Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 101

سورة النحل

وَ اِذَا بَدَّلۡنَاۤ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ ۙ وَّ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُفۡتَرٍ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾

And when We substitute a verse in place of a verse - and Allah is most knowing of what He sends down - they say, "You, [O Muhammad], are but an inventor [of lies]." But most of them do not know.

اورجب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالٰی نازل فرماتا ہے اسے وہ خوب جانتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ تو تو بہتان باز ہے ۔ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر جانتے ہی نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Idolators' Accusation that the Prophet was a Liar since some Ayat were abrogated, and the Refutation of their Claim Allah says: وَإِذَا بَدَّلْنَا ايَةً مَّكَانَ ايَةٍ وَاللّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُواْ ... And when We change a verse in place of another - and Allah knows best what He reveals - they (the disbelievers) say: "You (O Muhammad) are but a forger." Allah tells us of the weak minds of the idolators, and their lack of faith and conviction. He explains that it is impossible for them to have faith when He has decreed that they are doomed. When they saw that some rulings had been changed by being abrogated, they said to the Messenger of Allah: ... إِنَّمَا أَنتَ مُفْتَرٍ ... You are but a forger, meaning one who tells lies. But Allah is the Lord Who does whatever He wills, and rules as He wants. ... بَلْ أَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ Rather, most of them know not. ... بَدَّلْنَا ايَةً مَّكَانَ ايَةٍ ... And when We change a verse (of the Qur'an) in place of another, Mujahid said: this means, "We remove one and put another in its place." Qatadah said: this is like the Ayah: مَا نَنسَخْ مِنْ ءَايَةٍ أَوْ نُنسِهَا Whatever verse We change (abrogate) or omit (the abrogated)..." (2:106) Allah said, in response to them:

ازلی بد نصیب لوگ مشرکوں کی عقلی ، بےثباتی اور بےیقینی کا بیان ہو رہا ہے کہ انہیں ایمان کیسے نصیب ہو؟ یہ تو ازلی بد نصیب ہیں ، ناسخ منسوخ سے احکام کی تبدیلی دیکھ کر بکنے لگتے ہیں کہ لو صاحب ان کا بہتان کھل گیا ، اتنا نہیں جانتے کہ قادر مطلق اللہ جو چاہے کرے جو ارادہ کرے ، حکم دے ، ایک حکم کو اٹھا دے دوسرے کو اس کی جگہ رکھ دے ۔ جیسے آیت ( مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا ۭ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ١٠٦؁ ) 2- البقرة:106 ) میں فرمایا ہے ۔ پاک روح یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام اسے اللہ کی طرف سے حقانیت و صداقت کے عدل و انصاف کے ساتھ لے کر تیری جانب آتے ہیں تاکہ ایماندار ثابت قدم ہو جائیں ، اب اترا ، مانا ، پھر اترا ، پھر مانا ، ان کے دل رب کی طرف جھکتے رہیں ، تازہ تازہ کلام الٰہی سنتے رہیں ، مسلمانوں کے لئے ہدایت و بشارت ہو جائے ، اللہ اور رسول اللہ کے ماننے والے راہ یافتہ ہو کر خوش ہو جائیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

101۔ 1 یعنی ایک حکم منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا حکم نازل کرتے ہیں، جس کی حکمت و مصلحت اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور اس کے مطابق وہ احکام میں رد وبدل فرماتا ہے، تو کافر کہتے ہیں کہ یہ کلام اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیرا اپنا گھڑا ہوا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو اس طرح نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے اکثر لوگ بےعلم ہیں، اس لئے یہ منسوخی کی حکمتیں اور مصلحتیں کیا جانیں۔ مزید وضاحت کیلیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ آیت 106 کا حاشیہ

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٤] قیامت کب ؟ ایک سوال کے مختلف جوابات :۔ اس سے مراد کافروں کے کسی سوال یا اعتراض کے مختلف مواقع پر مختلف جواب بھی ہوسکتے ہیں مثلاً کافر اکثر یہ پوچھتے رہتے کہ جس قیامت کی تم بات کرتے رہتے ہو وہ آئے گی کب ؟ اس سوال کا ایک مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ وہ اس طرح دفعتاً آئے گی کہ تمہیں خبر تک نہ ہوسکے گی۔ دوسرے مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ جب وہ آئے گی تو اس وقت تمہارا ایمان لانا بےسود ہوگا اور تیسرے مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ جب وہ آجائے گی تو اس میں لمحہ بھر کے لیے بھی تقدیم و تاخیر نہ ہوسکے گی اور چوتھے مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ انھیں کہہ دیجئے کہ اس کا علم صرف اللہ کو ہے اور میں تو فقط اس کا رسول ہوں۔ ناسخ اور منسوخ احکام کی کیفیت :۔ اور یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ قرآن میں اقوام و انبیائے سابقہ کے حالات مختلف مقامات پر کہیں اجمالاً بیان ہوئے ہیں کہیں تفصیلاً کہیں ایک پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہے کہیں کسی دوسرے پہلو کو۔ یہی صورت احکام کی بھی ہے جن میں تدریج کا لحاظ رکھا گیا ہے اور یہ تدریج لوگوں کے عقل و فہم یا ان کی ایک وقت عدم استعداد اور دوسرے وقت استعداد کی بنا پر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ چونکہ ہر طرح کے حالات سے باخبر ہے لہذا اس کی حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ حالات کے تقاضوں کے مطابق احکام نازل کرے۔ اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے حکیم ایک مریض کے لیے پہلے کوئی اور دوا تجویز کرتا ہے پھر مریض کی کیفیت کے مطابق دوا تبدیل کردیتا ہے۔ [١٠٥] تبدیلی احکام کی بنا پر آپ پر قرآن گھڑنے کا الزام :۔ ایسی تبدیلی کی صورت میں کافر یہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ کلام اللہ کا نہیں ہوسکتا۔ اللہ تو پہلے ہی ہر بات سے باخبر ہے۔ اس کے احکام میں تبدیلی یا ایک سوال کے مختلف جوابات کیوں ہوتے ہیں۔ ہو نہ ہو یہ کلام اس نبی نے خود گھڑ لیا ہے۔ کسی وقت کوئی جواب دے دیتا ہے اور کسی وقت کوئی دوسرا۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ کافروں کا یہ جواب محض جہالت پر مبنی ہے۔ تبدیلی احکام کی وجہ یہ نہیں کہ نعوذ باللہ اللہ پہلے نہیں جانتا تھا بلکہ اس کی اصل وجہ لوگوں کی استعداد اور عدم استعداد اور حالات کے تقاضے ہوتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ : یعنی پہلی آیت کا حکم منسوخ کرکے نیا حکم نازل فرماتے ہیں۔ نسخ پر بحث کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (١٠٦) اب یہاں سے کفار کے شبہات کا جواب دیا جا رہا ہے۔ (شوکانی) بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ : یعنی ان کے اکثر لوگ نسخ کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مفتری اس لیے کہتے ہیں کہ انھیں پہلی شریعتوں کا علم نہیں، اگر ہوتا تو سمجھ لیتے کہ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے قاعدہ رہا ہے کہ وہ ایک حکم اتارتا ہے اور پھر جب چاہتا ہے اسے منسوخ کرکے دوسرا حکم دے دیتا ہے۔ ” اَكْثَرُهُمْ “ اس لیے فرمایا کہ کچھ لوگ سب کچھ جاننے کے باوجود ضد اور عناد کی وجہ سے آپ کو مفتری کہتے ہیں۔ اس آیت کے دو مفہوم ہیں، ایک وہ جو اوپر گزرا، وہاں ” اٰيَةٍ “ سے مراد شرعی آیت اور حکم ہے، دوسرا معنی نشانی اور معجزہ ہے۔ اس وقت ” اٰيَةٍ “ سے مراد آیت کونیہ ہوگی، مثلاً ابراہیم (علیہ السلام) کا آگ میں نہ جلنا، عصائے موسیٰ ، ید بیضا، اللہ کے حکم سے مردہ کو زندہ کرنا وغیرہ۔ امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اللہ تعالیٰ نے آیات کونیہ کا نظام بھی بدل دیا اور بطور معجزہ بھی قرآن ہی نازل فرمایا اور صرف کسی ایک سورت کے مقابلے کا چیلنج دیا، جس کا جواب آج تک کوئی نہ دے سکا، نہ دے سکے گا۔ باقی انبیاء کی آیات یعنی معجزوں کے بدلے یہ آیت یعنی معجزہ ایسا نازل ہوا جو آپ کے بعد قیامت تک موجود ہے۔ جب کچھ جواب نہ آیا تو آپ کو مفتری کہہ دیا، فرمایا نبی مفتری نہیں بلکہ یہ بےچارے بےعلم ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Sequence of Verses In the previous verse (98), there was an instruction to say اَعُوذ بِاللہ &a udhu bil-lah& (I seek protection with Allah) while reciting the Qur’ an which in¬dicates that the Shaitan puts scruples in the heart when one recites the Qur&an. In the verses cited above, there is a refutation of such Satanic in¬stigations.

