The Idolators' Claim that the Qur'an was taught by a Human, and the Refutation of their Claim
Allah says:
وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ
...
And indeed We know that they (polytheists and pagans) say: "It is only a human being who teaches him."
Allah tells about the idolators' lies, allegations, and slander when they claimed that this Qur'an which Muhammad had recited for them, was actually taught to him by a human.
They referred to a foreign (i.e., non-Arab) man who lived among them as the servant of some of the clans of Quraysh and who used to sell goods by As-Safa. Maybe the Messenger of Allah used to sit with him sometimes and talk to him a little, but he was a foreigner who did not know much Arabic, only enough simple phrases to answer questions when he had to.
So in refutation of their claims of fabrication, Allah said:
...
لِّسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَـذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ
The tongue of the man they refer to is foreign, while this (the Qur'an) is a (in) clear Arabic tongue.
meaning, how could it be that this Qur'an with its eloquent style and perfect meanings, which is more perfect than any Book revealed to any previously sent Prophet, have been learnt from a foreigner who hardly speaks the language! No one with the slightest amount of common sense would say such a thing.
سب سے زیادہ منزلت و رفعت والا کلام
کافروں کی ایک بہتان بازی بیان ہو رہی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اسے یہ قرآن ایک انسان سکھاتا ہے ۔ قریش کے کسی قبیلے کا ایک عجمی غلام تھا ، صفا پہاڑی کے پاس خرید و فروخت کیا کرتا تھا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی اس کے پاس بیٹھ جایا کرتے تھے اور کچھ باتیں کر لیا کرتے تھے ، یہ شخص صحیح عربی زبان بولنے پر بھی قادر نہ تھا ۔ ٹوٹی پھوٹی زبان میں بمشکل اپنا مطلب ادا کر لیا کرتا تھا ۔ اس افترا کا جواب جناب باری دیتا ہے کہ وہ کیا سکھائے گا جو خود بولنا نہیں جانتا ، عجمی زبان کا آدمی ہے اور یہ قرآن تو عربی زبان میں ہے ، پھر فصاحت و بلاغت والا ، کمال و سلاست والا ، عمدہ اور اعلیٰ پاکیزہ اور بالا ۔ معنی ، مطلب ، الفاظ ، واقعات ہیں ۔ سب سے نرالا بنی اسرائیل کی آسمانی کتابوں سے بھی زیادہ منزلت اور رفعت والا ۔ وقعت اور عزت والا ۔ تم میں اگر ذرا سی عقل ہوتی تو یوں ہتھیلی پر چراغ رکھ کر چوری کرنے کو نہ نکلتے ، ایسا جھوٹ نہ بکتے ، جو بیوقوفوں کے ہاں بھی نہ چل سکے ۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ ایک نصرانی غلام جسے جبر کہا جاتا تھا جو بنو حضرمی قبیلے کے کسی شخص کا غلام تھا ، اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ کے پاس بیٹھ جایا کرتے تھے ، اس پر مشرکین نے یہ بےپر کی اڑائی کہ یہ قرآن اسی کا سکھایا ہوا ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری ۔ کہتے ہیں کہ اس کا نام یعیش تھا ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں مکہ شریف میں ایک لوہار تھا جس کا نام بلعام تھا ۔ یہ عجمی شخص تھا ، اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تعلیم دیتے تھے تو آپ کا اس کے پاس آنا جانا دیکھ کر قریش مشہور کرنے لگے کہ یہی شخص آپ کو کچھ سکھاتا ہے اور آپ اسے کلام اللہ کے نام سے اپنے حلقے میں سکھاتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے مراد اس سے سلمان فارسی ہیں رضی اللہ عنہ ۔ لیکن یہ قول تو نہایت بودا ہے کیونکہ حضرت سلمان تو مدینے میں آپ سے ملے اور یہ آیت مکے میں اتری ہے ۔ عبید اللہ بن مسلم کہتے ہیں ہمارے دو مقامی آدمی روم کے رہنے والے تھے جو اپنی زبان میں اپنی کتاب پڑھتے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی جاتے آتے کبھی ان کے پاس کھڑے ہو کر سن لیا کرتے ، اس پر مشرکین نے اڑایا کہ انہی سے آپ قرآن سیکھتے ہیں ۔ اس پر یہ آیت اتری ، سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مشرکین میں سے ایک شخص تھا جو وحی لکھا کرتا تھا ، اس کے بعد وہ اسلام سے مرتد ہو گیا اور یہ بات گھڑلی ۔ اللہ کی لعنت ہو اس پر ۔