Surat ul Hijir

Surah: 15

Verse: 99

سورة الحجر

وَ اعۡبُدۡ رَبَّکَ حَتّٰی یَاۡتِیَکَ الۡیَقِیۡنُ ﴿٪۹۹﴾  6

And worship your Lord until there comes to you the certainty ( death ) .

اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And worship your Lord until the certainty comes to you. Al-Bukhari said: "Salim said, `(This means) death."' This Salim is Salim bin Abdullah bin Umar. Ibn Jarir also recorded from Salim bin Abdullah, وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (And worship your Lord until the Yaqin comes to you). He said, "Death." It is reported in the Sahih from Umm Al-Ala' (one of the women of the Ansar) that when the Messenger of Allah entered upon Uthman bin Maz`un after he had died, Umm Al-Ala' said, "May the mercy of Allah be upon you, Abu As-Sa`ib. My testimony over you is that Allah has honored you." The Messenger of Allah said, وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّ اللهَ أَكْرَمَهُ How do you know that Allah has honored him? I said, "May my father and mother be sacrificed for you, O Messenger of Allah! If not him, then who else?" He said, أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ وَإِنِّي لاََرْجُو لَهُ الْخَيْر As far as he is concerned, the death has come to him, and I hope for good for him. This is evidence that the meaning of this Ayah, وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (And worship your Lord until the certainty comes to you), is that acts of worship, such as prayer and the like, are obligatory on man so long as his mind is sound, so he should pray according to his best ability. It was reported in Sahih Al-Bukhari from Imran bin Husayn that the Messenger of Allah said: صَلِّ قَايِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْب Pray standing, and if you cannot, then sitting, and if you cannot, then on your side. From this we may understand that it is a mistake to interpret Yaqin (the certainty) as Ma`rifah ("spiritual knowing") as some of the Sufis do. According to them, when one of them attains the level of Ma`rifah, they consider him to be free of these obligations. This is disbelief, misguidance and ignorance. The Prophets - peace be upon them - and their companions, were the most knowledgeable of people about Allah, about His rights, His attributes, and the glorification that He deserves. But at the same time, they were the people who worshipped Him the most, continuing in good deeds until the time they died. Therefore, what is meant by Yaqin here is death, as we have stated above. To Allah be praise and thanks. Praise be to Allah for His guidance. It is to Him that we turn for help and it is in Him that we put our trust. He is the One Whom we ask to help us to reach the best of circumstances, for He is the Most Generous and Kind. This is the end of the Tafsir of Surah Al-Hijr. Praise be to Allah, the Lord of all that exists.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