خلاصہ تفسیر : ربط آیات اس سے پہلی آیت میں تلاوت قرآن کے وقت اعوذ باللہ پڑھنے کی ہدایت تھی جس میں اشارہ ہے کہ شیطان تلاوت کے وقت انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے مذکورہ آیات میں اسی طرح کے وساوس شیطانی کا جواب ہے ، نبوت پر کفار کے شبہات کا جواب مع تہدید : اور جب ہم کسی آیت کو بجائے دوسری آیت کے بدلتے ہیں (یعنی ایک آیت کو لفظا یا معنی منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا حکم بھیجدیتے ہیں) اور حالانکہ اللہ تعالیٰ جو حکم (پہلی مرتبہ یا دوسری مرتبہ) بھیجتا ہے (اس کی مصلحت و حکمت کو) وہی خوب جانتا ہے (کہ جن کو یہ حکم دیا گیا ہے ان کے حالات کے اعتبار سے ایک وقت میں مصلحت کچھ تھی پھر حالت بدل جانے سے مصلحت اور حکمت دوسری ہوگی) تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ (معاذ اللہ) آپ (خدا پر) افتراء کرنے والے ہیں (کہ اپنے کلام کو اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں ورنہ اللہ کا حکم ہوتا تو اس کے بدلنے کی کیا ضرورت تھی کیا اللہ تعالیٰ کو پہلے علم نہ تھا اور یہ لوگ اس پر غور نہیں کرتے کہ بعض اوقات سب حالات کا علم ہونے کے باوجود پہلی حالت پیش آنے پر پہلا حکم دیا جاتا ہے اور دوسری حالت پیش آنے کا اگرچہ اس وقت بھی علم ہے مگر بتقاضائے مصلحت اس دوسری حالت کا حکم اس وقت بیان نہیں کیا جاتا بلکہ جب وہ حالت پیش آجاتی ہے اس وقت بیان کیا جاتا ہے جیسے طبیب ڈاکٹر ایک دوا تجویز کرتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کے استعمال سے حالت بدلے گی اور پھر دوا دوسری دی جائے گی مگر مریض کو ابتدا میں سب تفصیل نہیں بتلاتا یہی حقیقت نسخ احکام کی ہے جو قرآن وسنت میں ہوتا ہے جو حقیقت سے واقف نہیں وہ باغوا شیطانی نسخ کا انکار کرنے لگتے ہیں اسی لئے اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے فرمایا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مفتری نہیں) بلکہ انہی میں اکثر لوگ جاہل ہیں (کہ احکام میں نسخ کو بلا کسی دلیل کے کلام الہی ہونے کے خلاف سمجھتے ہیں) آپ (ان کے جواب میں) فرما دیجئے (کہ یہ کلام میرا بنایا ہوا نہیں بلکہ اس کو) روح القدس (یعنی جبرئیل علیہ السلام) آپ کے رب کی طرف سے حکمت کے موافق لائے ہیں (اس لئے یہ اللہ کا کلام ہے اور اس میں احکام کی تبدیلی بمقتضائے حکمت و مصلحت ہے اور یہ کلام اس لئے بھیجا گیا ہے) تاکہ ایمان والوں کو (ایمان پر) ثابت قدم رکھے اور ان مسلمانوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری (کا ذریعہ) ہوجائے ( اس کے بعد کفار کے ایک اور لغو شبہ کا جواب ہے) اور ہم کو معلوم ہے کہ یہ لوگ (ایک دوسری غلط بات) یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کو تو آدمی سکھلاتا ہے (اس سے مراد ایک عجمی روم کا باشندہ لوہار ہے جس کا نام بلعام یا مقیس تھا وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتیں جی لگا کر سنتا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی اس کے پاس جا بیٹھتے اور وہ کچھ انجیل وغیرہ کو بھی جانتا تھا اس پر کافروں نے یہ بات چلتی کی کہ یہی شخص حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن کا کلام سکھاتا ہے، کذا فی الدرالمنثور، اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ قرآن مجید تو مجموعہ الفاظ ومعانی کا نام ہے تم لوگ اگر قرآن کریم کے معانی اور معارف کو نہیں پہچان سکتے تو کم از کم عربی زبان کی معیاری فصاحت و بلاغت سے تو ناواقف نہیں ہو تو اتنا تو تمہیں سمجھنا چاہئے کہ اگر بالفرض قرآن کے معانی اس شخص نے سکھلا دیئے ہوں تو کلام کے الفاظ اور ان کی ایسی فصاحت و بلاغت جس کا مقابلہ کرنے سے پورا عرب عاجر ہوگیا یہ کہاں سے آگئی کیونکہ) جس شخص کی طرف اس کی نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ قرآن صاف عربی ہے (کوئی بیچارہ ایسی عبارت کیسے بنا سکتا ہے اور اگر کہا جائے کہ عبارت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنائی ہوگی تو اس کا واضح جواب اس تحدی (چلینج) سے پوری طرح ہوچکا ہے جو سورة بقرہ میں آچکا ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باذن خداوندی اپنی نبوت اور قرآن کی حقانیت کا معیار اسی کو قرار دے دیا تھا کہ اگر تمہارے کہنے کے مطابق یہ انسان کا کلام ہے تو تم بھی انسان ہو اور بڑی فصاحت و بلاغت کے مدعی ہو تو تم اس جیسا کلام زیادہ نہیں تو ایک آیت ہی کی برابر لکھ لاؤ مگر سارا عرب باوجودیکہ آپ کے مقابلہ میں اپنا سب کچھ جان ومال قربان کرنے کو تیار تھا مگر اس چیلنج کو قبول کرنے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی اس کے بعد منکرین نبوت اور قرآن پر ایسے اعتراضات کرنے والوں پر وعید وتہدید ہے کہ) جو لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو اللہ تعالیٰ کبھی پر نہ لائیں گے اور ان کے لئے درد ناک سزا ہوگی (اور یہ لوگ جو نعوذ باللہ آپ کو مفتری کہتے ہیں) جھوٹ افتراء کرنے والے تو یہی لوگ ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور یہ لوگ ہیں پورے جھوٹے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ ۙ وَّاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مُفْتَرٍ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ١٠١؁ بدل الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] وقال تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] قيل : أن يعملوا أعمالا صالحة تبطل ما قدّموه من الإساءة، وقیل : هو أن يعفو تعالیٰ عن سيئاتهم ويحتسب بحسناتهم «5» . وقال تعالی: فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] ، وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] ، وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ، ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] ، يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] أي : تغيّر عن حالها، أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] ، وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] ، وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] ، وقوله : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] أي : لا يغيّر ما سبق في اللوح المحفوظ، تنبيها علی أنّ ما علمه أن سيكون يكون علی ما قد علمه لا يتغيّرعن حاله . وقیل : لا يقع في قوله خلف . وعلی الوجهين قوله تعالی: تَبْدِيلَ لِكَلِماتِ اللَّهِ [يونس/ 64] ، لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ [ الروم/ 30] قيل : معناه أمر وهو نهي عن الخصاء . والأَبْدَال : قوم صالحون يجعلهم اللہ مکان آخرین مثلهم ماضین «1» . وحقیقته : هم الذین بدلوا أحوالهم الذمیمة بأحوالهم الحمیدة، وهم المشار إليهم بقوله تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] والبَأْدَلَة : ما بين العنق إلى الترقوة، والجمع : البَئَادِل «2» ، قال الشاعر : 41- ولا رهل لبّاته وبآدله ( ب د ل ) الا بدال والتبدیل والتبدل الاستبدال کے معنی ایک چیز کو دوسری کی جگہ رکھنا کے ہیں ۔ یہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض میں پہلی چیز کے بدلہ میں دوسری چیز لینا شرط ہوتا ہے لیکن تبدیل مطلق تغیر کو کہتے ہیں ۔ خواہ اس کی جگہ پر دوسری چیز نہ لائے قرآن میں ہے فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] تو جو ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کو اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع گیا ۔ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا ۔ اور آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] کے معنی بعض نے یہ کئے ہیں کہ وہ ایسے نیک کام کریں جو ان کی سابقہ برائیوں کو مٹادیں اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرمادیگا اور ان کے نیک عملوں کا انہیں ثواب عطا کریئگا فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] تو جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے ۔ وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] جب ہم گوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں ۔ وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا ۔ اور آیت کریمہ : يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] کے معنی یہ ہیں کہ زمین کی موجودہ حالت تبدیل کردی جائے گی ۔ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] کہ وہ ( کہیں گی ) تہمارے دین کو ( نہ ) بدل دے ۔ وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] اور جس شخص نے ایمان ( چھوڑ کر اس کے بدلے کفر اختیار کیا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] 47 ۔ 38 ) اور اگر تم منہ پھروگے تو وہ تہماری جگہ اور لوگوں کو لے آئیگا ۔ اور آیت کریمہ : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی ۔ کا مفہوم یہ ہے کہ لوح محفوظ میں جو کچھ لکھا جا چکا ہے وہ تبدیل نہیں ہوتا پس اس میں تنبیہ ہے کہ جس چیز کے متعلق اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وقوع پذیر ہوگی وہ اس کے علم کے مطابق ہی وقوع پذیر ہوگی اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آسکتی ۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اس کے وعدہ میں خلف نہیں ہوتا ۔ اور فرمان بار ی تعالیٰ : { وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ } ( سورة الأَنعام 34) قوانین خدا وندی کو تبدیل کرنے والا نہیں ۔{ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ } ( سورة الروم 30) نیز : لا تبدیل لخلق اللہ فطرت الہیٰ میں تبدیل نہیں ہوسکتی ( 30 ۔ 30 ) بھی ہر دو معافی پر محمول ہوسکتے ہیں مگر بعض نے کہاں ہے کہ اس آخری آیت میں خبر بمعنی امر ہے اس میں اختصاء کی ممانعت ہے الا ابدال وہ پاکیزہ لوگ کہ جب کوئی شخص ان میں سے مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دوسرے کو اس کا قائم مقام فرمادیتے ہیں ؟ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں ۔ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں جہنوں نے صفات ذمیمہ کی بجائے صفات حسنہ کو اختیار کرلیا ہو ۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جنکی طرف آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] میں ارشاد فرمایا ہے ۔ البادلۃ گردن اور ہنسلی کے درمیان کا حصہ اس کی جمع بادل ہے ع ( طویل ) ولارھل لباتہ وبآدلہ اس کے سینہ اور بغلوں کا گوشت ڈھیلا نہیں تھا ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ فری الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ للإفساد، والِافْتِرَاءُ فيهما، وفي الإفساد أكثر، وکذلک استعمل في القرآن في الکذب والشّرک والظّلم . نحو : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] ، ( ف ری ) القری ( ن ) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں اور افراء افعال ) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ۔ افتراء ( افتعال کا لفظ صلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال افسادی ہی کے معنوں میں ہوتا ہے اسی لئے قرآن پاک میں جھوٹ شرک اور ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠١) اور جب ہم ایک منسوخ کرے اس کے بدلہ بذریعہ جبریل دوسرا حکم ناسخ بھیجتے ہیں، حالانکہ بندوں کو کس چیز کا حکم دینا چاہیے اس کی مصلحت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں تو یہ کفار مکہ کہتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اپنی جانب سے ایسا کہہ رہے ہیں۔ بلکہ ان ہی میں سے اکثر لوگ اس بات سے بیخبر ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان ہی کاموں کا حکم دیتے ہیں جن میں ان کے لیے مصلحت اور بھلائی ہوتی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠١ (وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ ) قبل ازیں یہ مضمون سورة البقرۃ میں بیان ہوچکا ہے : ( مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا) (آیت ١٠٦) ۔ چناچہ سورة البقرۃ کے مطالعے کے دوران اس آیت کے تحت اس مضمون کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔ (وَّاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ ) قرآن کا نزول اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت کے عین مطابق ہور ہا ہے۔ اگر کوئی مخصوص حکم کسی ایک دور کے لیے تھا اور پھر بدلے ہوئے حالات میں اس حکم میں تبدیلی کی ضرورت ہے تو یہ سب کچھ اللہ کے علم کے مطابق ہے اور کسی خاص ضرورت اور حکمت کے تحت ہی کسی حکم میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ مگر ایسی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے : (قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مُفْتَرٍ ) کہ پہلے یوں کہا گیا تھا اب اسے بدل کر یوں کہہ رہے ہیں۔ اگر یہ اللہ کا کلام ہوتا تو اس میں اس طرح کی تبدیلی کیسے ممکن تھی ؟ (بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ) حقیقت یہ ہے کہ ان کی اکثریت علم سے عاری ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

