Surat un Naas

Surah: 114

Verse: 2

سورة الناس

مَلِکِ النَّاسِ ۙ﴿۲﴾

The Sovereign of mankind.

لوگوں کے مالک کی ( اور )

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

مَلِكِ النَّاسِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

2۔ 1 جو ذات، تمام انسانوں کی پرورش اور نہگداشت کرنے والی ہے، وہی اس لائق ہے کہ کائنات کی حکمرانی اور بادشاہی بھی اسی کے پاس ہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

ملک الناس یعنی لوگوں کا بادشاہ

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَلِكِ النَّاسِ۝ ٢ ۙ ملك ( مالک) فالمُلْك ضبط الشیء المتصرّف فيه بالحکم، والمِلْكُ کالجنس للمُلْكِ ، فكلّ مُلْك مِلْك، ولیس کلّ مِلْك مُلْكا . قال : قُلِ اللَّهُمَّ مالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] ، وقال : أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا[ الأعراف/ 188] وفي غيرها من الآیات ملک کے معنی زیر تصرف چیز پر بذیعہ حکم کنٹرول کرنے کے ہیں اور ملک بمنزلہ جنس کے ہیں لہذا ہر ملک کو ملک تو کہہ سکتے ہیں لیکن ہر ملک ملک نہیں کہہ سکتے قرآن میں ہے : ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] اور نہ نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اٹھ کھڑے ہونا ۔ اور فرمایا : ۔ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] یا تمہارے کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا[ الأعراف/ 188] کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتا علی بذلقیاس بہت سی آیات ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(1 ۔ 6) ۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ فرمائیے کہ میں جن و انس کے رب جن و انس کے مالک اور جن و انس کے خالق کی پناہ لیتا ہوں۔ شیطان کے شر سے جو کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے تو وہ اس کے دل پر غلبہ کر کے اسے چھپا دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتا تو وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ انسانوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالے یا جنات کے دلوں میں۔ یہ دونوں سورتیں لبید بن اعصم یہودی کے متعلق نازل ہوئی ہیں جس نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کردیا تھا آپ نے جادو پر ان سورتوں کو پڑھا تو وہ اس طرح زائل ہوگیا جیسا کہ رسی کی گرہ کھل جاتی ہے۔ شان نزول : معذتین امام بیہقی نے دلائل النبوة میں بواسطہ کلبی، ابو صالح، حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سخت بیمار ہوئے تو آپ کے پاس دو فرشتے آئے ایک آپ کے سر مبارک کے پاس بیٹھا اور دوسرا پیروں کی طرف۔ تو جو پیروں کی طرف بیٹھا ہوا تھا اس نے اس فرشتہ سے جو کہ سر کے پاس تھا کہا آپ کو کیا محسوس ہوتا ہے اس نے کہا کہ تکلیف ہے وہ کہنے لگا کیا تکلیف ہے تو اس نے کہا جادو ہے اس فرشتہ نے کہا کہ کس نے جادو کیا ہے اس فرشتہ نے کہا لبید بن اعصم یہودی نے کیا ہے وہ فرشتہ کہنے لگا کہ کس جگہ ہے اس فرشتہ نے کہا وہ فلاں خاندان کے کنوئیں میں پتھر کے نیچے ایک بالوں کے جوڑے میں ہے چناچہ وہاں جاؤ اور اس کا پانی نکالو اور پتھر کو اٹھا کر اس جادو کو جلا دو چناچہ جب صبح ہوئی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمار بن یاسر (رض) کو ایک جماعت کے ساتھ اس کنوئیں کے پاس بھیجا تو اس کا پانی مہندی کی طرح سرخ ہورہا تھا چناچہ انہوں نے پانی نکالا اور پتھر کو اٹھا کر اس جادو کو نکال لیا اور اس کو جلا دیا اور اس میں ایک دھاگہ کا ٹکڑا بھی تھا جس میں گیارہ گرہیں تھیں اور آپ پر یہ دونوں سورتیں یعنی قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس نازل ہوئی چناچہ جب اس پر ان سورتوں میں سے ایک ایک آیت پڑھنی شروع کی تو ایک ایک گرہ کھل گئی۔ اس کی اصلیت کے لیے بغیر سبب نزول کے ذکر کیے ہوئے صحیح میں شاہد موجود ہے اور نیز ان سورتوں کے نزول کے تذکرہ کے ساتھ شاہد موجود ہے۔ اور ابو نعیم نے دلائل میں ابوجعفر رازی، ربیع بن انس، حضرت انس (رض) کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچانے کے لیے کچھ حرکت کی جس سے آپ سخت بیمار ہوگئے صحابہ کرام آپ کے پاس حاضر ہوئے تو سمجھے کہ آپ بیمار ہیں چناچہ جبریل امین معوذتین لے کر آپ کے پاس آئے اور آپ نے یہ سورتیں پڑھ کر دم کیا جس سے آپ صحیح و تندرست ہو کر اپنے صحابہ کے پاس تشریف لے گئے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢{ مَلِکِ النَّاسِ ۔ } ” تمام انسانوں کے بادشاہ کی۔ “ وہ تمام انسانوں کا صرف پروردگار ہی نہیں ‘ ان کا بادشاہ اور فرماں روا بھی ہے۔ اس کا حکم ہر وقت ‘ ہر جگہ اور ہرچیز پر نافذ ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(114:2) ملک الناس۔ عطف بیان ہے رب الناس کا (وہ اسم جو صفت نہ ہو اور اپنے متبوع کی وضاحت کرے) یعنی وہ لوگوں کا رب کون ہے ؟ لوگوں کا بادشاہ۔ (یعنی میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی) سب انسانوں کے بادشاہ کی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(2) انسانوں کے بادشاہ کی۔