99۔ 1 مشرکین آپ کو ساحر، مجنون، کاہن وغیرہ کہتے جس سے بشری جبلت کی وجہ سے آپ کبیدہ خاطر ہوتے، اللہ تعالیٰ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ حمد وثنا کریں، نماز پڑھیں اور اپنے رب کی عبادت کریں، اس سے آپ کو قلبی سکون بھی ملے گا اور اللہ کی مدد بھی حاصل ہوگی، سجدے سے یہاں نماز اور یقین سے مراد موت ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ : یعنی موت آنے تک اپنے رب کی عبادت پر قائم رہیں۔ موت کو ” یقین “ اس لیے فرمایا کہ ہر جان دار کے لیے اس کا آنا یقینی ہے۔ قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی ” یقین “ کا لفظ موت کے معنی میں آیا ہے، جیسے فرمایا : (حَتّىٰٓ اَتٰىنَا الْيَقِيْنُ ) [ المدثر : ٤٧ ] ” یہاں تک کہ ہمیں یقین آپہنچا (یعنی موت آگئی) ۔ “ اس لیے سب قابل ذکر مفسرین نے اس آیت میں یقین کو بمعنی موت مراد لیا ہے۔ تو جب تک ہوش رہے نماز اور دوسری عبادات زندگی کے آخری دم تک حسب طاقت کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر یا پہلو کے بل لیٹ کر ادا کرنا فرض ہے۔ بعض جاہل اور بےعمل پیر اس آیت کی رو سے کہتے ہیں کہ عبادت کرتے کرتے جب یقین حاصل ہوجائے تو پھر عبادت کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے وہ اپنے آپ کو نماز، روزہ اور عبادات سے مستثنیٰ قرار دے لیتے ہیں۔ یہ تفسیر کتاب اللہ کے ساتھ کھیل ہے۔ کیا یہ جس یقین کا نام لیتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کو حاصل نہ ہوسکا کہ وہ آخر وقت تک نماز، روزہ اور دوسری عبادات کی پابندی کرتے رہے۔ بہرحال آیت میں یقین سے مراد یقین قلبی لینا اور نماز روزہ چھوڑ دینا صریح بےدینی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ 99۝ۧ عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا بخشنے والا پروردگار ،۔ يقن اليَقِينُ من صفة العلم فوق المعرفة والدّراية وأخواتها، يقال : علم يَقِينٍ ، ولا يقال : معرفة يَقِينٍ ، وهو سکون الفهم مع ثبات الحکم، وقال : عِلْمَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 5] «2» ، وعَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 7] «3» وحَقُّ الْيَقِينِ [ الواقعة/ 95] وبینها فروق مذکورة في غير هذا الکتاب، يقال : اسْتَيْقَنَ وأَيْقَنَ ، قال تعالی: إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَما نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ [ الجاثية/ 32] ، وَفِي الْأَرْضِ آياتٌ لِلْمُوقِنِينَ [ الذاریات/ 20] ، لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ [ البقرة/ 118] وقوله عزّ وجلّ : وَما قَتَلُوهُ يَقِيناً [ النساء/ 157] أي : ما قتلوه قتلا تَيَقَّنُوهُ ، بل إنما حکموا تخمینا ووهما . ( ی ق ن ) الیقین کے معنی کسی امر کو پوری طرح سمجھ لینے کے ساتھ اس کے پایہ ثبوت تک پہنچ جانے کے ہیں اسی لئے یہ صفات علم سے ہے اور معرفت اور وغیرہ سے اس کا در جہ اوپر ہے یہی وجہ ہے کہ کا محاورہ تو استعمال ہوات ہے لیکن معرفۃ الیقین نہیں بولتے اور قدر معنوی فرق پایا جاتا ہے جسے ہم اس کتاب کے بعد بیان کریں گے استیتن والقن یقین کرنا قرآن میں ہے : ۔ إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَما نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ [ الجاثية/ 32] ہم اس کو محض ظن ہی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا ۔ وَفِي الْأَرْضِ آياتٌ لِلْمُوقِنِينَ [ الذاریات/ 20] اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ [ البقرة/ 118] یقین کرنے والوں کیلئے اور آیت کریمہ : ۔ وَما قَتَلُوهُ يَقِيناً [ النساء/ 157] اور انہوں نے عیسیٰ کو یقینا نہیں کیا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ انہیں ان کے قتل ہوجانے کا یقین نہیں ہے بلکہ ظن وتخمین سے ان کے قتل ہوجانے کا حکم لگاتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٩ (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ ) عام طور پر یہاں ” یقین “ سے موت مراد لی گئی ہے۔ یعنی اپنی زندگی کی آخری گھڑی تک اس کی بندگی میں لگے رہیے اور اس سلسلے میں لمحہ بھر کے لیے بھی غفلت نہ کیجیے : تا دم آخر دمے فارغ مباش اندریں رہ مے تراش و مے خراش ! بعض لوگ یہاں ” یقین “ سے اللہ تعالیٰ کی نصرت بھی مراد لیتے ہیں کہ کفار کے خلاف اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آجائے ‘ اس کی مدد اہل حق کے شامل حال ہوجائے اور انہیں کفار پر غلبہ حاصل ہوجائے۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

53. That is Salat and worship of your Lord are the only means which can generate in you that power of sustenance which is required to stand resolutely against the troubles and afflictions you will inevitably encounter in the propagation of the message of the truth and reform of humanity. This will comfort you, fill you with courage and enable you to perform that divine mission for which you have been sent in the face of abuse, derision and obstacles.

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :53 یعنی تبلیغ حق اور دعوت اصلاح کی کوششوں میں جن تکلیفوں اور مصیبتوں سے تم کو سابقہ پیش آتا ہے ، ان کے مقابلے کی طاقت اگر تمہیں مل سکتی ہے تو صرف نماز اور بندگی رب پر استقامت سے مل سکتی ہے ۔ یہی چیز تمہیں تسلی بھی دے گی ، تم میں صبر بھی پیدا کرے گی ، تمہارا حوصلہ بھی بڑہائے گی ، اور تم کو اس قابل بھی بنادے گی کہ دنیا بھر کی گالیوں اور مذمتوں اور مزاحمتوں کے مقابلے میں اس خدمت پر ڈٹے رہو جس کی انجام دہی میں تمہارے رب کی رضا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

34: اس سے مراد موت ہے، یعنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزا ردو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کو وفات دے کر اپنے پاس بلالیں

