Surat ur Raad

Surah: 13

Verse: 35

سورة الرعد

مَثَلُ الۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ ؕ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ اُکُلُہَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّہَا ؕ تِلۡکَ عُقۡبَی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا ٭ۖ وَّ عُقۡبَی الۡکٰفِرِیۡنَ النَّارُ ﴿۳۵﴾

The example of Paradise, which the righteous have been promised, is [that] beneath it rivers flow. Its fruit is lasting, and its shade. That is the consequence for the righteous, and the consequence for the disbelievers is the Fire.

اس جنت کی صفت جس کا وعدہ پرہیزگاروں کو دیا گیا ہے یہ ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں ۔ اس کا میوہ ہمیشگی والا ہے اور اس کا سایہ بھی یہ ہے انجام پرہیز گاروں کا ، اور کافروں کا انجام کارو دوزخ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

مَّثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ... The description of the Paradise which those who have Taqwa have been promised, meaning its description and qualities; ... تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الاَنْهَارُ ... Underneath it rivers flow, these rivers flow in the various parts and grades of Paradise and wherever its people wish they flow and gush forth for them. Allah also said, مَّثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِى وُعِدَ الْمُتَّقُونَ فِيهَأ أَنْهَارٌ مِّن مَّأءٍ غَيْرِ ءَاسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِّن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَـرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّـرِبِينَ وَأَنْهَـرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ الثَّمَرَتِ وَمَغْفِرَةٌ The description of Paradise which those who have Taqwa have been promised (is that) in it are rivers of water the taste and smell of which are not changed, rivers of wine delicious to those who drink, and rivers of clarified honey, therein for them is every kind of fruit, and forgiveness. (47:15) Allah said next, ... أُكُلُهَا دَايِمٌ وِظِلُّهَا ... its provision is eternal and so is its shade, for Paradise has foods, fruits and drinks that never end or finish. It is recorded in the Two Sahihs that Ibn Abbas narrated in the Hadith about the Eclipse prayer that the Companions said, "O Allah's Messenger! While you were standing (in prayer), we saw you reach for something with your hand and then you brought it back." The Messenger said, إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لاََكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا I saw Paradise - or was shown Paradise - and reached for a cluster (of grapes or other fruit), and had I kept it, you would have eaten from it as long as this life remains. Imam Muslim recorded that Jabir bin Abdullah said that the Messenger of Allah said, يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَيَشْرَبُونَ وَلاَأ يَتَمَخَّطُونَ وَلاَأ يَتَغَوَّطُونَ وَلاَأ يَبُولُونَ طَعَامُهُمْ جُشَاءٌ كَرِيحِ الْمِسْكِ وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّقْدِيسَ كَمَا يُلْهَمُونَ النَّفَس The people of Paradise eat and drink, and they do not need to blow their noses, or answer the call of nature, or urinate, for they pass the food excrements in belches, which smell like musk. They will be inspired to praise and glorify (Allah) as spontaneously as they breathe. Imams Ahmad and An-Nasa'i recorded that Thumamah bin Uqbah said that he heard Zayd bin Arqam say, "A man from the People of the Scriptures came and said (to the Prophet), `O Abul-Qasim! You