Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 103

سورة النحل

وَ لَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّہُمۡ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ ؕ لِسَانُ الَّذِیۡ یُلۡحِدُوۡنَ اِلَیۡہِ اَعۡجَمِیٌّ وَّ ہٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۰۳﴾

And We certainly know that they say, "It is only a human being who teaches the Prophet." The tongue of the one they refer to is foreign, and this Qur'an is [in] a clear Arabic language.

ہمیں بخوبی علم ہے کہ یہ کافر کہتے ہیں کہ اسے تو ایک آدمی سکھاتا ہے اس کی زبان جس کی طرف یہ نسبت کر رہے ہیں عجمی ہے اور یہ قرآن تو صاف عربی زبان میں ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Idolators' Claim that the Qur'an was taught by a Human, and the Refutation of their Claim Allah says: وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ ... And indeed We know that they (polytheists and pagans) say: "It is only a human being who teaches him." Allah tells about the idolators' lies, allegations, and slander when they claimed that this Qur'an which Muhammad had recited for them, was actually taught to him by a human. They referred to a foreign (i.e., non-Arab) man who lived among them as the servant of some of the clans of Quraysh and who used to sell goods by As-Safa. Maybe the Messenger of Allah used to sit with him sometimes and talk to him a little, but he was a foreigner who did not know much Arabic, only enough simple phrases to answer questions when he had to. So in refutation of their claims of fabrication, Allah said: ... لِّسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَـذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ The tongue of the man they refer to is foreign, while this (the Qur'an) is a (in) clear Arabic tongue. meaning, how could it be that this Qur'an with its eloquent style and perfect meanings, which is more perfect than any Book revealed to any previously sent Prophet, have been learnt from a foreigner who hardly speaks the language! No one with the slightest amount of common sense would say such a thing.

سب سے زیادہ منزلت و رفعت والا کلام کافروں کی ایک بہتان بازی بیان ہو رہی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اسے یہ قرآن ایک انسان سکھاتا ہے ۔ قریش کے کسی قبیلے کا ایک عجمی غلام تھا ، صفا پہاڑی کے پاس خرید و فروخت کیا کرتا تھا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی اس کے پاس بیٹھ جایا کرتے تھے اور کچھ باتیں کر لیا کرتے تھے ، یہ شخص صحیح عربی زبان بولنے پر بھی قادر نہ تھا ۔ ٹوٹی پھوٹی زبان میں بمشکل اپنا مطلب ادا کر لیا کرتا تھا ۔ اس افترا کا جواب جناب باری دیتا ہے کہ وہ کیا سکھائے گا جو خود بولنا نہیں جانتا ، عجمی زبان کا آدمی ہے اور یہ قرآن تو عربی زبان میں ہے ، پھر فصاحت و بلاغت والا ، کمال و سلاست والا ، عمدہ اور اعلیٰ پاکیزہ اور بالا ۔ معنی ، مطلب ، الفاظ ، واقعات ہیں ۔ سب سے نرالا بنی اسرائیل کی آسمانی کتابوں سے بھی زیادہ منزلت اور رفعت والا ۔ وقعت اور عزت والا ۔ تم میں اگر ذرا سی عقل ہوتی تو یوں ہتھیلی پر چراغ رکھ کر چوری کرنے کو نہ نکلتے ، ایسا جھوٹ نہ بکتے ، جو بیوقوفوں کے ہاں بھی نہ چل سکے ۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ ایک نصرانی غلام جسے جبر کہا جاتا تھا جو بنو حضرمی قبیلے کے کسی شخص کا غلام تھا ، اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ کے پاس بیٹھ جایا کرتے تھے ، اس پر مشرکین نے یہ بےپر کی اڑائی کہ یہ قرآن اسی کا سکھایا ہوا ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری ۔ کہتے ہیں کہ اس کا نام یعیش تھا ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں مکہ شریف میں ایک لوہار تھا جس کا نام بلعام تھا ۔ یہ عجمی شخص تھا ، اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تعلیم دیتے تھے تو آپ کا اس کے پاس آنا جانا دیکھ کر قریش مشہور کرنے لگے کہ یہی شخص آپ کو کچھ سکھاتا ہے اور آپ اسے کلام اللہ کے نام سے اپنے حلقے میں سکھاتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے مراد اس سے سلمان فارسی ہیں رضی اللہ عنہ ۔ لیکن یہ قول تو نہایت بودا ہے کیونکہ حضرت سلمان تو مدینے میں آپ سے ملے اور یہ آیت مکے میں اتری ہے ۔ عبید اللہ بن مسلم کہتے ہیں ہمارے دو مقامی آدمی روم کے رہنے والے تھے جو اپنی زبان میں اپنی کتاب پڑھتے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی جاتے آتے کبھی ان کے پاس کھڑے ہو کر سن لیا کرتے ، اس پر مشرکین نے اڑایا کہ انہی سے آپ قرآن سیکھتے ہیں ۔ اس پر یہ آیت اتری ، سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مشرکین میں سے ایک شخص تھا جو وحی لکھا کرتا تھا ، اس کے بعد وہ اسلام سے مرتد ہو گیا اور یہ بات گھڑلی ۔ اللہ کی لعنت ہو اس پر ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

