Surat ul Hijir

Surah: 15

Verse: 3

سورة الحجر

ذَرۡہُمۡ یَاۡکُلُوۡا وَ یَتَمَتَّعُوۡا وَ یُلۡہِہِمُ الۡاَمَلُ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳﴾

Let them eat and enjoy themselves and be diverted by [false] hope, for they are going to know.

آپ انہیں کھاتا نفع اٹھاتا اور ( جھوٹی ) امیدوں میں مشغول ہوتا چھوڑ دیجئیے یہ خود بھی جان لیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

ذَرْهُمْ يَأْكُلُواْ وَيَتَمَتَّعُواْ ... Leave them to eat and enjoy, this is a stern and definitive threat for them, like His saying, قُلْ تَمَتَّعُواْ فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ Say: "Enjoy your brief life! But certainly, your destination is the Fire!" (14:30) كُلُواْ وَتَمَتَّعُواْ قَلِيلً إِنَّكُمْ مُّجْرِمُونَ (O disbelievers!) Eat and enjoy yourselves (in this worldly life) for a little while. Verily, you are the guilty. (77:46) Allah says: ... وَيُلْهِهِمُ الاَمَلُ ... let them be preoccupied with false hope. i.e., distracted from repentance and turning to Allah, for, ... فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ They will soon come to know! that is, their punishment.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 یہ تہدید و تو یخ ہے کہ کافر و مشرک اپنے کفر و شرک سے باز نہیں آ رہے ہیں تو انھیں چھوڑ دیجئے یہ دنیاوی لذتوں سے محفوظ ہولیں اور اپنی امیدیں برلائیں۔ عنقریب انھیں اپنے کفر و شرک کا انجام معلوم ہوجائے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا وَيُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ ۝: ” ذَرْ “ مثال واوی سے فعل امر ہے، اس کا صرف امر اور مضارع استعمال ہوتا ہے، اس کے باقی صیغوں کی جگہ ” تَرَکَ “ کے مشتقات استعمال ہوتے ہیں۔ ” وَيُلْهِهِمُ “ ” لَھْوٌ“ سے باب افعال کا مضارع ” یُلْھِیْ “ ہے جو ” ذَرْ “ کا جواب ہونے کی و جہ سے یا لام امر مقدر ہونے کی و جہ سے مجزوم ہے، اس کی ” یاء “ اور ” يَاْكُلُوْا “ اور ” وَيَتَمَتَّعُوْا “ کا نون بھی اسی و جہ سے گرگئے ہیں۔ یہ سارے امر انھیں ڈانٹنے کے لیے ہیں، یہ نہیں کہ انھیں اجازت دی جا رہی ہے۔ اس معنی کی آیات کے لیے دیکھیے سورة مرسلات ( ٤٦) ، سورة زخرف ( ٨٣) اور سورة طور (٤٥) وغیرہ۔” يَاْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا “ سے معلوم ہوا کہ کفار کی زندگی کا مقصد ہی بس یہ ہے۔ ” الْاَمَلُ “ امید، کسی چیز کے حصول کی آرزو، عموماً جس کا حصول بعید ہو۔ وَيُلْهِهِمُ الْاَمَلُ : ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں : ( أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَرَزَ بَیْنَ یَدَیْہِ غَرَزًا ثُمَّ غَرَزَ إِلٰی جَنْبِہٖ آخَرَ ثُمَّ غَرَزَ الثَّالِثَ فَأَبْعَدَہٗ ، ثُمَّ قَالَ ھَلْ تَدْرُوْنَ مَا ھٰذَا ؟ قَالُوْا اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ أَعْلَمُ ، قَالَ ھٰذَا الإِْنْسَانُ وَھٰذَا أَجَلُہُ وَھٰذَا أَمَلُہُ یَتَعَاطَی الْأَمَلَ یَخْتَلِجُہُ دُوْنَ ذٰلِکَ )[ مسند أحمد : ٣؍١٨، ح : ١١١٣٨، إسنادہ جید ] ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے آگے ایک لکڑی گاڑی، پھر ایک اس کے پہلو میں گاڑی، پھر تیسری اس سے دور گاڑی، پھر فرمایا : ” کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : ” اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ “ فرمایا : ” یہ انسان ہے اور یہ اس کی اجل (موت) ہے اور وہ اس کی آرزو ہے۔ وہ آرزو حاصل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اس کے حصول سے پہلے اس کے راستے میں اجل رکاوٹ بن جاتی ہے۔ “ عبداللہ بن عمرو (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں : ( صَلاَحُ أَوَّلِ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بالزُّھْدِ وَالْیَقِیْنِ وَیُھْلَکُ آخِرُھَا بالْبُخْلِ وَالْأَمَلِ ) [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : ١٥؍٣، ح : ٣٤٢٧ ]” اس امت کے اول کی درستگی زہد اور یقین کے ساتھ ہے اور اس کا آخری حصہ بخل اور امل (امید) کے ساتھ ہلاک ہوگا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary From: ذَرْ‌هُمْ يَأْكُلُوا (Let them eat ...3) we can see that the making of eating and drinking the real occupation and aim of life, and keeping glued to long-drawn material plans while surrounded by countless things of worldly comfort, and becoming totally heedless to death, is so¬mething which can be done only by the disbelievers. The reason is that they do not believe in the &Akhirah, the life to come, and the accounting of deeds there, and the reward and punishment for it. As for eating and drinking, a believer does it too, and takes care of economic needs to the measure of necessity, and makes future plans for occupation and busi¬ness as well. But, a believer would not make all these efforts by forget-ting death and ignoring the concern for &Akhirah. Therefore, he is careful about everything he does and finds out whether it is Halal or Haram, permissible or forbidden. Then, he does not occupy himself in the making of wasteful or unnecessary plans and projections, as hobby or compul¬sion. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Four things are signs of being unfortu¬nate: (1) Not being able to shed tears (that is, not being in tears when ashamed of acts of negligence and sin); (2) and hard-heartedness; (3) fan¬ciful hopes and plans for the future; (4) and the greed for worldly things. (Qurtubi from Musnad al-Bazzar from Sayyidna Anas (رض) And the expression: يُلْهِهِمُ الْأَمَلُ &let (their) fancy make them neglectful& means the making of long-drawn plans with engrossing love, and the greed for the material without any concern for death and &Akhirah. (Qurtubi). As for plans made to achieve religious objectives, or those made to guard the future interests of a people or country, they are not included here - because, that is a form of the concern for &Akhirah itself. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The first set of people from this Ummah will have their salvation because of their perfect faith, and avoidance of the pursuit of the material (dunya); and the later people of the Ummah will be destroyed because of miserliness, and fancies projected too far. It has been reported from Sayyidna Abu Ad-Darda& (رض) that he stood up on the Mimbar of Jami& Masjid of Damascus and said: &0 people of Damascus, would you listen to what this well-wish¬ing brother of yours has to say? So, listen to me. There have been big people before you who made big money, collected gold and things, built magnificent palaces and made long-hauled plans and projections for the future. Today they are dust. Their residences are their graves. And all their long winded hopes and plans have proved to be no more than a web of deception. Close to you lived the people of ` Ad who had stuffed their coun¬try with their fighting men, wealth, means, possessions, arms and horses. Is there someone around who would be ready to buy what they left behind as their legacy for two silver dir¬hams from me?& Imam Al-Hasan Al-Basri (رح) said: A person with long plans, hopes and fancies is bound to ruin his proper conduct in life. (Al-Qurtubi)

