Surat ul Hijir

Surah: 15

Verse: 30

سورة الحجر

فَسَجَدَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴿ۙ۳۰﴾

So the angels prostrated - all of them entirely,

چناچہ تمام فرشتوں نے سب کے سب نے سجدہ کر لیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى أَن يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَسَجَدَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ 30؀ۙ ملك ( فرشته) وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] ( م ل ک ) الملک الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے ملک سے مشتق مانا ہے اور کہا ہے کہ جو فرشتہ کائنات کا انتظام کرتا ہے اسے فتحہ لام کے ساتھ ملک کہا جاتا ہے اور انسان کو ملک ہیں معلوم ہوا کہ ملک تو ملا ئکۃ میں ہے لیکن کل ملا ئکۃ ملک نہیں ہو بلکہ ملک کا لفظ فرشتوں پر بولا جاتا ہے کی طرف کہ آیات ۔ وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آئیں گے ۔ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] اور ان باتوں کے بھی پیچھے لگ گئے جو دو فرشتوں پر اتری تھیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٠۔ ٣١) چناچہ سب فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا مگر ابلیس نے اس بات کو پسند نہ کیا یعنی وہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٠ (فَسَجَدَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ ) کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ میں بہت تاکید پائی جاتی ہے کہ سب کے سب نے اکٹھے ہو کر سجدہ کیا ‘ اور ان میں سے کوئی بھی مستثنیٰ نہ رہا۔ جبرائیل ‘ میکائیل ‘ اسرافیل ‘ عزرائیل سمیت سب جھک گئے ‘ کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ فرشتوں کے ساتھ ذکر آنے کی وجہ سے گمان ہوتا ہے کہ جیسے ابلیس بھی فرشتہ تھا ‘ مگر وہ فرشتہ نہیں تھا ‘ جیسا کہ سورة الکہف کی آیت ٥٠ میں ” کَانَ مِنَ الْجِنِّ “ فرما کر واضح کردیا گیا کہ وہ جنات میں سے تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

20. Please compare this passage (Ayats 30-43) with (Surah Al-Baqarah, Ayats 30-39); (Surah An-Nisa, Ayats 117-120); and (Surah Al-Aaraf, Ayats 11-25) and also refer to E.Ns appended to these Ayats.

