ ۙ رسل ( ارسال) والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83] ، والْإِرْسَالُ يقابل الإمساک . قال تعالی: ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] ( ر س ل ) الرسل الارسال ( افعال ) کے معنی بھیجنے کے ہیں اور اس کا اطلاق انسان پر بھی ہوتا ہے اور دوسری محبوب یا مکروہ چیزوں کے لئے بھی آتا ہے ۔ کبھی ( 1) یہ تسخیر کے طور پر استعمال ہوتا ہے جیسے ہوا بارش وغیرہ کا بھیجنا ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] اور ( اوپر سے ) ان پر موسلادھار مینہ برسایا ۔ اور کبھی ( 2) کسی بااختیار وار وہ شخص کے بھیجنے پر بولا جاتا ہے جیسے پیغمبر بھیجنا چناچہ قرآن میں ہے : وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] اور تم لوگوں پر نگہبان ( فرشتے ) تعنیات رکھتا ہے ۔ فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] اس پر فرعون نے ( لوگوں کی بھیڑ ) جمع کرنے کے لئے شہروں میں ہر کارے دوڑائے ۔ اور کبھی ( 3) یہ لفظ کسی کو اس کی اپنی حالت پر چھوڑے دینے اور اس سے کسی قسم کا تعرض نہ کرنے پر بولاجاتا ہے ہے جیسے فرمایا : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83]( اے پیغمبر ) کیا تم نے ( اس باٹ پر ) غور نہیں کیا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ انہیں انگینت کر کے اکساتے رہتے ہیں ۔ اور کبھی ( 4) یہ لفظ امساک ( روکنا ) کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] تو اللہ جو اپنی رحمت دے لنگر لوگوں کے لئے ) کھول دے تو کوئی اس کا بند کرنے والا نہیں اور بندے کرے تو اس کے ( بند کئے ) پیچھے کوئی اس کا جاری کرنے والا نہیں ۔ طير الطَّائِرُ : كلُّ ذي جناحٍ يسبح في الهواء، يقال : طَارَ يَطِيرُ طَيَرَاناً ، وجمعُ الطَّائِرِ : طَيْرٌ «3» ، كرَاكِبٍ ورَكْبٍ. قال تعالی: وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ [ الأنعام/ 38] ، وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً [ ص/ 19] ، وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ [ النور/ 41] وَحُشِرَ لِسُلَيْمانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ [ النمل/ 17] ، وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ [ النمل/ 20] ( ط ی ر ) الطائر ہر پر دار جانور جو فضا میں حرکت کرتا ہے طار یطیر طیرا نا پرند کا اڑنا ۔ الطیر ۔ یہ طائر کی جمع ہے جیسے راکب کی جمع رکب آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ [ الأنعام/ 38] یا پرند جو اپنے پر دل سے اڑتا ہے ۔ وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً [ ص/ 19] اور پرندوں کو بھی جو کہ جمع رہتے تھے ۔ وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ [ النور/ 41] اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی ۔ وَحُشِرَ لِسُلَيْمانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ [ النمل/ 17] اور سلیمان کے لئے جنون اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے ۔ وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ [ النمل/ 20] انہوں نے جانوروں کا جائزہ لیا ۔ إبل قال اللہ تعالی: وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَيْنِ [ الأنعام/ 144] ، الإبل يقع علی البعران الکثيرة ولا واحد له من لفظه . وقوله تعالی: أَفَلا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ [ الغاشية/ 17] قيل : أريد بها السحاب فإن يكن ذلک صحیحاً فعلی تشبيه السحاب بالإبل وأحواله بأحوالها . وأَبَلَ الوحشيّ يأبل أُبُولًا، وأبل أَبْلًا اجتزأ عن الماء تشبّها بالإبل في صبرها عن الماء . وكذلك : تَأَبَّلَ الرجل عن امرأته : إذا ترک مقاربتها وأَبَّلَ الرجل : کثرت إبله، وفلان لا يأتبل أي : لا يثبت علی الإبل إذا ركبها، ورجل آبِلٌ وأَبِلٌ: حسن القیام علی إبله، وإبل مُؤَبَّلة : مجموعة . والإبّالة : الحزمة من الحطب تشبيهاً به، وقوله تعالی: وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْراً أَبابِيلَ [ الفیل/ 3] أي : متفرّقة کقطعات إبلٍ ، الواحد إبّيل ( اب ل ) الابل ۔ اونٹ کا گلہ ۔ اس کا واحد اس مادہ سے نہیں آتا قرآن میں ہے ۔ { وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَيْنِ } [ الأنعام : 144] اور دو اونٹوں میں سے ۔ اور آیت کریمہ ۔ { أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ } [ الغاشية : 17] کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے عجیب ) پیدا کئے گئے ہیں ) میں بعض نے کہا ہے کہ ابل بمعنی سحاب ہے یہ قول صرف معنی تشبیہ کے اعتبار سے صحیح ہوسکتا ہے کیونکہ کثرت اسفار میں بادل اور اونٹ میں یک گونہ مشابہت پائی جاتی ہے ۔ ابل الوحشی أُبُولًاوابل ابلا ۔ وحشی جانور کا اونٹ کی طرح پانی سے بےنیاز ہونا ۔ تَأَبَّلَ الرجل عن امرء ته ۔ عورت سے مقاربت ترک کرنا ابل الرجل ۔ بہت اونٹوں والا فلان لا یابل فلاں اونٹ پرجم کر سوار نہیں ہوسکتا ۔ رجل ابل وابل اونٹوں کا اچھی طرح انتظام کرنے والا ابل مؤبلۃ اکھٹے کئے ہوئے اونٹ الابالۃ ۔ لکڑیوں کو گٹھا ۔ اور آیت کریمہ ۔ { وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ } [ الفیل : 3] میں ابابیل کے معنی یہ ہیں کہ ان پر پرندے اونٹوں کی مختلف ٹکڑیوں کی طرح قطار در قطار بھیجے گئے اور ابابیل کا واحد اببیل ہی ۔
5 Ababil means many separate and scattered groups whether of men or other creatures, which come from different sides successively. 'Ikrimah and Qatadah say that these swarms of birds had come from the Red Sea side. Sa`id bin Jubair and 'Ikrimah say that such birds had neither been seen before nor ever after; these were neither birds of Najd, nor of Hijaz, nor of Timamah (the land between Hijaz and the Red Sea) . lbn 'Abbas says that their beaks were like those of birds and claws like the dog's paw. 'Ikrimah has stated that their heads were like the heads of the birds of prey, and almost all the reporters are agreed that each bird carried a stone in its beak and two stones in its claws. Sotne people of Makkah had these stones preserved with them for a long time. Thus, Abu Nu`aim has related a statement of Naufal bin Abi Mu`awiyah, saying that he bad seen the stones wich had been thrown on the people of the elephant; they equalled a small pea seed in size and were dark red in colour. According to Ibn `Abbas's tradition that Abu Nu`aim has related, they were equal to a pine kernel, and according to Ibn Marduyah, equal to a goat's dropping. Obviously, all the stones might not be equal but differing in size to some extent.