معارف و مسائل : ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا الخ سے معلوم ہوا کہ کھانے پینے کو مقصد اور اصلی مشغلہ بنا لینا اور دنیاوی عیش و عشرت کے سامان میں موت سے بےفکر ہو کر طویل منصوبوں میں لگے رہنا کفار ہی سے ہوسکتا ہے جن کا آخرت اور اس کے حساب و کتاب اور جزا وسزا پر ایمان نہیں مومن بھی کھاتا پیتا ہے اور معاش کا بقدر ضرورت سامان کرتا ہے اور آئندہ کاروبار کے منصوبے بھی بناتا ہے مگر موت اور فکر آخرت سے غافل ہو کر یہ کام نہیں کرتا اسی لئے ہر کام میں حلال و حرام کی فکر رہتی ہے اور فضول منصوبہ بندی کو مشغلہ نہیں بناتا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ چار چیزیں بدبختی اور بدنصیبی کی علامت ہیں آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہونا (یعنی اپنے گناہوں، غفلتوں پر نادم ہو کر نہ رونا) اور سخت دلی، طول امل اور دنیا کی حرص (قرطبی عن مسند البزار عن انس ) اور طول امل کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی محبت اور حرص میں انہماک اور موت و آخرت سے بےفکری کے ساتھ دور دراز کے منصوبے بنائے جائیں (قرطبی) جو منصوبے دینی مقاصد کے لئے یا کسی قوم و ملک کے آئندہ مفاد کے لئے بنائے جاتے ہیں وہ اس میں داخل نہیں کیونکہ وہ فکر آخرت ہی کی ایک صورت ہے۔ اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس امت کے پہلے طبقہ کی نجات ایمان کامل اور دنیا سے اعراض کی وجہ سے ہوگی اور آخری امت کے لوگ بخل اور طول امل کی وجہ سے ہلاک ہوں گے اور حضرت ابو الدرداء (رض) سے منقول ہے کہ وہ جامع مسجد دمشق کے منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا اے اہل دمشق کیا تم اپنے ایک ہمدرد خیر خواہ بھائی کی بات سنو گے سن لو کہ تم سے پہلے بہت بڑے بڑے لوگ گذرے ہیں جنہوں نے مال و متاع بہت جمع کیا اور بڑے بڑے شان دار محلات تعمیر کئے اور دور دراز کے طویل منصوبے بنائے آج وہ سب ہلاک ہوچکے ہیں ان کے مکانات ان کی قبریں ہیں اور ان کی طویل امیدیں سب دھوکہ اور فریب ثابت ہوئیں قوم عاد تمہارے قریب تھی جس نے اپنے آدمیوں سے اور ہر طرح کے مال و متاع سے اور اسحلہ اور گھوڑوں سے ملک کو بھر دیا تھا آج کوئی ہے جو ان کی وراثت مجھ سے دو درہم میں خریدنے کو تیار ہوجائے۔ حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ جو شخص اپنی زندگی میں طویل امیدیں باندہتا ہے اس کا عمل ضرور خراب ہوجاتا ہے (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا وَيُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ ۝ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ متع الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی: وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ، ( م ت ع ) المتوع کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے عرصہ دراز تک اس سے فائدہ اٹھایا قران میں ہے : ۔ وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] اور ایک مدت تک ( فوائد دینوی سے ) ان کو بہرہ مندر کھا ۔ لهي أَلْهاهُ كذا . أي : شغله عمّا هو أهمّ إليه . قال تعالی: أَلْهاكُمُ التَّكاثُرُ [ التکاثر/ 1] ، رِجالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ [ النور/ 37] ولیس ذلک نهيا عن التّجارة وکراهية لها، بل هو نهي عن التّهافت فيها والاشتغال عن الصّلوات والعبادات بها . الھاۃ کذا ۔ یعنی اسے فلاں چیز نے اہم کام سے مشغول کردیا ۔ قرآن میں ہے : أَلْهاكُمُ التَّكاثُرُ [ التکاثر/ 1] لوگوتم کو کثرت مال وجاہ واولاد کی خواہش نے غافل کردیا ۔ رِجالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ [ النور/ 37] یعنی ایسے لوگ جن کو خدا کے ذکر سے نہ سود اگر ی غافل کرتی ہے اور نہ خرید وفروخت ۔ اس آیت سے تجارت کی ممانعت یا کرامت بیان کرنا مقصود نہیں ہے ۔ بلکہ اس میں پروانہ دار مشغول ہو کر نماز اور دیگر عبادات سے غافل ہونے کی مذمت کی طرف اشارہ ہے نفس تجارت کو قرآن نے فائدہ مند اور فضل الہی سے تعبیر کیا ہے ۔ الامل ۔ امید۔ توقع۔ امال جمع۔ فاعل۔ یلہہم الامل۔ ان کی ( جھوٹی) امیدان کو غافل بنائے رکھے۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا اور راک کرنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو ان کے حال پر رہنے دیجیے تاکہ وہ خوب کھالیں اور کفر و مال حرام میں خوب مزے اڑا لیں اور لمبی لمبی آرزوئیں ان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غفلت میں ڈالے رکھیں، ان کو مرنے کے وقت اور قبر میں اور پھر قیامت کے دن حقیقت معلوم ہوجاتی ہے کہ ان کو کیا سزا ملے گی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا) زمین میں جو مہلت انہیں ملی ہوئی ہے اس میں خوب مزے کرلیں۔ (وَيُلْهِهِمُ الْاَمَلُ ) اَلْھٰی ‘ یُلْھِی ‘ اِلْھَاءً کے معنی ہیں غافل کردینا۔ سورة التکاثر میں فرمایا گیا : (اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ ۔ حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ) ” غافل کیے رکھا تمہیں کثرت کی خواہش کے مقابلے نے ‘ یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں “۔ انسان کے لمبے لمبے منصوبے بنانے کو ” طولِ اَمل “ کہتے ہیں۔ جب انسان اس گورکھ دھندے میں پڑجائے ‘ تو خواہشوں اور آرزوؤں کا یہ سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا ‘ مگر زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ حدیث نبوی ہے : (مَا قَلَّ وَکَفٰی خَیْرٌ مِمَّا کَثُرَ وَاَلْھٰی ) یعنی اگر کوئی شے کم ہے لیکن آپ کو کفایت کر جائے ‘ آپ کی ضرورت اس سے پوری ہوجائے تو یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو آپ کی ضرورت سے زیادہ ہو اور آپ کو اپنے خالق اور مالک کی یاد سے غافل کر دے۔ اگر مال و دولت کی ریل پیل ہے ‘ رزق اور سامان آسائش کی فراوانی ہے ‘ کبھی کوئی حاجت پریشان نہیں کرتی ‘ کوئی محرومی ‘ کوئی نارسائی اللہ کی یاد تازہ کرنے کا سبب نہیں بنتی ‘ تو ایسی حالت میں رفتہ رفتہ انسان کے بالکل غافل ہوجانے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اس سے بہتر ہے کہ اتنا ملے جس سے ضرورت پوری ہوجائے اور کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرنا پڑے۔ لیکن اس قدر فراوانی نہ ہو کہ غفلت غلبہ پالے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

