Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 100

سورة يوسف

وَ رَفَعَ اَبَوَیۡہِ عَلَی الۡعَرۡشِ وَ خَرُّوۡا لَہٗ سُجَّدًا ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ ہٰذَا تَاۡوِیۡلُ رُءۡیَایَ مِنۡ قَبۡلُ ۫ قَدۡ جَعَلَہَا رَبِّیۡ حَقًّا ؕ وَ قَدۡ اَحۡسَنَ بِیۡۤ اِذۡ اَخۡرَجَنِیۡ مِنَ السِّجۡنِ وَ جَآءَ بِکُمۡ مِّنَ الۡبَدۡوِ مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّیۡطٰنُ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَ اِخۡوَتِیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَطِیۡفٌ لِّمَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱۰۰﴾

And he raised his parents upon the throne, and they bowed to him in prostration. And he said, "O my father, this is the explanation of my vision of before. My Lord has made it reality. And He was certainly good to me when He took me out of prison and brought you [here] from bedouin life after Satan had induced [estrangement] between me and my brothers. Indeed, my Lord is Subtle in what He wills. Indeed, it is He who is the Knowing, the Wise.

اور اپنے تخت پر اپنے ماں باپ کو اونچا بٹھایا اور سب اسکے سامنے سجدے میں گر گئے تب کہا ابا جی! یہ میرے پہلے کے خواب کی تعبیر ہے میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا ، اس نے میرے ساتھ بڑا احسان کیا جب کہ مجھے جیل خانے سے نکالا اور آپ لوگوں کو صحرا سے لے آیا اس اختلاف کے بعد جو شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ڈال دیا تھا میرا رب جو چاہے اس کے لئے بہترین تدبیر کرنے والا ہے اور وہ بہت علم و حکمت والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ ... And he raised his parents to Al-'Arsh, According to Ibn Abbas, Mujahid and several others, he raised them to his bedstead where he sat. Allah said, ... وَخَرُّواْ لَهُ سُجَّدًا ... and they fell down before him prostrate. Yusuf's parents and brothers prostrated before him, and they were eleven men, ... وَقَالَ يَا أَبَتِ هَـذَا تَأْوِيلُ رُوْيَايَ مِن قَبْلُ ... And he said: "O my father! This is the Ta'wil (interpretation) of my dream aforetime...", in reference to the dream that he narrated to his father before, إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا (I saw (in a dream) eleven stars...). (12:4) In the laws of these and previous Prophets, it was allowed for the people to prostrate before the men of authority, when they met them. This practice was allowed in the law of Adam until the law of `Isa, peace be upon them, but was later prohibited in our law. Islam made prostration exclusively for Allah Alone, the Exalted and Most Honored. The implication of this statement was collected from Qatadah and other scholars. When Mu`adh bin Jabal visited the Sham area, he found them prostrating before their priests. When he returned (to Al-Madinah), he prostrated before the Messenger of Allah, who asked him, مَا هَذَا يَا مُعَاذُ What is this, O, Mu`adh? Mu`adh said, "I saw that they prostrate before their priests. However, you, O Messenger of Allah, deserve more to be prostrated before." The Messenger said, لَوْ كُنْتُ امِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لاَِحَدٍ لاََمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا لِعِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا If I were to order anyone to prostrate before anyone else (among the creation), I would have ordered the wife to prostrate before her husband because of the enormity of his right on her.) Therefore, this practice was allowed in previous laws, as we stated. This is why they (Yaqub and his wife and eleven sons) prostrated before Yusuf, who said at that time, ... يَا أَبَتِ هَـذَا تَأْوِيلُ رُوْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا ... O my father! This is the Ta'wil of my dream aforetime! My Lord has made it come true! using the word, `Ta'wil', to describe what became of the matter, later on. Allah said in another Ayah, هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِى تَأْوِيلُهُ Await they just for its Ta'wil! On the Day the event is finally fulfilled..., (7:53) meaning, on the Day of Judgement what they were promised of good or evil will surely come to them. Yusuf said, ... قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا ... My Lord has made it come true! mentioning that Allah blessed him by making his dream come true, ... وَقَدْ أَحْسَنَ بَي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاء بِكُم مِّنَ الْبَدْوِ ... He was indeed good to me, when He took me out of the prison, and brought you (all here) out of the Bedouin life, out of the desert, for they lived a Bedouin life and raised cattle, according to Ibn Jurayj and others. He also said that they used to live in the Arava, Ghur area of Palestine, in Greater Syria. Yusuf said next, ... مِن بَعْدِ أَن نَّزغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاء ... after Shaytan had sown enmity between me and my brothers. Certainly, my Lord is the Most Courteous and Kind unto whom He wills. for when Allah wills something, He brings forth its reasons and elements of existence, then wills it into existence and makes it easy to attain, ... إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ ... Truly, He! Only He is the All-Knowing. what benefits His servants, ... الْحَكِيمُ the All-Wise. in His statements, actions, decrees, preordainment and what He chooses and wills.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

100۔ 1 بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ سوتیلی ماں اور سگی خالہ تھیں کیونکہ یوسف (علیہ السلام) کی حقیقی ماں بنیامین کی ولادت کے بعد فوت ہوگئی تھیں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس کی وفات کے بعد اس کی ہمشیرہ سے نکاح کرلیا تھا یہی خالہ اب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے ساتھ مصر میں گئی تھیں (فتح القدیر) لیکن امام ابن طبری نے اس کے برعکس یہ کہا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کی والدہ فوت نہیں ہوئی تھیں اور وہی حقیقی والدہ تھیں۔ (ابن کثیر) 100۔ 2 بعض نے اس کا ترجمہ کیا ہے کہ ادب و تعظیم کے طور پر یوسف (علیہ السلام) کے سامنے جھک گئے۔ لیکن ( وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا) 12 ۔ یوسف :100) کے الفاظ بتلاتے ہیں کہ وہ زمین پر یوسف (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ ریز ہوئے، یعنی یہ سجدہ، سجدہ ہی کے معنی میں ہے۔ تاہم یہ سجدہ، سجدہ تعظیمی ہے سجدہ عبادت نہیں اور سجدہ تعظیمی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت میں جائز تھا۔ اسلام شرک کے سد باب کے لئے سجدہ تعظیمی کو بھی حرام کردیا گیا ہے، اور اب سجدہ تعظیمی بھی کسی کے لئے جائز نہیں۔ 100۔ 3 یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو خواب میں دیکھا تھا اتنی آزمائشوں سے گزرنے کے بعد بالآخر اس کی تعبیر سامنے آئی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو تخت شاہی پر بٹھایا اور والدین سمیت تمام بھائیوں نے اسے سجدہ کیا۔ 100۔ 4 اللہ کے احسنات میں کنویں سے نکلنے کا ذکر نہیں کیا تاکہ بھائی شرمندہ نہ ہوں۔ یہ اخلاق نبوی ہے۔ 100۔ 5 مصر جیسے متمدن علاقے کے مقابلے میں کنعان کی حیثیت ایک صحرا کی تھی، اس لئے اسے بَدُوْ سے تعبیر کیا۔ 100۔ 6 یہ بھی اخلاق کریمانہ کا ایک نمونہ کہ بھائیوں کو ذرا مورد الزام نہیں ٹھہرایا اور شیطان کو اس کارستانی کا باعث قرار دیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٤] سیدنا یوسف کے خواب کے واقع ہونے کا وقت :۔ دوسرے دن جب سیدنا یوسف شاہی دربار میں پہنچے تو آپ نے اپنے والدین کو تخت شاہی پر اپنے ساتھ بٹھا لیا اور یہ والدہ سیدنا یوسف کی کوئی سوتیلی والدہ ہی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ ان دونوں چھوٹے بھائیوں کی حقیقی والدہ راحیل، بن یمین کی پیدائش کے وقت ہی فوت ہوگئی تھی۔ جب والدین اور برادران یوسف نے سیدنا یوسف کی یہ شان و شوکت دیکھی تو والدین نیچے اترے اور وہ دونوں اور گیارہ بھائی سب کے سب سیدنا یوسف کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے۔ اس سجدہ کے تعظیمی سجدہ ہونے میں تو کسی کو اختلاف نہیں، اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا اس سجدہ کی صورت وہی تھی جس پر شرعاً لفظ سجدہ کا اطلاق ہوتا ہے۔ جیسے ہم نماز میں سجدہ کرتے ہیں یا سجدہ کے معنی صرف جھک جانا ہے۔ جیسے دوسرے کو سلام کرتے وقت بھی بعض دفعہ انسان جھک جاتا ہے۔ کیونکہ لغوی لحاظ سے لفظ سجد میں اس معنی کی بھی گنجائش ہے۔ اگر دوسرے معنی لیے جائیں تو پھر تو کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ محض تھوڑا سا جھک جانے پر بھلا کیا ہے اعتراض ہوسکتا ہے البتہ جن مفسرین نے پہلے معنی مراد لئے ہیں وہ صراحت کردیتے ہیں کہ سجدہ تعظیمی ہماری شریعت میں فی الواقع حرام ہے۔ لیکن پہلی شریعتوں میں اس کی اجازت تھی۔ سجدا سے پہلے خروا کا لفظ ہمارے خیال میں دوسرے معنی کی ہی تائید کرتا ہے۔ [٩٥] سیدنا یوسف کا اللہ کے احسانات کا شکر ادا کرنا :۔ یہ صورت حال دیکھ کر سیدنا یوسف کو اپنے پر اللہ کے احسانات یاد آنا شروع ہوگئے۔ اور اپنے والد محترم سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ جو خواب میں نے بچپن میں دیکھا تھا۔ یہ اس کی حقیقی تعبیر سب کے سامنے آگئی ہے۔ (اس خواب اور اس کی حقیقت کا برادران یوسف کو اسی مجلس میں علم ہوا۔ اس سے پہلے یہ خواب نہ سیدنا یوسف نے کسی کو بتایا تھا اور نہ سیدنا یعقوب نے) یہ بھی اللہ کا مجھ پر بڑا فضل و احسان ہے اور اس وقت بھی اللہ نے بڑا احسان کیا تھا۔ جب مجھے قید سے نکالا تھا اور مجھے باعزت طور پر عورتوں کے مکر و فریب سے بری کیا تھا۔ پھر اب یہ احسان کیا ہے کہ آپ سب لوگوں کو دیہات سے نکال کر یہاں میرے پاس لے آیا ہے۔ یہاں ہر طرح کی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے بافراغت میسر کی ہیں اور ہم سب کو یہاں اکٹھا کردیا ہے کہ پیارو محبت سے گزر بسر کریں۔ ورنہ شیطان نے تو ہم بھائیوں کے درمیان فتنہ کھڑا کر ہی دیا تھا۔ (اس وقت بھی سیدنا یوسف نے بھائیوں سے نہ کوئی شکایت کی اور نہ ان پر کوئی الزام رکھا تاکہ وہ مزید شرمسار نہ ہوں) پھر اسی فتنہ سے بمصداق : عدو شرے برانگیزد کہ خیر مادراں باشد۔ اللہ تعالیٰ نے غیر محسوس انداز میں میرے لئے ہر طرح کی بھلائی کی راہیں پیدا کردیں۔ کسی کو کیا معلوم ہوسکتا ہے کہ مجھے کنویں میں ڈالنے پھر قید خانہ میں ڈالنے میں اللہ کی کیا کیا حکمتیں پنہاں تھیں ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ ۔۔ : مصر پہنچ کر جب مجلس آراستہ ہوئی تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو اپنے تخت پر اونچا بٹھانے کا حکم دیا اور دوسرے تمام اہل مجلس کرسیوں یا قالینوں پر نیچے بیٹھے تھے۔ جب یوسف (علیہ السلام) مجلس میں آئے تو ساری مجلس نے جن میں ان کے والدین بھی شامل تھے، ان کی تعظیم کے لیے سجدہ کیا۔ بعض حضرات اس کا ترجمہ کرتے ہیں کہ سب لوگ جھک کر تعظیم بجا لائے، مگر ” وَخَرُّوْا “ کا لفظ اس مطلب کا ساتھ نہیں دیتا، کیونکہ ” وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا “ کا معنی ہے ” اور وہ اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے گرپڑے۔ “ حقیقت یہ ہے کہ پہلی امتوں میں تعظیم کے لیے سجدہ جائز تھا، جس میں مسجود کو اللہ کے کسی اختیار میں شریک نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ہاں عبادت کا سجدہ ہمیشہ غیر اللہ کے لیے حرام رہا ہے اور وہ ایسا سجدہ ہے کہ کسی کو غیبی علم اور قوت و اقتدار اور نفع نقصان کا مالک سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ یہ اللہ کے ساتھ شرک ہے، اس مقصد کے لیے قیام اور سینے پر ہاتھ باندھنا بھی شرک ہے۔ ایک سجدہ جبراً کروایا جاتا ہے، وہ نہ عبادت ہے نہ تعظیم، وہ مجبوری ہے۔ پہلی امتوں میں تعظیم کے لیے سجدہ جائز تھا، جیسا کہ فرشتوں کا آدم (علیہ السلام) کو سجدہ اور بردران یوسف اور ان کے والدین کا یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ تھا۔ یہ رواج عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت تک جاری رہا۔ ہماری امت میں شرک کے ذرائع کے سدّباب کے لیے تعظیمی سجدہ بھی قیامت تک کے لیے حرام کردیا گیا اور قیام بھی، ہاں آگے بڑھ کر استقبال کرنا مسنون ہے اور وہ اس عجمی رسم میں شامل نہیں جس میں کسی کے آنے پر سب لوگ اپنی اپنی جگہ کھڑے ہوجاتے ہیں، اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے۔ سجدۂ تعظیمی سے بھی صاف الفاظ میں منع فرمایا، چناچہ عبداللہ بن ابی اوفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن جبل (رض) جب شام سے آئے تو انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سجدہ کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَا ھٰذَا یَا مُعَاُذُ ! ؟ قَالَ أَتَیْتُ الشَّامَ فَوَافَقْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِأَسَاقِفَتِھِمْْ وَبِطَارِقَتِھِمْ فَوَدِدْتُ فِيْ نَفْسِيْ أَنْ نَّفْعَلَ ذٰلِکَ بِکَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَلاَ تَفْعَلُوْا، فَإِنِّيْ لَوْکُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِغَیْرِ اللّٰہِ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِھَا ) [ ابن ماجہ، النکاح، باب حق الزوج علی المرأۃ : ١٨٥٣۔ ابن حبان : ٤١٧١، و قال الألبانی حسن صحیح ] ” معاذ ! یہ کیا ہے ؟ “ کہا : ” میں شام گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے پادریوں اور سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں، تو میں نے اپنے دل میں چاہا کہ ہم آپ کے ساتھ ایسا ہی کریں۔ “ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم ایسا مت کرو، کیونکہ اگر میں کسی کو حکم دینے والا ہوتا کہ وہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ “ سورة حٰم السجدہ (٣٧) میں بھی اللہ کے سوا سجدہ منع کردیا گیا ہے۔ شاہ عبد القادر (رض) فرماتے ہیں : ” پہلے وقت میں سجدۂ تعظیمی تھا، فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا ہے، اس وقت اللہ نے وہ رواج موقوف کیا، فرمایا : (وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ ) [ الجن : ١٨ ] اس وقت پہلے رواج پر چلنا ویسا ہے کہ کوئی اپنی بہن سے نکاح کرے کہ آدم (علیہ السلام) کے وقت ہوا ہے۔ “ (موضح) وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۔۔ : یوسف (علیہ السلام) نے یاد دلایا کہ یہ اس خواب کی تعبیر ہے جو کئی سال پہلے میں نے دیکھا تھا، میرے رب نے اسے سچا کردیا، محض پریشان خواب نہیں رہنے دیا۔ خواب اور اس ملاقات کے درمیان کی مدت کسی نے چالیس سال بتائی، کسی نے اسّی (٨٠) سال، ابن اسحاق نے اٹھارہ سال بتائی اور کہا کہ اہل کتاب کا خیال ہے کہ وہ چالیس سال یا اس کے لگ بھگ تھی۔ ” التحریر والتنویر “ میں ابن عاشور (رض) نے بائیس سال لکھی ہے۔ اصل حقیقت اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، مگر چالیس اور اسّی (٨٠) سال والی بات قرین قیاس معلوم نہیں ہوتی اور وحی الٰہی کے فیصلے کے بغیر تعیین کرنا اندھیرے میں تیر چلانا ہے۔ وَقَدْ اَحْسَنَ بِيْٓ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ : اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ خواب اور اس کی تعبیر کے درمیان کئی سال کا وقفہ ہوسکتا ہے، کنویں میں پھینکے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا سب سے پہلا احسان بذریعہ وحی حوصلہ دلانا تھا، پھر کنویں سے نکلوانا، پھر باعزت جگہ دینا، علم و حکمت عطا کرنا، غرض اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) پر بیشمار احسانات کیے تھے، مگر انھوں نے اللہ کے احسان کا تذکرہ قید خانے سے نکالنے سے شروع کیا، کیونکہ اس سے پہلے ساتھ آزمائشیں بھی تھیں اور ان کے تذکرے سے بھائیوں کی شرمندگی بھی ممکن تھی۔ یہ انبیاء ہی کا حوصلہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کی کسی زیادتی کا ذکر نہیں کیا، بلکہ ان کے سارے برے سلوک کو شیطان کی کارستانی قرار دے کر انھیں شرمندگی سے بچانے کی کوشش کی۔ شاہ عبد القادر (رض) نے فرمایا : ” جو اللہ کے احسان تھے سو ذکر فرمائے اور جو تکلیف تھی دخل شیطان سے، اس کو منہ پر نہ لائے، مجمل سنا دیا۔ “ (موضح) وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ ۔۔ : بدو، بادیہ نشینی حضر یعنی شہر میں رہنے کے بالمقابل ہے۔ ” بَدْوٌ“ ” بَدَا یَبْدُوْ “ کا مصدر ہے، یعنی ظاہر ہونا، کیونکہ بادیہ نشینوں کے گھر ہر ایک کو نظر آتے ہیں۔ مصر کے مقابلے میں کنعان کی حیثیت بدو کی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے خاندان کے شہر میں آنے کو بھی اپنے آپ پر احسان کہا، کیونکہ شہر کے لوگ اکثر سلیقہ شعار، میل جول کی وجہ سے نرم طبیعت اور حصول علم کے مواقع کی وجہ سے علم سے آراستہ ہوتے ہیں، اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَنْ سَکَنَ الْبَادِیَۃَ جَفَا ) [ ترمذي، الفتن، باب من أتي أبواب السلطان افتتن : ٢٢٥٦۔ نساءي : ٤٣١٤۔ أبوداوٗد : ٢٨٥٩۔ أحمد : ١؍٣٥٧، ح : ٣٣٦١ و صححہ الألبانی عن ابن عباس (رض) ] ” جو بادیہ میں رہائش رکھے وہ سخت دل ہوجاتا ہے۔ “ اور تمام انبیاء شہروں اور بستیوں ہی میں سے بھیجے گئے، جیسا کہ آگے آیت (١٠٩) میں آ رہا ہے، بلکہ رسول ایسی بستی میں بھیجے گئے جو دوسری بستیوں کے مرکز تھے۔ (دیکھیے قصص : ٥٩) ” لَطِیْفْ “ ایسی چیز جو حواس کی گرفت میں نہ آسکے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت لطیف اس لحاظ سے ہے کہ وہ باریک سے باریک چیز کی خبر رکھنے والا ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ اس کی تدبیر نہایت باریک ہوتی ہے جو نظر نہیں آتی اور اس لحاظ سے اس کا معنی لطف و کرم کرنے والا بھی ہے کہ وہ ایسے باریک طریقے سے مہربانی فرماتا ہے کہ نظر ہی نہیں آتا کہ یہ کیسے ہوگئی۔ (مفردات) اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ : یعنی یہ جو کچھ ہوا اسی کے کمال علم و حکمت کا کرشمہ ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Verse 100 opens with the words: وَرَ‌فَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْ‌شِ (And he raised his parents up on the throne), that is, Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) had his parents sit with him on the royal throne. After that it was said: وَخَرُّ‌وا لَهُ سُجَّدًا (and they all fell before him in prostration), that is, the parents, and all brothers did sajdah before Sayyidna Yusuf I. Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) has said that this prostration of gratitude was for Allah Ta` ala, and not for Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) . Others have said that a Sajdah or Sujud (prostration) as part of ` Ibadah (worship) when done for anyone other than Allah has always been forbidden in the Shari&ah of every prophet. But, the Sajdah of Ta` zim (veneration) was permissible in the religious codes of past proph¬ets - which has been prohibited in the Shari’ ah of Islam on the basis that it is a source of Shirk. This is confirmed by Hadith reports from Al-Bukhari and Muslim that Sajdah (prostration) for anyone other than Allah is not Halal. And when both his father and mother, and eleven of his brothers, prostrated before him simultaneously, he remembered the dream he had seen in his childhood, and he said: وَقَالَ يَا أَبَتِ هَـٰذَا تَأْوِيلُ رُ‌ؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَ‌بِّي حَقًّا : ` My father, here is the fulfillment of my early dream,& that &the sun and the moon and eleven stars are prostrating to me,& and I am grateful that ` my Lord has made it come true.& Rules and Points of Guidance 1. When his sons requested Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) to pray to Allah for their forgiveness, he said, ` I shall (soon) pray to my Lord to forgive you.& He did not make that du&a instantly. He delayed it. One of the reasons given by commentators for this delay is that he first wanted to check with Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) whether or not he has forgiven them - because, unless the victim of injustice forgives, there is no forgiveness from Allah either. So, this being the state of affairs, the making of a prayer for forgiveness was not appropriate. Pointed to here is a matter of sound principle - that no violation of the rights of the servants of Allah (Huquq al-ibad) gets to be forgiven unless the holder of the right receives his right back, or forgives it - only verbal repentance for it is not enough. 2. According to a narration of Sufyan al-Thawri (رح) when Yahuda brought in the shirt of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) and put it over the face of his father, he asked: How is Yusuf? Yahuda told him that he was the king of Egypt. Sayyidna Yaqub (علیہ السلام) said: I am not asking if he is a prince or a pauper. I am asking how is he in his faith and deed. Then he told him about the qualities of his character and how God-fearing and chaste in conduct he was. This is how the noble prophets love and relate to their children. They are more concerned about the state of their spiri¬tual life than they are with the state of their physical comfort. This is the model every Muslim should follow. 3. According to Hadrat Hasan (رح) ، when the carrier of the good news arrived with the shirt of his separated son, Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) wished to give him something in reward. But, life was hard, therefore, he apologized that there was no bread baked in the house for seven days and he could not give a material reward. However, he prayed that Allah Ta` ala makes the agony of death easy on him. Al-Qurtubi has said that this prayer was the best reward for him. 4. This event also tells us that the giving of a reward to someone who brings a good news is a practice of the blessed prophets. An event relat¬ing to Sayyidna Ka&b ibn Malik (رض) from among the noble Sahabah is well known. He had not participated in the battle of Taber for which he was reproached and punished - though his repentance was later ac-cepted. When the man with the good news of this acceptance came to him, he gave the dress he was wearing to him. In addition to that, it also proves that inviting friends over meals on occasions of happiness is Sunnah. Sayyidna ` Umar (رض) when he completed his reading of Surah al-Baqarah, shared his happiness with others by inviting them to eat with him for which he slaughtered a camel. 5. The sons of Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) once the truth had come out in the open, asked for the forgiveness of their father and brother. This tells us that a person who has caused pain to someone, by word or action, or remains responsible for returning any right owed to him, then, it is oblig¬atory on that person that he must pay back that right immediately, or have it forgiven by him. Based on a narration of Sayyidna Abu Hurairah (رض) there is a report in the Sahib of Al-Bukhari that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: A person who has someone&s financial right due against him, or may have caused pain to him, by word or action, then, he must pay it back today, or get it off his shoulders by seeking forgiveness - before comes the day of Qiyamah where no one would have any property or wealth from which rights could be paid back. Therefore, his good deeds will be given to the victim of injustice and he will be left empty-handed. And if, he has no good deeds in his account, the sins of the other person will be put on his shoulders. May Allah protect us all from this. Patience and Gratitude: The Dignified Station of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) To pick up the thread of the story, we see that Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) starts telling his parents things which happened to him. This is a point where it would be useful to stop for a while and think. Had someone in our day been subjected to go through all those hardships which were faced by Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) and had he been enabled to meet his par¬ents after such a long trial of separation and disappointment, just ima¬gine where would he begin his tale of woes, how would he cry and make others do the same, and how many days and nights would he spend in recounting the hardships faced by him? But, the two parties, the teller and the listener, are both no less than two messengers and prophets of Allah. Worth observing is their conduct in this matter. Here is the very dear separated son of Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) ، when he meets his father after having gone through the long period of so many hardships, see what he says: وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَ‌جَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُم مِّنَ الْبَدْوِ مِن بَعْدِ أَن نَّزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي He favoured me when He released me from the prison and brought you from the countryside after the Satan had caused a rift between me and my brothers - 100. The hardships faced by Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) can be divided over three stages respectively: (1) The injustices of his brothers; (2) the separation from his parents; (3) the pain of the prison. What this great proph¬et of Allah has done is that, in his statement, he has changed the order of events as they had happened. He started from the prison. Then, he said nothing about how he had entered the prison and how he had suf¬fered there. Rather, talked about how he was released from the prison and mentioned that too with words of gratitude for Allah Ta` ala. As a co¬rollary of his release from the prison and his gratitude to Allah for it, he also told them that he has been in the prison for a certain time. Worth noticing here is that Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) has mentioned his release from the prison. But, he has not said anything about the prison of the well in which his brothers had thrown him. He did not mention it even functionally, as in ` He released me from the prison - 100.& The rea¬son is that he had already forgiven the mistake made by his brothers, and had said: لَا تَثْرِ‌يبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (No reproach upon you today - 92). There-fore, he did not consider it proper to mention the incident of the well in any form whatsoever, so that his brothers may not be put to shame. (Qurtubi) After that, he was supposed to dwell on the long and trying separation from his parents, and talk about how they had affected him. But, he set all these things aside. He took up the last part of it and mentioned his meeting with the parents and said so by thanking Allah for it: ` and brought you from the countryside (al-badw) & to this city of Egypt. There is a hint here to the blessing of Allah that He brought Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) from his home in the countryside, where conveniences of living are scarce, to a city with royal honours. The first stage of the trials of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) has not been men¬tioned yet. This concerns the injustices inflicted by his brothers on him. It is interesting that he sweeps the whole thing away as a handiwork of Satan and makes things come easy even by suggesting that his brothers were not of the kind who would do something like that. It was Satan who deceived them and caused this rift between them. This is the elegance of prophets. Not only that they would be patient against pain and hardship, but that they would invariably find the occa¬sion to be grateful to Allah under all conditions. Therefore, with proph¬ets, there is no state of being in which they are not grateful to Allah Ta’ ala. This is contrary to what ordinary human beings would do. In their state of being, they would have thousands of blessings of Allah Ta’ ala being showered over them, yet they would not talk about them to anyone. And when they have some hardship overtake them at some time, they would go about crying over it all their lives. The Qur&an has complained about this human mind-set when it says:إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَ‌بِّهِ لَكَنُودٌ (that is, human beings are, to their Rabb, very ungrateful -100:6). After having reduced the tale of his trials in three words, Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) said:إِنَّ رَ‌بِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ (Surely, my Lord does what He wills, in a subtle way. Surely, He is the All-Knowing, the All-Wise - 12:100).

وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ یعنی یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو اپنے تخت شاہی پر بٹھایا، وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا یعنی والدین اور سب بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کیا حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ یہ سجدہ شکر اللہ تعالیٰ کے لئے کیا گیا تھا یوسف (علیہ السلام) کو نہیں تھا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ سجدہ عبادت تو ہر پیغمبر کی شریعت میں غیر اللہ کے لئے حرام تھا لیکن تعظیم انبیاء (علیہم السلام) سابقین کی شریعتوں میں جائز تھا جو شریعت اسلام میں ذریعہ شرک ہونے کی بناء پر ممنوع ہوگیا ہے جیسا کہ حدیث صحیحین میں مذکور ہے کہ کسی غیر اللہ کے لئے سجدہ حلال نہیں وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ یوسف (علیہ السلام) کے سامنے جب دونوں ماں باپ اور گیارہ بھائیوں نے بیک وقت سجدہ کیا تو ان کو اپنا بچپن کا خواب یاد آ گیا اور فرمایا کہ ابا جان یہ میرے اس کی تعبیر ہے جو بچپن میں دیکھا تھا کہ آفتاب وماہتاب اور گیارہ ستارے مجھے سجدہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے اس خواب کی سچائی کو آنکھوں سے دکھلا دیا، احکام و مسائل ١۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے صاحبزادوں کی درخواست معافی و دعائے مغفرت پر جو یہ فرمایا کہ عنقریب تمہارے لئے دعائے مغفرت کروں گا اور فوراً دعاء نہیں کی، اس تاخیر کی ایک وجہ بعض حضرات نے یہ بھی بیان کی ہے کہ منظور یہ تھا کہ یوسف (علیہ السلام) سے مل کر پہلے یہ تحقیق ہوجائے کہ انہوں نے ان کی خطا معاف کردی ہے یا نہیں کیونکہ جب تک مظلوم معافی نہ دے عنداللہ بھی معافی نہیں ہوتی ایسی حالت میں دعائے مغفرت بھی مناسب نہ تھی یہ بات اپنی جگہ بالکل صحیح اور اصولی ہے کہ حقوق العباد کی توبہ بغیر اس کے نہیں ہوتی کہ صاحب حق اپنا حق وصول کرلے یا معاف کر دے محض زبانی توبہ و استغفار کافی نہیں ٢۔ حضرت سفیان ثوری (رح) کی روایت ہے کہ جب یہودا قمیض یوسف لے کر آئے اور یعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر ڈالا تو پوچھا کہ یوسف کیسے ہیں ؟ انہوں نے بتلایا کہ وہ مصر کے بادشاہ ہیں یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اس کو نہیں پوچھتا کہ وہ بادشاہ ہیں یا فقیر پوچھنا یہ ہے کہ ایمان اور عمل کے اعتبار سے کیا حال ہے تب انہوں نے ان کے تقوٰی و طہارت کے حالات بتلائے یہ ہے انبیاء (علیہم السلام) کی محبت اور تعلق کہ اولاد کی جسمانی راحت سے زیادہ ان کی روحانی حالت کی فکر کرتے ہیں ہر مسلمان کو اسی کا اتباع کرنا چاہئے، ٣۔ حضرت حسن (رح) سے روایت ہے کہ جب بشارت دینے والا قمیص یوسف لے کر پہنچا تو یعقوب (علیہ السلام) چاہتے تھے کہ اس کا کچھ انعام دیں مگر حالات سازگار نہ تھے اس لئے عذر کیا کہ سات روز سے ہمارے گھر میں روٹی نہیں پکی اس لئے میں کچھ مادی انعام تو نہیں دے سکتا مگر یہ دعاء دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تم پر سکرات موت کو آسان کردیں قرطبی (رح) نے فرمایا کہ یہ دعاء ان کے لئے سب سے بہتر انعام تھا، ٤۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خوشخبری دینے والے کو انعام دینا سنت انبیاء (علیہم السلام) ہے صحابہ کرام میں حضرت بن کعب بن مالک (رض) کا واقعہ مشہور ہے کہ غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنے پر جب ان پر عتاب ہوا اور بعد میں توبہ قبول کی گئی تو شخص قبول توبہ کی بشارت لایا تھا اپنا جوڑا کپڑوں کا اتار کر اس کو پہنا دیا، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ خوشی کے موقع پر اظہار مسرت کے لئے دوستوں وغیرہ کو کھانے کی دعوت دینا بھی سنت ہے حضرت فاروق اعظم (رض) نے جب سورة بقرہ پڑھ کر ختم کی تو خوشی میں ایک اونٹ ذبح کر کے لوگوں کو کھلایا، ٥۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادوں نے حقیقت واقعہ ظاہر ہوجانے کے بعد اپنے والد اور بھائی سے معافی مانگی اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کے ہاتھ یا زبان سے کسی شخص کو ایذاء پہنچی یا اس کا کوئی حق اس کے ذمہ رہا اس پر لازم ہے کہ فوراً اس حق کو ادا کر دے یا اس سے معاف کرا لے، صحیح بخاری میں بروایت ابوہریرہ (رض) منقول ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کے ذمہ کسی دوسرے کا کوئی حق مالی واجب ہو یا اس کو کوئی ایذاء ہاتھ یا زبان سے پہونچائی ہو اس کو چاہئے کہ آج اس کو ادا کر دے یا معافی مانگ کر اس سے سبکدوشی حاصل کرلے قبل اس کے کہ قیامت کا وہ دن آجائے جہاں کسی کے پاس کوئی مال حق ادا کرنے کے لئے نہ ہوگا اس لئے اس کے اعمال صالحہ مظلوم کو دے دیے جائیں گے یہ خالی رہ جائے گا اور اگر اس کے اعمال بھی صالح نہیں تو دوسرے کے جو گناہ ہیں اس کے سر پر ڈال دیئے جائیں گے والعیاذ باللہ تعالیٰ ، یوسف (علیہ السلام) کا مقام صبروشکر : اس کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) نے والدین کے سامنے کچھ اپنی سرگذشت بیان کرنا شروع کی یہاں ایک منٹ ٹھہر کر غور کیجئے کہ آج اگر کسی کو اتنے مصائب کا سامنے کرنا پڑے جتنے یوسف (علیہ السلام) پر گذرے اور والدین سے اتنی طویل مفارقت اور مایوسی کے بعد ملنے کا اتفاق ہو تو وہ والدین کے سامنے اپنی سر گذشت کیا بیان کرے گا کتنا روئے گا اور رلائے گا اور کتنے دن رات مصائب کی داستان سنانے میں صرف کرے گا مگر یہاں طرفین میں اللہ کے رسول اور پیغمبر ہیں ان کا طرز عمل ملاحظہ فرمائیے یعقوب (علیہ السلام) کے بچھڑے ہوئے محبوب فرزند ہزاروں مصائب کے دور سے گذرنے کے بعد جب والد سے ملتے ہیں تو کیا فرماتے ہیں (آیت) وَقَدْ اَحْسَنَ بِيْٓ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسان فرمایا جبکہ مجھے قیدخانہ سے نکال دیا اور آپ کو باہر سے یہاں لے آیا بعد اس کے شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈلوا دیا تھا، حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مصائب ترتیب تین بابوں میں تقسیم ہوتی ہیں، اول بھائیوں کا ظلم وجور، دوسرے والدین سے طویل جدائی تیسرے قید خانے کی تکالیف خدا تعالیٰ کے اس برگزیدہ پیغمبر نے اپنے بیان میں پہلے تو واقعات کی ترتیب کو بدل کر قید خانے سے بات شروع کی اور اس میں قید خانے میں داخل ہونے اور وہاں کی تکالیف کا نام نہیں لیا بلکہ قید خانے سے نکلنے کا ذکر اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ بیان کیا قیدخانہ سے نجات اور اس پر شکر الہی کے ضمن میں یہ بھی بتلا دیا کہ میں کسی وقت قید خانہ میں بھی رہا ہوں، یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے جیل خانے سے نکلنے کا ذکر کیا بھائیوں نے جس کنویں میں ڈالا تھا اس کا اس حیثیت سے بھی ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کنویں سے نکالا وجہ یہ ہے کہ بھائیوں کی خطا پہلے معاف کرچکے تھے اور فرما چکے تھے لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ اس لئے مناسبب نہ سمجھا کہ اب اس کنویں کا کسی طرح سے بھی ذکر آئے تاکہ بھائی شرمندہ نہ ہوں (قرطبی) اس کے بعد والدین کی طویل اور صبر آزما مفارقت اور اس کے تاثرات کا ذکر کرنا تھا تو ان سب باتوں کو چھوڑ کر اس کے آخری انجام اور والدین سے ملاقات کا ذکر اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ کیا کہ آپ کو بدو یعنی دیہات سے شہر مصر میں پہنچا دیا اس میں اس نعمت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کا وطن دیہات میں تھا جہاں معیشت کی آسانیاں کم ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ نے شہر میں شاہی اعزازات کے ساتھ اندر پہنچادیا، اب پہلی بات رہ گئی بھائیوں کا ظلم وجور، سو اس کو بھی شیطان کے حوالہ کر کے اس طرح بیباق کردیا کہ میرے بھائی تو ایسے نہ تھے جو یہ کام کرتے شیطان نے ان کو دھوکہ میں ڈال کر یہ فساد کرا دیا، یہ ہے شان نبوت کہ مصائب اور تکالیف پر صرف صبر ہی نہیں بلکہ ہر جگہ شکر کا پہلو نکال لیتے ہیں اسی لئے ان کا کوئی حال ایسا نہیں ہوتا جس میں وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گذار نہ ہوں بخلاف عام انسانوں کے کہ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہزاروں نعمتیں برستی رہیں تو بھی کسی کا ذکر نہ کریں اور کسی وقت کو مصیبت پڑجائے تو اس کو عمر بھر گاتے رہیں قرآن میں اسی کی شکایت کی گئی ہے اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ یعنی انسان اپنے رب کا بہت ناشکرا ہے، یوسف (علیہ السلام) نے داستان مصائب کو تین لفظوں میں مختصر کرنے کے بعد فرمایا اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ یعنی میرا پروردگار جو چاہتا ہے اس کی تدبیر لطیف کردیتا ہے بلاشبہ وہ بڑا علم والا حکمت والا ہے

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَرَفَعَ اَبَوَيْہِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَہٗ سُجَّدًا۝ ٠ۚ وَقَالَ يٰٓاَبَتِ ہٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ۝ ٠ۡقَدْ جَعَلَہَا رَبِّيْ حَقًّا۝ ٠ۭ وَقَدْ اَحْسَنَ بِيْٓ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ۝ ٠ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ۝ ٠ۭ اِنَّہٗ ہُوَالْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۝ ١٠٠ رفع الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] ( ر ف ع ) الرفع ( ف ) کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] اور ہم نے طو ر پہاڑ کو تمہارے اوپر لاکر کھڑا کیا ۔ اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] وہ قادر مطلق ہے جس نے آسمان کو بدوں کسی سہارے کے اونچا بناکر کھڑا کیا ۔ أب الأب : الوالد، ويسمّى كلّ من کان سببا في إيجاد شيءٍ أو صلاحه أو ظهوره أبا، ولذلک يسمّى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أبا المؤمنین، قال اللہ تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6] ( اب و ) الاب ۔ اس کے اصل معنی تو والد کے ہیں ( مجازا) ہر اس شخص کو جو کسی شے کی ایجاد ، ظہور یا اصلاح کا سبب ہوا سے ابوہ کہہ دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ۔ { النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ } [ الأحزاب : 6] میں آنحضرت کو مومنین کا باپ قرار دیا گیا ہے ۔ عرش العَرْشُ في الأصل : شيء مسقّف، وجمعه عُرُوشٌ. قال تعالی: وَهِيَ خاوِيَةٌ عَلى عُرُوشِها[ البقرة/ 259] ، ومنه قيل : عَرَشْتُ الکرمَ وعَرَّشْتُهُ : إذا جعلت له كهيئة سقف، وقد يقال لذلک المُعَرَّشُ. قال تعالی: مَعْرُوشاتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشاتٍ [ الأنعام/ 141] والعَرْشُ : شبهُ هودجٍ للمرأة شبيها في الهيئة بِعَرْشِ الکرمِ ، وعَرَّشْتُ البئرَ : جعلت له عَرِيشاً. وسمّي مجلس السّلطان عَرْشاً اعتبارا بعلوّه . قال : وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ [يوسف/ 100] ( ع رش ) العرش اصل میں چھت والی چیز کو کہتے ہیں اس کی جمع عروش ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهِيَ خاوِيَةٌ عَلى عُرُوشِها[ البقرة/ 259] اور اس کے مکانات اپنی چھتوں پر گرے پڑے تھے ۔ اسی سے عرشت ( ن ) الکرم وعرشتہ کا محاورہ ہے جس کے معنی انگور کی بیلوں کے لئے بانس وغیرہ کی ٹٹیاں بنانا کے ہیں اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیل کو معرش بھی کہاجاتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : مَعْرُوشاتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشاتٍ [ الأنعام/ 141] ٹٹیوں پر چڑھائے ہوئے اور جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائے ہوئے ۔ وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ [ النحل/ 68] اور درختوں میں اور ان سے جنہیں ٹٹیوں پر چڑھاتے ہیں ۔ وَما کانُوا يَعْرِشُونَ [ الأعراف/ 137] جو ٹٹیوں پر چڑھاتے تھے ۔ العرش چھولدادی جس کی ہیت انگور کی ٹٹی سے ملتی جلتی ہے اسی سے عرشت لبئر ہے جس کے معنی کو یں کے اوپر چھولداری سی بنانا کے ہیں بادشاہ کے تخت کو بھی اس کی بلندی کی وجہ سے عرش کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ [يوسف/ 100] اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا ۔ خر فَكَأَنَّما خَرَّ مِنَ السَّماءِ [ الحج/ 31] ، وقال تعالی: فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ [ سبأ/ 14] ، وقال تعالی: فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ [ النحل/ 26] ، فمعنی خَرَّ سقط سقوطا يسمع منه خریر، والخَرِير يقال لصوت الماء والرّيح وغیر ذلک ممّا يسقط من علوّ. وقوله تعالی: خَرُّوا سُجَّداً [ السجدة/ 15] ( خ ر ر ) خر ( ن ) خر یر ا کے معنی کسی چیز کے آواز کے ساتھ نیچے گرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَكَأَنَّما خَرَّ مِنَ السَّماءِ [ الحج/ 31] جب عصا گر پرا تب جنوں کو معلوم ہوا ۔ تو وہ گویا ایسا ہے جیسے آسمان سے گر پڑے ۔ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ [ النحل/ 26] اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی الخریر پانی وغیرہ کی آواز کو کہتے ہیں جو اوپر سے گر رہاہو اور آیت کریمہ : ۔ خَرُّوا سُجَّداً [ السجدة/ 15] تو سجدے میں گر پڑتے میں خرو ا کا لفظ دو معنوں پر دلالت کرتا ہے یعنی ( 1) گرنا اور ( 2 ) ان سے تسبیح کی آواز کا آنا ۔ اور اس کے بعد آیت سے تنبیہ کی ہے کہ ان کا سجدہ ریز ہونا اللہ تعالیٰ کی تسبیح کے ساتھ تھا نہ کہ کسی اور امر کے ساتھ ۔ سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی عبادت کرنے کو سجود کہا جاتا ہے اور یہ انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ( کیونکہ ) سجود کی دو قسمیں ہیں ۔ سجود اختیاری جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور اسی سے وہ ثواب الہی کا مستحق ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی ) عبادت کرو ۔ سجود تسخیر ی جو انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] اور فرشتے ) جو آسمانوں میں ہیں اور جو ( انسان ) زمین میں ہیں ۔ چار ونا چار اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں ) اول ( تاویل) التأويل من الأول، أي : الرجوع إلى الأصل، ومنه : المَوْئِلُ للموضع الذي يرجع إليه، وذلک هو ردّ الشیء إلى الغاية المرادة منه، علما کان أو فعلا، ففي العلم نحو : وَما يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ [ آل عمران/ 7] ، وفي الفعل کقول الشاعر : وللنّوى قبل يوم البین تأويل وقوله تعالی: هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ [ الأعراف/ 53] أي : بيانه الذي غایته المقصودة منه . وقوله تعالی: ذلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا [ النساء/ 59] قيل : أحسن معنی وترجمة، وقیل : أحسن ثوابا في الآخرة . التاویل ۔ یہ بھی اول سے مشتق ہے جس کے معنی چیز کے اصل کی طرف رجوع ہونے کے ہیں اور جس مقام کی طرف کوئی چیز لوٹ کر آئے اسے موئل ( جائے بازگشت) کہا جاتا ہے ۔ پس تاویل کسی چیز کو اس غایت کی طرف لوٹانا کے ہیں جو اس سے بلحاظ علم علم یا عمل کے مقصود ہوتی ہے ۔ چناچہ غایت علمیٰ کے متعلق فرمایا :۔ { وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ } ( سورة آل عمران 7) حالانکہ اس کی مراد اصلی خدا گے سوا کوئی نہیں جانتا یا وہ لوگ جو علم میں دستگاہ کامل رکھتے ہیں اور غایت عملی کے متعلق شاعر نے کہا ہے ۔ ، ، وللنوی ٰ قبل یوم البین تاویل ، ، اور جدائی کے دن سے پہلے جدائی کا انجام کا ( اور اس کے آثار ظاہر ہوجاتے ہیں ۔ اور قرآن میں ہے { هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ } ( سورة الأَعراف 53) اب صرف وہ اس کی تاویل یعنی وعدہ عذاب کے انجام کار کا انتظار کر رہے ہیں جس دن اس وعدہ عذاب کے نتائج سامنے آجائیں گے ۔ یعنی اس دن سے جو غایت مقصود ہے وعملی طور پر ان کے سامنے ظاہر ہوجائے گی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا } ( سورة النساء 59) میں بعض نے معنی اور مفہوم کے اعتبار سے ( احسن تاویلا ہونا مراد لیا ہے اور بعض نے آخرت میں بلحاظ ثواب کے احسن ہونا مراد لیا ہے ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ احسان الإحسان فوق العدل، وذاک أنّ العدل هو أن يعطي ما عليه، ويأخذ أقلّ مما له، والإحسان أن يعطي أكثر مما عليه، ويأخذ أقلّ ممّا له «3» . فالإحسان زائد علی العدل، فتحرّي العدل واجب، وتحرّي الإحسان ندب وتطوّع، وعلی هذا قوله تعالی: وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] ، وقوله عزّ وجلّ : وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] ، ولذلک عظّم اللہ تعالیٰ ثواب المحسنین، فقال تعالی: وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] ، وقال تعالی:إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] ، وقال تعالی: ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] ، لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] . ( ح س ن ) الحسن الاحسان ( افعال ) احسان عدل سے بڑھ کر چیز ہے کیونکہ دوسرے کا حق پورا دا کرنا اور اپنا حق پورا لے لینے کا نام عدل ہے لیکن احسان یہ ہے کہ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیا جائے اور اپنے حق سے کم لیا جائے لہذا احسان کا درجہ عدل سے بڑھ کر ہے ۔ اور انسان پر عدل و انصاف سے کام لینا تو واجب اور فرض ہے مگر احسان مندوب ہے ۔ اسی بنا پر فرمایا :۔ وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا قبول کیا اور وہ نیکو کا ر بھی ہے ۔ اور فرمایا ؛ وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] اور پسندیدہ طریق سے ( قرار داد کی ) پیروی ( یعنی مطالبہ خونہار ) کرنا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محسنین کے لئے بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] بیشک خدا نیکی کرنیوالوں کو دوست رکھتا ہے ۔ ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے ۔ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے ۔ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ سجن السَّجْنُ : الحبس في السِّجْنِ ، وقرئ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ [يوسف/ 33] ( س ج ن ) السجن ( مصدرن ) قید خانہ میں بند کردینا ۔ اور آیت ۔ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ [يوسف/ 33] اے میرے پروردگار قید خانہ میں رہنا مجھے زیادہ پسند ہے ۔ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ بَدْوُ خلاف الحضر، قال تعالی: وَجاءَ بِكُمْ مِنَ الْبَدْوِ [يوسف/ 100] أي : البادية، وهي كلّ مکان يبدو ما يعنّ فيه، أي : يعرض، ويقال للمقیم بالبادية : بَادٍ ، کقوله تعالی: سَواءً الْعاكِفُ فِيهِ وَالْبادِ [ الحج/ 25] ، لَوْ أَنَّهُمْ بادُونَ فِي الْأَعْرابِ [ الأحزاب/ 20] . البدو یہ حضر کی ضد ہے اور آیت کریمہ :۔ وَجاءَ بِكُمْ مِنَ الْبَدْوِ [يوسف/ 100] آپ کو گاؤں سے یہاں لایا ۔ میں بدو بمعنی بادیۃ ( صحراء) ہے اور ہر وہ مقام جہاں کوئی عمارت وغیر ہ نہ ہوں اور تمام چیزیں ظاہر نظر آتی ہوں اسے بدو ( بادیۃ ) کہا جاتا ہے نزع نَزَعَ الشیء : جَذَبَهُ من مقرِّه كنَزْعِ القَوْس عن کبده، ويُستعمَل ذلک في الأعراض، ومنه : نَزْعُ العَداوة والمَحبّة من القلب . قال تعالی: وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] . وَانْتَزَعْتُ آيةً من القرآن في كذا، ونَزَعَ فلان کذا، أي : سَلَبَ. قال تعالی: تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وقوله : وَالنَّازِعاتِ غَرْقاً [ النازعات/ 1] قيل : هي الملائكة التي تَنْزِعُ الأرواح عن الأَشْباح، وقوله :إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ [ القمر/ 19] وقوله : تَنْزِعُ النَّاسَ [ القمر/ 20] قيل : تقلع الناس من مقرّهم لشدَّة هبوبها . وقیل : تنزع أرواحهم من أبدانهم، والتَّنَازُعُ والمُنَازَعَةُ : المُجَاذَبَة، ويُعَبَّرُ بهما عن المخاصَمة والمُجادَلة، قال : فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ [ النساء/ 59] ، فَتَنازَعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ [ طه/ 62] ، والنَّزْعُ عن الشیء : الكَفُّ عنه . والنُّزُوعُ : الاشتیاق الشّديد، وذلک هو المُعَبَّر عنه بإِمحَال النَّفْس مع الحبیب، ونَازَعَتْنِي نفسي إلى كذا، وأَنْزَعَ القومُ : نَزَعَتْ إِبِلُهم إلى مَوَاطِنِهِمْ. أي : حَنَّتْ ، ورجل أَنْزَعُ : زَالَ عنه شَعَرُ رَأْسِهِ كأنه نُزِعَ عنه ففارَقَ ، والنَّزْعَة : المَوْضِعُ من رأسِ الأَنْزَعِ ، ويقال : امرَأَةٌ زَعْرَاء، ولا يقال نَزْعَاء، وبئر نَزُوعٌ: قریبةُ القَعْرِ يُنْزَعُ منها بالید، وشرابٌ طَيِّبُ المَنْزَعَةِ. أي : المقطَع إذا شُرِبَ كما قال تعالی: خِتامُهُ مِسْكٌ [ المطففین/ 26] . ( ن زع ) نزع ( ن زع ) نزع اشئی کے معنی کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنے کے ہیں ۔ جیسا کہ کمانکو در میان سے کھینچا جاتا ہے اور کبھی یہ لفظ اعراض کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور محبت یا عداوت کے دل سے کھینچ لینے کو بھی نزع کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ۔ ہم سب نکال ڈالیں گے ۔ آیت کو کسی واقعہ میں بطور مثال کے پیش کرنا ۔ نزع فلان کذا کے معنی کسی چیز کو چھین لینے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور آیت کریمہ : ۔ وَالنَّازِعاتِ غَرْقاً [ النازعات/ 1] ان فرشتوں کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ نازعات سے مراد فرشتے ہیں جو روحوں کو جسموں سے کھینچتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ [ القمر/ 19] ہم نے ان پر سخت منحوس دن میں آندھی چلائی وہ لوگوں کو اس طرح اکھیڑ ڈالتی تھی ۔ میں تنزع الناس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہو اپنی تیز کی وجہ سے لوگوں کو ان کے ٹھکانوں سے نکال باہر پھینک دیتی تھی بعض نے کہا ہے کہ لوگوں کی روحوں کو ان کے بد نوں سے کھینچ لینا مراد ہے ۔ التنازع والمنازعۃ : باہم ایک دوسرے کو کھینچا اس سے مخاصمت اور مجا دلہ یعنی باہم جھگڑا کرنا مراد ہوتا ہے ۔ چناچہ ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ [ النساء/ 59] اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو رجوع کرو ۔ فَتَنازَعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ [ طه/ 62] تو وہ باہم اپنے معاملہ میں جھگڑنے لگے ۔ النزع عن الشئی کے معنی کسی چیز سے رک جانے کے ہیں اور النزوع سخت اشتیاق کو کہتے ہیں ۔ وناز عتنی نفسی الیٰ کذا : نفس کا کسی طرف کھینچ کرلے جانا کس کا اشتیاق غالب آجانا ۔ انزع القوم اونٹوں کا پانے وطن کا مشتاق ہونا رجل انزع کے معنی سر کے بال بھڑ جانا کے ہیں ۔ اور نزعۃ سر کے اس حصہ کو کہتے ہیں جہاں سے بال جھڑ جائیں ۔ اور تانیث کے لئے نزعاء کی بجائے زعراء کا لفظ استعمال ہوتا ہے بئر نزدع کم گہرا کنواں جس سے ہاتھ کے شطن الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] ( ش ط ن ) الشیطان اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونیکے ہیں اور بئر شطون ( بہت گہرا کنوآں ) شطنت الدار ۔ گھر کا دور ہونا غربۃ شطون ( بطن سے دوری ) وغیرہ محاوارت اسی سے مشتق ہیں بعض نے کہا ہے کہ لفظ شیطان میں نون زائدہ ہے اور یہ شاط یشیط سے مشتق ہے جس کے معنی غصہ سے سوختہ ہوجانے کے ہیں ۔ اور شیطان کو بھی شیطان اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] اور جنات کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ شیطان ہر سر کش کو کہتے ہیں خواہ وہ جن وانس سے ہو یا دیگر حیوانات سے ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] شیطان ( سیرت ) انسانوں اور جنوں کو أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 65] ، وَإِلى مَدْيَنَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 85] ، ( اخ و ) اخ ( بھائی ) اصل میں اخو ہے اور ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کا ولادت میں ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک کی طرف سے یا رضاعت میں شریک ہو وہ اس کا اخ کہلاتا ہے لیکن بطور استعارہ اس کا استعمال عام ہے اور ہر اس شخص کو جو قبیلہ دین و مذہب صنعت وحرفت دوستی یا کسی دیگر معاملہ میں دوسرے کا شریک ہو اسے اخ کہا جاتا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ } ( سورة آل عمران 156) ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں ۔ میں اخوان سے ان کے ہم مشرب لوگ مراد ہیں اور آیت کریمہ :۔{ أَخَا عَادٍ } ( سورة الأَحقاف 21) میں ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کا بھائی کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ وہ ان پر بھائیوں کی طرح شفقت فرماتے تھے اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا : ۔ { وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا } ( سورة هود 61) اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا ۔ { وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ } ( سورة هود 50) اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ( ہود ) کو بھیجا ۔ { وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا } ( سورة هود 84) اور مدین کی طرف ان کے بھائی ( شعیب ) کو بھیجا ۔ لطف اللَّطِيفُ إذا وصف به الجسم فضدّ الجثل، وهو الثّقيل، يقال : شعر جثل «1» ، أي : كثير، ويعبّر باللَّطَافَةِ واللُّطْفِ عن الحرکة الخفیفة، وعن تعاطي الأمور الدّقيقة، وقد يعبّر باللَّطَائِفِ عمّا لا تدرکه الحاسة، ويصحّ أن يكون وصف اللہ تعالیٰ به علی هذا الوجه، وأن يكون لمعرفته بدقائق الأمور، وأن يكون لرفقه بالعباد في هدایتهم . قال تعالی: اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبادِهِ [ الشوری/ 19] ، إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِما يَشاءُ [يوسف/ 100] أي : يحسن الاستخراج . تنبيها علی ما أوصل إليه يوسف حيث ألقاه إخوته في الجبّ ، ( ل ط ف ) اللطیف ۔ جب یہ کسی جسم کی صفت واقع ہو تو یہ جبل کی ضد ہوتا ہے جس کے معنی بھاری اور ثقیل کے ہیں کہتے ہیں شعر جبل ) یعنی زیادہ اور بھاری بال اور کبھی لطافۃ یا لطف سے خرکت حفیفہ اور دقیق امور کا سر انجام دینا مراد ہوتا ہے اور لطائف سے وہ باتیں مراد لی جاتی ہیں جن کا ادراک انسای حواس نہ کرسکتے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لطیف ہونے کے معنی یا تو یہ ہیں کہ وہ انسانی حواس کے اور اک سے مافوق اور بالا تر ہے اور یا سے اس لئے لطیف کہا جا تا ہے کہ وہ دقیق امور تک سے واقف ہے اور یا یہ کہ وہ انسانوں کو ہدایت دینے میں نہایت نرم انداز اختیار کرتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبادِهِ [ الشوری/ 19] خدا اپنے بندوں پر مہر بان ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِما يَشاءُ [يوسف/ 100] بیشک میرا پروردگار جو کچھ چاہتا ہے حسن تدبیر سے کرتا ہے میں لطیف سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر کام کو حسن تدبیر سے سر انجام دینا ہے ۔ چناچہ دیکھے کہ یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائیوں نے کنویں میں ڈال دیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف اکرم سے انہیں اس مرتبہ تک پہنچا دیا حكيم فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ، وعلی ذلک قال : وَلَقَدْ جاءَهُمْ مِنَ الْأَنْباءِ ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ حِكْمَةٌ بالِغَةٌ [ القمر/ 4- 5] ، وقیل : معنی الحکيم المحکم «3» ، نحو : أُحْكِمَتْ آياتُهُ [هود/ 1] ، وکلاهما صحیح، فإنه محکم ومفید للحکم، ففيه المعنیان جمیعا، والحکم أعمّ من الحکمة، فكلّ حكمة حكم، ولیس کل حکم حكمة، فإنّ الحکم أن يقضی بشیء علی شيء، فيقول : هو كذا أو ليس بکذا، قال صلّى اللہ عليه وسلم : «إنّ من الشّعر لحكمة» أي : قضية صادقة لہذا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ اور قرآن پاک کو حکیم یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ حکمت کی باتوں پر مشتمل ہے جیسے فرمایا ۔ الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] یہ بڑی دانائی کی کتان کی آیئیں ہیں ۔ نیز فرمایا : وَلَقَدْ جاءَهُمْ مِنَ الْأَنْباءِ ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ حِكْمَةٌ بالِغَةٌ [ القمر/ 4- 5] اور ان کو ایسے حالات ( سابقین پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے اور کامل دانائی ) کی کتاب بھی ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قرآن پاک کے وصف میں حکیم بمعنی محکم ہوتا ہے جیسے فرمایا :، أُحْكِمَتْ آياتُهُ [هود/ 1] ا حکمت ایا تہ جس کی آیتہ ( جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔ اور یہ دونوں قول صحیح ہیں کیونکہ قرآن پاک کی آیات محکم بھی ہیں اور ان میں پراز حکمت احکام بھی ہیں لہذا ان ہر دو معافی کے لحاظ سے قرآن محکم سے ۔ حکم کا لفظ حکمۃ سے عام ہے ہر حکمت کو حکم کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن ہر حکم حکمت نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ حکم کے معنی کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کے ہوتے ہیں کہ وہ یوں ہے یا یوں نہیں ہے ۔ آنحضرت نے فرمایا کہ بعض اشعار مبنی برحکمت ہوتے ہیں جیسا کہ کبید نے کہا ہے ( ویل ) کہ خدائے تعالیٰ کا تقوی ہی بہترین توشہ ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری (ورفع ابویہ علی العرش۔ اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا) کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ حضرت یوسف کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا اور حضرت یعقوب نے ان کی بہن سے نکاح کرلیا تھا۔ سدی سے یہ تفسیر منقول ہے۔ حسن اور ابن اسحاق کا قول ہے کہ ان کی والدہ زندہ تھیں۔ سلیمان اور عبید اللہ بن شداد سے منقول ہے کہ خواب اور اس کی تعبیر کے وقوع پذیر ہونے کی درمیانی مدت چالیس برس تھی۔ حسن سے منقول ہے کہ یہ مدت اسی برس تھی۔ جبکہ ابن اسحاق کا قول ہے کہ یہ مدت اٹھارہ برس تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں تو پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اس بات کی تسلی کیوں حاصل نہیں کہ یوسف کا دیکھا ایک نہ ایک دن سچا ہوجائے گا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ حضرت یوسف نے بچپن میں یہ خواب دیکھا تھا ایک قول کے مطابق محبوب کی کافی عرصے تک نظروں سے دوری غم و حزن کی موجب ہوتی ہے۔ جس طرح کہ دوری آخرت میں یکجا ہونے کے یقین کے باوجود بھی غم کی موجب بن جاتی ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٠) اور وہاں پہنچ کر اپنے والدین کو تخت شاہی پر اونچا بٹھایا اور عظمت کے غلبہ کے باعث والدین اور ان کے بھائی سب سجدہ میں جھک گئے اور اس زمانہ میں یہ سجدہ رکوع کے طریقہ پر ہوتا تھا جو کہ سلام کے قائم مقام تھا کہ کم تر باعزت کے اور نوجوان بوڑھے کے اور چھوٹا بڑے کے سامنے جھکتا جیسا کہ عجمی لوگ کرتے تھے حضرت یوسف (علیہ السلام) فرمانے لگے اباجان یہ سجدہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے دیکھا تھا میرے پروردگار نے اس کو سچا کردکھایا اور مجھ پر قید سے نکلنے کے وقت بھی احسان فرمایا اور مجھے غلامی سے نجات دی اور اس کے بعد بھی کہ شیطان نے حسد میں میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈلوا دیا تھا پھر اللہ تعالیٰ آپ سب کو باہر سے لے آیا بیشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے اس کی اچھی تدبیر کردیتا ہے کہ اس طریقے سے ہم سب کو دوبارہ ملانے والا اور وہ ہماری پریشانیوں کو جاننے والا اور ملانے والا اور ملانے اور جدا کرنے میں حکمتوں والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٠ (وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا) یہ سجدۂ تعظیمی تھا جو پہلی شریعتوں میں جائز تھا۔ شریعت محمدی میں جہاں دین کی تکمیل ہوگئی وہاں توحید کا معاملہ بھی آخری درجے میں تکمیل کو پہنچا دیا گیا۔ چناچہ یہ سجدۂ تعظیمی اب حرام مطلق ہے۔ جو لوگ اپنے بزرگوں یا قبروں کو سجدہ کرتے ہیں وہ صریح شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ سابقہ انبیاء کرام کے حالات و واقعات سے آج اس کے لیے کوئی دلیل اخذ کرنا قطعاً درست نہیں۔ (وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ) حضرت یوسف کے اس خواب کا ذکر آیت ٤ میں ہے کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ اس میں گیارہ بھائی ستاروں کی مانند جبکہ والدین سورج اور چاند کے حکم میں ہیں۔ (وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ ) آپ لوگوں کو صحرا کی پر مشقت زندگی سے نجات دلا کر یہاں مصر کے متمدن اور ترقی یافتہ ماحول میں پہنچا دیا ‘ جہاں زندگی کی ہر سہولت میسر ہے۔ (اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ ) اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق باریک بینی سے تدبیر کرتا ہے اور اس کی تدبیر بالآخر کامیاب ہوتی ہے۔ اس کے بعد حضرت یوسف اللہ کے حضور دعا کرتے ہیں :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

