Surat Ibrahim

Surah: 14

Verse: 46

سورة إبراهيم

وَ قَدۡ مَکَرُوۡا مَکۡرَہُمۡ وَ عِنۡدَ اللّٰہِ مَکۡرُہُمۡ ؕ وَ اِنۡ کَانَ مَکۡرُہُمۡ لِتَزُوۡلَ مِنۡہُ الۡجِبَالُ ﴿۴۶﴾

And they had planned their plan, but with Allah is [recorded] their plan, even if their plan had been [sufficient] to do away with the mountains.

یہ اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں اور اللہ کو ان کی تمام چالوں کا علم ہے اور ان کی چالیں ایسی نہ تھیں کہ ان سے پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Indeed, they planned their plot, and their plot was with Allah, though their plot was not such as to remove the mountains from their places. Shu`bah narrated that Abu Ishaq said that Abdur-Rahman bin Dabil said that Ali bin Abi Talib commented on Allah's statement, وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ (though their plot was not such as to remove the mountains from their places), "He who disputed with Ibrahim about his Lord, took two eaglets and raised them until they became adult eagles. Then he tied each eagle's leg to a wooden box with ropes and left them go hungry. He and another man sat inside the wooden box and raised a staff with a piece of meat on its tip. So, the two eagles started flying. The king asked his companion to tell him what he was seeing, and he described the scenes to him, until he said that he saw the earth as a fly. So, the king brought the staff closer to the eagles and they started landing slowly. This is why Allah said, وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ `though their plot was hardly one to remove the mountains from their places."' Mujahid also mentioned that; this story was about Nebuchadnezzar, and that when the king's sight was far away from earth and its people, he was called, `O tyrant one! Where are you headed to!' He became afraid and brought the staff closer to the eagles, which flew faster with such haste that the mountains almost shook from the noise they made. The mountains were almost moved from their places, so Allah said, وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ (though their plot was not such as to remove the mountains from their places)." Ibn Jurayj narrated that Mujahid recited this Ayah in a way that means, "though their plot was such as to remove the mountains from their places." However, Al-Awfi reported that Ibn Abbas said that, وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ (though their plot was not such as to remove the mountains from their places), indicates that their plot was not such as to remove the mountains from their places. Similar was said by Al-Hasan Al-Basri. Ibn Jarir reasoned that, "Associating others with Allah and disbelieving in Him, which they brought upon themselves, did not bother the mountains nor other creatures. Rather, the harm of their actions came to haunt them." I (Ibn Kathir) said, this meaning is similar to Allah's statement, وَلاَ تَمْشِ فِى الاٌّرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الاٌّرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولاً And walk not on the earth with conceit and arrogance. Verily, you can neither rend nor penetrate the earth, nor can you attain a stature like the mountains in height. (17:37) There is another way of explaining this Ayah; Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said that, وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ (though their plot was not such as to remove the mountains from their places), refers to their Shirk, for Allah said in another Ayah, تَكَادُ السَّمَـوَتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ Whereby the heavens are almost torn. (19:90) Ad-Dahhak and Qatadah said similarly.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