1: اِس آیت میں قرآنِ کریم نے توجہ دلائی ہے کہ صرف کھانے پینے اور دُنیا میں مزے اُڑانے کو اپنی زندگی کا اصل مقصد بنا لینا اور اسی کے لئے اِس طرح لمبی لمبی خیالی اُمیدیں باندھتے رہنا جیسے زندگی بس یہی ہے۔ یہ کافروں کا کام ہے، مسلمان دُنیا میں رہتا ضرور ہے، اور اُس میں اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں سے فائدہ بھی اُٹھاتا ہے، مگر اس دُنیا کو اپنی زندگی کا مقصد نہیں بناتا، بلکہ اُسے آخرت کی بھلائی کے لئے استعمال کرتا ہے، جس کا بہترین راستہ شریعت کے احکام کی پابندی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣۔ اس سے اوپر کی آیت میں یہ ذکر تھا کہ قیامت کے دن کفار بعضے مسلمان گنہگاروں کو دوزخ سے نکلتے ہوئے دیکھ کر یہ کہیں گے کہ کاش ہم بھی مسلمان ہوتے تو اس وقت یہاں سے نکال لئے جاتے اور ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں نہ رہتے اب اس آیت اللہ تعالیٰ نے حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم فرمایا کہ ان کافروں کو ان کے حال پر چھوڑو اور ان کے پیچھے نہ پڑو کہ خواہی نخواہی یہ ایمان ہی لائیں اور اچھے عمل کریں بت پرستی چھوڑ دیں دین حق کو قبول کریں یہ کبھی راہ راست پر نہیں آئیں گے ان سے کہہ دو کہ دنیا میں جتنا جی چاہے کھا پی لو اور عیش و آرام کرلو اور ہمیشہ جینے کی امید پر بیٹھے رہو آگے جو ہوگا سب تمہیں معلوم ہوجائے گا ابھی تو یہی گمان کرتے رہو کہ ہماری عمر بہت بڑی ہے ہم ابھی کیا مرنے والے ہیں اس آیت میں یہ بات بتلائی گئی ہے کہ دنیا کی لذتوں میں پڑے رہنا اور طول طویل امید پر بیٹھے رہنا ایماندار شخص کے لئے زیبا نہیں ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ میں تم لوگوں پر دو باتوں کا خوف کرتا ہوں طول امل اور خواہش نفس۔ طول امل آخرت کو بھلا دیتی ہے کیوں جو شخص کسی طویل امید پر بیٹھا ہوگا اس کے دل میں کبھی یہ بات نہ گزرے گی کہ ہم جلد مریں گے اور جب مرنے کا خیال نہ آئے گا تو وہ آخرت کی یاد کو بھول جائے گا۔ اور خواہش نفس حق سے روک دیتی ہے بھلے برے کی تمیز جاتی رہتی ہے۔ صحیح بخاری، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور صحیح ابن حبان میں عبد اللہ بن مسعود اور انس بن مالک (رض) سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن ایک چھوٹی اور دوسری بڑی لکیر کھینچ کر یہ فرمایا کہ چھوٹی لکیر آدمی کی عمر کی ہے اور بڑی لکیر اس کی بڑی بڑی دنیا کی امیدیں ہیں ایک دن اس کی عمر ختم ہوجاوے گی اور یہ بڑی بڑی امیدیں یوں ہی نا تمام رہ جائیں گی۔ ١ ؎۔ اس صحیح حدیث سے حضرت علی (رض) کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے اور حدیث کو حضرت علی (رض) کے قول کے ساتھ ملا کر { ویلھھم الامل } کی تفسیر کی جاسکتی ہے۔ صحیح کے حوالہ سے انس بن مالک (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ بڑے بڑے مالدار دوزخیوں سے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کے بعد فرشتے پوچھیں گے کہ دنیا کے جس عیش و آرام نے تم کو عقبیٰ سے غافل رکھا اس عذاب کے آگے وہ عیش و آرام تم کو کچھ یاد ہے وہ لوگ قسم کھا کر کہویں گے کہ نہیں۔ ٢ ؎ یہ حدیث کا ٹکڑا { فسوف یعلمون } کی گویا تفسیر ہے۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ٩٤٩ ج ٢ باب فی الامل وطولہ ومشکوٰۃ باب الامل واحرص۔ ٢ ؎ مشکوٰۃ ص ٥٠٢ باب صفتہ النار واطہار۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(15:3) ذرہم۔ امر واحد مذکر حاصر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان کو چھوڑ دے تو ان کو رہنے دے۔ یأکلوا ویتمتعوا۔ مضارع مجزوم بوجہ جو اب امر ہیں یا یہ جائز ہے کہ ان سے پہلے لام مقدرہو۔ یتمتعوا۔ مضارع مخبروم ۔ جمع مذکر غائب۔ مزے اڑالیں۔ عیش کرلیں۔ یلہہم۔ مضارع مجزوم بوجہ متذکرہ بالا۔ واحد مذکر غائب۔ الھی یلھی الھاء (افعال) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ان کو بھلائے رکھے۔ ان کو غافل بنائے رکھے۔ الامل۔ امید۔ توقع۔ امال جمع۔ فاعل۔ یلہہم الامل۔ ان کی (جھوٹی) ا میدان کو غافل بنائے رکھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ کہ وہ کس غلط روش پر چل رہے تھے اور یہ کہ انہوں نے دعوت حق کو ٹھکرا کر کسی اور کا نہیں خود اپنا ہی نقصان کیا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (ذَرْھُمْ یَاْکُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا) کہ آپ ان کو چھوڑئیے یعنی ان کی طرف سے رنجیدہ نہ ہویئے انہیں اسلام قبول نہیں کرنا وہ آپ کی دعوت پر لبیک کہنے والے نہیں ہیں یہ لوگ دنیا میں مشغول ہیں کھنا پینا اور دوسری چیزوں سے متمتع ہونا یہی ان کی زندگی ہے موت کے بعد کے حالات کی طرف سے غافل ہیں اور بڑی بڑی آرزوئیں باندھ رکھی ہیں ان آرزوؤں نے انہیں آخرت سے غافل کر رکھا ہے ان حالات میں جس قدر بھی آگے بڑھیں گے مزید عذاب در عذاب کے مستحق ہوتے چلے جائیں گے اسی کو فرمایا (فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ) کہ یہ لوگ عنقریب جان لیں گے یعنی ان کے اعمال اور افعال کا نتیجہ سامنے آجائے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