102. This may also mean: To send down one commandment to elaborate upon the other, for the commandments were sent down piecemeal in the Quran. For instance, the commandments about prohibition and fornication were sent down gradually one after the other during several years. But We hesitate to accept this interpretation because An-Nahl is a Makki Surah and to the best of our information there is no instance to show that commandments were sent down piecemeal at Makkah. Therefore, we prefer the other interpretation. The Quran has added details of one theme and explained the same with different kinds of illustrations at different places. Likewise it has related a story in different words at different places and presented its different aspects and details at other places. It has put forward one argument at one place to prove a theme and another at another place to prove the same theme. It has related one theme concisely at one place and in detail at the other. That is what the disbelievers of Makkah put forward as proof that Muhammad (peace be upon him) forged the Quran himself. They argued like this: Had the Quran been the Word of Allah, it would have related one thing in full at one place, for Allah’s knowledge is not defective that He should have to think out gradually the details of a theme and to give different versions to explain the same thing. In contrast to this, the knowledge of a human being is defective. A man has to think out gradually as has been done in the case of the Quran which is a clear proof that you have forged it yourself.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :102 ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرنے سے مراد ایک حکم کے بعد دوسرا حکم بھیجنا بھی ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ قرآن مجید کے احکام بتدریج نازل ہوئے ہیں اور بارہا ایک ہی معاملہ میں چند سال کے وقفوں سے یکے بعد دیگرے دو دو ، تین تین حکم بھیجے گئے ہیں ۔ مثلا شراب کا معاملہ ، یا زنا کی سزا کا معاملہ ۔ لیکن ہم کو یہ معنی لینے میں اس بنا پر تامل ہے کہ سورہ نحل کی یہ آیت مکی دور میں نازل ہوئی ہے ، اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے اس دور میں تدریج فی الاحکام کی کوئی مثال پیش نہ آئی تھی ۔ اس لیے ہم یہاں ” ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرنے“ کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کے مختلف مقامات پر کبھی ایک مضمون کو ایک مثال سے سمجھایا گیا ہے اور کبھی وہی مضمون سمجھانے کے لیے دوسری مثال سے کام لیا گیا ہے ۔ ایک ہی قصہ بار بار آیا ہے اور ہر مرتبہ اسے دوسرے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ ایک معاملہ کا کبھی ایک پہلو پیش کیا گیا ہے اور کبھی اسی معاملے کا دوسرا پہلو سامنے لایا گیا ہے ۔ ایک بات کے لیے کبھی ایک دلیل پیش کی گئی ہے اور کبھی دوسری دلیل ۔ ایک بات ایک وقت میں مجمل طور پر کہی گئی ہے اور دوسرے وقت میں مفصل ۔ یہی چیز تھی جسے کفارِ مکّہ اس بات کی دلیل ٹھیراتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، معاذ اللہ ، یہ قرآن خود تصنیف کرتے ہیں ۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ اگر اس کلام کا منبع علم الہی ہوتا تو پوری بات بیک وقت کہہ دی جاتی ۔ اللہ کوئی انسان کی طرح ناقص العلم تھوڑا ہی ہے کہ سوچ سوچ کر بات کرے ، رفتہ رفتہ معلومات حاصل کرتا رہے ، اور ایک بات ٹھیک بیٹھتی نظر نہ آئے تو دوسرے طریقہ سے بات کرے یہ تو انسانی علم کی کمزوریاں ہیں جو تمہارے اس کلام میں نظر آرہی ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

44: اﷲ تعالیٰ مختلف حالات کے لحاظ سے اپنے اَحکام میں کبھی کبھی تبدیلی فرماتے تھے، جیسا کہ قبلے کے اَحکام کے متعلق سورۂ بقرہ میں تفصیل گذرچکی ہے، اس پر کفار اِعتراض کرتے تھے کہ یہ احکام کیوں بدلے جارہے ہیں ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں، بلکہ (معاذ اللہ) آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی طرف سے یہ تبدیلیاں کررہے ہیں۔ اس آیت میں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ کس وقت کونسا حکم نازل کیا جائے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٠١۔ ١٠٢۔ جب اللہ پاک کسی آیت کو منسوخ فرما دیتا اور اس کی جگہ دوسری آیت نازل فرماتا تو مشرکین مکہ کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ قرآن اپنے جی سے بنا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ لوگ قرآن کے نازل ہونے کی حقیقت سے بالکل ناواقف ہیں قرآن مجید کی ایک ایک آیت معجزہ ہے اللہ پاک ہی کو اس کا علم ہے وہی جانتا ہے کہ کون سے حکم اس وقت کیلئے مناسب ہے اور پھر دوسرے وقت کی مصلحت کے لحاظ سے کونسا حکم ہونا چاہیے پھر فرمایا کہ ان کافروں سے کہہ دو کہ ساری آیتیں قرآن پاک کی جبریل (علیہ السلام) اللہ جل شانہ کے پاس سے لاتے ہیں اس میں کوئی ناسخ ہو خواہ کوئی منسوخ سب اسی پاک پروردگار عالم کی طرف سے ہیں جو لوگ صاحب ایمان ہیں خدا و رسول پر ان کا پکا عقیدہ ہے وہ ہر ایک آیت پر ثابت قدم ہیں اور جانتے ہیں کہ قرآن شریف اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اور محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے سچے پغمبر ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جیسا پیغام آتا ہے یہ اس کو پہنچا دیتے ہیں اگر قرآن ان کا کلام ہوتا تو اپنے قول کا اعتبار بڑھانے کے لئے پہلے قول کو دوسرے قول سے خود یہ کبھی نہ بدلتے اس ثابت قدمی کے سبب سے یہ صاحب ایمان لوگ روز بروز ہدایت پاتے رہتے ہیں اور نئی آیتوں سے نئی نئی بشارت ان کو آخرت کے واسطے پہنچتی رہتی ہے۔ پہلا حکم دوسرے حکم سے بدل جاوے تو پہلے حکم کو منسوخ اور دوسرے کو ناسخ کہتے ہیں۔ تمام قرآن شریف میں پانچ آیتیں منسوخ ہیں جن کی تفصیل اس تفسیر کے مقدر میں بیان کردی گئی ہے ١ ؎۔ ناسخ منسوخ کی زیادہ تفصیل سورت البقرہ میں گزر چکی ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری (رض) کی حدیث بھی سورت البقرہ میں گزر چکی ہے ٢ ؎۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ یہاں مدینہ میں ہم صحابہ لوگ سورت براء کی برابر ایک سورت پڑھا کرتے تھے مگر اب وہ یاد نہیں رہی۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کے مکی حصہ میں ناسخ منسوخ کی فقط یہ ایک صورت تھی کہ پہلے حکم سے دوسرا حکم بدل گیا مثلاً سورت مزمل کی اول کی آیتوں میں تہجد کی نماز کی فرضیت کا حکم ہو کر اس سورت کی آخر کی آیتیں نازل ہوئیں جن سے پہلا حکم جاتا رہا اسی واسطے ان مکی آیتوں میں ناسخ منسوخ کی اسی ایک سورت کا ذکر فرمایا ہے ہاں قرآن شریف کے مدنی حصہ میں منسوخ آیتوں کی یہ صورت بھی پیش آئی ہے جس کا ذکر ابو موسیٰ اشعری (رض) کی حدیث میں ہے اس لئے سورت بقرہ مدنی سورت میں او ننسھا فرما کر اس کا ذکر بھی کردیا جس کا مطلب یہ ہے کہ بعض آیتیں بغیر کسی بدلہ کے لوگوں کے دل سے اٹھ جاتی ہیں یہ بھی منسوخ کی ایک صورت ہے۔ ١ ؎ تفسیر ہذا مقدمہ ص ٢١۔ ٢٢۔ ٢ ؎ تفسیر ہذا جلد اول ص ١١١۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 اور پہلی آیت کا حکم منسوخ کردیتے ہیں۔ نسخ پر بحث کے لئے دیکھئے۔ ( سورة بقرہ آیت 106) اب یہاں سے کفار کے شبہات کا جواب دیا جا رہا ہے۔ (شوکانی) 2 انہیں پہلی شریعتوں کا علم نہیں۔ اگر ہوتا تو سمجھ لیتے کہ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہ قاعدہ رہا ہے کہ وہ ایک حکم اتارتا ہے اور پھر جب چاہتا ہے اسے مسنوخ کر کے دوسرا حکم دے دیتا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ١٤) اسرارومعارف شیطانی وساوس میں گرفتار کفار کو اس بات پہ بھی اعتراض ہے کہ قرآن پاک کی آیات منسوخ یا تبدیل کیوں ہوتی ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ کا کلام ہوتا تو بھلا اللہ کو کیا پہلے معلوم نہ تھا کہ ایک حکم دیا پھر اسے بدل کر دوسرا دے دیا ، ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں ، کلام خود بناتے ہیں اور کہتے ہیں اللہ جل جلالہ کا ہے ، یہ ان کی جہالت کے باعث ہے ، ورنہ اللہ جل جلالہ تو انسانوں کی سہولت اور بہتری کے لیے منسوخ فرماتے ہیں جبکہ ایک حال میں ایک حکم بہتر تھا ، وہ ارشاد فرمایا جب حالت بدل گئی تو حکم تبدیل کردیا گیا کہئے کہ یہ احکام تو رب جلیل کا پاک فرشتہ لاتا ہے اور اس کی اپنی ربوبیت کا تقاضا ہے کہ بندوں کے حال کی رعایت فرماتا ہے ۔ صدیوں سے کفر میں مبتلا ایک معاشرے کو ایک دم سے مجبور نہیں کردیا گیا بلکہ یہ اس کی شان ربوبیت کہ بتدریج احکام مکمل فرماتا گیا اور آخر ایک مطلوبہ معاشرہ قائم ہوگیا تو منسوخ ہونا بھی ختم کردیا گیا ، نیز یہ سب ہی تو حق ہے ۔ (کلام اللہ کا اثر اور کیفیت) اور اس میں ایک کیفیت ہے اور اس کا یہ اثر ہے کہ جس دل میں نور ایمان ہو اسے مزید ثبات نصیب ہوتا ہے ، ہدایت نصیب ہوتی ہے یعنی نیک عمل کرنے کو جی چاہتا ہے اور ایک انمول مسرت وشامانی کا عالم دل پہ طاری ہوجاتا ہے ۔ (اخذ کیفیات) مگر یہ سب ان کو نصیب ہوتا ہے جو سرتسلیم خم کرتے ہیں ، ان سے ثابت ہے کہ اخذ کیفیات کے لیے مکمل اور غیر مشروط اطاعت شرط ہے ہاں شیخ سے اطاعت کی حد شریعت ہے ، اس کے باہر اطاعت نہ کی جائے گی ۔ اللہ جل جلالہ کو خبر ہے کہ یہ مشرک کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فلاں آدمی سکھاتا ہے مفسرین کے مطابق مکہ مکرمہ میں ایک باہر سے آیا ہوا لوہار تھا ، جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتیں سنتا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس تشریف رکھتے تھے ، وہ کچھ پہلے کتابوں کا علم بھی رکھتا تھا ، مگر ان میں اتنا شعور بھی نہیں کہ جس آدمی کا کہتے ہیں وہ خود عجمی ہے اور کتاب اللہ کی زبان ایسی فصیح وبلیغ عربی ہے کہ تمام عالم عرب کے سامنے اس کا چیلنج موجود ہے جس کا کوئی جواب نہیں دے سکا ، اور نہ دے سکے گا ، بلکہ ان کے اس معاندانہ رویے کا اثر خود ان پر ایسا پڑتا ہے کہ مزید کفر میں دھنستے چلے جاتے ہیں ، اور اللہ جل جلالہ انہیں ہدایت نصیب ہی نہیں کرتا اور ان کے لیے بہت دردناک عذاب ہے ، یہ افتری کا طعنہ دینے والے خود ہی افتری کرتے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے اور سخت جھوٹ بولتے ہیں اور جو کچھ یہ کہتے ہیں یہ بہت بڑا جھوٹ ہے اور ہاں اگر یہی کفریہ کلمات کہنے پر کسی کو مجبور کردیا جائے مگر اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو تو محض جان بچانے کے لیے کوئی کلمہ کفر یا کافرانہ فعل کرنا جس پر مجبور کردیا جائے تو اس میں کوئی گناہ نہ ہوگا ۔ (مسئلہ اکراہ) فقہاء کے مطابق اگر کسی کو کلمہ کفر کہنے یا کافرانہ کام کرنے پر اس حد تک مجبور کردیا جائے کہ نہ کہنے سے قتل کا خوف ہو تو ایسا کرنے سے گناہ نہ ہوگا جبکہ دل ایمان پر جما ہوا ہو کیونکہ بعض غریب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کو یہ حال پیش آیا جن میں سے اکثر تو شہید ہوئے بعض نے ایسا کہہ کر جان بچائی اور ہجرت کر کے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جا پہنچے لیکن ایسے لوگ جن کے دلوں میں ہی کفر رچ بس گیا ہو ان پر اللہ جل جلالہ کا غضب ہوگا ، دار دنیا میں بھی تباہی کا سامنا کریں گے اور آخرت میں بھی ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے کہ ایمان لانے کے کفر کو پلٹنا بہت بڑا جرم ہے ، شرعا بھی مرتد واجب القتل ہے کہ ان کے اس فعل کا سبب محض دنیا کی طلب ہی ہے جسے انہوں نے آخرت پر محبوب جانا اور یہ ایسا جرم ہے کہ ایسے لوگوں کو اللہ جل جلالہ کبھی ہدایت کی توفیق نہیں بخشتے بلکہ ان کے دلوں پر اس جرم کی پاداش میں مہر لگا دی جاتی ہے اور ان کی سماعت و بصارت بھی ایسی متاثر ہوتی ہے کہ حق پہچاننے سے قاصر ہوتے ہیں اور یہی لوگ ہمیشہ کی غفلت میں غرق ہوجاتے ہیں ، اور یہ حال اس بات کی دلیل ہے کہ یقینا یہ لوگ آخرت میں بہت نقصان میں ہوں گے ، مگر جو لوگ ظلما کفر پہ مجبور کئے گئے مگر مواقع پاکر انہوں نے وطن چھوڑا ، ہجرت کی پھر اللہ کی راہ میں جہاد کئے یا عمر بھر مجاہدہ کرتے رہے اور خواہشات پر صبر کرکے اللہ کی اطاعت اختیار کی ان کے لیے اللہ جل جلالہ کی مغفرت بہت وسیع ہے اور وہ بڑا رحم کرنے والا ہے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 105 بدلنا ہم نے بدل دیا۔ ینزل وہ نازل کرتا ہے۔ مفتر گھڑنے والا۔ روح القدس پاکیزہ روح جبریل امین۔ لیثبت تاکہ وہ پکا کر دے۔ یعلم سکھاتا ہے۔ یلحدون (الحاد) اشارہ کرتے ہیں۔ عربی مبین واضح عربی، فصیح عربی زبان۔ تشریح : آیت نمبر 101 تا 105 حضرت عیسیٰ (جن کو اللہ نے آسمانوں کی طرف اٹھا لیا ہے) ان کے ساڑھے پانچ سو سال کے بعد جزیرۃ العرب میں مذہبی، تمدنی ، عاشرتی، اخلاقی، تہذیبی اور رسم و رواج میں اتنی تبدیلیاں آ چکی تھیں کہ کفار مکہ زبان سے تو یہ کہہ کر فخر کرتے تھے کہ ہم حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی اولاد یا ان کے ماننے والے ہیں لیکن اس نسبت کے باوجود وہ ہر طرح کی جہالت اور ظلم و ستم کے پیکر بن کر رہ گئے تھے۔ بد اخلاقی، بدکرداری، شراب نشوی جوئے بازی، سود خوری، رسم و رواج کی غلامی اور بتوں کی پرستش نے ان کے معاشرہ کو اس طرح تباہ کر کے رکھ دیا تھا کہ قتل و غارت گری کی وجہ سے کسی کی جان، مال اور آبرو تک محفوظ نہ تھی۔ سارے جزیرۃ العرب میں ہر قبیلہ ایک حکومت اور سلطنت تھا ایک دوسرے کے کسی اصول کی پابندی کو کسی طرح قبول نہیں کرتا تھا۔ ایسے معاشرہ میں اگر اس بات کی توقع کی جائے کہ جیسے ہی حکم دیا جائے گا لوگ اس کی اسی طرح پابندی کریں گے تو یہ ایک خلاف فطرت بات ہوتی۔ اسی لئے قرآن وحدیث کے مطالعہ سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایسی بگڑی ہوئی قوم کو کچھ اصولوں کے دائرے میں لانے کے لئے حکمت و مصلحت کے ساتھ ہی پابند بنایا جاسکتا تھا چناچہ زیادہ تر احکامات میں تدریج ہے بعد میں ان احکامات کی تکمیل فرمائی گئی ہے اور اب قیامت تک کسی کو کسی تبدیلی کا اختیار نہیں ہے۔ وہ قوم جو شراب نوشی میں اس طرح مبتلا تھی کہ شراب ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی یعنی ادھر بچے نے دنیا میں قدم رکھا اور ادھر شراب اس کے حلق میں انڈیل دی گئی۔ اسی لئے شراب کو حرام قرار دینے کے لئے تین آیتیں نازل کی گئیں دو آیتوں میں ان کو بتایا گیا کہ شراب نوشی سب سے گھٹیا عادت ہے یہ اللہ کی عبادت و بندگی کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی لہٰذا نشہ کی حالت میں نماز کے قریب بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔ غور کیجیے تو یہ معلوم ہوجائے گا کہ اس آیت میں پابندی بھی لگا دی اور آزادی بھی باقی رکھی گئی۔ دوسری آیت میں فرمایا کہ اس میں دنیا کا نفع ضرور ہے لیکن آخرت کا گناہ اور نقصان اس کے نفع سے بڑھ کر ہے۔ جو لوگ بات کو اشاروں میں سمجھ لیتے ہیں وہ سمجھ گئے کہ شراب اللہ کی عبادت و بندگی کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی اس میں دنیا کی عارضی زندگی کے کچھ منافع ضرور ہیں لیکن آخرت کی ابدی زندگی کا بہت بڑا اور شدید نقصان ہے۔ ان آیات کے نازل ہونے کے بعد بہت سے صحابہ نے شراب کے قریب جانے سے بھی توبہ کرلی پھر وہ آیت نازل فرمائی گئی جس میں صاف طور پر یہ بتا دیا گیا کہ شراب، جوا، بت پرستی اورق سمت کے تیر یہ سب ایک جیسی برائیاں اور شیطانی پھندے اور جال ہیں ان سے ” اجتناب “ کرو اسی میں فلاح و کامیابی ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام جو عربی زبان کی اس نزاکت و عظمت سے واقف تھے کہ اگر شراب کو صرف حرام کہا جاتا تو شاید بات میں اتنا زور نہ ہوتا اس کا مفہوم تو صرف یہ ہوتا کہ اب شراب سے ہاتھ روک لئے جائیں لیکن اجتناب کا مفہوم بہت وسیع ہے یعنی شراب سے صرف رکنا ہی نہیں ہے بلکہ اس سے متعلق ہر چیز کو توڑ پھوڑ کر رکھ دینا بھی ہے۔ چناچہ جو لوگ شراب نوشی کر رہے تھے انہوں نے نہ صرف اس ” ام الخبائث “ سے توبہ کرلی بلکہ ان برتنوں اور شراب کے مٹکوں کو بھی توڑ دیا جن میں شراب جمع کر کے رکھی جاتی تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ اس دن شراب مدینہ کی گلیوں میں اس طرح بہہ رہی تھی جس طرح برسات میں پانی بہتا ہے۔ اس بات کو میں نے تفصیل سے اس لئے بیان کیا کہ ” تدریج اور تکمیل “ کا یہ عمل قرآن کریم کے احکامات میں بہت جگہ نظر آئے گا اسی طرح نماز، روزہ، زکوۃ حج، جہاد، وراثت، قبلہ وغیرہ میں بھی یہی تدریج اور تکمیل کا عمل نظر آئے گا جو ایک فطری اور صحیح عمل تھا لیکن یہ باتیں کفار کے نزدیک بڑی قابل اعتراض تھیں وہ بلا سوچے سمجھے یہ کہتے تھے کہ یہ کیسا قرآن ہے کہ جس میں آج ایک بات ہے دوسرے دن دوسری بات ہے وہ کہتے کہ (نعوذ باللہ) یہ سب گھڑی گھڑائی باتیں ہیں۔ ان کی زبانیں یہاں تک آزاد ہوگئی تھیں کہ وہ کہتے تھے کہ ہمیں معلوم ہے یہ قرآن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی سکھا جاتا ہے ان کی مراد ان رومی یا فارسی غلاموں سے تھی جو آپ کے پاس دین سیکھنے آتے تھے یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس ان کو دین سکھانے تشریف لے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کفار مکہ کے ان دونوں غیر سنجیدہ اعتراضات کے نہایت سنجیدہ اور اہم جوابات عنایت فرمائے ہیں۔ پہلے اعتراض کا جواب تو یہ ارشاد فرمایا کہ جس اللہ نے اپنا کلام روح القدس یعنی حضرت جبرئیل کے ذریعہ قلب مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا ہے یہ اس کا اپنا کلام ہے وہ جب چاہے جیسے چاہے اپنے علم اور مصلحت سے اپنے کلام کو تبدیل کرسکتا ہے کیونکہ اس بات کو اکثر لوگ نہیں سمجھتے لیکن وہ اللہ جو تمام انسانوں کا خالق ہے وہ جانتا ہے کہ انسان کی فلاح و بہبود کے لئے کب کیا بات ضروری ہے یا ضروری نہیں ہے۔ اعتراض اسی پر ہو سکتا تھا کہ کلام تو اللہ نے نازل کیا ہے اور اس میں تبدیلی کوئی اور کرتا ۔ لیکن اس میں کیا اعتراض کی گنجائش ہے کہ جس کا کلام ہے وہی نازل کرتا ہے وہی تبدیل کرتا ہے۔ کفار مکہ کے دوسرے اعتراض کا جواب یہ دیا گیا کہ قرآن کریم تو صاف واضح اور اعلیٰ ترین عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے جس کے سامنے سب گونگے بن کر رہ گئے ہیں کوئی اس کے چیلنج کا جواب تک دینے کے قابل نہیں ہے۔ اگر یہ کہتے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نعوذ باللہ کوئی عربی زبان کا ماہر، ادیب یا شاعر سکھا جاتا ہے تو شاید بات سمجھ میں آسکتی تھی لیکن وہ شاعر و ادیب اور عربی زبان کے ماہرین کا یہ حال تھا کہ وہ خود قرآن کریم کے سامنے عاجز لاچار اور بےبس تھے وہ کیا کرسکتے تھے لیکن یہ بات کس قدر جاہلانہ اور عقل سے بعید تر ہے کہ ایسا کلام آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ عجمی غلام سکھائیں گے جو عربی زبان بھی صحیح نہیں جانتے۔ فرمایا کہ یہ کتنے بدقسمت لوگ ہیں جو قرآن کریم سے کچھ سیکھنے کے بجائے جاہلانہ اعتراض کر کے ابدی راحتوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ اہل ایمان جو قرآن کریم اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لا کر اس قرآن کریم کے ذریعہ اپنی روح کی تسکین اور آخرت کی کامیابی حاصل کر رہے ہیں فرمایا کہ یہ قرآن کریم ان لوگوں کے دلوں کے جمانے کا اور اطمینان قلب کا ذریعہ ہے جو اللہ و رسول پر ایمان لے آئے ہیں۔ یہ ان کے لئے ہدایت بھی ہے اور فرماں برداروں کے لئے ابدی راحتوں اور آخرت کی کامیابیوں کے لئے بشارت بھی ہے۔ فرمایا کہ وہ لوگ جو ان آیات پر یقین نہیں رکھتے ان کو نہ دنیا میں رہبری و رہنمائی نصیب ہوگی اور نہ آخرت میں بلکہ آخرت میں تو درد ناک عذاب ان کا منتظر ہے۔ یہ قرآن کریم گھڑا ہوا کلام یا جھوٹا کلام نہیں ہے بلکہ وہ لوگ سب سے بڑے جھوٹے اور جھوٹ کے پجاری ہیں جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔ اس موقع پر ایک بات کی وضاحت ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کے بنیادی اصولوں میں تدریج اور تکمیل کا عمل اس وقت تک تھا جب تک دین کے احکامات مکمل نہیں ہوگئے جب اللہ نے یہ فرما دیا کہ دین اسلام مکمل ہوگیا ہے۔ نعمت نبوت مکمل ہوگئی ہے اور اللہ بھی دین اسلام پر راضی ہے تو اب تدریج کا ہر عمل ختم ہوگیا اور دین درجہ تکمیل تک پہنچ گیا ہے یعنی دین اور اس کے تمام اصول مکمل ہوگئے ہیں اب اس میں کسی تبدیلی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور نہ کسی تدریج پر عمل کرنے کی ضرورت ہے سوائے اللہ و رسول کے حکم کے، یہ بات میں نے اس لئے عرض کی ہے کہ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اب حالات پھر اسی طح پر پہنچ گئے ہیں جہاں نزول قرآن کے وقت تھے۔ معاشرہ تباہ ہوچکا ہے لہٰذا احکامات میں پہلے والی سہولتیں دی جائیں تاکہ عام آدمی دین کی طرف آسکے۔ میں یہ عرض کروں گا کہ جب دین کے تمام اصول مکمل ہوگئے ہیں تو اب خیر و برکت کا ذریعہ یہی ہے کہ ان اصولوں کو نافذ کیا جائے۔ مثلاً اللہ کا یہ حکم ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور اسی معاملہ میں کسی کی کوئی رعایت نہ کی جائے تو اب حکم یہ ہوگا۔ کہ اس کو پوری قوت سے نافذ کردیا جائے گا تو دنیا سے چوری کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے۔ کسی کا یہ کہنا کہ پہلے ایسے معاشی حالات پیدا کئے جائیں تاکہ کوئی چوری نہ کرے پھر احکامات نافذ کئیج ائیں۔ میرے نزدیک یہ بہت غلط انداز فکر ہے صحیح فکریہ ہے کہ اسلام کے جو قوانین ہیں ان کو نافذ کردیا جائے گا تو ان کی برکتوں سے مسائل حل ہوں گے اور معاشی حالات بھی درست ہوتے چلے جائیں گے ورنہ ان ہی فلسفوں میں الجھ کر دین کبھی نافذ نہ ہو سکے گا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں جن کے پاس زبردست وسائل موجود ہیں ہر گھر اور کارخانے اور آفسوں میں الارم فٹ کئے گئے ہیں لیکن وہ معاشرے انسان کی جان و مال کی حفاظت میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں جبکہ ان کو معاشی سکون بھی حاصل ہے اس کے برخلاف سعودی عربیہ میں چور کا ہاتھ کاٹنے کا قانون نافذ ہے وہاں یہ عالم ہے کہ اگر ایک شخص اپنا گھر، کاروبار اور آفس کھلا چھوڑ جائے تو کسی کی مجال نہیں ہے کہ کسی کے مال کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی دیکھ لے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا قانون بنا بنا کر تھک گئی ہے ہر روز اپنے قوانین میں تبدیلیاں کرتی رہتی ہے چونکہ قانون انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں تو انسان ہی ان قوانین کا توڑ بھی نکال لیتے ہیں اور اس طرح قانون سازوں اور قانون شکنوں کی جنگ جاری رہتی ہے اور صورتحال یہی رہی تو یہ جنگ جاری رہے گی۔ اس کا حل صرف ایک ہی ہے کہ آج دنیا اگر پرسکون رہنا چاہتی ہے تو اس کو اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قوانین کو نافذ کردینا چاہئے کیونکہ یہ وہ قوانین ہیں جن کو اللہ نے بنایا ہے انسان اس کو توڑ نہیں سکتے۔ چونکہ یہ قوانین اس خالق ومالک نے بنائے ہیں جو انسانوں کی فطرت سے واقف ہے لہٰذا یہی قانون فطرت انسانوں کی نجات کا ذریعہ ہے۔ اس سے ہٹ کر جو بھی قوانین نافذ کئے جائیں گے ان سے انسان کو کبھی سکون صنیب نہیں ہوگا۔ اور انسان اپنے خلاق سے جنگ کر کے آخر کار ہار کر بیٹھ جائے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی ایک آیت کو لفظا یا معنی منسود کرکے اس کی جگہ دوسراحکم بھیج دیتے یہں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کے بارے میں ایک وضاحت اور اس حوالے سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لگائے جانے والے الزام کی تردید۔ کفار اور اہل کتاب کو قرآن مجید پر ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اس کی بعض آیات اور احکام میں ردوبدل کیوں پایا جاتا ہے۔ اس اعتراض کا یہاں اس طرح جواب دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی آیات اور احکام میں جو ردوبدل فرماتا ہے اس کی حکمت کما حقہ وہی جانتا ہے۔ البتہ اس کے پیچھے لوگوں کی خیر خواہی مقصود ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے حالات کے مطابق اپنے احکام میں ردّوبدل نہ فرمائے تو اس سے لوگوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سورة البقرۃ آیت ١٠٦، میں اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے یوں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم کوئی آیت منسوخ کریں یا اس سے ملتی جلتی دوسری آیت لے آئیں تو یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا انتخاب اور اس کا اختیار ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر بات پر اختیار رکھتا ہے۔ یہ حاکم مطلق کی مرضی اور مشیت ہے کہ شریعت کے جس حکم کو چاہے معطل، منسوخ یا اس میں ردّوبدل فرمائے۔ اس میں مخلوق کا نہ تو عمل دخل ہے اور نہ ہی کسی کو اعتراض کرنے کی گنجائش ہے۔ یہاں تک کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس میں زیروزبر کی تبدیلی کا اختیار نہیں رکھتے تھے یہ قادرمطلق اور شہنشاہ عالم کا اختیار ہے کہ وہ اپنے حکم کو جس طرح چاہے، جب چاہے اور جس قدر چاہے اس میں تبدیلی کرے لیکن اس کے باوجود قرآن مجید کے منکر رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ الزام لگاتے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ قرآن مجید خود گھڑ لیا ہے۔ کیونکہ ان کے اس الزام کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ اس لیے اس آیت کے آخر میں فرمایا ہے کہ لوگوں کی اکثریت آیات اور احکام کے ردّوبدل کی حکمت نہیں جانتی جس وجہ سے وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ قرآن مجید اپنی طرف سے بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ الزام لگانے والوں کو بارہا دفعہ چیلنج کیا گیا کہ اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو تمام کے تمام مل کر اس جیسی چھوٹی سے چھوٹی سورت بنا لاؤ۔ تبدیلی اور نسخ کا فائدہ : نسخ کا معنٰی ہے کسی بات کو مٹانا یا اس کا ازالہ کرنا۔ اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں : (١) ایک حکم خاص مدت کے لیے ہو، دوسری مدت کے لیے دوسرا حکم نازل ہوجائے۔ (٢) تربیت اور خاص مصلحت کی خاطر پہلے حکم میں نرمی اور کچھ گنجائش ہو بعد ازاں مکمل اور دائمی حکم نازل کردیا جائے۔ جس طرح شراب کی حرمت، قبلہ کی تبدیلی اور دوسرے معاملات کے بارے میں تدریجاً احکامات نازل ہوئے۔ قرآن مجید میں اس کے برعکس بھی مثال موجود ہے کہ قتال کے سلسلہ میں پہلا حکم سخت تھا لیکن اس کے بعد اس میں نرمی کردی گئی۔ (٣) پہلا حکم لوگوں کی خاص حالت کے بارے میں ہوبعدازاں حالات کی تبدیلی کی وجہ سے اسے کلیۃً منسوخ کردیا جائے اور اس کی جگہ اس سے ملتا جلتا یا اس سے جامع اور کثیر المقاصد حکم نازل کردیا جائے۔ قرآن مجید میں تینوں اقسام کی امثال موجود ہیں۔ جن علماء نے ان تینوں اقسام کو ناسخ اور منسوخ میں شامل کیا ہے انہوں نے درجنوں آیات کو اس زمرہ میں شامل کردیا حالانکہ ناسخ ‘ منسوخ کو حقیقی اور کلی معنوں میں لیا جائے تو ان کی تعداد چند آیات سے زیادہ نہیں ہے۔ اس بنا پر شاہ ولی اللہ (رض) نے صرف پانچ آیات کو منسوخ شمار کیا ہے۔ (الفوز الکبیر : شاہ ولی اللہ ) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے احکام منسوخ کرنے یا ان میں ردّ وبدل کرنے کا پورا حق ہے۔ ٢۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملک ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ تفسیر باالقرآن لوگوں کی اکثریت دین کے بارے میں بےعلم اور ناسمجھ ہوتی ہے : ١۔ اکثر ان کے بےعلم ہیں۔ (النحل : ١٠١) ٢۔ اللہ تعالیٰ آیات اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر بیخبر ہیں۔ (الانعام : ٣٧) ٣۔ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : ٢١) ٤۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر بیخبر ہیں۔ (الروم : ٤٠) ٥۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ (النحل : ٣٨) ٦۔ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (الروم : ٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

