Surat Ibrahim

Surah: 14

Verse: 33

سورة إبراهيم

وَ سَخَّرَ لَکُمُ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ دَآئِبَیۡنِ ۚ وَ سَخَّرَ لَکُمُ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ ﴿ۚ۳۳﴾

And He subjected for you the sun and the moon, continuous [in orbit], and subjected for you the night and the day.

اسی نے تمہارے لئے سورج چاند کو مسخر کر دیا ہے کہ برابر ہی چل رہے ہیں اور رات دن کو بھی تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَسَخَّر لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَايِبَينَ ... And He has made the sun and the moon, both constantly pursuing their courses, to be of service to you; rotating by night and by day, ... وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ and He has made the night and the day to be of service to you. Allah said in other Ayat, لااَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَأ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلااَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ It is not for the sun to overtake the moon, nor does the night outstrip the day. They all float, each in an orbit. (36:40) and, يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ He brings the night as a cover over the day, seeking it rapidly, and (He created) the sun, the moon, the stars subjected to His command. His is the creation and commandment. Blessed is Allah, the Lord of all that exists! (7:54) The sun and the moon rotate in succession, and the night and the day are opposites, each taking from the length of the other or giving up some of its length, يُولِجُ الَّيْلَ فِى النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِى الَّيْلِ (Allah) merges the night into day, and merges the day into night. (35:13) and, وَسَخَّـرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُـلٌّ يَجْرِى لاًّجَـلٍ مُّسَـمًّى أَلا هُوَ الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ And He has subjected the sun and the moon. Each running (on a fixed course) for an appointed term. Verily, He is the Almighty, the Oft-Forgiving. (39:5) Allah said next,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

33۔ 1 یعنی مسلسل چلتے رہتے ہیں، کبھی ٹھرتے نہیں رات کو، نہ دن کو۔ علاوہ ازیں ایک دوسرے کے پیچھے چلتے ہیں لیکن کبھی ان کا باہمی تصادم اور ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ 33۔ 2 رات اور دن، ان کا باہمی تفاوت جاری رہتا ہے، کبھی رات، دن کا کچھ حصہ لے کر لمبی ہوجاتی ہے اور کبھی دن، رات کا کچھ حصہ لے کر لمبا ہوجاتا ہے۔ اور یہ سلسلہ ابتدائے کائنات سے چل رہا ہے، اس میں ایک رائی فرق نہیں آیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

دَاۗىِٕـبَيْنِ : یہ ” دَأَبَ یَدْأَبُ دَأْبًا “ سے اسم فاعل کا تثنیہ ہے، مسلسل چلنا، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے چلنے کے لیے جو نظام اور ضابطہ مقرر کردیا ہے اس پر لگا تار چلے جا رہے ہیں، نہ کبھی تھمتے ہیں اور نہ بگڑتے ہیں اور نہ رفتار میں کمی بیشی ہوتی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After that, it was said that &We have subjugated the sun and the moon for you& as they both keep moving, always in the same state. The word: دَائِبَيْنِ ۖ (da&ibayn) is a derivation from دَأب da&b which means habit. The sense is that moving at all times and under all conditions has been made the habit of these two planets as it never happens contrary to that. The expression: سَخَّرَ‌ لَكُمُ & (sakhkhara lakum: He subjugated for you) does not mean that they should be moving on your command. Had the sun and the moon been subjugated for human beings in a way that they would be moving under human command, then, there would have been mutual differences among them with the result that one of them would demand that the sun should better rise today two hours later than usual because he had too much work to do in the night. And the other would want to have it rise two hours earlier than usual because he had too many daytime jobs at hand. Therefore, the great Lord did, in a way, sub¬jugate the sun and the moon for human beings, but He did so in the sense that they have been subjugated to serve human beings all the time and under all conditions under a wise Divine arrangement - not that their rising and setting and their speed become subservient to human pleasure. Similarly, the statement that We have subjugated the night and the day for you& also means that both of them have been put in the service of human beings to provide convenience and comfort.

اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے تمہارے لئے سورج اور چاند کو مسخر کردیا کہ یہ دونوں ہمیشہ ایک حالت پر چلتے ہی رہتے ہیں دائبین داب سے مشتق ہے جس کے معنی عادت کے ہیں مراد یہ ہے کہ ہر وقت اور ہر حال میں چلنا ان دونوں سیاروں کی عادت بنادی گئی کہ کبھی اس کے خلاف نہیں ہوتا مسخر کرنے کے یہ معنی نہیں کہ وہ تمہارے حکم اور اشاروں پر چلا کریں کیونکہ اگر شمس وقمر کو اس طرح انسان کا مسخر کردیا جاتا کہ وہ انسانی حکم کے تابع چلا کرتے تو انسانوں کے باہمی اختلاف کا یہ نتیجہ ہوتا کہ ایک انسان کہتا کہ آج آفتاب دو گھنٹے بعد نکلے کیونکہ رات میں کام زیادہ ہے دوسرا چاہتا کہ دو گھنٹے پہلے نکلے کہ دن کے کام زیادہ ہیں اس لئے رب العزت جل شانہ نے آسمان اور ستاروں کو انسان کا مسخر تو بنایا مگر اس معنی سے مسخر کیا کہ وہ ہر وقت ہر حال میں حکمت خداوندی کے ماتحت انسان کے کام میں لگے ہوئے ہیں یہ نہیں کہ ان کا طلوع و غروب اور رفتار انسان کی مرضی کے تابع ہوجائے، اسی طرح یہ ارشاد کہ ہم نے رات اور دن کو تمہارے لئے مسخر کردیا اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ ان دونوں کو انسان کی خدمت اور راحت کے کام میں لگا دیا

