Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 90

سورة النحل

اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَ الۡاِحۡسَانِ وَ اِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ یَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ وَ الۡبَغۡیِ ۚ یَعِظُکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۹۰﴾

Indeed, Allah orders justice and good conduct and giving to relatives and forbids immorality and bad conduct and oppression. He admonishes you that perhaps you will be reminded.

اللہ تعالٰی عدل کا ، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی کے کاموں ، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے ، وہ خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to be Fair and Kind Allah says: إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالاِحْسَانِ ... Verily, Allah orders justice and kindness, Allah tells us that He commands His servant to be just, i.e., fair and moderate, and that He encourages kindness and good treatment. As He says: وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُواْ بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَيِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصَّـبِرينَ And if you punish them, then punish them with the like of that with which you were afflicted. But if you have patience with them, then it is better for those who are patient. (16:126) وَجَزَاءُ سَيِّيَةٍ سَيِّيَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ The recompense for an offense is an offense the like thereof; but whoever forgives and makes reconciliation, his reward is with Allah. (42:40) وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ and wounds equal for equal. But if anyone remits the retaliation by way of charity, it shall count as atonement for him. (5:45) And there are other Ayat which support the institution of justice in Islam, as well as encouraging a fair and generous attitude. The Command to maintain the Ties of Kinship and the prohibition of Immoral Sins, Evil and Tyranny Allah says: ... وَإِيتَاء ذِي الْقُرْبَى ... and giving (help) to relatives, meaning that Allah is commanding us to uphold the ties of kinship, as He says: وَءَاتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا And give the relative his due and to the poor and to the wayfarer. But do not spend wastefully in the manner of a spendthrift. (17:26) ... وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ ... and He forbids immoral sins, and evil. Fahsha' refers to all things that are forbidden, and Munkar refers to those forbidden deeds that are committed openly by the one who does them. Hence Allah says elsewhere: قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ Say (O Muhammad): "(But) the things that my Lord has indeed forbidden are the indecencies, whether committed openly or secretly) (7:33) ... وَالْبَغْيِ ... Baghy, refers to aggression towards people. In a Hadith, the Prophet said: مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرَ أَنْ يُعَجِّلَ اللهُ عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لِصَاحِبِهِ فِي الاْاخِرَةِ مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِم There is no sin more deserving of having its punishment hastened in this world, as well as what is reserved in the Hereafter for the one who does it, than tyrannical aggression and cutting the ties of kinship. ... يَعِظُكُمْ ... He admonishes you, meaning, He commands what He commands you of good and He forbids what He forbids you of evil; ... لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ so that perhaps you may take heed. Ash-Sha`bi reported that Shatiyr bin Shakl said: "I heard Ibn Mas`ud say: `The most comprehensive Ayah in the Qur'an is in Surah An-Nahl: إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالاِحْسَانِ ... Verily, Allah enjoins justice and kindness..."' It was reported by Ibn Jarir. The Eyewitness Account of `Uthman Concerning the revelation of this Ayah, Imam Ahmad reported a Hasan Hadith from Abdullah bin Abbas who said: "While the Messenger of Allah was sitting in the courtyard of his house, Uthman bin Maz`un passed by and smiled at the Messenger of Allah. The Messenger of Allah said to him, أَلاَ تَجْلِسُ (Won't you sit down)? He said, `Certainly.' So the Messenger of Allah sat facing him, and while they were talking, the Messenger of Allah began looking up at the sky, looking at it for a while, then he brought his gaze down until he was looking at the ground to his right. Then the Messenger of Allah turned slightly away from his companion Uthman to where he was looking. Then he began to tilt his head as if trying to understand something, and Ibn Maz`un was looking on. When the matter was finished and he had understood what had been said to him, the Messenger of Allah stared at the sky again as he had the first time, looking at whatever he could see until it disappeared. Then he turned back to face Uthman again. Uthman said, `O Muhammad, I have never seen you do anything like you did today while I was sitting with you.' The Messenger of Allah said: وَمَا رَأَيْتَنِي فَعَلْتُ What did you see me do? Uthman said: `I saw you staring at the sky, then you lowered your gaze until you were looking to your right, then you turned to him and left me. Then you tilted your head as if you were trying to understand something that was being said to you.' The Messenger of Allah said, وَفَطِنْتَ لِذَلِكَ Did you notice that? Uthman said, `Yes'. The Messenger of Allah said: أَتَانِي رَسُولُ اللهِ انِفًا وَأَنْتَ جَالِس A messenger from Allah came to me just now, when you were sitting here. Uthman said, `A messenger from Allah!' The Messenger of Allah said, Yes. Uthman said, `And what did he say to you?' The Messenger of Allah said: إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالاِحْسَانِ ... Verily, Allah orders justice and kindness... Uthman said: That was when faith was established in my heart and I began to love Muhammad." It is a Hasan Hadith having a good connected chain of narrators in which their hearing it from each other is clear.

بر ابر کا بدلہ اللہ سبحا نہ وتعالیٰ اپنے بندوں کو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور سلوک و احسان کی رہنمائی کرتا ہے گو بدلہ لینا بھی جائز ہے جیسے آیت ( وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ ١٢٦؁ ) 16- النحل:126 ) میں فرمایا کہ اگر بدلہ لے سکو تو برابر برابر کا بدلہ لو لیکن اگر صبر و برداشت کر لو تو کیا ہی کہنا یہ بڑی مردانگی کی بات ہے ۔ اور آیت میں فرمایا اس کا اجر خدا کے ہاں ملے گا ۔ ایک اور آیت میں ہے زخموں کا قصاص ہے لیکن جو درگزر کر جائے اس کے گناہوں کی معافی ہے ۔ پس عدل تو فرض ، احسان نفل اور کلمہ تو حید کی شہادت بھی عدل ہے ۔ ظاہر باطن کی پاکیزگی بھی عدل ہے اور احسان یہ ہے کہ پاکی صفائی ظاہر سے بھی زیادہ ہو ۔ اور فحشاء اور منکر یہ ہے کہ باطن میں کھوٹ ہو اور ظاہر میں بناوٹ ہو ۔ وہ صلہ رحمی کا بھی حکم دیتا ہے ۔ جیسے صاف لفظوں میں ارشاد آیت ( وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا 26؀ ) 17- الإسراء:26 ) ۔ رشتے داروں ، مسکینوں ، مسافروں کو ان کا حق دو اور بےجا خرچ نہ کرو ۔ محرمات سے وہ تمہیں روکتا ہے ، برائیوں سے منع کرتا ہے ظاہری باطنی تمام برائیاں حرام ہیں ۔ لوگوں پر ظلم و زیادتی حرام ہے ۔ حدیث میں ہے کہ کوئی گناہ ظلم و زیادتی اور قطع رحمی سے بڑھ کر ایسا نہیں کہ دنیا میں بھی جلدی ہی اس کا بدلہ ملے اور اخرت میں بھی سخت پکڑ ہو ۔ اللہ کے یہ احکام اور یہ نواہی تمہاری نصیحت کے لئے ہیں جو اچھی عادتیں ہیں ، ان کا حکم قرآن نے دیا ہے اور جو بری خصلتیں لوگوں میں ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا ہے ، بد خلقی اور برائی سے اس نے ممانعت کر دی ہے ۔ حدیث شریف میں ہے بہترین اخلاق اللہ کو پسند ہیں اور بد خلقی کو وہ مکروہ رکھتا ہے ۔ اکثم بن صیفی کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت اطلاع ہوئی تو اس نے خدمت نبوی میں حاضر ہونے کی ٹھان لی لیکن اس کی قوم اس کے سر ہو گئی اور اسے روک لیا اس نے کہا اچھا مجھے نہیں جانے دیتے تو قاصد لاؤ جنہیں میں وہاں بھیجوں ۔ دو شخص اس خدمت کی انجام دہی کے لئے تیار ہوئے یہاں آ کر انہوں نے کہا کہ ہم اکثم بن صیفی کے قاصد ہیں وہ آپ سے پوچھتا ہے کہ آپ کون ہیں اور کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور دوسرے سو ال کا جواب یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول ۔ پھر آپ نے یہی آیت انہیں پڑھ کر سنائی انہوں نے کہا دوبارہ پڑھئے ۔ آپ نے پھر پڑھی ، یہاں تک کہ انہوں نے یاد کر لی پھر واپس جا کر اکثم کو خبر دی اور کہا اپنے نسب پر اس نے کوئی فخر نہیں کیا ۔ صرف اپنا اور اپنے والد کا نام بتا دیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہیں وہ بڑے نسب والے ، مضر میں اعلی خاندان کے ہیں اور پھر یہ کلمات ہمیں تعلیم فرمائے جو آپ کی زبانی ہم نے سنے ۔ یہ سن کر اکثم نے کہا وہ تو بڑی اچھی اور اعلی باتیں سکھاتے ہیں اور بری اور سفلی باتوں سے روکتے ہیں ۔ میرے قبیلے کے لوگو تم اسلام کی طرف سبقت کرو تاکہ تم دوسروں پر سرداری کرو اور دوسروں کے ہاتھوں میں دمیں بن کر نہ رہ جاؤ ۔ اس آیت کے شان نزول میں ایک حسن حدیث مسند امام احمد میں وارد ہوئی ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگنائی میں بھٹھے ہوئے تھے کہ عثمان بن مظعون آپ کے پاس سے گزرے آپ نے فرمایا بیٹھتے نہیں ہو ؟ وہ بیٹھ گیا ، آپ اس کی طرف متوجہ ہو کر باتیں کر رہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دفعتہ اپنی نظریں آسمان کی جانب اٹھائیں کچھ دیر اوپر ہی کو دیکھتے رہے ، پھر نگاہیں آہستہ آہستہ نیچی کیں اور اپنی دائیں جانب زمین کی طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف آپ نے رخ بھی کر لیا اور اس طرح سر ہلانے لگے گویا کسی سے کچھ سمجھ رہے ہیں اور کوئی آپ سے کچھ کہہ رہا ہے تھوڑی دیر تک یہی حالت طاری رہی پھر آپ نے اپنی نگاہیں اونچی کرنی شروع کیں ، یہاں تک کہ آسمان تک آپ کی نگاہیں پہنچیں پھر آپ ٹھیک ٹھاک ہو گئے اور اسی پہلی بیٹھک پر عثمان کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گئے ۔ وہ یہ سب دیکھ رہا تھا ، اس سے صبر نہ ہو سکا ، پوچھا کہ حضرت آپ کے پاس کئی بار بیٹھنے کا اتفاق ہوا لیکن آج جیسا منظر تو کبھی نہیں دیکھا ، آپ نے پوچھا تم نے کیا دیکھا ؟ اس نے کہا یہ کہ آپ نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی پھر نیچیں کر لی اور اپنے دائیں طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف گھوم کر بیٹھ گئے ، مجھے چھوڑ دیا ، پھر اس طرح سر ہلانے لگے جیسے کوئی آپ سے کچھ کہہ رہا ہو ۔ اور آپ اسے اچھی طرح سن سمجھ رہے ہوں ۔ آپ نے فرمایا اچھا تم نے یہ سب کچھ دیکھا ؟ اس نے کہا برابر دیکھتا ہی رہا ۔ آپ نے فرمایا میرے پاس اللہ کا نازل کردہ فرشتہ وحی لے کر آیا تھا اس نے کہا اللہ کا بھیجا ہوا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ، ہاں اللہ کا بھیجا ہو ا ۔ پوچھا پھر اس نے آپ سے کیا کہا ؟ آپ نے یہی آیت پڑھ سنائی ۔ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسی وقت میرے دل میں ایمان بیٹھ گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے میرے دل میں گھر کر لیا ۔ ایک اور روایت میں حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا جو آپ نے اپنی نگاہیں اوپر کو اٹھائیں اور فرمایا جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اس آیت کو اس سورت کی اس جگہ رکھوں یہ روایت بھی صحیح ہے واللہ !علم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