46۔ 1 یہ جملہ حالیہ ہے کہ ہم نے ان کے ساتھ جو کیا وہ کیا، درآنحالیکہ انہوں نے باطل کے اثبات اور حق کے رد کرنے کے لئے مقدور بھر حیلے اور مکر کیے اور اللہ کو ان تمام چالوں کا علم ہے یعنی اس کے پاس درج ہے جس کی وہ ان کو سزا دے گا۔ 46۔ 2 کیونکہ اگر پہاڑ ٹل گئے ہوتے تو اپنی جگہ برقرار نہ ہوتے، جب کہ سب پہاڑ اپنی اپنی جگہ ثابت اور برقرار ہیں۔ یہ ان نافیہ کی صورت میں ہے دوسرے معین ان مخففۃ من المثقلۃ کے لیے گئے ہیں یعنی یقینا ان کے مکر تو اتنے بڑے تھے کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جاتے یہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کے مکروں کو کامیاب نہیں ہوتے دیا جیسے مشریکن کے شرک کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تکاد السموات یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخرالجبال ھدا۔ ان دعوا للرحمن ولدا۔ سورة مریم۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں اس بات پر کہ انہوں نے کہا اللہ رحمان کی اولاد ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٦] کفار مکہ کی زبردست چال کیا تھی ؟ :۔ یہ الفاظ بطور محاورہ استعمال ہوئے ہیں یعنی ان کی چالیں اس قدر یقینی اور تیر بہدف تھیں کہ ان کے خطا ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ وہ چالیں کیا تھیں ؟ اس کا ذکر قرآن کی دوسری آیات میں موجود ہے کہ یا تو اس پیغمبر کو جلا وطن کردیا جائے یا قید کردیا جائے یا قتل کردیا جائے۔ پھر اتقاق اس بات پر ہوا تھا کہ اس کے گھر کا محاصرہ کیا جائے اور یہ محاصرین ہر قبیلے کے ایک ایک فرد پر مشتمل ہوں گے۔ جو سب مل کر حملہ کرکے اس کو قتل کریں گے اور اس طرح پیغمبر اسلام اور اسلام دونوں کا مکمل طور پر قلع قمع ہوجائے گا وغیرذٰلِکَ یہ مطلب اس صورت میں ہے۔ جب (وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ 46 ۔ ) 14 ۔ ابراھیم :46) میں ان کو شرطیہ سمجھا جائے اور بعض مفسرین نے یہاں ان کو نافیہ سمجھا ہے اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوگا کہ ان کی چالیں کوئی ایسی تو نہ تھیں کہ ان سے پہاڑ ٹل جاتے۔ یعنی اللہ کی چال کے مقابلہ میں انکی چالوں کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اللہ کی تدبیر ہی ایسی مستحکم ہوتی ہے کہ اس سے پہاڑ بھی ٹل جاتے ہیں۔ ناممکن باتیں بھی ممکن بن جاتی ہیں۔ اور بعض مفسرین ان الفاظ کو صرف قریش مکہ تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ ان الفاظ سے تمام سرکش اقوام مراد لیتے ہیں جنہوں نے نہایت مضبوط اور بلند وبالا عمارتیں تعمیر کر رکھی تھیں کہ اللہ کا عذاب آئے بھی تو وہ محفوظ رہ سکیں۔ پہاڑ ٹل جائیں تو ٹل جائیں مگر ان کی تدبیریں ناکام نہ ہوں۔ مگر جب عذاب آیا تو تباہ و برباد ہوگئے پھر تم ان سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ ۔۔ : یعنی ان پہلے کفار اور موجودہ کفار نے اپنے انبیاء اور اہل ایمان کے خلاف اپنی زیادہ سے زیادہ اور خطرناک سے خطرناک جو بھی خفیہ تدبیر اور سازش وہ کرسکتے تھے کی۔ ” عِنْدَ اللہِ مَکْرُھُم “ سے یہی مراد ہے اور اللہ کو ان کی ہر سازش کا علم تھا۔ اس آیت کے تحت تفسیروں میں نمرود کا قصہ بھی ذکر کردیا گیا ہے جو صحت کے ساتھ ثابت نہیں۔ (رازی) وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ : یہ ” اِنْ “ نافیہ (یعنی نہیں کے معنی میں) ہے، اس کے بعد لام پر کسرہ ہے، اسے لام جحد کہتے ہیں جو نفی کی تاکید کے لیے آتا ہے اور اس کے بعد فعل مضارع ” أَنْ “ کے ساتھ منصوب ہوتا ہے جو لام جحد کے بعد وجوباً محذوف ہوتا ہے۔ عام قراءت یہی ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ ” ان کی تدبیر ہرگز ایسی نہ تھی کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں “ یعنی اللہ کا دین جو پہاڑوں کی طرح مستحکم ہے ان کی سازشیں کسی صورت اسے نقصان نہ پہنچا سکتی تھیں۔ کسائی کی قراءت اس سے مختلف ہے، وہ ” لِتَزُوْلَ “ کو لام کے فتح کے ساتھ اور ” تَزُوْلُ “ کو مرفوع پڑھتے ہیں۔ اس صورت میں ” وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ “ میں ” اِن “ ”إِنَّہُ “ کا (یعنی حرف مشبہ بالفعل ”إِنَّ “ اور اس کے اسم ضمیر شان ” ہٗ “ کا قائم مقام) مخفف ہے اور ” لَتَزُوْلُ “ میں لام ابتدا تاکید کے لیے ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ یقیناً ان کی تدبیر اور سازش ایسی خطرناک اور شدید خوف ناک تھی کہ پہاڑ بھی (اگر کسی طرح اپنی جگہ سے ٹل سکتے تو) ان سازشوں سے ضرور ہی ٹل جاتے۔ یاد رہے کہ یہ ترجمہ ” لَتَزُوْلُ “ یعنی لام ابتدا مفتوح اور آخری لام مرفوع پڑھنے کی صورت میں ہوگا، پہلی قراءت (یعنی پہلا لام مکسور اور آخری منصوب) کا یہ ترجمہ اگر کوئی کرلے تو وہ درست نہیں ہوگا۔ معنوی طور پر دوسری قراءت بھی بہت عمدہ ہے اور پہلی بھی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Said in verse 46 was: وَقَدْ مَكَرُ‌وا مَكْرَ‌هُمْ وَعِندَ اللَّـهِ مَكْرُ‌هُمْ وَإِن كَانَ مَكْرُ‌هُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ And they worked out their plot and whatever they plot is be-fore Allah, even though their plot is such as would move the mountains. Which can be explained further by saying that those people tried to de¬molish the true faith and put in action their deadliest plans to bring harm to Muslims who had embraced the call of truth. But, all plans made by them, open or concealed, lie exposed before Allah Ta’ ala who is fully aware of them, and comprehensively capable of foiling them - even though, their plots were so precise and lethal that they would have made mountains back out from their place, but finally, nothing worked before the perfect power of Allah Ta’ ala. The hostile plots and plans mentioned here may possibly mean the plots and plans made by people destroyed in the past, for example, Nimrud, Pharaoh, the people of ` Ad and Thamud and others. And it is also possible that the text is referring to the Mushriks of Arabia who hatched many deep-seated and far-reaching conspiracies against the Holy (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، but they were all foiled by Allah Ta` ala. There are a good many commentators who have taken the word: (in) appearing in وَإِن كَانَ مَكْرُ‌هُمْ (even though their plot) as a particle of ne¬gation and explain the verse to mean that &though they made many plots but it was not possible for their plots to make mountains move away from their place - and the mountain here means the high determination of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) which remained totally unaffected by any of the moves made by the disbelievers.

وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ ۭ وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَال یعنی ان لوگوں نے دین حق مٹانے اور دعوت حق قبول کرنے والے مسلمانوں کو ستانے اور ایذاء پہونچانے کے لئے بھر پور تدبیریں کیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس ان کی سب کھلی اور چھپی ہوئی تدبیریں سامنے موجود ہیں وہ سب سے واقف اور ان کو ناکام بنا دینے پر قادر ہیں اگرچہ ان کی تدبیریں ایسی عظیم اور سخت تھیں کہ ان کے مقابلہ پر پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے سامنے یہ ساری تدبیریں گرد اور ناکام ہو کر رہ گئیں۔ جن مخالفانہ تدبیروں کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد پچھلی ہلاک شدہ قوموں کی تدبیریں ہوں مثلا نمرود، فرعون، قوم عاد وثمود وغیرہ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں موجودہ مشرکین عرب کا حال بیان کیا گیا ہو کہ انہوں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلہ میں بڑی گہری اور دور رس سازشیں اور تدبیریں کیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ناکام بنادیا۔ اور اکثر مفسرین نے وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ میں لفظ ان کو حرف نفی قرار دے کر یہ معنی کئے ہیں کہ اگرچہ انہوں نے بہت سی تدبیریں کیں اور چالیں چلیں لیکن ان کی تدبیروں اور چالوں سے یہ ممکن نہ تھا کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں اور پہاڑ سے مراد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کا عزم و استقلال ہے کہ کفار کی کوئی چال اس پر اثر انداز نہیں ہوسکی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ ۭ وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ 46؁ مكر المَكْرُ : صرف الغیر عمّا يقصده بحیلة، وذلک ضربان : مکر محمود، وذلک أن يتحرّى بذلک فعل جمیل، وعلی ذلک قال : وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] . و مذموم، وهو أن يتحرّى به فعل قبیح، قال تعالی: وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] ( م ک ر ) المکر ک ے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں یہ دو قسم پر ہے ( 1) اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے ورنہ مذموم چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] اور خدا خوب چال چلنے والا ہے ۔ پہلے معنی پر محمول ہے ۔ اور دوسرے معنی کے متعلق فرمایا : ۔ وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے پر ہی پڑتا ہے : زال زَالَ الشیء يَزُولُ زَوَالًا : فارق طریقته جانحا عنه، وقیل : أَزَلْتُهُ ، وزَوَّلْتُهُ ، قال : إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّماواتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولا [ فاطر/ 41] زول زال الشئ یزول زوالا کسی چیز کا اپنا صحیح رخ چھوڑ کر ایک جانب مائل ہونا ( اپنی جگہ سے ہٹ کر جانا اور ازلتہ وزولتہ کے معنی ہیں ایک جانب مائل کردینا ۔ کسی چیز کو اس کو اس کی جگہ سے ہٹا دینا ۔ قرآن میں ہے : إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّماواتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولا [ فاطر/ 41] جبل الجَبَل جمعه : أَجْبَال وجِبَال، وقال عزّ وجل : أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] ( ج ب ل ) قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا |" ۔ اور پہاڑوں کو ( اس کی میخیں ) نہیں ٹھہرایا ؟