4:۔ مقصود اصلی بیان کرنے کے بعد ” و ما یستاخرون “ تک زجر اور تخویف دنیوی کا زکر کیا گیا کہ اس کا تعلق سورة ابراہیم کے دعوے سے ہے یعنی ان کو وقائع امم سابقہ سناؤ تاکہ وہ ان سے ڈر کر شرک سے توبہ کرلیں۔ اب تخویف دنیوی سنائی گئی کہ اچھا اگر وہ ان وقائع سے عبرت حاصل نہیں کرتے اور ضد وعناد پر اڑے ہوئے ہیں تو انہیں ان کے حال پر چھور دو وہ دنیوی ساز و سامان اور انواع اکل و شرب سے خوب فائدہ اٹھا لیں اور باطل امیدوں میں ڈوب کر حق سے خوب غافل ہو لیں جب اچانک ہمارا عذاب ان کو آلیگا۔ تو انہیں حقیقت حال معلوم ہوجائے گی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

3 ۔ اے پیغمبر ! آپ ان کے حال پر چھوڑ دیجئے تا کہ خوب کھائیں اور دنیا کا چند روزہ فائدہ حاصل کریں اور ان کو ان کی خیالی امید الجھائے رکھے ان کو تھوڑے ہی دنوں میں سب حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے اور عنقریب ان کو معلوم ہوا جاتا ہے۔ یعنی یہ لوگ چونکہ آخرت سے غافل ہیں اور ہدایت قبول نہ کرنے میں انتہائی سخت ہیں اس لئے ان کو ان کے حال پر چھوڑیئے یہ خوب کھا پی لیں اور دنیا کے عارضی منافع حاصل کرلیں اور یہاں کے ساز و سامان برت لیں اور محض خیالی لمبی لمبی امیدیں ان کو مشغول رکھیں اور انہیں لغو اور بےمنی امیدوں میں الجھے رہیں پھر بچ کر کہاں جائیں گے دم نکلتے ہی حق و باطل ان پر آشکارا ہوجائے گا اور ان کو کفر و شرک کی حقیقت معلوم ہو جائیگی۔