Surat ur Raad

Surah: 13

Verse: 32

سورة الرعد

وَ لَقَدِ اسۡتُہۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَمۡلَیۡتُ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثُمَّ اَخَذۡتُہُمۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ عِقَابِ ﴿۳۲﴾

And already were [other] messengers ridiculed before you, and I extended the time of those who disbelieved; then I seized them, and how [terrible] was My penalty.

یقیناً آپ سے پہلے کے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا تھا اور میں نے بھی کافروں کو ڈھیل دی تھی پھر انہیں پکڑ لیا تھا ، پس میرا عذاب کیسا رہا؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Comforting the Messenger of Allah Allah says to His Messenger, while comforting him in facing his people's denial of him, وَلَقَدِ اسْتُهْزِىءَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ ... And indeed (many) Messengers were mocked at before you, so you have a good example in them, ... فَأَمْلَيْتُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ ... but I granted respite to those who disbelieved, deferred their judgment for a term appointed, ... ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ ... and finally I punished them. with encompassing punishment. How did you obtain the news of how I gave them respite and then took them with punishment!' ... فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ Then how (terrible) was My punishment! Allah said in another Ayah, وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَـلِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَىَّ الْمَصِيرُ And many a township did I give respite while it was given to wrongdoing. Then (in the end) I seized it (with punishment). And to Me is the (final) return (of all). (22:48) It is recorded in the Two Sahihs that the Prophet said, إِنَّ اللهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْه Verily, Allah gives respite to the unjust until when He seizes him, He never lets go of him. The Messenger next recited this Ayah, وَكَذلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِىَ ظَـلِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ Such is the punishment of your Lord when He seizes the (population of) towns while they are doing wrong. Verily, His punishment is painful, (and) severe. (11:102)

سچائی کا مذاق اڑانا آج بھی جاری ہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے غلظ رویہ سے رنج وفکر نہ کریں آپ سے پہلے کے پیغمبروں کا بھی یونہی مذاق اڑایا گیا تھا میں نے ان کافروں کو بھی کچھ دیر تو ڈھیل دی تھی آخرش بری طرح پکڑ لیا تھا اور نام ونشان تک مٹا دیا تھا ۔ تجھے معلوم ہے کہ کس کیفیت سے میرے عذاب ان پر آئے ؟ اور ان کا انجام کیسا کچھ ہوا ؟ جیسے فرمان ہے بہت سی بستیاں ہیں جو ظلم کے باوجود ایک عرصہ سے دنیا میں مہلت لئے رہیں لیکن آخرش اپنی بداعمالیوں کی پاداش میں عذابوں کا شکار ہوئیں ۔ بخاری ومسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے پھر آپ نے آیت ( وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ ) 11 ۔ ہود:102 ) ، کی تلاوت کی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

