Surat ul Tabbatt

Surah: 111

Verse: 4

سورة التبت

وَّ امۡرَاَتُہٗ ؕ حَمَّالَۃَ الۡحَطَبِ ۚ﴿۴﴾

And his wife [as well] - the carrier of firewood.

اور اس کی بیوی بھی ( جائے گی ، ) جو لکڑیاں ڈھونے والی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And his wife too, who carries wood. His wife was among the leading women of the Quraysh and she was known as Umm Jamil. Her name was Arwah bint Harb bin Umayyah and she was the sister of Abu Sufyan. She was supportive of her husband in his disbelief, rejection and obstinacy. Therefore, she will be helping to administer his punishment in the fire of Hell on the Day of Judgement. Thus, Allah says, ... حَمَّالَةَ الْحَطَبِ فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 یعنی جہنم میں یہ اپنے خاوند کی آگ پر لکڑیاں لا لا کر ڈالے گی، تاکہ مزید آگ بھڑکے۔ یہ اللہ کی طرف سے ہوگا۔ یعنی جس طرح یہ دنیا میں اپنے خاوند کی، اس کے کفر وعناد میں مددگار تھی آخرت میں بھی عذاب میں اس کی مددگار ہوگی۔ (ابن کثیر) بعض کہتے ہیں کہ وہ کانٹے دار جھاڑیاں ڈھو ڈھو کر لاتی اور نبی کریم کے راستے میں لا کر بچھا دیتی تھی۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اس کی چغل خوری کی عادت کی طرف اشارہ ہے۔ چغل خوری کے لیے یہ عربی محاورہ ہے۔ یہ کفار قریش کے پاس جا کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی غیبت کرتی اور انہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عداوت پر اکساتی تھی۔ (فتح الباری)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] ابو لہب کی بیوی کا تعارف :۔ ابو لہب کی بیوی کا نام آرویٰ اور کنیت ام جمیل تھی۔ ابو سفیان بن حرب بن امیہ کی بہن تھی۔ جو ابو جہل کی موت کے بعد رئیس قریش اور سپہ سالار افواج بنا تھا۔ رسول دشمنی میں یہ عورت بھی اپنے خاوند سے کسی صورت کم نہ تھی۔ جنگل سے خار دار جھاڑ جھنکار اٹھا لاتی اور رات کے اندھیرے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کے آگے ڈال دیتی تاکہ جب آپ صبح بیت اللہ کو جائیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاؤں میں کانٹے چبھ جائیں۔ نیز آپ کے بال بچے بھی زخمی ہوں۔ خاصی بدزبان اور مفسدہ پرداز عورت تھی۔ جب سورة لہب نازل ہوئی تو یہ مٹھی بھر کنکریاں لے کر بیت اللہ کو چل کھڑی ہوئی۔ تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہجو کی صورت میں سورة لہب کا جواب دے اور کنکریاں مار کر اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کرے۔ اتفاق کی بات کہ اسے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نظر ہی نہ آئے۔ سیدنا ابوبکر صدیق (رض) سے کہنے لگی :&& تمہارا ساتھی کدھر ہے ؟ سنا ہے وہ میری ہجو کرتا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق (رض) نے جواب دیا کہ && اس نے تو کوئی ہجو نہیں کی۔ (یعنی اگر ہجو کی ہے تو وہ اللہ نے کی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں کی) یہ جواب سن کر وہ واپس چلی آئی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Fate of &Umm Jamil, the Wife of Abu Lahab Verse [ 111:4] وَامْرَ‌أَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ (And his wife as well, the wicked, the carrier of firewood.) As Abu Lahab was a vehement enemy of the Holy Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، his wife too was supportive of her husband in his disbelief, rejection, obstinacy, and in persecuting the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . She was a sister of Abu Sufyan, and daughter of Harb Ibn &Umayyah. Her nickname was Umm Jamil. The Qur&an makes plain in this verse that this wretched woman will