90۔ 1 عدل کے مشہور معنی انصاف کرنے کے ہیں۔ یعنی اپنوں اور بیگانوں سب کے ساتھ انصاف کیا جائے، کسی کے ساتھ دشمنی یا عناد یا محبت یا قرابت کی وجہ سے، انصاف کے تقاضے مجروح نہ ہوں۔ ایک دوسرے معنی اعتدال کے ہیں یعنی کسی معاملے میں بھی زیادتی یا کمی کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ حتیٰ کہ دین کے معاملے میں بھی۔ کیونکہ دین میں زیادتی کا نتیجہ حد سے زیادہ گزر جانا ہے، جو سخت خراب ہے اور کمی، دین میں کوتاہی ہے یہ بھی ناپسندیدہ ہے۔ 90۔ 2 احسان کے ایک معنی حسن سلوک، عفو و درگزر اور معاف کردینے کے ہیں۔ دوسرے معنی تفضل کے ہیں یعنی حق واجب سے زیادہ دینا یا عمل واجب سے زیادہ عمل کرنا۔ مثلا کسی کام کی مزدوری سو روپے طے ہے لیکن دیتے وقت 10، 20 روپے زیادہ دے دینا، طے شدہ سو روپے کی ادائیگی حق واجب ہے اور یہ عدل ہے۔ مزید 10، 20 روپے یہ احسان ہے۔ عدل سے بھی معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے لیکن احسان سے مزید خوش گواری اور اپنائیت و فدائیت کے جذبات نشو ونما پاتے ہیں۔ اور فرائض کی ادائیگی کے ساتھ نوافل کا اہتمام، عمل واجب سے زیادہ عمل جس سے اللہ کا قرب خصوصی حاصل ہوتا ہے۔ احسان کے ایک تیسرے معنی اخلاص عمل اور حسن عبادت ہے، جس کو حدیث میں ان تعبد اللہ کانک تراہ اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایتاء ذی القربی رشتے داروں کا حق ادا کرنا یعنی ان کی امداد کرنا ہے اسے حدیث میں صلہ رحمی کہا گیا ہے اور اس کی نہایت تاکید احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ عدل واحسان کے بعد اس کا الگ سے ذکر یہ بھی صلہ رحمی کی اہمیت کو واضح کر رہا ہے۔ فحشاء سے مراد بےحیائی کے کام ہیں۔ آج کل بےحیائی اتنی عام ہوگئی ہے کہ اس کا نام تہذیب ترقی اور آرٹ قرار پا گیا ہے۔ یا تفریح کے نام پر اس کا جواز تسلیم کرلیا گیا ہے۔ تاہم محض خوشنما لیبل لگا لینے سے کسی چیز کی حقیقت نہیں بدل جاتی اسی طرح شریعت اسلامیہ نے زنا اور اس کے مقدمات کو رقص وسرود بےپردگی اور فیشن پرستی کو اور مرد و زن کے بےباکانہ اختلاط اور مخلوط معاشرت اور دیگر اس قسم کی خرافات کو بےحیائی قرار دیا ہے، ان کا کتنا بھی اچھا نام رکھ لیا جائے مغرب سے درآمد شدہ یہ خباثتیں جائز قرار نہیں پا سکتیں۔ منکر ہر وہ کام ہے جسے شریعت نے ناجائز قرار دیا ہے اور بغی کا مطلب ظلم و زیادتی کا ارتکاب۔ ایک حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ قطع رحمی اور بغی یہ دونوں جرم اللہ کو اتنے ناپسند ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی ان کی فوری سزا کا امکان غالب رہتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٣] اس آیت میں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے اور تین باتوں سے منع کیا گیا ہے اور یہ چھ الفاظ اس قدر وسیع المعنی ہیں کہ ساری اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ان میں آگیا ہے۔ اسی لیے بعض علماء کہتے ہیں کہ اگر قرآن میں کوئی آیت نہ ہوتی تو صرف یہی آیت انسان کی ہدایت کے لیے کافی تھی۔ اور سیدنا عثمان بن مظعون (رض) فرماتے ہیں کہ اسی آیت کو سن کر میرے دل میں ایمان راسخ ہوا اور میرے دل میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت جاگزیں ہوئی۔ اس آیت کی اسی جامعیت کی وجہ سے خلیفہ راشد سیدنا عمر بن عبدالعزیز نے اسے خطبہ جمعہ میں داخل کرکے امت کے لیے اسوہ حسنہ قائم کردیا اور حقیقت یہ ہے کہ اگر ان اوامرو نواہی پر عمل کیا جائے تو معاشرہ کی اخلاقی، معاشرتی اور معاشی حالت بہترین بن سکتی ہے۔ اس تمہید کے بعد اب ہم ان الفاظ کی مختصر تشریح پیش کرتے ہیں : ١۔ عدل کے معنی :۔ عدل میں دو بنیادی معنی پائے جاتے ہیں (١) توازن و تناسب کو قائم رکھنا، (٢) دوسرے کو اس کا حق بےلاگ طریقہ سے دینا (الفروق اللغویہ از ابو ہلال عسکری) اور اس روایت بالعدل قامت السموت والارض (یعنی زمین و آسمان عدل کے سہارے قائم ہیں) کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کے سیاروں میں اس قدر توازن و تناسب اور ہم آہنگی ہے کہ اگر ان کی کشش اور حرکت میں ذرا بھی کمی بیشی ہوجائے تو زمین اور آسمان ایک دوسرے سے ٹکرا کر کائنات کو فنا کردیں۔ اور عدل کا اطلاق ظاہری اور باطنی سب امور پر یکساں ہوتا ہے۔ (فقہ اللغۃ ١٩٤ از ثعالبی) قرآن کریم کی درج ذیل آیت پہلے معنی میں استعمال ہوئی ہے۔ ( الَّذِيْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَ ۝ ۙ ) 82 ۔ الإنفطار :7) جس نے تجھے پیدا کیا اور (تیرے اعضاء) کو ٹھیک کیا اور (تیرے قدو قامت اور مزاج) کو معتدل رکھا۔ پھر اسی پہلے معنی کے لحاظ سے دو مزید معنی بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ (١) برابری کے معنوں میں جیسے ارشاد باری ہے : (اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِيَامًا 95؀) 5 ۔ المآئدہ :95) یا کفارہ دے جو مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے یا اس کے برابر روزے رکھے اور (٢) عوض، بدلہ یا معاوضہ کے معنی ہیں جیسے ارشاد باری ہے : (وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ ١٢٣؀) 2 ۔ البقرة :123) نہ اس سے سفارش قبول کی جائے گی اور نہ ہی اس سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے گا۔ اور عدل کا دوسرا بنیادی معنی کسی کو اس کا جائز حق دینا ہے اور یہ کام کسی ملک کی عدلیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں جو عدل کا معنی انصاف کیا جاتا ہے۔ یہ عدل کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ انصاف کا مفہوم یہ ہے کہ اگر ایک چیز کی ملکیت کے دو دعویدار ہیں تو اس چیز کو ان میں آدھا آدھا بانٹ دیا جائے جبکہ عدل کا مفہوم یہ ہے کہ فریقین کے بیان سن کر عدالت تحقیق کرے کہ اس میں فلاں فریق کا کچھ حق ہے بھی یا نہیں اور اگر ہے تو کتنا ہے ؟ اگر ایک فریق کا حق صرف پانچواں حصہ ہے تو اسے اتنا ہی دلائے۔ اور اگر ایک فریق کا کچھ بھی حق نہیں بنتا تو اسے کچھ بھی نہ دلائے۔ درج ذیل آیت اسی معنی میں ہے : (اِعْدِلُوْا ۣ هُوَ اَقْرَبُ للتَّقْوٰى ۝) 5 ۔ المآئدہ :8) عدل کیا کرو، یہی بات تقویٰ سے قریب تر ہے۔ ٢۔ احسان کے معنی : احسان کا معنی ہر نیک اور اچھا کام ہے خواہ اس کا تعلق اپنی ذات سے ہو یا کسی دوسرے سے (فقہ اللغہ ١٥٨ از ثعالبی) اور یہ لفظ چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے ہر بھلائی کے کام پر بولا جاتا ہے اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ کسی کام کو بہتر سے بہتر طریقہ سے بجا لایا جائے۔ چناچہ حدیث جبریل میں ہے کہ جبریل نے آپ سے پوچھا کہ احسان کیا چیز ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ && احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے اور یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم یہ ضرور سمجھے کہ اللہ تجھے دیکھ رہا ہے اور عبادت کا مفہوم صرف فرضی یا نفلی نماز ادا کرنا نہیں۔ بلکہ جو کام بھی اللہ کا حکم سمجھ کر بجا لایا جائے وہ اس کی عبادت ہے اور کام کو خوشدلی کے ساتھ اور اچھے طریقہ سے بجا لانے کا نام احسان ہے۔ اس لحاظ سے کسی جانور کو ذبح کرتے وقت چھری کو خوب تیز کرلینا بھی احسان ہے تاکہ ذبیحہ کو کم سے کم تکلیف پہنچے۔ عدل اور احسان میں فرق :۔ عدل اگرچہ بذات خود ایک اعلیٰ قدر ہے مگر احسان کا درجہ عدل سے بھی بڑھ کر ہے۔ عدل اور احسان کے فرق کو ہم ایک معمولی سی مثال سے سمجھائیں گے۔ مثلاً ایک دکاندار سودا دیتے وقت ترازو کی ڈنڈی بالکل سیدھی رکھ کر چیز تولتا ہے اور کوئی ہیرا پھیری نہیں کرتا تو یہ عدل ہے اور اگر کچھ جھکتا تول کر دے یعنی زیادہ دے دے یا قیمت طے کرلینے کے بعد کچھ مزید رعایت کر دے تو یہ احسان ہے جسے دوسرے لفظوں میں ایثار بھی کہا جاسکتا ہے مگر اس مثال سے عدل اور احسان کے صرف ایک پہلو کا فرق نمایاں ہوتا ہے۔ احسان کے معاشرتی زندگی میں اثرات :۔ جس معاشرہ میں عدل قائم ہو گو اس میں ایک دوسرے کے حقوق غصب نہیں ہوتے تاہم کچھ کشمکش ضرور باقی رہتی ہے۔ لیکن جس معاشرہ میں احسان رواج پا جائے یا الفاظ دیگر ہر شخص اپنے حق سے کچھ کم پر قانع ہوجائے تو ایسے معاشرہ میں نزاع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ اس میں محبت، الفت اور اخوت جیسی بلند اقدار فروغ پانے لگتی ہیں۔ نیز ان دونوں الفاظ کا اطلاق عقائد، اعمال، عبادات، اخلاق، معاملات اور جذبات سب باتوں پر ہوتا ہے۔ ٣۔ قریبی رشتہ داروں کو دینا : :۔ عدل و احسان کا سلوک تو قریبی رشتہ داروں سے بھی ہوگا تاہم ان کے حقوق عام لوگوں سے زیادہ ہیں۔ اور یہ بڑا طویل باب ہے جس میں والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے حقوق اور ان سے بہتر سلوک سب کچھ شامل ہے۔ اور اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ ہر خاندان کے خوشحال افراد کو اس بات کا ذمہ دار قرار دیتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کے لوگوں کو بھوکا ننگا نہ چھوڑیں۔ اس کی نگاہ میں ایک معاشرے کی اس سے بدتر کوئی حالت نہیں ہے کہ اس کے اندر ایک شخص تو عیاشی کی زندگی بسر کر رہا ہو اور اسی خاندان میں اس کے اپنے بھائی بند روٹی کپڑے تک کو محتاج ہوں۔ اور جس معاشرہ کے خوشحال افراد اپنی اس ذمہ داری کو سنبھال لیں اس کے متعلق آپ خود اندازہ فرما لیجئے کہ اس میں معاشی حیثیت سے کتنی خوشحالی، معاشرتی حیثیت سے کتنی حلاوت اور اخلاقی حیثیت سے کتنی پاکیزگی و بلندی پیدا ہوجائے گی۔ اور جن باتوں سے منع کیا گیا ہے وہ یہ ہیں : ١۔ فحاشی کے کام : فحشاء فحش کے معنی ہر وہ قول یا فعل ہے جو قباحت اور برائی میں حد سے بڑھا ہوا ہو (مفردات) اور اس لفظ کا اطلاق عموماً ایسے اقوال و افعال پر ہوتا ہے جو زنا یا اس جیسی دوسری شہوانی حرکات کے قریب لے جاتے ہوں نیز سب بےحیائی کے کام اوراقوال اس میں شامل ہیں۔ مثلاً برہنگی، عریانی، لواطت، محرمات سے نکاح، تہمت تراشی، گالیاں بکنا، پوشیدہ جرائم کی تشہیر، بدکاریوں پر ابھارنے والے افسانے اور ڈرامے اور فلمیں، عریاں تصاویر، عورتوں کا بن سنور کا منظر عام پر آنا، مردوزن کا آزادانہ اختلاط، عورتوں کا سٹیج پر ناچنا اور تھرکنا اور ناز و ادا کی نمائش سب کچھ فحشاء کے زمرہ میں آتا ہے۔ ٢۔ منکرات کیا ہیں : منکر کچھ برے کام ایسے ہیں جن سے شریعت نے بالوضاحت منع کردیا ہے۔ وہ تو بہرحال منکرات میں شامل ہیں ہی مگر کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں شریعت خاموش ہوتی ہے لیکن کسی خاص ملک یا کسی خاص معاشرہ میں وہ معیوب اور برے سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے کام اس خاص ملک یا معاشرہ میں تو منکر ہوتے ہیں مگر دوسرے ملک یا معاشرہ میں انھیں منکر نہیں کہا جاسکتا۔ (منکر کی ضد معروف ہے) اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ہمارے ہاں اپنے سے بڑے یا بزرگوں کو جی یا صاحب کہہ کر پکارا جاتا ہے لیکن عرب میں نہ ایسا دستور ہے اور نہ ہی اس بارے میں شریعت کا کوئی حکم ہے لہذا بڑوں کو ادب سے یا جی یا صاحب کے لقب سے یا واحد کے بجائے صیغہ جمع حاضر مخاطب میں بلانا معروف ہے اور اگر کوئی تو کہہ کر پکارے تو یہ منکر ہے۔ اسی طرح قبلہ کی طرف پاؤں پھیلا کر بیٹھنا یا لیٹنا ہمارے ہاں منکر ہے اور اسے برا اور معیوب سمجھا جاتا ہے جبکہ شریعت اس بارے میں خاموش ہے اور کئی ممالک کے لوگ اسے منکر نہیں سمجھتے نہ اسے معروف سمجھتے ہیں۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو منکرات سے بھی منع کرتا ہے۔ ٣۔ بغی کے مختلف مفہوم :۔ ١۔ بغی کے معنی کسی چیز کی طلب اور خواہش کے حصول میں مناسب حد سے آگے نکل جانا۔ اپنے حق سے کچھ زیادہ وصول کرنے کی کوشش کرنا اور اسی نسبت سے دوسروں کا حق دبانا، اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنا، نافرمانی کرنا، دوسروں کے جان و مال یا آبرو پر ناحق دست درازی کرنا، قانون شکنی کرنا، سرکشی کرنا وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔ معروف لفظ بغاوت بھی اسی سے مشتق ہے۔ الغرض اگر ان مندرجہ بالا تین قسم کی برائیوں سے اجتناب کیا جائے تو ایسا معاشرہ ہر قسم کی قباحتوں اور برائیوں سے مہذب اور پاک صاف ہوجاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ : عدل کا معنی اپنے عقیدے اور عمل میں زیادتی یا کمی سے بچ کر اعتدال اور درمیانہ راستہ اختیار کرنا ہے۔ انصاف بھی یہی ہے اور قسط بھی۔ ” وَالْاِحْسَانِ “ کا لفظ دو طرح آتا ہے، ایک ”إِلٰی “ یا کسی اور حرف کے واسطے کے بغیر، اس کا معنی کام کو بہت اچھی طرح اور پختگی و مضبوطی سے کرنا ہوتا ہے، مثلاً ” أَحْسَنْتُہٗ “ کہ میں نے یہ کام بہت اچھی طرح کیا، اور ایک ” إِلٰی “ وغیرہ کے واسطے کے ساتھ، جیسے ” أَحْسَنْتُ اِلَیْہِ “ کہ میں نے اس سے اچھا سلوک کیا، یعنی اس ” اِحْسَانٌ“ کا معنی اللہ کی مخلوق کو نفع پہنچانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساری مخلوق کو پیدا کرنے اور ہر نعمت عطا فرمانے کا تقاضا یہ ہے کہ نہ تو اس کے حق میں تفریط (کمی) کی جائے نہ افراط (زیادتی) ۔ کمی یہ ہے کہ اس کی ذات کا انکار کیا جائے، یا اس کی صفات (جس طرح اس نے بیان فرمائی ہیں) میں سے کسی صفت کا انکار کیا جائے، اسے تعطیل کہتے ہیں، یا اسے مخلوق کے مشابہ کہا جائے، اسے تشبیہ کہتے ہیں۔ یا اس کا مطلب ایسا نکالا جائے جس سے اس صفت کا انکار لازم آتا ہو، اسے باطل تاویل یا تحریف کہتے ہیں۔ یا کہا جائے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ اللہ کی صفات مثلاً سمیع یا بصیر وغیرہ کا مطلب کیا ہے، یہ اللہ ہی جانتا ہے، یہ بھی انکار ہی کی ایک صورت ہے، اسے تفویض کہتے ہیں۔ یہ سب اس رحمن کے حق میں تفریط (کمی) ہے اور عدل و قسط کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں افراط (زیادتی) یہ ہے کہ کسی مخلوق کو اس کی ذات یا کسی صفت میں اس کا شریک مانا جائے، یہ اس اکیلے خالق ومالک کے ساتھ سخت ناانصافی اور ظلم عظیم ہے۔ اس لیے ابن عباس (رض) نے اس آیت میں مذکور عدل کا معنی ” لا الٰہ الا اللہ “ کی شہادت قرار دیا ہے۔ (طبری بسند حسن : ٢١٩٩٥) مخلوق کے بارے میں عدل یہ ہے کہ کسی کو اس کے حق سے نہ کم دیا جائے نہ زیادہ، بلکہ ہر ایک کو اس کا حق پورا پورا دیا جائے، خواہ اپنی ذات پر بوجھ آتا ہو، یا جن کے درمیان آپ فیصلہ کر رہے ہیں ان میں سے کسی ایک سے آپ کی دشمنی یا دوستی ہو، تو کسی کا حق پورا دینے میں وہ دشمنی یا دوستی حائل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی بہت تاکید فرمائی ہے، چناچہ فرمایا : (وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بالْعَدْلِ ) [ النساء : ٥٨ ] ” اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو۔ “ اور فرمایا : (وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا ۭاِعْدِلُوْا ۣ هُوَ اَقْرَبُ للتَّقْوٰى ) [ المائدۃ : ٨ ] ” اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ “ اور فرمایا : (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بالْقِسْطِ شُهَدَاۗءَ لِلّٰهِ وَلَوْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ ۚ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا) [ النساء : ١٣٥ ] ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! انصاف پر پوری طرح قائم رہنے والے، اللہ کے لیے شہادت دینے والے بن جاؤ، خواہ تمہاری ذاتوں یا والدین اور زیادہ قرابت والوں کے خلاف ہو، اگر کوئی غنی ہے یا فقیر تو اللہ ان دونوں پر زیادہ حق رکھنے والا ہے۔ “ ” الْاِحْسَانِ “ کا مطلب اگر کام کو اچھی طرح کرنا ہو تو اس کی وضاحت حدیث جبریل (علیہ السلام) میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل (علیہ السلام) کے سوال کہ احسان کیا ہے ؟ اس سوال کے جواب میں فرمایا : ( أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تََرَاہُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِِنَّہُ یَرَاکَ ) [ بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عن الإیمان و الإسلام۔۔ : ٥٠۔ مسلم : ٨ ] ” احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو جیسے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، سو اگر تم اسے نہ دیکھتے ہو تو وہ تمہیں دیکھتا ہے۔ “ ظاہر ہے نگرانی کے احساس کے ساتھ ہر کام کرنے والا کام کو اچھے سے اچھا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر ہر کام نماز، روزہ، صدقہ، حج، تجارت، صنعت، زراعت اور مزدوری کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی نگرانی دل میں حاضر ہو کہ پروردگار عالم مجھے دیکھ رہا ہے، تو یقیناً انسان ہر عمل بہترین طریقے سے کرے گا اور ہر گناہ سے بچے گا۔ اور اگر ”إِلٰی “ کی وجہ سے کسی دوسرے پر احسان مراد ہو تو اس کی بہترین مثال بنی اسرائیل کا قارون سے یہ کہنا ہے : ( وَاَحْسِنْ كَمَآ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ ) [ القصص : ٧٧ ] ” اور احسان کر جیسے اللہ نے تجھ پر احسان کیا ہے۔ “ اللہ نے انسان کو جو کچھ دیا ہے کسی بدلے کی خاطر نہیں دیا، بلکہ یہ اس کا احسان اور بیحد لطف و کرم ہے کہ اس نے مخلوق کے کسی حق کے بغیر جو اللہ کے ذمے ہو، ہر نعمت انھیں مفت دی۔ مقصد یہ کہ انسان مخلوق کے ساتھ اس سے کسی معاوضے کی امید کے بغیر اچھا سلوک کرے، اسے اس کے حق سے زیادہ دے دے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جانوروں کے ساتھ بھی احسان کا حکم دیا اور بتایا کہ کس طرح ایک فاحشہ عورت کتے کو پانی پلانے کے عوض جنت میں گئی اور ایک عورت بلی کو باندھ کر بھوکا مارنے کی پاداش میں جہنم میں گئی۔ (دیکھیے بخاری، ٣٣٢١، ٢٣٦٥) حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الإِْحْسَانَ عَلٰی کُلِّ شَيْءٍ ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوْا الْقِتْلَۃَ ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ ، وَلْیُحِدَّ أَحَدُکُمْ شَفْرَتَہُ ، فَلْیُرِحْ ذَبِیْحَتَہُ )[ مسلم، الصید والذبائح، باب الأمر بإحسان الذبح والقتل۔۔ : ١٩٥٥، عن شداد بن أوس ] ” اللہ نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض کیا ہے، تو جب قتل کرو تو اس کا اچھا طریقہ اختیار کرو (یعنی ایذا دے دے کر نہ مارو اور نہ مثلہ کرو) اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے کرو، اپنی چھری کو تیز کرلو اور اپنے ذبیحے کو آرام پہنچاؤ۔ “ قرآن مجید میں کئی جگہ احسان کا حکم اور اس کی فضیلت مذکور ہے، فرمایا : (وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا )[ البقرۃ : ٨٣۔ بنی إسرائیل : ٢٣ ] ” اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ “ اور فرمایا : (وَاَحْسِنُوْا ڔ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ) [ البقرۃ : ١٩٥ ] ” اور نیکی کرو، بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ “ اور فرمایا : (ۭاِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ ) [ الأعراف : ٥٦ ] ” بیشک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔ “ اور فرمایا : (ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ [ العنکبوت : ٦٩ ] ” اور بلاشبہ اللہ یقیناً نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “ وَاِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى : اگرچہ یہ بھی احسان میں شامل تھا، مگر اس کی خاص تاکید کے لیے اسے الگ بھی بیان فرمایا، کیونکہ قرابت والوں کا حق زیادہ ہے اور انھیں دینا ویسے بھی مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ کم ہی احسان مند ہوتے ہیں اور باہمی رنجشیں بھی دینے لینے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ ” ذِي الْقُرْبٰى“ کو دینے کی آیات کے لیے دیکھیے سورة روم (٣٨) ، بنی اسرائیل (٢٦) ، بقرہ (١٧٧) اور سورة بلد (١٤، ١٥) وغیرہ۔ وَيَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ : ” الْفَحْشَاۗءِ “ وہ گناہ جو برائی میں حد سے بڑھے ہوئے ہوں، مثلاً زنا اور قوم لوط کا عمل، سورة بقرہ میں شدید بخل کو بھی ” الْفَحْشَاۗءِ “ فرمایا۔ دیکھیے سورة بقرہ (٢٦٨) ” وَالْمُنْكَرِ “ ایسی برائیاں جن کا عقل انکار کرتی ہو اور فطرت انسانی بھی انھیں برا سمجھتی ہو۔ ” وَالْبَغْيِ “ کسی پر ظلم، زیادتی، زبان درازی یا دست درازی کرنا، سرکشی کرنا۔ 3 اس آیت میں تین بھلائیوں (عدل، احسان، ایتاء ذی القربیٰ ) کا حکم دیا گیا ہے، جن میں تمام بنیادی نیکیاں آجاتی ہیں اور تین برائیوں (فحشاء، منکر، بغی) سے منع کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے تمام انفرادی اور اجتماعی معاملات کو بگاڑ کر رکھ دینے والی ہیں، اس لیے یہ قرآن مجید کی جامع ترین آیات میں سے ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary This is the most comprehensive verse of the Holy Qur’ an where the es¬sence of the entire range of Islamic teachings has been condensed into a few words. Therefore, from the blessed period of the most righteous eld¬ers upto this day, the practice has continued that this verse is recited at the end of the special Khutbah (address) of Jumu&ah and the two &Bids (&Eid al-Fitr and &Bid al-Adha). Sayyidna ` Abdullaa ibn Masud (رض) says that the most comprehensive verse of the Holy Qurin appears in Surah An-Nahl and it is: إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ‌ بِالْعَدْلِ (16:90 cited above) [ Ibn Kathir ] Then, there is the case of another Sahabi, Sayyidna Aktham ibn al-Saifi. He actually embraced Islam on the basis of this very verse. Imam Ibn Kathir, quoting Ma` rifatus-Sahabah, a book by Abu Ya` la, who was known as a Hafiz of Hadith (virtually a living data bank of Hadith in contemporary terms), has reported with sound authority that Aktham ibn al-Saifi was the chief of his people. When he learnt about the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، his claim to prophethood and his propagation of Islam, he de¬cided to visit the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) personally. But, his people suggested to him that he was their chief, the highest ranking person among them, therefore, his going there personally was not appropriate. Then, Aktham proposed the alternative that they should select two persons from the tribe who should go there, survey the situation and report back to him. These two people presented themselves before the Holy Prophet and submitted that they had come from Aktham ibn al-Saifi to find out two things. Aktham has two questions for you: مَن اَنتَ و مَا اَنتَ Who are you and what are you?& He said: &The answer to the first question is that I am Muhammad ibn ` Abd Allah, and the answer to the second question is that I am a ser¬vant of Allah and His Rasul (messenger) &. After that, he recited this verse of Surah An-Nahl which begins with: إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ‌ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ (90). The two emissaries requested him to recite those sentences to them once again. He kept reciting the verse before them until the verse was commit¬ted to their memory. The emissaries returned to Aktham and reported that by asking the first question their intention was to find out his lineage. But, he did not give much attention to this. He simply considered it sufficient to give the name of his father. Yet, when they checked on his lineage with others, they found out that he was very high in lineage and nobility. Then, they told Aktham that the Holy Prophet also recited some words before them which they would narrate to him. When the emissaries recited the verse under reference to Aktham ibn al-Saifi, he promptly said: &This tells us that he bids morals which are high and forbids morals which are low. Let all of you embrace his re¬ligion as soon as possible so that you stay ahead of other people, and not lag behind as camp followers.& [ Ibn Kathir ] Similarly, Sayyidna ` Uthman ibn Maz` un (رض) says: &At the initial stage, I had embraced Islam because people around said so. But, Islam had not taken roots in my heart. Then, there came a day when I was pre-sent in the blessed company of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . All of a sudden, signs associated with the descent of revelation on him became apparent, and after some strange things had transpired, he said: |"The emissary of Allah Ta` ala came to me and this verse was revealed upon me|". Sayyidna ` Uthman ibn Maz` un (رض) says that once he saw this event and heard this verse, his faith became all firm and fortified in his heart and the love for Rasulullah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to be settled there for good&. [ After reporting this event, Ibn Kathir has said that it is supported by strong and authentic chain of transmitting authorities ] Likewise, when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited this verse before Walid ibn Mughirah, he went to report his impression before his people, the Quraish of Makkah, in the following words: وَاللہ انّ لہ لحلاوۃ و انَّ علیہ لطلاوۃ وانَّ اصلہ لمورق وأعلاۃ لمثمر وما ھو بقول بشر By God, in it, there is a special sweetness and, above it there is a unique hallow of light, and leaves are going to sprout out from its roots and fruits are going to show up on its branches - and this can never be the speech of any human being. The Command To Do Three Things And Not To Do Three Allah Ta’ ala bids three things in this verse. These are: (1) To do jus¬tice, (2) to be good, (3) to give relatives (their due). Then, He forbids three things. These are: (1) Shameful acts, (2) evil deeds, (3) transgres¬sion. The Islamic legal sense of these six words, and their limits, are being explained as follows: Al-` Adl: الْعَدْلِ : The real and literal meaning of this word is to make equal. Pertinent to this, the equitable judgment of officials in the dis¬puted cases of people is called Al-&Adl or justice. The statement: أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ بِالْعَدْلِ (and that when you judge between people, judge with fairness - 4:58) in the Holy Qur’ an carries this very sense and, in view of this, the word Al-` Adl (justice) also refers to moderation (al-i&tidal) between the two ex¬tremes of excess (al-ifrat) and deficiency (at-tafrit). Then, very much in congruity with this sense, some Tafsir authorities have explained Al-` Adl at this place as the equality of the outward and the inward state of a per-son, that is, what one says or does through the obvious organs of his body should also be compatible with what he believes in and lives by. However, the truth of the matter is that the word Al-` Adl here has been used in its general sense which is inclusive of all these forms and shades reported from different Tafsir authorities. There is no contradiction or divergence in them. And according to Ibn al-` Arabi, the intrinsic meaning of Al-` Adl is to make equal, then, different congruities go to make its sense different. For instance, one sense of Al-&Adl or justice is that man should do justice between his Nafs (self) and his Rabb (Lord-God). If so, it would mean that he should give preference to the right of Allah Ta’ ala over the pleas¬ure of his self and make the seeking of His pleasure far more urgent and prior than the pursuit of his own desires and obey His commands and to-tally abstain from what He has forbidden. Then, there is the second kind of justice which requires that one enter into a deal of justice with his own self, that is, protect his self from all such challenges which bring physical or spiritual destruction upon him, refuse to fulfill such desires of his self which are harmful for him in the end, be content and satisfied observing patience, and avoid putting unnecessary burden on his self without valid excuse. The third kind of justice prevails between one&s own self and the rest of Allah&s creation. In this case, the essential sense is that one should deal with the whole creation in a cooperative spirit wishing well, doing good and having sympathy, never betray anyone with the slightest breach of trust in any transaction whether minor or major, demand from his self justice for everyone, and see to it that no human being is hurt by anything said or done by him whether apparent or concealed. Similarly, there is the justice done when two parties bring one of their cases for adjudication before a person, then, it is the duty of that person that he must decide the case without any tilt towards anyone and in accordance with what is the truth. Then, it is also a form of justice when one leaves out the extreme options of excess and deficiency in all matters and takes to the path of moderation. This is the sense Abu ` Ab¬dullah al-Razi prefers when he says that the word Al-&Adl (justice) is in¬clusive of moderation in belief, moderation in deed, moderation in mo¬rals, everything. [ Al-Bahr al-Mubit ] Finally, Imam Al-Qurtubi who gives all these details to determine the sense of Al-` Adl also considers it good for the purpose. This also tells us that the one single word, Al-` Adl, in this verse encompasses in itself the adherence to all good morals and deeds and the avoidance of all bad morals and deeds. Al-Ihsan : الْإِحْسَانِ : The real and literal meaning of Al-Ihsan is to make something good. It has two kinds: (1) that one makes deeds or mo¬rals and habits become good and perfect in one&s own person; (2) that one deals with the other person nicely, decently and favourably. To cover this second sense, Arabic usage takes:إِلَىٰ (ila) as the preposition after it, as it appears in a verse of the Qur&an: أَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّـهُ إِلَيْكَ (be good as Allah has been good to you - 28:77). Imam Al-Qurtubi has said that this word has been used in its gener¬al sense in the cited verse, therefore, it is inclusive of both kinds of Ihsan. Then, the first kind of Ihsan, that is, doing something well in its own right, is also general - for instance, to come out with acts of worship in their best possible form, to make efforts to improve upon personal deeds and morals and to seek betterment in dealings with others. The meaning of Ihsan given by the Holy Prophet himself in the fa¬mous Hadith of Jibra&il relates to the quality of Ihsan in acts of ` Ibadah or worship. The gist of his blessed statement is: Worship Allah as if you are seeing Allah. And if you cannot imagine Divine presence at this lev¬el, then, each person must have at least this much certitude that Allah Almighty is, after all, seeing what he or she is doing. The reason is that it is a cardinal part of Islamic faith that not the minutest molecule of this universe can remain outside the reach of the knowledge and percep¬tion of Allah Ta’ ala. To sum up, it can be said that the second command given in this verse is that of Ihsan. Included here is the Ihsan of ` Ibadah (the better¬ment of acts of worship) as explained by the Hadith. Also included here is the Ihsan or betterment of all deeds, morals and habits, that is, seeing that they come out right, good and authentic in the form and spirit de-sired. And also included here is to be good to the whole creation of Allah, whether believer or infidel, human or animal. Imam Al-Qurtubi has said: The person in whose house his cat is not fed and taken care of and the birds in whose cage are not attended to as due, then, no matter how devoted to acts of worship he may be, he would still not be counted among the Muhsinin, those who are good to others. In conclusion, the first command given in this verse is that of Al-` Adl or justice, then, that of Al-Ihsan or being good. Some Tafsir authorities have said that justice means that one should give the right of the other person in full and take what comes to him, neither less nor more; then, should someone hurt you, you hurt him only as much as he did, no more. And Ihsan or being good means that you give the other person more than his real due and, as for your own right, ignore it to the limit that you willingly accept even if it turns out to be less than due. Similarly, when someone hurts you physically or verbally, then, rather than inflict an equal retaliation against that person, you better forgive him, in fact, return the evil done by him with what is good for him. Thus, the com¬mand to do justice comes in the form of what is Fard and Wajib (obligato¬ry and necessary as duty) while the command to be good appears in the status of an act which is voluntary (Nafl) and is motivated by a well-meaning desire to contribute more in the way of what is good. Give relatives (their due) إِيتَاءِ ذِي الْقُرْ‌بَىٰ. The third command given in this verse is to give relatives (their due). The word: إِيتَاءِ (&i&ta& ) used in the text means to give something - with the added sense of giving as gift or presentation in good grace. The word: الْقُرْ‌بَىٰ (al-qurba) means relationship or kinship; and: ذِي الْقُرْ‌بَىٰ (dhil-qurba) means relatives or kin. Thus, the command: إِيتَاءِ ذِي الْقُرْ‌بَىٰ (ita& dhil-qurba) comes to mean to give something to relatives. That which has to be given has not been spelled out here. But, there is another verse in the Qur’ an where the object does find men¬tion: وَآتِ ذَا الْقُرْ‌بَىٰ - (give the relative his due - 17:26). As obvious, the same object applies here too, that is, relatives be given their due. Included under this &due& is serving them financially, as well as serving them phys¬ically, and visiting them when sick, and taking care of them when in need, and the giving of verbal comfort and the expression of concern and sympathy too. Though, giving relatives their due was included under the spectrum of the word: Al-Ihsan, yet it has been mentioned separately in order to place stress on its added importance. Given upto this point were three commands asserted positively. The other three asserted negatively, denoting prohibition and unlawfulness, are as follows: |"And forbids from shameless acts, evil deeds and transgression|": وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ‌ وَالْبَغْيِ : The first word: الْفَحْشَاءِ (al-fahsha& ) translated as &shameful acts&, refers to such evil word or deed the evil of which is all too open and clear and which everyone considers bad. Then, الْمُنكَرِ‌ (al-munkar) translated as &evil deeds&, denotes the word or deed the un¬lawfulness or impermissibility of which is agreed upon by the well-recog¬nized authentic exponents of the Shari` ah of Islam. Therefore, no side can be regarded as &munkar& in their Ijtihad-based differences and, as for the word: الْمُنكَرِ‌ &Al-Munkar&, it includes all sins whether outward or in-ward, done practically or committed morally. The real meaning of the third word: الْبَغْيِ (al-baghy) translated as &transgression& is to cross the limit. The sense is that of injustice and excess. At this place, though the sense of the word: الْمُنكَرِ‌ Al-Munkar (evil deeds) is inclusive of both Al-Fahsha& (shameful acts) and Al-Baghy (transgression), but Al-Fahsha& has been picked out as a separate entry, and made to appear first as well, because of its extreme evil and abomination. And the word: Al-Baghy has been taken up separately because its fallout is contagious. It affects others. Sometimes this transgression reaches the outer limits of mutual hostil¬ity, even armed confrontation, or it could go still further and cause international disorder. According to a saying of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، there is no sin, except injustice, the retaliation against which and the punishment for which comes so quickly. From this we learn that the ultimate severe punish¬ment for injustice due in the Hereafter has to come anyway, however, much before that happens, Allah Ta` a1a punishes the perpetrator of in-justice in this mortal world as well - even though, he may fail to realize that the punishment he received was for a particular injustice commit¬ted by him and that Allah Ta’ ala promised to help the victim of injus¬tice. The six commands, imperative and prohibitive, given in this verse are - if pondered upon - an elixir for the perfect prosperity of man&s indi¬vidual and collective life. May Allah bless us all with the ability of follow¬ing them.