claim that the people of Paradise eat and drink' The Prophet said, نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ الرَّجُلَ مِنْهُمْ لَيُعطَى قُوَّةَ مِايَةِ رَجُلٍ فِي الاَْكْلِ وَالشُّرْبِ وَالْجِمَاعِ وَالشَّهْوَة Yes. By He in Whose Hand is Muhammad's life, a man among them will be given the strength of a hundred men in eating, drinking, sexual intercourse and appetite. That man asked, `He who eats and drinks needs to relieve the call of nature, but Paradise is pure (from feces and urine).' The Prophet said, تَكُونُ حَاجَةُ أَحَدِهِمْ رَشْحًا يَفِيضُ مِنْ جُلُودِهِمْ كَرِيحِ الْمِسْكِ فَيَضْمُرُ بَطْنُه One of them (residents of Paradise) relieves the call of nature through a sweat that emanates from the skin, with the scent of musk, and the stomach becomes empty again. Imam Ahmad and An-Nasa'i collected this Hadith. Allah said in other Ayat, وَفَـكِهَةٍ كَثِيرَةٍ لااَّ مَقْطُوعَةٍ وَلااَ مَمْنُوعَةٍ And fruit in plenty, whose supply is not cut off nor are they out of reach. (56:32-33) and, وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَـلُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلً And the shade thereof is close upon them, and the bunches of fruit thereof will hang low within their reach. (76:14) The shade of Paradise is everlasting and never shrinks, just as Allah said, وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّـتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ خَـلِدِينَ فِيهَأ أَبَداً لَّهُمْ فِيهَأ أَزْوَجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَنُدْخِلُهُمْ ظِـلًّ ظَلِيلً But those who believe and do deeds of righteousness, We shall admit them to Gardens under which rivers flow, abiding therein forever. Therein they shall have pure mates, and We shall admit them to shades wide and ever deepening. (4:57) Allah often mentions the description of Paradise and the description of the Fire together, to make Paradise appealing and warn against the Fire. This is why, after Allah mentioned the description of Paradise here, He next said, ... تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَواْ وَّعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ this is the end (final destination) of those who have Taqwa, and the end (final destination) of the disbelievers is Fire. Allah said in another Ayah, لااَ يَسْتَوِى أَصْحَـبُ النَّارِ وَأَصْحَـبُ الْجَنَّةِ أَصْحَـبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَأيِزُونَ Not equal are the dwellers of the Fire and the dwellers of the Paradise. It is the dwellers of Paradise that will be successful. (59:20)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

35۔ 1 اہل کفار کے انجام بد کے ساتھ اہل ایمان کا حسن انجام بیان فرما دیا تاکہ جنت کے حصول میں رغبت اور شوق پیدا ہو، اس مقام پر امام ابن کثیر نے جنت کی نعمتوں، لذتوں اور ان کی خصوصی کیفیات پر مشتمل احادیث بیان فرمائی ہیں۔ جنہیں وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ ۔۔ : ” مَثَلُ “ کا معنی یہاں صفت یا حال ہے، اہل جہنم کے ذکر کے بعد متقی لوگوں کو ملنے والی جنت کا حال اور اس کی صفت بیان فرمائی کہ اس کے درختوں اور مکانوں کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، اس کا پھل دائمی ہے، یہ نہیں کہ کبھی ہو اور کبھی نہ ہو، اسی طرح اس کا سایہ بھی دائمی ہے، اس کے پھل نہ ختم ہوں گے، نہ کسی جنتی کو ان سے کوئی رکاوٹ ہوگی۔ (دیکھیے واقعہ : ٣٣) جنت کی نہروں کی صفت کے لیے سورة محمد (١٥) اور سائے کی حالت کے لیے سورة دہر (١٤) ، نساء (٥٧) اور طٰہٰ (١١٨، ١١٩) ملاحظہ فرمائیں۔ مزید تفصیل کے لیے اس مقام پر تفسیر ابن کثیر اور کتب احادیث میں جنت اور جہنم کے احوال کے ابواب ملاحظہ فرمائیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ ۭ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۭ اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ 35؁ مثل والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] . ( م ث ل ) مثل ( ک ) المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔ مثلا عین ضرورت پر کسی چیز کو کھودینے کے لئے الصیف ضیعت اللبن کا محاورہ وہ ضرب المثل ہے ۔ چناچہ قرآن میں امثال بیان کرنے کی غرض بیان کرتے ہوئے فرمایا : ۔ وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ وہ فکر نہ کریں ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ دباغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خرٰر و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا جری الجَرْي : المرّ السریع، وأصله كمرّ الماء، ولما يجري بجريه . يقال : جَرَى يَجْرِي جِرْيَة وجَرَيَاناً. قال عزّ وجل : وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] ( ج ر ی ) جریٰ ( ض) جریۃ وجریا وجریا نا کے معنی تیزی سے چلنے کے ہیں ۔ اصل میں یہ لفظ پانی اور پانی کی طرح چلنے والی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] اور یہ نہریں جو میرے ( محلوں کے ) نیچے بہ رہی ہیں ۔ میری نہیں ہیں ۔ تحت تَحْت مقابل لفوق، قال تعالی: لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] ، وقوله تعالی: جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ، تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ [يونس/ 9] ، فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] ، يَوْمَ يَغْشاهُمُ الْعَذابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ العنکبوت/ 55] . و «تحت» : يستعمل في المنفصل، و «أسفل» في المتصل، يقال : المال تحته، وأسفله أغلظ من أعلاه، وفي الحدیث : «لا تقوم الساعة حتی يظهر التُّحُوت» «4» أي : الأراذل من الناس . وقیل : بل ذلک إشارة إلى ما قال سبحانه : وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] . ( ت ح ت) تحت ( اسم ظرف ) یہ فوق کی ضد ہے قرآن میں ہے :۔ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] تو ( ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے ۔ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ( نعمت کے ) باغ میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے آواز دی ۔ تحت اور اسفل میں فرق یہ ہے کہ تحت اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری کے نیچے ہو مگر اسفل کسی چیز کے نچلا حصہ کو جیسے ۔ المال تحتہ ( مال اس کے نیچے ہے ) اس کا نچلا حصہ اعلیٰ حصہ سے سخت ہے ) حدیث میں ہے (48) لاتقوم الساعۃ حتیٰ یظھر النحوت کہ قیامت قائم نہیں ہوگی ۔ تا وقی کہ کمینے لوگ غلبہ حاصل نہ کرلیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حدیث میں آیت کریمہ ؛۔ وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] اور جب یہ زمین ہموار کردی جائے گی اور جو کچھ اس میں سے اسے نکلا کر باہر ڈال دے گی ۔ کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔ دوم أصل الدّوام السکون، يقال : دام الماء، أي : سكن، «ونهي أن يبول الإنسان في الماء الدائم» ۔ وأَدَمْتُ القدر ودوّمتها : سكّنت غلیانها بالماء، ومنه : دَامَ الشیءُ : إذا امتدّ عليه الزمان، قال تعالی: وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً ما دُمْتُ فِيهِمْ [ المائدة/ 117] ( د و م ) الدام ۔ اصل میں دوام کے معنی سکون کے ہیں کہا جاتا ہے ۔ دام المآء ( پانی ٹھہر گیا ) اور ( حدیث میں یعنی کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے تھوڑا سا پانی ڈالکر ہانڈی کو ٹھنڈا کردیا ۔ اسی سے دام الشئی کا محاورہ ہے یعنی وہ چیز جو عرصہ دراز تک رہے قرآن میں ہے : ۔ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً ما دُمْتُ فِيهِمْ [ المائدة/ 117] اور جب تک میں ان میں رہا ان ( کے حالات ) کی خبر رکھتا رہا ۔ إِلَّا ما دُمْتَ عَلَيْهِ قائِماً [ آل عمران/ 75] جب تک اس کے سر پر ہر قت کھڑے نہ رہو ۔ ظلل الظِّلُّ : ضدُّ الضَّحِّ ، وهو أعمُّ من الفیء، فإنه يقال : ظِلُّ اللّيلِ ، وظِلُّ الجنّةِ ، ويقال لكلّ موضع لم تصل إليه الشّمس : ظِلٌّ ، ولا يقال الفیءُ إلّا لما زال عنه الشمس، ويعبّر بِالظِّلِّ عن العزّة والمنعة، وعن الرّفاهة، قال تعالی: إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] ، أي : في عزّة ومناع، ( ظ ل ل ) الظل ۔ سایہ یہ الضح ( دهوپ ) کی ضد ہے اور فیی سے زیادہ عام ہے کیونکہ ( مجازا الظل کا لفظ تورات کی تاریکی اور باغات کے سایہ پر بھی بولا جاتا ہے نیز ہر وہ جگہ جہاں دہوپ نہ پہنچنے اسے ظل کہہ دیا جاتا ہے مگر فییء صرف اس سے سایہ کو کہتے ہیں جوز وال آفتاب سے ظاہر ہو ہے اور عزت و حفاظت اور ہر قسم کی خش حالی کو ظل سے تعبیر کرلیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] کے معنی یہ ہیں کہ پرہیز گار ہر طرح سے عزت و حفاظت میں ہوں گے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٥) اور جس جنت کا کفر وشرک اور برائیوں سے بچنے والوں سے وعدہ کیا گیا ہے، اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ، شہد، شراب اور پانی کی نہریں جاری ہوں گی اس کا پھل ہمیشہ رہے گا کبھی ختم نہ ہوگا اور ایسے ہی اس کا سایہ ہمیشہ رہے گا جنت تو کفر وشرک اور برائیوں سے بچنے والوں کے لیے ہوگی اور کافروں کا انجام دوزخ ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(13:35) مثل۔ یہاں بمعنی صفت و کیفیت آیا ہے۔ یعنی جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی کیفیت یہ ہے۔۔ اکلھا۔ پھل۔ میوہ ۔ مضاف۔ ھا مضاف الیہ ۔ ضمیر واحد مؤنث غائب۔ اس جنت کا پھل یا میوہ۔ الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور جو چیز کھائی جائے اسے اکل واکل کہا جاتا ہے۔ اکلہا دائم۔ اس کا پھل ہمیشہ رہنے والا ہے۔ وظلہا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا سایہ۔ ای وظلھا دائم۔ عقبی۔ بمعنی ۔ انجام۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 37 مثل مثال وعد وعدہ کیا گیا اکل پھل۔ انجام دائم ہمیشہ رہنے والا ظل سایہ عقبی انجام تفرحون وہ خوش ہو رہے ہیں الاحزاب (حزب) جماعتیں۔ گروہ ینکر انکار کرتا ہے امرت مجھے حکم دیا گیا ہے اعبد میں عبادت و بندگی کرتا ہوں لا اشرک میں شرک نہیں کرتا ہوں ادعوا بلاتا ہوں ماب ٹھکانا حکم فیصلہ اتبعت تو نے پیروی کی۔ تو پیچھے چلا اھواء (ھوائ) خواہشات مالک تیرے لئے نہیں ہے ولی حمایتی۔ مددگار واق بچانے والا تشریح : آیت نمبر 35 تا 37 اس دنیا کی عارضی زندگی کی ہر خوشی اور غم کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتے کبھی ہر طرف خوشی اور راحتیں اور سکون ہی سکون ہوتا ہے لیکن جب خوشی کے لمحے دبے قدموں گذر جاتے ہیں تو غم اور ناکامیابیوں کے اندھیرے چھا جاتے ہیں، نہ غم ٹھرتا ہے اور نہ خوشی۔ کبھی کی راتیں بڑی اور کبھی کے دن بڑے ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف آخرت کی زندگی ہمیشہ کی زندگی ہے جس کی خوشی اور غم ہمیشہ کے لئے ہیں۔ ان آیات میں اسی بات کو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وہ جنت جس کا وعدہ اہل تقویٰ سے کیا گیا ہے اس کی مثال یہ ہے کہ وہ جنتیں ایسی ہونگی جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی یعنی ہر طرف سرسبزی و شادابی ہوگی اس کے پھل اور سائے بھی دائمی اور ہمیشہ کے لئے ہوں گے۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جنہوں نے کفر و شرک کو اپنی زندگی بنا لیا ہے ان کو ایسی جہنم میں جھونک دیا جائے گا جس میں کسی طرح کی راحتیں اور آرام نہ ہوں گے بلکہ ان پر عذاب بھی ایک وقت کے لئے نہیں بلکہ دائمی عذاب ہوگا ۔ یہ اہل تقویٰ اور اہل کفر کا انجام ہے۔ نہ اہل تقویٰ ہر طرح کی راحتوں سے محروم رہیں گے اور نااہل کفر جہنم کی آگ سے بچ سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام نازل کردیا ہے جس میں اس حقیقت کی پوری طرح وضاحت کردی گئی ہے بعض وہ لوگ جو اہل کتاب ہیں ان کے دلوں سے یہ خوشی ابھرتی ہے کہ واقعی اللہ کا کلام ہی انسانوں کی ہدایت کیلئے کافی ہے لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر و شرک کی روش اختیار کر رکھی ہے ان کو قرآن کریم کا نازل ہونا گوارگذرتا ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اس بات کا اعلان کردیجیے کہ مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں ایک اللہ کی عبادت و بندگی کروں اور اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کروں۔ میرا یہی کام ہے کہ میں اسی ایک اللہ اور اس کی بندگی کی طرف لوگوں کو دعوت دوں اور وہی اللہ میرا ٹھکانا ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ جن لوگوں کو اللہ کا دین پہنچا رہے ہیں ان کی زبان عربی ہے۔ قرآن کریم بھی عربی میں نازل کیا گیا ہے تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ ہم اس دین کو کیسے سمجھیں یہ تو کسی اجنبی زبان میں ہے جس کو ہم سمجھ نہیں سکتے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے پوری امت کو بتایا گیا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر اس علم اور سچائی کے آجانے کے بعد آپ بھی کسی اور کی بات مانیں گے تو اس بات کو اللہ کی حمایت حاصل نہیں ہوگی اور نہ عذاب الٰہی سے بچنا ممکن ہوگا ۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ فرمایا جا رہا ہے تو عام آدمی دوسری قوموں کے نظریات کی پیروی کر کے اللہ کے فیصلے سے کیسے بچ سکتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی شرک وکفر سے بچنے والے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکوں کے مقابلہ میں توحید کا عقیدہ رکھنے اور نیک اعمال کرنے والوں کا بہتر انجام اور صلہ۔ قرآن مجید اپنے دلکش اور مفیدترین اسلوب کے مطابق دونوں قسم کے لوگوں اور کرداروں کا انجام بیان کرتے ہوئے واضح کرتا ہے جن لوگوں نے صرف ایک اللہ کو مشکل کشا اور حاجت رواجانا اور اس کے حکم کے تابع ہو کر زندگی بسر کی، مشرکوں اور کفار کے ظلم وستم کا نشانہ بنے ان کے لیے جنت کا وعدہ ہے جس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں۔ اس کے گھنے پھل اور ٹھنڈے سائے ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ متقین کا بہترین انجام ہوگا اور ان کے مقابلہ میں کفار کے لیے جہنم کی آگ کے دہکتے ہوئے انگارے ہوں گے۔ جنتیوں اور جہنمیوں کا فرق : (جَابِرُ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَأْکُلُ أَہْلُ الْجَنَّۃِ فِیْہَا وَیَشْرَبُوْنَ وَلاَ یَتَغَوَّطُوْنَ وَلاَ یَمْتَخِطُوْنَ وَلاَ یَبُوْلُوْنَ وَلٰکِنْ طَعَامُہُمْ ذَاکَ جُشَآءٌ کَرَشْحِ الْمِسْکِ یُلْہَمُوْنَ التَّسْبِیْحَ وَالْحَمْدَ کَمَا یُلْہَمُوْنَ النَّفَسَ قَالَ وَفِیْ حَدِیثِ حَجَّاجٍ طَعَامُہُمْ ذٰلِکَ )[ رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ النار، باب فِی صِفَاتِ الْجَنَّۃِ وَأَہْلِہَا وَتَسْبِیْحِہِمْ فِیْہَا بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا ] ” حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا جنتی جنت میں کھائیں پییں گے، نہ پاخانہ کریں گے اور نہ ان کی ناک سے فضلہ آئے گا اور نہ ہی وہ پیشاب کریں گے۔ ان کا کھانا کستوری کی مانند ایک ڈکار سے ہضم ہوگا، تسبیح اور تحمید ان میں اس طرح الہام کی جائیں گی جس طرح سانس چلتی ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ تسبیح اور تحمید ان کی غذا ہوگی۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لأَہْوَنِ أَہْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ کَانَتْ لَکَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا أَکُنْتَ مُفْتَدِیًا بِہَا فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیَقُوْلُ قَدْ أَ رَدْتُّ مِنْکَ أَہْوَنَ مِنْ ہٰذَا وَأَنْتَ فِیْ صُلْبِ آدَمَ أَنْ لاَّ تُشْرِکَ أَحْسَبُہٗ قَالَ وَلاَ أُدْخِلَکَ النَّارَ فَأَبَیْتَ إِلاَّ الشِّرْکَ ) [ رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ النار ] ” حضرت انس بن مالک (رض) نبی کریم سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جہنمیوں میں سے کم ترین عذاب والے سے کہے گا۔ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے وہ تیرے لیے ہو تو کیا تو اسے فدیہ کے طور پردے دے گا وہ کہے گا جی ہاں ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے اس سے بھی زیادہ تجھ سے نرمی کی تھی جب کہ تو آدم کی پشت میں تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا، راوی کا خیال ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تجھے جہنم میں داخلنہ کرتا لیکن تو شرک سے باز نہیں آیا۔ “ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ نَارُکُمْ جُزْءٌ مِّنْ سَبْعِیْنَ جُزْءً ا مِّنْ نَّارِ جَھَنَّمَ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنْ کَانَتْ لَکَافِیَۃً قَالَ فُضِّلَتْ عَلَیْھِنَّ بِتِسْعَۃٍ وَّ سِتِّیْنَ جُزْءً اکُلُّھُنَّ مِثْلُ حَرِّھَا) [ رواہ البخاری : باب صِفَۃِ النَّارِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہاری آگ ‘ دوزخ کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک ہے آپ سے عرض کیا گیا ‘ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جلانے کو تو یہی آگ کافی تھی۔ آپ نے فرمایا دوزخ کی آگ کو دنیا کی آگ سے انہتر ڈگری بڑھا دیا گیا ہے، ہر ڈگری دنیا کی آگ کے برابر ہوگی۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ ٢۔ جنت کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ ٣۔ جنت کے پھل اور سائے ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ ٤۔ کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ تفسیر بالقرآن متقین کا صلہ اور کفار کا انجام : ١۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ (الرعد : ٣٥) ٢۔ صبر کرو متقین کا بہتر انجام ہے۔ (ہود : ٤٩) ٣۔ متقین کے لیے جنت ہے۔ (الحجر : ٤٥) ٤۔ کفار کے چہرے کالے ہوں گے اور جنتیوں کے چہرے پرنور ہوں گے۔ (آل عمران : ١٠٦۔ ١٠٧) ٥۔ مجرم کے لیے جہنم ہے۔ (طٰہٰ : ٧٤) ٦۔ کافر ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (الزخرف : ٧٤) ٧۔ کفار کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی اور متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : ٢٦۔ ٢٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (تِلْکَ عُقْبَی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَعُقْبَی الْکٰفِرِیْنَ النَّارُ ) (یہ انجام ہے ان لوگوں کا جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور کافروں کا انجام دوزخ ہے) ۔ اس کے بعد اہل کتاب میں سے ان لوگوں کی تعریف فرمائی جنہیں قبول حق سے عناد نہیں ہے (وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتَابَ یَفْرَحُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ ) (اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ اس سے خوش ہوتے ہیں جو آپ کی طرف نازل لیا گیا) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس سے وہ یہود و نصاریٰ مراد ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا اس میں چالیس اشخاص نصاریٰ نجران میں سے تھے اور آٹھ یمن کے نصرانی تھے اور بتیس حبشہ کے لوگ تھے اسی طرح کچھ لوگ یہود میں سے بھی مسلمان ہوگئے تھے جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام وغیرہ (رض) وعن جمیع الصحابہ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

38:۔ یہ مذکورہ بالا معاندین کے لیے دنیوی اور اخروی تخویف ہے۔ ” مَثَلُ الْجَنَّۃِ الخ “ یہ ماننے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

35 ۔ جس جنت کا متقیوں اور پرہیز گاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف اور اس کا حال یہ ہے کہ اس جنت کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اس باغ کے پھل اور اس کا سایہ دائمی ہوگا اور ہمیشہ رہے گا یہ انجام تو متقیوں اور پرہیز گاروں کا ہے اور جو لوگ دین حق کے منکر ہیں ان کا انجام جہنم اور دوزخ کی آگ ہے۔ جنت کی کیفیت فرمائی کہ جو لوگ کفر و شرک سے پرہیز کرتے ہیں ان سے اس جنت کا وعدہ ہے اس کے آرام و آشائش دائمی ہیں وہاں کی نعمتوں کو ہمیشگی ہے جنت کی عمارات اور وہاں کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ انجام مومنوں کا ہے ۔۔۔۔ اور جہنم انجام کافروں کا ۔