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ 33؀ۚ شمس الشَّمْسُ يقال للقرصة، وللضّوء المنتشر عنها، وتجمع علی شُمُوسٍ. قال تعالی: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] ، وقال : الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] ، وشَمَسَ يومَنا، وأَشْمَسَ : صار ذا شَمْسٍ ، وشَمَسَ فلان شِمَاساً : إذا ندّ ولم يستقرّ تشبيها بالشمس في عدم استقرارها . ( ش م س ) الشمس کے معنی سورج کی نکیر یا وہوپ کے ہیں ج شموس قرآن میں ہے ۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] اور سورج اپنے مقرر راستے پر چلتا رہتا ہے ۔ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں ۔ شمس یومنا واشمس ۔ دن کا دھوپ ولا ہونا شمس فلان شماسا گھوڑے کا بدکنا ایک جگہ پر قرار نہ پکڑناز ۔ گویا قرار نہ پکڑنے ہیں میں سورج کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ۔ ( ش م ل ) الشمال ۔ بایاں ضد یمین ۔ قرآن میں ہے ۔ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمالِ قَعِيدٌ [ ق/ 17] جو دائیں اور بائیں بیٹھے ہیں ۔ نیز چھوٹی چادر جس سے بائیں جانب ڈھانپ لی جاء ے اس بھی شمال کہا جاتا ہے جس طرح کہ عربی زبان میں دوسرے اعضار کی مناسبت سے لباس کے مختلف نام رکھے گئے ہیں ۔ مثلا قمیض کی آستین کو ید ( ہاتھ ) اور جو حصہ سینہ اور پشت پر آئے اسے صدر اور ظہر کہا جاتا ہے اور پائجامہ کے پائنہ کو رجاح سے موسم کردیتے ہیں وغیرہ ذالک ۔ اور الاشتمال بالثوب کپڑے کو اس طرح لپیٹا کہ اس کا بالائی سر ا بائیں جانب ڈالا جائے حدیث میں ہے ۔ ( 101 ) نھی اشتما (رح) الصماء کہ اشتمازل الصماء ممنوع ہے ۔ اور استعارہ کے طور پر کمبل کو جو جسم پر لپیٹا جاتا ہے ۔ شملتہ ومشمل کہا جاتا ہے اور اسی ست شملھم الامر کا محاورہ ہے جس کے معنی کسی امر کے سب کو شامل اور عام ہوجانے کے ہیں ۔ پھر شمال کے لفظ سے مجازا کہا جاتا ہے ۔ شملت الشاۃ بکری کے تھنوں پر غلاف چڑھانا اور شمال کے معنی عادت بھی آتے ہیں ۔ کیونکہ وہ بھی چادر کی طرح انسان پر مشتمل ہوجاتی ہے ۔ الشمول شراب کیونکہ وہ عقل کو ڈھانپ لیتی ہے اور شراب کو شمول کہنا ایسے ہی ہے جیسا کہ عقل کو ڈھانپ لینے کی وجہ سے خمر کہا جاتا ہے ۔ الشمال ( بکسرالشین ) وہ ہوا جو کعبہ کی بائیں جانب سے چلتی ہے اور اس میں ایک مغت شمال ( بفتحہ شین بھی ہے ۔ شامل واشمل کے معنی شمال کی جانب میں جانے کے ہیں جسیے جنوب سے اجنب ۔ ( جنوب کو جاتا ) کنایہ کے طور پر تلوار کو شمل کہا جاتا ہے جیسا کہ اسے رداع سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اسی سے مرتد یا بالسیف ومتدر عالہ کی طرح جاء مشتملا بسیفتہ کا محاورہ ہے ۔ : ناقتہ شملتہ و شمال باوشمال کی طرح تیز اونٹنی ۔ اور شاعر کے قول ع ( الکامل ) ( 262 ) ولتعرفن خلائقا مشمولتہ ولتند من ولات ساعتہ سندم تم عمدہ اخلاق کو پہچان لوگے اور تم پشمانی اٹھاؤگے لیکن وہ وقت پیشمانی کا نہیں ہوگا ۔ میں مشمولتہ سے مراد پاکیزہ اخلاق ہیں گویا باد شمال نے ( شراب کی طرح ) انہیں ٹھنڈا اور خوش گوار بنادیا ۔ قمر القَمَرُ : قَمَرُ السّماء . يقال عند الامتلاء وذلک بعد الثالثة، قيل : وسمّي بذلک لأنه يَقْمُرُ ضوء الکواکب ويفوز به . قال : هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ( ق م ر ) القمر ۔ چاند جب پورا ہورہا ہو تو اسے قمر کہا جاتا ہے اور یہ حالت تیسری رات کے بعد ہوتی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ چاندکو قمر اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ستاروں کی روشنی کو خیاہ کردیتا ہے اور ان پر غالب آجا تا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا ۔ دأب الدَّأْب : إدامة السّير، دَأَبَ في السّير دَأْباً. قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دائِبَيْنِ [إبراهيم/ 33] ، والدّأب : العادة المستمرّة دائما علی حالة، قال تعالی: كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ [ آل عمران/ 11] ، أي : کعادتهم التي يستمرّون عليها . ( د ء ب ) الداب کے معنی مسلسل چلنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ داب السیر دابا ۔ وہ مسلسل چلا ۔ قرآن میں ہے وَسَخّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دائِبَيْنِ [إبراهيم/ 33] اور سورج اور چاند کو تمہارے لئے کام میں لگا دیا کہ دونوں ( دن رات ) ایک دستور پر چل رہے ہیں ۔ نیز داب کا لفظ عادۃ مستمرہ پر بھی بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ [ آل عمران/ 11] ان کا حال بھی فرعونیوں کا سا ہے یعنی انکی اسی عادت جس پر وہ ہمیشہ چلتے رہے ہیں ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٣) اور قیامت تک کے لیے تمہارے نفع کے لیے چاند وسورج کو مسخر بنایا اور رات دن کو مسخر بنایا کہ رات جاتی ہے دن آتا ہے اور دن جاتا ہے تو رات آتی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٣ ( وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ ) ان تمام چیزوں کے گنوانے سے انسان کو یہ جتلانا مقصود ہے کہ زمین کے دامن اور آسمان کی وسعتوں میں اللہ کی تمام تخلیقات اور فطرت کی تمام قوتیں مسلسل انسان کی خدمت میں اس کی نفع رسانی کے لیے مصروف کار ہیں اور وہ اس لیے کہ اس کائنات میں انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جو سب مخلوقات سے اعلیٰ ہے۔ اللہ نے یہ بساط کون و مکان انسان ہی کے لیے بچھائی ہے اور باقی تمام اشیاء کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ اس کی ضروریات پوری کریں۔ یہی بات سورة البقرۃ کی آیت ٢٩ میں اس طرح بیان فرمائی گئی ہے : (ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا) یعنی یہ زمین میں جو کچھ بھی نظر آ رہا ہے یہ اللہ نے تمہارے (انسانوں کے ) لیے پیدا کیا ہے۔ اور ان چیزوں کو تمہاری ضرورتیں پوری کرنے کے لیے مسخر کردیا ہے ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