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٦) اور ان لوگوں نے رسولوں کو جھٹلانے میں بہت بڑی بڑی تدبیریں کی تھیں اور ان کی ان تدبیروں کی سزا اللہ تعالیٰ کے سامنے تھی اور ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٦ (وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ ) اے قریش مکہ ! جس طرح آج تم ہمارے نبی کے خلاف اپنی چالیں چل رہے ہو اسی طرح تم سے پہلے والے لوگوں نے بھی کچھ کمی نہیں کی تھی۔ جہاں تک ان کا بس چلا تھا انہوں نے اپنی چالیں چلی تھیں۔ قوم نوح ‘ قوم ہود ‘ قوم صالح اور قوم لوط کے سرداروں نے اپنے رسولوں کے خلاف جو کچھ کیا اور جو کچھ کہا اس کی تفصیلات ہم تمہیں سنا چکے ہیں۔ اور قوم شعیب کے سرداروں کی مجبوری کا ذکر بھی ہم کرچکے ہیں جو تم لوگوں کی مجبوری سے ملتی جلتی تھی۔ یعنی ان کا بےچارگی سے یہ کہنا کہ اگر تمہارا قبیلہ تمہاری پشت پر نہ ہوتا تو ہم اب تک تمہیں سنگسار کرچکے ہوتے۔ چناچہ ہمارے لیے اور ہمارے نبی کے لیے تمہاری یہ چالیں ‘ یہ سازشیں اور یہ ریشہ دوانیاں کوئی انہونی نہیں ہیں۔ البتہ تم لوگ اپنی پیشرو اقوام کے واقعات کے آئینے میں اپنے مستقبل اور انجام کی جھلک دیکھنا چاہوتو صاف دیکھ سکتے ہو۔ تم لوگ اندازہ کرسکتے ہو کہ تم سے پہلے ان مشرکین حق کی چالیں کس حد تک کامیاب ہوئیں اور تم تجزیہ کرسکتے ہو کہ ہر بار حق و باطل کی کش مکش کا آخری نتیجہ کیا نکلا۔ (وَعِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ ۭ وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ ) اللہ تعالیٰ ان کی تمام چالوں کا احاطہ کیے ہوئے تھا اور یہ ممکن نہیں تھا کہ اللہ کی مرضی اور مشیت کے خلاف ان کا کوئی منصوبہ کامیاب ہوجاتا۔ بہر حال ان کی چالیں اور منصوبہ بندیاں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کچھ ایسی نہیں تھیں کہ ان کے سبب پہاڑ اپنی جگہ بدلنے پر مجبور ہوجاتے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

