Surat Hood

Surah: 11

Verse: 23

سورة هود

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخۡبَتُوۡۤا اِلٰی رَبِّہِمۡ ۙ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۳﴾

Indeed, they who have believed and done righteous deeds and humbled themselves to their Lord - those are the companions of Paradise; they will abide eternally therein.

یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے اور اپنے پالنے والے کی طرف جھکتے رہے ، وہی جنت میں جانے والے ہیں ، جہاں وہ ہمیشہ ہی رہنے والے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Rewarding the People of Faith Allah the Exalted says; إِنَّ الَّذِينَ امَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ وَأَخْبَتُواْ إِلَى رَبِّهِمْ أُوْلَـيِكَ أَصْحَابُ الجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ Verily, those who believe and do righteous good deeds, and humble themselves before their Lord, they will be the dwellers of Paradise to dwell therein forever. When Allah, the Exalted, mentioned the condition of the wretched, He also commended the people of delight (the believers). They are those who believe and work righteous deeds. Thus, their hearts believed and their limbs worked righteous deeds, both in statements and actions. This includes their performance of deeds of obedience and their abandonment of evils. In this way they are the inheritors of Gardens (of Paradise), which contain lofty rooms and seats arranged in rows. Therein they will find bunches of fruit near to them, elevated couches, fair and beautiful wives, various types of fruit, desired kinds of food and delicious drinks. They also will be allowed to see the Creator of the heavens and the earth and they will be in this state of pleasure forever. They will not die, nor will they grow old. They will not experience sickness, nor will they sleep. They will not have excrement, nor will they spit or snot. Their sweat will be the perfume of musk. The Parable of the Believers and the Disbelievers Then, Allah, the Exalted, makes a parable of the disbelievers and the believers. He says,

