Surat ul Hijir

Surah: 15

Verse: 5

سورة الحجر

مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّۃٍ اَجَلَہَا وَ مَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ ﴿۵﴾

No nation will precede its term, nor will they remain thereafter.

کوئی گروہ اپنی موت سے نہ آگے بڑھتا ہے نہ پیچھے رہتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And never did We destroy a township but there was a known decree for it. No nation can advance its term, nor delay it. Allah is informing that He never destroys a township until He has established evidences for it and its allotted time has ended. When the time for a nation's destruction has come, He never delays it, and He never moves its appointed time forward. This was a message and a warning to the people of Makkah, telling them to give up their Shirk, their stubbornness and disbelief for which they deserved to be destroyed.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 جس بستی کو بھی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کرتے ہیں، تو فوراً ہلاک نہیں کر ڈالتے، بلکہ ہم ایک وقت مقرر کئے ہوئے ہیں، اس وقت تک اس بستی والوں کو مہلت دی جاتی ہے لیکن جب وہ مقررہ وقت آجاتا ہے تو انھیں ہلاک کردیا جاتا ہے پھر وہ اس سے آگے یا پیچھے نہیں ہوتے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا يَسْتَاْخِرُوْنَ : یعنی نہ وہ وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے اور نہ وقت مقرر پر ہلاک ہونے سے بچ سکتی ہے۔ نیز دیکھیے سورة انعام (٢) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسْتَاْخِرُوْنَ ۝ سبق أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] ، ( س ب ق) السبق اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] پھر وہ ( حکم الہی کو سننے کے لئے لپکتے ہیں ۔ الاستباق کے معنی تسابق یعنی ایک دوسرے سے سبقت کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :َ إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرنے لگ گئے ۔ وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] اور دونوں دوڑتے ہوئے دروز سے پر پہنچنے ۔ مجازا ہر شے میں آگے بڑ اجانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] تو یہ ہم سے اس کیطرف سبقت نہ کرجاتے ۔ الأُمّة : كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] الامۃ ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ } ( سورة الأَنعام 38) اور زمین پر جو چلنے پھر نے والے ( حیوان ) دو پروں سے اڑنے والے پرند ہیں وہ بھی تمہاری طرح جماعتیں ہیں أجل الأَجَل : المدّة المضروبة للشیء، قال تعالی: لِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى [ غافر/ 67] ، أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ [ القصص/ 28] . ( ا ج ل ) الاجل ۔ کے معنی کسی چیز کی مدت مقررہ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ { وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى } [ غافر : 67] اور تاکہ تم ( موت کے ) وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥) کوئی امت اپنے وقت مقررہ سے نہ پہلے ہلاک ہوئی ہے اور نہ اس وقت مقررہ سے پیچھے رہی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(15:5) ما تسبق۔ ما نفی کا ہے۔ تسبق۔ مضارع واحد مؤنث غائب سبق (ضرب) سے جس کے اصل معنی چلنے میں مقدم ہونے کے ہیں مگر اس کا استعمال بطور مجازواستعارہ مطلق بڑھنے اور سبقت کرنے کے لئے بھی ہوتا ہے۔ ما تسبق وہ آگے نہیں نکل جائے گی۔ وہ آگے نہیں نکل سکتی اس کا فاعل امۃ ہے۔ من امۃ ۔ ای امۃ من الامم قوموں میں سے کوئی قوم۔ اجلہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اپنی تقدیر کی معاد مقررہ۔ اس میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب افراد قوم کی رعایت سے لائی گئی ہے۔ جس طرح کہ یستاخرون میں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ لا یستاخرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب (باب استفعال) وہ پیچھے نہیں رہ سکتے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 ۔ یعنی نہ وہ وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے اور نہ وقت مقرر پر ہلاک ہونے سے بچ سکتی ہے۔ (نیز دیکھئے سورة انعام آیت 2) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 6 تا 9 یایھا اے (حرف ندا) ۔ نزل نازل کیا گیا، اتارا گیا ۔ الذکر یاد دھانی کی چیز۔ قرآن مجید۔ مجنون دیوانہ، اگل۔ تاتینا تو ہمارے پاس آتا ہے۔ ماننزل ہم نازل نہیں کرتے اذا اس وقت۔ انا بیشک ہم۔ نحن ہم سب حافظون حفاظت کرنے والے ۔ تشریح : آیت نمبر 6 تا 9 جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکی زندگی میں کفار اور مشرکین کو اللہ کے دین اور آخرت کی ابدی سچائیوں کی طرف بلاتے تب وہ اپنی روایتی ضد، عناد، ہٹ دھرمی اور جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کے ساتھ فرشتوں کو ہونا چاہئے تھا جو اس بات کی علامت ہوتے کہ آپ سچے نبی ہیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے تو یہ سوائے جنون اور دیوانگی کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ کی قدرت سے یہ بات بعید نہیں ہے کہ وہ فرشتوں کو نازل کر دے مگر اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ کسی قوم کو عذاب دینے کا فیصلہ کرلیتا ہے تب وہ اپنے فرشتوں کو بھیجتا ہے اور جب وہ فیصلہ کر کے اپنے فرشتوں کو بھیج دیتا ہے تو پھر کسی قوم کو مزید مہلت عمل نہیں دی جاتی بلکہ جڑ و بنیاد سے اکھاڑ دینے کا فیصلہ کرلیا جاتا ہے۔ گزشتہ قوموں کی تاریخ اس سچائی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کا یہ جملہ نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں اے وہ کہ جس پر ذکر اتارا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اس کا جواب دیا گیا ہے کہ بیشک وہ قرآن جس کو ہم نے انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل کیا ہے وہ ” ذکر “ ہی ہے۔ وہ ہمارا کلام ہے اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہماری ہی ہے۔ ہم اپنے اس قرآن اور ذکر کی حفاظت خود کریں گے اور کسی انسان کے ذمے یہ کام نہیں لگائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کا یہ جملہ نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں اے وہ کہ جس پر ذکر اتارا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اس کا جواب دیا گیا ہے کہ بیشک وہ قرآن جس کو ہم نے انسانوں کی ہدایت کیلئے نازل کیا ہے وہ ” ذکر “ ہی ہے۔ وہ ہمارا کلام ہے اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہماری ہی ہے۔ ہم اپنے اس قرآن اور ذکر کی حفاظت خود کریں گے اور کسی انسان کے ذمے یہ کام نہیں لگائیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کی حفاظت کچھ اس طرح سے کی ہے کہ اگر مسلمان عمل سے دور ہوگئے اور انہوں نے خدمت قرآن کو چھوڑ دیا تو اللہ نے دشمنان قرآن کو ایمان کی دولت سے نواز کو محافظ قرار بنا دیا ۔ اس کی سب سے بڑی مثال تیرہویں صدی کا وہ عظیم الشان تاریخی واقعہ ہے جب تاتاریوں نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی تھی۔ مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کئے گئے، خون کی ندیاں بہا دی گئیں، ان کے کتاب خانے اور ان کی علمی کاوشوں کو تاتاریوں نے تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ کبھی دجلہ و فرات کا پانی ان کمزور مسلمان کے خون سے رنگین ہوگیا۔ کبھی ان کی کتابوں کی سیاہی سے پانی کا رنگ کالا ہوگیا۔ ان حالات کو دیکھ کر کمزور ایمان کے لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ اب دنیا سے اسلام اور قرآن مٹ جائیں گے لیکن اچانک اللہ نے تاتاریوں کو ایمان کی توفیق عطا فرما دی اور وہ ایمان قبول کر کے محافظ قرآن بن گئے۔ قرآن کریم کا ایک ایک لفظ محفوظ ہے۔ اس کی تعلیمات اور انداز تعلیم تک محفوظ ہے۔ قرآن کریم اور احادیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف کاغذوں کی حد تک نہیں بلکہ اہل ایمان کے سینوں میں محفوظ ہیں۔ آج دنیا میں اس قرآن کے تقریباً تین لاکھ حافظ قرآن موجود ہیں جن کے سینے قرآن کے نور سے منورہ روشن ہیں۔ صرف الفاظ کی حد تک نہیں بلکہ احادیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اللہ کے آخری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک ایک ادا کے ہزاروں حافظ گذرے ہیں۔ علماء امت نے دین کی حفاظت کے لئے وہ کچھ کیا جو کسی امت نے نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے غریب مسلمانوں کو اس مقصد کے لئے منتخب فرما اپنی کہ ان سے حفاظت قرآن کا وعدہ پورا کیا۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ قرآن کریم دنیا میں سب سے طاقتور چیز ہے۔ جیسا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ اگر ہم اس ذکر کو یقینی قرآن کریم کو کسی پہاڑ پر نازل کردیتے تو وہ اس کے بوجھ کو کسی طرح برداشت نہ کرسکتا لیکن یہ کتنی عجیب بات ہے کہ قرآن جیسی طاقت کی حفاظت ہمیشہ معاشرہ کے کمزور اور غریب لوگوں نے کی ہے۔ آج بھی اگر دیکھا جائے تو تین لاکھ حافظان قرآن یا صبح و شام تلاوت کرنے والے یا قرآن و حدیث پڑھنے پڑھانے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس دنیاوی دولت نہیں ہوتی وہ معاشرہ کے غریب اور کمزور لوگ ہوتے ہیں۔ لیکن ان کے دل قرآن کریم کے نور سے منور و روشن ہوت یہیں اور وہ اس دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ یوں تو اللہ جس کو بھی توفیق عطا فرما دے لیکن میں نے عام طور پر دیکھا ہے کہ جس کے پاس چار پیسے آجاتے ہیں وہ تو اپنے بچے کو قرآن حفیظ یاد کرنے کرانے کو وقت ضائع کرنے کے برابر سمجھنے لگتا ہے۔ سوائے اللہ کی ان بندوں کے جن کے پاس غربت یا دولت مندی دونوں برابر ہوتی ہیں وہ اپنے بچوں کو دین پر قائم رکھتے ہیں۔ میرے کہنے کا منشا یہ ہے کہ عام طور پر کسی وزیر، بڑے سرمائے دار، و ڈیرے ، اور سرداروں کے بچے حافظان قرآن اور عالم دین نہیں ہوتے بلکہ غریب و مفلس گھرانے کے بچے قرآن کریم حافظ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساری دنیا پر یہ واضع کردینا چاہتا ہے کہ اس کائنات میں ساری قوت و طاقت کا مالک صرف اللہ ہے وہ جس سے چاہے اپنے قرآن کی حفاظت کرالے لیکن اس نے اس قرآن جیسی طاقت کی حفاظت ہمیشہ غریبوں اور کمزوروں سے کرائی ہے۔ وہ کسی کی طاقت و قوت کا محتاج نہیں ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

5 ۔ کوئی قوم اپنے مقررہ وقت سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ اس کے افراد پیچھے رہ سکتے ہیں ۔ یعنی مقررہ وقت سے کوئی قوم اور کوئی جماعت آگے پیچھے نہ ہوسکی لہٰذا ان کا جو وقت علم الٰہی اور حکمت الٰہی میں مقرر ہے اس وقت یہ بھی ختم کردیئے جائیں گے اور آگے بڑھنے او پیچھے سرکنے کی مجال نہ ہوگی ۔