also roast with her husband in the fire of Hell. She is described as حَمَّالَةَ الْحَطَبِ which literally means &the carrier of firewood&. Idiomatically, Arabs use this expression to refer to a &tale-bearer &, that is, one who gathers pieces of gossip and carries them between individuals and families in order to ignite the fires of discord and enmity between people, exactly as one would gather firewood to kindle the fire. This telltale woman improperly carried information concerning the private affairs of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، and the blessed Companions in an attempt to ignite and instigate trouble. In this verse too, the phrase &the carrier of firewood& has been interpreted by Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) ، Mujahid, ` Ikrimah رحمۃ اللہ علیہما and a group of commentators to mean that &She was a tale-bearer& while Ibn Zaid, Dahhak and other commentators رحمۃ اللہ علیہم retain it in its original sense, and explain that she literally used to collect thorny branches from the jungle, and place them in the path of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in order to harm him - hence the description: &carrier of firewood&. [ Qurtubl, Ibn Kathir ]. Some scholars explain that just as she used to help her husband in this world to promote disbelief and tyranny and to assist him in harming the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، she will add to the torment of her husband in the Hereafter. She will collect the branches of zaqqum and other trees and add them as fuel to the fire of Hell in which her husband would be roasting. [ Ibn Kathir ]. Tale-Bearing: A Gravely Major Sin It is recorded in the two Sahihs that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said that a tale-bearer (to harm others) will not enter Paradise. Fudail Ibn ` Iyad (رح) says that there are three evil deeds of man that destroy all his righteous actions. They are: [ 1] backbiting; [ 2] tale-bearing; and [ 3] lying. ` Ata& Ibn Sa&ib (رح) says that he asked Sha&bi (رح) about the Prophetic Tradition in which the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said: لَا یدخل الجنّۃ سافک دم ولا مشّاء بنمیمۃ ولا تاجر یربی . |"Three types of people will not enter Paradise: [ 1] a murderer; [ 2] a tale-bearer; and [ 3] a trader who is involved in usury.|" ` Ata& (رح) says that I cited this Tradition to Sha&bi and asked him in a surprising tone that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has equated &a tale-bearer& with a murderer and a usurer. He replied: |"Indeed, tale-bearing is the root cause of murder and usurpation of wealth.|" [ Qurtubi ]

امر اتہ حما لة الحطب، جس طرح ابولہب کو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سخت غیظ اور دشمنی تھی اس کی بیوی بھی اس دشمنی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایذارسانی میں اس کی مدد کرتی تھی۔ قرآن کریم کی اس آیت نے بتلایا کہ یہ بدبخت بھی اپنے شوہر کے ساتھ جہنم کی آگ میں جائے گی اس کے ساتھ اس کا ایک حال یہ بتلایا کہ وہ حمالة الحطب ہے۔ جس کے لفظی معنے ہیں سوختہ کی لکڑیاں لادنے والی۔ یعنی آگ لگانیوالی، عرب کے محاورات میں چغل خوری کرنے والے کو حمال الحطب کہا جاتا تھا کہ جیسے کوئی سوختہ کی لکڑیاں جمع کر کے آگ لگانے کا سامان کرتا ہے چغل خوری کا عمل بھی ایسا ہی ہے کہ وہ اپنی چغل خوری کے ذریعہ افراد اور خاندانوں میں آگ بھڑکا دیتا ہے یہ عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کی ایذا رسائی کے لئے چغل خوری کا کام بھی کرتی تھی۔ اس آیت میں ابولہب کی بیوی کو حمالة الحطب کہنے کی تفسیر حضرت ابن عباس مجاہد، عکرمہ وغیرہ ایک جماعت مفسرین نے یہی کی ہے کہ یہ چغل خوری کرنے وای تھی، اور ابن زید، ضحاک وغیرہ مفسرین نے اس کو اپنے حقیقی معنے میں رکھا ہے جس کی وجہ یہ بتلائی ہے کہ یہ عورت جنگل سے خاردار لکڑیاں جمع کر کے لاتی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راستے میں بچھا دیتی تھی تاکہ آپ کو تکلیف پہچنے اس کی اس ذلیل وخسیس حرکت کو قرآن نے حمالة الحطب سے تعبیر فرمایا ہے (قرطبی، ابن کثیر) اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس کا یہ حال جہنم میں ہوگا کہ اپنے شوہر پر جہنم کے درختوں زقوم وغیرہ کی لکڑیاں لاکر ڈالے گی تاکہ اس کی آگ بھڑک جائے جس طرح دنیا میں وہ اس کے کفر وظلم کو بڑھاتی تھی آخرت میں اس کے عذاب کو بڑھائے گی (ابن کثیر) چغل خوری سخت گناہ کبیرہ :۔ حدیث صحیح میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جنت میں چغل خورداخل نہ ہوگا اور حضرت فضیل بن عیاض نے فرمایا کہ تین عمل ایسے ہیں جو انسان کے تمام اعمال صالحہ کو برباد کردیتے ہیں روزہ دار کا روزہ اور وضو والے کا وضو خراب کردیتے ہیں یعنی غیبت اور چغل خوری اور جھوٹ عطار بن سائب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس حدیث کا ذکر کیا جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ لا ید خل الجنة سافک دم ولا مشاء بنمیمة ولا تاجریربی، یعنی تین قسم کے آدمی جنت میں نہ داخل ہوں گے۔ ناحق خون بہانے والا چغل خوری کرنے والا، اور تاجر جو سود کا کاروبار کرے۔ عطا کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کا ذکر کر کے شعبی سے بطور تعجب کے دریافت کیا کہ حدیث میں چغلخور کو قاتل اور سود خور کی برابر بیان فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں چغلوخوری تو ایسی چیز ہے کہ اس کی وجہ سے قتل ناحق اور غصب اموال کی نوبت آجاتی ہے۔ (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّامْرَاَتُہٗ۝ ٠ ۭ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ۝ ٤ ۚ حمل الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل . وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی: وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] ، ( ح م ل ) الحمل ( ض ) کے معنی بوجھ اٹھانے یا لادنے کے ہیں اس کا استعمال بہت سی چیزوں کے متعلق ہوتا ہے اس لئے گو صیغہ فعل یکساں رہتا ہے مگر بہت سے استعمالات میں بلحاظ مصاد رکے فرق کیا جاتا ہے ۔ چناچہ وہ بوجھ جو حسی طور پر اٹھائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ کوئی چیز پیٹھ لادی جائے اس پر حمل ( بکسرالحا) کا لفظ بولا جاتا ہے اور جو بوجھ باطن یعنی کوئی چیز اپنے اندر اٹھا ہے ہوئے ہوتی ہے اس پر حمل کا لفظ بولا جاتا ہے جیسے پیٹ میں بچہ ۔ بادل میں پانی اور عورت کے حمل کے ساتھ تشبیہ دے کر درخت کے پھل کو بھی حمل کہہ دیاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا پنا بوجھ ہٹانے کو کسی کو بلائے تو اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا ۔ حطب قال تعالی: كانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَباً [ الجن/ 15] ، أي : ما يعدّ للإيقاد، وقد حَطَبْتُ حَطَباً واحْتَطَبْتُ ، وقیل للمخلّط في کلامه : حَاطِب ليل، لأنّه لا يبصر ما يجعله في حبله، وحَطَبْتُ لفلان حَطَباً : عملته له، ومکان حَطِيب : كثير الحطب، وناقة مُحَاطِبَة : تأكل الحطب، وقوله تعالی: حَمَّالَةَ الْحَطَبِ [ المسد/ 4] ، كناية عنها بالنمیمة، وحَطَبَ فلان بفلان : سعی به، وفلان يوقد بالحطب الجزل : كناية عن ذلک ( ح ط ب ) الحطب ( ایندھن ) ہر وہ چیز جو آگ جلانے کے لئے تیار کی جائے حطب کہلاتی ہے اور حطب ( مل ) حطبا واحطب کے معنی ایندھن جمع کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں : كانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَباً [ الجن/ 15] تو وہ جہنم کا یندھن ہوں گے ۔ اپنی گفتگو میں رطب دیا بس ملانے والے کو حاطب لیل کہا جاتا ہے کیو ن کہ رات کو لکڑی جمع کرنے والا بھی یہ نہیں دیکھتا کہ رسی میں کیا باندھ رہا ہے ۔ حطب لفلان حطبا کسی کے لئے کام کرنا مکان حطیبوی جگہ جہاں بہت لکڑیاں ہوں ( صفت از حطب المکان ) ناقتہ محاطبتہ ( ناقہ کہ خار خشک خورد ) اور آیت کریمہ : حَمَّالَةَ الْحَطَبِ [ المسد/ 4] جو اندھن سر پر اٹھائے پھرتی ہے ۔ میں سخن چینی سے استعارہ ہے ۔ اور حطب فلان بفلان کے معنی کسی کی چغلی کھانے کے ہیں ۔ اسی طرح کہا جاتا ہے فلان یوقد بالحطب الجزل ( مثل ) فلاں بہت بڑا چغل خور ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤{ وَّامْرَاَتُہٗ } ” اور اس کی بیوی کو بھی۔ “ اس کی بیوی بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دشمنی میں ہمیشہ پیش پیش رہتی تھی۔ اس کا نام اَروَہ اور کنیت اُمّ جمیل تھی اور اس کے دل میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عداوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دشمنی کے اعتبار سے ان دونوں کے بارے میں جو تفصیلات ملتی ہیں ان سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ میاں بیوی میں سے کون حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بڑا دشمن تھا۔ قبل ازیں سورة التحریم کے آخری رکوع میں ہم خواتین کے کردار کی تین مثالوں کا مطالعہ کرچکے ہیں۔ پہلی مثال میں حضرت لوط اور حضرت نوح - کی کافر بیویوں کا ذکر ہے۔ یہ بہترین شوہروں کے گھروں میں بدترین بیویوں کی مثال ہے۔ پھر فرعون کی بیوی آسیہ (رض) کا ذکر گویا بدترین شوہر کے ہاں بہترین بیوی کی مثال ہے۔ اس کے بعد حضرت مریم (سلامٌ علیہا) کے حوالے سے ایک ایسی خاتون کی مثال بیان کی گئی ہے جو خود بھی نیک فطرت تھی اور حضرت زکریا (علیہ السلام) کی سرپرستی میں انہیں ماحول بھی ایسا ملا جو نیکی اور پاکیزگی کے اعتبار سے اپنی مثال آپ تھا۔ گویا وہاں سورة التحریم میں خواتین کے حوالے سے تین قسم کی ممکنہ صورتوں کی مثالوں کا ذکر تو ہوچکا ہے ‘ جبکہ اس سلسلے کی چوتھی ممکنہ صورت کا ذکر یہاں اس سورت میں ہوا ہے ‘ یعنی شوہر بھی بدترین اور بیوی بھی بدترین۔ { حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ ۔ } ” جو ایندھن اٹھانے والی ہوگی ۔ “ روایات میں چونکہ ذکر ملتا ہے کہ یہ دونوں میاں بیوی بہت بخیل تھے ‘ اس لیے بعض لوگوں نے ان الفاظ سے یہ سمجھا ہے کہ یہ عورت جنگل سے لکڑیاں ُ چن کر لایا کرتی تھی ‘ حالانکہ یہ بات خلافِ عقل و قیاس ہے۔ ابولہب نہ صرف بہت مال دار تھا بلکہ معاشرتی لحاظ سے وہ اپنے زمانے کا بہت بڑا منصب دار بھی تھا۔ وہ حرم کے محکمہ مالیات کا انچارج تھا (اس حیثیت سے اس پر اگرچہ یہ الزام بھی تھا کہ اس نے حرم کے خزانے سے سونے کے دو ہرن چرالیے تھے) ۔ چناچہ یہ دونوں میاں بیوی اپنے معاشرے کی اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو معاشرے کی ایکوی آئی پی خاتون ‘ بنوہاشم کے رئیس کی بیوی ‘ جسے گویا خاتونِ اوّل کا سا درجہ حاصل تھا ‘ کے بارے میں جنگل سے لکڑیاں چن کر سرپر گٹھڑ لاد کر لانے والی بات بالکل قرین قیاس نہیں۔ چناچہ اس آیت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ اس عورت کی حرکتیں جہنم کی آگ کا ایندھن اکٹھا کرنے اور اپنے شوہر کی آگ کو مزید بھڑکانے کے مترادف ہیں۔ جب یہ اپنے شوہر کے ساتھ جہنم میں جھونکی جائے گی اس وقت اس کا حال اس مجرم کا سا ہوگا جو اپنے جلانے کا ایندھن خود اٹھائے ہوئے ہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