55. That is, you have seen that the former people who violated the divine law, and who opposed the message, devised very effective and cunning schemes to avert the consequences of their iniquity, but Allah defeated them with His single counter device. You did not give up your crafty schemes against the message of truth in the vain hope that your strong measures would succeed where the schemes of your predecessors had failed.

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :55 یعنی تم یہ بھی دیکھ چکے تھے کہ تمہاری پیش رو قوموں نے قوانین الہٰی کی خلاف ورزی کے نتائج سے بچنے اور انبیاء علیہم السلام کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے کیسی کیسی زبردست چالیں چلیں ، اور یہ بھی دیکھ چکے تھے کہ اللہ کی ایک ہی چال سے وہ کس طرح مات کھا گئے ۔ مگر پھر بھی تم حق کے خلاف چالبازیاں کر نے سے باز نہ آئے اور یہی سمجھتے رہے کہ تمہاری چالیں ضرور کامیاب ہوں گی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٧۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اپنے رسول برحق کو خطاب کر کے مسلمانوں کو یہ سمجھایا ہے کہ یہ گمان نہ کرو کہ اللہ نے جو تم سے وعدہ کیا ہے کہ تمہاری مدد کروں گا اور کفار پر تمہیں غلبہ دوں گا دین حق کو پھیلا دوں گا تو وہ اس کو پورا نہیں کرے گا کیونکہ خدا کسی سے جھوٹا وعدہ نہیں کرتا ہے پھر وہ اپنے رسول سے کیوں کر جھوٹا وعدہ کرے گا غرض کہ اللہ نے مسلمانوں کی یہ تسکین و تسلی کی ہے کہ تم اطمینان رکھو جو تم سے وعدہ کیا ہے وہ پورا کروں گا اور ان کافروں کے ساتھ بھی نہایت انصاف سے فیصلہ کردوں گا کیوں کہ خدا سب پر غالب ہے اس سے بڑھ کر کوئی بدلہ لینے والا نہیں ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں دو جگہ { ولا تحسبن اللہ } جو فرمایا ہے اس سے ان مسلمانوں کی تسکین مقصود ہے جو مشرکوں کے ستائے سے گھبرا کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی شکایت اور مشرکوں کے حق میں بددعا کرنے کی آپ سے خواہش کرتے تھے چناچہ صحیح بخاری میں خباب ابن الارت کی حدیث ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشرکوں کے ستانے کی شکایت اور مشرکوں کے حق میں بددعا کرنے کی خواہش کی تو آپ نے فرمایا گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ اسلام کی مدد کے وعدہ کو ضرور پورا کرے گا۔ مشرک لوگ جس قدر تم کمزور مسلمانوں کو ستاتے ہیں یہ تو کچھ بھی نہیں ہے تم سے پہلے نیک لوگوں کو مخالفوں کے ہاتھ سے اس سے بھی زیادہ تکلیفیں پہنچی ہیں۔ یہاں تک کہ بعضے نیک لوگ پہلے زمانے میں آروں سے چیرے ١ ؎ گئے ہیں غرض { ولا تحسین اللہ } کی صحیح حدیث گویا تفسیر ہے جس سے رسول مقبول کو اس خطاب سے یاد فرمانے اور مخاطب ٹھہرانے کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث ایک ٢ ؎ جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو بالکل ہلاک کردیتا ہے یہ حدیث { ان اللہ عزیز ذوانتقام } کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا اس نے مکہ کے نافرمان سر کشوں کو مہلت دی اور پھر بدر کی لڑائی کے وقت جب پکڑا تو ان سرکشوں کی ساری سرکشی خاک میں مل گئی چناچہ اس کی تفصیل انس بن مالک (رض) کی صحیح روایتوں کے حوالہ سے اوپر گزر چکی ٣ ؎ ہے۔ اس کے بعد اپنی مدد سے مکہ کو فتح کرادیا جس سے باقی کے اہل مکہ اسلام کے مددگار بن گئے۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ١٠٢٧ ج ٢ کتاب الاکراہ۔ ٢ ؎ تفسر ہذا ٢٠٥۔ ٢٢٤۔ ٢٣٥۔ ٣ ؎ جلد ہذا ٢٠٢۔ ٢٠٨۔ ٢٢٤۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(14:46) مکروا مکرہم۔ انہوں نے اپنی چالیں چلیں۔ اس میں ہم ضمیر فاعل کا مرجع یا تو الذین ظلموا انفسہم ہے۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اور جن کے مساکن میں تم آباد رہے۔ یا اس کا مرجع کفار قریش ہیں جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف گھنبیر چالیں چلیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے واذ یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک او او یقتلوک او یخرجوک۔ (8:30) اور یاد کرو جب خفیہ تدبیریں کر رہے تھے آپ کے بارہ میں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا تاکہ آپ کو قید کردیں۔ یا آپ کو شہید کردیں یا آپ کو جلا وطن کردیں لیکن صورت اول زیادہ صحیح ہے۔ وعند اللہ مکرہم۔ اللہ تعالیٰ سے ان کی یہ چالیں مخفی نہ تھیں سب کی سب اس کے علم میں تھیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کے مکر کا توڑ تھا۔ عندہ جزاء مکرہم وابطالا لہ۔ (مظہری) ۔ تزول۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ اپنی جگہ سے ٹل جائے۔ وہ اپنے مقام سے ہل جائے زال یزول زوال (باب نصر) سے۔ ان ۔ کی دو صورتیں ہیں (1) یہ ان مخففہ ہے جو ان ثقیلہ سے مخفف ہو کر ان بن گیا۔ اور یہ تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا : اور واقعی ان کی چالیں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔ (2) ان نافیہ ہے اور لام تاکید نفی کے لئے آیا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اور نہیں تھیں ان کی چالیں کہ ان سے پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ یعنی اپنی کتابوں میں اور اپنے پیغمبروں کی زبان پر۔ 3 ۔ یعنی حق کو دبانے اور باطل کو سربلند کرنے کے لئے انہوں نے کوئی سازش اور تدبیر اٹھا نہ رکھی۔ اس آیت کے تحت تفسیروں میں نمرود کا قصہ بھی ذکر کردیا گیا ہے جو صحت کے ساتھ ثابت نہیں ہے۔ (رازی) ۔ 4 ۔ پھر بھی اللہ تعالیٰ کے دائوں کے سامنے اس کا کوئی اثر نہ ہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وان کان مکرھم میں “ ان “ نفی کے معنی میں ہو۔ یعنی ان کا مکر اتنا مضبوط نہ تھا کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جاتے۔ اس صورت میں ” الجبال “ سے مراد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دین اور شریعت کے دلائل ہیں۔ (رازی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٤٦ اللہ ان کو بھی گھیرے ہوئے ہے اور ان کی مکاری بھی اللہ کے دائرہ قدرت میں ہے اگرچہ ان کی تدابیر اس قدر سخت اور شدید ہوں کہ ان کے ذریعہ پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے ہٹایا جاسکتا ہو۔ ظاہر ہے کہ کسی پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹانے کے لئے بہت بڑی قوت کی ضرورت ہے اور اس کا انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اگرچہ یہ بہت بڑے بڑے مکر اور فریب کرتے ہیں لیکن ان کا کوئی فریب اللہ کے دائرہ قدرت سے باہر نہیں ہے بلکہ اللہ جس طرح چاہے وہ ان کی مکاریوں کو ختم کرسکتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَقَدْ مَکَرُوْا مَکْرَھُمْ ) (الآیۃ) جو لوگ منکرین اور معاندین تھے جب انبیاء کرام (علیہ السلام) انہیں ایمان کی دعوت دیتے تھے تو نہ صرف یہ کہ جھٹلاتے تھے بلکہ ان کی دعوت کو دبانے کے لیے طرح طرح کی تدبیریں کرتے تھے راہ حق سے لوگوں کو روکتے تھے اور اس سلسلہ میں جان اور مال خرچ کرتے تھے ان کی یہ تدبیریں ایسی تھیں جن کی وجہ سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل سکتے تھے اللہ تعالیٰ کو ان کی تدبیروں کا پورا پورا علم تھا ان کی تدبیریں نیست و نابود ہوئیں اور مکذبین و معاندین ہلاک اور برباد ہوئے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

