Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 114

سورة النحل

فَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪ وَّ اشۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۱۱۴﴾

Then eat of what Allah has provided for you [which is] lawful and good. And be grateful for the favor of Allah , if it is [indeed] Him that you worship.

جو کچھ حلال اور پاکیزہ روزی اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اُسی کی عبادت کرتے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to eat Lawful Provisions and to be Thankful, and an Explanation of what is Unlawful Allah says: فَكُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّهُ حَللاً طَيِّبًا وَاشْكُرُواْ نِعْمَتَ اللّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

حلال و حرام صرف اللہ کی طرف سے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی دی ہوئی پاک روزی حلال کرتا ہے اور شکر کرنے کی ہدایت کرتا ہے ۔ اس لئے کہ نعمتوں کا داتا وہی ہے ، اسی لئے عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک ہے ، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں ۔ پھر ان چیزوں کا بیان فرما رہا ہے جو اس نے مسلمانوں پر حرام کر دی ہیں جس میں ان کے دین کا نقصان بھی ہے اور ان کی دنیا کا نقصان بھی ہے جیسے از خود مرا ہوا جانور اور بوقت ذبح کیا جائے ۔ لیکن جو شخص ان کے کھانے کی طرف بےبس ، لاچار ، عاجز ، محتاج ، بےقرار ہو جائے اور انہیں کھا لے تو اللہ بخشش و رحمت سے کام لینے والا ہے ۔ سورہ بقرہ میں اسی جیسی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس کی کامل تفسیر بھی بیان کر دی اب دوبارہ دہرانے کی حاجت نہیں فالحمد اللہ پھر کافروں کے رویہ سے مسلمانوں کو روک رہا ہے کہ جس طرح انہوں نے از خود اپنی سمجھ سے حلت حرمت قائم کر لی ہے تم نہ کرو آپس میں طے کر لیا کہ فلاں کے نام سے منسوب جانور حرمت و عزت والا ہے ۔ بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ ، حام وغیرہ تو فرمان ہے کہ اپنی زبانوں سے جھوٹ موٹ اللہ کے ذمے الزام رکھ کر آپ حلال حرام نہ ٹھہرا لو ۔ اس میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی اپنی طرف سے کسی بدعت کو نکالے جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو ۔ یا اللہ کے حرام کو حلال کرے یا مباح کو حرام قرار دے اور اپنی رائے اور تشبیہ سے احکام ایجاد کرے ۔ لما تصف میں ما مصدریہ ہے یعنی تم اپنی زبان سے حلال حرام کا جھوٹ وصف نہ گھڑ لو ۔ ایسے لوگ دنیا کی فلاح سے آخرت کی نجات سے محروم ہو جاتے ہیں دنیا میں گو تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن مرتے ہی المناک عذابوں کا لقمہ بنیں گے ۔ یہاں کچھ عیش و عشرت کرلیں وہاں بےبسی کے ساتھ سخت عذاب برداشت کرنے پڑیں گے ۔ جیسے فرمان الٰہی ہے اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے نجات سے محروم ہیں ۔ دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں پھر ہم ان کے کفر کی وجہ سے انہیں سخت عذاب چکھائیں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

114۔ 1 اس کا مطلب یہ ہوا کہ حلال وطیب چیزوں سے تجاوز کر کے حرام اور خبیث چیزوں کا استعمال اور اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرنا، یہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١٧] اس آیت میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور انھیں سمجھایا یہ جارہا ہے کہ کفران نعمت اتنا بڑا جرم ہے کہ جس کے بدلے اللہ اپنی نعمتیں بھی چھین لیتا ہے اور ایسے مجرموں پر عذاب بھی مسلط کردیتا ہے۔ لہذا اگر تم ایمان کا دعویٰ رکھتے ہو تو اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہا کرو۔ اسی کی بندگی کرو۔ اس کی نافرمانی سے اجتناب کرو اور رزق حلال کی تلاش کرو۔ حرام اور گندی چیزوں سے پرہیز کرو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا۔۔ : مشرکین نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اس کے ساتھ شریک بنائے تو اے ایمان والو ! اگر تم واقعی صرف اللہ کی بندگی کرتے ہو، جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے تو لازم ہے کہ اپنی عقل اور مصلحت کے بل بوتے پر کسی چیز کو حلال یا حرام قرار نہ دو ، جیسا کہ مشرکوں نے اپنے پاس سے بحیرہ اور سائبہ وغیرہ کو حرام قرار دے رکھا ہے، حالانکہ یہ کہیں اللہ کا حکم نہیں اور مردار اور خون وغیرہ کو حلال کر رکھا ہے جنھیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ سو تم صرف انھی چیزوں کو کھاؤ جنھیں اللہ نے حلال اور طیب قرار دیا ہے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Sequence and Explanation in Gist Mentioned in the previous verses was that disbelievers will be pun¬ished for their ungratefulness to Allah whose blessings they had been en¬joying. In the cited verses, Muslims have been instructed to stay away from ungratefulness, rather be grateful for Halal things Allah has given to them. After that, they were told how the disbelievers and polytheists had become ungrateful by declaring what Allah had made Halal for them as Haram and what Allah had called Haram as Halal. Muslims were warned that they should never do that. Making things Halal and Haram is the exclusive right of their Creator. Doing this on your own amounts to interference in Divine prerogatives, in fact, amounts to at-tributing lies to Allah Ta` ala. Towards the end, it was also said that even those who have committed such evil deeds through ignorance should not lose hope in the mercy of Allah Ta’ ala. Should they repent and believe honestly and truly, Allah Ta’ ala will forgive all sins committed by them.