3 Her name was Arwa' and her nickname (kunyat) Umm Jamil. She was sister of Abu Sufyan and was no less bitter than her husband, Abu Lahab, in her enmity to the Holy Messenger (upon whom be peace) Hadrat Abu Bakr's daughter, Hadrat Asma', has related that when this Surah was revealed, and Umm Jamil heard it, she was filled with rage and went out in search of the Holy Prophet (upon whom be peace) . She carried a handful of stones and she was crying some verses of her own, satirizing the Holy Prophet. She came to the Ka`bah, where the Holy Prophet was sitting with Hadrat Abu Bakr. The latter said: "O Messenger of AIIah, there she comes and I fear lest she should utter something derogatory to you." The Holy Prophet replied: "She will not see me." The same thing happened. She could not see the Holy Prophet although he was there. She said to Hadrat Abu Bakr: "I hear that your Companion has satirized me." Hadrat Abu Bakr replied: "No, by the Lord of this house, he has not satirized you." Hearing this she went off. (lbn Abi Hatim, Ibn Hisham; Bazzar has related an incident on the authority of Hadrat 'Abdullah bin `Abbas also, which closely resembles this) . What Hadrat Abu Bakr meant was that she had not been satirized by the Holy Prophet (upon whom be peace) , but by AIlah Himself. 4 The words in the original are hammalat al-hatab, which literally mean: "carrier of the wood". The commentators have given several meanings of it. Hadrat `Abdullah bin `Abbas, Ibn Zaid, Dahhak and Rabi`bin Anas say: She used to strew thorns at the Holy Prophet's door in the night; therefore, she has been described as carrier of the wood. Qatadah, Ikrimah Hasan Bari, Mujahid and Sufyan Thauri say: She used to carry evil tales and slander from one person to another in order to create hatred between them; therefore, she has been called the bearer of wood idiomatically. Sa`id bin Jubair says: The one who is loading himself with the burden of sin, is described idiomatically in Arabic as: Fulan-un Yahtatibu ala zahri bi (so and so is loading wood on his back) ; therefore, hummalat al-hatab means: 'The one who carries the burden of sin. Another meaning also which the commentators have given is: she will do this in the Hereafter, i.e. she will bring and supply wood to the fire in which Abu Lahab would be burning.

سورة اللھب حاشیہ نمبر : 3 اس عورت کا نام اَرویٰ تھا اور ام جمیل اس کی کنیت تھی ۔ یہ ابو سفیان کی بہن تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عداوت میں اپنے شوہر ابولہب سے کسی طرح کم نہ تھی ۔ حضرت ابوبکر کی صاحبزادی حضرت اسماء کا بیان ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی اور ام جمیل نے اس کو سنا تو وہ بپھری ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلی ۔ اس کے ہاتھ میں مٹھی بھر پتھر تھے اور وہ حضور کی ہجو میں اپنے ہی کچھ اشعار پڑھتی جاتی تھی ۔ حرم میں پہنچی تو وہاں حضرت ابوبکر کے ساتھ حضور تشریف فرما تھے ۔ حضرت ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ، یہ آرہی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو دیکھ کر یہ کوئی بیہودگی کرے گی ۔ حضور نے فرمایا یہ مجھ کو نہیں دیکھ سکے گی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ کے موجود ہونے کے باوجود وہ آپ کو نہیں دیکھ سکی اور اس نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ میں نے سنا ہے تمہارے صاحب نے میری ہجو کی ہے ۔ حضرت ابوبکر نے کہا ، اس گھر کے رب کی قسم انہوں نے تو تمہاری کوئی ہجو نہیں کی ۔ اس پر وہ واپس چلی گئی ( ابن ابی حاتم ۔ سیرۃ ابن ہشام ۔ بزار نے حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی اسی سے ملتا جلتا واقعہ نقل کیا ہے ) حضرت ابوبکر کے اس جواب کا مطلب یہ تھا کہ ہجو تو اللہ تعالی نے کی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی ۔ سورة اللھب حاشیہ نمبر : 4 اصل الفاظ ہیں حَمَّالَةَ الْحَطَبِ جن کا لفظی ترجمہ ہے لکڑیاں ڈھونے والی مفسرین نے اس کے متعدد معنی بیان کیے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ، ابن زید ، ضحاک اور بعی بن انس رضی اللہ عنہم کہتےہیں کہ وہ راتوں کو خاردار درختوں کی ٹہنیاں لاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر ڈال دیتی تھی ، اس لیے اس کو لکڑیاں ڈھونے والی کہا گیا ہے ۔ قتادہ ، عکرمہ ، حسن بصری ، مجاہد اور سفیان ثوری رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ وہ لوگوں میں فساد ڈلوانے کے لیے چغلیاں کھاتی پھرتی تھی ، اس لیے اسے عربی محاورے کے مطابق لکڑیاں ڈھونے والی کہا گیا ، کیونکہ عرب ایسے شخص کو جو ادھر کی بات ادھر لگا کر فساد کی آگ بھڑکانے کی کوشش کرتا ہو ، لکڑیاں ڈھونے والا کہتے ہیں ۔ اس محاورے کے لحاظ سے حَمَّالَةَ الْحَطَبِ معنی ٹھیک ٹھیک وہی ہیں جو اردو میں بی جمالو کے معنی ہیں ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ جو شخص گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر لاد رہا ہو اس کے متعلق عربی زبان میں بطور محاورہ کہا جاتا ہے فلان یحتطب علی ظھرہ ۔ فلاں شخص اپنی پیٹھ پر لکڑیاں لاد رہا ہے ۔ پس حَمَّالَةَ الْحَطَبِ کے معنی ہیں گناہوں کا بوجھ ڈھونے والی ۔ ایک اور مطلب مفسرین نے اس کا یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ آخرت میں اس کا حال ہوگا ، یعنی وہ لکڑیاں لا لا کر اس آگ میں ڈالے گی جس میں ابو لہب جل رہا ہوگا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: ابو لہب کی بیوی اُمِّ جمیل کہلاتی تھی، اور وہ بھی حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کی دُشمنی میں اپنے شوہر کے ساتھ برابر کی شریک تھی، بعض روایتوں میں ہے کہ وہ رات کے وقت آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے راستے میں کانٹے دار لکڑیاں بچھا دیا کرتی تھیں، اور آپ کو طرح طرح ستایا کرتی تھی۔ 4: اس کا مطلب بعض مفسرین نے تو یہ بتایا ہے کہ وہ اگرچہ ایک باعزت گھرانے کی عورت تھی، لیکن اپنی کنجوسی کی وجہ سے ایندھن کی لکڑیاں خود ڈھو کر لاتی تھی، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے راستے میں جو کانٹے دار لکڑیاں بچھاتی تھی، اس کی طرف اشارہ ہے۔ ان دونوں صورتوں میں لکڑیاں ڈھونے کی یہ صفت دُنیا ہی سے متعلق ہے۔ اور بعض مفسرین نے یہ فرمایا ہے کہ یہ اُس کے دوزخ میں داخلے کی حالت بیان فرمائی گئی ہے، اور مطلب یہ ہے کہ وہ دوزخ میں لکڑیوں کا گٹھڑا اُٹھائے داخل ہوگی۔ قرآنِ کریم کے الفاظ میں دونوں معنیٰ ممکن ہیں، اور ہم نے جو ترجمہ کیا ہے، اس میں بھی دونوں تفسیروں کی گنجائش موجود ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(111:4) وامرأتہ حمالۃ الحطب : واؤ عاطفہ، امرأۃ معطوف جس کا عطف ہ ضمیر متصل پر ہے۔ اور اس کی جورو بھی (دہکتی ہوئی آگ میں عنقریب داخل ہوگی) حمالۃ الحطب۔ یہ جملہ امراۃ سے حال ہے۔ (جو اس حال میں پھرتی ہے کہ) لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے ہے۔ حمالۃ خوب اٹھانے والی۔ حمل سے بروزن فعالۃ مبالغہ کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ ایندھن سر پر لئے پھرنے والی۔ ابولہب کی بیوی کی صفت ہے اس کا نام ارویٰ بنت حرب ہے۔ کنیت ام جمیل اور لقب عوراء (کافی) ہے اپنے بدبخت شوہر کی طرح اس شقیہ کو بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سخت ترین عداوت تھی۔ ایندھن سر پر لئے پھرنے کو بعض نے حقیقت پر محمول کیا ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ خست کے مارے ایندھن جنگل میں سے خود جن کر لاتی تھی اور کانٹے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی راہ میں ڈال دیتی تھی تاکہ آتے جاتے چبھیں۔ اور بعض نے کہا ہے کہ سخن چینی سے استعارہ ہے چونکہ چغل خوری کے سبب قبیلہ میں لڑائی کی آگ بھڑکاتی تھی اس لئے قرآن مجید نے اس کو حمالۃ الحطب کہا ہے۔ الحطب۔ لکڑی۔ ایندھن۔ ہیزم۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یہ بدبخت عورت بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دشمین پر ادھار کھائے رہتی تھی۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس سے اور کچھ نہ ہوسکتا تو اپنے سر پر کانٹے اٹھا کر لاتی اور جس راستہ سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گزرت یا نہیں وہاں بچھا دیتی تاکہ آپ کو تکلیف ہو۔ (فتح القدیر بحوالہ ابن جریر بیہقی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ ابولہب کی بیوی خاردار لکڑیاں جمع کر کے لاتی اور ازراہ غایت عناد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی راہ میں بچھاتی۔ کذا فی الدر المنثور عن البیہقی وغیرہ اور بعض نے کہا ہے کہ حمالة الحطب سے مراد چغل خور ہے۔ وہ عورت چغل خور بھی تھی، کذا فی الدر، چناچہ فارسی میں بھی ہیزم کش اسی معنی میں مستعمل ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ٠٠٤ ﴾ (بالنصب فی قراٴۃ عاصم) اس کا عامل محذوف ہے جو اَذُمُّ ہے یعنی اس کی مذمت بیان کرتا ہوں، وہ لکڑیاں اٹھائی پھرتی تھی، اس کی دوسری مذموم حرکتیں تو تھیں ہی ان میں سے یہ حرکت بھی تھی کہ کانٹے دار لکڑیاں جمع کر کے اٹھائے پھرتی تھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راستے میں ڈال دیتی تھی آپ تو اس پر آسانی سے گزر جاتے تھے لیکن اس عورت کی شقاوت اور بدبختی کا مظاہرہ ہوتا رہتا تھا، بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ﴿ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ﴾ میں اس کی کنجوسی بیان کی گئی ہے اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تنگ دستی کا طعنہ دیا اس کے مقابلہ میں اس عورت کی کنجوسی ظاہر کی گئی کہ پیسے والی ہوتے ہوئے اپنی کمر پر لکڑی کی گٹھڑیاں اٹھا کر لاتی ہے۔ حضرت مجاہد تابعی نے حمالۃ الحطب کا یہ مطلب بتایا ہے کہ وہ چغلی کھاتی تھی چغلی کھانے والا چونکہ لوگوں کے درمیان آگ جلاتا ہے اس لیے چغلی کھانے کو ہیزم کش لکڑیاں جلانے والا کہا جاتا ہے اس کی تفسیر میں چوتھا قول یہ ہے کہ اس سے گناہوں کا بوجھ لاد کرلے جانا مراد ہے۔ اور پانچویں تفسیر یوں کی گئی ہے کہ وہ جس طرح دنیا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دشمنی میں اپنے شوہر کی مدد کرتی تھی اسی طرح دوزخ میں وہ اپنے شوہر پر لکڑیاں ڈالتی رہے گی تاکہ اس کو اور زیادہ عذاب ہو۔ (ذكرہ ابن کثیر)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(4) وہ بھی اور اس کی بیوی بھی جو سر پر ایندھن اٹھا کر لاتی ہے۔ اس کا چہرہ چونکہ سرخ وسفید تھا اس لئے شاید لوگوں نے اس کو ابولہب کہنا شروع کردیا مگر قرآن نے بتایا کہ یہ مرنے کے بعد بھی ایسی آگ میں ڈالا جائے گا جو شعلہ فگن اور چنگاریاں اڑاتی ہوئی اسی وقت نہ تو اس کا مال ساتھ ہوگا اور نہ اس کا بیٹا عتیبہ اس کے کچھ کام آئے گا اور اس کی بیوی بھی اسی آگ میں داخل ہوگی جو لکڑیوں کی اٹھانیوالی ہے جس کی بخیلی اور خست کا یہ عالم تھا کہ باوجود دولتمند اور لونڈی غلام رکھنے کے خود خاردار لکڑیاں اٹھا کر لاتی تھی اور پیغمبر کی رہگزر میں بچھاتی تھی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لئے مسجد حرام میں تشریف لے جاتے تو نہایت نرمی سے ان لکڑیوں کو اور کانٹوں کو ہٹا کر تشریف لیجاتے یا یہ بات کہ وہ بہت غیبت کرتی تھی اور چغل خور بہت تھی اس لئے اس کو حمالۃ الحطب اور ہیزم کش فرمایا۔