عقل و ہوش اور ایمان والے لوگ بروں کے ذکر کے بعد اچھے لوگوں کا بیان ہو رہا ہے جن کے دل ایمان والے ، جن کے جسمانی اعضا فرماں برداری کرنے والے تھے ، قول و فعل سے فرمان رب بجا لانے والے اور رب کی نافرمانی سے بچنے والے تھے یہ لوگ جنت کے وارث ہوں گے ۔ بلند و بالا بالا خانے ، بچھے بچھائے تخت ، چکھے ہوئے خوشوں اور میوؤں کے درخت ابھرے ابھرے فرش ، خوبصورت بیویاں ، قسم قسم کے خوش ذائقہ پھل ، چاہت کے لذیذ کھانے پینے اور سب سے بڑھ کر دیدار الٰہی یہ نعمتیں ہوں گی جو ان کے لیے ہمیشگی کے لیے ہوں گی ۔ نہ انہیں موت آئے گی نہ بڑھاپا ، نہ بیماری ، نہ غفلت ، نہ رفع حاجت ہوگی ، نہ تھوک ، نہ ناک مشک ، نہ بو والا پسینہ آیا اور غذا ہضم ۔ پہلے بیان کردہ کافر شقی لوگ اور یہ مومن متقی لوگ بالکل وہی نسبت رکھتے ہیں جو اندھے بہرے اور بینا ۔ اور سنتے میں ہے کافر دنیا میں حق کو دیکھنے میں اندھے تھے اور آخرت کے دن بھی بھلائی کی راہ نہیں پائیں گے نہ اسے دیکھیں گے ۔ وہ حقانیت کی دلیلوں کی سننے سے بہرے تھے ، نفع دینے والی بات سنتے ہی نہ تھے ، اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ انہیں ضرور سناتا ۔ اس کے برخلاف مومن سمجھ دار ، ذکی ، عاقل ، عالم ، دیکھتا ، بھالتا ، سوچتا ، سمجھتا حق و باطل میں تمیز کرتا ۔ بھلائی لے لیتا ، برائی چھوڑ دیتا ، دلیل اور شبہ میں فرق کر لیتا اور باطل سے بچتا ، حق کو مانتا ۔ بتلائیے یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟ تعجب ہے کہ پھر بھی تم ایسے دو مختلف شخصوں میں فرق نہیں سمجھتے ۔ ارشاد ہے ( لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۭ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ 20؀ ) 59- الحشر:20 ) دوزخی اور جنتی ایک نہیں ہوتے جنتی تو بلکل کامیاب ہیں اور آیت میں ہے اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں ، اندھیرا اور اُجالا برابر نہیں ، سایہ اور دھوپ برابر نہیں ، زندہ اور مردہ برابر نہیں ۔ اللہ تو جسے چاہے سنا سکتا ہے تو قبر والوں کو سنا نہیں سکتا ۔ تو تو صرف آ گاہ کر دینے والا ہے ۔ ہم نے تجھے حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ، ہر ہر امت میں ڈرانے والا ہو چکا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨ ٢] یہ درمیان میں ایمان والوں اور ان کی جزا کے متعلق جو آیت آئی ہے تو یہ اللہ کی اس سنت کے مطابق ہے کہ جہاں کفار اور ان کے انجام کا ذکر آتا ہے تو ساتھ ہی اہل ایمان اور ان کی جزا کا بھی ذکر آتا ہے اور اس کے برعکس بھی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْٓا ۔۔ : ” وَاَخْبَتُوْٓا “ ” اِخْبَاتٌ“ کا معنی ہے جھکنا، عاجزی کرنا، مطمئن ہونا۔ جمل (رح) نے فرمایا : ” اَخْبَتَ لَہُ “ کا معنی ہے ” خَشَعَ وَ خَضَعَ لَہُ “ وہ اس کے سامنے عاجز ہوگیا اور ” اَخْبَتَ اِلَیْہِ “ کا معنی ہے ” اِطْمَءَنَّ اِلَیْہِ “ کہ وہ اس کی طرف سے مطمئن ہوگیا۔ سب سے بڑے ظالموں، یعنی اللہ پر جھوٹ باندھنے والے کفار و مشرکین کے بعد اب اہل ایمان کا تذکرہ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اعمال صالحہ کیے اور اپنے رب کے سامنے عاجز اور اس کی تقدیر اور فیصلے پر مطمئن ہوگئے وہ جنت کے مالک ہوں گے۔ ” اخبات “ والوں کی کچھ صفات سورة حج (٣٤، ٣٥، ٥٤) میں آئی ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْٓا اِلٰي رَبِّہِمْ۝ ٠ۙ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَــنَّۃِ۝ ٠ۚ ہُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝ ٢٣ خبت الخَبْتُ : المطمئن من الأرض، وأَخْبَتَ الرّجل : قصد الخبت، أو نزله، نحو : أسهل وأنجد، ثمّ استعمل الإخبات استعمال اللّين والتّواضع، قال اللہ تعالی: وَأَخْبَتُوا إِلى رَبِّهِمْ [هود/ 23] ( خ ب ت ) الخبت ۔ نشیبی اور نرم زمین کو کہتے ہیں اور اخبت الرجل کے معنی نشیبی اور نرم زمین کا قصد کرنے یا وہاں اترنے کے ہیں ( جیسے اسھل وانجد ) اس کے بعد لفظ الاخبات ( افعال ) نرمی اور تواضع کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَأَخْبَتُوا إِلى رَبِّهِمْ [هود/ 23] اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی حالت پر قائم رہیں گی اور ان میں تغیر پیدا نہیں ہوگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] یہی صاحب جنت میں ہمشہ اسمیں رہیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٣) یقیناً جو لوگ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور کامل طریقہ پر اطاعت خداوندی کی اور اپنے رب کی طرف جھکے اور ادل سے فرمانبرداری خشوع کو ظاہر کیا ایسے حضرات اہل جنت ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

As for those who believed and acted righteously and dedicated themselves totally to their Lord -they are the people of Paradise, and there they shall abide forever. 27

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :27 یہاں عالم آخرت کا بیان ختم ہوا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