خلاصہ تفسیر : بیشک اللہ تعالیٰ (قرآن میں) اعتدال اور احسان اور اہل قرابت کو دینے کا حکم فرماتے ہیں اور کھلی برائی اور مطلق برائی اور (کسی پر) ظلم (اور زیادتی) کرنے سے منع فرماتے ہیں (اور مامورات ومنہیات مذکورہ میں تمام اعمال صالحہ اور سیہ آگئے اس جامعیت کی وجہ سے قرآن کا تبیان ہونا صاف ظاہر ہے اور) اللہ تعالیٰ تم کو (امور مذکورہ کی) اس لئے نصیحت فرماتے ہیں کہ تم نصیحت قبول کرو (اور عمل کرو کیونکہ ہدی اور رحمت اور بشری ہونا اسی پر موقوف ہے) معارف و مسائل : یہ آیت قرآن کریم کی جامع ترین آیت ہے جس میں پوری اسلامی تعلیمات کو چند الفاظ میں سمو دیا گیا ہے اسی لئے سلف صالحین کے عہد مبارک سے آج تک دستور چلا آرہا ہے کہ جمعہ وعیدین کے خطبوں کے آخر میں یہ آیت تلاوت کی جاتی ہے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی جامع ترین آیت سورة نحل میں یہ ہے (آیت) اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بالْعَدْلِ الخ (ابن کثیر) اور حضرت اکثم بن صفی تو اسی آیت کی بناء پر اسلام میں داخل ہوئے امام ابن کثیر نے حافظ حدیث ابو یعلی کی کتاب معرفۃ الصحابہ میں سند کے ساتھ یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ اکثم بن صیفی اپنی قوم کے سردار تھے جب ان کو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعوائے نبوت اور اشاعت اسلام کی خبر ملی تو ارادہ کیا کہ آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوں مگر قوم کے لوگوں نے کہا کہ آپ ہم سب کے بڑے ہیں آپ کا خود جانا مناسب نہیں اکثم نے کہا کہ اچھا تو قبیلہ کے دو آدمی منتخب کرو جو وہاں جائیں اور حالات کا جائزہ لے کر مجھے بتلائیں یہ دونوں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم اکثم بن صیفی کی طرف سے دو باتیں دریافت کرنے کے لئے آئے ہیں اکثم کے دو سوال یہ ہیں۔ من انت وماانت۔ آپ کون ہیں اور کیا ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں اور دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اس کے بعد آپ نے سورة نحل کی یہ آیت تلاوت فرمائی اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بالْعَدْلِ وَالْاِحْسَان الایۃ ان دونوں قاصدوں نے درخواست کی کہ یہ جملے ہمیں پھر سنائیے آپ اس آیت کی تلاوت کرتے رہے یہاں تک کہ ان قاصدوں کو آیت یاد ہوگئی قاصد واپس اکثم بن صیفی کے پاس آئے اور بتلایا کہ ہم نے پہلے سوال میں یہ چاہا تھا کہ آپ کا نسب معلوم کریں مگر آپ نے اس پر زیادہ توجہ نہ دی صرف باپ کا نام بیان کردینے پر اکتفاء کیا مگر جب ہم نے دوسروں سے آپ کے نسب کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ بڑے عالی نسب شریف ہیں اور پھر بتلایا کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں کچھ کلمات بھی سنائے تھے وہ ہم بیان کرتے ہیں۔ ان قاصدوں نے آیت مذکورہ اکثم بن صیفی کو سنائی آیت سنتے ہی اکثم نے کہا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مکارم اخلاق کی ہدایت کرتے ہیں اور برے اور رذیل اخلاق سے روکتے ہیں تم سب ان کے دین میں جلد داخل ہوجاؤ تاکہ تم دوسرے لوگوں سے مقدم اور آگے رہو پیچھے تابع بن کر نہ رہو (ابن کثیر) اسی طرح حضرت عثمان بن مظعون (رض) فرماتے ہیں کہ شروع میں میں نے لوگوں کے کہنے سننے سے شرما شرمی اسلام قبول کرلیا تھا مگر میرے دل میں اسلام راسخ نہیں تھا یہاں تک کہ ایک روز میں آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھا اچانک آپ پر نزول وحی کے آثار ظاہر ہوئے اور بعض عجیب حالات کے بعد آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا قاصد میرے پاس آیا اور یہ آیت مجھ پر نازل ہوئی حضرت عثمان بن مظعون فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کو دیکھ کر اور آیت سن کر میرے دل میں ایمان مظبوط اور مستحکم ہوا اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت میرے دل میں گھر کرگئی (ابن کثیر نے یہ واقعہ نقل کر کے فرمایا کہ اسناد اس کی جید ہے) اور جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت ولید بن مغیرہ کے سامنے تلاوت فرمائی تو اس کا تاثر یہ تھا جو اس نے اپنی قوم قریش کے سامنے بیان کیا۔ واللہ ان لہ لحلاوۃ وان علیہ لطلاوۃ وان اصلہ لمورق واعلاہ لثمروما ہو بقول بشر : خدا کی قسم اس میں ایک خاص حلاوت ہے اور اس کے اوپر ایک خاص رونق اور نور ہے اس کی جڑ سے شاخیں اور پتے نکلنے والے ہیں اور شاخوں پر پھل لگنے والا ہے یہ کسی انسان کا کلام ہرگز نہیں ہوسکتا۔ تین چیزوں کا حکم اور تین چیزوں کی ممانعت : اس آیت میں حق تعالیٰ نے تین چیزوں کا حکم دیا ہے عدل احسان اور اہل قرابت کو بخشش اور تین چیزوں سے منع فرمایا ہے فحش کام اور ہر برا کام اور ظلم وتعدی ان چھ الفاظ کی شریع مفہوم اور اس کے حدود کی تشریح یہ ہے۔ عدل : اس لفظ کے اصلی اور لغوی معنی برابر کرنے ہیں اسی کی مناسبت سے حکام کا لوگوں کے نزاعی مقدمات میں انصاف کے ساتھ فیصلہ عدل کہلاتا ہے قرآن کریم میں اَنْ تَحْكُمُوْا بالْعَدْلِ اسی معنی کے لئے آیا ہے اور اسی لحاظ سے لفظ عدل افراط تفریط کے درمیان اعتدال کو بھی کہا جاتا ہے اور اسی کی مناسبت سے بعض ائمہ تفسیر نے اس جگہ لفظ عدل کی تفسیر ظاہر و باطن کی برابری سے کی ہے یعنی جو قول یا فعل انسان کے ظاہری اعضاء سے سرزد ہو اور باطن میں بھی اس کا وہی اعتقاد اور حال ہو اور اصل حقیقت یہی ہے کہ یہاں لفظ عدل اپنے عام معنی میں ہے جو ان سب صورتوں کو شامل ہے جو مختلف ائمہ تفسیر سے منقول ہیں ان میں کوئی تضاد یا اختلاف نہیں اور ابن عربی نے فرمایا کہ لفظ عدل کے اصلی معنی برابری کرنے ہیں پھر مختلف نسبتوں سے اس کا مفہوم مختلف ہوجاتا ہے مثلا ایک مفہوم عدل کا یہ ہے کہ انسان اپنے نفس اور اپنے رب کے درمیان عدل کرے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کے حق کو اپنے حظ نفس پر اور اس کی رضا جوئی کو اپنی خواہشات پر مقدم جانے اور اس کے احکام کی تعمیل اور اس کی ممنوعات ومحرمات سے مکمل اجتناب کرے۔ دوسرا عدل یہ ہے کہ آدمی خود اپنے نفس کے ساتھ عدل کا معاملہ کرے وہ یہ ہے کہ اپنے نفس کو ایسی تمام چیزوں سے بچائے جس میں اس کی جسمانی یا روحانی ہلاکت ہو اس کی ایسی خواہشات کو پورا نہ کرے جو اس کے لئے انجام کار مضر ہوں اور قناعت وصبر سے کام لے نفس پر بلاوجہ زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ تیسرا عدل اپنے نفس اور تمام مخلوقات کے درمیان ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ تمام مخلوقات کے ساتھ خیرخواہی اور ہمدردی کا معاملہ کرے اور کسی ادنی اعلیٰ معاملہ میں کسی سے خیانت نہ کرے سب لوگوں کے لئے اپنے نفس سے انصاف کا مطالبہ کرے کسی انسان کو اس کے کسی قول وفعل سے ظاہرا یا باطنا کوئی ایذاء اور تکلیف نہ پہونچے، اسی طرح ایک عدل یہ ہے کہ جب دو فریق اپنے کسی معاملہ کا محاکمہ اس کے پاس لائیں تو فیصلہ میں کسی کی طرف میلان کے بغیر حق کے مطابق فیصلہ کرے اور ایک عدل یہ بھی ہے کہ ہر معاملہ میں افراط وتفریط کی راہوں کو چھوڑ کر میانہ روی اختیار کرے ابو عبداللہ رازی نے یہی معنی اختیار کر کے فرمایا ہے کہ عدل میں عقیدہ کا اعتدال، عمل کا اعتدال، اخلاق کا اعتدال سب شامل ہیں (بحرمحیط) امام قرطبی نے عدل کے مفہوم میں اس تفصیل کا ذکر کر کے فرمایا کہ یہ تفصیل بہت بہتر ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس آیت کا صرف لفظ عدل تمام اعمال و اخلاق حسنہ کی پابندی اور برے اعمال و اخلاق سے اجتناب کو حاوی اور جامع ہے۔ الاحسان : اس کے اصل لغوی معنی اچھا کرنے کے ہیں اور اس کی دو قسمیں ہیں ایک یہ فعل یا خلق و عادت کو اپنی ذات میں اچھا اور مکمل کرے دوسرے یہ کہ کسی دوسری شخص کے ساتھ اچھا سلوک اور عمدہ معاملہ کرے اور دوسرے معنی کے لئے عربی زبان میں لفظ احسان کے ساتھ حرف الی استعمال ہوتا ہے جیسا ایک آیت میں (آیت) وَاَحْسِنْ كَمَآ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ فرمایا ہے امام قرطبی نے فرمایا کہ آیت میں یہ لفظ اپنے عام مفہوم کے لئے مستعمل ہوا ہے اس لئے احسان کی دونوں قسموں کو شامل ہے پھر پہلی قسم کا احسان یعنی کسی کام کو اپنی ذات میں اچھا کرنا یہ بھی عام ہے عبادات کو اچھا کرنا اعمال و اخلاق کو اچھا کرنا معاملات کو اچھا کرنا۔ حضرت جبرائیل کی مشہور حدیث میں خود آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احسان کے جو معنی بیان فرمائے ہیں وہ احسان عبادت کے لئے ہے اس ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو اور اگر استحضار کا یہ درجہ نصیب نہ ہو تو اتنی بات کا یقین تو ہر شخص کو ہونا ہی چاہئے کہ حق تعالیٰ اس کے عمل کو دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ تو اسلامی عقیدہ کا اہم جز ہے کہ حق تعالیٰ کے علم وبصر سے کائنات کا کوئی ذرہ خارج نہیں رہ سکتا خلاصہ یہ ہے کہ دوسرا حکم اس آیت میں احسان کا آیا ہے اس میں عبادت کا احسان حدیث کی تشریح کے مطابق بھی داخل ہے اور تمام اعمال اخلاق عادات کا احسان یعنی ان کو مطلوبہ صورت کے مطابق بالکل صحیح و درست کرنا بھی داخل ہے اور تمام مخلوقات کیساتھ اچھا سلوک کرنا بھی داخل ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر انسان ہوں یا حیوان۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ جس شخص کے گھر میں اس کی بلی کو اس کی خوراک اور ضروریات نہ ملیں اور جس کے پنجرے میں بند پرندوں کی پوری خبر گیری نہ ہوتی ہو وہ کتنی ہی عبادت کرے محسنین میں شمار نہیں ہوگا۔ اس آیت میں اول عدل کا حکم دیا گیا پھر احسان کا بعض ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ عدل تو یہ ہے کہ دوسرے کا حق پورا پورا اس کو دیدے اور اپنا وصول کرلے نہ کم نہ زیادہ اور کوئی تکلیف تمہیں پہنچائے تو ٹھیک اتنی ہی تکلیف تم اس کو پہنچاؤ نہ کم نہ زیادہ اور احسان یہ ہے کہ دوسرے کو اس کے اصل حق سے زیادہ دو اور خود اپنے حق میں چشم پوشی سے کام لو کہ کچھ کم ہوجائے تو بخوشی قبول کرلو اسی طرح دوسرا کوئی تمہیں ہاتھ یا زبان سے ایذاء پہونچائے تو تم برابر کا انتقام لینے کے بجائے اس کو معاف کردو بلکہ برائی کا بدلہ بھلائی سے دو اسی طرح عدل کا حکم تو فرض و واجب کے درجہ میں ہوا اور احسان کا حکم نفلی اور تبرع کے طور پر ہوا۔ اِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى تیسرا حکم جو اس آیت میں دیا گیا ہے وہ اِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى ہے ایتاء کے معنی اعطاء یعنی کوئی چیز دینے کے ہیں اور لفظ قربی کے معنی قرابت اور رشتہ داری کے ہیں ذی القربی کے معنی رشتہ دار ذی رحم ایتاء ذی القربی کے معنی ہوئے رشتہ دار کو کچھ دینا یہاں اس کی تصریح نہیں فرمائی کہ کیا چیز دینا لیکن ایک دوسری آیت میں اس کا مفعول مذکور ہے وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى یعنی دو رشتہ دار کو اس کا حق ظاہر یہی ہے کہ یہاں بھی یہی مفعول مراد ہے کہ رشتہ دار کو اس کا حق دیا جائے اس حق میں رشتہ دار کو مال دے کر مالی خدمت کرنا بھی داخل ہے اور جسمانی خدمت بھی بیمار پرسی اور خبر گیری بھی زبانی تسلی و ہمدردی کا اظہار بھی اور اگرچہ لفظ احسان میں رشتہ داروں کا حق ادا کرنا بھی داخل تھا مگر اس کو اس کی زیادہ اہمیت بتلانے کے لئے علیحدہ بیان فرمایا گیا۔ یہ تین حکم ایجابی تھے آگے تین ممانعت و حرمت کے احکام ہیں۔ وَيَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ یعنی اللہ تعالیٰ منع کرتا ہے فحشاء اور منکر اور بغی سے فحشاء ہر ایسے برے فعل یا قول کو کہا جاتا ہے جس کی برائی کھلی ہوئی اور واضح ہو ہر شخص اس کو برا سمجھے اور منکر وہ قول و فعل ہے جس کے حرام و ناجائز ہونے پر اہل شرع کا اتفاق ہو اس لئے اجتہادی اختلافات میں کسی جانب کو منکر نہیں کہا جاسکتا اور لفظ منکر میں تمام گناہ ظاہری اور باطنی عملی اور اخلاقی سب داخل ہیں اور بغی کے اصل معنی حد سے تجاوز کرنے کے ہیں مراد اس سے ظلم وعدوان ہے یہاں اگرچہ لفظ منکر کے مفہوم میں فحشاء بھی داخل ہے اور بغی بھی لیکن فحشاء کو اس کی انتہائی برائی اور شناعت کی وجہ سے الگ کرکے بیان فرمایا اور مقدم کیا اور بغی کو اس لئے الگ بیان کیا کہ اس کا اثر دوسروں تک متعدی ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ تعدی باہمی جنگ وجدل تک یا اس سے یہی آگے عالمی فساد تک پہنچ جاتی ہے۔ حدیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ ظلم کے سوا کوئی گناہ ایسا نہیں جس کا بدلہ اور عذاب جلد دیا جاتا ہو اس سے معلوم ہوا کہ ظلم پر آخرت کا عذاب شدید تو ہونا ہی ہے اس سے پہلے دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ ظالم کو سزا دیدیتے ہیں اگرچہ وہ یہ نہ سمجھے کہ یہ فلاں ظلم کی سزا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مظلوم کی مدد کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ اس آیت نے جو چھ حکم ایجابی اور تحریمی دیئے ہیں اگر غور کیا جائے تو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی مکمل فلاح کا نسخہ اکسیر ہیں رزقنا اللہ تعالیٰ اتباعہ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى وَيَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۚيَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ 90؀ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ عدل العَدَالَةُ والمُعَادَلَةُ : لفظٌ يقتضي معنی المساواة، ويستعمل باعتبار المضایفة، والعَدْلُ والعِدْلُ يتقاربان، لکن العَدْلُ يستعمل فيما يدرک بالبصیرة كالأحكام، وعلی ذلک قوله : أَوْ عَدْلُ ذلِكَ صِياماً [ المائدة/ 95] ، والعِدُل والعَدِيلُ فيما يدرک بالحاسّة، کالموزونات والمعدودات والمکيلات، فالعَدْلُ هو التّقسیط علی سواء، وعلی هذا روي : «بالعَدْلِ قامت السّموات والأرض» «5» تنبيها أنه لو کان رکن من الأركان الأربعة في العالم زائدا علی الآخر، أو ناقصا عنه علی مقتضی الحکمة لم يكن العالم منتظما . والعَدْلُ ضربان : مطلق : يقتضي العقل حسنه، ولا يكون في شيء من الأزمنة منسوخا، ولا يوصف بالاعتداء بوجه، نحو : الإحسان إلى من أحسن إليك، وكفّ الأذيّة عمّن كفّ أذاه عنك . وعَدْلٌ يُعرَف كونه عَدْلًا بالشّرع، ويمكن أن يكون منسوخا في بعض الأزمنة، کالقصاص وأروش الجنایات، وأصل مال المرتدّ. ولذلک قال : فَمَنِ اعْتَدى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ [ البقرة/ 194] ، وقال : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُها [ الشوری/ 40] ، فسمّي اعتداء وسيئة، وهذا النحو هو المعنيّ بقوله : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسانِ [ النحل/ 90] ، فإنّ العَدْلَ هو المساواة في المکافأة إن خيرا فخیر، وإن شرّا فشرّ ، والإحسان أن يقابل الخیر بأكثر منه، والشرّ بأقلّ منه، ورجلٌ عَدْلٌ: عَادِلٌ ، ورجالٌ عَدْلٌ ، يقال في الواحد والجمع، قال الشاعر : 311- فهم رضا وهم عَدْلٌ«1» وأصله مصدر کقوله : وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ [ الطلاق/ 2] ، أي : عَدَالَةٍ. قال تعالی: وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ [ الشوری/ 15] ، وقوله : وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّساءِ [ النساء/ 129] ، فإشارة إلى ما عليه جبلّة النّاس من المیل، فالإنسان لا يقدر علی أن يسوّي بينهنّ في المحبّة، وقوله : فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَواحِدَةً [ النساء/ 3] ، فإشارة إلى العَدْلِ الذي هو القسم والنّفقة، وقال : لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا[ المائدة/ 8] ، وقوله : أَوْ عَدْلُ ذلِكَ صِياماً [ المائدة/ 95] ، أي : ما يُعَادِلُ من الصّيام الطّعام، فيقال للغذاء : عَدْلٌ إذا اعتبر فيه معنی المساواة . وقولهم :«لا يقبل منه صرف ولا عَدْلٌ» «2» فالعَدْلُ قيل : هو كناية عن الفریضة، وحقیقته ما تقدّم، والصّرف : النّافلة، وهو الزّيادة علی ذلک فهما کالعَدْلِ والإحسان . ومعنی أنه لا يقبل منه أنه لا يكون له خير يقبل منه، وقوله : بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ [ الأنعام/ 1] ، أي : يجعلون له عَدِيلًا فصار کقوله : هُمْ بِهِ مُشْرِكُونَ [ النحل/ 100] ، وقیل : يَعْدِلُونَ بأفعاله عنه وينسبونها إلى غيره، وقیل : يَعْدِلُونَ بعبادتهم عنه تعالی، وقوله : بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ [ النمل/ 60] ، يصحّ أن يكون من قولهم : عَدَلَ عن الحقّ : إذا جار عُدُولًا، وأيّام مُعْتَدِلَاتٌ: طيّبات لِاعْتِدَالِهَا، وعَادَلَ بين الأمرین : إذا نظر أيّهما أرجح، وعَادَلَ الأمرَ : ارتبک فيه، فلا يميل برأيه إلى أحد طرفيه، وقولهم : ( وضع علی يدي عَدْلٍ ) فمثل مشهور «1» . ( ع د ل ) العدالۃ والمعادلۃ کے لفظ میں مساوات کے معنی پائے جاتے ہیں اور معنی اضافی کے اعتبار سے استعمال ہوتا ہے یعنی ایک دوسرے کے ہم وزن اور برابر ہوتا اور عدل عدل کے قریب قریب ایک ہی معنی ہیں لیکن عدل کا لفظ معنوی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے احکام شرعیہ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : ۔ أَوْ عَدْلُ ذلِكَ صِياماً [ المائدة/ 95] او عدل ذلک صیاما یا اس کے برابر روزے رکھنا اور عدل وعدیل کے الفاظ ان چیزوں کے لئے بولے جاتے ہیں جن کا اور اک حواس ظاہرہ سے ہوتا ہے جیسے وہ چیزیں جن کا تعلق ماپ تول یا وزن سے ہوتا ہے پس عدل کے معنی دو چیزوں کا برابر ہونا کے ہیں چناچہ اسی معنی میں مروی ہے بالعدل قامت السموت والاارض کہ عدل ہی سے آسمان و زمین قائم ہیں یعنی اگر عناصر اربعہ جن کائنات نے ترکیب پائی ہے میں سے ایک عنصر میں بھی اس کی معینہ مقدار سے کمی یا بیشی ہوجائے تو نظام کائنات قائم نہیں رہ سکتا ، العدل دو قسم پر ہے عدل مطلق جو عقلا مستحن ہوتا ہے یہ نہ تو کسی زمانہ میں منسوخ ہوا ہے اور نہ ہی کسی اعتبار سے تعدی کے ساتھ متصف ہوسکتا ہے مثلا کیسی کے احسان کے بدلہ میں اس پر احسان کرنا اور جو تمہیں تکلف نہ دے اسے ایزا رسانی باز رہنا قغیرہ ۔ دوم عدل شرعی جسے شریعت نے عدل کہا ہے اور یہ منسوخ بھی ہوسکتا ہے جیسے قصاص جنایات کی دیت اور مال مرتد کی اصل وغیرہ چناچہ آیات : ۔ فَمَنِ اعْتَدى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ [ البقرة/ 194] پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ۔ واپس ہی تم اس پر کرو ۔ وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُها [ الشوری/ 40] اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے ۔ میں زیادتی اور برائی کی سزا کا کام بھی زیادتی اور برائی ہی قرار دیا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسانِ [ النحل/ 90] خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ میں عدل کے یہی معنی مراد کیونکہ کسی چیز کے برابر اس کا بدلہ دینے کا نام عدل یعنی نیکی کا بدلہ نیکی سے اور برائی کا بدلہ برائی سے اور نیکی کے مقابلہ میں زیادہ نیکی اور شر کے مقابلہ میں مسامحت سے کام لینے کا نام احسان ہے اور لفظ عدل واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے رجل عدل عادل ورجال عدل شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) ( 303 ) فھم رضا وھم عدل وہ راضی رہنے والے اور عدال ہیں ۔ دراصل عدل کا لفظ مصدر ہے چناچہ آیت : ۔ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ [ الطلاق/ 2] اور اپنے میں سے دو منصب مردوں کو گواہ بنالو میں عدل کے معنی عدالہ ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ [ الشوری/ 15] اور مجھے حکم ہوا کہ تم میں انصاف کروں لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا[ المائدة/ 8] اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر امادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو ۔ انصاف کیا کرو ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّساءِ [ النساء/ 129] اور تم خواہ کتنا ہی چاہو عورتوں میں ہر گز برابری نہیں کرسکو گے ۔ میں انسان کے طبعی میلان کی طرف اشارہ ہے کہ تمام بیویوں سے برابر وجہ کی محبت اس کی قدرت سے باہر ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَواحِدَةً [ النساء/ 3] اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ سب عورتوں سے یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت کانی ہے ۔ میں عدل سے نان ونفقہ اور ازواجی تعلقات میں برابر ی مرادی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ أَوْ عَدْلُ ذلِكَ صِياماً [ المائدة/ 95] اس کے برابر روزے رکھنا ۔ میں عدل سے مراد یہ ہے کہ وہ روزے طعام سے فدیہ کے برابر ہوں کیونکہ فدیہ میں مساوت کے معنی ملحوظ ہوں تو اسے بھی عدل کہہ دیا جاتا ہے اور ( 33 ) لایقبل منہ صرف ولا عدل میں بعض نے کہا ہے کہ عدل کا لفظ فریضہ سے کنایہ ہے مگر اس کے اصل معنی وہی ہیں جو ہم بیان کرچکے ہیں اور صرف کا لفظ نافلۃ سے اور یہ اصل فرض سے بڑھ کر کام کرنے کا نام ہے لہذا یہ باہم تقابل کے اعتبار سے عدل اور احسان کے ہم مثل ہیں اور لایقبل منہ کے معنی یہ ہیں کہ اسکے پاس کسی قسم کی نیکی ہوگی جو قبول کی جائے اور یہ آیت : ۔ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ [ الأنعام/ 1] کے معنی یہ ہیں کہ وہ دوسروں کو خدا کی مثل اور نظیر قرار دیتے ہیں ۔ لہذا یہ آیت : ۔ هُمْ بِهِ مُشْرِكُونَ [ النحل/ 100] کے ہم معنی ہوگی بعض نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ وہ افعال الہیہ کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں بعض نے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے عدول کرنا مراد لیا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ [ النمل/ 60] بلکہ یہ لوگ رستے سے الگ ہورہے ہیں ۔ بھی اسی معنی پر محمول ہوسکتی ہے یعنی اس کے معنی یعدلون بہ کے ہیں ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ عدل عن الحق سے مشتق ہو جس کے معنی حق سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ ایام معتد لات معتدل زمانہ یعنی جب رات دن برابر ہوتے ہیں ۔ عادل بین الامرین اس نے دو چیزوں کے درمیان موازنہ کیا عادل الامر کسی معاملہ میں پھنس گیا اور کسی ایک جانب فیصلہ نہ کرسکا اور جب کسی شخص کی زندگی سے مایوسی ہوجائے تو اس کے متعلق کہا جاتا ہے : ۔ یعنی اب وہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔ احسان الإحسان فوق العدل، وذاک أنّ العدل هو أن يعطي ما عليه، ويأخذ أقلّ مما له، والإحسان أن يعطي أكثر مما عليه، ويأخذ أقلّ ممّا له «3» . فالإحسان زائد علی العدل، فتحرّي العدل واجب، وتحرّي الإحسان ندب وتطوّع، وعلی هذا قوله تعالی: وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] ( ح س ن ) الحسن الاحسان ( افعال ) احسان عدل سے بڑھ کر چیز ہے کیونکہ دوسرے کا حق پورا دا کرنا اور اپنا حق پورا لے لینے کا نام عدل ہے لیکن احسان یہ ہے کہ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیا جائے اور اپنے حق سے کم لیا جائے لہذا احسان کا درجہ عدل سے بڑھ کر ہے ۔ اور انسان پر عدل و انصاف سے کام لینا تو واجب اور فرض ہے مگر احسان مندوب ہے ۔ اسی بنا پر فرمایا :۔ وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا قبول کیا اور وہ نیکو کا ر بھی ہے ۔ نهى النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] ( ن ھ ی ) النهي کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔ فحش الفُحْشُ والفَحْشَاءُ والفَاحِشَةُ : ما عظم قبحه من الأفعال والأقوال، وقال : إِنَّ اللَّهَ لا يَأْمُرُ بِالْفَحْشاءِ [ الأعراف/ 28] ( ف ح ش ) الفحش والفحشاء والفاحشۃ اس قول یا فعل کو کہتے ہیں جو قباحت میں حد سے بڑھا ہوا ہو ۔ قرآن میں ہے : إِنَّ اللَّهَ لا يَأْمُرُ بِالْفَحْشاءِ [ الأعراف/ 28] کہ خدا بےحیائی کے کام کرنے کا حکم ہر گز نہیں دیتا ۔ مكر المَكْرُ : صرف الغیر عمّا يقصده بحیلة، وذلک ضربان : مکر محمود، وذلک أن يتحرّى بذلک فعل جمیل، وعلی ذلک قال : وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] . و مذموم، وهو أن يتحرّى به فعل قبیح، قال تعالی: وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] ( م ک ر ) المکر ک ے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں یہ دو قسم پر ہے ( 1) اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے ورنہ مذموم چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] اور خدا خوب چال چلنے والا ہے ۔ پہلے معنی پر محمول ہے ۔ اور دوسرے معنی کے متعلق فرمایا : ۔ وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے پر ہی پڑتا ہے : بغي البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، والبَغْيُ علی ضربین : - أحدهما محمود، وهو تجاوز العدل إلى الإحسان، والفرض إلى التطوع . - والثاني مذموم، وهو تجاوز الحق إلى الباطل، أو تجاوزه إلى الشّبه، تعالی: إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ [ الشوری/ 42] ( ب غ ی ) البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں ۔ بغی دو قسم پر ہے ۔ ( ١) محمود یعنی حد عدل و انصاف سے تجاوز کرکے مرتبہ احسان حاصل کرنا اور فرض سے تجاوز کرکے تطوع بجا لانا ۔ ( 2 ) مذموم ۔ یعنی حق سے تجاوز کرکے باطل یا شا کے ت میں واقع ہونا چونکہ بغی محمود بھی ہوتی ہے اور مذموم بھی اس لئے آیت کریمہ : ۔ { السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ } ( سورة الشوری 42) الزام تو ان لوگوں پر ہے ۔ جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں ۔ وعظ الوَعْظُ : زجر مقترن بتخویف . قال الخلیل . هو التّذكير بالخیر فيما يرقّ له القلب، والعِظَةُ والمَوْعِظَةُ : الاسم . قال تعالی: يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [ النحل/ 90] ( و ع ظ ) الوعظ کے معنی ایسی زجر تو بیخ کے ہیں جس میں خوف کی آمیزش ہو خلیل نے اس کے معنی کئے ہیں خیر کا اس طرح تذکرہ کرنا جس سے دل میں رقت پیدا ہوا عظۃ وموعضۃ دونوں اسم ہیں قرآن میں ہے : ۔ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [ النحل/ 90] نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو ۔ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