سورة الفیل حاشیہ نمبر : 5 اصل میں طَيْرًا اَبَابِيْلَ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ اردو زبان میں چونکہ ابابیل خاص قسم کے پرندے کو کہتے ہیں اس لیے ہمارے ہاں لوگ عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ ابرھہ کی فوج پر ابابیلیں بھیجی گئی تھیں ۔ لیکن عربی زبان میں ابابیل کے معنی ہیں بہت سے متفرق گروہ جو پے در پے مختلف سمتوں سے آئیں ، خواہ وہ آدمیوں کے ہوں یا جانوروں کے ۔ عکرمہ اور قتادہ کہتے ہیں کہ یہ جھنڈ کے جھنڈ پرندے بحر احمر کی طرف سے آئے تھے ۔ سعید بن جبیر اور عکرمہ کہتے ہیں کہ اس طرح کے پرندے نہ پہلے کبھی دیکھے گئے تھے نہ بعد میں دیکھے گئے ۔ یہ نہ نجد کے پرندے تھے ، نہ حجاز کے ، اور نہ تہامہ یعنی حجاز اور بحر احمر کے درمیان ساحلی علاقے کے ۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ ان کی چونچیں پرندوں جیسی تھیں اور پنجے کتے جیسے ۔ عکرمہ کا بیان ہے کہ ان کے سر شکاری پرندوں کے سروں جیسے تھے ۔ اور تقریبا سب راویوں کا متفقہ بیان ہے کہ ہر پرندے کی چونچ میں ایک ایک کنکر تھا اور پنجوں میں دو دو کنکر ۔ مکہ کے بعض لوگوں کے پاس یہ کنکر ایک مدت تک محفوظ رہے ۔ چنانچہ ابو نعیم نے نوفل بن ابی معاویہ کا بیان نقل کیا ہے کہ میں نے وہ وہ کنکر دیکھے ہیں جو اصحاب الفیل پر پھینکے گئے تھے ۔ وہ مٹر کے چھوٹے دانے کے برابر سیاہی مائل سرخ تھے ۔ ابن عباس کی روایت ابو نعیم نے یہ نقل کی ہے کہ وہ چلغوزے کے برابر تھے اور ابن مردویہ کی روایت میں ہے کہ بکری کی مینگنی کے برابر ۔ ظاہر ہے کہ سارے سنگریز ایک ہی جیسے نہ ہوں گے ۔ ان میں کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہوگا ۔
(105:3) وارسل علیہم طیرا ابابیل : وارسل کا عطف الم یجعل پر ہے۔ کیونکہ الم نجعل کا معنی جعل ہے (اس لئے خبر کا عطف خبر پر ہوگیا۔ (تفسیر مظہری) ارسل فلانا علیہ۔ کسی کو کسی پر مسلط کرنا۔ کسی کو کسی کے خلاف مقابلہ کے لئے بھیجنا۔ تسلط جمانے کے لئے ان پر بھیجا۔ طیرا ۔ ارسل کا مفعول ہے (واحد و جمع) پرندہ۔ (طیر جمع اور واحد) مذکر ، مؤنث سب کے لئے آتا ہے) ۔ ابابیل۔ یہ طیرا کی صفت ہے۔ بمعنی جھنڈ کے جھنڈ، پرے کے پرے۔ چناچہ اہل عرب بولتے ہیں جاءت الخیل ابابیل من ھھنا وھھنا (ادھر ادھر سے سواروں کے پرے کے پرے آئے) اخفش اور فراء کے نزدیک اس کی واحد نہیں ہے۔ جیسے شما طیط (ٹولی ۔ جاءت الخیل شما طیط۔ گھوڑے مختلف ٹولیوں میں بٹے ہوئے آئے) اور عبادید (لوگوں کے فرقے، گھوڑوں کے گلے) کی واحد نہیں آتی۔ اور کسائی کے قول کے مطابق عجول (واحد) عجا جیل (جمع) کے وزن پر ابابیل کی واحد ابول ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور ان پر پرندوں کے جھنڈ جھنڈ بھیجے۔