خلاصہ تفسیر : پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر کفار کی ناشکری اور اس کے عذاب کا ذکر تھا مذکورہ آیات میں اول تو مسلمانوں کو اس کی ہدایت کی گئی کہ وہ ناشکری نہ کریں اللہ تعالیٰ نے جو حلال نعمتیں ان کو دی ہیں ان کو شکر کے ساتھ استعمال کریں اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ کفار و مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی ایک خاص صورت یہ بھی اختیار کر رکھی تھی کہ بہت سی چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے حلال کیا تھا اپنی طرف سے ان کو حرام کہنے لگے اور بہت سی چیزیں جن کو اللہ نے حرام کہا تھا ان کو حلال کہنے لگے مسلمانوں کو اس پر تنبیہ فرمائی کہ وہ ایسا نہ کریں کسی چیز کا حلال یا حرام کرنا صرف اس ذات کا حق ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے اپنی طرف سے ایسا کرنا خدائی اختیارات میں دخل دینا اور اللہ تعالیٰ پر افترا کرنا ہے۔ آخر میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں نے جہالت سے اس طرح کے جرائم کئے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں اگر وہ توبہ کرلیں اور صحیح ایمان لے آئیں تو اللہ تعالیٰ سب گناہ بخش دیں گے مختصر تفسیر آیات کی یہ ہے۔ سو جو چیزیں تم کو اللہ نے حلال اور پاک دی ہیں ان کو (حرام نہ سمجھو کہ یہ مشرکین کی جاہلانہ رسم ہے بلکہ) ان کو کھاؤ اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم (اپنے دعوے کے مطابق) اسی کی عبادت کرتے ہو تم پر تو (منجملہ ان چیزوں کے جن کو تم حرام کہتے ہو اللہ تعالیٰ نے) صرف مردار کو حرام کیا ہے اور خون کو اور خنزیر کے گوشت (وغیرہ) کو اور جس چیز کو غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو پھر جو شخص کہ (مارے فاقہ کے) بالکل بےقرار ہوجائے بشرطیکہ طالب لذت نہ ہو اور نہ حد (ضرورت) سے تجاوز کرنے والا ہو تو اللہ تعالیٰ (اس کے لئے اگر وہ ان چیزوں کو کھالے) بخش دینے والا مہربانی کرنے والا ہے اور جن چیزوں کے متعلق محض تمہارا جھوٹا زبانی دعوی ہے (اور اس پر کوئی دلیل صحیح قائم نہیں) ان کے متعلق یوں نہ کہہ دیا کرو کہ فلاں چیز حلال اور فلاں حرام ہے (جیسا کہ پارہ ہشتم کے ربع کے قریب آیات وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ میں ان کے ایسے جھوٹے دعوے آچکے ہیں) جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگاؤ گے (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو ایسا نہیں کہا بلکہ اس کے خلاف فرمایا ہے) بلاشبہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ لگاتے ہیں وہ فلاح نہ پائیں گے۔ (خواہ دنیا وآخرت دونوں میں یا صرف آخرت میں) یہ (دنیا میں) چند روزہ عیش ہے (اور آگے مرنے کے بعد) ان کے لئے درد ناک سزا ہے اور (یہ مشرکین ملت ابراہیمی کے متبع ہونے کا دعوی کرتے ہیں حالانکہ ان کی شریعت میں تو یہ چیزیں حرام نہ تھیں جن کو انہوں نے حرام قرار دے دیا ہے البتہ بہت زمانے کے بعد ان اشیاء میں سے) صرف یہودیوں پر ہم نے وہ چیزیں حرام کردی تھیں جن کا بیان ہم اس کے قبل ( سورة انعام میں) آپ سے کرچکے ہیں (اور ان کی تحریم میں بھی) ہم نے ان پر (صورۃ بھی) کوئی زیادتی نہیں کی لیکن وہ خود ہی اپنے اوپر (انبیاء کی مخالفت کرکے) زیادتی کیا کرتے تھے (تو معلوم ہوا کہ اشیاء طیبہ کو بالقصد تو کبھی حرام نہیں کیا گیا اور شریعت ابراہیمی میں کسی وقتی ضرورت کی وجہ سے بھی نہیں ہوئی پھر یہ تم نے کہاں سے گھڑ لیا) پھر آپ کا رب ایسے لوگوں کے لئے جنہوں نے جہالت سے برا کام (خواہ کچھ بھی ہو) کرلیا پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور (آئندہ کے لئے) اپنے اعمال درست کر لئے تو آپ کا رب اس کے بعد بڑی مغفرت کرنے والا بڑی رحمت کرنے والا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا ۠ وَّاشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ ١١٤؁ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ حلَال حَلَّ الشیء حلالًا، قال اللہ تعالی: وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلالًا طَيِّباً [ المائدة/ 88] ، وقال تعالی: هذا حَلالٌ وَهذا حَرامٌ [ النحل/ 116] ( ح ل ل ) الحل اصل میں حل کے معنی گرہ کشائی کے ہیں ۔ حل ( ض ) اشئی حلا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز کے حلال ہونا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلالًا طَيِّباً [ المائدة/ 88] اور جو حلال طیب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ ۔ هذا حَلالٌ وَهذا حَرامٌ [ النحل/ 116] کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے طيب يقال : طَابَ الشیءُ يَطِيبُ طَيْباً ، فهو طَيِّبٌ. قال تعالی: فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ، وأصل الطَّيِّبِ : ما تستلذّه الحواسّ ، وما تستلذّه النّفس، والطّعامُ الطَّيِّبُ في الشّرع : ما کان متناولا من حيث ما يجوز، ومن المکان الّذي يجوز فإنّه متی کان کذلک کان طَيِّباً عاجلا وآجلا لا يستوخم، وإلّا فإنّه۔ وإن کان طَيِّباً عاجلا۔ لم يَطِبْ آجلا، وعلی ذلک قوله : كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] ( ط ی ب ) طاب ( ض ) الشئی یطیب طیبا فھم طیب ( کے معنی کسی چیز کے پاکیزہ اور حلال ہونے کے ہیں ) قرآن میں ہے : : فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] تو ان کے سوا عورتیں تم کو پسند ہوں ان سے نکاح کرلو ۔ ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے تم کو چھوڑدیں ۔ اصل میں طیب اسے کہا جاتا ہے جس سے انسان کے حواس بھی لذت یاب ہوں اور نفس بھی اور شریعت کی رو سے الطعام الطیب اس کھانے کو کہا جائے گا جو جائز طریق سے حاصل کیا جائے اور جائز جگہ سے جائز انداز کے مطابق لیا جائے کیونکہ جو غذا اس طرح حاصل کی جائے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں خوشگوار ثابت ہوگی ورنہ دنیا کی خوشگوار چیزیں آخرت میں نقصان وہ ثابت ہونگی اسی بنا پر قرآن طیب چیزوں کے کھانے کا حکم دیتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں اور ان کو کھاؤ ۔ شكر الشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل : وهو مقلوب عن الکشر، أي : الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها، ودابّة شکور : مظهرة بسمنها إسداء صاحبها إليها، وقیل : أصله من عين شكرى، أي : ممتلئة، فَالشُّكْرُ علی هذا هو الامتلاء من ذکر المنعم عليه . والشُّكْرُ ثلاثة أضرب : شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة . وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم . وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه . وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ، ( ش ک ر ) الشکر کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں اور دابۃ شکور اس چوپائے کو کہتے ہیں جو اپنی فربہی سے یہ ظاہر کر رہا ہو کہ اس کے مالک نے اس کی خوب پرورش اور حفاظت کی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ عین شکریٰ سے ماخوذ ہے جس کے معنی آنسووں سے بھرپور آنکھ کے ہیں اس لحاظ سے شکر کے معنی ہوں گے منعم کے ذکر سے بھرجانا ۔ شکر تین قسم پر ہے شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجوارح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکانات کرنا ۔ اور آیت کریمہ : اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٤) سو کھیتیاں اور جانور اور نعمتیں کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو یعنی اگر تم کھیتیوں اور جانوروں کو خود اپنے اوپر حرام کرلینے میں اللہ کی عبادت سمجھتے ہو تو ان چیزوں کو اپنے اوپر حلال کرلو کیوں کہ اللہ کی عبادت ان کے حلال سمجھنے میں ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَّاشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ ) نوٹ کیجیے کہ اللہ کی نعمتوں کا ذکر مختلف انداز میں اس سورت میں بار بار آ رہا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

113. This shows that the above mentioned famine had come to an end at the time of the revelation of this Surah. 114. Here the observation of the lawful and the unlawful has been made the test of worship of Allah. Those who claim to be the servants of Allah will eat what is lawful and pure and show gratitude to Him and will scrupulously refrain from what is forbidden and impure.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :113 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورہ کے نزول کے وقت وہ قحط ختم ہو چکا تھا جس کی طرف اوپر اشارہ گزر چکا ہے ۔ سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :114 یعنی اگر واقعی تم اللہ کی بندگی کے قائل ہو ، جیسا کہ تمہارا دعوی ہے ، تو حرام و حلال کے خود مختار نہ بنو ۔ جس رزق کو اللہ نے حلال و طیب قرار دیا ہے اسے کھاؤ اور شکر کرو ۔ اور جو کچھ اللہ کے قانون میں حرام و خبیث ہے اس سے پرہیز کرو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