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٩٩۔ آخرت کی بہت سی چیزیں مثلاً عذاب قبر حشر نامہ اعمال کا تولنا نیک عمل کا نیک آدمی کی صورت بن کر اور بد عملوں کا بد صورت بن کر قبر میں آنا پل صراط پر گزرنا جنت میں باوجود کھانے کی حاجت بشری اور نیند کا نہ ہونا ان سب چیزوں کو مرنے کے بعد ہر آدمی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور اس کو پورا یقین ہوجاوے گا اس لئے اس آیت میں اور اس قسم کی اور آیتوں میں علما نے یقین کے معنے موت کے کئے ہیں کیونکہ بغیر موت کے آخرت کی چیزوں کو دیکھ کر یقین کا حاصل کرنا ممکن نہیں ہے اس صورت میں شریعت کا حکم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور امت کے لئے یہ قرار پایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکیں تو بیٹھ کر اور بیٹھ کر بھی نہ ہوسکے تو لیٹ کر اشاروں سے بیماری یا سفر کے سبب سے رمضان میں روزے نہ رکھ سکیں تو جب ہو سکے قضا کے روزے رکھیں غرض جب تک جسم میں جان ہے عبادت الٰہی کا کرنا شریعت کا ایک لازمی حکم ٹھہرا ہے۔ بعضے صوفیوں نے اس حکم شریعت کی مخالف یہ جو لکھا ہے کہ یقین سے مراد معرف الٰہی ہے اور آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ جب آدمی نے خدا کو پورا پہچان لیا تو پھر اس کو عبادت کی ضرورت نہیں یہ بالکل ایک غلط معنی ہیں یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دم وفات تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تو پھر کیا ان لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ خود نبی کو تو دم وفات تک وہ معرفت الٰہی حاصل نہیں ہوئی جس سے عبادت کی ضرورت باقی نہ رہی لیکن امت میں نبی سے بڑھ کر بعضے مشائخ ایسے ہیں جن کو دم وفات سے پہلے وہ معرفت الٰہی حاصل ہوسکتی ہے جو نبی کو حاصل نہیں ہوئی استغفر اللہ نہ کوئی ولی نبی سے بڑھ کر ہوسکتا ہے نہ کسی ولی سے عبادت شرعی اٹھ سکتی ہے رہے مجذوب بد حواس لوگ انکا شریعت اور علماء شریعت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ حالت بدحواسی میں تو ایسے لوگوں سے عبادت شرعی جو ولایت کی بڑی پوری شرط ہے چھٹی ہوئی ہے اس لئے اس حالت پر تو ان کو ولی نہیں کہا جاسکتا ہاں حالت حواس میں اگر یہ لوگ شریعت کے پابند تھے یا اب جب حواس درست ہوتے ہیں تو شریعت کے پابند نظر آتے ہیں تو ایسے لوگوں کی حالت ہوش و حواس کی عبادت کو نہ شریعت معاف ٹھہراتی ہے نہ حالت افاقہ میں ان کو ولی کہنے کا شریعت کو انکار ہے لیکن جو بدحواس شخص اس حواس کے وقت بھی شریعت کا پابند نظر نہ آوے یا عمر بھر اس کے حواس ہی قائم نظر نہ آویں تو اس کا حکم شریعت میں ولی کا نہیں بلکہ دیوانہ کا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(15:99) الیقین۔ موت ۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے حتی اتنا الیقین (74:48) یہاں تک کہ ہم کو موت آگئی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 اس کی عبادت پر قائم رہیں اور موت کو یقین اس لئے کہا ہر متنفس کے لئے اس کا آنا ضروری ہے۔ (روح) قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی ” یقین “ کا لفظ موت کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسے ” حتی اتانا الیقین “ یہاں تک کہ ہمیں یقین آپہنچا مدثر آیت 47) اس لئے سب قابل ذکر مفسرین نے اس آیت میں یقین کو بمعنی موت لیا ہے۔ بعض جاہل اور بےعمل پیرا اس آیت کی رو سے کہتے ہیں کہ عبادت کرتے کرتے جب یقین حاصل ہوجائے تو پھر عبادت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے اپنے آپ کو نماز، روزہ عبادات سے مستثنیٰ قرار دے لیتے ہیں۔ یہ تفسیر کتاب اللہ کے ساتھ تلعب کے مترادف ہے۔ کیا یہ جس یقین کا نام لیتے ہیں آنحضرت کو حاصل نہ ہوسکا کہ آپ آخر وقت تک نماز، روزہ اور دیگر عبادات کی پابندی کرتے رہے۔ بہرحال آیت میں یقین سے یقین قلبی مراد لینا الحاد سے خالی نہیں۔ (کذافی الروح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یعنی مرتے دم تک ذکر عبادت میں مشغول رہیے، اس میں علاوہ مامور بہ اور ماجور علیہ ہونے کے یہ بھی خاصیت ہے کہ اس طرف شغل کو مقتضر کردینے سے دوسرا شغل جو کہ موجب ضیق صدر تھا زائل مغلوب ہوجاتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

99 ۔ اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہیے یہاں تک کہ آپ کو یقین یعنی موت آجائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی موت کہ بیشک ہے۔ 12 نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مجھ کو یہ حکم نہیں دیا کہ میں مال جمع کروں اور تاجربن جائوں بلکہ مجھ کو تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تسبیح وتحمید بیان کروں اور نماز پڑھا کروں ۔ بغوی تم سورة حجر۔