وارسل ................................ کعصف ماکول (3:105 تا 5) ” اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے جو ان کے اوپر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے ، پھر ان کا یہ حال کردی جیسے (جانوروں کا ) کھایا ہوا بھوسا “۔ ابابیل (3:105) کے معنی جھنڈ کے ہوتے ہیں۔ سجیل (4:105) فارسی سے معرب ہے اور دولفظوں سے مرکب ہے ” سنگ گل “ یعنی مٹی کو پکاکر اس سے پتھر بنادیا گیا تھا ، یا ایسے پتھر تھے جو کیچڑ کے ساتھ آلودہ تھے۔ کعصف (5:105) کے معنی ہیں درختوں کے خشک پتے ۔ عصف کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ ماکول ہے۔ یعنی کھایا ہوا ہے یعنی پتوں کی حالت یہ ہے کہ ان کو حشرات الارض نے کھا کر پیس دیا ہے ، یا حیوانات نے چپا کر ریزہ ریزہ کردیا اور پیس دیا۔ یہ ایک حسی تصویر کشی ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پرندوں کے جھنڈ ان پر پتھر مارتے تھے تو ان کے اجسام ریزہ ریزہ ہوجاتے تھے۔ لہٰذا ایسی تاویلات کی ضرورت نہیں ہے کہ چیچک یا خسرے کی وجہ سے ان کے اجسام ریزہ ریزہ ہوگئے۔ اس واقعہ میں جو حقائق بیان ہوئے وہ کئی زاویوں سے ہمارے لئے عبرت انگیز اور بصیرت افروز ہیں : اس سے پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ نے یہ پسند نہ فرمایا کہ وہ اپنے گھر کی حمایت اور اس کا بچاﺅ مشرکین کے ذریعہ انجام دے۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو اس گھر کی طرف منسوب کرتے تھے ، وہ اسے بچانے کی کوشش بھی کرتے اور اس میں پناہ بھی لیتے۔ جب اللہ نے ارادہ کیا کہ وہ اس گھر کو بچائے اور اس کی حفاظت کرے اور سا کی حمایت کا اعلان کرے اور اس گھر پر غیرت کرے ، تو اللہ نے مشرکین مکہ کی حالت اس طرح کردی کہ وہ اس جارح قوت کے سامنے بےبس ہوجائیں اور قدرت الٰہیہ بالکل عیاں ہو کر اپنے گھر کی حفاظت کرے جو ایک محترم گھر ہے تاکہ بیت اللہ کی حفاظت میں مشرکین کا کوئی تاریخی کردار نہ ہو ، جس کے تحت حمیت جاہلیت کا کذبہ کارفرما ہوتا ہے۔ یہ نکتہ اس بات کو بھی ترجیح دے دیتا ہے کہ اس حملہ آور لشکر کی ہلاکت میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی اور معجزانہ انداز اختیار کیا۔ اور ان کی ہلاکت میں کوئی عام مالوف طریقہ اختیار نہ کیا گیا تھا۔ یہ بات زیادہ مناسب اور قرین قیاس ہے۔ خانہ کعبہ کی حمایت میں اس کھلی مداخلت کا تقاضا یہ تھا کہ قریش اور بیت اللہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے عرب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد خود اسلام میں داخل ہوتے اور بیت اللہ کی خدمت اور فوقیت پر فخر نہ کرتے اور بیت اللہ کے ارد گرد انہوں نے بت پرستی کا جو جال پھیلا رکھا تھا وہ ان کے اسلام میں داخل ہونے کے لئے مانع نہ ہوتا مگر افسوس کہ انہوں نے اسالم قبول نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں اس حادثہ کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے کہ اہل قریش کو شرمندہ کیا جائے اور یہ گویا ان پر تنقید ہے اور ان کے معاندانہ موقف پر تعجب کا اظہار ہے کہ کیوں نہ انہوں نے اس واقعہ سے کوئی عبرت لی۔ اس سے دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ نے اہل کتاب ، ابرہہ اور اس کے لشکر کو توفیق نہ دی کہ وہ اس گھر کو گراسکیں اور اس مقدس سرزمین پر اپنی حکومت قائم کرسکیں۔ اگرچہ اسگھر کے متوالی بھی مشرک ہوں ، تاکہ یہ گھر کسی بھی استعماری قوت کے تسلط سے آزاد رہے۔ اس علاقے میں کوئی بیرونی سازش کارفرمانہ ہو۔ اور اس سرزمین کی آزادی محفوظ ہوتا کہ اللہ کی تقدیر میں یہاں سے جو جدید دین اور جدید نظریہ اٹھنے والا تھا وہ آزادی کی فضا میں نمودار ہو۔ اس پر کسی حکومتی اقتدار کا دباﺅ نہ ہو۔ اور کوئی بیرونی ڈکٹیٹر یہاں سرکشی نہ کرسکے اور کوئی دین اس دین سے برتر نہ ہو جو تمام ادیان کو اپنی گرفت میں لینے والا تھا اور جو پوری انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ اپنے ہاتھ میں لینے والا تھا ، کسی سے رہنمائی لینے والا نہ تھا۔ یہ تھی اللہ کی تدبیر نبی آخر الزمان اور آپ کے دین کے لئے۔ یہ بات اس وقت ہورہی تھی ، جب کہ لوگوں کو معلوم نہ تھا کہ اس نئے دین کا قائد اسی سال پیدا ہوگیا ہے۔ آج عالمی صلبیت اور عالمی صیہونیت مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کو نہایت فاجرانہ اور لالچی نظروں سے دیکھتے ہیں اور ان کے ان مکارانہ منصوبوں کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں ، لیکن اس سورت سے ہمیں جو اشارات ملتے ہیں ان سے ہمیں ایک گونہ اطمینان نصیب ہوجاتا ہے کہ اسلام کے مقامات مقدسہ کے خلاف ان کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ جس اللہ نے اپنے گھر کو اہل کتاب سے اس وقت بھی بچایا جب اس کے متولی اور مجاور مشرک تھے تو وہ اس کی حفاظت آج بھی کرے گا۔ اسی طرح اللہ اپنے نبی کے شہر کو بھی ان سازشوں اور للچائی ہوئی مکارانہ نظروں سے بچائے گا۔ تیسری بات یہ کہ اس کرہ ارض پر ماضی میں عربوں کا کوئی قابل ذکر کردار نہ تھا بلکہ اسلام سے قبل ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ یمن میں وہ اہل فارس اور حبشیوں کے غلام تھے۔ اگر کہیں جنوبی عرب میں ان کی کوئی حکومت قائم بھی ہوئی تو وہ ایرانیوں کے زیر انتداب تھی۔ شمال میں شام کا علاقہ رومی مملکت کے تحت تھا۔ یہ علاقہ یا تو براہ راست رومی سلطنت کے تحت ہوتا یا وہ یہاں اپنے زیر حمایت کوئی عربی سلطنت قائم کرتے۔ صرف جزیرة العرب کا قلب ہی ایسا علاقہ تھا جو کسی غیر حکومت کے اثرورسوخ سے پاک تھا لیکن اس علاقے کا کوئی عالمی کردار نہ تھا۔ یہ ایک پسماندہ بدوی علاقہ تھا۔ اس علاقے میں جب قبائلی جنگ چھڑ جاتی تو یہ چالیس چالیس سال تک جاری رہتی۔ اس انتشار کی وجہ سے ان علاقوں کے باشندوں کی کوئی وقعت قریب ممالک کے ہاں نہ تھی۔ ان کی جو جنگی حیثیت تھی اس کا اظہار ہاتھ والوں کی مہم کے دوران ہوگیا تھا کہ وہ کسی بیرونی حملہ آور کے مقابلے کی ہمیت نہ رکھتے تھے۔ عربوں کا عالمی کردار ادا کرنے کا موقعہ ، سب سے پہلے اسلام کے جھنڈے تلے نصیب ہوا۔ ان کی ایک ایسی عالمی مملکت وجود میں آئی جس کی کوئی حیثیت تھی اور لوگ اس کا شمار بھی کرتے تھے۔ یہ دراصل سیلاب کی طرح ایک عالمی انقلاب تھا۔ اس انقلاب میں کئی مملکتیں بہہ گئیں ، کئی تخت گر گئے اور انسانیت کی قیادت کا مقام عربوں کو حاصل ہوگیا ۔ یہ اس وقت ہوا جب اس کرہ ارض پر سے گمراہ اور کھوٹی قیادتوں کے اختیارات زائل کردیئے گئے۔ سول یہ ہے کہ عربوں کو یہ مقام کب اور کیوں حاصل ہوا ؟ یہ مقام انہیں اس وقت حاصل ہوا جب انہوں نے اس بات کو بھلا دیا کہ وہ عرب ہیں۔ انہوں نے علاقائی ، نسل اور لسانی عصبیت کے نعروں کو بھلا دیا۔ انہوں نے صرف اس بات کو یاد رکھا کہ وہ مسلم ہیں اور صرف مسلم ہیں۔ انہوں نے صرف اسلام کے جھنڈے بلند کیے اور وہ ایک عظیم نظریہ حیات لے کر اٹھے اور اسے تمام انسانوں تک پہنچا دیا۔ وہ انسانیت کے لئے رحم اور اس کے لئے بھلائی کے حامل بن گئے۔ انہوں نے نہ قومیت کا نعرہ بلند کیا ، نہ نسلی عصبیت کا ، بلکہ وہ ایک آسمانی ہدایت پر مبنی فکر لے کر اٹھے اور اسے ایک آسمانی ہدایت کے طور پر لوگوں تک پہنچایا۔ انہوں نے دین اسلام کو ایک دنیاوی مذہب اور دنیاوی نظریہ کے طور پر نہ لیا جس سے ان کا مقصد یہ نہ تھا کہ کوئی عربی امپیریلزم قائم کردیں ، تاکہ اس کے زیر سایہ اس زمین پر خوب پھریں اور چگیں۔ ان کی ناک اونچی ہو ، اور وہ دنیا میں اس شہنشاہیت کی وجہ سے بڑے بن جائیں اور لوگوں کو رومیوں اور فارسیوں کی حکومت سے نکال کر عربوں کی حکومت میں داخل کردیں بلکہ وہ اس لئے اٹھے تھے کہ لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ وحدہ کی بندگی میں داخل کریں۔ جیسا کہ یزدگرد کی مجلس میں مسلمانوں کے نمائندے حضرت ربعی ابن عامر نے کہا۔” اللہ نے ہمیں اس لئے اٹھیا ہے کہ ہم لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں داخل کریں۔ اور دنیا کی تنگ دامنی سے نکال کر آخرت کی وسعتوں میں داخل کردیں اور عوام کو دوسرے ادیان کے ظلم سے نکال کر اسلام کے انصاف میں داخل کریں “۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا میں عربوں کا وجود قائم ہوا ، ان کو قوت ملی ، ان کی قیادت قائم ہوئی ، لیکن یہ دعوت اللہ کے لئے تھی اور یہ جہاد اللہ کی راہ میں تھا۔ یہ قوت ایک عرصہ تک قائم رہی ، ایک زمانہ تک وہ انسانیت کے قائد رہے ، جب تک کہ وہ اپنے طریقے پر قائم رہے۔ جب انہوں نے اسلامی نظریہ حیات سے انحراف کیا اور وہ قومی عصبیت کے داعی بنے اور انہوں نے اللہ کے جھنڈے بلند کرنے کی بجائے عصبیت کے جھنڈے اٹھا لئے ، تو زمین نے ان کو پرے پھینک دیا ، اقوام عالم نے انہیں روند ڈالا کیونکہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ دیا تو اللہ نے ان کو چھوڑ دیا اور جس طرح انہوں نے اللہ کو بھلا دیا اللہ نے بھی ان کو بھلا دیا۔ سوال یہ ہے کہ اسلام کے سوا عربوں کی حیثیت ہی کیا ہے ؟ اگر وہ اسلامی عقیدہ ، اسلامی تصورات اور افکار کو ایک طرف رکھ دیں تو ان کے پاس کیا چیز ہے جو وہ انسانیت کے سامنے پیش کرسکتے ہیں ؟ اور اگر کسی قوم کے پاس انسانوں کے لئے کوئی پیغام نہیں ہے تو وہ قوم ہی کیا ہے ؟ تاریخ عالم گواہ ہے کہ جن اقوام نے کبھی انسانیت کی قیادت کی ، ان کے پاس ایک فکر تھی ، ایک پیغام تھا جو انہوں نے انسانیت کو دیا۔ جن اقوام کے پاس کوئی پیغام نہ تھا مثلاً تاتاری ، جنہوں نے پورے مشرق کو روندڈالا اور برابر جنہوں نے عالم عرب پر سے رومیوں کی سلطنت کو ختم کیا۔ یہ لوگ طویل عرصہ تک زندہ نہ رہ سکے ، بلکہ یہ ان اقوام ہی کے اندر پگھل گئے جن کو انہوں نے فتح کیا تھا۔ یاد رہے کہ عربوں نے انسانیت کو جس نظریہ سے نوازا وہ فقط اسلامی نظریہ حیات تھا۔ اس نظریہ کی وجہ سے وہ عالمی قیادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ جب انہوں نے اس نظریہ کو پس پشت ڈال دیا تو اس کرہ ارض پر ان کا کوئی کام ہی نہ رہا۔ تاریخ سے ان کا کردار ختم ہوگیا۔ آج عرب اگر زندہ رہنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اس سبق کو یاد رکھیں۔ اگر وہ قوت اور قیادت چاہتے ہیں ورنہ ان کی کوئی حیثیت قائم نہیں ہوسکتی۔ اللہ ہی ہے جو گمراہوں کو ہدایت دے سکتا ہے۔