69. According to the Talmud, “when Joseph learned that his father was upon the way, he gathered together his friends and officers, and soldiers of the realm, attired in rich garments,....and formed a great company to meet Prophet Jacob on the way and escort him to Egypt. Music and gladness filled the land, and all the people, the women and the children, assembled on the house tops to view the magnificent display.” (H. Polano, p. 111). 70. The interpretation of this verse has given rise to some serious misunderstandings, which are against the very fundamentals of the divine guidance. So much so that some people have gone to the extreme of making it lawful to prostrate before kings and saints as a mark of respect. Others more strict on this point have explained it away, saying, “In the former divine laws, it was unlawful only to prostrate in worship before others than Allah, though it was permissible to prostrate before others if it was done without the intention of worship, but now in the divine law given to Prophet Muhammad (peace be upon him) it has been made absolutely unlawful. Such misunderstandings as these have resulted from taking the words in this verse to mean “to perform sajadah” in the technical sense in which it is now used in the Islamic code, that is, “lying flat in such a way that the hands, the knees and the forehead touch the ground,” whereas the word sujjadan has been used here in its literal meaning of sajud “to bow down”. The parents and brothers of Prophet Joseph bowed down before him in accordance with the ancient custom among the people of the age, (and the custom is still in vogue among some people), who used to bow down before others to show their gratitude, or welcome them, or merely to salute them by placing their hand on the breast. There are many instances of this in the Bible. “....and when he (Abraham) saw them (the three men) corning towards him, he ran to meet them from the tent door, and bowed himself towards the ground.” (Please refer to Arabic translation: Gen. 18: 32). Further on it says that when the children of Heth gave a field and a cave as a burying place for Sarah, Prophet Abraham was so grateful to them that “he stood up and bowed himself to the people of the land, even to the children of Heth,” (Gen. 23: 7) and “Abraham bowed down himself before the people of the land.” (Gen. 23: 12). In both cases the words `bowed down' have been translated into (Sajada). These and other like instances in the Bible are a conclusive proof of the fact that in this (verse 100), the Quran has not used the word in its technical Islamic sense but in its literal sense. Besides, those commentators are absolutely wrong who suppose that in the former laws, sajadah in the present Islamic sense was allowed as a mark of respect laws. For instance, during the Babylonian captivity of the Children of Israel, king Ahasuerus promoted Haman above all the princes and commanded all his servants to bow and reverence him, but Mordecai, who was a holy and righteous man among the Jews, bowed not, nor did him reverence. (Esther3: 1-2). The Talmud has elaborated this point in a way that is worth reading: The servants of the king said to Mordecai: “Why wilt thou refuse to bow before Haman, transgressing thus the wishes of the king? Do we not bow before him?” “Yea are foolish,” answered Mordecai, “aye, wanting in reason. Listen to me. Shall a mortal, who must return to dust be glorified? Shall I bow down before one born of woman, whose days are short? When he is small he cries and weeps as a child; when he grows older sorrow and sighing are his portion; his days are full of wrath and anger, and at the end he returns to dust. Shall I bow to one like to him? No, I prostrate myself before the Eternal God, who lives forever. To Him the great Creator and Ruler of the Universe, and to no other will I bow.” (The Talmud Selections by H. Polano, p. 172). This speech which was made by a believer from among the Israelites a thousand years before the revelation of the Quran, is conclusive on the point. Thus there is absolutely no room for the performance of sajadah before any other than Allah.

۷۰ ۔ اس لفظ سجدہ سے بکثرت لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے ، حتی کہ ایک گروہ نے تو اسی سے استدلال کر کے بادشاہوں اور پیروں کے لیے سجدہ تحیۃ اور سجدہ تعظیمی کا جواز نکال لیا ، دوسرے لوگوں کو اس قباحت سے بچنے کے لیے اس کی یہ توجیہ کرنی پڑی کہ اگلی شریعتوں میں صرف سجدہ غیر اللہ کے لیے حرام تھا ، باقی رہا وہ سجدہ جو عبادت کے جذبہ سے خالی ہو تو وہ خدا کے سوا دوسروں کو بھی کیا جاسکتا تھا ، البتہ شریعت محمدی میں ہر قسم کا سجدہ غیر اللہ کے لیے حرام کردیا گیا ، لیکن ساری غلط فہمیاں دراصل اس وجہ سے پیدا ہوئی ہیں کہ لفظ سجدہ کو موجودہ اسلامی اصطلاح کا ہم معنی سمجھ لیا گیا ، یعنی ہاتھ ، گھٹنے اور پیشانی زمین پر ٹکانا ، حالانکہ سجدہ کے اصل معنی محض جھکنے کے ہیں اور یہاں یہ لفظ اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے ، قدیم تہذیب میں یہ عام طریقہ تھا ( اور آج بھی بعض ملکوں میں اس کا رواج ہے ) کہ کسی کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ، یا کسی کا استقبال کرنے کے لیے ، یا محض سلام کرنے کے لیے سینے پر ہاتھ رکھ کر کسی حد تک آگے کی طرف جھکتے تھے ، اسی جھکاؤ کے لیے عربی میں سجود اور انگریزی میں ( Bow ) کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں ، بائیبل میں اس کی بکثرت مثالیں ہم کو ملتی ہیں کہ قدیم زمانے میں یہ طریقہ آداب تہذیب میں شامل تھا ، چنانچہ حضرت ابراہیم کے متعلق ایک جگہ لکھا ہے کہ انہوں نے اپنے خیمہ کی طرف تین آدمیوں کو آٹے دیکھا تو وہ ان کے استقبال کے لیے دوڑے اور زمین تک جھکے ۔ عربی بائیبل میں اس موقع پر جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں: فلما نظر رکض لاستقبالھم من باب الخیمۃ و سجد الی الارض ( تکوین: ۱۸ ۔ ۳ ) پھر جس موقع پر یہ ذکر آتا ہے کہ بنی حت نے حضرت سارہ کے دفن کے لیے قبر کی زمین مفت دی وہاں اردو بائٰیبل کے الفاظ یہ ہیں: ابرھام نے اٹھ کر اور بنی حت کے آگے جو اس ملک کے لوگ ہیں ، آداب بجا لاکر ان سے یوں گفتگو کی ، اور جب ان لوگوں نے قبر کی زمین ہی نہیں بلکہ ایک پورا کھیت اور ایک غار نذر میں پیش کردیا تب ابرھام اس ملک کے لوگوں کے سامنے جھکا ، مگر عربی ترجمہ میں ان دونوں مواقع پر آداب بجا لانے اور جھکنے کے لیے سجدہ کرنے ہی کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ فقام ابراہیم و سجد لشعب الارض لبنی حت ( تکوین: ۲۳ ۔ ۷ ) فسجد ابراہیم امام شعب الارض ( ۲۳ ۔ ۱۲ ) انگریزی بائیبل میں ان مواقع پر جو الفاظ آئے ہیں وہ یہ ہیں: Bowed himself toward the ground Bowed himself to thi people of the land and abraham bowed اس مضمون کی مثالیں بڑی کثرت سے بائیبل میں ملتی ہیں اور ان سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سجدے کا مفہوم وہ ہے ہی نہیں جو اب اسلامی اصطلاح کے لفظ سجدہ سے سمجھا جاتا ہے ۔ جن لوگوں نے معاملہ کی اس حقیقت کو جانے بغیر اس کی تاویل میں سرسری طور پر یہ لکھ دیا ہے کہ اگلی شریعتوں میں غٰیر اللہ کو تعظیمی سجدہ کرنا یا سجدہ تحیۃ بجالانا جائز تھا انہوں نے محض ایک بے اصل بات کہی ہے ۔ اگر سجدے سے مراد وہ چیز ہو جسے اسلامی اصطلاح میں سجدہ کہا جاتا ہے ، تو وہ خدا کی بھیجی ہوئی کسی شریعت میں کبھی کسی غیر اللہ کے لیے جائز نہیں رہا ہے ۔ بائیبل میں ذکر آتا ہے کہ بابل کی اسیری کے زمانے میں جب اخسویرس بادشاہ نے ہامان کو اپنا امیر الامرا بنایا اور حکم دیا کہ سب لوگ اس کو سجدہ تعظیمی بجا لایا کریں تو مرد کی جو بنی اسرائیل کے اولیاء میں سے تھے یہ حکم ماننے سے انکار کردیا ( آستر ۳: ۱ ۔ ۲ ) تلمود میں اس واقعہ کی شرح کرتے ہوئے اس کی جو تفصیل دی گئی ہے وہ پڑھنے کے لائق ہے: بادشاہ کے ملازموں نے کہا آخر تو کیوں ہامان کو سجدہ کرنے سے انکار کرتا ہے؟ ہم بھی آدمی ہیں مگر شاہی حکم کی تعمیل کرتے ہیں ، اس نے جواب دیا تم لوگ نادان ہو ، کیا ایک فانی اسنان جو کل خاک میں مل جانے والا ہے اس قابل ہوسکتا ہے کہ اس کی بڑائی مانی جائے؟ کیا میں اس کو سجدہ کروں جو ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ، کل بچہ تھا آج جوان ہے کل بوڑھا ہوگا اور پرسوں مر جائے گا ؟ نہیں میں تو اس ازلی و ابدی خدا ہی کے آگے جھکوں گا جو حی و قیوم ہے ۔ وہ جو کائنات کا خالق اور حاکم ہے ، میں تو بس اسی کی تعظیم بجا لاؤں گا ، اور کسی کی نہیں ۔ یہ تقریر نزول قرآن سے تقریبا ایک ہزار برس پہلے ایک اسرائیلی مومن کی زبان سے ادا ہوئی ہے اور اس میں کوئی شائبہ تک اس تخیل کا نہیں پایا جاتا کہ غیر اللہ کو کسی معنی میں بھی سجدہ کرنا جائز ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

62: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے اس آیت کی جو تفسیر مروی ہے، اس کے مطابق ان سب حضرات نے یہ سجدہ یوسف علیہ السلام کے سامنے اﷲ تعالیٰ کا شکر بجالانے کے لئے کیا تھا، یعنی سجدہ اﷲ تعالیٰ ہی کو تھا، البتہ یوسف علیہ السلام کے سامنے اور ان کے مل جانے کی خوشی میں کیا تھا، اِمام رازی رحمۃ اﷲ علیہ نے اسی تفسیر کو راجح قرار دیا ہے۔ البتہ دوسرے مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ عبادت کا نہیں، بلکہ تعظیم کا ویسا ہی سجدہ تھا جیسا فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو کیا تھا، اور وہ حضرت یوسف علیہ السلام کی شریعت میں جائز تھا۔ تاہم آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی شریعت میں اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کو تعظیمی سجدہ کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ 63: یعنی اس خواب میں چاند سورج سے مراد حضرت یوسف علیہ السلام کے والدین تھے، اور ستاروں سے مراد ان کے گیارہ بھائی 64: حضرت یوسف علیہ السلام کو مصائب وآلام کے جس طویل دور سے گذرنا پڑا تھا، اگر کوئی اور ہوتا تو والدین سے ملاقات کے بعد اپنی تکلیفوں کو دُکھڑا سناتا۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھئے کہ ان مصائب کے بارے میں ایک لفظ کہے بغیر واقعات کے صرف اچھے رُخ کا ذکر کر کے اﷲ تعالیٰ کا شکر اَدا فرمایا۔ قید خانے میں جانے کا نہیں، وہاں سے نکلنے کا ذکر فرمایا، والدین کی جدائی کا بیان کرنے کے بجائے ان کے مصر آجانے کا تذکرہ فرما کر اس پر شکر ادا کیا۔ بھائیوں نے جو ستم ڈھائے تھے، ان کو شیطان کا مچایا ہوا فساد قرار دے کر بات ختم فرما دی۔ اِس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہر اِنسان کو چاہئے کہ وہ سخت سے سخت حالات میں بھی واقعات کے مثبت رخ کا تصور کر کے اﷲ تعالیٰ کا شکر گذار ہو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(12: 100) خروا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ خر سے ۔ وہ گرپڑے۔ نزغ الشیطن بینی وبین اخوتی۔ میرے درمیان اور میرے بھائیوں کے درمیان شیطان نے ناچاقی ڈال دی تھی۔ النزغ کے معنی کسی کام کو بگاڑنے کے لئے اس میں دخل انداز ہونے کے ہیں۔ البدد۔ صحرا۔ لطیف۔ لطف کرنے والا۔ کرم کرنے والا۔ مہربانی کرنے والا۔ نرمی اور رحمت کرنے والا۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ یہ بات ان کی شریعت میں جائز تھی کہ جب کسی بڑے آدمی کو سلام کریں تو اسے سجدہ بھی کریں۔ یہ رواج حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) تک جاری رہا پھر ہماری شریعت میں اسے حرام قرار دے دیا گیا۔ حدیث میں ہے کہ حضرت معاذ (رض) نے شام سے واپس آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سجدہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” معاذ (رض) ! کہ کیا کر رہے ہو ؟ کہنے لگے میں نے شام میں دیکھا کہ لوگ اپنے پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ حقدار ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سجدہ کیا جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ ایک مرتبہ حضرت سلمان فارسی (رض) نے جو ابھی حال ہی میں اسلام لائے تھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سجدہ کرکے سلام کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! اے سلمان (رض) مجھے سجدہ نہ کرو بلکہ اس زندہ ذات کو سجدہ کرو جسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ (ابن کثیر) موضح میں ہے : پہلے وقت میں سجدہ تعظیمی تھا۔ فرشتوں نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ کیا ہے۔ اس وقت اللہ نے وہ رواج موقوف کیا ہے۔ ” وان المساجد للہ (الایۃ ) ۔ اس وقت پہلے رواج پر چلنا ویسا ہے کہ کوئی اپنی بہن سینکاح کرے کہ حضرت آدمی ( علیہ السلام) کے وقت ہوا ہے۔ (موضح) 2 ۔ یہ بعض مفسرین (رح) کا خیال ہے بعض نے اسی تک بھی کہا ہے۔ تفاسیر میں دیگر اقوال بھی منقول ہیں۔ (دیکھئے ابن کثیر) ۔ 3 ۔ جو اللہ کے احسان تھے سو ذکر کئے اور جو تکلیف تھی دخل شیطان سے ان کو منہ پر نہ لائے مجمل سنا دیا۔ (موضح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ یہ سجدہ بطور تحیت کے تھا جو امم سابقہ میں جائز تھا۔ 1۔ وہ اپنے علم و حکمت سے سب امور کی تدبیر درست کرتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ ) بلاشبہ میرا رب جو چاہتا ہے اس کی لطیف تدبیر کردیتا ہے۔ (جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل سے نکالنے کے لیے دو قیدیوں کے خواب کی تعبیر کو تدبیر بنا دیا) (اِنَّہٗ ھُوَ الْحَکِیْمُ الْعَلِیْمُ ) (بلاشبہ میرا رب جاننے والا ہے حکمت والا ہے) وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو جانتا ہے اور اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ‘ اس کے بعد غیبت سے خطاب کی طرف التفات فرمایا (کما فی سورة الفاتحۃ) اور بارگاہ خدا وندی میں یوں عرض کیا (رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ وَعَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ ) (اے میرے رب آپ نے مجھے سلطنت کا ایک حصہ عطا فرمایا اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم دیا ہے) اس میں اللہ کے دو انعامات کا تذکرہ فرمایا ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ملک عطا فرمایا صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ اس میں من تبعیض کے لئے ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ ملک کا بڑا حصہ عطا فرمایا چونکہ اس جگہ بڑی نعمتوں کا تذکرہ ہو رہا ہے اس لئے بڑا ملک مراد لینا مناسب ہے ای بعضا عظیما منہ اور بعض حضرات نے یوں فرمایا کہ لفظ من اس لئے زیادہ فرمایا ہے کہ مصر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اقتدار تو حاصل تھا لیکن شاہی اقتدار دوسرے ہی شخص کا تھا جس نے اقتدار سپرد کیا تھا ‘ دوسری نعمت جس کا تذکرہ فرمایا وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم نصیب فرمایا ‘ خوابوں کی تعبیر کا علم بہت بڑا علم ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اسی تعبیر دانی کی وجہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) جیل سے نکلے اور مصر میں انہیں اقتدار حاصل ہوا۔ خواب کے بارے میں ضروری معلومات : خواب میں جو کچھ دیکھا جائے اس کے اشاروں کو سمجھ کر جو تعبیر دی جائے اس تعبیر کا صحیح ہونا ضروری نہیں لیکن جن کو اللہ تعالیٰ خوابوں کے اشاروں کی سمجھ اور بصیرت نصیب فرماتا ہے وہ ان کو عموماً سمجھ لیتے ہیں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ مبشرات کے علاوہ نبوت میں سے کچھ باقی نہیں رہا صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبشرات (بشارت دینے والی چیزیں) کیا ہیں آپ نے فرمایا اچھے خواب ہیں جنہیں کوئی مسلمان خود دیکھ لے یا اس کے لیے دیکھ لئے جائیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٣٩٤ صحیح بخاری وموطا امام مالک) حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ (بخاری ص ١٠٣٠ ج ٢) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت بنا کر نہیں آسکتا۔ (صحیح بخاری ص ١٠٣٦ ج ٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب آخری زمانہ ہوگا تو مومن کا خواب جھوٹا ہونے کے قریب ہی نہ ہوگا اور سب سے سچا اس شخص کا خواب ہوگا جو اپنی بات میں سب سے زیادہ سچا ہوگا پھر فرمایا کہ خواب کی تین قسمیں ہیں ایک تو وہ ہے جس میں اللہ کی طرف سے بشارت ہے اور دوسرا وہ ہے جو انسان کے اپنے خیالات ہوتے ہیں اپنے نفس سے جو باتیں کرتا ہے وہ خواب میں نظر آجاتی ہیں اور تیسرا خواب وہ ہے جو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے وہ رنجیدہ کرنے کے لیے خواب میں آتا ہے (پھر فرمایا) سو تم میں سے جو کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو ناگوار ہو تو کسی سے بیان نہ کرے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ (رواہ الترمذی فی ابواب الرؤیا) ۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو ناگوار ہو تو بائیں طرف کو تین بار تھتکارے اور تین بار اللہ کی پناہ مانگے ‘ شیطان سے (یعنی (اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمِ ) پڑھے اور جس کروٹ پر لیٹا ہوا ہے اسے بدل دے) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ٣٩٤) ۔ حضرب ابو زرین عقیلی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ مومن کا خواب نبوت کے چھالیس (٤٦) حصوں میں سے ایک حصہ ہے اور وہ پرندہ کی ٹانگ پر ہے جب تک خواب بیان کرنے والا بیان نہ کر دے سو جب وہ (کسی کے سامنے) بیان کر دے گا اور اس کی تعبیر دے دی جائے گی تو تعبیر کے مطابق ظاہر ہوجائے گا اور اپنا خواب صرف ایسے شخص سے بیان کرو جو تم سے محبت رکھنے والا ہے (جو نا مناسب تعبیر نہ دے) یا عقلمند آدمی سے بیان کرو جو اچھی تعبیر دے یا کم از کم یہی کرے کہ بری تعبیر سمجھ میں آئے تو خاموش رہ جائے۔ (رواہ الترمذی) یہ جو فرمایا کہ خواب پرندہ کی ٹانگ پر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے قرار نہیں ہے جیسی تعبیر دی جائے گی اس کے مطابق ہوجائے گا لہٰذا ایسے شخص سے ذکر نہ کرے جو محبت اور تعلق نہ رکھتا ہو اور ایسے دوست سے بھی بیان نہ کرے جو عقلمند نہ ہو۔ بعض خوابوں کی تعبیریں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرات صحابہ کرام (رض) سے خواب سنتے تھے اور ان کی تعبیر دیا کرتے تھے حضرت عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ورقہ بن نوفل کے بارے میں حضرت خدیجہ (رض) نے دریافت کیا (جو ان کے چچا زاد بھائی تھے) کہ ورقہ نے آپ کی تصدیق کی تھی لیکن آپ (کی دعوت) کا ظہور ہونے سے پہلے ان کو موت آگئی ان کے بارے میں کیا سمجھا جائے ؟ آپ نے فرمایا میں نے انہیں خواب میں اس طرح دیکھا ہے کہ ان کے اوپر سفید کپڑے ہیں اگر وہ دوزخیوں میں سے ہوتے تو ان کے اوپر اس کے علاوہ دوسرا لباس ہوتا (رواہ الترمذی) آپ نے سفید کپڑوں سے اس پر استدلال کیا کہ انہوں نے جو تصدیق کی تھی وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ایمان کے درجہ میں معتبر ہوگئی اور وہ دوزخ سے بچا دئیے گئے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا میں نے اس میں سے پیا اور اتنا پیا کہ یہ معلوم ہونے لگا کہ سیرابی ناخنوں سے ظاہر ہو رہی ہے پھر میں نے اپنا بچا ہوا عمر بن خطاب کو دے دیا ‘ حاضرین نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے اس کی کیا تعبیر دی آپ نے فرمایا میں نے اس کی تعبیر علم سے دی یعنی مجھے اللہ نے بہت علم دیا اور اس علم میں سے عمر بن خطاب کو بھی عطا فرمایا۔ (بخاری ص ١٠٣٧ ج ٢) اس حدیث میں دودھ سے علم مراد لیا ہے جیسا کہ دودھ اجسام کی پرورش کا ذریعہ ہے اسی طرح علم قلوب کی حیات کا سبب ہے۔ حضرت ام العلاء (رض) نے بیان کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ عثمان بن مظعون کے لیے ایک نہر جاری ہے میں نے اس کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تذکرہ کیا ‘ آپ نے فرمایا کہ ان کا عمل جاری ہے (صحیح بخاری ص ١٠٣٩ ج ٢) اس میں نہر جاری کی تعبیر آپ نے عمل جاری سے دی ‘ ایک مرتبہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواب دیکھا کہ ایک کالی عورت جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں مدینہ منورہ سے نکل کر جحفہ میں مقیم ہوگئی آپ نے اس کی تعبیر دی کہ مدینہ کی وباء نکل کر جحفہ میں چلی جائے گی۔ (صحیح بخاری ص ١٠٤٤ ج ٢) آپ نے کالی عورت کو وباء سے تعبیر فرمایا اور آپ کی تعبیر کے مطابق ہی ہوا کیونکہ مدینہ کی آب وہوا درست ہوگئی اور حجفہ برباد ہوگیا وہاں اس وقت یہودی رہتے تھے۔ اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دیگر خوابوں کی تعبیر بھی مروی ہے امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ میں حضرت محمد بن سیرین تابعی (رح) کو اس میں بڑی مہارت تھی جیسا کہ مشہور ہے ‘ بعض مرتبہ خواب دیکھنے والا اپنے خواب کی وجہ سے حیرت اور استعجاب اور فکر ورنج میں پڑجاتا ہے لیکن اس کی تعبیر بہت اچھی ہوتی ہے حضرت امام ابوحنیفہ (رض) نے خواب دیکھا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر شریف کو کھود کر ہڈیاں نکال رہا ہوں خواب دیکھ کر گھبرا گئے حضرت محمد بن سیرین (رح) کے پاس آدمی بھیج کر تعبیر پوچھی تو انہوں نے یہ تعبیر دی کہ جس شخص نے یہ خواب دیکھا ہے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کو پھیلائے گا۔ ضروری نہیں کہ خواب کی جو تعبیر دی جائے صحیح ہونے کے باوجود اس کا ظہور جلدی ہوجائے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بچپن میں خواب دیکھا تھا کہ مجھے چاند سورج اور گیارہ ستارے سجدہ کر رہے ہیں لیکن اس کا ظہور طویل عرصے کے بعد ہوا جب اس کا ظہور ہوا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد سے کہا کہ (یٰٓاَبَتِ ھٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْ یَایَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعََلَھَا رَبِّیْ حَقًّا) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اقرار کرنا بھی شکر کا ایک شعبہ ہے : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اقرار کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی ہیں ‘ نعمتوں کا اقرار کرنا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرنا اور پھر ان نعمتوں کو اعمال صالحہ میں لگانا اور گناہوں میں خرچ نہ کرنا یہ سب شکر کے شعبے ہیں نعمتوں کا انکار کرنا ناشکری ہے۔ سورة نحل میں ایک ناشکری کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا (اَفَبِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ ) (کیا اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں) قارون کو اللہ تعالیٰ شانہ نے مال کثیر عطا فرمایا تھا جب اس سے کہا گیا ( وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ ) (اور تو زمین میں فساد کا خواہاں مت ہو بلاشبہ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا) تو اس نے جواب میں کا (اِنَّمَا اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ ) (کہ یہ مال جو مجھے ملا ہے صرف میرے ذاتی ہنر کی وجہ سے دیا گیا ہے) اس نے اسے اللہ کا دیا ہوا مال ماننے سے انکار کردیا اور اپنے ہی ہنر کی طرف نسبت کردی پھر جو اس کا انجام ہوا سب کو معلوم ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو قولاً اور فعلاً اوقات مختلفہ کی دعائیں بتائی ہیں ان میں بار بار اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اقرار ہے صبح شام پڑھنے کے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو دعائیں بتائی ہیں ان میں سے سید الاستغفار بھی ہے اس دعا کے یہ الفا ظ ہیں۔ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ مَاسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّمَا صَنَعْتُ اَبُوْٓءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَاَبُوْءُ لَکَ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ ۔ (اے اللہ تو میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے مجھے پیدا فرمایا اور جہاں تک ہو سکے تیرے وعدہ پر قائم ہوں میں اپنے گناہوں کے شر سے آپ کی پناہ لیتا ہوں اور مجھ پر آپ کی جو نعمتیں ہیں ان کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں لہٰذا میری مغفرت فرما دیجئے کیونکہ آپ کے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا) ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اقرار ہے اور اپنے گناہوں کا بھی ‘ اور مغفرت کی دعا بھی ‘ فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہ جو شخص اس کو دن میں یقین کے ساتھ پڑھ لے پھر صبح ہونے سے پہلے اس رات میں مرجائے تو اہل جنت میں ہوگا۔ (رواہ البخاری ص ٩٣٣/ج ٢)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

83:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تعظیماً اپنے والدین کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا اور سب یعنی والدین اور بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ کیا۔ یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کو تھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) بمنزلہ قبلہ تھے اور لَہٗ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔ المعنی خروا شکر اللہ یسجدو ویوسف کالقبلۃ لتحقیق رؤیاہ وروی عن الحسن (رح) (قرطبی ج 9 ص 264) یا سجدہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ہی کو تھا کیونکہ اس کی شریعت میں غیر اللہ کو تعظیمی سجدہ جائز تھا۔ مگر سجدہ عبادت کسی شریعت میں جائز نہیں ہوا۔ دونوں سجدوں میں فرق صرف نیت کا ہے اگر مسجود لہ کو نفع و نقصان کا مالک و مختار اور مافوق الاسباب متصرف و کارساز سمجھ کر سجدہ کرے تو یہ سجدہ عبادت ہے جو اللہ کے سوا کسی کے لیے کبھی جائز نہیں ہوا اور اگر مذکورہ نیت سے نہ ہو تو وہ سجدہ تعظیمی ہے جو پہلی شرائع میں جائز تھا مگر شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام میں حرام کردیا گیا ہے۔ سجدہ تعظیمی کی حرمت اور احادیث نبویہ میں صراحت سے مذکور ہے۔ امام احمد بن حنبل نے حضرت انس سے مرفوعا روایت کی ہے لا یصح لبشر ان یسجد لبشر یعنی کسی بشر کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی بشر کو سجدہ کرے۔ اسی طرح صحیحین میں حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لعن اللہ الیھود والنصری اتخذوا قبور انبیاء ھم مساجدًا (مشکوۃ ص 73) و مسلم از ابوہریرہ آوردہ مرفوعا و مسلم از ابن عباس مرفوعًا آوردہ۔ ابن ابی شیبہ از عمرو علی و سلمان (رض) مرفوعا منع سجدہ تعظیم آوردہ وابن ابی شیبہ از معاذ و عائشہ و جابر (رض) مرفوعاً آوردہ و در مسلم انی انہاکم عن ذلک (قالہ الشیخ (رح) تعالی) امام احمد بن حنبل نے حضرت معاذ بن جبل سے اور ابو داود نے حضرت قیس بن سعد سے روایت کیا کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر غیر اللہ کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کیا کریں۔ لو کنت اٰمرا احدا ان یسجد لاھد لامرت النساء ان یسجدن لازواجھن بما جعل اللہ لھم علیھن من حق (مشکوۃ شریف ص 282) تفسیر خازن و معالم میں ” اَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ “ کے تحت سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے لا تسجدو لغیر اللہ (خازن و معالم ج 7) یعنی غیر اللہ کو سجدہ مت کرو۔ وکذا فی الکبیر۔ حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز (رح) تفسیر عزیزی میں رقمطراز ہیں۔ ” باحادیث متواترہ سجدہ تعظیم منع است “ (تفسیر عزیزی ص 120) شیخ عبدالحق اشعۃ اللمعات ج 1 ص 716 میں فرماتے ہیں ” در شرح شیخ ابن حجر ھیثمی مکی در شرح حدیث لعن اللہ الیھود والنصاری اتخذوا قبور انبیاء ھم مساجد گفتہ است کہ برت تقدیری است کہ نمار گذارو بجانب قبر از جہت تعظیم سے کہ آن حران است باتفاق “۔ اسی طرح شاہ عبدالعزیز (رح) نے فتاوی عزیزی میں سجدہ تعظیم کی حرمت پر اجماع کا ذکر کیا ہے۔ چناچہ حضرت شاہ صاحب سجدہ تعظیم کے حامیوں کے دلائل کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں ” دریں تقیریر سراسر غفلت از اجماع قطعی است بر تحریم سجدہ “ (فتاوی عزیزی ج 1 ص 107) ۔ تمام فقہاء نے سجدہ تعظیم کی حرمت کا اور بعض نے اس کے کفر ہونے کا فتوی دیا ہے۔ فتاوی عالمگیری ج 5 ص 404 میں ہے ” من سجد للسلطان علی وجہ التحیۃ او قبل الارض بین یدیہ لا یکفر و لکن یاثم لارتکاب الکبیرۃ ھو المختار “۔ اور البحر الرائق ج 8 ص 426 میں ہے ” ما یفعل من السجود بین یدی السلطان فحرام و الفاعل والراضی بہ یاثمان و قال شمس الائمۃ السرخسی السجود لغیر اللہ علی وجہ التعظیم کفر کفر “۔ فتاوی عالمگیری میں جواہر اخلاطی سے اور رد المحتار میں شمس الائمہ سے سجدہ تعظیم کا کفر ہونا نقل کیا گیا ہے۔ اسی طرح جامع الرموز، فتاوی ملا علی قاری، تفسیر کبیر، فتاوی بزازیہ وغیرہ میں بھی سجدہ تعظیم کو کفر کہا ہے۔ اور ملتقط میں ہے ” التواضع لغیر اللہ حرام “ (عالمگیری ج 5 ص 404) لہذا ملتقط کی طرف جواز کی نسبت غلط ہے اسی طرح تفسیر تیسیر کی طرف بھی جواز کی نسبت غلط ہے کیونکہ تفسیر تیسیر مطبوعہ میں کہیں جواز مذکور نہیں۔ حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی قدس سرہ فرماتے ہیں۔ ” امر بمنع کردن سجدہ فرمودہ وجواز سجدہ تعظیم در ہیچ کتاب فقہ از مذاہب اربعہ و در ہیچ کتاب حدیث نیامدہ “ (مکتوبات دفتر اول ص 771) ۔ 84:۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب والدین اور بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ کیا تو وہ کانپ اٹھے اور ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور فوراً کہا اباجان یہ میرے خواب کی تعبیر ہے جسے اللہ نے سچ کردکھانا تھا یعنی آپ اللہ کی جانب سے سجدہ کرنے کے مکلف تھے ورنہ مجھے سجدہ کرنا لائق نہ تھا۔ قال ابن عباس (رض) انہ لما راٰی سجود ابویہ واخوتہ ھالہ ذلک واشعر جلدہ منہ وقال لیعقوب ھذا تاویل رؤیای من قبل۔ یابت لایلیق بمثلک علی جلالتک فی العلم والدین والنبوۃ ان تسجد لولدک الا ان ھذا امر امرت بہ و تکلیف کلفت بہ (کبیر ج 18 ص 214) ۔ 85:۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بہت بڑا احسان فرمایا جبکہ قید خانے سے مجھے رہائی دے کر تخت سلطنت عطا فرمایا۔ میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان شیطان نے جو پھوٹ ڈالی تھی وہ ختم ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ سب کو میری پاس لا کر جدائی کا خاتمہ فرمایا اور تمام واقعات و حوادث میں جو اسرار اور حکمتیں پوشیدہ ہیں ان کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا اور ہر حکمت سے باخبر ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

100 ۔ شہر میں پہنچ کر یوسف (علیہ السلام) نے تعظیما ً اپنے والدین کو تخت شاہی پر اونچا بٹھایا اور اس وقت سب کے سب یوسف (علیہ السلام) کے سامنے سجدے میں گرے اور یوسف (علیہ السلام) نے کہا اے میرے باپ یہ اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے دیکھا تھا میرے رب نے اس خواب کو سچا کردیا اور اس کی سچائی کو ظاہر کردیا اور اس عزت و شرف کے علاوہ میرے رب نے اس وقت میرے ساتھ بڑا احسان کیا جب مجھ کو قید خانے سے اس نے نکالا اور باوجود اسکے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان جھگڑا اور فساد ڈلوایا تھا پھر تم سب کو اس گائوں سے جہاں تم تھے میرے پاس لے آیا بلا شبہ میرا رب جو چاہتا ہے اس کو عمدہ تدبیر سے کرتا ہے اور جو چاہتا ہے اس کی تدبیر لطیف کردیتا ہے ، بلا شبہ وہ بڑے علم والا اور بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی بھائیوں کا اور ماں باپ کا بڑا احترام کیا استقبال بھی بڑی شان سے کیا جب مصر میں لائے تب بھی ماں باپ کو بلند مسند پر بٹھایا ۔ یوسف (علیہ السلام) کو اس شاہانہ حالت میں دیکھ کر ماں باپ نے اور بھائیوں نے بطور محبت اور تعظیم ان کے سامنے سجدہ کیا یا صرف تھوڑے سے جھک گئے اور ہوسکتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کی شان دیکھ کر اللہ تعالیٰ کو سجدہ شکر کیا ہو۔ ملل سابقہ میں سجدہ ٔ تعظیمی روا تھا جو حضرت آدم کے وقت سے حضرت مسیح (علیہ السلام) تک جاری رہا اور شریعت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حرام قراردیا گیا ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ اسی خواب کی تعبیر ہے اور اس کے ظہور کو پروردگار نے سچا کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر کیا کسی قسم کی شکایت زبان پر نہ لائے ۔ قید خانے سے نکلنے اور گائوں سے سب کے آنے کا ذکر کیا کنویں سے نکلنے کا بالکل ذکر نہیں کیا کہ بھائی شرمندہ ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو اللہ کے احسان تھے سو ذکر کئے اور جو تکلیف تھی دخل شیطان سے اس کو منہ پر نہ لائے مجمل سنا دیا اگلے زمانے میں سجدہ کرنا تعظیم تھی آپس کی ۔ فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو کیا تھا اس وقت کو منہ پر نہ لائے مجمل سنا دیا اگلے زمانے میں سجدہ کرنا تعظیم تھی آپس کی ۔ فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو کیا تھا اس وقت اللہ نے وہ رواج موقوف کیا ۔ وان المساجد للہ اس وقت پہلا رواج چلنا ایسا ہے جیسے کہ کوئی بہن سے نکاح کرے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے وقت میں ہوا ہے۔ 12