23 ۔ 24 ۔ اوپر کی آیتوں میں بدبختوں کا حال بیان فرما کر اب ان آیتوں میں نیک بخت اور سعادت مندوں کا حال بیان فرمایا کہ جن لوگوں نے اچھے اچھے عمل کئے اور ہر ایک حکم کو خدا کے بجا لائے اور جن چیزوں سے ان کو منع کیا تھا ان سے باز رہے ان کے واسطے خدا نے جنت مقرر کی ہے جس میں طرح طرح کی نعمتیں اور انواع و اقسام کے کھانے اور ہر ایک طرح کے آرام و راحت کا سامان ہے وہ اس میں رہیں گے۔ وہاں پھر نہ موت آئے گی نہ نیند پسینے تک سے مشک کی خوشبو آئے گی۔ وہاں نہ بوڑھے ہوں گے نہ بیمار پھر اللہ نے ان کفار اور ان مومن بندوں کے درمیان میں فرق بیان کیا کہ وہ کفار ایسے ہیں جیسے اندھے اور بہرے کہ ان کو بھلائی کا رستہ نہیں سوجھتا اور نہ سچی سچی باتیں سنتے ہیں اور یہ مومن بندے ایسے ہیں جیسے سننے دیکھنے والا کہ ہر ایک بات کو سنتے اور دیکھتے ہیں اور حق و ناحق میں فرق کرتے ہیں اس لئے ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے کہ یہ فرق سمجھنے اور عبرت پکڑنے کے قابل ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے شداد بن اوس (رض) کی ایک معتبر روایت گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عقل مند وہ شخص ہے جو موت سے پہلے موت کے بعد کا کچھ سامان کرلیوے اور عقل سے بےبہرہ وہ شخص ہے جو عمر بھر اس سے غافل رہے اور پھر عقبیٰ کی بہبودی کی توقع اللہ سے رکھے۔ ١ ؎ ان آیتوں میں فرمانبردار نافرمان بردار گروہ کی یہ مثال جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کہ فرمانبردار گروہ ایک ہوشیار آنکھ کان سے کام لینے والے شخص کی مانند ہے اور نافرمان گروہ ایک بیوقوف آنکھ کان سے بخبر شخص کی مانند ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ٧٣٢ ج ٢ تفسیر سورة نوح۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:23) اخبتوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ وہ جھکے۔ انہوں نے عاجزی کی۔ اضبات (افعال) سے جس کے معنی تواضع۔ اور خشوع و خضوع کے ہیں۔ الخبت اصل میں نشیبی اور نرم زمین کو کہتے ہیں۔ اخبت الرجل آدمی نے نشیبی اور نرم زمین کا قصد کیا یا وہاں اتر گیا۔ اس کے بعد لفظ الاخبات (افعال) نرمی اور تواضع کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے وبشر المخبتین (22:34) اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو ۔ آیہ ہذا میں واخبتوا الی ربھم اور اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی۔ اور حضرت ابن عباس (رض) کے قول کے مطابق اس کا معنی خافوا ہے قتادہ (رض) نے رجوع کا معنی کیا ہے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 24 اخبتوا (وہ جھکے رہے) الریقین (دو جماعتیں) اعمی (اندھا) اصم (بہرا) بصیر (دیکھنے والا) سمع (سننے والا) یستوین (دونوں برابر ہیں) افلا تذکرون (کیا پھر بھی تم دھیان نہیں دیتے ہو) تشریح : آیت نمبر 23 تا 24 گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کی اس کیفیت کو تفصیل سے بیان کیا ہے کہ ان کا کام ظلم و زیادتی کرنا، اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ گھڑنا، سازشیں کرنا دین کی ہر بات میں ٹیڑھ پن تلاش کرنا نہ تو وہ خود حق و صداقت کی راہ پر چلتے ہوں اور نہ دوسروں کو اس راہ پر چلنے کی کوششوں کو پسند کرتے ہیں بلکہ ان کے لئے طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوں۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو دو گنا عذاب دیا جائے گا اور آخرت میں ان کو سوائے ذلت و رسوائی کے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا اور ان کو جہنم میں ہمیشہ کے لئے جھونک دیا جائے گا۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مان