32۔ 1 حدیث میں آتا ہے ' (ان اللہ لیملی للظالم حتی اذا اخذہ لم یفلتہ) اللہ ظالم کو مہلت دیئے جاتا ہے حتٰی کہ جب اسے پکڑتا ہے تو پھر چھوڑتا نہیں ' اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ) (11 ۔ ہود :102) اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہے جب وہ ظلم کی مرتکب بستیوں کو پکڑتا ہے۔ یقینا اس کی پکڑ بہت ہی الم ناک اور سخت ہے۔ (صحیح بخاری) ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ ۔۔ :” عِقَابِ “ اصل میں ” عِقَابِیْ “ تھا۔ آیات کی موافقت کے لیے یاء حذف کر کے کسرہ رہنے دیا گیا۔ ” أَمْلَیْتُ “ باب افعال (ناقص واوی) بمعنی مہلت دینا، اس سے مقصود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے کہ آپ ان کافروں کے ٹھٹھا مذاق کرنے اور ناجائز اور ناممکن مطالبات کرنے سے بددل نہ ہوں، پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے تھے تو ہر گزرنے والا ان سے ٹھٹھا کرتا۔ [ ہود : ٣٨ ] شعیب (علیہ السلام) سے ان کی قوم نے کہا : ” ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو ۔ “ [ الشعراء : ١٨٧ ] ہود (علیہ السلام) کی قوم نے کہا : ” ہم یقیناً تجھے بےوقوفی میں مبتلا دیکھ رہے ہیں۔ “ [ الأعراف : ٦٦ ] فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ” مُھِیْن “ (حقیر) کہا اور زبان کی لکنت کا طعنہ دیا۔ [ الزخرف : ٥٢ ] فرمایا، اس کے باوجود میں نے کفار کو مہلت دی، تاکہ ان کا عذر ختم ہوجائے، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا تو آپ بھی ان کی حرکتوں سے دل گرفتہ نہ ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ اللّٰہَ لَیُمْلِيْ للظَّالِمِ حَتّٰی إِذَا أَخَذَہُ لَمْ یُفْلِتْہُ ) ” اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ جب اسے پکڑتا ہے تو اسے چھوڑتا نہیں۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی : (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ ) [ ھود : ١٠٢ ] ” اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والی ہوتی ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی دردناک، بہت سخت ہے۔ “ [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : ( و کذٰلک أخذ ربک إذا أخذ القریٰ ۔۔ ) : ٤٦٨٦، عن أبي موسیٰ ۔ مسلم : ٢٥٨٣ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

it was said to comfort him: وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُ‌سُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَمْلَيْتُ لِلَّذِينَ كَفَرُ‌وا ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ ۖ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ (And Messengers have been mocked at before you, so I let the disbelievers go on for a while. Then I seized them. So, how was My punishment?) In other words, it means that conditions faced by the Holy Prophet were not faced by him alone. There were prophets before him who had been facing similar conditions when their deniers were not seized immediately upon the commitment of their crime and they continued to make fun of the prophets. When they reached the limit, they were seized by Divine punishment and what a seizure that was which left none of them active enough to go on with their confrontation.

