Surat ul Hijir

Surah: 15

Verse: 82

سورة الحجر

وَ کَانُوۡا یَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُیُوۡتًا اٰمِنِیۡنَ ﴿۸۲﴾

And they used to carve from the mountains, houses, feeling secure.

یہ لوگ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے بے خوف ہو کر ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And they used to hew out dwellings from the mountains, (feeling) secure. meaning, they were without fear and they had no real need for those houses; it was merely a form of extravagance and work without a purpose. This could be seen from their work in the houses in the Al-Hijr through which the Messenger of Allah passed on his way to Tabuk. He covered his head and urged his camel to go faster, saying to his Companions: لاَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنَّ لَمْ تَبْكُوا فَتَبَاكُوا خَشْيَةَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُم Do not enter the dwellings of those who were punished unless you are weeping, and if you do not weep then make yourself weep out of fear that perhaps what struck them may also strike you. فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

82۔ 1 یعنی بغیر کسی خوف کے پہاڑ تراش لیا کرتے تھے۔ 9 ہجری میں تبوک جاتے ہوئے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بستی سے گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر پر کپڑا لپیٹ لیا اور اپنی سواری کو تیز کرلیا اور صحابہ سے فرمایا کہ روتے ہوئے اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اس بستی سے گزرو (ابن کثیر) صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٤] اصحاب الحجر یا قوم ثمود :۔ یہ لوگ بڑے طویل القامت، مضبوط جسم اور لمبی عمروں والے تھے۔ سنگ تراش اور انجینئر قسم کے لوگ تھے۔ اور اس فن میں اتنے ماہر تھے کہ پہاڑوں کو تراش کر ان میں اپنے گھر بنالیتے تھے۔ اور یہ گھر اتنے مضبوط ہوتے تھے جو ہر طرح کی ارضی و سماوی آفات مثلاً زلزلہ، سیلاب، طوفان بادوباراں وغیرہ کا مقابلہ کرسکتے تھے لہذا ہر طرح کے خوف و خطر سے نڈر ہو کر ان میں رہتے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَكَانُوْا يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا اٰمِنِيْنَ ۔۔ : یعنی اس سے پہلی قوم عاد آندھی سے برباد ہوئی تھی تو انھوں نے اپنے خیال میں پہاڑوں کو تراش کر محفوظ مکان بنا لیے، جن میں کوئی خوف و خطرہ نہ تھا، مگر صبح کے وقت ایسی چیخ آئی کہ سب کے کلیجے پھٹ گئے اور ایک حد سے بڑھی ہوئی خوفناک آواز (اَلطَّاغِیَۃُ ) کے ساتھ پیدا ہونے والے زلزلے نے باقی کسر نکال دی، پھر ان کی تعمیراتی اور زرعی ترقی اور مہارت ان کے کسی کام نہ آئی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَكَانُوْا يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا اٰمِنِيْنَ 82؀ نحت نَحَتَ الخَشَبَ والحَجَرَ ونحوهما من الأجسام الصَّلْبَة . قال تعالی: وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبالِ بُيُوتاً فارِهِينَ [ الشعراء/ 149] والنُّحَاتَةُ : ما يسقط من المَنْحُوتِ ، والنَّحِيتَة : الطّبيعة التي نُحِتَ عليها الإنسان کما أنّ الغریزة ما غُرِزَ عليها الإنسانُ ( ن ح ت ) نحت ( ض ) کے معنی لکڑی پتھر یا اس قسم کی سخت چیزوں کو تراشنے کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبالِ بُيُوتاً فارِهِينَ [ الشعراء/ 149] اور تکلیف سے پہاڑوں میں تراش تراش کر گھر بناتے ہو ۔ نحاتۃ تراشہ ۔ وہ ریزے جو کاٹنے سے گریں اور انسانی فطرت کو اس لحاظ سے کہ انسان کی ساخت اس کے مطابق بنائی گئی ہے نحیتہ کہا جاتا ہے اور اس لحاظ سئ کہ وہ انسان کے اندر پیوست کی گئی ہے غریزہ کہلاتی ہے ۔ جبل الجَبَل جمعه : أَجْبَال وجِبَال، وقال عزّ وجل : أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] ( ج ب ل ) قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا |" ۔ اور پہاڑوں کو ( اس کی میخیں ) نہیں ٹھہرایا ؟ بيت أصل البیت : مأوى الإنسان باللیل، قال عزّ وجلّ : فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] ، ( ب ی ت ) البیت اصل میں بیت کے معنی انسان کے رات کے ٹھکانہ کے ہیں ۔ کیونکہ بات کا لفظ رات کو کسی جگہ اقامت کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٢) اور وہ لوگ پہاڑوں میں مکان بناتے تھے کہ مصیبت کے وقت سے امن میں رہیں یا یہ کہ عذاب سے امن میں رہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٢ (وَكَانُوْا يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا اٰمِنِيْنَ ) قوم ثمود کے یہ گھر آج بھی موجود ہیں اور دیکھنے والوں کو دعوت عبرت دے رہے ہیں۔ میں نے خود بھی ان کا مشاہدہ کیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

46. That is, their strong and secure buildings, which they had hewed into the mountains, could not protect them from the blast.

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(15:82) ینحتون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ کانوا ینحتون۔ ماضی استمراری۔ وہ تراشتے تھے۔ وہ تراش کر بنایا کرتے تھے۔ نحت سے۔ (باب ضرب) کانوا ینحتون من الجبال بیوتا۔ وہ پہاروں کو تراش گھر بنایا کرتے تھے۔ امنین۔ امن کی جمع ہے۔ بےخوف۔ مطمئن ۔ دلجمعی۔ ینحتون سے حال ہے یعنی درآں حالیکہ وہ اپنے آپ کو بےخوف و مطمئن محسوس کرتے تھے۔ (اس امر کی دلجمعی محسوس کرتے تھے کہ پہاروں میں ان کے مکانات چوری چکاری۔ اعدائ۔ عذاب الٰہی سے ان کو بچائے رکھیں گے) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

82 ۔ اور یہ لوگ پہاڑوں کو تراش تراش کر ان پہاڑوں میں مکان بناتے تھے کہ بےخوف ہوکر امن کے ساتھ رہیں ، یعنی خارجی اثرات سے محفوظ رہیں۔