مشرکین کو معلوم نہیں ہے کہ اس کتاب کا فنکشن کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے کہ یہ ایک عالمی سوسائٹی وجود میں لائے یعنی امت مسلمہ اور اس بات سے وہ بیخبر ہیں۔ یہ امت ایسی ہو جو پوری دنیا کی قیادت کرے اور یہ کہ یہ آخری امت ہے۔ آئندہ دنیا میں سب کچھ اس نے کرنا ہے ، آسمانوں سے اب کوئی نئی رسالت نہیں آتنی ہے۔ پھر یہ کہ اللہ جس نے انسان کو پیدا کیا وہی جانتا ہے کہ انسان کی مصلحت اور ضرورت کیا ہے۔ جب کسی حکم کا مقصد پورا ہوجائے اور اس وقتی حکم کی میعاد پوری ہوجائے تو اللہ ایک جدید حکم لے آتا ہے کیونکہ جدید حالات میں اس جدید حکم کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور وہ زیادہ مناسب بھی ہوتا ہے۔ سابقہ وقتی حکم کے مقابلے میں اب یہ حکم دائمی اور ابد الدھر تک قائم رہنے کا اہل ہوتا ہے۔ اللہ ہی سب کچھ جانتا ہے اور آیات الہیہ کی مثال تو ایسی ہے کہ جس طرح مریض کو گھونٹ گھونٹ دوا پلائی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ شفایات ہوجاتا ہے۔ اب دوائی کے بجائے اسے معمول کی غذائیں دی جاتی ہیں تاکہ وہ معمول کی زندگی بسر کرے۔ لیکن مشرکین مکہ اس حکمت سے واقف نہ تھے ، اس لئے وہ یہ بھی نہ سمجھ سکے کہ ایک آیت کے بعد دوسری آیت کیوں آرہی ہے۔ خود حضور کی زندگی میں قوانین کیوں بدل رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو اس پر محمول کیا کہ نعوذ باللہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی طرف سے آیات بناتے ہیں ، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو صادق و امین ہیں اور کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتے ، چہ جائیکہ وہ اللہ پر جھوٹ بولیں۔ بل اکثر ھم لا یعلمون (٦١ : ١٠١) ” حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے “۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قرآن مجید کی بعض آیات منسوخ ہونے پر معاندین کا اعتراض اور اس کا جواب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں احکام میں نسخ ہوتا رہتا تھا اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک حکم دیا پھر اس سے منع فرما دیا اور اس کے خلاف حکم دیدیا اس کو دیکھ کر مشرکین نے اعتراض کیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آج ایک بات کہتے ہیں اور کل کو اس سے رجوع کرلیتے ہیں اگر واقعی یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں نسخ کیوں ہوتا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ محمد اپنے پاس سے بدل دیتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر افترا کرتے ہیں، سورة بقرہ میں (مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْنُنْسِھَا) کے ذیل میں ان لوگوں کا اعتراض اور اس کا جواب مذکور ہوچکا ہے یہاں (وَ اِذَا بَدَّلْنَآ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ ) (الایۃ) فرما کر ان کا اعتراض اور اعتراض کا جواب ذکر فرمایا ان کا اعتراض جہالت پر مبنی تھا اللہ تعالیٰ کے سب کام حکمت پر مبنی ہیں جب اللہ تعالیٰ نے کسی حکم کو منسوخ فرمایا تو اس کی جگہ دوسرا حکم دیدیا دوسرا حکم کبھی بندوں کے حق میں زیادہ نفع مند ہوتا تھا اور کبھی مکمل ہوتا تھا لیکن اعتراض کرنے والے کو اعتراض ہی آتا ہے ان میں اکثر جاہل ہوتے ہیں اسی لیے (بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) فرمایا، اور بعض لوگ علم تو رکھتے ہیں لیکن ضد اور عناد کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں، درمیان میں بطور جملہ معترضہ فرمایا (وَّ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ ) کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے، جو حکم پہلے نازل فرمایا وہ بھی اسے معلوم ہے اور بعد میں جو حکم نازل فرمایا وہ اسے بھی جانتا ہے جسے سب کچھ معلوم ہے اور جس کے ہاں بھول نہیں ہے اس نے حکمت کے مطابق پہلے ایک حکم بھیجا پھر دوسرا حکم نازل فرما دیا وہ بھی حکمت کے مطابق ہے اس میں اعتراض کی کوئی بات نہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

83:۔ یہ مشرکین پر شکوی ہے جو قرآن مجید پر شیطانی وسوں سے بےجا شبہات وارد کرتے تھے یہ ان کا پہلا شبہ ہے جو دلیل وحی سے متعلق ہے قرآن مجدی میں جو احکام ابتداء میں وقتی مصالح کی بنا پر نازل کیے گئے تھے جب ان کی ضرورت باقی نہ رہی تو انہیں منسوخ کردیا گیا اس پر مشرکین طعن کرنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک بات کہے پھر اسے واپس لے لے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ (عیاذا باللہ) یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ یہ محمد کا کلام ہے جسے وہ غلط طور سے اللہ کی طرف منسوب کردیتا ہے۔ مشرکین ظالم و ایسے بیباک تھے کہحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے پورے وثوق سے کہنے لگے ” انما انت مفتر “ اے محمد بات صرف یہی ہے کہ تو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتا ہے یعنی اللہ نے یہ کلام نازل نہیں فرمایا (انما انت مفتر) متقول علی اللہ تعالیٰ تامر بشیء چم یبدو لک فتنھی عنہ (روح ج 14 س 231) ۔ 84:۔ یہ درمیان میں جمہ معترضہ ہے جس میں نسخ کی حکمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو کچھ نازل کرتا ہے اس کی مصلحتوں اور اس کے مواقع کو وہ خوب جانتا ہے یہ کور باطن محض نادانی سے اعتراض کرتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

101 ۔ اور ہم جب کسی آیت کی بجائے دوسری آیت کو بدلتے ہیں اور ایک آیت کے حکم کی جگہ دوسری آیت کا حکم لے آتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ جو حکم نازل کرتا ہے اور جو حکم بھیجتا ہے اس کی حکمت اور مصلحت کو وہ خوب جانتا ہے تو یہ دین حق کے منکر اس تبدیلی پر کہتے ہیں کہ بس تو ہی افتراء کرنیوالا ہے اور تو اپنے دل سے خود گھڑنے والا اور بنانے والا ہے یہ بات نہیں ہے بلکہ ان میں کے اکثر لوگ جاہل اور ناسمجھ ہیں ۔ یعنی جب کوئی آیت لفظا یامعنا ً منسوخ ہوجاتی ہے اور اس آیت کے حکم کی بجائے ہم دوسرا حکم بھیجتے ہیں تو مخالف کہتے ہیں کہ یہ سب تیری من گھڑت ہے اور اگر یہ کلام اللہ تعالیٰ کا ہوتا تو اس میں نسخ نہ ہوتا گویا وہ نسخ کو کلام الٰہی کے منافی سمجھتے تھے اور یہی ان کی جاہلانہ باتیں ہیں اگر وہ نسخ کی حقیقت کو سمجھتے اور جانتے تو کبھی یہ بات نہیں کہتے۔ نسخ کا مطلب تو صرف اس قد رہے کہ ایک حکم کی مقررہ مدت ختم ہوجائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اس کلام میں اللہ تعالیٰ نے اکثرنسخ فرمایا ہے تو کافر شبہ کرتے اس کا جواب سمجھا دیا یعنی ہر وقت پر موافق اس وقت کے حکم بھیجے تو یقین والوں کا دل قوی ہو کر ہمارا رب ہر حال سے خبردار ہے ۔ 12