49: جس ناشکری کے پیچھے مذمت کی گئی ہے اسی کی ایک صورت مشرکین عرب نے یہ اختیار کر رکھی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتوں کو من گھڑت طریقے سے حرام قرار دے رکھا تھا، جس کی تفصیل سورۃ انعام (139 تا 145) میں گذر چکی ہے۔ یہاں نا شکری کی اس خاص صورت سے منع کیا جا رہا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١١٤۔ ١١٥۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے مومن بندوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ جو جو چیزیں اللہ پاک نے تمہارے لئے حلال اور تمہاری روزی اس میں مقرر کی ہے بخوشی ورغبت وہ چیزیں کھاؤ اور اپنے خالق کا شکر بجا لاؤ اور ایسا نہ کرو کہ خدا کی حلال کی ہوئی چیزیں حرام اور حرام کو حلال بنا لو جس طرح مشرکوں کا قاعدہ ہے۔ مشرکوں کے اس قاعدہ کی تفصیل سورت انعام میں گزر چکی ہے۔ پھر فرمایا کہ خدا نے تم پر چند چیزیں حرام کی ہیں اور باقی اشیاء تمہارے لئے حلال طیب ہیں اپنی قوت بازو سے حاصل کرو اور کھاؤ جو چیزیں خداوند جل شانہ نے حرام ٹھہرا دی ہیں وہ یہ ہیں : مردار، اور خون، سور کا گوشت، اور جو جانور خدا کے سوا اور کسی کے نام پر چھوڑا جائے یا ذبح کیا جائے وہ دونوں بھی حرام ہیں مگر وقت ضرورت کے اگر اس وقت جب جان پر آن بنے اور سوائے ان حرام اشیاء کے اور کوئی چیز کھانے کو میسر نہ آتی ہو تو باندازہ سید رمق کھا لینا جائز ہے۔ اور خداوند جل شانہ تمہیں اس پر نہیں پکڑے گا وہ بڑا غفور رحیم ہے کہ اس نے جان بچانے کے وقت حرام چیزوں کو تم پر حلال کردیا غیر باغ ولا عاد کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) نے فرمایا حلال چیزوں کے ملتے ہوئے ایماندار آدمی حرام چیز کی طرف مائل نہ ہو اور بےبسی میں حرام چیز کو حلال چیز کی طرح پیٹ بھر کر نہ کھاوے۔ مطلب یہ ہے کہ بےبس آدمی کو حرام چیز کھانے کی اجازت ہے۔ حلال چیز کے ملنے یا حرام چیز کے بقدر جان بچانے کے کھانے کے بعد پھر آدمی بےبس نہیں رہتا۔ معتبر سند سے طبرانی میں ابی واقد لیثی سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو دو وقت کا فاقہ ہو اور اس کے بعد بھی جنگل کے کسی ساگ وغیرہ کے ملنے کی امید بھی اس شخص کو نہ ہو تو ایسا شخص حرام چیز کھا کر اپنی جان بچا سکتا ہے ١ ؎۔ یہ حدیث بےبسی کی گویا تفسیر ہے۔ ابن ابی واقد کا نام حارث بن عوف مدنی صحابہ میں قدیم الاسلام صحابی ہیں حدیث کی سب کتابوں میں ان سے روایت ہے مالکی مذہب میں تین دن کے فاقہ کو بےبس قرار دیا ہے۔ زیادہ تفصیل اس مسئلہ کی فقہ کی کتابوں میں ہے۔ معتبر سند سے مسند بزار اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابو درداء (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے ٢ ؎۔ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی چیز کے حلال یا حرام ٹھہرانے کا حق سوا اللہ تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں ہے۔ شریعت کے اس قاعدہ کے برخلاف مشرکین مکہ نے اپنی طرف سے حرام حلال کا قاعدہ ٹھہرا رکھا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں کئی جگہ مشرکین کے اس قاعدہ کو توڑا ہے۔ ١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ١٤ ج ٢ بروایت مسند امام احمد۔ ٢ ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص ٤٣٧۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی اگر تم واقعی اللہ ہی کی بندگی کرتے ہو جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے تو ضروری ہے کہ حلال و حرام کی تعیین اپنی عقل اور مصلحتوں کے بل بوتے پر اپنی مرضی سے نہ کرو بلکہ صرف انہی چیزوں کو کھائو جنہیں اللہ نے حلال اور طیب قرار دیا ہے۔ (شوکانی بتصرف)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 114 تا 119 کلوا کھاؤ۔ رزق اس نے رزق دیا۔ ایاہ اس کی۔ تعبدون تم عبادت کرتے ہو۔ حرم حرام کردیا، روک دیا۔ المیتۃ مردار۔ الدم خون۔ الحم الخنزیر خنزیر کا گوشت۔ اھل پکارا گیا۔ اضطر مجبور کردیا گیا، مجبور ہوگیا۔ غیر باغ بغاوت کا ارادہ نہ ہو۔ لاعاد نہ زیادتی کا ارادہ ہو۔ لاتقولوا تم نہ کہو۔ تصف بنا لی ہے۔ قصصنا ہم نے بتایا، بیان کیا۔ یظلمون وہ ظلم کرتے ہیں۔ بجھالۃ نادانی۔ تابو توبہ کرلی۔ اصلحوا اصلاح کرلی۔ تشریح : آیت نمبر 114 تا 119 جس شخص کو بات بات پر اعتراض اور کج بخشی کرنے کی عادت پڑجاتی ہے اس کے سامنے کتنی ہی معقول سے معقول حقیقت کو پیش کردیا جائے تب بھی وہ اس میں کوئی نہ کوئی ایسی بات نکال لیتا ہے جس سے ایک نئی بحث چھڑ جائے اور سچائی کی شمع مدہم پڑجائے۔ بنی اسرائیل دنیا کی وہ قوم ہے جس نے اسی روش کو اختیار کیا اور اپنے نبیوں سے طرح طرح کے سوالات کر کے نہ صرف اپنے اوپر سینکڑوں پابندیاں لگوا لیں بلکہ ان میں سے بہت سے لوگ ایمان کی دولت ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسی لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب قرآن کریم نازل ہو رہا ہے اس وقت بہت سے وہ سوالات نہ کریں کہ اگر ان کو ظاہر کردیا گیا تو وہ مشکل میں پڑجائیں گے۔ اسی طرح فرمایا کہ ” اے مومنو ! کیا تم بھی اپنے نبی سے ایسے ہی سوالات کرو گے جس طرح اس سے پہلے حضرت موسیٰ سے سوالات کئے گئے تھے۔ “ (البقرہ) ان احکامات کی روشنی میں صحابہ کرام بہت ہی کم سوالات کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے اسی مزاج کو یاں بیان کیا گیا ہے کہ وہ ہر روز ایک نیا سال لے کر آجاتے تھے۔ جب یہ کہا گیا کہ جو لوگ بھی اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں تو بطور سزا وہ نعمت ان سے چھین لی جاتی ہے۔ حلال چیزیں بھی اللہ کی نعمت ہیں۔ اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ جو حلال اور پاکیزہ اور ستھری چیزیں انہیں دی گئی ہیں وہ ان میں سے کھائیں اور حرام چیزوں کے قریب نہ جائیں فرمایا کہ کیا چیز حلال ہے اور کیا حرام ہے اس کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ اللہ کے سوا کسی شخص کو حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے کا حق نہیں ہے۔ بنی اسرائیل کو دو باتوں پر اعتراض تھا۔ (1) ایک تو یہ کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں تو اور بہت سی چیزیں بھی حرام تھیں لیکن شریعت مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں وہ چیزیں حلال ہیں کیا حضرت موسیٰ اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعتیں الگ الگ تھیں ؟ یا ایک تھیں۔ اگر وہ شریعت اللہ کی طرف سے تھی تب تو اس کی مخالفت کر کے گناہ میں مبتلا ہونے کی بات کی جا رہی ہے ہو اور اگر دونوں شریعتیں ایک تھیں تو پھر ایک ہی اللہ کی اتاری ہوئی شریعتوں میں یہ اختلاف کیوں ہے ؟ (2) دوسرا اعتراض یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں ” سبت “ کی حرمت کا قانون تھا اہل ایمان نے اس قانون کو بالکل ختم کردیا ہے یعنی ہفتہ کا دن جو یہودیوں کے نزدیک اتنا قابل احترام تھا کہ اس دن یہودی کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ مسلمانوں نے ہفتہ کا دن جو یہودیوں کے نزدیک اتنا قابل احترام تھا کہ اس دن یہودی کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ مسلمانوں نے ہفتہ کے دن کے بجائے جمعہ کے دن کو پورا احترام دیدیا۔ کیا شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے یا مسلمانوں نے خود ہی جس چیز کو چاہا حلال کرلیا اور جس چیز کو چاہا حرام قرار دے لیا ؟ ان دونوں اعتراضات کے اللہ نے جوابات ان آیات میں عطا فرمائے ہیں۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعتیں ایک ہی اللہ کے حکم سے تھیں لیکن بعد میں لوگوں نے اپنی مرضی سے بعض حلال چیزوں کو حرام کرلیا اور خود ہی ہفتہ کے دن کو مقدس و محترم بنا لیا تھا اور جو چیزیں ان پر حرام کی گئی تھیں وہ ان بنی اسرائیل کی شرارتوں اور نافرمانیوں کا نتیجہ تھا یعنی سزا کے طور پر ان کو ان چیزوں کے استعمال سے روکا گیا تھا۔ مثلاً ناخون والا یعنی کھر رکھنے اوالا ہر وہ جانور جس کی انگلیاں پھٹی ہوئی نہ ہوں جیسے اونٹ، شتر مرغ بطخ، خرگوش وغیرہ ان کا کھانا حرام قرار دیا گیا تھا۔ اسی طرح گائے بکرے کی جو چربی پشت یا انتڑیوں یا ہڈی پر لگی ہوئی نہ ہو۔ وہ ان کے لئے حرام تھی۔ لیکن یہ ان پر بطور سزا کے حرام قرار دی گیء تھی۔ اسی طرح ہفتہ کا دن جب انہوں نے منع کرنے کے باوجود شکار کیا تھا ان پر اللہ نے عذاب نازل کیا اور ان کو شرف انسانیت سے محروم کر کے بندر بنا دیا گیا جو سارے کے سارے بندرتین دن کے اندر اندر مر کھپ گئے۔ فرمایا کہ شریعت موسیٰ اور شریعت مصطفوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں ہی اللہ کی طرف سے ہیں ان میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ جو چیزیں بطور سزا دی گئی تھیں وہ قیامت تک سارے انسانوں کے لئے حرام نہیں ہیں اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ خود اپنی طرف سے گھڑتا ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اللہ نے کن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اس کے متعلق بھی ان آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ : اے مومنو ! اللہ نے تمہیں جو بھی حلال اور پاکیزہ چیزیں عطا کی ہیں وہ کھاؤ اور اگر تم اس ایک ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرتے ہو تو اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔ فرمایا کہ تمہارے اوپر چار چیزوں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ 1) مردار 2) خون 3) خنزیر کا گوشت 4) اور ہر وہ چیز جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ اگر کوئی شخص انتہائی شدید مجبور ہوجائے تو (جان بچانے کے لئے) ان چیزوں کو استعمال کرسکتا ہے شرط یہ ہے کہ اس کا مقصد نہ تو شریعت سے بغاوت ہو اور نہ زیادتی ہو تب جائز ہے۔ وہ اللہ بڑا ہی مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ فرمایا کہ اس جھوٹ میں اپنی زبانوں کو ملوث نہ کرو کہ یہ حلال ہے اور وہ حرام ہے کیونکہ ایسا کہنا اللہ پر جھوٹ گھڑنا ہے جس کی قطعات اجازت نہیں ہے کیونکہ جو لوگ ایک جھوٹی بات کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ کبھی فلاح اور کامیابی حاصل نہیں کرسکتے وجہ یہ ہے کہ اس جھوٹ سے ممکن ہے وہ کچھ دنیاوی فائدے حاصل کرلیں لیکن یہ فائدے ان کے اس دنیا ہی میں کچھ دیر کام آسکتے ہیں۔ ایسا کرنے والوں کے لئے آخرت کا درد ناک عذاب تیار ہے۔ فرمایا کہ یہودیوں کی نافرمانی کی وجہ سے جو چیزیں ان پر حرام کی گئی تھیں وہ ان پر اللہ کا ظلم اور زیادتی نہ تھا کیونکہ اللہ تو کسی بندے پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتا یہ تو انسان ہی ہے جو اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار کر اپنے آپ کو نقصان پہنچتا ہے ۔ وہ رب العالمین تو ایسی شان والا ہے کہ اس کا کوئی بندہ زندگی بھر گناہ کرنے کے بعد بھی اگر احساس شرمندگی اور انداز ندامت ہے اس کے سامنے آ کر توبہ کرلیتا ہے اور اپنی اصلاح کرلیتا ہے تو وہ رب بہت ہی مغفرت کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مکہ والوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کی ناشکری کی جس کی بنا پر قحط سالی نے انہیں آلیا۔ اس لیے ہدایت کی جا رہی ہے کہ لوگو اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعدد فرامین میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے لوگو ! میرے سوا تمہیں کوئی رزق دینے والا نہیں۔ میں ہی اپنی حکمت کی بنا پر تمہارا رزق تنگ اور کشادہ کرتا ہوں۔ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں مزید عنایت کروں گا۔ اگر کفر اور ناشکری کا راستہ اختیار کرو گے تو میر اعذاب نہایت سخت ہوا کرتا ہے۔ (ابراہیم : ٧) اس بنا پر حکم ہے کہ جو پاک اور حلال رزق تمہیں عطا کیا جاتا ہے۔ اسے کھاؤ اور پیو۔ رزق کے ساتھ جو اور بھی نعمتیں تمہیں عطاکی جاتی ہیں ان کا شکر ادا کرو اگر واقعتا تم اسی کی بندگی کرنے والے ہو۔ اکل حلال کے ساتھ طیب کی شرط اس لیے لگائی ہے کہ بسا اوقات ایک چیز حلال ہوتی ہے مگر کسی وجہ سے وہ غلاظت آلود ہوجاتی ہے۔ مسلمان کا شیوہ یہ ہے کہ وہ حلال کے ساتھ صفائی اور طہارت کا خیال رکھے تاکہ مختلف قسم کی بیماریوں سے محفوظ رہے۔ یہاں شکر اور عبادت کو ایک حد تک لازم وملزوم قرار دیا ہے۔ جو شخص اللہ کا عبادت گزار ہے یقیناً وہ شکر گزا ربھی ہوگا اور جو اس کا شکر گزار بننا چاہتا ہے۔ اسے اللہ کی عبادت کرنا بھی لازم ہے۔ باالفاظ دیگر عبادت گزار ہی اللہ کے شکر گزار ہوتے ہیں۔ حلال کی اہمیت : (عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ یْکرِبَ الزُّبَیْدِیِّ (رض) عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَا کَسَبَ الرَّجُلُ کَسْبًا أَطْیَبَ مِنْ عَمَلِ یَدِہٖ وَمَآ أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلٰی نَفْسِہٖ وَ أَہْلِہٖ وَوَلَدِہٖ وَخَادِمِہٖ فَہُوَ صَدَقَۃٌ)[ رواہ ابن ماجۃ : کتاب التجارات ] ” حضرت مقدام بن معدیکرب (رض) رسول گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : آدمی کے ہاتھ کی کمائی سے بڑھ کر اور کوئی کمائی پاکیزہ نہیں اور آدمی اپنے نفس، اہل، اولاد اور خادم پر جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہے۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ مِنْ أَطْیَبِ مَآ أَکَلَ الرَّجُلُ مِنْ کَسْبِہٖ وَوَلَدُہٗ مِنْ کَسْبِہٖ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب البیوع، باب فی الرجل یأکل من مال ولدہ ] ” حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہترین اور پاکیزہ مال وہ ہے جو آدمی اپنی کمائی سے کھاتا ہے اور اس کی اولادبھی اس کی کمائی ہے۔ “ (لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ لَحْمٌ وَّ دَمٌ نَبْتَا عَلٰی سُحْتٍ فَالنَّارُ اَوْلٰی بِہٖ [ رواہ ترمذی : کتاب الصلاۃ باب ” جنت میں وہ گوشت اور خون داخل نہیں ہوگا جو حرام سے پلا ہوگا اس کے لیے دوزخ ہی مناسب ہے۔ “ شکروحمد : اللہ تعالیٰ کے احسانات کا اظہار اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کرنا مشکلات سے محفوظ رہنے کا طریقہ ہے، مزید ملنے کی گارنٹی اور زوال نعمت سے مامون رہنے کی ضمانت ہے۔ شکر رب کی بارگاہ میں نہایت پسندیدہ عمل ہے۔ اس کے مقابلہ میں ناشکری کفر کے مترادف ہے۔ (لإَِنْ شَکَرْتُمْ لَأََزِیْدَنَّکُمْ ) [ ابراہیم : ٧] ” اگر تم شکرکا رویہ اپناؤ گے تو مزید عنایات پاؤگے۔ “ اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی عبادت اور دین کے کسی عمل کے بارے میں بیک وقت یہ نہیں فرمایا کہ اس کی ادائیگی سے تم عذاب سے محفوظ اور مزید انعامات کے حقدار بن جاؤ گے۔ صرف شکر ایسا عمل ہے جس کے بارے میں فرمایا ہے کہ عذاب سے بچنے کے ساتھ مزید عطاؤں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ذرّہ ذرّہ شکر گزار ہے : کائنات کا ایک ایک ذرہ مالک حقیقی کی حمدوستائش اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے شکرکے ترانے الاپ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت ایمان ہے جس کے ہوتے ہوئے آدمی ہر مشکل کا سامنا اور ہر قسم کی پریشانی کو برداشت کرسکتا ہے، ایمان کا محورومرکز قرآن ہے اور قرآن کا خلاصہ فاتحہ ہے اسی بنا پر اس کا دوسرا نام ام الکتاب ہے سورة فاتحہ کا خلاصہ حمد کا لفظ قرار پایا اس میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ انسان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر اور مزید طلب کے لیے اس کی حمدو ستائش کرنی چاہیے۔ حمد پر ہی روزمحشر عدالت کبریا کا اختتام ہوگا۔ (وَتَرَی الْمَآءِکَۃَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّھِمْ وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ بالْحَقِّ وَقِیْلَ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ )[ الزمر : ٧٥] ” اور تم دیکھو گے کہ فرشتے عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کر رہے ہوں گے اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ چکا دیا جائے گا اور صدائیں بلند ہوں گی اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَلَمِےْنَ کہ تمام تعریفات اللہ ہی کے لیے ہیں۔ “ نیک لوگوں کی دعا اور شکر کا انداز : ” اے میرے رب ! مجھے توفیق بخش کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں اور نیک عمل کروں جس سے آپ راضی ہوں۔ مجھے اور میری اولاد کو نیک فرما۔ میں تیرے حضور معافی کی درخوست کرتے ہوئے تابع فرمان ہوئی جا رہا ہوں۔ “ ” حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ہاتھ کو پکڑا، پھر فرمایا اے معاذ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں تو میں نے آپ کے لیے کہا اے اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ ہر فدا ہوں میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں آپ نے فرمایا اے معاذ میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھنا نہ چھورنا۔ اے اللہ ! اپنے ذکر، شکر اور اچھی عبادت پر میری مدد فرما۔ “ مسائل ١۔ کھانا حلال اور پاک کھانا چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ٣۔ ایک اللہ کی عبادت کرنی چاہیے۔ تفسیر باالقرآن اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے والوں کا انجام : ١۔ اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔ (النحل : ١١٤) ٢۔ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بڑا سخت ہے۔ (ابراہیم : ٧) ٣۔ اللہ تمہیں عذاب نہیں دے گا اگر تم شکر کرو اور ایمان لے آؤ۔ (النساء : ١٤٧) ٤۔ اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ (یونس : ٦٠) ٥۔ بستی والوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے انہیں بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا۔ (النحل : ١١٢) ٦۔ قرآن میں شکر بمعنی ” اللہ کی فرمانبرداری کرنا “ بہت سی آیات میں استعمال ہوا ہے۔ (الزمر : ٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