(آیت) وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَيْتُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ ۣ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ ۔ یہ حالات جو آپ کو درپیش ہیں کچھ آپ ہی کو پیش نہیں آئے آپ سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی اسی طرح کے حالات سے سابقہ پڑتا رہا ہے کہ مجرموں اور منکروں کو ان کے جرم پر فورا نہیں پکڑا گیا اور وہ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ استہزاء و تمسخر کرتے رہے جب وہ انتہا کو پہنچ گئے تو پھر ان کو عذاب الہی نے پکڑ لیا اور کیسا پکڑا کہ کسی کو مقابلہ کی تاب نہ رہی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَيْتُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ ۣ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ 32؁ هزؤ والاسْتِهْزَاءُ : ارتیاد الْهُزُؤِ وإن کان قد يعبّر به عن تعاطي الهزؤ، کالاستجابة في كونها ارتیادا للإجابة، وإن کان قد يجري مجری الإجابة . قال تعالی: قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] ( ھ ز ء ) الا ستھزاء اصل میں طلب ھزو کو کہتے ہیں اگر چہ کبھی اس کے معنی مزاق اڑانا بھی آجاتے ہیں جیسے استجا بۃ کے اصل معی طلب جواب کے ہیں اور یہ اجابۃ جواب دینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے ۔ ملا الْإِمْلَاءُ : الإمداد، ومنه قيل للمدّة الطویلة مَلَاوَةٌ من الدّهر، ومَلِيٌّ من الدّهر، قال تعالی: وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا [ مریم/ 46] وتملّيت دهراً : أبقیت، وتملّيت الثَّوبَ : تمتّعت به طویلا، وتملَّى بکذا : تمتّع به بملاوة من الدّهر، ومَلَاكَ اللهُ غير مهموز : عمّرك، ويقال : عشت مليّا . أي : طویلا، والملا مقصور : المفازة الممتدّة «1» ، والمَلَوَانِ قيل : اللیل والنهار، وحقیقة ذلک تكرّرهما وامتدادهما، بدلالة أنهما أضيفا إليهما في قول الشاعر : 428- نهار ولیل دائم ملواهما ... علی كلّ حال المرء يختلفان «2» فلو کانا اللیل والنهار لما أضيفا إليهما . قال تعالی: وَأُمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ [ الأعراف/ 183] أي : أمهلهم، وقوله : الشَّيْطانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلى لَهُمْ [ محمد/ 25] أي : أمهل، ومن قرأ : أملي لهم «3» فمن قولهم : أَمْلَيْتُ الکتابَ أُمْلِيهِ إملاءً. قال تعالی: أَنَّما نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ [ آل عمران/ 178] . وأصل أملیت : أمللت، فقلب تخفیفا قال تعالی: فَهِيَ تُمْلى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا [ الفرقان/ 5] ، وفي موضع آخر : فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ [ البقرة/ 282] . ( م ل ی ) الا ملاء کے معنی امداد یعنی ڈھیل دینے کے ہیں اسی سے ملا وۃ من الدھر یا ملی من الدھر کا محاورہ ہے جس کے معنی عرصہ دراز کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا [ مریم/ 46] اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا ۔ تملیت الثوب میں نے اس کپڑا سے بہت فائدہ اٹھایا ۔ تملیٰ بکذا اس نے فلاں چیز سے عرصہ تک فائدہ اٹھا یا ۔ ملاک اللہ ( بغیر ہمزہ ) اللہ تیری عمر دراز کرے ۔ چناچہ اسی سے غشت ملیا کا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں تم عرصہ دراز تک جیتے رہو ۔ الملا ( اسم مقصود ) وسیع ریگستان ۔ بعض نے کہا ہے کہ الملوان کے معنی ہیں لیل ونہار مگر اصل میں یہ لفظ رات دن کے تکرار اور ان کے امتداد پر بولا جاتا ہے ۔ کیونکہ لیل ونہار کی طرف اس کی اضافت ہوتی ہے ۔ چناچہ شاعر نے کہا ہے ( 413 ) مھار ولیل دائم ملوا ھما علیٰ کل جال المرء یختلفان رات دن کا تکرار ہمیشہ رہتا ہے اور ہر حالت میں یہ مختلف ہوتے رہتے ہیں ۔ اگر ملوان کا اصل لیل ونہار ہوات تو ان کی ضمیر کی طرف مضاف ہو کر استعمال نہ ہوتا اور آیت کریمہ : ۔ وَأُمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ [ الأعراف/ 183] اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں ۔ میری تدبیر ( بڑی ) مضبوط ہے میں املی لھم کے معنی ( بڑی مضبوط ہے میں املی لھم کے معنی مہلت دینے کے ہیں ۔ نیز فرمایا : ۔ أَنَّما نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ [ آل عمران/ 178] کہ ہم ان کو مہلے دیئے جاتے ہیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ الشَّيْطانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلى لَهُمْ [ محمد/ 25] طول ( عمر کا وعدہ دیا ۔ میں املا کے معنی امھل یعنی مہلت دینے کے ہیں ۔ ایک قراءت میں املا لھم ہے جو املیت الکتاب املیہ املاء سے مشتق ہے اور اس کے معنی تحریر لکھوانے اور املا کروانے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ فَهِيَ تُمْلى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا [ الفرقان/ 5] اور وہ صبح شام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اصل میں املیت املک ( مضاف ) ہے دوسرے لام کو تخفیف کے لئے یا رسی تبدیل کرلیا گیا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ [ البقرة/ 282] تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٢) اور جیسا کہ آپ کی قوم قریش آپ کے ساتھ مذاق کرتی ہے، اسی طرح بہت سے رسولوں کے ساتھ ان کی قوم نے مذاق کیا تو پھر اس مذاق کے بعد میں ان کافروں کو مہلت دیتا رہا، پھر میں نے ان پر عذاب نازل کیا تو سمجھنے کی بات ہے کہ کیسا سخت میں نے ان پر عذاب نازل کیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ ) ذرا تصور کریں قوم نوح ‘ قوم ہود ، قوم صالح ‘ قوم لوط ‘ قوم شعیب اور آل فرعون کے انجام کا اور پھر سوچیں کہ ان نافرمان قوموں کی جب گرفت ہوئی تو وہ کس قدر عبرتناک تھی ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٢۔ اوپر کی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ نے حضرت سے کہا تھا کہ یہاں کے پہاڑ اکھڑ کر علیحدہ ہوجائیں اور یہاں ایک باغ دلکشا بن جائے اور آپ ہمارے کسی مردے کو جلا دیں تاکہ ہم اس سے پوچھیں کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں وہ سچ ہے یا جھوٹ ہے اور ہوا کو ہمارے قبضے میں کردیں جس طرح سلیمان (علیہ السلام) کے قبضے میں تھی ہم جہاں چاہیں گے چلے جایا کریں گے تو اس وقت اس سے اوپر کی آیت اتری تھی اور اصل میں یہ سوال ان کا دل لگی کے طور پر تھا جس سے حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک قسم کا ملال ہوا تھا اس لئے اللہ جل شانہ نے آپ کی تسلی کے لئے یہ آیت اتاری کہ تم سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان سے بھی پہلے لوگوں نے مسخرا پن کیا تھا اور ہم نے ڈھیل دی آخر اس طرح پکڑا کہ وہ جانبر نہ ہوسکے تم نے سنا ہوگا کہ آخر کیا نتیجہ ہوا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری (رض) کی حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ پاک ظالموں کو مہلت دیتا ہے کہ وہ خوب عیش و آرام کرتے ہیں پھر جب پکڑ لیتا ہے تو نہیں چھوڑتا اس کی پکڑ بہت سخت ہے اور نہایت درد ناک ١ ؎ ہے۔ یہ حدیث اور پہلی امتوں کی طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کے قصے یہ سب گویا اس آیت کی تفسیر ہیں۔ ١ ؎ جلد ہذا ص ٢٠٥/٢٢٤، جلد ہذا ص ٢٠٢، ٢٣٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(13:32) استھزیٔ۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ اس سے ٹھٹھا کیا گیا۔ استھزاء (استفعال) مصدر۔ املیت۔ ماضی واحد متکلم ۔ میں نے ڈھیل دی۔ املاء (افعال) الاملاء کے معنی ڈھیل دینے کے ہیں۔ اسی سے ملاوۃ من الدھر یا ملی من الدھر کا محاورہ ہے جس کے معنی عرصہ دراز کے ہیں قرآن پاک میں ہے واھجرنی ملیا (49:46) اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا۔ عقاب۔ ای عقابی ۔ میری سزا۔ میرا سزا دینا۔ مضاف۔ مضاف الیہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 ۔ اس سے مقصود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کافروں کو بولیوں ٹھٹھوں سے بددل نہ ہوں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٥) اسرارومعارف کفر اور معصیت کا اثر دل کو ویران کردیتا ہے اور انسان نبی اور رسول کی عظمت کو پانے سے محروم ہوجاتا ہے ، چناچہ انبیاء کی تعلیمات کا مذاق اڑاتا ہے جو اس کے فہم سے بالاتر ہوتی ہیں کہ اس نے کفر پر ضد اور اصرار کرکے اپنی فراست تباہ کرلی ہوتی ہے اور یہ آپ سے پہلے آنے والے انبیاء ورسل سے بھی ہوتا رہا ۔ اللہ جل جلالہ نے ان کفار کو بھی مہلت دی فورا گرفت نہ فرمائی ، انہوں نے دعوت حق کو سنا مگر مذاق ہی اڑاتے رہے حتی کہ اپنے انجام کو پہنچے مہلت ختم ہوگئی اور اللہ جل جلالہ کے عذاب کی لپیٹ میں آگئے اور ایسے آئے کہ پھر ان کی سزا مثال بن گئی ، اگرچہ تعلیمات رسالت کا مذاق اڑانا بہت بڑی حماقت ہے مگر یہ لوگ تو اس سے بڑی حماقت میں گرفتار ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی اس عظیم ذات کے ساتھ جو ہر شخص کے ہر عمل سے ہر آن آگاہ ہے پتھر کی بےجان اور بےحس مورتیوں اور بتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں ذرا ان سے کہیئے کسی ایسی ہستی کا نام تو لو جو ذات میں یا صفات میں اس کی برابری کرسکتی ہو ایسی سرے سے کوئی ہستی ہے ہی نہیں یا تمہارا کیا خیال ہے کہ معاذ اللہ اللہ جل جلالہ کا علم ناقص ہے اور وہ نہیں جانتا بلکہ تم اس ذات علیم و خیبر کو بتانا چاہتے ہو یہ کس قدر حماقت اور کتنی بودی بات ہے تو ان کے ایسے اعمال کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ سے طلب تک کا رشتہ توڑ کر یہ شیطان کی راہ پر چل نکلے ہیں اور وہ انہیں ان کی ہر برائی اور حماقت خوب سجا کر دکھاتا ہے حتی کہ ان کے فریب اور نہ صرف گمراہ ہونا بلکہ دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوششیں انہیں بھلی لگتی ہیں سچ یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ سے جس کا رشتہ طلب تک ٹوٹ جائے اور اللہ جل جلالہ کی طرف سے اس کے سبب اسے ہدایت نہ ملے تو ایسے لوگوں کو کوئی دوسرا ہدایت نہیں دے سکتا ۔ تعلیمات نبوت کا مذاق اڑانے والے لوگوں کی دنیا کی زندگی بھی عذاب الہی بن جاتی ہے اور کبھی کوئی لمحہ چین کا انہیں نصیب نہیں ہوتا اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی شدید اور سخت ہے اور یہ قانون قدرت ہے لہذا اس سے بھاگ نہیں سکتے نہ کوئی انہیں اللہ جل جلالہ کی گرفت سے بچا سکتا ہے ۔ (دنیا کا سکون) لہذا ثابت ہے کہ دار دنیا کا سکون بھی اتباع رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں مضمر ہے اور کتنے سادہ ہیں وہ لوگ جو اتباع سنت تو اختیار نہیں کرتے مگر مختلف دروازوں پہ سکون کی خاطر دھکے کھاتے رہتے ہیں ، اور جن لوگوں کو یہ نعمت یعنی اتباع رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جسے تقوی کا عظیم نام دیا گیا ہے نصیب ہوتی ہے ان کا گھر تو جنت ہے جس کے نیچے سدا نہریں جاری ہیں جس کے پھل ابدی اور سائے ہمیشہ کے لیے ہیں یہی جنت ان کی دنیا کی زندگی میں بھی رس گھولتی رہتی ہے اور انہیں سکون و اطمینان کی لازوال دولت نصیب ہوتی ہے اور دنیا سے جانے کے بعد تو یہی نیک بندوں کا مسکن ہے اور کفار کا ٹھکانہ جہنم ہے جس کی چنگاریاں ان کی دنیا کی زندگی کو بھی زخم زخم کرتی رہتی ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جو اہل کتاب تھے اور واقعی کتاب پہ ایمان تھا انہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات سے از حد مسرت ہوئی اور فورا ایمان لے آئے مگر بعض فرقے ان میں بھی ایسے نکلے جن کو بعض امور پر ایمان لانے میں تردد ہے کہ ان کی کتاب کے مطابق نہیں تو فرما دیجئے کہ اصول میں تو اختلاف نہیں جیسے توحید کہ مجھے بھی یہی حکم ہے کہ اللہ جل جلالہ کی عبادت کروں جس کا کوئی شریک نہیں ، دوسرا رکن رسالت ہے جس کے لیے مجھے بھی دعوت الی اللہ ہی کا حکم ہے اور میں وہی کچھ کر رہا ہوں جو پہلے نبی کرتے تھے تیسرا رکن معاد اور آخرت ہے جس میں میرا ایمان بھی وہی ہے ، دعوت بھی وہی کہ سب کو لوٹ کر اس کی بارگاہ میں جانا ہے جہاں جواب دینا ہوگا تو مذاہب حقہ میں اصول تو ایک ہی ہیں ، فروعات ہر زمانے اور ہر امت کی رعایت اور ضرورت کے مطابق ہیں جیسے تمہاری کتب دوسری زبانوں میں تھیں مگر یہ کتاب عربی زبان میں ہے تو اسے اختلاف کی بنیاد بنانا درست نہیں ہاں یہ حق ہے کہ آپ کے پاس تو علوم حقہ ہیں اللہ جل جلالہ کی وحی ہے لہذا انہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اتباع کرنا چاہئے ۔ (رواداری) یہ درست نہیں کہ آپ وحی الہی کو چھوڑ کر انکی باتوں پہ کان دھریں اگر ایسا ہو جو کہ ناممکن ہے تو پھر آپ کو کوئی بھی اللہ جل جلالہ کی گرفت سے بچانے والا نہ مل سکے گا نہ کوئی حمایتی یہ حکم جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے تو واضح ہوگیا کہ کفر کے ساتھ سمجھوتہ دین پر یعنی اسلام کے مقابل ان کی بعض باتیں قبول کرکے اسے رواداری کہنا سراسر ظلم ہے اور حق وہی ہے جس کی دعوت اسلام دیتا ہے اس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 34 استھزئی مذاق اڑایا گیا رسل (رسول) بھیجے ہوئے۔ پیغمبر املیت میں نے ڈھیل دی۔ موقع دیا اخذت میں نے پکڑ لیا۔ گرفت میں لے لیا عقاب بدلہ۔ انجام قائم قائم رہنے والا کل نفس ہر شخص۔ ہر جان کسبت کمایا جعلوا انہوں نے بنایا سموا نام بتاؤ۔ نام لو تنبؤن تم خبر دیتے ہو زین خوبصورت۔ بنا دیا گیا مکر فریب۔ دھوکہ صدوا روک دیئے گئے اشق زیادہ سخت تشریح : آیت نمبر 32 تا 34 نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے ان آیات میں پہلے تو کفار مکہ کے کفر و شرک کا رد فرمایا گیا۔ پھر ان کافروں کو عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ گزشتہ آیات میں یہ بتایا گیا تھا کہ کفار مکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پریشان کرنے کے لئے ہر روز کوئی نہ کوئی مسئلہ لے کر آجاتے تھے۔ اس سے ان کا مقصد ایمان لانا نہیں تھا بلکہ اپنے دلی بغض کا اظہار اور ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ کرنا تھا۔ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کفار و مشرکین کی باتوں سے پریشان نہ ہوں۔ یہ آپ کا مذاق اڑا رہے ہیں اس کی پرواہ نہ کیجیے کیوں کہ آپ سے پہلے جتنے بھی رسول تشریف لائے ہیں ان کا اسی طرح مذاق اڑایا گیا۔ ہم نے ان کفار کو کافی مہلت اور ڈھیل دی پھر ان کے مسلسل کفر و شرک پر جمے رہنے سے ہم نے ان کو پکڑا اور سخت سزا دی لہٰذا آج جو لوگ آپ کا مذاق اڑا رہے ہیں اگر یہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور انہوں نے ایمان قبول نہیں کیا تو ان کا انجام گذری ہوئی قوموں سے مختلف نہیں ہوگا۔ یہ غور کریں کہ پچھلی قوموں کا کتنا بھیانک انجام ہوا۔ تسلی دیتے ہوئے دوسری بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ اللہ وہ ہے جو ہر آن اس کائنات میں اپنی قدرت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ وہ ہر چیز اور ہر طرح کی کیفیات سے اچھی طرح واقف ہے وہ کائنات کے ذریعے ذرے کی نگرانی کر رہا ہے۔ وہ ان کے معبودوں کی طرح نہیں ہے کہ جو نہ دیکھ سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں جن میں کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے کی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔ یہ لوگ اللہ کے ساتھ جن کو شریک کر رہے ہیں فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان سے کہئے کہ وہ ان کے نام تو لیں جن کو انہوں نے اللہ کے ساتھ شریک کر رکھا ہے۔ فرمایا کہ وہ اللہ جس کو ہر بات کی خبر ہے اپنے شرکاء کے نام لے کر کیا اللہ کو ایسی بات بتانا چاہتے ہیں جس کو وہ نہیں جانتا۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار و مشرکین جن کو اپنا معبود کہہ رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ شریک کر رہے ہیں یہ بھی دل میں جانتے ہیں کہ یہ ان کے معبود نہیں ہیں لیکن ان کی خود فریبیوں نے ان کے لئے دنیوی مفادات کو خوشنما بنا رکھا ہے اور اسی میں وہ خوش ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف خود اس نیک راستے سے رک رہے ہیں بلکہ ان کی خواہش ہے کہ کوئی بھی اس راستے پر نہ چلے۔ فرمایا کہ جس چیز کو یہ اپنے لئے بہت بہتر سمجھ رہے ہیں وہ درحقیقت اللہ کی طرف سے ان پر پھٹکار ہے اور اس اللہ نے ان کو راستے سے بھٹکا دیا ہے مگر یہ اس میں خوش ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ دنیا میں بھی عذاب دے گا اور آخرت کے عذاب کا تو یہ تصور ہی نہیں کرسکتے۔ بہرحال ان کو دنیا میں اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ اب بھی وقت ہے یہ اس عذاب سے اس طرح بچ سکتے ہیں کہ یہ اپنے جھوٹے معبودوں کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئیں ان کی نجات ہوجائے گی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ یعنی نہایت سخت تھی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منکرین حق کی عجب حالت تھی۔ ان کے مطالبہ پر معجزہ ظاہر ہوتا تو نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جادوگرقرار دیتے۔ اگر معجزہ دکھانے کی بجائے دلائل سے سمجھایا جاتا تو مذاق اڑاتے کہ کیسا رسول ہے کہ ہم نے فلاں معجزہ کا مطالبہ کیا تھا لیکن یہ اس کو پورا نہیں کرسکا۔ کیا ہم ایسے رسول پر ایمان لائیں کفار کے مذاق کرنے پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کے ساتھ صورت حال سے آگہی بخشی جارہی ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اطمینان خاطر رکھیں۔ یہ تو ہم کفار کی آزمائش کرتے ہیں کہ کبھی ان کا مطالبہ مان کر معجزہ دکھا دیتے ہیں اور کبھی ان کے مطالبہ کو مسترد کردیتے ہیں۔ پھر انکار اور آپ کا استہزا کرنے پر مہلت دیتے ہیں۔ اسی طرح ہم نے ان سے پہلے کفار کو آزمایا تھا۔ جب ان کی مہلت ختم ہوئی اور ہماری طرف سے حجتّ تمام ہوچکی ہم نے انہیں پکڑلیا۔ ہمارا پکڑنا خوب ہوا کرتا ہے سورة البروج آیت : ١٢ میں فرمایا کہ تیرے رب کی گرفت بڑی سخت ہوا کرتی ہے۔ جب ان کی مہلت پوری ہوگی تو ان پر ایسی گرفت ہوگی کہ انہیں چھڑانے اور بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ چناچہ پہلی گرفت بدر کے میدان میں ہوئی کہ ان کے ستر سورماؤں کی لاشیں بدر کے کنویں میں پھینک دی گئیں۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مذاق کرنے والے لوگ : ١۔ یقیناً رسولوں کے ساتھ اس سے پہلے بھی مذاق کیا گیا ہے۔ (الرعد : ٢٢) ٢۔ کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسولوں سے مذاق کرتے ہو۔ (التوبہ : ٦٥) ٣۔ نہیں آیا ان کے پاس کوئی رسول مگر انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ (الحجر : ١١) ٤۔ افسوس ہے لوگوں پر جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا تو انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ (یٰس : ٣٠) ٥۔ نہیں آیا ان کے پاس کوئی نبی مگر وہ ان سے مذاق کرتے تھے۔ (الزخرف : ٧) ٦۔ آپ سے پہلے بھی انبیا سے مذاق کیا جاتا رہا تب ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔ (الانبیاء : ٤١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی ‘ کافروں کی بد حالی ‘ متقیوں سے جنت کا وعدہ : یہ متعدد آیات ہیں ‘ پہلی آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب فرمایا کہ آپ سے پہلے بھی رسول بھیجے گئے اور ان کا بھی مذاق بنایا گیا اس میں آپ کو تسلی دی ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو کچھ آپ کے ساتھ ہو رہا ہے یہ نئی چیز نہیں ہے آپ سے پہلے جو رسول آئے ان کی امتوں نے ان کے ساتھ تکذیب ‘ استہزاء اور مذاق بنانے کا وہی طریقہ اختیار کیا جو یہ لوگ اختیار کئے ہوئے ہیں ان حضرات نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں ‘ ان لوگوں نے جو تکذیب کی اور رسولوں کا مذاق بنایا تو میں نے عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کی بلکہ ان کو مہلت دی اس مہلت سے وہ اور زیادہ بغاوت پر اتر آئے پھر میں نے ان کی گرفت کرلی اور اچھی طرح گرفت کی ان پر عذاب آیا ‘ اب تم خود خیال کرلو کہ میرا عذاب کیسا تھا ؟ (ان عذابوں کی تفصیلات قرآن مجید کی دوسری سورتوں میں مذکور ہیں) جب عذاب آیا تو ان کے بچنے کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا اور بھاگنے کی کوئی جگہ نہ تھی ‘ آپ بھی صبر کریں اور مذاق بنانے والوں کے بارے میں انتظار فرمائیں جب گرفت ہوگی تو یہ بھی اپنی جانوں کو بچا نہ سکیں گے۔ پھر فرمایا (اَفَمَنْ ھُوَ قَآءِمٌ عَلٰی کُلِّ نَفْسٍ م بِمَا کَسَبَتْ ) (کیا جو ذات ہر شخص کے اعمال پر مطلع ہو) اس میں ہمزہ استفہام انکاری کے لیے ہے اور مبتداء کی خبر محذوف ہے (قال صاحب الروح من مبتداء والخبر محذوف ‘ ای کمن لیس کذلک) مطلب یہ ہے کہ جو ذات علیم اور خبیر ہے جسے سب کے احوال و اعمال کا عمل ہے کیا اس کے برابر وہ ہوسکتے ہیں جنہیں کچھ بھی علم نہیں اور جو اپنے عبادت کرنے والوں کے حال سے واقف نہیں ‘ جب ان کا یہ حال ہے تو وہ نفع ضرر کے مالک کیسے ہوسکتے ہیں ‘ پھر ان کو خالق تعالیٰ شانہ کا شریک بنانا کہاں درست ہے ؟ خودہی ہر شخص کو سوچنا چاہئے ‘ غورو فکر کریں گے تو اپنی جہالت اور ضلالت کا فیصلہ خود کرلیں گے۔ (قُلْ سَمُّوْھُمْ ) یعنی جنہیں تم نے شریک بنایا ہے ان کا ذرا نام تو لو اور بتاؤ وہ کون ہیں ان کی حیثیت کیا ہے ان کے شرکاء کی تحقیر کے لیے ایسا فرمایا قال فی الروح ناقلا عن البحر ان المعنی انھم لیسوا ممن یذکر ویسمی انما یذکرو یسمی من ینفع ویضر (الی ان قال) والمعنی سواء سمیتموھم بذلک ام لم تسموھم بہ فانھم فی الحقارۃ بحیث لا یستحقون ان یلتفت الیھم عاقل ‘ مطلب یہ ہے کہ جن کو تم نے اللہ کا شریک بنایا ہے وہ ایسے حقیر ہیں کہ قابل ذکر ہی نہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

34: یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ سے کفار مکہ مراد ہیں۔ ” بِمَا صَنَعُوْا “ کفر وعناد اور انکار و طغیان کی وجہ سے ” قَارِعَۃٌ“ دل ہلا دینے والی مصیبت ” الذین کفروا من اھل مکۃ علی ما روی عن مقاتل تصیبھم بما صنعوا بسبب ما صنعوا من الکفر والتمادی فیہ قارعۃ الرزیۃ التی تقرع قلب صاحبھا “ (روح ج 13 ص 158) مشرکین مکہ پر موت سے پہلے ان کے ضد وعناد کی وجہ سے کوئی نہ کوئی مصیبت آتی رہے گی یا ان کے سروں پر منڈلاتی رہے گی جس سے وہ ہر وقت خوف زدہ اور ہراساں رہیں گے۔ مثلاً مسلمانوں کے خوف سے یا کسی دوسرے دشمن کے ڈر سے مرعوب رہیں گے۔ او تحل القارعۃ قریبًا منھم فیفزعون و یتطایر علیھم ررھا و یتعدی الیھم شرورھا (مدارک ج 2 193) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

32 ۔ اور کفارکا یہ طریقہ آپ سے استہزا کرتے اور مذاق اڑاتے ہیں تو یہ بھی کوئی نیا طریقہ نہیں ہے کیونکہ بلاش بہ آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے اور ان سے استہزاء کیا گیا ہے پھر میں ان کافروں کو مہلت دیتا رہا آخرت کار میں نے ان کو پکڑ لیا سو دیکھو میرا بدلہ اور میری سزا کیسی تھی ۔ یعنی جیسی سخت سزا ان کو دی گئی ایسی ہی سزا کے یہ مستحق ہیں۔