44. The words sakh-khara-lakum of the text in (Ayats 32-33) have misled those people who have translated these into “subjected to you”. So much so that some of them interpret these verses to mean that the main aim of the life of man is to bring the earth and heavens under his subjection, whereas their real meaning is “the earth and heavens are subjected to certain laws and they serve you under these laws.” As a matter of fact Allah has subjected all these things to such laws as are beneficial for man. Had not a ship been subjected to certain physical laws, there could have been no navigation at all. Had not a river been subjected to certain laws, it could not have been possible to take out canals from them. Likewise if the heavenly bodies (the sun and the moon, etc.) and the earth and day and night had not been subjected to certain fixed laws, life could not have been possible, not to speak of civilized life

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :44 ”تمہارے لیے مسخر کیا“ کو عام طور پر لوگو غلطی سے” تمہارے تابع کر دیا “ کے معنی میں لے لیتے ہیں ، اور پھر اس مضمون کی آیات سے عجیب عجیب معنی پیدا کرنے لگتے ہیں ۔ حتی کہ بعض لوگ تو یہاں تک سمجھ بیٹھے کہ ان آیات کی رو سے تسخیر سمٰوات و ارض انسان کا منتہائے مقصود ہے ۔ حالانکہ انسان کے لیے ان چیزوں کو مسخر کرنے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ تعالی نے ان کو ایسے قوانین کا پابند بنا رکھا ہے جن کی بدولت وہ انسان کے لیے نافع ہوگئی ہیں ۔ کشتی اگر فطرت کےچند مخصوص قوانین کی پابند نہ ہوتی تو انسان کبھی بحری سفر نہ کر سکتا ۔ دریا اگر مخصوص قوانین میں جکڑے ہوئی نہ ہوتے تو کبھی ان سے نہریں نہ نکالی جا سکتیں ۔ سورج اور چاند اور روز و شب اگر ضابطوں میں کسے ہوئے نہ ہوتے تو یہاں زندگی ہی ممکن نہ ہوتی کجا کہ ایک پھلتا پھولتا انسانی تمدن وجود میں آسکتا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے چلنے کے لئے جو نظام اور ضابطہ مقرر کردیا ہے اس پر لگاتار چلے جا رہے ہیں نہ کبھی تھمتے ہیں اور نہ بگڑتے ہیں اور نہ رفتار میں کمی یا زیادتی ہوتی ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

33 ۔ اور سورج اور چاند کو جو ہمیشہ مقررہ دستور پر چلتے رہتے ہیں تمہارے نفع کے لئے تمہارے کام میں لگا دیا اور نیز رات اور دن کو تمہارے نفع کے لئے تمہارے کام میں لگایا ۔ یعنی چاند ، سورج کا نفع یہ کہ روشنی ، گرمی ٹھنڈک کھیتوں کا پکنا پھلوں میں تری رہنا وغیرہ رات دن کا نفع یہ کہ معاش پیدا کرنا کمانا اور راحت و سکون حاصل کرنا وغیرہ ۔