تشریح : اللہ تعالیٰ محرمات کی حد بندی فرما دیتے ہیں۔ محرمات کا شمار کردیا جاتا ہے کہ بس یہی ہیں اس کے سوا کوئی چیز حرام نہیں اور اس شمار میں وہ محرمات نہیں جو انہوں نے از خود اپنے اوپر حرام کر رکھے ہیں۔ مثلاً بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ، اور اس کا شکر ادا کرو، حرام چیزوں سے بچو یہ دو آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں حلال اور پاکیزہ رزق کے کھانے کی اجازت دی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ (اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ) (کیونکہ شکر بھی عبادت ہے اور کامل عبادت شکر کے بغیر نہیں ہوسکتی) دوسری آیت میں بعض ان چیزوں کا تذکرہ فرمایا ہے جن کا کھانا حرام ہے اور ساتھ ہی مضطر کا حکم بھی بیان فرمایا، جو شخص مجبور اور مضطر ہو رہا ہو اور بھوک کی وجہ سے اس کی جان پر بن رہی ہو اور کھانے کے لیے حلال چیزوں میں سے کچھ بھی نہ ہو تو جان بچانے کے لیے اتنا سا کھالے جس سے جان بچ جائے اس سے آگے نہ بڑھے اور لذت کا طالب نہ ہو جو شخص باغی یعنی طالب لذت ہوگا یا عادی یعنی حد سے بڑھ جانے والا ہوگا یعنی جو ضروری مقدار سے زیادہ کھاجائے گا وہ گنہگار ہوگا، مجبوری کے درجہ میں جو تھوڑا سا کھالیا اس پر گناہ نہیں ہے۔ یہ آیت ذرا سے فرق کے ساتھ سورة بقرہ رکوع نمبر ٢١ میں بھی گزری ہے اور سورة مائدہ کے پہلے رکوع میں بھی محرمات بیان کردی گئی ہیں جن کو ہم نے وہاں تفصیل سے لکھ دیا ہے اس کا مراجعہ کرلیا جائے آیت بالا میں جو لفظ (اِنَّمَا) سے حصر معلوم ہو رہا ہے یہ حصر اضافی ہے یہاں جو چیزیں مذکور ہیں ان کے علاوہ بھی حرام چیزیں ہیں جن کا ذکر دیگر آیات میں اور احادیث میں وارد ہوا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

93:۔ حصہ دوم۔ نفی شرک فعلی :۔ اس حصہ میں شرک فعلی کی دو شقوں کا رد کیا گیا ہے۔ تحریماتِ غیر اللہ اور نذر غیر اللہ۔ مشرکین مکہ پر عذاب اس لیے ڈالا گیا کہ وہ غیر اللہ کو کارساز سمجھ کر پکارتے اور غیر اللہ کے لیے تحریمات کرنے اور نذریں ماننے سے بھی باز آجاؤ۔ اس میں تحریمات غیر اللہ کی نفی کی گئی ہے۔ یعنی جو حلال و طیب رزق اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں میں سے کسی چیز کو اپنی طرف سے اپنے اوپر حرام نہ کرو۔ یعنی بحیرہ، سائبہ وغیرہ نہ بناؤ، اس کی تفصیل سورة مائدہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے ملاحظہ ہو حاشیہ، ص 127، ص 298 ۔ یہ ” ضرب اللہ مثلا الخ “ سے متعلق ہے۔ مشرکین مکہ پر عذاب اس لیے ڈالا گیا کہ انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اللہ کے پیغمبر کو جھٹلایا، پیغام توحید کو رد کیا، غیر اللہ کو کارساز سمجھ کر پکارا۔ معبودانِ باطلہ کی تحریمات کرنے اور نذریں ماننے لگے۔ حالانکہ انہیں چاہئے تھا کہ وہ شکر نعم بجالاتے، صرف اللہ کو پکارتے، صرف اسی کی نذریں دیتے اور اس کی دی ہوئی حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاتے اور انہیں اپنی طرف سے حرام نہ کرتے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

114 ۔ کسی حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنا یہ کفرکا شیوہ ہے لہٰذا جو اللہ تعالیٰ نے تم کو حلال اور پاکیزہ روزی دی ہے اس میں سے کھائو ۔ اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو اور اس کا احسان مانو اگر تم اسی کے عبادت گزار ہو اور اسی کی پرستش کرتے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے تم اگر پرستار ہو تو اس کی ناسپاسی نہ کرو اور جن لذیز اور مرغوب الطبع چیزوں کو اس نے حلا ل کیا ہے انہی کو کھائو اور خدا کا شکر بجا لائو ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایمان لائو اور حلال کو حرام مت کرو اپنی عقل سے۔ 12