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(15:30) اجمعون۔ سب کے سب۔ تاکید کے لئے آیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ سجدہ کے معنی کسی کے سامنے عاجزی کرنے اور جھکنے کے ہیں چاہے وہ زمین پر سر رکھ کر ہو یا سر اور کمر جھکا کر۔ اور وہ دو طرح ہوتا ہے ایک بطور عبادت اور دوسرا بطور سلام و تعظیم۔ فرشتوں کا حضرت آدم کو سجدہ کرنا بطور۔ سلام و تعظیم تھا نہ کو بطور عبادت۔ جیسا کہ حضرت یوسف کو ان کے والدین اور بھائیوں نے سجدہ کیا تھا کیونکہ فرشتوں کی صفت میں مذکور ہے۔ ولہ یسجدون۔ (اعراف آیت 602) ” کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کرتے ہیں “ یہ تعظیمی سجدہ پہلی امتوں میں جائز تھا مگر ہماری شریعت میں حرام کردیا گیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” اگر میں کسی بشر کو دوسرے بشرے کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ (دیکھئے بقرہ) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٣٠ تا ٣١ فرشتوں نے تو یہ سجدہ اس لیے کیا کہ ان کی فطرت ہی عبادت الٰہی اور تعمیل حکم ہے۔ بغیر چون و چرا کے اور ابلیس نے انکار اس لیے کیا کہ وہ ملائکہ میں سے نہ تھا۔ ملائکہ نوری مخلوق ہیں اور شیطان ناری۔ فرشتے ایسے ہیں کہ ان کو اللہ کی طرف سے جو حکم بھی ملے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے ، انہیں جو حکم ملے وہ کر گزرتے ہیں اور ابلیس نے یہ حکم ملتے ہی انکار کیا اور استکبار کیا۔ اس لیے یقیناً وہ فرشتوں میں سے نہ تھا۔ یہاں استثناء متصل نہیں ہے ، یہ اس طرح ہے جس طرح کہتے ہیں کہ فلاں کی اولاد تو سب آگئے مگر احمد نہیں آیا۔ جبکہ احمد فلاں کے بیٹوں میں سے نہیں ہوتا۔ صرف یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہی رہنے والا ہوتا ہے یا ان کے آنے والے کے فعل کے ساتھ۔ اس کا بھی کچھ تعلق ہوتا ہے اس لیے اسے استثنائیہ جملے میں یکجا کردیا جاتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکم تو تھا ہی فرشتوں کو ، پھر ابلیس اس حکم کے مدلول میں کس طرح شامل ہوگیا۔ تو جواب یہ ہے کہ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے ابلیس بھی اس حکم میں شامل تھا۔ سورة اعراف میں تو صراحت کے ساتھ ابلیس کو شامل کیا گیا۔ قال ما منعک الا تسجد اذ امرتک ” اس نے کہا کس چیز نے تجھے منع کیا کہ تو سجدہ کرے جبکہ میں نے تمہیں حکم دیا ہے “۔ قرآن کریم کا یہ انداز بیان ہے کہ وہ حالاتی مفہوم پر اکتفاء کرتا ہے۔ یہ اسلوب قرآن میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ آیت مذکورہ اس بات پر قطعی الدلالت ہے کہ اللہ کی طرف ابلیس کو بھی حکم دے دیا گیا تھا اور یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ حکم وہی ہو جو فرشتوں کو دیا گیا ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فرشتوں کے احکام میں ہی ابلیس کو شامل کردیا گیا ہو کیونکہ وہ ان سے متعلق تھا۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابلیس کو علیحدہ حکم دیا گیا ہو ، لیکن یہاں اس کا تذکرہ اس لیے نہیں کیا گیا کہ یہاں اسے نظر انداز کرنا مطلوب تھا اور فرشتوں کو نمایاں کرنا مطلوب تھا۔ لیکن جس طرح ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس فرشتوں میں سے نہ تھا اور ہم بھی یہی موقف اختیار کرتے ہیں۔ فرشتوں کی حقیقت کیا ہے ؟ ابلیس کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ غیبی امور ہیں اور مسلمات ایمانیہ میں سے ہیں۔ ہم ان پر اسی طرح ایمان لاتے ہیں جس طرح نصوص میں ان کا تذکرہ ہوا ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر تشریح کی ہے عقل کے لئے ان حقائق تک رسائی ممکن نہیں ہے اس لیے وہ نصوص کے سوا کسی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس کا دائرہ کار نہایت ہی محدود ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14:۔ تمام فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا اس لیے آدم کے ساتھ اس کی دشمنی ظاہر ہے۔ ” اِلَّا اِبْلِیْسَ “ مستثنیٰ منقطع ہے کیونکہ ابلیس فرشتہ نہیں تھا بلکہ جن تھا جیسا کہ سورة کہف رکوع 7 میں ہے ” کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ “ اس پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر ابلیس فرشتہ نہیں تھا تو سجدہ نہ کرنے سے نافرمان کیوں ٹھہرا کیونکہ سجدہ کا حکم تو فرشتوں کو دیا گیا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ ابلیس چونکہ فرشتوں میں رہتا تھا اور زہد و عبادت کی وجہ سے مرتبہ میں فرشتوں سے بھی بلند تھا اس لیے تغلیباً اسے بھی فرشتوں میں شمار کیا گیا اس طرح فرشتوں کے ساتھ وہ بھی مامور تھا۔ کان جن یا مفردا مغمورا بالوف من الملائکۃ فعد منھم تگلیبا (روح ج 14 ص 46) ۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں ابلیس کو بھی سمجدہ کا باقاعدہ حکم ہوا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” یَا اِبْلِیْسُ مَا مَنَعَکَ اَنْ لَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَ “ (اعراف رکوع 2) ۔ لیکن یہاں تعبیر میں اس کا ذکر ترک کردیا گیا ہے جیسا کہ کوئی واعظ کہے میں نے فلاں شہر والوں کو مسئلہ توحید سنایا تو انہوں نے مان لیا مگر فلاں شہر والوں کو وعظ کرنے کا ذکر حذف کردیا اسی طرح یہاں ابلیس کو سجدہ کرنے کا حکم تعبیر میں ھذف کردیا گیا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

30 ۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے اس کو بنایا تو سب کے سب تمام فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کیا ۔