کر ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنے والے ہیں جو ہمیشہ اللہ کے سامنے جھکے رہنے والے ہیں ان کے لئے وہ راحت بھری جنتیں ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو فریقین قرار دیا ہے یعنی ایک وہ فریق اور جماعت ہے جو اللہ و رسول کی اطاعت سے منہ پھیر کر چلنے والی ہے اور دوسرا فریق اور جماعت وہ ہے جو ایمان، عمل صالح اور اللہ کے سامنے عاجزی سے جھکے رہنے کو سعادت سمجھنے والی ہے فرمایا کہ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے جس طرح ایک اندھا اور بہرا شخص اس کے برابر نہیں ہو سکتا جو آنکھوں والا اور کانوں سے سننے والا ہو اسی طرح یہ دونوں فریق کبھی برابر کا درجہ، رتبہ اور مقام اور نجات میں برابری حاصل نہیں کرسکتے۔ فرمایا کہ اہل ایمان وہ ہیں جو ایمان کی روشنی رکھنے والے اور ہمیشہ کی نجات حاصل کرنے والے ہیں ان کو جنتیں اور تمام راعتیں عطا کی جائیں گی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی انقیاد اور خشوع دل میں پیدا کیا۔ 3۔ یہ دونوں کے انجام کا تفاوت بیان ہوگیا آگے تفاوت حال کی مثال ہے۔ جس پر تفاوت مال مرتب ہوتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ملعون لوگوں کے بعد نیک مخلصین کا ذکر۔ قرآن مجید حسب دستور دو قسم کے لوگوں اور کرداروں کے درمیان تقابل بیان کرتا ہے۔ کیا اندھے اور بہرے، دیکھنے والے اور سننے والے برابر ہوسکتے ہیں۔ حقائق نہ دیکھنے اور نہ سننے کی وجہ سے اندھوں اور بہروں کا انجام جہنم کی آگ ہے۔ جو ناقابل تلافی نقصان ہے۔ اتنا فرق ہونے کے باوجود لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ اللہ کے حضور عاجزی کرنیوالے لوگ اپنے رب کی رضا کے لیے حقیقت کو بغور دیکھتے اور سنتے ہیں۔ عاجزی کرنے والوں سے مراد اس پر عمل کرنے والے ہیں۔ جس کی تاکید اور وضاحت ایمان اور عمل صالح سے کردی ہے۔ ” اَخْبَتُوْٓا “ کا لغوی معنی ” عاجزی اختیار کرنا “ جس کا اجر جنت ہے اور اللہ کے حضور عاجزی کرنے والے جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ قرآن مجید باربار بتلاتا اور سمجھاتا ہے کہ ایمان کے ساتھ صالح عمل کرنا لازم ہے۔ ایمان اور عمل صالح کا اتنا گہرا تعلق ہے کہ یہ ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتے۔ نہ ہی ایک دوسرے سے جدا ہو کر ان کی کوئی حیثیت رہتی ہے۔ جنت کی سجاوٹ : (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الْجَنَّۃُ مَا بِنَاؤُہَا قَالَ لَبِنَۃٌ مِنْ فِضَّۃٍ وَلَبِنَۃٌ مِنْ ذَہَبٍ وَمِلاَطُہَا الْمِسْکُ الأَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُہَا اللُّؤْلُؤُ وَالْیَاقُوتُ وَتُرْبَتُہَا الزَّعْفَرَانُ مَنْ یَّدْخُلْہَا یَنْعَمْ وَلاَ یَبْأَسْ وَیُخَلَّدْ وَلاَ یَمُوْتُ لاَ تَبْلَی ثِیَابُہُمْ وَلاَ یَفْنَی شَبَابُہُمْ ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ الجنۃ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت کی بناوٹ اس طرح ہے کہ ایک اینٹ چاندی کی اور ایک سونے کی اور اس کا گارا خوشبودار کستوری ہے۔ اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں اور اس کی مٹی زعفران کی ہے جو اس میں داخل ہوگا وہ خوش و خرم ہوگا اسے کوئی تکلیف نہ ہوگی وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اسے موت نہیں آئے گی کپڑے بوسیدہ نہیں ہوں گے اور نہ جوانی ختم ہوگی۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یُؤْتَی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِأَنْعَمِ أَہْلِ الدُّنْیَا مِنَ الْکُفَّارِ فَیُقَالُ اغْمِسُوْہُ فِی النَّارِ غَمْسَۃً فَیُغْمَسُ فِیْہَا ثُمَّ یُقَالُ لَہُ أَیْ فُلاَنٌ ہَلْ أَصَابَکَ نَعِیْمٌ قَطُّ فَیَقُوْلُ لاَ مَا أَصَابَنِی نَعِیْمٌ قَطُّ وَیُؤْتَی بِأَشَدِّ الْمُؤْمِنِینَ ضُرًّا وَبَلاَءً فَیُقَالُ اغْمِسُوْہُ غَمْسَۃً فِی الْجَنَّۃِفَیُغْمَسُ فِیْہَا غَمْسَۃً فَیُقَالُ لَہُ أَیْ فُلاَنٌ ہَلْ أَصَابَکَ ضُرٌّ قَطُّ أَوْ بَلاَءٌ فَیَقُوْلُ مَا أَصَابَنِی قَطُّ ضُرٌّ وَلاَ بَلاَءٌ )[ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزہد، باب صفۃ النار ] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیامت کے دن کفار میں سے دنیا کے خوشحال ترین آدمی کو لایا جائے گا اور حکم ہوگا اسے جہنم میں غوطہ دلواؤ۔ اسے غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے پوچھاجائے گا کیا تجھے دنیا میں کبھی کوئی نعمت حاصل ہوئی ہے۔ وہ کہے گا نہیں مجھے کبھی کوئی نعمت نہیں ملی۔ سخت تکالیف پھر آزمائشوں میں مبتلا رہنے والے مومن کو لایا جائے گا کہا جائے گا اسے جنت کی ایک جھلک دکھلاؤ پھر اس سے پوچھاجائے گا۔ کیا تجھے کبھی کوئی تکلیف لاحق ہوئی ؟ وہ کہے گا میں کبھی بھی تکلیف و آزمائش میں مبتلا نہیں کیا گیا۔ “ مسائل ١۔ اللہ پر ایمان لانے والے، عمل صالح کرنے والے اور اپنے رب کی طرف جھکنے والے ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ ٢۔ اندھا اور بینا برابر نہیں ہوسکتے۔ ٣۔ بہرا اور سننے والا برابر نہیں ہوسکتے۔ ٤۔ اللہ کی آیات کا انکار کرنے والے نقصان اٹھائیں گے۔ تفسیر بالقرآن نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے : ١۔ کیا اندھا اور بینا، بہرا اور سننے والا برابر ہوسکتے ہیں ؟ (ہود : ٢٤) ٢۔ اندھا اور دیکھنے والا، نیک اور بدبرابر نہیں ہوسکتے۔ (المومن : ٥٨) ٣۔ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے۔ (السجدۃ : ١٨) ٤۔ اللہ مجرموں اور مومنوں کو برابر نہیں رکھے گا۔ (القلم : ٣٥۔ ٣٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس کے مقابلے میں اہل ایمان ہیں اور وہ لوگ جو ایمان کے بعد عمل صالح بھی رکھتے ہیں ، وہ اپنے رب کی جانب سے بےحد مطمئن ہوں گے ، انہیں پورا وثوق ہوگا کہ ان کے اعمال صالح کا پورا پورا اجر ملے گا۔ نہایت ہی پرسکون ، ہر قسم کی پریشانیوں اور شکو وں سے دور۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْٓا۔ اخبات کے معنی ہیں اطمینان ، استقرار وثوق اور تسلیم و رضا۔ یہ لفظ ایک حقیقی مومن اور اس کے رب کے درمیان پائے جانے والے تعلق کی بہت ہی اچھی تصویر کشی کرتا ہے۔ مومن مکمل طور پر اللہ کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔ اس کی طرف سے اس پر جو حالت بھی آتی ہے اس پر مطمئن ہوتا ہے اس کے نفس میں ایک ٹھہراؤ ہوتا ہے ، اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور اسے امن ، قرار اور رضا کی کیفیت مل جاتی ہے۔ اب دونوں پر تبصرہ دیکھیے (اگلی آیت میں)

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ارشاد ہے۔ (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْا اِلٰی رَبِّھِمْ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ) (بےشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور اپنے رب کی طرف جھکے یہ لوگ اہل جنت ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

26: یہ ماننے والوں اور اعمال صالحہ بجالانے والے اور عاجزی کرنے والے مخلصین کے لیے بشارت اخروی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

23 بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور نیک اعمال کے پابند رہے اور اپنے رب کی طرف دل سے جھکے رہے اور عاجزانہ روش اختیار کی توای سے ہی لوگ اہل جنت ہیں وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