43:۔ مشرکین نے اسلام کو مٹانے اور کفر و شرک کو فروگ دینے کے لیے اپنی پوری قوت سے بڑے عظیم پروگرام بنائے ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے ان پروگراموں اور ان خفیہ تدبیروں سے اسلام کو دنیا سے نیست و نابود کردیں گے ” قد مکروا فی ابطال الحق و تقریر الباطل مکرھم العظیم الذی استفرغوا فی عملہ المجھود الخ “ (ابو السعود ج 5 ص 363) ” وَ عِنْدَ اللہِ مَکْرُھُمْ “ لیکن اللہ تعالیٰ کو ان کی تمام خفیہ تدبیروں اور سازشوں کا پورا پورا علم ہے اس لیے ان کی کوئی تدبیر کامیاب نہ ہوسکی اور ” وَ اِنْ کَانَ مَکْرُھُمْ الخ “ اِنْ مخففہ من المثقلہ ہے۔ ای انہ کان الخ۔ حالانکہ مشرکین کے اپنے اندازے کے مطابق ان کی سکیمیں اور تدبیریں ایسی محکم اور مکمل تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہل جائیں یا اِنْ نافیہ ہے اس صورت میں ان کے مکر کا ضعف بیان کرنا مقصود ہوگا۔ یعنی ان کی تدبیر کوئی پختہ نہ تھی کہ اس سے پہاڑ ہل جائیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

46 ۔ اور ان سابقہ لوگوں نے دین حق کو مٹانے میں بڑی بڑی تدبیریں کیں اور بڑی بڑ ی چالیں چلی تھیں ان سب کی تدبیریں اور چالیں اللہ تعالیٰ کے سامنے تھیں اور ان سب چالوں کا بدلہ اللہ کے ہاں موجود ہے اور ان کی تدبیریں اور چالیں اس لائق نہ تھیں کہ ان سے پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں ۔ یعنی وہ لوگ بڑی چال باز اور بڑے دائوں پیچ کرنے والے تھے اور ان کے مکرو فریب سب خدا کے سامنے تھے یا ان سب فریب کاریوں کا بدلہ اور جزا اللہ تعالیٰ کے پاس تھی باوجود اس کے بھی وہ دین حق اور پیغمبروں کو جو پہاڑوں کی طرح مستقل تھے اپنی جگہ سے نہ ہٹا سکے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مکہ کے لوگوں نے کئی تدبیریں ٹھہرائی تھیں حضرت (علیہ السلام) کو سب مل کر قتل کریں یا قید کریں یا آپس سے نکال دیں اسی کو فرمایا ۔ 12 ہو سکتا ہے کہ ا ن نافیہ نہ ہو اور مطلب یہ ہو کہ ان اگلے لوگوں کی چالیں ایسی تھیں اور ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جاتے لیکن ہوا یہ کہ دین حق ان کی چالوں پر غالب ہوا اور پیغمبروں کی بات دور رہی ۔