Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 3

سورة النحل

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۳﴾

He created the heavens and earth in truth. High is He above what they associate with Him.

اسی نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا وہ اس سے بری ہے جو مشرک کرتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah is the One Who has created the Heavens, the Earth, and Man Allah tells: خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضَ بِالْحَقِّ ... He has created the heavens and the earth with truth. Allah tells us about His creation of the upper realm, which is the heavens, and the lower realm, which is the earth, and everything in them. They have been created for a true purpose, not in vain, so that لِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى He may requite those who do evil with that which they have done (i.e. punish them in Hell), and reward those who do good, with what is best (i.e. Paradise). (53:31) ... تَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ High is He, Exalted above all that they associate as partners with Him. He declares Himself to be above the Shirk of those who worship others besides Him. He is independent of His creation, alone with no partner or associate. For this reason He deserves to be worshipped Alone, without partners. خَلَقَ الاِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ

عالم علوی اور سفلی کا خالق اللہ کریم ہی ہے ۔ بلند آسمان اور پھیلی ہوئی زمین مع تمام مخلوق کے اسی کی پیدا کی ہوئی ہے اور یہ سب بطور حق ہے نہ بطور عبث ۔ نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا ہو گی ۔ وہ تمام دوسرے معبودوں اور مشرکوں سے بری اور بیزار ہے ۔ واحد ہے ، لا شریک ہے ، اکیلا ہی خالق کل ہے ۔ اسی لئے اکیلا ہی سزا وار عبادت ہے ۔ انسان حقیر و ذلیل لیکن خالق کا انتہائی نا فرمان ہے ۔ اس نے انسان کا سلسلہ نطفے سے جاری رکھا ہے جو ایک پانی ہے ۔ حقیر و ذلیل یہ جب ٹھیک ٹھاک بنا دیا جاتا ہے تو اکڑفوں میں آ جاتا ہے رب سے جھگڑنے لگتا ہے رسولوں کی مخالفت پر تل جاتا ہے ۔ بندہ تھا چاہئے تو تھا کہ بندگی میں لگا رہتا لیکن یہ تو زندگی کرنے لگا ۔ اور آیت میں ہے اللہ نے انسان کو پانی سے بنایا اس کا نسب اور سسرال قائم کیا ۔ اللہ قادر ہے رب کے سوا یہ ان کی پوجا کرنے لگے ہیں جو بےنفع اور بےضرر ہیں کافر کچھ اللہ سے پوشیدہ نہیں ۔ سورہ یاسین میں فرمایا کیا انسان نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ تو بڑا ہی جھگڑالو نکلا ۔ ہم پر بھی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش بھول گیا کہنے لگا کہ ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا ؟ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم ان سے کہہ دو کہ انہیں وہ خالق اکبر پیدا کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا وہ تو ہر طرح کی مخلوق کی پیدائش کا پورا عالم ہے ۔ مسند احمد اور ابن ماجہ میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر تھوک کر فرمایا کہ جناب باری فرماتا ہے کہ اے انسان تو مجھے کیا عاجز کر سکتا ہے میں نے تو تجھے اس تھوک جیسی چیز سے پیدا کیا ہے جب تو زندگی پا گیا تنومند ہو گیا لباس مکان مل گیا تو لگا سمیٹنے اور میری راہ سے روکنے ؟ اور جب دم گلے میں اٹکا تو تو کہنے لگا کہ اب میں صدقہ کرتا ہو ، اللہ کی راہ میں دیتا ہوں ۔ بس اب صدقہ خیرات کا وقت نکل گیا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 یعنی محض تماشے اور کھیل کود کے طور پر نہیں پیدا کیا بلکہ ایک مقصد پیش نظر ہے اور وہ ہے جزا و سزا، جیسا کہ ابھی تفصیل گزری ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥] کائنات میں ہم آہنگی & توحید کا ثبوت :۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بیشمار مقامات پر شرک کی تردید میں زمین اور آسمانوں کی پیدائش کو ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کی ایک ایک چیز میں ہم آہنگی ہے۔ کائنات کا ہر کل پرزہ دوسرے کی تائید و توثیق کر رہا ہے۔ پھر اس کائنات کے نظام میں بیشمار فوائد، حکمتیں اور مصلحتیں ہیں۔ اور سب نتائج تعمیری قسم کے پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر اس کائنات کی تخلیق میں کوئی دوسرا بھی شریک ہوتا تو ایسا نظام وجود میں آہی نہ سکتا تھا اور اگر بالفرض محال آ بھی جاتا تو فوراً درہم برہم ہوجاتا۔ گویا کائنات کی ایک ایک چیز اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ اس خالق کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بالْحَقِّ ۔۔ : یہاں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور قدرت کے بہت سے دلائل نہایت عمدہ اور انوکھے انداز سے شروع فرمائے ہیں۔ فرمایا اس کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا، کیونکہ وہ خالق ہے اور زمین و آسمان کی ہر ہستی اور ہر چیز مخلوق ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، پھر خالق و مخلوق یکساں کیسے ہوسکتے ہیں ؟ بِالْحَقِّ : باطل کے مقابلے میں حق کا لفظ آتا ہے، یہاں بمعنی حکمت ہے، یعنی زمین و آسمان کی پیدائش بیشمار حکمتوں پر مبنی ہے، یہ کوئی کھیل یا فضول اور بےکار کام نہیں۔ دیکھیے سورة ابراہیم ( ١٩، ٢٠) ، سورة ص ( ٢٧) اور سورة دخان (٣٨، ٣٩) سب سے پہلے اپنی وحدانیت کی دلیل کے لیے زمین و آسمان کا ذکر فرمایا، کیونکہ یہ دوسری اکثر مخلوقات سے عظیم اور ان پر حاوی ہیں، چناچہ فرمایا : (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ) [ المؤمن : ٥٧ ] ” یقیناً آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بڑا ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Lexical Explanation The word: خَصِیم (khasim) in verse 4 has been derived from: خُصُومۃ (khu¬sumah) and means a quarrelsome person. Al-An’ am is the plural of na&am, which are cattles such as the camel, goat and cow. (A1-Mufradat of Raghib al-Isfahan) The word: دِفْءٌ (difun) in verse 5 denotes what provides warmth, that is, wool which is used to make warm clothings. The word: تُرِیحُون (turihun) in verse 6 is a derivation from rawah, and: تَسْرَ‌حُونَ (tasrahun) in the same verse, from saralh. When the cattle are sent to graze, it is called sarah, and when they return home, it is called rawah. The expression: بِشِقِّ الْأَنفُسِ -(shiqqil-anfus) in verse 7 means personal hardship.

لغات کی تشریح : خصیم خصومت سے مشتق ہے بمعنی جھگڑا لو انعام، نعم (بفتح نون) کی جمع ہے چوپایوں میں سے اونٹ، بکری گائے کو کہا جاتا ہے (مفردات راغب) دف گرمی اور گرمائی حاصل کرنے کی چیز مراد اون ہے جس کے گرم کپڑے بنائے جاتے ہیں تریحون رواح سے اور تسرحون سراح سے مشتق ہے چوپائے جانوروں کے صبح کے وقت چراگاہ کی طرف جانے کو سراح اور شام کو گھر میں واپس آنے کو رواح کہا جاتا ہے شق الانفس جان کی محنت ومشقت۔ خلاصہ تفسیر : (اللہ تعالیٰ نے) آسمانوں کو اور زمین کو حکمت سے بنایا وہ ان کے شرک سے پاک ہے (اور) انسان کو نطفہ سے بنایا پھر وہ اچانک کھلم کھلا (خدا ہی کی ذات وصفات میں) جھگڑنے لگا (یعنی بعض ایسے بھی ہوئے مطلب یہ ہے کہ ہماری یہ نعمتیں اور انسان کی طرف سے ناشکری) اور اسی نے چوپایوں کو بنایا ان میں تمہارے جاڑے کا بھی سامان ہے (جانوروں کی بال اور کھال سے انسان کے پوستین اور کپڑے بنتے ہیں) اور بھی بہت سے فائدے ہیں (دودھ سواری باربرداری وغیرہ) اور ان میں (جو کھانے کے قابل ہیں ان کو) کھاتے بھی ہو اور ان کی وجہ سے تمہاری رونق بھی ہے جب کہ شام کے وقت (جنگل سے گھر) لاتے ہو اور جب کہ صبح کے وقت (گھر سے جنگل کو) چھوڑ دیتے ہو اور وہ تمہارے بوجھ بھی (لاد کر) ایسے شہر کو لے جاتے ہیں جہاں تم بدون جان کو محنت میں ڈالے ہوئے نہیں پہنچ سکتے واقعی تمہارا رب بڑی شفقت و رحمت والا ہے (کہ تمہارے آرام کے لئے کیا کیا سامان پیدا کئے) اور گھوڑے اور خچر اور گدھے بھی پیدا کئے تاکہ ان پر سوار ہو اور نیز زینت کے لئے بھی اور وہ ایسی ایسی چیزیں (تمہاری سواری وغیرہ کے لئے) بناتا ہے جن کی تم کو خبر بھی نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ۭ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۝ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣) اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اللہ کے لیے یا یہ کہ زوال وفنا کے لیے بنایا اس کی ذات ان بتوں وغیرہ کے شرک سے پاک ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

6. That is to say, the entire system of the earth and the heavens is a witness to the truth of the doctrine of Tauhid and to the negation of shirk. You may look at anything in the universe and consider the system from any point of view you like, you will find proof of this fact that it is being run by one God and not by many gods. Then how is it that you believe in shirk when there is no proof whatsoever of this in the universe As a fitting sequence of this, proofs of Tauhid and refutation of shirk have been given from man himself and from other signs in the universe, and it has also been shown that Prophethood is based on truth.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :6 دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ شرک کی نفی اور توحید کا اثبات جس کی دعوت خدا کے پیغمبر دیتے ہیں ، اسی کی شہادت زمین وآسمان کا پورا کارخانہ تخلیق دے رہا ہے ۔ یہ کارخانہ کوئی خیالی گورکھ دھندا نہیں ہے ، بلکہ ایک سراسر مبنی برحقیقت نظام ہے ۔ اس میں تم جس طرف چاہو نگاہ اٹھا کر دیکھ لو ، شرک کی گواہی کہیں سے نہ ملے گی ، اللہ کے سوا دوسرے کی خدائی کہیں چلتی نظر نہیں آئے گی ، کسی چیز کی ساخت یہ شہادت نہ دے گی کہ اس کا وجود کسی اور کا بھی رہین منت ہے ۔ پھر جب یہ ٹھوس حقیقت پر بنا ہوا نظام خالص توحید پر چل رہا ہے تو آخر تمہارے اس شرک کا سکہ کس جگہ رواں ہو سکتا ہے جبکہ اس کی تہ میں وہم و گمان کے سوا واقعیت کا شائبہ تک نہیں ہے؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد آثار کائنات سے اور خود انسان کے اپنے وجود سے وہ شہادتیں پیش کی جاتی ہیں جو ایک طرف توحید پر اور دوسری طرف رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣۔ ٤۔ اللہ پاک نے اوپر کی آیتوں میں قیامت کے برحق ہونے کو شرک کی ممانعت کو اور توحید کو بیان کیا تھا کہ سوائے اللہ کی ذات کے اور کوئی معبود نہیں ہے۔ اس لئے یہ آیتیں توحید اور حشر کی ثبوت کے طور پر نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور یہ آسمان و زمین بالکل بےفائدہ نہیں بنائے گئے ہیں ان سے بڑے بڑے کام دنیا کے اندر نکلتے ہیں جو انسان کی زندگی میں ضروری ہیں پھر فرمایا کہ کفار جن معبودوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ان سے وہ اندر نکلتے ہیں جو انسان کی زندگی میں ضروری ہیں پھر فرمایا کہ کفار جن معبودوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ان سے وہ کہیں برتر و بزرگ ہے انہیں کیا خاک قدرت ہے اور جب ان میں کچھ قدرت نہیں تو ان کی پوجا سے کچھ حاصل بھی نہیں پھر انسان کی پیدائش کا حال بیان فرمایا کہ یہ اپنی حقیقت کو بھول گیا اور اللہ نے اس کو ایک قطرہ ناپاک سے پیدا کیا جوں توں وہ سیانا اور بڑا ہوتا گیا خدا سے جھگڑنے لگا اس کا شریک ٹھہراتا اس کے رسولوں کو اور حشر کو جھٹلایا اتنا نہیں سمجھا کہ بغیر حشر اور نیک و بد کی جزا و سزا کے آسمان و زمین اور تمام دنیا کا پیدا کرنا کیوں کر ٹھکانے سے لگتا ہے۔ مسند امام احمد اور ابن ماجہ میں بشیر بن حجاش (رض) سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ میں تھوک کر فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے بنی آدم تو مجھے کس طرح دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز سمجھتا ہے تیری حقیقت تو یہ ہے کہ میں نے تجھے اس تھوک جتنی چیز سے پیدا کیا ہے پھر تجھے حد کمال تک پہنچا دیا اور پھر تیرے لئے موت بھیج دی اور تو اپنی دو چادروں میں لپٹ کر چلا آیا اور جو کچھ کما کما کر اکٹھا کیا تھا اسے کسی اچھے موقع پر خرچ نہیں کیا ١ ؎۔ یہ حدیث مستدرک حاکم میں بھی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے ٢ ؎۔ معتبر سند سے البعث و النشور بیہقی اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ عاص بن وائل نے ایک بوسیدہ ہڈی کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روبرو خوب ملا اور اس کی خاک کو ہوا میں اڑا کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑی بحث کی کہ ایسی بوسیدہ ہڈیاں پھر دوبارہ کیوں کر جاندار ہوجاویں گی ٣ ؎۔ انسان کے ایک بےحقیقت چیز سے پیدا ہونے اور پھر اپنی حقیقت کو بھول کر جھگڑا لو بن جانے کا جو ذکر آخری آیت سے یہ حدیثیں گویا تفسیر ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ جس صاحب قدرت نے ان منکرین حشر کے پتلوں کو پانی جیسی پتلی چیز سے بنا دیا اور ان پتلوں میں روح پھونک دی اس کی قدرت کے آگے ہر جگہ سے رواں دواح خاک کا جمع کرلینا اور اس کا پتلہ تیار کر کے اس میں روح کا پھونک دینا کیا دشوار ہے یہ اوپر گزر چکا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک رواں دواں ہو کر جہاں جہاں جاوے گی اس کا سب حال پہلے ہی لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے۔ ١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٥٦١ ج ٢۔ ٢ ؎ تفسیر الدر النثور ص ١١٠ ج ٤۔ ٣ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٥٨١ ٢ تفسیر سورت یٰسین و لباب التقول ص ١٨٧۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:3) تعلی۔ وہ برتر ہے۔ وہ بلند ہے تعالیٰ سے (باب تفاعل) لیکن باب تفاعل کا استعمال تکلف و تخیل کے لئے نہیں بلکہ یہ ابتداء کی صورت ہے۔ جیسے تبارک اللہ (خدا تعالیٰ بہت بابرکت ہے) باب تفاعل کے خواص میں سے تخییل ہے یعنی دکھاوے کے لئے حصول ماخذ کو اپنے میں دکھانا۔ جیسے تمارض زید زید نے دکھاوے کے لئے اپنے تئیں بیمار بتایا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 اس کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ خالق ہے اور زمین و آسمان کی ہر ہستی اور ہر چیز مخلوق، پھر خالق و مخلوق یکساں کیسے ہوسکتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ایک الٰہ سے ڈرنا اور اس ایک ہی کی عبادت کرنا اس لیے ہے کہ وہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اور کائنات کی تخلیق میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ لوگوں کو اس لیے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک سمجھنے اور بنانے سے منع کیا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق میں خالق حقیقی کے ساتھ اور کوئی شریک اور سھیم نہیں تھا۔ وہی زمین و آسمان اور ہر چیز کا خالق ہے۔ زمین و آسمان کالا محدود نظام اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ نہ صرف اس کی تخلیق میں کوئی شریک نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بےمقصد پیدا کرنے کے بجائے ایک خاص مقصد اور ٹھیک ٹھیک انداز میں پیدا فرمایا ہے۔ زمین و آسمان کا چپہ چپہ اور ذرہ ذرہ اس کی خدائی کی تصدیق کرنے کے ساتھ ساتھ باطل خداؤں کی تردید کر رہا ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو برحق پیدا فرمایا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے برتر ہے۔ تفسیر بالقرآن زمین و آسمان کی پیدائش کے مختلف مراحل : ١۔ اللہ نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا ہے اللہ شرک سے بالا تر ہے۔ (النحل : ٣) ٢۔ اللہ نے بغیر نمونے اور میٹیریل کے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ (البقرۃ : ١١٦) ٣۔ زمین و آسمان پہلے باہم جڑے ہوئے تھے۔ پھر اللہ نے ان کو ایک دوسرے سے الگ کیا۔ (الانبیاء : ٣٠) ٤۔ اللہ نے دو دن میں آسمانوں کو پیدا کیا۔ (حٰم السجدۃ : ١٢) ٥۔ اللہ نے آسمان و زمین چھ دن میں بنائے۔ (الاعراف : ٥٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٣ تا ٤ وہی بات کہ تخلیق کائنات حق پر ہے۔ خلق السموت والارض بالحق (١٦ : ٣) “ اس نے زمین و آسمان کو برحق پیدا کیا ہے ”۔ گویا اس کی تخلیق کا بنیادی عنصر حق ہے۔ اس کائنات کو حق کے مطابق چلایا جا رہا ہے اور اس کائنات کو چلانے اور اس کے اندر موجود تمام مخلوقات کو چلانے کا بنیادی عنصر اور بنیادی قوت حق اور سچائی ہے۔ اس کائنات کی کوئی چیز عبث ، اتفاقی اور بےمقصد نہیں ہے۔ یہ چیز سچائی پر قائم ہے۔ سچائی کے ساتھ وابستہ ہے ، وہ سچائی کی طرف بڑھتی ہے اور اس کا انجام بھی سچائی کے مطابق ہوگا۔ تعلی عما یشرکون (١٦ : ٣) “ وہ بہت بالا و برتر ہے اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں ”۔ اللہ لوگوں کے شرک سے بہت بلند اور دور ہے ، اللہ جو خالق سماوات والارض ہے ، اس کے ساتھ خود اس کی مخلوق میں سے بعض چیزوں کو شریک کرنے کی تک کیا ہے ؟ لہٰذا اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس کے شریک ہونے کے لائق ہی نہیں ہے ، لہٰذا وہ واحد لا شریک ہے۔ خلق الانسان من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین (١٦ : ٤) “ اس نے انسان کو ذرا سی بوند سے پیدا کیا اور دیکھتے دیکھتے وہ صریحاً جھگڑالو ہستی بن گیا ”۔ اس کے آغاز کو دیکھو اور اس کی تکمیل کے بعد اس کے نخروں کو دیکھو کس قدر عظیم فرق ہے۔ اس حقیر اور سادہ بوند کو دیکھو اور پھر ایک مکمل جھگڑالو اور خالق کے مقابل میں آنے والے اس حضرت کو دیکھو کہ وہ خود خالق کے ساتھ مجادلہ کرتا ہے ، خالق کے وجود تک کا منکر ہوجاتا ہے یا اس کی وحدانیت کا انکار کر کے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتا ہے۔ اس کی حالت نطفہ اور حالت جدال کے درمیان زمان و مکان کا کوئی بہت بڑا فاصلہ بھی نہیں ہوتا ۔ قرآن بھی ایسا انداز تعبیر اختیار کرتا ہے کہ یہ فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ انسان کے آغاز و انجام میں یہ فرق جس قدر عظیم اور واضح ہے اسی طرح اچانک ہے۔ چناچہ ایک ہی لمحے میں انسان کے سامنے دو مختلف مناظر آجاتے ہیں۔ ایک وہ منظر کہ انسان ایک حقیر بوند ہے اور دوسرا وہ منظر کہ وہ کامل ہو کر ناز نخرے کرتا ہے اور خود خالق کے بالمقابل آکھڑا ہوتا ہے۔ تصویر کشی کا یہ اعجاز بھی ہے اور ایجاز بھی یعنی مختصر ترین الفاظ میں معجزانہ طرز ادا۔ اب ذرا منظر کائنات پر غور کریں ، یہ ایک وسیع منظر ہے۔ زمین و آسمان کا وسیع دائرہ جس میں حضرت انسان کھڑا ہے۔ اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی یہ پوری کائنات انسان کے لئے مسخر کردی گئی ہے۔ اس میں بحث کا آغاز ان جانوروں سے کیا جاتا ہے جو واضح طور پر خادم انسان ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد آسمان اور زمین کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا (اس کی تفسیر چند صفحات پہلے سورة حجر کے آخری رکوع میں گزر چکی ہے) پھر بطور تاکید مضمون سابق کا اعادہ فرمایا (تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ) (اللہ تعالیٰ اس سے برتر ہے جو وہ شریک تجویز کرتے ہیں۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ یہ نفی شرک فی التصرف پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اس دلیل میں جن امور کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب گیر خدا کی طاقت اور قدرت سے ماورا ہیں اور ان تمام امور کا خالق و فاعل صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا وہی متصرف و کارساز ہے اور صفات کارسازی میں وحدہ لا شریک ہے۔ ” بِالْحَقِّ “ یعنی یہ ساری کائنات اس نے پیدا ہی اس لیے کی ہے تاکہ وہ اس کی وحدانیت اور کمال قدرت پر دلالت کرے اور اس کے بندے اس میں غور و فکر کر کے سمجھ لیں کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ بالحق ای للدلالۃ علی قدرتہ وان لہ ان یتعبد العباد بالطاعۃ وان یحییٰ الخلق بعد الموت (قرطبی ج 10 ص 68) ۔ ” تَعَالیٰ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ “ اس دلیل سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں وہ تنہا ہی متصرف و مختار ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

3 ۔ اس اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو کمال حکمت سے بنایا وہ ان مشرکوں کے شرک سے بالا تر ہے۔ یعنی آسمانوں کو اور زمین کو اپنی مصلحت سے ٹھیک بنایا اور جب کوئی بنانے میں اس کا شریک نہ تھا تو اب یہ مشرک اس کا شریک ٹھہرانے میں سخت غلطی کرتے ہیں اور وہ ان کے شرک سے بہت بلند وبالا تر ہے۔