Surat ul Hijir
Surah: 15
Verse: 91
سورة الحجر
الَّذِیۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِیۡنَ ﴿۹۱﴾
Who have made the Qur'an into portions.
جنہوں نے اس کتاب الٰہی کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے ۔
الَّذِیۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِیۡنَ ﴿۹۱﴾
Who have made the Qur'an into portions.
جنہوں نے اس کتاب الٰہی کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے ۔
Who have made the Qur'an into parts. Al-Bukhari reported that Ibn Abbas said, "They are the People of the Book, who divided the Book into parts, believing in some of it, and rejecting some of it." Some have said that Al-Mutaqasimin refers to the Quraysh, that the Qur'an means this Qur'an (as opposed to the Scriptures of the People of the Book), and that "made it into parts" referred to what Ata' said that; some of them said that he (the Prophet) was a sorcerer, some said he was crazy, or a soothsayer. These various allegations were the parts. This opinion was also reported from Ad-Dahhak and others. Muhammad bin Ishaq reported from Ibn Abbas that; Al-Walid bin Al-Mughirah - holding a noble position among the people - rallied a group of Quraysh behind him when Al-Mawsim (the time for pilgrims to meet in Makkah for Hajj) had come. He said to them, "O people of Quraysh! The time of Al-Mawsim has come, and delegations of Arabs will come to you during this time. They will have heard some things about this companion of yours (meaning the Prophet), so agree on one opinion, let there be no contradicting or denials of each other's sayings." They said, "And you, O Abu Abd Shams, give us an opinion and we will say that." He said, "No, you make the suggestions and I will listen." They said, "We say he is a soothsayer." He said, "He is not a soothsayer." They said, "We say he is crazy." He said, "He is not crazy." They said, "We say he is a poet." He said, "He is not a poet." They said, "We say he is a sorcerer." He said, "He is not a sorcerer." They said, "So what should we say?" He said, "By Allah, what he says is as palatable (to the average person) as something sweet, so you cannot say anything against it without it being obviously false. Therefore the most appropriate thing you can say is that he is a sorcerer." So they left having agreed upon that, and Allah revealed concerning them: الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْانَ عِضِينَ (Who have made the Qur'an into parts). meaning, of different types, and فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِيْنَ
[٤٩] قسمیں کھانے والے اور ان پر عذاب کا نزول :۔ اس آیت کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں ایک یہ کہ اگر مقتسمین کے معنی تقسیم کرنے والے یا بانٹ لینے والے، قرار دیا جائے۔ اس صورت میں یہود و نصاریٰ دونوں ہیں جنہوں نے قرآن کے بعض حصوں کو تو تسلیم کیا اور بعض حصوں کا انکار کردیا اور بعض کے نزدیک ان سے مراد کفار مکہ ہیں۔ جن کا مطالبہ یہ تھا کہ قرآن کی جن آیات میں ہمارے بتوں کی توہین ہوتی ہے وہ نکال دو پھر باقی باتیں ہم مان لیں گے اور بعض کے نزدیک ان سے مراد صرف تفرقہ باز یہود ہیں اور قرآن سے مراد ان کی کتاب اللہ تورات ہے۔ ان لوگوں نے کتاب اللہ کے بعض حصوں کو مان کر، بعض کا انکار کرکے، بعض آیات کو چھپا کر اور بعض کو تحریف لفظی یا معنوی کرکے بیسیوں فرقے بنا ڈالے تھے اور ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے وقتاً فوقتاً اپنی تنبیہات یا عذاب نازل فرمایا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ مقتسمین کے معنی باہم قسمیں کھانے والے قرار دیا جائے۔ اس صورت میں اس سے مراد وہ لوگ یا وہ قومیں ہیں جنہوں نے انبیاء کی تکذیب یا بعض دوسری جھوٹی باتوں پر قسمیں کھائی تھیں اور انہوں نے کتب سماویہ کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے تھے۔ حافظ ابن کثیر اسی معنی کی تائید کرتے ہیں۔ اور اس معنی کی تائید میں کئی آیات پیش کی ہیں۔ مثلاً قوم ثمود نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ ہم رات کو شبخون مار کر سیدنا صالح اور ان کے گھر والوں کو قتل کر ڈالیں گے (٢٧: ٤٩) یا مثلاً کافروں نے پختہ قسمیں کھا کر کہا کہ جو مرچکا ہے اللہ اسے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا۔ (١٦: ٣٨) یا قریش مکہ نے قسمیں کھا کر کہا تھا کہ ان کی شان و شوکت کو زوال نہیں آئے گا۔ (١٤: ٢٤) یا اعراف والے دوزخیوں کو مخاطب کرکے کہیں گے کہ کیا یہی اہل جنت وہ لوگ نہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھاتے تھے کہ اللہ ان پر کبھی رحمت نہیں کرے گا && وغیرہ وغیرہ۔ ایسے سب لوگوں پر عذاب آیا اور قیامت کو ان سے سختی سے بازپرس بھی ہوگی۔
الَّذِيْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِيْنَ 91 عض العَضُّ : أَزْمٌ بالأسنان . قال تعالی: عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنامِلَ [ آل عمران/ 119] ، وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ [ الفرقان/ 27] ، وذلک عبارة عن النّدم لما جری به عادة الناس أن يفعلوه عند ذلك، والعُضُّ للنّوى «1» ، والذي يَعَضُّ عليه الإبلُ ، والعِضَاضُ : مُعَاضَّةُ الدّوابِّ بعضها بعضا، ورجلٌ مُعِضٌّ: مبالغٌ في أمره كأنّه يَعَضُّ عليه، ويقال ذلک في المدح تارة، وفي الذّمّ تارة بحسب ما يبالغ فيه، يقال : هو عِضُّ سفرٍ ، وعِضٌّ في الخصومة «2» ، وزمنٌ عَضُوضٌ: فيه جدب، والتَّعْضُوضُ : ضربٌ من التّمر يصعُبُ مَضْغُهُ. ( ع ض ض ) العض ۔ کسی چیز کو دانت سے پکڑ لینا یا کاٹنا قرآن میں ہے ۔ عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنامِلَ [ آل عمران/ 119] تم پر غصے سے اپنی انگلیاں کاٹتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ ، وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ [ الفرقان/ 27] اور جس دن ناعاقبت اندلیش ظالم اپنے ہی ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھا ئیگا ۔ میں ندامت سے کنایہ ہے کیونکہ عام طور پر دیکھا جا تا ہے کہ جب کوئی شخص کسی کام پر اتنباہ درجہ پشمان ہوتا ہے تو دانت سے اپنے ہاتھ کاٹنے لگتا ہے ۔ العض کھجور کی گٹھلی ۔ خاردار جھاڑی جسیے اونٹ کھاتے ہیں ۔ العضاض جانوروں کا ایک دوسرے کو دانتوں سے کاٹنا ۔ رجل معص اپنے کا م نہایت کوشش کرنے والا ادمی ۔ گویا وہ اسے دانتوں سے پکڑے ہوئے ہے اور کام کی نوعیت کے عتبار سے کبھی یہ لفظ بطور تعریف استعمال ہوتا ہے اور کبھی بطور مذمت ۔ ھو عص سفر وہ سفر پر بہت قدرت رکھتا ہے ۔ ھو عض فی الخصومتہ وہ جھگڑنے میں نہایت فصیح اور سخنور ہے ۔ زمن عضوض خشک سال ۔ التعضوض ایک قسم کی کجھور جو دشواری کے ساتھ چبا کر کھائی جاتی ہے ۔
آیت ٩١ (الَّذِيْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِيْنَ ) اس آیت کے مفہوم کے سلسلے میں مفسرین نے مختلف آراء بیان کی ہیں۔ اس ضمن میں زیادہ قرین قیاس رائے یہ ہے کہ یہاں لفظ ” قرآن “ کا اطلاق تورات پر ہوا ہے۔ جیسا کہ سورة سبا کی آیت ٣١ میں فرمایا گیا : (وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِہٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلَا بالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ ) یعنی کفار کہتے ہیں کہ نہ اس قرآن پر ایمان لاؤ اور نہ اس پر جو اس سے پہلے تھا۔ تو گویا تورات بھی قرآن ہی تھا اور یہود نے اپنے مفادات کے لیے اپنے اس قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا۔ ان کے اس کارنامے کا تذکرہ سورة الانعام کی آیت ٩١ میں اس طرح ہوا ہے : (تَجْعَلُوْنَہٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَہَا وَتُخْفُوْنَ کَثِیْرًا) ” تم نے اس (تورات) کو ورق ورق کردیا ہے ‘ ان میں سے کسی حصے کو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپا کر رکھتے ہو۔ “
52. The schismatic were the Jews for they had split their religion into many parts and caused division in it. They believed in certain parts and rejected the other parts, and detracted some things from it and added others to it. Thus they had been divided into many sectarian groups, which were opposed to one another. “They have made the Quran (Torah) into pieces” means that they believe in certain parts of it and reject other parts. The same thing has been stated in (Surah Al- Baqarah, Ayat 85) like this: Do you then believe in one part of the Scriptures and disbelieve in the other parts. This warning is like the warning We sent to the schismatic Jews. This is meant to warn the disbelievers that they should learn a lesson from the plight of the Jews who neglected the warning that was given to than by God, and persisted in their wrong ways, as if to say: You are beholding the degradation of the Jews. Do you like to meet with the same end by neglecting this warning?
سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :52 اس گروہ سے مراد یہود ہیں ۔ ان کو مُقْتَسِمِیْن اس معنی میں فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے دین کو تقسیم کر ڈالا ، اس کی بعض باتوں کو مانا ، اور بعض کو نہ مانا ، اور اس طرح طرح کی کمی و بیشی کر کے بیسیوں فرقے بنا لیے ۔ ان کے ”قرآن“ سے مراد توراۃ ہے جو ان کو اسی طرح دی گئی تھی جس طرح امت محمدیہ کو قرآن دیا گیا ہے ۔ اور اس ” قرآن “ کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے سے مراد وہی فعل ہے جسے سورہ بقرہ آیت ۸۵ میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ اَفَتُؤْ مِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ( کیا تم کتاب اللہ کی بعض باتوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض سے کفر کرتے ہو؟ ) ۔ پھر یہ جو فرمایا کہ یہ تنبیہ جو آج تم کو کی جا رہی ہے یہ ویسی ہی تنبیہ ہے جیسی تم سے پہلے یہود کو کی جا چکی ہے ، تو اس سے مقصود در اصل یہود کے حال سے عبرت دلانا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ یہودیوں نے خدا کی بھیجی ہوئی تنبیہات سے غفلت برت کر جو انجام دیکھا ہے وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے ۔ اب سوچ لو ، کیا تم بھی یہی انجام دیکھنا چاہتے ہو؟
32: اس سے مراد یہود اور عیسائی ہیں، انہوں نے اپنی کتابوں کے حصے بخرے اس طرح کئے تھے کہ اس کے جس حکم کو چاہتے مان لیتے اور جس کی چاہتے خلاف ورزی کرتے تھے۔
(15:91) یہ آیت المقتسمین کی صفت ہے۔ عضین۔ پارہ پارہ۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ یہ العضۃ سے ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کا ٹکڑا۔ اس کی جمع عضون وعضین ہے اسی سے العضو اور العضو ہے جس کا معنی ہیں۔ بدن کا ایک حصہ یا ٹکڑا۔ جعلوا القران عضین جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ یعنی کسی نے کہا کہ جادو ہے اور کسی نے کہا کہ پہلے لوگوں کی کہانیاں اور قصے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ بعض نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا مفہوم یہ بیان کیا کہ انہوں نے بعض باتیں مان لیں اور بعض کا انکار کردیا۔
ف 7 یعنی کفار مکہ کے چالی یا سولہ آدمی جنہوں نے ولید بن مغیرہ کے حکم سے حج کے موقع پر مکہ کے راستے بانٹ لئی تھے کہ آنحضرت تک کسی کو نہ پہنچنے دیں گے اور قرآن کی تکابوٹی کرنے کے یہ معنی ہیں کہ کسی نے قرآن کو سحر کہا اور کسی نے شعراء اور کسی نے پہلوان کی کہانیاں الغرض اس طرح انہوں نے قرآن کی تکذیب کے لئے مختلف طریقے اختیار کئے اور مختلف عنوانوں سے اسے باطل کرنے کی کوشش کی۔ یہ مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور قرآن کے حصے کرنے کے یہ معنی ہیں کہ جو مرضی کے موافق ہوا اسے مان لیا اور جسے اپنی مرضی کے خلاف پایا اس سے انکار کردیا اور پہلے انبیاء کی مخالفت کی وجہ سے ان پر مختلف عذاب آچکے تھے اس صورت میں قرآن سے مطلق کتاب الٰہی بھی مراد رکھتی ہے۔ افتومنون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض کذافی روح) حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ مقتسمین کے معنی قسمیں کھانے والے میں یعنی پہلی امتیں جنہوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب پر قسمیں اٹھا رکھی تھیں۔ مثلاً صالح کی قوم کہ انہوں نے حضرت صالح اور ان کے اہل کو راہ کچھ وقت قتل کردینے کیلئے قسمیں کھائیں۔ (دیکھئے نمل آیت 49) اور پہلی امتوں نے قرآن یعنی کتب سماویہ کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے مطلب یہ کہ جیسے ہم نے ان پر عذاب اتارا اسی طرح کے عذاب سے انگوٹھی ڈرا دیجیے (کذافی الوحیدی)
10۔ ان میں جو مرضی کے موافق ہوا مان لیا جو خلاف مرضی ہوا اس سے انکار کردیا، مراد یہود و نصاری ہیں۔
قولہ تعالیٰ عضین جمع عضۃ واصلھا عضوۃ بکسر العین وفتح الضاد بمعنی جزء فھو معتل اللام من عضاہ بالتشدید جعلہ اعضاء و اجزاء اللہ تعالیٰ کا ارشاد عضین یہ عضۃ کی جمع ہے اس کی اصل عضوۃً ہے عین کے کسرہ اور ضاد کے فتحہ کے ساتھ اس کا معنی ہے جزء اور وہ معتل اللام ہے اس کو کہتے ہیں جسے اسے سختی سے حصوں اور ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ہو۔ (کذا فی الروح ص ٨٣ ج ١٤)
34:۔ یہ ” اَلْمُقْتَسِمِیْنَ “ کی صفت کاشفہ ہے انہوں نے قرآن مجید کے بھی حصے بخرے کر رکھے تھے۔ کبھی کہتے یہ جاو ہے، کبھی شاعری بتاتے اور کبھی پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں کہہ دیتے۔ ” فَلَنَسْاَلَنَّھُمْ “ یہ ان کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ “ صَدْعٌ کے معنی اظہار کے ہیں یعنی جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے آپ اس کو علانیہ اور برملا بیان کریں۔ اور مشرکین کے استہزاء و تمسخر کی پروا نہ کریں۔ یا صدع الزجاجۃ سے ماخوذ ہے یعنی جس طرح شیشے کو توڑ کر اس کے اجزاء کو الگ الگ کردیا جاتا ہے آپ مسئلہ توحید کو اس طرح واضح کر کے بیان کریں کہ حق و باطل الگ الگ ہوجائیں (روح) ۔
91 ۔ جنہوں نے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کر رکھا ہے۔ یعنی سابقہ اقوام کو جو آسمانی کتابیں عطا ہوئی تھیں اس میں لوگوں نے تقسیم کردی کہ کتاب کے بعض احکام مانے اور بعض نہیں مانے تو ہم نے ان پر عذاب بھیجا اسی طرح قرآن کریم کے ساتھ بھی یہ لوگ سلوک کر رہے ہیں ۔ اسی لئے پیغمبر ان کو عذاب سے ڈراتا ہے اور ہم بتاتے ہیں کہ عذاب کو دور نہ سمجھو جس طرح پہلے لوگوں پر عذاب نازل کیا گیا ہے اسی طرح ان لوگوں پر عذاب کا نازل ہونا یقینی ہے جنہوں نے قرآن کی تکا بوٹی کر رکھی ہے۔ حضرات مفسرین نے آیت کا ترجمہ کئی طرح سے کیا ہے حتیٰ کہ بعض حضرات نے مقتسمین کا ترجمہ بجائے تقسیم کے قسم کھانے والوں کیا ہے ہم نے ان اقوال میں سے ایک قول کی بنا پر ترجمہ کیا ہے جو راجح اور سہل ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافر سنتے تھے سورتوں کے نام تو ٹھٹھے سے آپس میں بانٹتے کوئی کہتا میں بقرہ لوگوں گا یا مائدہ تجھ کو عنکبوت دوں گا۔ 12