Rewarding the People of Faith
Allah the Exalted says;
إِنَّ الَّذِينَ امَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ وَأَخْبَتُواْ إِلَى رَبِّهِمْ
أُوْلَـيِكَ أَصْحَابُ الجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
Verily, those who believe and do righteous good deeds, and humble themselves before their Lord, they will be the dwellers of Paradise to dwell therein forever.
When Allah, the Exalted, mentioned the condition of the wretched, He also commended the people of delight (the believers). They are those who believe and work righteous deeds. Thus, their hearts believed and their limbs worked righteous deeds, both in statements and actions. This includes their performance of deeds of obedience and their abandonment of evils. In this way they are the inheritors of Gardens (of Paradise),
which contain lofty rooms and seats arranged in rows.
Therein they will find bunches of fruit near to them, elevated couches, fair and beautiful wives, various types of fruit, desired kinds of food and delicious drinks.
They also will be allowed to see the Creator of the heavens and the earth and they will be in this state of pleasure forever.
They will not die, nor will they grow old.
They will not experience sickness, nor will they sleep.
They will not have excrement, nor will they spit or snot.
Their sweat will be the perfume of musk.
The Parable of the Believers and the Disbelievers
Then, Allah, the Exalted, makes a parable of the disbelievers and the believers.
He says,
عقل و ہوش اور ایمان والے لوگ
بروں کے ذکر کے بعد اچھے لوگوں کا بیان ہو رہا ہے جن کے دل ایمان والے ، جن کے جسمانی اعضا فرماں برداری کرنے والے تھے ، قول و فعل سے فرمان رب بجا لانے والے اور رب کی نافرمانی سے بچنے والے تھے یہ لوگ جنت کے وارث ہوں گے ۔ بلند و بالا بالا خانے ، بچھے بچھائے تخت ، چکھے ہوئے خوشوں اور میوؤں کے درخت ابھرے ابھرے فرش ، خوبصورت بیویاں ، قسم قسم کے خوش ذائقہ پھل ، چاہت کے لذیذ کھانے پینے اور سب سے بڑھ کر دیدار الٰہی یہ نعمتیں ہوں گی جو ان کے لیے ہمیشگی کے لیے ہوں گی ۔ نہ انہیں موت آئے گی نہ بڑھاپا ، نہ بیماری ، نہ غفلت ، نہ رفع حاجت ہوگی ، نہ تھوک ، نہ ناک مشک ، نہ بو والا پسینہ آیا اور غذا ہضم ۔ پہلے بیان کردہ کافر شقی لوگ اور یہ مومن متقی لوگ بالکل وہی نسبت رکھتے ہیں جو اندھے بہرے اور بینا ۔ اور سنتے میں ہے کافر دنیا میں حق کو دیکھنے میں اندھے تھے اور آخرت کے دن بھی بھلائی کی راہ نہیں پائیں گے نہ اسے دیکھیں گے ۔ وہ حقانیت کی دلیلوں کی سننے سے بہرے تھے ، نفع دینے والی بات سنتے ہی نہ تھے ، اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ انہیں ضرور سناتا ۔ اس کے برخلاف مومن سمجھ دار ، ذکی ، عاقل ، عالم ، دیکھتا ، بھالتا ، سوچتا ، سمجھتا حق و باطل میں تمیز کرتا ۔ بھلائی لے لیتا ، برائی چھوڑ دیتا ، دلیل اور شبہ میں فرق کر لیتا اور باطل سے بچتا ، حق کو مانتا ۔ بتلائیے یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟ تعجب ہے کہ پھر بھی تم ایسے دو مختلف شخصوں میں فرق نہیں سمجھتے ۔ ارشاد ہے ( لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۭ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ 20 ) 59- الحشر:20 ) دوزخی اور جنتی ایک نہیں ہوتے جنتی تو بلکل کامیاب ہیں اور آیت میں ہے اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں ، اندھیرا اور اُجالا برابر نہیں ، سایہ اور دھوپ برابر نہیں ، زندہ اور مردہ برابر نہیں ۔ اللہ تو جسے چاہے سنا سکتا ہے تو قبر والوں کو سنا نہیں سکتا ۔ تو تو صرف آ گاہ کر دینے والا ہے ۔ ہم نے تجھے حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ، ہر ہر امت میں ڈرانے والا ہو چکا ہے ۔