103۔ 1 یعنی بعض غلام تھے جو تورات و انجیل سے واقف تھے، پہلے وہ عیسائی یا یہودی تھے، پھر مسلمان ہوگئے ان کی زبان میں بھی روانی نہ تھی۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ فلاں غلام، محمد کو قرآن سکھاتا ہے۔ 103۔ 2 اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ یہ جس آدمی، یا آدمیوں کا نام لیتے ہیں وہ تو عربی زبان بھی روانی کے ساتھ نہیں بول سکتے، جب کہ قرآن تو ایسی صاف عربی زبان میں ہے جو فصاحت و بلاغت اور اعجاز بیان میں بےنظیر ہے اور چلینج کے باوجود اس کی مثل ایک سورت بھی بنا کر پیش نہیں کی جاسکتی، دنیا بھر کے عالم فاضل اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ عربی اس شخص کو عجمی (گونگا) کہتے تھے جو فصیح وبلیغ زبان بولنے سے قاصر ہوتا تھا اور غیر عربی کو بھی عجمی کہا جاتا ہے کہ عجمی زبانیں بھی فصاحت و بلاغت میں عربی زبان کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٨] کسی عجمی سے قرآن سیکھنے کا جواب :۔ اس سلسلے میں کفار مکہ متعدد عجمی غلاموں کے نام لیتے تھے جو تورات اور انجیل کی تعلیم سے واقف تھے۔ جب کبھی کافروں نے دیکھا کہ آپ دعوت اسلام کے لیے ان کے پاس گئے یا وہ غلام آپ کے پاس آیا تو کافروں نے مشہور کردیا کہ یہ نبی تو فلاں آدمی سے سابقہ امتوں کے قصے اور کہانیاں سنتا ہے۔ پھر ہمیں سنا دیتا ہے۔ حالانکہ وہ عجمی غلام اپنی زبان میں تو بات کرسکتے تھے۔ عربی ٹھیک طرح بول بھی نہ سکتے تھے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا یہ جواب دیا کہ قرآن کی زبان تو اس قدر فصیح وبلیغ ہے کہ اس کی نظیر لانے سے تم عربی لوگ اپنی فصاحت و بلاغت پر فخر کرنے کے باوجود قاصر ہو تو بھلا ایک عجمی شخص یہ کلام کیسے سکھلا سکتا ہے جبکہ وہ خود عربی ٹھیک طرح بول بھی نہیں سکتا اور چند ٹوٹے پھوٹے جملے بول کر اپنا کام چلاتا ہے۔ اور اس اعتراض کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر وہ عجمی غلام اتنا ہی بڑا عالم تھا تو اس نے یہ کلام خود اپنی طرف سے کیوں نہ پیش کردیا۔ یا کم از کم اسے اس زمانہ میں نامور تو ضرور ہونا چاہیے جبکہ ان کی گمنامی کا یہ حال ہے کہ کافر ان تین چار غلاموں میں سے کسی ایک کا نام تک متعین نہ کرسکے کہ وہ کون تھا جو آپ کو قرآن سکھلا جاتا تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ ۔۔ : یہ قرآن پر ان کا دوسرا طعن تھا۔ اس شخص کی تعیین میں کئی روایات ہیں، بعض میں اس کا نام بلعام بتایا گیا ہے، بعض میں مقیس، بعض میں ابن الحضرمی کا ایک غلام۔ مگر ان میں سے صحیح روایت وہ ہے جو عبداللہ بن مسلم الحضرمی نے بیان کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے دو عیسائی غلام تھے جو ” عین التمر “ کے باشندے تھے۔ ایک کا نام یسار تھا، دوسرے کا جبر، وہ دونوں اپنی کوئی کتاب پڑھا کرتے تھے، بعض اوقات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس سے گزرتے تو ٹھہر جاتے۔ مشرکین کہنے لگے، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان دونوں سے سیکھتا ہے، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (طبری : ٢٢٠٧٣) ” الاستیعاب فی بیان الاسباب “ میں اسے صحیح اور دوسری روایات کو ضعیف کہا گیا ہے اور حافظ ابن حجر (رض) نے بھی ” الاصابۃ “ میں اسے صحیح کہا ہے۔ بہرحال صرف چند لمحے اس شخص کے پاس ٹھہرنے سے انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا شاگرد اور قرآن کو اس کا کلام ہونے کا بہتان جڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جس کی طرف یہ لوگ غلط نسبت کر رہے ہیں وہ خود عجمی ہے، جبکہ قرآن فصیح ترین عربی ہے۔ 3 آلوسی نے فرمایا : ” قرآن نے اس شخص کے نام کی تصریح نہیں کی، حالانکہ اس میں کفار کا جھوٹ زیادہ واضح ہوتا، اس لیے کہ بتانا یہ مقصود ہے کہ ان کی اصل غلطی کسی خاص شخص کو آپ کا معلم قرار دینا نہیں بلکہ کسی بھی بشر کو آپ کا معلم قرار دینا ہے۔ “ روح القدس کے ذریعے سے نازل شدہ اللہ کے کلام کی اس سے بڑھ کر کیا توہین ہوگی کہ اسے کسی آدمی کا کلام کہا جائے، خواہ وہ کتنا بڑا عالم ہو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ ۭ لِسَانُ الَّذِيْ يُلْحِدُوْنَ اِلَيْهِ اَعْجَمِيٌّ وَّھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيْنٌ ١٠٣؁ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا اور راک کرنا علم ( تعلیم) اختصّ بما يكون بتکرير وتكثير حتی يحصل منه أثر في نفس المُتَعَلِّمِ. قال بعضهم : التَّعْلِيمُ : تنبيه النّفس لتصوّر المعاني، والتَّعَلُّمُ : تنبّه النّفس لتصوّر ذلك، وربّما استعمل في معنی الإِعْلَامِ إذا کان فيه تكرير، نحو : أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] ، فمن التَّعْلِيمُ قوله : الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] ، عَلَّمَ بِالْقَلَمِ [ العلق/ 4] ، وَعُلِّمْتُمْ ما لَمْ تَعْلَمُوا[ الأنعام/ 91] ، عُلِّمْنا مَنْطِقَ الطَّيْرِ [ النمل/ 16] ، وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتابَ وَالْحِكْمَةَ [ البقرة/ 129] ، ونحو ذلك . وقوله : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] تعلیم کے معنی با ر بار کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں ۔ حتٰی کہ متعلم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہوجائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ تعلیم کے معنی تصور کیلئے نفس کو متوجہ کرنا کے ہیں اور تعلم کے معنی ایسے تصور کی طرف متوجہ ہونا کے اور کبھی تعلیم کا لفظ اعلام کی جگہ آتا ہے جب کہ اس میں تاکید کے معنی مقصود ہوں جیسے فرمایا ۔ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو ۔ اور حسب ذیل آیات میں تعلیم کا لفظ استعمال ہوا ہے جیسے فرمایا ۔ الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] خدا جو نہایت مہربان اس نے قرآن کی تعلیم فرمائی ۔ قلم کے ذریعہ ( لکھنا ) سکھایا ؛ وَعُلِّمْتُمْ ما لَمْ تَعْلَمُوا[ الأنعام/ 91] اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے عُلِّمْنا مَنْطِقَ الطَّيْرِ [ النمل/ 16] ہمیں خدا کی طرف ست جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے ۔ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتابَ وَالْحِكْمَةَ [ البقرة/ 129] اور خدا کی کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ۔ وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] اور اس نے ادم کو سب چیزوں کے نام سکھائے ۔ میں آدم (علیہ السلام) کو اسماء کی تعلیم دینے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کے اندر بولنے کی صلاحیت اور استعدادرکھ دی جس کے ذریعہ اس نے ہر چیز کے لئے ایک نام وضع کرلیا یعنی اس کے دل میں القا کردیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حیوانات کو ان کے کام سکھا دیئے ہیں جسے وہ سر انجام دیتے رہتے ہیں اور آواز دی ہے جسے وہ نکالتے رہتے ہیٰ بشر وخصّ في القرآن کلّ موضع اعتبر من الإنسان جثته وظاهره بلفظ البشر، نحو : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] ، ( ب ش ر ) البشر اور قرآن میں جہاں کہیں انسان کی جسمانی بناوٹ اور ظاہری جسم کا لحاظ کیا ہے تو ایسے موقع پر خاص کر اسے بشر کہا گیا ہے جیسے فرمایا : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا ۔ إِنِّي خالِقٌ بَشَراً مِنْ طِينٍ [ ص/ 71] کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں ۔ لسن اللِّسَانُ : الجارحة وقوّتها، وقوله : وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي [ طه/ 27] يعني به من قوّة لسانه، فإنّ العقدة لم تکن في الجارحة، وإنما کانت في قوّته التي هي النّطق به، ويقال : لكلّ قوم لِسَانٌ ولِسِنٌ بکسر اللام، أي : لغة . قال تعالی: فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ الدخان/ 58] ، وقال : بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] ، وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] فاختلاف الْأَلْسِنَةِ إشارة إلى اختلاف اللّغات، وإلى اختلاف النّغمات، فإنّ لكلّ إنسان نغمة مخصوصة يميّزها السّمع، كما أنّ له صورة مخصوصة يميّزها البصر . ( ل س ن ) اللسان ۔ زبان اور قوت گویائی کو کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي [ طه/ 27] اور میری زبان کی گرہ گھول دے ۔ یہاں لسان کے معنی قلت قوت گویائی کے ہیں کیونکہ وہ بندش ان کی زبان پر نہیں تھی بلکہ قوت گویائی سے عقدہ کشائی کا سوال تھا ۔ محاورہ ہے : یعنی ہر قوم را لغت دلہجہ جدا است ۔ قرآن میں ہے : فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ الدخان/ 58]( اے پیغمبر ) ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں آسان نازل کیا ۔ بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] فصیح عربی زبان میں ۔ اور آیت کریمہ : وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] اور تمہاری زبانوں اور نگوں کا اختلاف ۔ میں السنہ سے اصوات اور لہجوں کا اختلاف مراد ہے ۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح دیکھنے میں ایک شخص کی صورت دوسرے سے نہیں ملتی اسی طرح قوت سامعہ ایک لہجہ کو دوسرے سے الگ کرلیتی ہے ۔ لحد اللَّحْدُ : حفرة مائلة عن الوسط، وقد لَحَدَ القبرَ : حفره، کذلک وأَلْحَدَهُ ، وقد لَحَدْتُ الميّت وأَلْحَدْتُهُ : جعلته في اللّحد، ويسمّى اللَّحْدُ مُلْحَداً ، وذلک اسم موضع من : ألحدته، ولَحَدَ بلسانه إلى كذا : مال . قال تعالی: لِسانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ [ النحل/ 103] من : لحد، وقرئ : يلحدون من : ألحد، وأَلْحَدَ فلان : مال عن الحقّ ، والْإِلْحَادُ ضربان : إلحاد إلى الشّرک بالله، وإلحاد إلى الشّرک بالأسباب . فالأوّل ينافي الإيمان ويبطله . والثاني : يوهن عراه ولا يبطله . ومن هذا النحو قوله : وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذابٍ أَلِيمٍ [ الحج/ 25] ، وقوله : وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمائِهِ [ الأعراف/ 180] والْإِلْحَادُ في أسمائه علی وجهين : أحدهما أن يوصف بما لا يصحّ وصفه به . والثاني : أن يتأوّل أوصافه علی ما لا يليق به، والْتَحدَ إلى كذا : مال إليه . قال تعالی: وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَداً [ الكهف/ 27] أي : التجاء، أو موضع التجاء . وأَلْحَدَ السّهم الهدف : مال في أحد جانبيه . ( ل ح د ) اللحد ۔ اس گڑھے یا شگاف کو کہتے ہیں جو قبر کی ایک جانب میں بنانا کے ہیں ۔ لحد المیت والحدہ میت کو لحد میں دفن کرنا اور لحد کو ملحد بھی کہا جاتا ہے جو کہ الحد تہ ( افعال ) اسے اسم ظرف ہے ۔ لحد بلسانہ الیٰ کذا زبان سے کسی کی طرف جھکنے یعنی غلط بات کہنا کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ لِسانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ [ النحل/ 103] مگر جس کی طرف تعلیم کی نسبت کرتے ہیں ۔ میں یلحدون لحد سے ہے اور ایک قرات میں یلحدون ( الحد سے ) ہے ۔ کہا جاتا ہے الحد فلان ۔ فلاں حق سے پھر گیا ۔ الحاد دو قسم پر ہے ۔ ایک شرک باللہ کی طرف مائل ہونا دوم شرک بالا سباب کی طرف مائل ہونا ۔ اول قسم کا الحا و ایمان کے منافی ہے اور انسان کے ایمان و عقیدہ کو باطل کردیتا ہے ۔ اور دوسری قسم کا الحاد ایمان کو تو باطل نہیں کرتا لیکن اس کے عروۃ ( حلقہ ) کو کمزور ضرور کردیتا ہے چناچہ آیات : ۔ وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذابٍ أَلِيمٍ [ الحج/ 25] اور جو اس میں شرارت سے کجروی وکفر کرنا چاہے اس کو ہم درد دینے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گے ۔ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمائِهِ [ الأعراف/ 180] ، جو لوگ اس کے ناموں کے وصف میں کجروی اختیار کرتے ہیں ۔ میں یہی دوسری قسم کا الحاد مراد ہے اور الحاد فی اسمآ ئہ یعنی صفات خدا وندی میں الحاد کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ باری تعالیٰ کو ان اوٖاف کے ساتھ متصف ماننا جو شان الو ہیت کے منافی ہوں دوم یہ کہ صفات الہیٰ کی ایسی تاویل کرنا جو اس کی شان کے ذیبا نہ ہو ۔ التحد فلان الٰی کذا ۔ وہ راستہ سے ہٹ کر ایک جانب مائل ہوگیا اور آیت کریمہ : وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَداً [ الكهف/ 27] اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے میں ملتحد ا مصدر میمی بمعنی التحاد بھی ہوسکتا ہے اور اسم ظرف بھی اور اس کے معنی پناہ گاہ کے ہیں التحد السھم عن الھدف تیر نشانے سے ایک جانب مائل ہوگیا یعنی ہٹ گیا ۔ عجم العُجْمَةُ : خلافُ الإبانة، والإِعْجَامُ : الإبهام، واسْتَعْجَمْتُ الدّارَ : إذا بان أهلها ولم يبق فيها عریب، أي : من يبين جوابا، ولذلک قال بعض العرب : خرجت عن بلاد تنطق، كناية عن عمارتها وکون السّكان فيها . والعَجَمُ : خلاف العَرَبِ ، والعَجَمِيُّ منسوبٌ إليهم، والأَعْجَمُ : من في لسانه عُجْمَةٌ ، عربيّا کان، أو غير عربيّ ، اعتبارا بقلّة فهمهم عن العجم . ومنه قيل للبهيمة : عَجْمَاءُ والأَعْجَمِيُّ منسوبٌ إليه . قال : وَلَوْ نَزَّلْناهُ عَلى بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ [ الشعراء/ 198] ، علی حذف الیاءات . قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ قُرْآناً أَعْجَمِيًّا لَقالُوا لَوْلا فُصِّلَتْ آياتُهُءَ أَعْجَمِيٌّ وَعَرَبِيٌ [ فصلت/ 44] ، يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ [ النحل/ 103] ، وسمّيت البهيمة عَجْمَاءَ من حيث إنها لا تبین عن نفسها بالعبارة إبانة النّاطق . وقیل : «صلاة النهار عَجْمَاءُ» «2» ، أي : لا يجهر فيها بالقراءة، «وجُرْحُ العَجْمَاءِ جُبَارٌ» «3» ، وأَعْجَمْتُ الکلامَ ضدّ أَعْرَبْتُ ، وأَعْجَمْتُ الکتابةَ : أزلت عُجْمَتَهَا، نحو : أشكيته : إذا أزلت شكايته . وحروف المُعْجَمُ ، روي عن الخلیل «4» أنها هي الحروف المقطّعة لأنها أَعْجَمِيَّةٌ. قال بعضهم : معنی قوله : أَعْجَمِيَّةٌ أنّ الحروف المتجرّدة لا تدلّ علی ما تدلّ عليه الحروف الموصولة «1» . وباب مُعْجَمٌ: مُبْهَمٌ ، والعَجَمُ : النّوى، الواحدة : عَجَمَةٌ ، إمّا لاستتارها في ثَنْيِ ما فيه، وإمّا بما أخفي من أجزائه بضغط المضغ، أو لأنّه أدخل في الفم في حال ما عضّ عليه فأخفي، والعَجْمُ : العَضُّ عليه، وفلانٌ صُلْبُ المَعْجَمِ ، أي : شدیدٌ عند المختبر . ( ع ج م ) العجمۃ کے معنی ابہام اور خفا کے ہیں اور یہ الا بانۃ کی ضد ہے جس کے معنی واضح اور بیان کردینا کے ہیں اور اعجاز کے معنی ہیں مبہم کرنا استعجت الدار گھر سونا ہوگیا اور اس میں جواب دینے والا کوئی نہ رہا سی بنا پر کسی عربی نے آباد شہروں سے کنایہ کرتے ہوئے کہا خرجت عن بلاد تنطق میں شہروں سے نکلا جو آباد تھے العجم غیر عرب کو کہتے ہیں اور العجمی اس کی طرف منسوب ہے الاعجم وہ آدمی جس کی زبان فصیح نہ ہو خواہ عربی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ عرب لوگ عجمی کی گفتگو بہت کم سمجھتے تھے اور الا عجمی اسکی طرف منسوب ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلَوْ نَزَّلْناهُ عَلى بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ [ الشعراء/ 198] اور اگر ہم اس کو غیر اہل ابان پر اتارتے ۔ میں تخفیف کے لئے یا نسبت کو حزف کردیا گیا ہے ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ قُرْآناً أَعْجَمِيًّا لَقالُوا لَوْلا فُصِّلَتْ آياتُهُءَ أَعْجَمِيٌّ وَعَرَبِيٌ [ فصلت/ 44] اور اگر ہم اس قرآن کو غیر ( زبان ) عربی نازل کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں ( ہماری زبان میں ) کیوں کھول کر بیان نہیں کی گئیں کیا ( خوب کہ قرآن تو عجمی اور مخاطب عربی ۔ يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ [ النحل/ 103] مگر جس کی طرف تعلیم کی نسبت کرتے ہیں اسکی زبان تو عجمی ہے سی سے بھیمۃ ( چوپایہ ) کو عجماء کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ناطق کی طرح الفاظ کے ذریعہ اپنے پانی لاضمیر اور ادا نہیں کرسکتا ۔ حدیث میں ہے جر ح العجماء جبار ( چوپایہ اگر کسی کو زخمی کردے تو مالک پر اس کی دیت نہیں ہے اور دن کی نماز کو عجماء کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں قرات بالجہر نہیں ہوتی اعجمت الکلام میں نے بات مبہم رکھی یہ اعربت کی ضد ہے کبھی اعجمت الکلام کے معنی کلام سے ابہام کو دور کرنا بھی آجاتے ہیں جیسا کہ اشکیہہ ( شکایت زائل کرنا ) خلیل سے مروی ہے کہ حروف مقطعہ کو حروف معجمہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اعجمی یعنی گونگے ہوتے ہیں بعض نے کہا ہے کہ خلیل کا مقصد یہ ہے کہ یہ حروف مفرد ہونے کی صورت میں ان معانی پر دلالت نہیں کرتے جن پر کہ مرکب ہونے کی حالت میں دلالت کرتے ہیں باب معجمہ بندہ دروازہ العجم کھجور کی گٹھلی مفرد عجمۃ اور گٹھلی کو عجمۃ یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ گودا کے اندر مخفی ہوتی ہے اور یا اس لئے کہ اس کا چبانا مشکل ہوتا ہے اور یا اس لئے کہ کھاتے وقت اسے بھی منہ میں ڈال لیا جاتا ہے ۔ اور وہ منہ مین مخفی ہوجاتی ہے اور العجم کے معنی چبانے کے ہیں محاورہ ہے : ۔ فلان صلب العجم یعنی وہ آزمائش میں سخت ہے عَرَبيُّ : الفصیح البيّن من الکلام، قال تعالی: قُرْآناً عَرَبِيًّا[يوسف/ 2] ، وقوله : بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] ، العربی واضح اور فصیح کلام کو کہتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ قُرْآناً عَرَبِيًّا[يوسف/ 2] واضح اور فصیح قرآن ( نازل کیا ) بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195]

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٣) اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کفار مکہ دوسری بات یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کو یہ قرآن کریم تو جبیر و یساریہ دو آدمی آکر سکھا جاتے ہیں جس شخص کی طرف اس کو منسوب کرتے ہیں، اس کی زبان تو (عجمی) عبرانی ہے اور یہ قرآن کریم تو صاف عربی زبان میں ہے۔ جس کو یہ جانتے ہیں۔ شان نزول : (آیت ) ”۔ ولقد نعلم انہم یقولون “۔ (الخ) ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سند ضعیف کے ساتھ ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں بلعام نامی ایک لوہار تھا اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو جانتے تھے اور آپ اس لوہار کے پاس آتے جاتے رہتے تھے اور مشرکین آپ کی آمد و رفت کو دیکھتے تھے، اور اس لوہار کی زبان عجمی تھی تو یہ دیکھ کر مشرکین کہنے لگے کہ یہ قرآن کریم آپ نے بلعام سے سیکھا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی اور ہم کو جانتے ہیں کہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کو تو آدمی سکھا جاتا ہے جس شخص کی طرف اس کو منسوب کرتے ہیں، اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ قرآن کریم صاف عربی ہے، نیز ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حصین کے طریق سے عبداللہ بن مسلم حضرمی سے روایت کیا ہے کہ ہمارے دو غلام تھے، ایک کا نام ” یسار “ اور دوسرے کا ” جبیر “ تھا، دونوں لوہار تھے، دونوں اپنی کتاب پڑھتے اور اپنا علم سکھایا کرتے تھے، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ادھر سے گزرتے اور ان کی قرأت کو سنتے تھے تو اس پر مشرکین کہنے لگے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے یہ قرآن سیکھا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٣ (وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ) مشرکین رسول اللہ پر ایک الزام یہ لگا رہے تھے کہ آپ نے کسی عجمی غلام کو یا اہل کتاب میں سے کسی آدمی کو اپنے گھر میں چھپا رکھا ہے جو تورات کا عالم ہے۔ اس سے آپ یہ ساری باتیں سیکھتے ہیں اور پھر وحی کے نام پر ہمیں سناتے ہیں اور ہم پر دھونس جماتے ہیں۔ (لِسَانُ الَّذِيْ يُلْحِدُوْنَ اِلَيْهِ اَعْجَمِيٌّ وَّھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيْنٌ) چنانچہ یہ الزام لگاتے ہوئے ان کو خود سوچنا چاہیے کہ کوئی عجمی ایسی فصیح وبلیغ عربی زبان کیسے بول سکتا ہے !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

107. In this connection, traditions mention the names of several persons, one of whom is Jabar. According to the disbelievers of Makkah he taught the Prophet (peace be upon him). However, one thing particularly noteworthy about all these persons is that they were non Arab slaves. Whosoever he might be, the fact that he used to recite the Torah and the Gospel and had an acquaintance with the Prophet (peace be upon him). This gave an opportunity to the disbelievers for spreading this false report that it was the particular slave who was the real author of the Holy Quran, but Muhammad (peace be upon him) presented it as the Word of God. This not only shows that his opponents were very impudent in spreading false accusations against the Prophet (peace be upon him) but also that, in general, people are not just in judging the worth of their contemporaries. They were ill treating like this that great personality who has had no parallel in history. Nevertheless, these people who had become blind in their opposition, preferred to attribute the authorship of the matchless Arabic Quran to a non Arab slave who had a smattering of the Torah and the Gospel. Instead of accepting the claim of the Prophet (peace be upon him), who was an embodiment of truth, they attributed its authorship to an insignificant foreign slave.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :107 روایات میں مختلف اشخاص کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ کفار مکہ ان میں سے کسی پر یہ گمان کرتے تھے ۔ ایک روایت میں اس کا نام جبر بیان کیا گیا ہے جو عامر بن الحضرمی کا ایک رومی غلام تھا ۔ دوسری روایت میں حُوَیطِب بن عبد العُزّیٰ کے ایک غلام کا نام لیا گیا ہے جسے عائش یا یَعیش کہتے تھے ۔ ایک اور روایت میں یَسار کا نام لیا گیا ہے جس کی کنیت ابُو فکَیہَہ تھی اور جو مکے کی ایک عورت کا یہودی غلام تھا ۔ ایک اور روایت بَلعان یا بَلعام نامی ایک رومی غلام سے متعلق ہے ۔ بہرحال ان میں سے جو بھی ہو ، کفار مکہ نے محض یہ دیکھ کر کہ ایک شخص تورات و انجیل پڑھتا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے ملاقات ہے ، بے تکلف یہ الزام گھڑ دیا کہ اس قرآن کو دراصل وہ تصنیف کر رہا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی طرف سے خدا کا نام لے لے کر پیش کر رہے ہیں ۔ اس سے نہ صرف یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین آپ کے خلاف افترا پردازیاں کرنے میں کس قدر بے باک تھے ، بلکہ یہ سبق بھی ملتا ہے کہ لوگ اپنے ہم عصروں کی قدر و قیمت پہچاننے میں کتنے بے انصاف ہوتے ہیں ۔ ان لوگوں کے سامنے تاریخ انسانی کی ایک ایسی عظیم شخصیت تھی جس کی نظیر نہ اس وقت دنیا بھر میں کہیں موجود تھی اور نہ آج تک پائی گئی ہے ۔ مگر ان عقل کے اندھوں کو اس کے مقابلہ میں ایک عجمی غلام ، جو کچھ تورات و انجیل پڑھ لیتا تھا ، قابل تر نظر آرہا تھا اور وہ گمان کر رہےتھے کہ یہ گوہر نایاب اس کوئلے سے چمک حاصل کر رہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

45: مکہ مکرمہ میں ایک لوہار تھا جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتیں دل لگا کر سنا کرتا تھا، اس لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی کبھی اس کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے اور وہ کبھی کبھی آپ کو انجیل کی کوئی بات بھی سنادیا کرتا تھا، مکہ مکرمہ کے بعض کافروں نے اس کو بنیاد بناکر یہ کہنا شروع کردیا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ قرآن اس لوہار سے سیکھتے ہیں، یہ آیت کریمہ اس اعتراض کی لغویت کو بیان کررہی ہے کہ وہ بیچارہ لوہار تو عرب نہیں ہے، عجمی ہے، وہ عربی زبان کے اس فصیح وبلیغ کلام کا مصنف کیسے ہوسکتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٠٣۔ یہاں مشرکین مکہ کا دوسرا اعتراض قرآن کی نسبت اللہ پاک نے بیان فرمایا کہ یہ لوگ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہتے ہیں کہ قرآن کچھ اللہ کا کلام نہیں بلکہ ایک آدمی محمد کو یہ قرآن سکھا جاتا ہے۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ اس آدمی کا نام عبد بن حضرمی ہے ١ ؎۔ یہ شخص تورات اور انجیل جانتا تھا اور اس کی زبان رومی تھی۔ بعضے مفسروں نے یہاں سلمان فارسی کا نام ذکر کیا ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور سلمان فارسی مدینہ میں اسلام لائے ہیں۔ غرض کہ اللہ پاک نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا کہ ان کافروں کی غفلتیں کہاں گئیں جس شخص کی زبان عربی نہیں ہے اس شخص کو اللہ کے رسول کا استاد قرار دیتے ہیں یہ تو ظاہر بات ہے کہ قرآن مجید فصیح بلیغ زبان عربی میں نازل ہوا ہے پھر یہ کس طرح عجمی شخص کی تعلیم قرار دی جاسکتی ہے۔ یہ مشرکین مکہ خود عربی زبان کے بڑے ماہر اور نہایت فصیح وبلیغ ہیں پھر بھی ایک سورت اس قرآن کی سورت جیسی نہیں بنا سکتے اور غیر زبان اور غیر زبان والے کو بتلاتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے قرآن کی آیتیں سیکھتے ہیں اس سے ثابت ہوگیا کہ اللہ کے رسول جو کلام لائے ہیں نہ تو وہ خود ان کا بنایا ہوا ہے اور نہ کسی بشر عجمی یا عربی کی تعلیم ہے بلکہ حق سبحانہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی کے نازل ہوا ہے۔ معتبر سند سے صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) نے خود سلمان فارسی (رض) کے حوالہ سے جو روایت کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ سلمان فارسی فارس کے شہزادوں میں سے ہیں دین کی تلاش میں اپنے وطن سے نکلے اور نو عمری کے سبب سے غلامی کے پھندے میں پھنس گئے پھر اسی حالت میں مدینہ میں پہنچ کر اسلام سے مشرف ہوئے اس کے بعد آزادی کے حاصل کرنے کے لئے جو رقم آخری آقا کو ادا کرنے کی تھی وہ ادا کر کے آزاد ہوگئے۔ اس روایت کو آیت کے ساتھ ملانے سے جو مطلب قرار پایا اس کا حاصل یہ ہے کہ اس مکی آیت کی شان نزول میں سلمان فارسی کا نام جن مفسروں نے لکھا ہے وہ خود سلمان فارسی کے قول کے برخلاف ہے۔ ١ ؎ فتح الباری ص ٣٩٤ ج ٢ شرح باب شرمی المملوک من الحربی الخ و ص ٤٩٣ ج ٣ شرح باب الاسلام سلمان فارسی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:103) انما یعلمہ بشر۔ میں ہٗ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اس میں دوسرا مفعول یعنی القرآن محذوف ہے۔ ای انما یعلمہ القران بشر۔ اس کو (یعنی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو) یہ قرآن ایک آدمی سکھ لاتا ہے۔ اس کا اشارہ ایک نو مسلم رومی نصرانی غلام کی طرف ہے جو انجیل وغیرہ سے واقف تھا۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتیں خوب توجہ اور دلچسپی کے ساتھ سنا کرتا تھا۔ تو آپ بھی کبھی اس کے پاس جا بیٹھتے تھے۔ یلحدون۔ الحد یلحد الحاد (افعال) سے جمع مذکر غائب مضارع معروف۔ اللحد اس گڑھے یا شگاف کو کہتے ہیں جو قبر کی ایک جانب میں بنایا جاتا ہے۔ پھر اصل سے ہٹ کر ایک طرف پھرنے کو بھی الحاد کہتے ہیں۔ چناچہ کہا جاتا ہے الحد فلان عن الدین۔ فلاں دین سے پھر گیا۔ اسی سے ملحد دین سے پھرا ہوا کافر ہے۔ اور الحد السھم عن الھدف۔ تیر نشانہ کے ایک پہلو میں جا لگا۔ یلحدون الیہ (حقیقت سے ہٹ کر) جس کی طرف وہ مائل تھے۔ یا جس کی طرف ان کا اشارہ تھا۔ اعجمی۔ العجمۃ کے معنی ابہام اور اخفا کے ہیں۔ یہ الابانۃ کی ضد ہے جس کے معنی واضح اور بیان کردینا کے ہیں۔ العجم غیر عرب کو کہتے ہیں اور العجمی اس کی طرف منسوب شے کو کہتے ہیں۔ الاعجم وہ آدمی جس کی زبان فصیح نہ ہو خواہ وہ عربی ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ عربی لوگ عجمی کی گفتگو بہت کم سمجھتے تھے۔ اور الاعجمی۔ الاعجم کی طرف منسوب کی گئی شے۔ لسان اعجمی۔ وہ زبان جو ایک اعجم کی ہو۔ یعنی ایسے شخص کی جو فصیح ومبین زبان نہ بول سکتا ہو۔ مبین اسم فاعل واحد مذکر کھول کھول کر فصاحت و بلاغت سے بیان کرنے والا۔ ایسی زبان جو بات کو فصاحت و بلاغت سے بیان کرنے والی ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یہ قرآن پر ان کا دوسرا طعن تھا اس شخص کی تعیین کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض نے ابن مغیرہ کے رومی غلام جبر کا نام ذکر کیا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس کا نام یلیش تھا۔ جو بنی الحضرمی کا غلام تھا اور عجمی کتابیں پڑھا کرتا تھا۔ بہرحال ان میں سے جو بھی ہو کفار مکہ نے محض یہ دیکھ کر کر کہ وہ شخص توراۃ انجیل پڑھنا جانتا ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو قرآن نازل ہوتا ہے اس میں بھی پیچھے انبیاء کے واقعات بیان کئے گئے ہیں بےتکلف یہ الزام تراش ڈالا کہ یہی وہ شخص ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن کی آیات تصنیف کر کے دے رہا ہے۔ العیاذ باللہ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

9۔ مراد اس سے ایک عجمی رومی، نصرانی غلام یالوہار ہے جس کا نام بلعام یا مقیس تھا وہ رسول اللہ کی باتیں جی لگا کر سنتا تھا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی اس کے پاس جاکر بیٹھ جاتے اور وہ انجیل وغیرہ کچھ جانتا تھا تو کافروں نے ایک یہ بات نکالی کہ حضور کو یہ سکھلا دیتا ہے اللہ جواب دیتے ہیں کہ قرآن مجید تو مجموعہ لفظ ومعنی کا نام ہے سو اگر معنی کی جزالت خارقہ کے ادرات کی تم کو تمیز نہیں تو الفاظ بلاغت خارقہ کو تو سمجھ سکتے ہو پس اگر فرض کرلیا جائے کہ مضامین وہ شخص سکھلا دیتا ہے تو یہ تو سوچو کہ یہ الفاظ کہاں سے آگئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منکرین قرآن کے تیسرے اعتراض کا جواب : حقیقت کا باربار انکار کرنے کی وجہ سے اکثر اوقات آدمی بوکھلاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسے اس بات کی خبر نہیں رہتی کہ میں نے اس حقیقت کا انکار کرتے ہوئے پہلے کونسی بات کی اور حقیقت پیش کرنے والے پر کونسا الزام لگایا تھا یہی حالت مکہ کے کفار کی تھی۔ کبھی یہ الزام لگاتے کہ یہ نبی اپنی طرف سے قرآن گھڑ لیتا ہے اور کبھی یہ کہتے کہ روم کے فلاں شخص سے بالواسطہ سیکھ کر ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ قرآن مجید نے اس کا کئی پہلووں سے جواب دیا ہے جن میں سے ایک جواب یہ ہے کہ جس شخص یا جن افراد کو تم محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا استاد کہتے ہو وہ سب کے سب عجمی ہیں یعنی وہ عربی کے حروف ابجد سے بھی واقف نہیں یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ جو شخص عربی زبان کی مبادیات اور اس کے حروف تہجی سے بھی واقف نہیں۔ اسے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کس طرح معلم قرار دیا جاسکتا ہے ؟ یہ بات اس سے بھی حیران کن اور احمقانہ ہے کہ ایک عجمی شخص قرآن مجید جیسی متبحرالعلوم کتاب کا علم اور مستقبل میں ہونے والے واقعات کی من و عن خبر دے سکے۔ قرآن مجید تو اتنی عظیم الشان کتاب اور اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کہ اس جیسا کلام انسان تو درکنار روح القدس جبرایل امین (علیہ السلام) بھی نہیں بنا سکتا۔ چہ جائے کہ کلام مقدس اور عظیم کتاب کو کسی انسان کی طرف منسوب کیا جائے۔ دراصل جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے وہی اس قدر بد ترین جھوٹ بول سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے پر جلال انداز میں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم ان کی زبان، نیت اور مذموم مقاصد کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ کبھی ہدایت نہیں دیتا۔ ان کے لیے اذیت ناک اور دائمی عذاب تیار کیا گیا ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ ٢۔ کفار آپ پر یہ الزام لگاتے کہ آپ قرآن مجید کسی بشر سے سیکھ کر سناتے ہیں۔ ٤۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا۔ ٥۔ اللہ کی آیات کا انکار کرنے والوں کو ہدایت نہیں ملتی۔ ٦۔ اللہ کی آیات کا انکار کرنے والے عذاب کے حقدار ہوں گے۔ تفسیر باالقرآن قرآن مجید کے بارے میں کفار کے الزام اور ان کے جوابات : ١۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ کہتے ہیں آپ کو تو ایک آدمی سکھا جاتا ہے۔ (النحل : ١٠٣) ٢۔ انہوں نے کہا قرآن تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ (الفرقان : ٥) ٣۔ اس نے کہا یہ تو اثر کرنے والا جادو ہے۔ (المدثر : ٢٤) ٤۔ فرما دیجیے جن و انس اکٹھے ہو کر اس قرآن جیسا قرآن لے آئیں۔ (بنی اسرائیل : ٨٨) ٥۔ فرما دیجیے دس سورتیں اس جیسی لے آؤ اور اللہ کے سوا جن کو بلا سکتے ہو بلا لو۔ (ہود : ١٣) ٦۔ فرما دیجیے ایک سورة اس جیسی لے آؤ اور جن کو بلانا چاہتے ہو بلالو۔ (یونس : ٣٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولقد نعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی و ھذا لسان عربی مبین (٦١ : ٣٠١٩ ” ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا ہے حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے “۔ ان کی طرف سے دوسرا افتراء یہ تھا کہ شاید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی آدمی یہ قرآن مجید سکھاتا ہے۔ انہوں نے اس کا نام بھی لیا تھا۔ البتہ اس کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ وہ ایک عجمی غلام کی طرف اشارہ کرتے تھے جو دراصل بعض قبائل قریش کا غلام تھا اور یہ حلفاء کے قریب تجارت کرتا تھا۔ اس کے پاس حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھا کرتے تھے۔ یہ شخص عجمی تھا اور عربی زبان جانتا ہی نہ تھا۔ صرف عربی میں بقدر ضرورت شد بد رکھتا تھا۔ محمد ابن اسحاق کی روایت ہے کہ مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مروہ کے قریب ایک عیسائی غلام کے پاس بیٹھا کرتے تھے اس کا نام جبر تھا۔ یہ ابنی الحضرم شاخ کا غلام تھا۔ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ولقد تعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی و ھذا السان عربی میبن (٦١ : ٣٠١) ” ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا ہے حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے “۔ عبد اللہ ابن کثیر نے کہا ہے اور عکرمہ اور قتادہ سے نقل کیا ہے کہ اس کا نام بعیش تھا ابن کثیر نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غلام کو تعلیم دیتے تھے۔ یہ مکہ میں تھا اور اس کا نام بلمام تھا اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس جایا کرتے تھے۔ مشرکین کو معلوم تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس آتے جاتے ہیں تو انہوں نے یہ الزام لگایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تعلیمات بلمام دے رہا ہے۔ بہرحال نام جو بھی ہو ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس الزام کی جو تردید کی ہے وہ سادہ اور لاجواب ہے۔ اور یہ کہ تم دیکھتے نہیں ہو کہ جس شخص کا تم کہتے ہو اس کی تو زبان عجمی ہے اور قرآن عربی مبین میں ہے۔ ان لوگوں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو الزام لگایا تھا اسے ہم ہرگز سنجیدہ الزام نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ بھی ان کی جانب سے جھوٹے پروپیگنڈے کی سازش تھی۔ اس لئے کہ وہ قرآن مجید کی ادبی اور نظریاتی قدر و قیمت اور اس کے اعجاز کو اچھی طرح جانتے تھے۔ یہ تو ممکن ہی نہ تھا کہ کوئی عجمی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کلام سکھا سکے۔ اگر کوئی عجمی اس قسم کا کلام لاسکتا تو وہ اسے بطور اپنے کلام کے کیوں پیش نہ کرتا۔ آج جبکہ انسان نے بہت زیادہ ترقی کرلی ہے اور انسانی قابلیت کے نتیجے میں تصنیف و تالیف کا فن بہت ہی آگے بڑھ گیا ہے۔ نیز قانون سازی اور نظم و نسق کے جدید ترین طریقے وجود میں آگئے ہیں۔ آج ایک معمولی علم رکھنے والا کوئی شخص اور اجتماعی نظاموں اور قانونی نظاموں سے واقف کوئی بھی شخص یہ تصور نہیں کرسکتا کہ یہ کتاب کسی ایک انسان کی تصنیف ہوسکتی ہے۔ روس کے مادہ پرست اور ملحدوں کی رائے بھی یہ ہے کہ یہ قرآن کریم کسی ایک شخص کی تصنیف نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک پوری جماعت کی تصنیف ہے بلکہ اس کے بعض حصے جزیرۃ العرب کی تصنیف بھی نہیں ہوسکتے۔ اس کے بعض حصے ایسے ہیں کہ وہ یقینا باہر سے لائے گئے ہیں۔ یہ نگارشات انہوں نے ٤٥٩١ ء میں اس کانفرنس کے نتجے میں مرتب کیں جو قرآن کریم پر تنقید کے لئے انہوں نے منعقد کی تھی۔ روسیوں نے یہ تجویز اس لئے پیش کی کہ ایک شخص کے اندر اس قدر قابلیت نہیں ہوسکتی کہ وہ ایسی کتاب تصنیف کرے۔ اور نہ کسی ایک قوم کا یہ کام ہے لیکن روسیوں کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ سیدھی سادی بات تسلیم کرلیں کہ یہ کتاب انسانی تصنیف نہیں ہوسکتی لہٰذا یہ وحی رب العالمین ہے۔ لیکن وہ چونکہ مادہ پرست اور ملحد تھے ، اور خدا ، رسولوں اور رسالت کے وجود ہی کے منکر تھے اس لیے انہوں نے یہ سچائی تسلیم نہ کی۔ اگر بیسویں صدی کے مستشرقین کی سوچ یہ ہے کہ قرآن کریم کسی ایک انسانی کی تصنیف نہیں ہوسکتا تو پھر جزیرۃ العرب کے ایک عجمی غلام کی تصنیف کس طرح ہوسکتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مشرکین کے اس قول کی تردید کہ آپ کو کوئی شخص سکھاتا ہے (وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ ) (الآیۃ) اس آیت میں مشرکین مکہ کے ایک بہتان کا تذکرہ ہے اور ساتھ ہی اس بہتان کا رد بھی مذکور ہے، جب کوئی شخص مخالفت پر ہی کمر باندھ لے تو اسے یہ ہوش ہی نہیں رہتا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو قرآن مجید سناتے تھے تو مشرکین کبھی تو یوں کہہ دیتے تھے کہ یہ (اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ) یعنی پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی باتیں ہیں اور کبھی کہتے تھے کہ یہ باتیں انہیں فلاں شخص سکھاتا ہے فلاں شخص سے کون مراد ہے اس کے بارے میں حضرات مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ان میں ایک قول یہ ہے کہ ایک شخص پہلے نصرانی تھا عجمی تھا (عربی نہیں تھا) اس نے اسلام قبول کرلیا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس سے گزرتے تو اسے اسلام کی باتیں سکھاتے تھے، اس شخص کا نام یعیش تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو سکھانے کے لیے تشریف لے جاتے اور وہ آپ سے دین سیکھتا تھا لیکن مشرکین مکہ الٹی ہی بات کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ محمد جو گزشتہ زمانہ کی باتیں بتاتے ہیں یا آئندہ واقعات کی خبر دیتے ہیں یہ اس شخص سے سیکھ کر بتاتے ہیں جس کے پاس ان کا اٹھنا بیٹھنا ہے۔ صاحب معالم التنزیل نے یہ بھی لکھا ہے کہ دو شخص ایسے تھے جو اہل مکہ میں سے نہیں تھے لیکن مکہ معظمہ میں رہتے تھے یہ تلواریں بنانے کا کام کرتے تھے اور توریت و انجیل پڑھتے تھے جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اہل مکہ تکلیف پہنچاتے تھے تو آپ ان دونوں کے پاس بیٹھ جاتے تھے اور ان کا کلام سن کر راحت محسوس فرماتے تھے۔ مشرکین مکہ نے جو آپ کو ان کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ انہیں دونوں سے باتیں سن لیتے ہیں پھر یوں کہہ دیتے ہیں کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے قرآن نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے مشرکین مکہ کی تردید فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ جن کی طرف باتیں سکھانے کی نسبت کرتے ہیں وہ تو عجمی ہیں وہ نہ عرب ہیں نہ فصیح عربی جانتے ہیں انہوں نے ایسی واضح فصیح عربی زبان میں آپ کو کیسے تعلیم دے دی ؟ ایک عجمی جو صحیح عربی بول بھی نہیں سکتا وہ اتنی بڑی فصاحت و بلاغت والی عبارت کیسے تلقین کرسکتا ہے جس کا مقابلہ کرنے سے بڑے بڑے فصحاء و بلغاء عاجز ہوگئے، زمانہ نزول قرآن سے لے کر آج تک کسی کی ہمت نہ ہوئی اور نہ ہوگی کہ (فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ ) کا چیلنج قبول کرے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

86:۔ یہ مشرکین کا دوسرا طعن ہے مکہ مکرمہ میں ایک رومی غلام بلعام نامی رہتا تھا یہ اسلام لا چکا تھاحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے اسلام احکام کی تعلیم فرمایا کرتے تھے لیکن مشرکین نے مشہود کردیا کہ وہ رومی غلام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ قرآن سکھاتا ہے۔ ” لسان الذی یلحدون الیہ الخ “ یہ اس طعن کا جواب ہے۔ مشرکین اپنے خبچ باطن سے تعلیم قرآن کی نسبت جس شخص کی طرف کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ قرآن تو صاف، شستہ اور سلیس عربی زبان میں ہے اس لیے یہ اس عجمی کا کلام کس طرح ہوسکتا ہے۔ مشرکین کا یہ طعن کسی دلیل پر مبنی نہیں تا محض ازراہ ِ عناد تھا۔ مگر جواب نہایت معقول دیا گیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

103 ۔ اور بیشک ہم اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم کے منکریوں کہتے یں کہ بس محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن کریم تو ایک آدمی سکھاتا ہے اور اس قرآن کریم کی تعلیم تو محمد ؐ کو ایک شخص دیا کرتا ہے حالانکہ جس شخص کی طرف یہ منکر تعلیم قرآن کریم کی نسبت کرتے ہیں وہ تو ایک عجمی شخص ہے اور یہ قرآن کریم نہایت سلیس اور فصیح عربی زبان میں ہے۔ کوئی نصرانی غلام تھا روی صیقل گرلوہار وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا اور قرآن کریم سنا کرتا تھا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی جب کبھی بازار میں جاتے تو اس کی دکان پر ٹھہر جاتے اس کی طرف نسبت کردی کہ ہو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن سکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب فرمایا کہ وہ تو غیر ملکی ہے اس کی زبان عربی زبان نہیں ہے تو وہ اس قدرفصیح وبلیغ عربی میں کلام کس طرح کرسکتا ہے کہ جس کلام کا مقابلہ خود اہل عرب بھی نہ کرسکیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک شخص کا غلام رومی نصرانی مکہ میں تھا ۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ بیٹھتا محبت سے اللہ کا کلا م اور پیغمبروں کا احوال سننے کو کافر کہتے وہی سکھا جاتا ہے۔ 12