Surat ul Quraish

Quraysh

Surah: 106

Verses: 4

Ruku: 1

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف : مکہ مکرمہ پہاڑوں سے گھری ہوئی وادی، ریت کے ٹیلوں اور صحراؤں سے ڈھکی ہوئی آبادی تھی جس میں سوائے بکریوں کے چرانے ، سوت کاتنے اور معمولی کھتی باڑی کے اور کوئی ذریعہ معاش نہ تھا۔ پانی کی شدید قلت اور کمی کی وجہ سے نہ ان کے باغ اور کھیتیاں تھیں جن سے وہ پھل اور پیداوار حاصل کرسکتے۔ ضروریات زندگی کو پورا کرنے کا اہم ترین ذریعہ تجارت اور آس پاس کے ملکوں کی تجارتی منڈیوں سے استعمال کی چیزیں لا کر فروخت کرنے پر تھا۔ اسی لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کو ” وادی غیر ذی زرع “ قرار دیا تھا یعنی ایسی وادی جس میں کوئی چیز اگتی نہ تھی۔ اس سب کے باوجود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعات کی برکت سے ” وارزق اھلہ من الثمرات ‘( اے اللہ یہاں کے رہنے والوں کو ہر طرح کے ثمرات (سامان رزق) عطا فرمائیے گا) ۔ اہل مکہ تجارت کے ذریعہ اپنا اور اپنے گھروالوں کا پیٹ پال لیا کرتے تھے۔ لیکن آئے روز کی لڑائیاں، ایک قبیلے کی دوسرے قبیلے کے ساتھ دشمنیاں، ہر طرف لوٹ مار اور قتل و غارت گریوں نے ہر شخص پر ایک خوف طاری کر رکھا تھا۔ بدامنی اور فسادات نے فقر و فاقے، بھوک اور افلاس کی انتہاؤں پر پہنچا دیا تھا یہاں تک کہ لوگ ضروری کپڑوں اور پورے لباس تک سے محروم ہوچکے تھے۔ پورے جزیرۃ العرب کا یہ حال تھا کہ حرمت والے مہینوں (رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم) کے سوا جس میں عرب والے جنگ اور قتل و غارت گری کو حرام اور ناجائز سمجھتے تھے دو ردور تک امن و سلامتی کا وجود نہ تھا۔ اسی لئے عکاظ کا میلہ اور ذی المجازا اور مجنہ کی منڈیاں ان چار مہینوں ہی میں لگا کرتی تھیں۔ حالانکہ ہر شخص اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے کہ اگر تجارت کرنے والوں کو راستے کا امن، سکون، سلامتی اور اطمینان حاصل نہ ہو تو وہ کسی قسم کی تجارت کر ہی نہیں سکتے۔ یہی حال جزیرۃ العرب کا تھا کہ راستے کا امن و سلامتی نہ ہونے کی وجہ سے ہر قافلہ خوف اور ڈر کی وجہ سے راتوں رات عرب کے علاقے سے نکل کر یمن، شام، فلسطین اور مصر کے ملکوں کا سفر اختیار کرتا تھا اور اسی طرح وہ قافلہ لزرتا کانپتا اور سلامی کی دعائیں کرتا ہو اواپس آیا کرتا تھا ۔ لیکن ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید ترین بدامنی، بھوک اور افلاس کے زمانہ میں بھی قریشیوں کا یہ حال تھا کہ وہ بغیر کسی خوف کے ہر موسم اور ہر ملک کا سفر کرتے رہتے تھے کیونکہ عرب کے جنگجو قبییلے بھی ” بنو قریش “ کو کچھ نہیں کہتے تھے کہ ان کو کچھ نہ کہو یہ ” اللہ کے گھرکے رکھوالے ہیں “۔ اس طرح قریش سردیوں میں یمن کی طرف اور گرمیوں میں شام، فلسطین، مصر اور آس پاس کے ملکوں کا سفر بڑی آزادی کے ساتھ کیا کرتے تھے انہیں کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہوا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قریش کو یاد دلایا ہے کہ انہیں تجارت کی یہ سہولتیں ان کی کسی ذاتی صلاحیت کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کے گھر کی وجہ سے عطا کی گئی ہیں۔ بدامنی میں سکون اور سلامتی اور بھوک و افلاس میں رزق یہ محض اللہ کے فضل و کرم کی وجہ سے ہے۔ فرمایا کہ اے قریشیو ! تمہیں تو اسی ” رب البیت “ کی عبادت و بندگی کرنی چاہیے جس نے تمہیں اس حالت میں بھی ہزاروں نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ یہ انتہائی ناشکری کی بات ہے کہ جس اللہ نے تمہیں دنیا بھر کی قوموں میں سراٹگھا کر چلنے کی توفیق دی ہے اسی اللہ کے دین سے سرکشی اختیار کی جائے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة قریش کا تعارف اس سورت کی چار آیات میں جو ایک رکوع قرار دی گئی ہیں اس کا نام اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے۔ یہ سورت بھی مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اس میں قریش کو تین احسان بتلا کر حکم دیا گیا ہے کہ انہیں دوسروں کی عبادت سے ہٹ کر صرف کعبہ کے رب کی عبادت کرنی چاہیے یہی کعبہ کی تعمیر اور انسان کی تخلیق کا مقصد ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ سورت ، اپنے موضوع اور فضا کے اعتبار سے سورت فیل کا تسلسل ہے۔ اگرچہ یہ مستقل سورت ہے اور دونوں کے درمیان مصاحف میں بسم اللہ الرحمان الرحیم درج ہے۔ قرآن کی ترتیب نزولی سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة الفیل اور سورة القریش کے درمیان 9 سورتیں نازل ہوئیں ، لیکن مصحف میں ان کو ایک دوسرے کے ساتھ اس لئے پیوست کیا گیا ہے کہ اس میں موضوع ومضمون کی ترتیب کا لحاظ رکھا گیا ہے

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi