Surat Hood

Surah: 11

Verse: 35

سورة هود

اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ قُلۡ اِنِ افۡتَرَیۡتُہٗ فَعَلَیَّ اِجۡرَامِیۡ وَ اَنَا بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُجۡرِمُوۡنَ ﴿٪۳۵﴾  3

Or do they say [about Prophet Muhammad], "He invented it"? Say, "If I have invented it, then upon me is [the consequence of] my crime; but I am innocent of what [crimes] you commit."

کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے خود اسی نے گھڑ لیا ہے؟ تو جواب دے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہو تو میرا گناہ مجھ پر ہے اور میں ان گناہوں سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

An Interruption to verify the Truthfulness of the Prophet Allah says; أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ... Or they (the pagans of Makkah) say: "He has fabricated it." This is presented in the middle of the story to affirm the story itself. It is as if Allah, the Exalted, is saying to Muhammad, "Or do these obstinate disbelievers say that he fabricated this and invented it himself!" ... قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ إِجْرَامِي .... Say: "If I have fabricated it, upon me be my crimes..." This means: such sin would be mine alone. ... وَأَنَاْ بَرِيءٌ مِّمَّا تُجْرَمُونَ but I am innocent of (all) those crimes which you commit. This story is not invented, or fabricated falsely. Because he (the Prophet) knows better the punishment of Allah for one who lies on Allah.

کفار کا الزام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جواب یہ درمیانی کلام اس قصے کے بیچ میں اس کی تائید اور تقریر ہے کہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ یہ کفار تجھ پر اس قرآن کے از خود گھڑ لینے کا الزام لگا رہے ہیں تو جواب دے کہ اگر ایسا ہے تو میرا گناہ مجھ پر ہے میں جانتا ہوں کہ اللہ کے عذاب کیسے کچھ ہیں؟ پھر کیسے ممکن ہے کہ میں اللہ پر جھوٹ افتراء گھڑ لوں؟ ہاں اپنے گناہوں کے ذمے دار تم آپ ہو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

35۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک یہ مکالمہ قوم نوح (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان ہوا اور بعض کا خیال ہے کہ یہ جملہ معترضہ کے طور پر نبی اکرم اور مشرکین مکہ کے درمیان ہونے والی گفتگو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ قرآن میرا گھڑا ہوا ہے اور میں اللہ کی طرف سے منسوب کرنے میں جھوٹا ہوں تو میرا جرم ہے، اس کی سزا میں ہی بھگتوں گا۔ لیکن تم جو کچھ کر رہے ہو، جس سے میں بری ہوں، اس کا بھی تمہیں پتہ ہے ؟ اس کا وبال تو مجھ پر نہیں، تم پر ہی پڑے گا کیا اس کی بھی تمہیں کچھ فکر ہے ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٢] کفار مکہ اور قوم نوح میں مماثلت :۔ سابقہ آیات میں نوح (علیہ السلام) کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں اور جو کچھ ان کی قوم ان کو جواب دیتی اور ان سے تکرار کرتی رہی وہ بعینہ ویسے ہی تھے جو رسول اللہ کو مکہ میں قریش مکہ کی طرف سے پیش آرہے تھے لہذا قریش مکہ کو یہ شبہ لاحق ہوا کہ یہ تو ہمارے ہی حالات اور سوال و جواب ہیں جو نوح (علیہ السلام) کا نام لے کر ہمارے سامنے پیش کیے جارہے ہیں۔ چناچہ انہوں نے رسول اللہ پر ایک الزام یہ بھی لگا دیا کہ یہ باتیں تو یہ خود ہی بنا کر ہمارے سامنے بیان کر رہا ہے اور && گفتہ آید در حدیث دیگراں && کے مصداق ہم پر ہی یہ چوٹ کی جارہی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ قریش مکہ سیدنا نوح کے واقعات سے عبرت حاصل کرتے مگر اس کے بجائے ان کا ذہن برے پہلو کی طرف گیا اور اپنی اصلاح کرنے کی بجائے آپ پر ایک اور الزام لگا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ آپ ان سے کہیے کہ اگر تمہارے کہنے کے مطابق یہ واقعہ میں نے گھڑا ہے تو پھر میں ہی اس جرم کا ذمہ دار ہوں لیکن جو جرائم تم کر رہے ہو ان کی بھی کچھ فکر ہے ؟ وہ تو تمہیں ہی بھگتنا ہوں گے نہ کہ مجھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۭ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ ۔۔ : اس آیت کی مفسرین نے الگ الگ تفسیریں کی ہیں۔ بعض نے اسے نوح (علیہ السلام) کے قصے ہی سے متعلق سمجھتے ہوئے اس میں خطاب نوح (علیہ السلام) سے قرار دیا ہے اور بعض نے اسے نوح (علیہ السلام) کے قصے کے درمیان جملہ معترضہ قرار دیا ہے اور اسے مشرکین مکہ کا قول قرار دے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب قرار دیا ہے، یعنی کیا (مکہ کے کافر) کہتے ہیں کہ اس (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے اس (قرآن) کو اپنے دل سے گھڑ لیا ہے۔ (اے محمد ! ) کہہ دے اگر میں نے اسے اپنے دل سے گھڑا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر پڑے گا اور تم جو گناہ کرتے ہو میں اس کی ذمہ داری سے بری ہوں۔ علمائے تفسیر میں سے رازی اور ان کی موافقت میں شوکانی نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے اور لکھا ہے کہ یہی اکثر مفسرین کا قول ہے۔ حافظ ابن کثیر اور صاحب کشاف نے دوسری تفسیر کو راجح قرار دیا ہے، یہی رائے شاہ عبد القادر (رض) کی ہے، امکان دونوں کا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىہُ۝ ٠ۭ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُہٗ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۝ ٣٥ ۧ فری الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ للإفساد، والِافْتِرَاءُ فيهما، وفي الإفساد أكثر، وکذلک استعمل في القرآن في الکذب والشّرک والظّلم . نحو : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] ، ( ف ری ) الفری ( ن ) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں اور افراء افعال ) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ۔ افتراء ( افتعال کا لفظ صلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال افسادی ہی کے معنوں میں ہوتا ہے اسی لئے قرآن پاک میں جھوٹ شرک اور ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا ۔ جرم أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة : ردیء التمر المَجْرُوم، وجعل بناؤه بناء النّفاية، وأَجْرَمَ : صار ذا جرم، نحو : أثمر وألبن، واستعیر ذلک لکل اکتساب مکروه، ولا يكاد يقال في عامّة کلامهم للكيس المحمود، ومصدره : جَرْم، قوله عزّ وجل : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] ومن جَرَم، قال تعالی: لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقاقِي أَنْ يُصِيبَكُمْ [هود/ 89] ، فمن قرأ بالفتح فنحو : بغیته مالا، ومن ضمّ فنحو : أبغیته مالا، أي أغثته . وقوله عزّ وجلّ : وَلا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى أَلَّا تَعْدِلُوا [ المائدة/ 8] ، وقوله عزّ وجل : فَعَلَيَّ إِجْرامِي[هود/ 35] ، فمن کسر فمصدر، ومن فتح فجمع جرم . واستعیر من الجرم۔ أي : القطع۔ جَرَمْتُ صوف الشاة، وتَجَرَّمَ اللیل ( ج ر م ) الجرم ( ض) اس کے اصل معنی درخت سے پھل کاٹنے کے ہیں یہ صیغہ صفت جارم ج جرام ۔ تمر جریم خشک کھجور ۔ جرامۃ روی کھجوریں جو کاٹتے وقت نیچے گر جائیں یہ نفایۃ کے وزن پر ہے ـ( جو کہ ہر چیز کے روی حصہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ) اجرم ( افعال ) جرم دلا ہونا جیسے اثمر واتمر والبن اور استعارہ کے طور پر اس کا استعمال اکتساب مکروہ پر ہوتا ہے ۔ اور پسندیدہ کسب پر بہت کم بولا جاتا ہے ۔ اس کا مصدر جرم ہے چناچہ اجرام کے متعلق فرمایا : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] جو گنہگار ( یعنی کفاب میں وہ دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے ۔ اور جرم ( ض) کے متعلق فرمایا :۔ لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقاقِي أَنْ يُصِيبَكُمْ [هود/ 89] میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کا م نہ کر اور کہ ۔۔ تم پر واقع ہو ۔ یہاں اگر یجرمنکم فتہ یا کے ساتھ پڑھا جائے تو بغیتہ مالا کی طرح ہوگا اور اگر ضمہ یا کے ساتھ پر ھا جائے تو ابغیتہ مالا یعنی میں نے مال سے اس کی مدد کی ) کے مطابق ہوگا ۔ وَلا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى أَلَّا تَعْدِلُوا [ المائدة/ 8] اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے ۔ کہ انصاف چھوڑ دو ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ فَعَلَيَّ إِجْرامِي[هود/ 35] تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر ۔ میں ہوسکتا ہے کہ اجرام ( بکسرالہمزہ ) باب افعال سے مصدر ہو اور اگر اجرام ( بفتح الہمزہ ) پڑھا جائے تو جرم کی جمع ہوگی ۔ اور جرم بمعنی قطع سے بطور استعارہ کہا جاتا ہے ۔ حرمت صوف الشاۃ میں نے بھیڑ کی اون کاٹی تجرم اللیل رات ختم ہوگئی ۔ برأ أصل البُرْءِ والبَرَاءِ والتَبَرِّي : التقصّي مما يكره مجاورته، ولذلک قيل : بَرَأْتُ من المرض وبَرِئْتُ من فلان وتَبَرَّأْتُ وأَبْرَأْتُهُ من کذا، وبَرَّأْتُهُ ، ورجل بَرِيءٌ ، وقوم بُرَآء وبَرِيئُون . قال عزّ وجلّ : بَراءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ التوبة/ 1] ( ب ر ء ) البرء والبراء والتبری کے اصل معنی کسی مکردہ امر سے نجات حاصل کرتا کے ہیں ۔ اس لئے کہا جاتا ہے ۔ برءت من المریض میں تندرست ہوا ۔ برءت من فلان وتبرءت میں فلاں سے بیزار ہوں ۔ ابررتہ من کذا وبرء تہ میں نے اس کو تہمت یا مرض سے بری کردیا ۔ رجل بریء پاک اور بےگناہ آدمی ج برآء بریئوں قرآن میں ہے ؛۔ { بَرَاءَةٌ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ } ( سورة التوبة 1) اور اس کے رسول کی طرف سے بیزاری کا اعلان ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٥) بلکہ قوم نوح تو یہ کہتی ہے کہ نوح (علیہ السلام) جو پیغام ہمارے پاس لے کر آئے ہیں یہ انہوں نے خود بنایا ہے تو آپ فرمادیجیے کہ اگر بالفرض ایسا ہو تو اس کا گناہ مجھ پر ہوگا اور تمہارے گناہوں سے میں بری الذمہ رہوں گا اور کہا گیا کہ یہ آخری آیت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق میں نازل ہوئی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٥ (اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۭ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ ) یہ ایک جملہ معترضہ ہے جو حضرت نوح کے ذکر کے درمیان آگیا ہے۔ اس میں رسول اللہ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! یہ تمام باتیں جو ہم آپ کو بذریعہ وحی بتاتے ہیں ‘ جیسے حضرت نوح اور آپ کی قوم کی گفت و شنید نقل ہوئی ‘ تو مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں اور قصے آپ خود اپنی طرف سے بنا کر انہیں سناتے ہیں۔ آپ ان پر واضح کردیں کہ میں اگر واقعی یہ جرم کر رہا ہوں تو اس کا وبال بھی مجھ ہی پر آئے گا۔ مگر آپ لوگ اس کے دوسرے پہلو پر بھی غور کریں کہ اگر یہ کلام واقعی اللہ کی طرف سے ہے تو اس کو جھٹلا کر تم لوگ جس جرم کے مرتکب ہو رہے ہو ‘ اس کے نتائج بھی پھر تم لوگوں کو ہی بھگتنا ہیں۔ بہر حال میں علی الاعلان کہے دیتا ہوں کہ میں تمہارے اس جرم سے بالکل بری ہوں۔ اس جملہ معتر ضہ کے بعد حضرت نوح کے ذکر کا سلسلہ دوبارہ وہیں سے جوڑا جا رہا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

39. The context seems to suggest how the opponents reacted to the narration of Noah's story. It seems they would have objected to it on the grounds that the true purpose of narrating Noah's story was to show how it was applicable to the unbelievers. They presumably pointed out that the Prophet (peace be on him) had invented such stories merely to ridicule and disgrace them; that these stories were merely a means whereby he could malign them. The main theme of the discourse has been interrupted here in order to respond to this objection. Petty people are apt to misinterpret things. Their mental baseness allows them only to perceive that which is evil and to disregard those aspects which are good. If someone offers a piece of wisdom, or seeks to convey a piece of good advice, or draws the attention of someone to any of his weaknesses, a wise person will benefit from what is said and will reform himself. But a petty person will always be inclined to see something evil in it. Such an attitude will reduce to naught the wisdom or sincere counsel that was offered. Moreover, such a person will continue to adhere to his evil ways. Not only that but he is also likely to attribute some evil motive to the person who had sought to say a word of wisdom or to furnish him with sincere advice. Even the best advice goes to waste if someone misunderstands it. For it is possible that someone may construe a piece of advice as arising not out of sincere concern for but out of a desire to taunt. In such instances, instead of dispassionately examining his own life with a view to identifying his flaws and weaknesses, this person is likely to feel offended. Such a person will be wont to assume, and will often go about saying, that the advice was actuated by ulterior motives and was meant to insult him. Suppose a reformer mentions, for instructive purposes, what is going on in society. It is possible that some of the things mentioned might also be applicable to a person's case and might seem to allude to some actual flaw or shortcoming in his character. Now, it is quite possible that the reformer did not intend to point an accusing finger at any particular person. Instead, he merely wanted to bring to people's attention the unhealthy attitudes found in society. If the person concerned is wise, he will not enmesh himself with questions about whether the reformer's statement was meant to cast a slur on his character. He will recognize instead the worth of the statement, will seize its instructive aspects, and will make an effort to mend his behaviour accordingly. However, if a man has a warped mind and is given only to seeing evil intentions in people's actions, he is likely to fling accusations at the reformer. He will go about condemning his statement as a bundle of fabrications concocted with a view to bringing him into disrepute. It is for this reason that the Prophet (peace be on him) was asked to say that if he had fabricated something, he would be responsible for the sin of such a fabrication. This would not, however, absolve others of the guilt and evils they had committed in the past and which they continued to commit.

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :39 انداز کلام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے حضرت نوح علیہ السلام کا یہ قصہ سنتے ہوئے مخالفین نے اعتراض کیا ہوگا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ قصے بنا بنا کر اس لیے پیش کرتا ہے کہ انہیں ہم پر چسپاں کرے ۔ جو چوٹیں وہ ہم پر براہ راست نہیں کرنا چاہتا ان کے لیے ایک قصہ گھڑتا ہے اور اس طرح ” در حدیث دیگراں “ کے انداز میں ہم پر چوٹ کرتا ہے ۔ لہٰذا سلسلہ کلام توڑ کر ان کے اعتراض کا جواب اس فقرے میں دیا گیا ۔ واقعہ یہ ہے کہ گھٹیا قسم کے لوگوں کا ذہن ہمیشہ بات کے برےپہلو کی طرف جایا کرتا ہے اور اچھائی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کہ بات کے اچھے پہلو پر ان کی نظر جا سکے ۔ ایک شخص نے اگر کوئی حکمت کی بات کہی ہے یا وہ تمہیں کوئی مفید سبق دے رہا ہے یا تمہاری کسی غلطی پر تم کو متنبہ کر رہا ہے تو اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنی اصلاح کرو ۔ مگر گھٹیا آدمی ہمیشہ اس میں برائی کا کوئی ایسا پہلو تلاش کرے گا جس سے حکمت اور نصیحت پر پانی پھیر دے اور نہ صرف خود اپنی برائی پر قائم رہے بلکہ قائل کے ذمے بھی الٹی کچھ برائی لگا دے ۔ بہتر سے بہتر نصیحت بھی ضائع کی جا سکتی ہے اگر سننے والا اسے خیر خواہی کے بجائے ” چوٹ “ کے معنی میں لے لے اور اس کا ذہن اپنی غلطی کے احساس و ادراک کے بجائے برا ماننے کی طرف چل پڑے ۔ پھر اس قسم کے لوگ ہمیشہ اپنی فکر کی بنا پر ایک بنیادی بدگمانی پر رکھتے ہیں ۔ جس بات کے حقیقت واقعی ہونے اور ان بناوٹی داستان ہونے کا یکساں امکان ہو ، مگر وہ ٹھیک ٹھیک تمہارے حال پر چسپاں ہو رہی ہو اور اس میں تمہاری کسی غلطی کی نشان دہی ہوتی ہو ، تو تم ایک دانش مند آدمی ہوگے اگر اسے ایک واقعی حقیقت سمجھ کر اس کے سبق آموز پہلو سے فائدہ اُٹھاؤ گے ، اور محض ایک بدگمان و کج نظر آدمی ہو گے اگر کسی ثبوت کے بغیر یہ الزام لگا دو گے کہ قائل نے محض ہم پر چسپاں کرنے کے لیے یہ قصہ تصنیف کر لیا ہے ۔ اسی بنا پر یہ فرمایا کہ اگر یہ داستان میں نے گھڑی ہے تو اپنے جرم کا میں ذمہ دار ہوں ، لیکن جس جرم کا تم ارتکاب کر رہے ہو وہ تو اپنی جگہ قائم ہے اور اس کی ذمہ داری میں تم ہی پکڑے جاؤ گے نہ کے میں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

17: حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعے کے درمیان یہ آیت جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہے۔ توجہ اس طرف دلائی گئی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا یہ واقعہ جس تفصیل کے ساتھ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان فرما رہے ہیں، اسے معلوم کرنے کا آپ کے پاس کوئی ذریعہ وحی کے سوا نہیں ہے، اور جس انداز و اسلوب میں وہ بیان ہورہا ہے، وہ من گھڑت نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس کے باوجود کفار عرب کا انکار کرنا محض ہٹ دھرمی پر مبنی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٥۔ اس آیت میں اس بات کا اختلاف ہے کہ یہ آیت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی شان میں ہے یا حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کفار مکہ یہ کہتے تھے۔ بعضے مفسروں نے یہ کہا ہے کہ جو کچھ نوح (علیہ السلام) کی قوم حضرت نوح (علیہ السلام) پر اعتراض کیا کرتی تھی وہی اعتراض کفار بھی حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کرتے تھے مگر یہ قول صحیح نہیں معلوم ہوتا کیونکہ نوح (علیہ السلام) کو کوئی کتاب نہیں ملی تھی حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن مجید نازل ہوا تو کفار مکہ کہنے لگے کہ یہ قرآن انہوں نے اپنے جی سے گھڑ لیا ہے خدا نے نہیں اتارا ہے اس کا جواب اللہ جل شانہ نے حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلایا کہ ان سے کہو کہ یہ قرآن اگر ہم خود بنا کر کہتے ہیں تو اس کا جرم ہم پر ہے اور تم جو جھٹلاتے ہو تو اس سے بھی میں بری ہوں اور بعضے مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ اس آیت کو بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ سے تعلق ہے جب ان کی قوم ہر ایک بات میں ہار گئی اور کوئی حجت نہ چلی تو کہنے لگے تم پر وحی وغیرہ کچھ بھی نہیں آتی ہے تم جھوٹ کہتے ہو کیوں کہ تمہارے پاس سند تو ہے نہیں جس سے تم خدا کے رسول سمجھے جاؤ تو یہ جواب اللہ کی طرف سے نوح (علیہ السلام) کو بتلایا گیا کہ کہہ دو اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو اس کا گناہ مجھ پر ہے اور تم جو مجھ پر تہمت جھوٹ کی دھرتے ہو میں اس سے بالکل الگ ہوں حاصل کلام جب نوح (علیہ السلام) کی قوم ایمان نہیں لائی تو ان کو حکم ہوا کہ ان کے واسطے بددعا کرو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بددعا کی کہ اے رب زمین پر کسی کافر کا گھر بسنے والا نہ چھوڑ تو یہ آگے کا حکم آیا۔ تفسیر مقاتل میں اسی کو ترجیح دی ہے کہ حضرت نوح کے قصہ میں یہ آیت قریش کی شان میں ہے معتبر سند سے مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ جو مشرکین مکہ میں بڑا لسان اور شاعر تھا قرآن کی آیتیں سن کر اس نے یہ کہا کہ یہ کلام آدمی اور جناب کے کلام سے انوکھا ایک کلام ہے مگر پھر ابو جہل کے بہکانے سے ولید یہ کہنے لگا کہ قرآن میں یہ انوکھی تاثیر جادو کے سبب سے ہے ١ ؎ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب تم میں ولید بن مغیرہ جیسا شخص قرآن کو آدمی کے کلام سے انوکھا بتلاتا ہے تو مجھ ان پڑھ آدمی پر قرآن کے بنانے کا جھوٹا الزام جو لگاتے ہو ایک دن اس جھوٹے الزام کے وبال میں پکڑے جاؤ گے اور اس وقت تم پر کھل جاوے گا کہ میں اس جھوٹے الزام سے بری تھا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک (رض) کی حدیث گزر چکی ہے کہ ان جھوٹا الزام لگانے والوں میں اکثر آدمی بدر کی لڑائی میں مارے گئے اور اللہ کے رسول نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا پا لیا۔ ٢ ؎ اوپر یہ جو ذکر تھا کہ ایک دن یہ لوگ جھوٹے الزام میں پکڑے جاویں گے اور اس وقت ان لوگوں کو معلوم ہوجاوے گا کہ یہ لوگ جھوٹے تھے اور اللہ کے رسول ان کے جھوٹے الزام سے بالکل بری تھے اس کی صداقت اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ ١ ؎ مستدرک حاکم ص ٥٠٦ ج ٢ تفسیر مورہ مدثر۔ ٢ ؎ صحیح بخاری ص ٥٦٦ باب قتل ابی جہل۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:35) افترہ۔ اس نے اس کو گھڑ لیا۔ اس نے اس کا افتراء کیا۔ افتری صیغہ ماضی واحد مذکر غائب ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب فعل کے فاعل جمہور کے نزدیک حضرت نوح ہیں۔ لیکن مقاتل کا قول ہے کہ اس سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ بصورت اول ہ ضمیر سے مراد وہ کلام ہے جو حضرت نوح پر بذریعہ وحی نازل ہوا۔ اور دوسری صورت میں اس سے مراد قرآن حکیم ہے۔ جو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا۔ اجرامی۔ میرے جرم کا وبال۔ ای وبال اجرامی۔ وانا بریٔ مما تجرمون۔ جو جرم تم کر رہے ہو میں اس سے بری الذمہ ہوں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ کہ میں اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں اور اس نے یہ یہ احکام مجھئے دئیے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 39 اجرام (جرم، خطا، گناہ) لاتبتئس (تو غم نہ کر) اصنع (تو بنا لے) الفلک (کشتی، جہاز) باعیننا (2 ماری آنکھوں میں، نگرانی میں) لاتخاطب (تو متوجہ نہ کرنا) مر (گذرا) سخروا (مذاق اڑایا) یخزی (رسوا کرے گا) یحل (حلال کرے گا، نازل کرے گا) مقیم (قائم رہنے والا، دائمی تشریح : آیت نمبر 35 تا 39 سورئہ ہود کی ان آیات میں حضرت نوح کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ درمیان میں ان آیات کا رخ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف موڑ کر کفار مکہ کو یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ آج اگر تم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بہت سے اعتراضات کر رہے ہو۔ ان کا مذاق اڑا رہے ہو اور کہتے ہو کہ اس قرآن کریم کو انہوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے تو یہ اسی طرح کا مذاق ہے جس طرح حضرت نوح کو کشتی بناتے ہوئے دیکھ کر قوم نوح نے مذاق اڑایا تھا۔ ان آیات میں اس طرف اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ جس طرح حضرت نوح کی قوم کو پانی میں غرق کردیا گیا تھا اور جو لوگ ایمان لائے ان کو کشتی نوح میں بٹھا کر نجات دیدی گئی تھی اسی طرح آج جو لوگ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑا رہے ہیں ان کا انجام بھی مختلف نہ ہوگا اور جنہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و فرماں برداری اور محبت کے ساتھ ان کے دامن کو تھام لیا ہے ان کو کشتی نوح میں بیٹھنے والوں کی طرح نجات نصیب ہوگی۔ اسی لئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اگر میں نے قرآن کریم کو اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے تو ایسا اس لئے ممکن نہیں ہے کیونکہ اللہ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ اگر کسی کو ذرا بھی شک و شبہ ہے تو وہ اس قرآن جیسا نہیں بلکہ قرآن کریم کی ایک سورت جیسی ہی بنا کرلے آئے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے اب اگر تم اس کو تسلیم نہیں کرتے تو میرے اوپر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ اللہ تمہارا کیا انجام کرتا ہے وہی بہتر جانتا ہے۔ اس آیت کے بعد پھر حضرت نوح کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہے کہ اے نوح اب جس کو ایمان لانا تھا وہ لے آیا۔ اب آپ اس مجرم قوم پر کوئی افسوس نہ کیجیے ان کی آنکھوں کے سامنے ہماری نگرانی میں ایک کشتی بنائیے اور قوم کے لوگ کچھ بھی کہیں آپ ان کی باتوں پر توجہ نہ کیجیے کیونکہ ان سب کو غرق کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے چناچہ حضرت نوح اور آپ کے صحابہ نے کشتی بنانا شروع کی اور جس طرح اللہ کی طرف سے طریقہ بتایا جا رہا تھا آپ نے اس کشتی کو تیار کرنا شروع کردیا۔ لیکن جب بھی کفار و مشرکین اور ان کے سردار وہاں سے گذرتے تو طرح طرح سے ان کا مذاق اڑاتے اور کہتے کہ کیا خشکی پر کشتی چلائو گے ؟ یہ اور اسی طرح کی ہزاروں باتیں کر کے مذاق اڑاتے مگر حضرت نوح ان سے فرماتے کہ اگر تم آج ہمارا مذاق اڑا رہے ہو تو کوئی بات نہیں کل ہم بھی تمہارا اسی طرح مذاق اڑائیں گے۔ اور تمہیں بہت جلد اس عذاب الٰہی سے واسطہ پڑے گا جس سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ حضرت نوح نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل نسل در نسل لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف لانے کی کوشش کی مگر ان کی قوم کے چند لوگوں کے سوا کسی نے آپ کی بات کو تسلیم نہیں کیا۔ آپ کا مذاق اڑایا۔ پھبتیاں کسیں، دیوانہ و مجنوں کہا اور اس طرح پتھر برسائے کہ آپ خون سے لت پت ہوجاتے۔ غرضیکہ کوئی اذیت اور تکلیف ایسی نہ تھی جو انہوں نے اللہ کے نبی کو نہ پہنچائی ہو۔ مگر حضرت نوح قوم کی ان اذیتوں کے مقابلے میں صبر و تحمل سے کام لیتے رہے۔ آخر کار ایک دن حضرت نوح نے بد دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیئے کہ ” اے میرے پروردگار میں بہت کمزور اور بےبس کردیا گیا ہوں میری مدد کیجیے “ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول فرمایا اور حضرت جبرئیل کے ذریعہ پیغام پہنچا دیا کہ اے نوح ہماری نگرانی اور تعلیم کے مطابق آپ ایک ایسی کشتی تیار کیجیے جس میں اپنے سب ماننے والوں کو اور دوسرے جانداروں کو بٹھا لیجیے۔ حضرت نوح نے اللہ کی طرف سے وحی کے مطابق کشتی کو تیار کرنا شروع کیا۔ وہ ایک چھوٹی سی کشتی نہ تھی بلکہ موجودہ دور کا ایک لمبا چوڑا جہاز تھا جس کی تین منزلیں تھیں۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق اس جہاز کی لمبائی نو سو فٹ، چوڑائی ایک سو پچاس (150) فٹ اور اس کی اونچائی نوے (90) فٹ تھی ایک لق و دق صحرا میں جب حضرت نوح نے کشتی بنانا شروع کی تو ان کی قوم کے سرداروں نے اور عام لوگوں نے مذاق اڑانا شروع کیا اور دیوانوں اور مجنونوں کا کام قرار دیا کہ ” خشکی میں کشتی چلائی جائے گی ؟ “ حضرت نوح نہایت متانت و سنجیدگی سے یہی جواب دیتے کہا آج تم جتنا مذاق اڑا سکتے ہو اڑا لو لیکن کل جب تمہارے اوپر اللہ کا عذاب نازل ہوگا اس وقت ہم تمہارا مذاق اڑائیں گے۔ چناچہ پانی کا ایک زبردست طوفان آیا اور اس میں پوری قوم نوح کو غرق کردیا گیا اور صرف وہی لوگ بچ سکے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔ ان آیات میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام کو تسلی دی جا رہی ہے کہ قوم نوح کی طرح آج کافر مکہ میں مسلمانوں کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن جس دن اللہ کا فیصلہ آجائے گا اس دن اپنی عقلوں پر ناز کرنے والے سب سے زیادہ بیوقوف اور احمق نظر آئیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے موقع پر ساری دنیا کو بتا دیا کہ صحابہ کرام کو بیوقوف سمجھنے والے خود ہی اپنی بوٹیاں نوچ رہے تھے اور ان کفار کو اپنی حماقت و جہالت کی آگ جھلسائے دے رہے تھی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یہ اخیر درجہ کا جواب ہے اور اصل جواب وہ ہے کہ اس افتراء کا افتراء ہونا ثابت کردیا جائے جیسا کہ اسی سورت کے دوسرے رکوع میں جواب دیا ہے۔ قل فاتوبعشر سورمثلہ۔ لیکن جو شخص دلیل میں نہ قدح کرسکے اور نہ تسلیم کرے اخیر درجہ میں یہی کہا جاتا ہے کہ خیر بھائی جیسا میں نے کیا ہوگا بھگتوں گا جیسا کہ تم کررہے ہو تم بھگتو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے ردِّعمل کا ذکر کرنے کے بعد اہل مکہ کو خطاب۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے واقعات بیان کرنے کا مقصد محض داستان گوئی اور تاریخ برائے تاریخ دہرانا نہیں۔ قرآن مجید موقع ومحل کے مطابق انبیاء اور ان کی اقوام کی تاریخ کا اتنا ہی ذکر کرتا ہے جتنا مخاطب کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی عظیم جدوجہد کے بیان کے دورانیہ میں حقیقت کی نقاب کشائی اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حوصلہ دینے کی خاطر فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! نوح (علیہ السلام) کی عظیم جدوجہد اور بےمثال حوصلے کو سامنے رکھ کر اپنا کام جاری رکھو۔ قرآن مجید کے مخالفوں کو اس موقع پر صرف اتنا فرمائیں کہ تمہارا یہ کہنا کہ میں نے قرآن مجید اپنی طرف سے بنا لیا ہے تو اس کی ذمہ داری مجھ پر رہنے دو ۔ لیکن یادرکھو جو کچھ تم بلا دلیل میری ذات اور قرآن پر الزام لگاتے ہو میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ لیکن تمہیں اس جرم کا اس طرح خمیازہ بھگتنا پڑے گا جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کو اپنی کذب بیانی اور حق کی مخالفت کا خمیازہ بھگتنا پڑا تھا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید میں ردّ و بدل نہیں کرسکتے : (وَإِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنَاتٍ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَاءَ نَا اءْتِ بِقُرْاَٰنٍ غَیْرِ ہَذَا أَوْ بَدِّلْہُ قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْ أَنْ أُبَدِّلَہُ مِنْ تِلْقَائِ نَفْسِیْ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا یُوْحٰی إِلَیَّ إِنِّیْ أَخَافُ إِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ قُلْ لَوْ شَاء اللَّہُ مَا تَلَوْتُہُ عَلَیْکُمْ وَلَا أَدْرَاکُمْ بِہِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِہِ أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ )[ یونس : ١٥۔ ١٦] ” اور جب ان کے سامنے آپ ہماری واضح آیات تلاوت کرتے ہیں۔ ہماری ملاقات کی امید نہ رکھنے والے کہتے ہیں اس قرآن کے علاوہ کوئی قرآن لے آیا اسے بدل ڈال۔ فرما دیجئے میرے لیے لائق نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے تبدیل کروں۔ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے عذاب عظیم کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہوش کرو اگر اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوتا تو میں کبھی تمہارے سامنے قرآن پڑھتا اور نہ ہی توحید لے کر اٹھتا۔ کیا تم غور نہیں کرتے ؟ میں نے چالیس سال کا عرصہ تم میں گزارا ہے اور اس پورے عرصہ میں نہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور نہ ہی اللہ کے ذمہ کوئی بات لگائی۔ اگر تم تھوڑا سا عقل سے کام لو تو میری سچائی اور قرآن کی صداقت کو سمجھ جاؤ گے۔ “ (وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیْلِ ، لَأَخَذْنَا مِنْہُ بالْیَمِیْنِ ، ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ ) [ الحاقۃ : ٤٤ تا ٤٦] ” اگر رسول کوئی بات گھڑ کر ہمارے ذمے لگا دیتا تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے پھر اس کی شہ رگ کاٹ ڈالتے۔ “ مسائل ١۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار پر قرآن مجید کے متعلق الزام لگاتے ہیں۔ ٢۔ افتراء پردازی کا وبال اسی پر ہے۔ ٣۔ کوئی کسی کے جرم کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کفار کے الزامات : ١۔ کفار نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کو خودبنالیا ہے۔ (ہود : ٣٥) ٢۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار نے جادوگر کہا۔ (الصف : ٦) ٣۔ نبی اکرم کو کفار جادوزدہ کہا کرتے تھے۔ (الفرقان : ٨) ٤۔ کفار کے سامنے جب حق آیا تو انہوں نے کہا یہ تو جادو ہے۔ (سبا : ٤٣) ٥۔ کفارکہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجنوں ہیں۔ (القلم : ٥١) ٦۔ کفار نے کہا کیا ہم اپنے معبودوں کو شاعر ومجنوں کی خاطر چھوڑ دیں ؟ (الصٰفٰت : ٣٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قصے کے اس مرحلے پر روئے سخن اچانک پلٹا ہے۔ اب ایک بات قریش مکہ اور مشرکین مکہ کی طرف بھی ، کیونکہ ان کی حالت بھی ایسی ہی تھی جیسے حضرت نوح کی قوم کی تھی۔ ان کا دعوی یہ ہے کہ حضرت محمد یہ قصے اپنی جانب سے گھڑتے ہیں ، تو درمیان میں اچانک بات کاٹ کر ان کے اس اعتراض کا جواب دے دیا جاتا ہے اور بعد میں قصہ پھر شروع ہوجاتا ہے۔ ۔۔۔۔ افتراء پردازی بیشک ایک بڑا جرم ہے۔ اے پیغمبر ان سے کہہ دیں سے کہہ دیں کہ اگر میں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے تو اس کا گناہ مجھ پر ہے۔ جب مجھے معلوم ہے کہ یہ بہت بڑا جرم ہے تو میں کیسے اس کا ارتکاب کرسکتا ہوں اور تم جو مجرمانہ تہمت مجھ پر لگا رہے ہو تو میں اس سے بھی بری الذمہ ہوں ، نیز اس کے علاوہ تم جن دوسرے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہو ، یعنی شرک اور تکذیب اس سے بھی۔ یہ جملہ معترضہ سیاق قصہ میں برا نہیں لگتا اس لیے کہ سیاق قصہ کی غرض وغایت بھی تو یہی ہے جس کی اس جملے میں تصریح کردی گئی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قرآن کو افتراء بتانے والوں کو جواب اس آیت کے بارے میں مفسرین کرام کی دو رائیں ہیں ‘ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے سوال و جواب کا تتمہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے یوں کہا تھا کہ نوح (علیہ السلام) نے جو دعویٰ نبوت کیا ہے یہ ان کی بنائی ہوئی بات ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نوح (علیہ السلام) کو ارشاد ہوا کہ آپ انہیں جواب دے دیں کہ اگر بالفرض میں نے اپنے پاس سے کوئی بات بنائی ہو تو یہ میرا جرم ہے جو مجھ پر عائد ہے اور تم میرے جرم سے بری ہو تم جو یہ کہہ رہے ہو کہ میں نے اپنے پاس سے یہ بات کہی ہے مجھ پر بہتان لگا رہے ہو یہ تمہارا جرم ہے میں تمہارے جرم سے بری ہوں اس کی سزا تم خود بھگت لو گے۔ صاحب روح المعانی کا رجحان یہی ہے کہ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے مکالمہ کا تتمہ ہے جو ان کی قوم سے ہوا۔ صاحب معالم التنزیل نے بھی یہ بات حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کی ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس میں مشرکین مکہ کا ذکر ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یوں کہتے تھے کہ یہ قرآن انہوں نے اپنے پاس سے بنا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خطاب فرمایا کہ آپ کہہ دیجئے کہ بالفرض اگر یہ قرآن میں نے اپنے پاس سے بنا لیا ہے تو میرا یہ جرم مجھ پر ہوگا اور میں تمہارے جرم سے بری ہوں ‘ مجھ پر اس کا کوئی وبال نہیں۔ تم جو ظلم کرتے ہو۔ شرک میں لگے ہوئے حق کو قبول نہیں کرتے تم اس کے وبال سے ڈرو کیونکہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلانے والوں پر عذاب آیا کرتا ہے۔ میں تمہارے جرم سے بری ہوں اور بیزار ہوں۔ مفسر ابن کثیر نے ( ص ٤٤٤ ج ٢) اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ بطور جملہ معترضہ کے فرمایا ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے درمیان ذکر کردیا گیا حضرت حکیم الامت قدس سرہ نے بھی اسی کو اپنی تفسیر میں لیا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

35 کیا کفار مکہ یوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن کریم پیغمبر نے گھڑ لیا ہے آپ ان سے فرما دیجئے اگر اس قرآن کو میں نے خود بنالیا ہے اور می نے خود گھڑ لیا ہے تو میرا گناہ مجھ پر ہی واقع ہوگا اور میں ان جرائم سے جن کے تم مرتکب ہو بری الذمہ ہوں یعنی یہ تو کوئی ایسی بات نہیں اگر میں اپنی من گھڑت کو خد کی طرف منسوب کروں گا تو میں ذمہ دار ہوں گا اور تم بلا وجہ سچ کو جھوٹ کہو گے تو تم ذمہ دار میں تمہارے گناہوں سے بری الذمہ ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضر ت نوح (علیہ السلام) کتاب نہ لائے تھے جو ان کی قوم ان سے ایسی بات کہتی 12 خلاصہ ! یہ کہ رکوع کی آخری آیت کا تعلق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قوم سے ہے۔