عدل، قول و فعل میں مطلوب ہے قول باری ہے (ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایاء ذی القربی وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی۔ اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بےحیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے) عدل، انصاف کو کہتے ہیں۔ سمعی دلالت کے ورد سے قبل ہی عقل کی نظروں میں یہ ایک واجب اور ضروری امر تھا۔ سمعی دلیل کے ورود سے اس کے وجوب کی اور تاکید ہوگئی۔ عدل فرض اور احسان مستحب ہے اس مقام پر احسان تفضل یعنی مہربانی کا مفہوم ادا کر رہا ہے۔ یہ ایک مستحب امر ہے جبکہ عدل فرض ہے۔ رشتہ داروں کے دینے لینے میں دراصل صلہ رحمی کا حکم ہے۔ قول باری ہے (یامر بالعدل) قول اور فعل دونوں کے اندر عدل کرنے کے مفہوم پر مشتمل ہے۔ چناچہ ارشاد ہے (واذا قلتم فاعدلوا اور جب تم کہو تو انصاف کی بات کہو) اللہ تعالیٰ نے قول کے اندر بھی انصاف کرنے کا حکم دیا۔ اس آیت میں یہ دونوں باتیں موجود ہیں۔ فحش، منکر اور بغی کی تشریح قول باری ہے اوینھی عن الفحشاء و المنکر والبغی) میں تمام امور قبیحہ نیز ممنوع اقوال و افعال اور خیالات داخل ہیں۔ فحشاء یعنی بدی اور برائی کبھی تو انسان اپنے دل میں کرتا ہے اور اس کا یہ معاملہ لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتا اس کی قباحت بھی بہت عظیم ہوتی ہے اور کبھی کھلی برائی اور بےحیائی کی صورت میں اس کا ظہور ہوجاتا ہے، کبھی عقیدہ کی خرابی اور بخل کی بنا پر ایسا ہوتا ہے اس لئے کہ عرب کے لوگ بخیل انسان کو فاحش کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ منکر اس بےحیائی اور برائی کو کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کے سامنے ظاہر ہوجائے تو اس کی تردید واجب ہو۔ منکر کا وجود اعتقادات اور پوشیدہ تصورات و خیالات کے اندر بھی ہوتا ہے۔ عقل انسانی منکر کو ناپسند کرتی اور اس سے ابا کرتی ہے۔ بغی اس ظلم و زیادتی کا نام ہے جس کا دائرہ دوسروں تک وسیع کردیا جائے۔ ان تینوں امور میں سے ہر ایک کے اندر مخصوص معانی ہیں جن کی بنا پر ہر ایک دوسرے سے الگ اور منفرد قرار پاتا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٠) یقیناً اللہ تعالیٰ توحید اور فرائض کی ادائیگی یا یہ کہ لوگوں کے ساتھ احسان اور صلہ رحمی کا حکم فرماتے ہیں اور تمام گناہ اور ایسی باتوں سے جن کی شریعت اور سنت میں کوئی بنیاد نہیں اور ظلم و زیادتی کرنے سے منع فرماتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ تمہیں ان باتوں سے اس لیے روکتے ہیں تاکہ تم قرآن کے احکام سے نصیحت حاصل کرو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ) یہ آیت اس لحاظ سے بہت مشہور ہے کہ اکثر جمعۃ المبارک کے خطبات میں شامل کی جاتی ہے۔ یہ بہت ہی جامع آیت ہے اور اس میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے انداز میں تین چیزوں کا حکم دیا گیا ہے اور تین ہی چیزوں سے منع کیا گیا ہے۔ پہلا حکم عدل کا ہے اور دوسرا احسان کا۔ عدل تو یہ ہے کہ جس کا جس قدر حق ہے عین اسی قدر آپ اسے دے دیں ‘ لیکن احسان ایک ایسا عمل ہے جو عدل سے بہت اعلیٰ وارفع ہے۔ یعنی احسان یہ ہے کہ آپ کسی کو اس کے حق سے زیادہ دیں اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ چناچہ اللہ محسنین کو محبوب رکھتا ہے۔ تیسرا حکم قرا بت داروں کے حقوق کا خیال رکھنے کے بارے میں ہے یعنی ان سے حسن سلوک سے پیش آنا صلہ رحمی کے تقاضے پورے کرنا اور انفاق مال کے سلسلے میں ان کو ترجیح دینا۔ یہ تین احکام ان اعمال کے بارے میں ہیں جو ایک اچھے معاشرے کی بنیاد کا کام دیتے ہیں۔ جن چیزوں سے یہاں منع فرمایا گیا ہے ان میں سب سے پہلے بےحیائی ہے۔ حیا گویا انسان اور ہر برے کام کے درمیان پردہ ہے۔ جب تک یہ پردہ قائم رہتا ہے انسان عملی طور پر برائی سے بچا رہتا ہے ‘ اور جب یہ پردہ اٹھ جاتا ہے تو پھر انسان بےشرم ہو کر آزاد ہوجاتا ہے۔ پھر وہ ” بےحیا باش و ہرچہ خواہی کن ! “ کا مصداق بن کر جو چاہے کرتا پھرتا ہے۔ بےحیائی کے بعد منکر سے منع کیا گیا ہے۔ منکر ہر وہ کام ہے جس کے برے ہونے پر انسان کی فطرت گواہی دے۔ تیسرا ناپسندیدہ عمل یا جذبہ البغی یعنی سرکشی ہے۔ یہ سرکشی اگر اللہ کے خلاف ہو تو بغاوت ہے اور یوں کفر ہے ‘ اور اگر یہ انسانوں کے خلاف ہو تو اسے ” عدوان “ کہا جاتا ہے یعنی ظلم اور زیادتی۔ بہرحال ان دونوں سطحوں پر یہ انتہائی ناپسندیدہ اور مذموم جذبہ ہے۔ اگلی چند آیات مشکلات القرآن میں سے ہیں۔ ان کی تفسیر کے بارے میں بہت سی آراء ہیں جو سب کی سب یہاں بیان نہیں کی جا سکتیں۔ میں یہاں صرف وہ رائے بیان کروں گا جس سے مجھے اتفاق ہے۔ میری رائے کے مطابق ان آیات میں روئے سخن اہل کتاب کی طرف ہے۔ مکی سورتوں میں اگرچہ اہل کتاب سے ” یٰبَنِی اِسْرَاءِیل “ یا ” یٰاَھل الکتاب “ کے الفاظ سے براہ راست خطاب نہیں کیا گیا لیکن سورة الانعام اور اس کے بعد (مکی دور کے آخری سالوں میں) نازل ہونے والی سورتوں میں اہل کتاب کو بالواسطہ انداز میں مخاطب کرنے کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک محمد رسول اللہ کے دعوائے نبوت کے بارے میں خبریں مدینہ پہنچ چکی تھیں اور یہود مدینہ ان خبروں کو سن کر بہت متجسسانہ انداز میں مزید معلومات کی ٹوہ میں تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ تو نبی آخر الزماں کو پہچان بھی چکے تھے اور وہ اس انتظار میں تھے کہ مزید معلومات سے آپ کی نبوت کی تصدیق ہوجائے تو وہ آپ پر ایمان لے آئیں۔ دوسری طرف یہود مدینہ ہی میں سے کچھ لوگوں کے دلوں میں آپ کے خلاف حسد کی آگ بھی بھڑک چکی تھی۔ اس قسم کے لوگ آپ کی مخالفت کے لیے قریش مکہ سے مسلسل رابطے میں تھے اور آپ کی آزمائش کے لیے قریش مکہ کو مختلف قسم کے سوالات بھیجتے رہتے تھے۔ ان سوالات میں ایک اہم سوال یہ بھی تھا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق تو فلسطین میں آباد تھے لیکن ان کی اولاد یعنی بنی اسرائیل کے لوگ وہاں سے مصر کیسے پہنچے ؟ ان کا یہی سوال تھا جس کے جواب میں پوری سورة یوسف نازل ہوئی تھی۔ چناچہ یہ وہ معروضی صورت حال تھی جس کی وجہ سے مکی دور کی آخری سورتوں میں کہیں کہیں اہل کتاب کا ذکر بھی موجود ہے اور بالواسطہ طور پر ان سے خطاب بھی ہے۔ اس پس منظر میں میری رائے یہی ہے کہ آئندہ آیات میں روئے سخن اہل کتاب کی طرف ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

88. In this brief sentence Allah has enjoined three most important things on which alone depends the establishment of a sound and healthy society: The first of these is justice which has two aspects. To make such arrangements as may enable everyone to get one’s due rights without stint. Justice does not, however, mean equal distribution of rights, for that would be absolutely unnatural. In fact, justice means equitable dispensation of rights which in certain cases may mean equality. For example, all citizens should have equal rights of citizenship but in other cases equality in rights would be injustice. For instance, equality in social status and rights between parents and their children will obviously be wrong. Likewise those who render services of superior and inferior types cannot be equal in regard to wages and salaries. What Allah enjoins is that the full rights of everyone should be honestly rendered whether those be moral, social, economic legal or political in accordance with what one justly deserves. The second thing enjoined is ihsan which has no equivalent in English. This means to be good, generous, sympathetic, tolerant, forgiving, polite, cooperative, selfless, etc. In collective life this is even more important than justice; for justice is the foundation of a sound society but ihsan is its perfection. On the one hand, justice protects society from bitterness and violation of rights. On the other hand, ihsan makes it sweet and joyful and worth living. It is obvious that no society can flourish if every individual insists on exacting his pound of flesh. At best such a society might be free from conflict but there cannot be love, gratitude, generosity, sacrifice, sincerity, sympathy and such humane qualities as produce sweetness in life and develop high values. The third thing which has been enjoined is good treatment towards one’s relatives which in fact is a specific form of ihsan. It means that one should not only treat his relatives well, share their sorrows and pleasures and help them within lawful limits but should also share his wealth with them according to his means and the need of each relative. This enjoins on everyone who possesses ample means to acknowledge the share of his deserving relatives along with the rights of his own person and family. The divine law holds every well to do person in a family to be responsible for fulfilling the needs of all his needy kith and kin. The law considers it a great evil that one person should enjoy the pleasures of life while his own kith and kin are starving. As it considers the family to be an important part of society, it lays down that the first right of needy individuals is on its well t -do members and then on the others. Likewise it is the first duty of the well to do members of the family to fulfill the needs of their own near relatives and then those of others. The Prophet (peace be upon him) has emphasized this fact in many traditions, according to which a person owes rights to his parents, his wife and children, his brothers and sisters, other relatives, etc. in accordance with the nearness of their relationships. On the basis of this fundamental principle, Umar made it obligatory on the first cousins of an orphan to support him. In the case of another orphan he declared that if he had no first cousins he would have made it obligatory on distant cousins to support him. Just imagine the happy condition of the society every unit of which supports its every needy individual in this way. Most surely that society will become high and pure economically, socially and morally. 89. In contrast to the above mentioned three virtues, Allah prohibits three vices which ruin individuals and the society as a whole: (1) The Arabic word fahsha applies to all those things that are immodest, immoral or obscene or nasty or dirty or vulgar, not fit to be seen or heard, because they offend against recognized standards of propriety or good taste, e.g. adultery, fornication, homosexuality, nakedness, nudity, theft, robbery, drinking, gambling, begging, abusive language and the like. Likewise it is indecent to indulge in giving publicity to any of these evils and to spread them, e.g. false propaganda, calumny, publicity of crimes, indecent stories, dramas, films, naked pictures, public appearance of womenfolk with indecent makeup, free mixing of sexes, dancing and the like. (2) Munkar applies to all those evils which have always been universally regarded as evils and have been forbidden by all divine systems of law. (3) Baghy applies to those vices that transgress the proper limits of decency and violate the rights of others, whether those of the Creator or His creation.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :88 اس مختصر سے فقرے میں تین ایسی چیزوں کا حکم دیا گیا ہے جب پورے انسانی معاشرے کی درستی کا انحصار ہے ۔ : پہلی چیز عدل ہے جس کا تصور دو مستقل حقیقتوں سے مرکب ہے ۔ ایک یہ کہ لوگوں کے درمیان حقوق میں توازن اور تناسب قائم ہو ۔ دوسرے یہ کہ اس کا حق بے لاگ طریقہ سے دیا جائے ۔ اردو زبان میں اس مفہوم کو لفظ ”انصاف“ سے ادا کیا جاتا ہے ، مگر یہ لفظ غلط فہمی پیدا کر نے والا ہے ۔ اس سے خواہ مخواہ یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان حقوق کی تقسیم نصف نصف کی بنیاد پر ہو ۔ اور پھر اسی سے عدل کے معنی مساویانہ تقسیم حقوق کے سمجھ لیے گئے ہیں جو سراسر فطرت کے خلاف ہے ۔ دراصل عدل جس چیز کا تقاضا کرتا ہے وہ توازن اور تناسب ہے نہ کہ برابری ۔ بعض حیثیتوں سے تو عدل بے شک افرادِ معاشرہ میں مساوات چاہتا ہے ، مثلا حقوق شہریت میں ۔ مگر بعض دوسری حیثیتوں سے مساوات بالکل خلاف عدل ہے ، مثلا والدین اور اولاد کے درمیان معاشرتی و اخلاقی مساوات ، اور اعلی درجے کی خدمات انجام دینے والوں اور کم تر درجے کی خدمت ادا کرنے والوں کے درمیان مواوضوں کی مساوات ۔ پس اللہ تعالی نے جس چیز کا حکم دیا ہے وہ حقوق میں مساوات نہیں بلکہ توازن و تناسب ہے ، اور اس حکم کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے اخلاقی ، معاشرتی ، معاشی ، قانونی ، اور سیاسی و تمدنی حقوق پوری ایمان داری کے ساتھ ادا کیے جائیں ۔ دوسری چیز احسان ہے جس سے مراد نیک برتاؤ ، فیاضانہ معاملہ ، ہمدردانہ رویہ ، رواداری ، خوش خلقی ، درگزر ، باہمی مراعات ، ایک دوسرے کا پاس و لحاظ ، دوسرے کو اس کے حق سے کچھ زیادہ دینا ، اور خود اپنے حق سے کچھ کم پر راضی ہوجاتا یہ عدل سے زائد ایک چیز ہے جس کی اہمیت اجتماعی زندگی میں عدل سے بھی زیادہ ہے ۔ عدل اگر معاشرے کی اساس ہے تو احسان اس کا جمال اور اس کا کمال ہے ۔ عدل اگر معاشرے کو نا گواریوں اور تلخیوں سے بچاتا ہے تو احسان اس میں خوش گواریاں اور شیرینیاں پیدا کرتا ہے ۔ کوئی معاشرہ صرف اس بنیاد پر کھرا نہیں رہ سکتا کہ اس کا ہر فرد ہر وقت ناپ تول کر کے دیکھتا رہے کہ اس کا کیا حق ہے اور اسے وصول کر کے چھوڑے ، اور دوسرے کا کتنا حق ہے اور اسے بس اتنا ہی دے دے ۔ ایسے ایک ٹھنڈے اور کھرے معاشرے میں کشمکش تو نہ ہوگی مگر محبت اور شکر گزاری اور عالی ظرفی اور ایثار اور اخلاص وخیر خواہی کی قدروں سے وہ محروم رہے گا جو دراصل زندگی میں لطف و حلاوت پیدا کرنے والی اور اجتماعی محاسن کو نشونما دینے والی قدریں ہیں ۔ تیسری چیز جس کا اس آیت میں حکم دیا گیا ہے ، صلہ رحمی ہے جو رشتہ داروں کے معاملے میں احسان کی ایک خاص صورت متعین کرتی ہے ۔ اس کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ آدمی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور خوشی و غمی میں ان کا شریک حال ہو اور جائز حدود کے اندر ان کا حامی و مددگار بنے ۔ بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ ہر صاحب استطاعت شخص اپنے مال پر صرف اپنی ذات اور اپنے بال بچوں ہی کے حقوق نہ سمجھے بلکہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق بھی تسلیم کرے ۔ شریعت الہٰی ہر خاندان کے خوشحال افراد کو اس امر کا ذمہ دار قرار دیتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کے لوگوں کو بھوکا ننگا نہ چھوڑیں ۔ اس کی نگاہ میں ایک معاشرے کی اس سے بدتر کوئی حالت نہیں ہے کہ اس کے اندر ایک شخص عیش کر رہا ہو اور اسی کا خاندان میں اس کے اپنے بھائی بند روٹی کپڑے تک کو محتاج ہوں ۔ وہ خاندان کو معاشرے کا ایک اہم عنصر ترکیبی قرار دیتی ہے اور یہ اصول پیش کرتی ہے کہ ہر خاندان کے غریب افراد کا پہلا حق اپنے خاندان کے خوشحال افراد ہر ہے ، پھر دوسروں پر ان کے حقوق عائد ہوتے ہیں ۔ اور ہر خاندان کے خوشحال افراد پر پہلا حق ان کے اپنے غریب رشتہ داروں کا ہے ، پھر دوسروں کے حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں ۔ یہی بات ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مختلف ارشادات میں وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔ چنانچہ متعدد احادیث میں اس کی تصریح ہے کہ آدمی کے اوّلین حقدار اس کے والدین ، اس کے بیوی بچے ، اور اس کے بھائی بہن ہیں ، پھر وہ جو ان کے بعد قریب تر ہوں ، اور پھر وہ جو ان کے بعد قریب تر ہوں ۔ اور یہی اصول ہے جس کی بنا پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک یتیم بچے کے چچا زاد بھائیوں کو مجبور کیا کہ وہ اس کی پرورش کے ذمہ دار ہوں ۔ اور ایک دوسرے یتیم کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اگر اس کا کوئی بعید ترین رشتہ دار بھی موجود ہو تو امیں اس پر اس کی پرورش لازم کر دیتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جس معاشرے کا واحدہ ( Unit ) اس طرح اپنے اپنے افراد کو سنبھال لے اس میں معاشی حیثیت سے کتنی خوشحالی ، معاشرتی حیثیت سے کتنی حلاوت اور اخلاقی حیثیت سے کتنی پاکیزگی و بلندی پیدا ہو جائے گی ۔ سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :89 اوپر کی تین بھلائیوں کے مقابلے میں اللہ تعالی تین برائیوں سے روکتا ہے جو انفرادی حیثیت سے افراد کو ، اور اجتماعی حیثیت سے پورے معاشرے کو خراب کرنے والی ہیں: پہلی چیز فَحْشَآء ہے جس کا اطلاق تمام بیہودہ اور شرمناک افعال پر ہوتا ہے ۔ ہر وہ برائی جو اپنی ذات میں نہایت قبیح ہو ، فحش ہے ۔ مثلًا بخل ، زنا ، برہنگی و عریانی ، عمل قوم لوط ، محرمات سے نکاح کرنا ، چوری ، شراب نوشی ، بھیک مانگنا ، گالیاں بکنا اور بدکلامی کرنا وغیرہ ۔ اسی طرح علی الاعلان برے کام کرنا اور برائیوں کو پھیلانا بھی فحش ہے ، مثلا جھوٹا پروپیگنڈا ، تہمت تراشی ، پوشیدہ جرائم کی تشہیر ، بدکاریوں پر ابھارنے والے افسانے اور ڈرامے اور فلم ، عریاں تصاویر ، عورتوں کا بن سنور کر منظر عام پر آنا ، علی الاعلان مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط ہونا ، اور اسٹیج پر عورتوں کا ناچنا اور تھرکنا اور ناز و ادا کی نمائش کرنا وغیرہ ۔ دوسری چیز منکر ہے جس سے مراد ہر وہ برائی ہے جسے انسان بالعموم برا جانتے ہیں ، ہمیش سے برا کہتے رہے ہیں ، اور عام شرائع الہٰیہ نے جس سے منع کیا ہے ۔ تیسری چیز بغی ہے جس کے معنی ہیں اپنی حد سے تجاوز کرنا اور دوسرے کے حقوق پر دست درازی کرنا ، خواہ وہ حقوق خالق کے ہوں یا مخلوق کے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٩٠۔ مفسروں کے قول عدل و احسان کے متعلق مختلف ہیں بعضوں نے کہا ہے کہ عدل کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے اور احسان فرائض کا ادا کرنا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے بھی ایک روایت میں یوں ہی ہے ١ ؎۔ اور دوسری روایت میں یوں ہے کہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا یہ عدل ہے اور خدا کی عبادت کرنا کہ عبادت کرنے والا گویا خدا کو دیکھ رہا ہے۔ یہ حسن عبادت ہے اسی کو احسان فرمایا ہے عدل کے معنے انصاف کے ہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا اس لئے اللہ کی تعظیم میں کسی کو شریک نہ کرنا عین انصاف اور شریک کرنا بڑی ناانصافی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کے صحیح قول کے موافق یہاں عدل کے یہی معنے مناسب ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے ٢ ؎۔ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ دنیا میں شرک سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں اس حدیث سے عبد اللہ بن عباس (رض) کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے صحیح مسلم میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کی روایت سے ایک حدیث ہے جس کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ خدا کی عبادت اس طرح کرو گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو یہ سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے ٣ ؎۔ اس حدیث سے احسان کی صحیح تفسیر وہی ہے جو حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کے ایک قول کے موافق اوپر گزری پھر اللہ پاک نے عدل و احسان کے بعد قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم فرمایا کہ ان کو دیتے لیتے رہو اگر خدا کا فضل تمہارے شامل حال ہو اور تمہیں مقدور ہو تو روپے پیسے سے ان کی مدد کرو تم آپ بھوکے محتاج ہو تو میل ملاپ محبت مروت کی ہمدردی ان کے ساتھ کرتے رہو پھر اللہ پاک نے نیک خصلتوں کے اختیار کرنے کا حکم فرما کر برے اختلاق سے منع فرمایا کہ فحش باتوں سے بچتے رہو۔ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) نے فحشاء کی تفسیر میں بیان فرمایا ہے کہ مراد اس سے زنا ہے کیونکہ انسان میں جو جو بری خصلتیں ہوتی ہیں ان سب میں زیادہ قبیح یہی زنا ہے اور بعضوں نے اس کی تفسیر عام رکھی ہے کہ ہر فعل و قول جو انسان کے نزدیک مذموم ہو خواہ زنا ہو خواہ کچھ ہی ہو یہی فحشا ہے معتبر روایتوں میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شرم کے مقابلہ میں فحشاء کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس سے پچھلے معنے کی پوری تائید ہوتی ہے۔ منکر کی تفسیر بعضوں نے یہ بیان کی ہے کہ جو بات شریعت خدا اور سنت رسول اللہ میں نہ پائی جاوے وہ منکر ہے اور حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) شرک و کفر کو منکر فرماتے ہیں تیسری چیز جس سے بچنے کو اللہ پاک نے فرما دیا وہ سرکشی ہے معتبر سند سے ترمذی اور ابن ماجہ نے ابی بکرہ (رض) سے روایت کی ہے ٤ ؎۔ کہ سرکشی اور قطع رحم بڑا گناہ ہے جس کے گناہ گار کو دنیا میں جلد ہی عذاب کیا جاتا ہے عبد اللہ بن مسعود (رض) اس آیت کے متعلق یہ بیان فرماتے تھے۔ کہ قرآن مجید میں اس سے زیادہ جامع کوئی آیت نہیں ہے معتبر سند سے مسند بزار اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قرابتداروں کے ساتھ سلوک کرنے سے آدمی کے رزق و عمر میں ترقی ہوتی ہے ٥ ؎۔ صلہ رحمی کی فضیلت کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے یعظکم لعلکم تذکرون اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جو نصیحت فرمائی ہے وہ ہر ایمان دار شخص کو یاد رکھنی چاہیے بغی سے مطلب احکام الٰہی سے سرکشی کرنے کے ہیں جس طرح مشرکین مکہ اللہ کے رسول کی مخالفت اور احکام الٰہی کی تعمیل میں سرکشی کرتے تھے۔ ١ ؎ تفسیر ابن جریر ص ١٢٢ ج ١٤۔ ٢ ؎ جلد ہذا ص ٢٠٤۔ ٢٠٦ وغیرہ۔ ٣ ؎ مشکوٰۃ ص ١١ کتاب الایمان۔ ٤ ؎ مشکوٰۃ ص ٤٢٠ باب البرو الصلۃ۔ ٥ ؎ الترغیب ص ١٢٩ ج ٢ الترغیب نے صلتہ الرحم الخ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:90) ایتآیٔ۔ دینا ۔ عطا کرنا۔ ایتآیٔ ذی القربی اہل قرابت کو دینا۔ اسی آیت کے متعلق حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں۔ ھذہ اجمع ایۃ فی القران لخیر یتمثل ولشریجتنب۔ یہ قرآن کی جامع ترین آیت ہے اس میں ہر وہ اچھی چیز جس پر عمل کرنا ضروری ہے مذکور ہے۔ اسی طرح ہر وہ بری چیز جس سے اجتناب ضروری ہے موجود ہے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 اس آیت میں تین ایسی جامع چیزوں کا حکم دیا گیا ہے جن پر ان کے سارے انفرادی و اجتماعی معاملات کی درستی کا انحصار ہے بیٹی عدل احسان اور ایثار ذی القربی عدل سے مراد یہ ہے کہ عقیدہ و عمل میں اعتدال کی وہ اختیار کرنا احسان میں فرائض و نوافل کی ادائی اور خلق خدا کے ساتھ ہر قسم کا نیک سلوک آجاتا ہے ایک حدیث میں نہایت اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کو احسان فرمایا ہے اور پھر حقوق العباد کے معاملے میں رشتہ داروں کے حقوق پر خصوصیت کے ساتھ زور دیا گیا ہے۔ 6 اوپر تین بھلائی کے کاموں کا ذکر کر کے ان کے مقابلہ میں تین ایسی برئایوں سے منع کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے تمام انفرادی اور اجتماعی معاملات کو بگاڑ کر رکھ دینے والی ہیں۔ اس لئے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس آیت میں تمام بھلائیوں اور برائیوں کا ذکر آگیا ہے حضرت عثمان بن مظعون کے دل میں اسی آیت کو سن کر ایمان و اخلاص راسخ ہوا۔ ابوطالب نے جب یہ آیت سنی تو کہنے لگا میرا بھتیجا (ﷺ) مکارم الخاق کی تعلیم دیتا ہے۔ الغرض اس آیت کی جامعیت کا کفار نے بھی اقرار کیا۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ١٣) اسرارومعارف پھر کتاب اللہ جل جلالہ کی تعلیمات کی خوبی اور کمال دیکھئے کہ ذرا بھی عقل سلیم نصیب ہو ایسی تعلیمات کا انکار نہیں کیا جاسکتا ، یہاں ایک آیہ مبارکہ میں قرآنی تعلیمات کا سارا خلاصہ اور حاصل ارشاد فرما دیا گیا ۔ (عدل) کہ اللہ جل جلالہ تین باتوں کے کرنے کا حکم دیتے ہیں ، عدل ، احسان اور (آیت) ” ایتای ذالقربی “ برابر کرنے کے معنوں میں آتا ہے ، اسی لیے جھگڑے میں فیصلے کو عدل کہا جاتا ہے یعنی افراط وتفریط سے بچ کر اعتدال کا حسین راستہ ، یعنی سب سے پہلے بندہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان عدل کرے کہ اللہ جل جلالہ کی رضا کو خواہشات نفس پر مقدم رکھے اور اس کے احکام کی تعمیل میں پوری کوشش کرے اپنے نفس کے ساتھ عدل یہ ہے کہ اس کی ضروریات کو پورا کرنے کا اہتمام کرے ، اور جن خواہشات میں اس کی ہلاکت ہو ان سے بچانے کی بھرپور کوشش کرے ایسے ہی اپنے اور دوسرے لوگوں کے درمیان عدل یہ ہے کہ سب کے حقوق ادا کرے اور اپنا حق تو حاصل کرے مگر زیادہ کا مطالبہ نہ کرے ، ایسے ہی معاملات یا جھگڑوں میں ناروا رعایت یا طرفداری نہ کرے ، غرض عقیدہ ، عمل اور اخلاقیات سب میں عدل مطلوب ہے ۔ (احسان) دوسرا حکم احسان کا ہے اور یہ حکم ہی سارے عمل کی روح ہے احسان سے مراد ہے کہ جو کردار ہو وہ کیفیات قلبی کا آئینہ دار ہو اور پورے خلوص سے عمل کیا جائے محض دکھانے کو یا شہرت حاصل کرنے کو نہ کیا جائے ، جیسا کہ حدیث احسان کا حاصل یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ کی عبادت ایسے کرو گویا تم اللہ جل جلالہ کو دیکھ رہے ہو اگر یہ کیفیت قلب کی ہوتی ہے ، جس کے لیے مجاہدہ تو کیا جاسکتا ہے مگر عطا وہبی طور پر ہوتی ہے کہ یہ از قسم ثمرات ہے اور ثمرات ہمیشہ وہبی ہوتے ہیں ، یعنی اللہ کریم کی طرف سے عطا فٹ سے ہوجاتے ہیں ، یہی دولت صحبت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تقسیم ہوئی ، تعلیمات تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبانی ارشاد فرمائیں ، مگر صحابی صرف وہ شخص بن سکا جسے فیض صحبت نصیب ہوا اور صحابیت کے طفیل انہیں یہ استحضار کا درجہ نصیب ہوتی ہے اور جوں جوں ترقی درجات نصیب ہوتی ہے ، یہ کیفیت زیادہ ہوتی جاتی ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ جس قدر اضافہ اس کیفیت میں ہوتا ہے ، درجات ومنازل بلند ہوتے چلے جاتے ہیں ، مجاہدہ کا تعلق اپنی ذات سے ہے کہ محنت سے اپنے قلب کی صفائی کرتا ہے اور شیخ کی صحبت کے اثر سے اس میں کیفیات پیدا ہوتی ہیں جو منتقل کرنا اللہ جل جلالہ کا اپنا کام ہے ۔ (ایتاء ذی القربی) کا حاصل یہ ہے رشتہ داری کے حقوق ادا کرے جس کا معنی یہ سمجھ میں آتا ہے کہ محض اس لیے ان سے احسان نہ کرے کہ وہ اس کی عزت کرتے ہیں یا اچھے لوگ ہیں بلکہ ان کی طرف سے ناخوشگوار سلوک پر بھی درگزر کرے ، اور رشتہ داری کے سبب یا صلہ رحمی کہہ لیجئے کے باعث ان سے حسن سلوک کرے ، اور تین کاموں سے منع فرمایا ہے اول۔ (فحشائ) : ایسا عمل جس کا برا ہونا معروف ہو ، جیسے آپ عالمگیر برائی کہہ سکتے ہیں جیسے جھوٹ یا چوری وغیرہ اور دوسرے منکر ، (منکر) اس سے مراد وہ افعال ہیں جن کے گناہ اور ممنوع ہونے پر اہل شریعت کا اتفاق ہے خواہ وہ ظاہری ہوں جیسے عمل میں یا باطنی جیسے عقیدہ میں اور جس بات پر اجتہادی اختلاف ہو اس کی کسی جانب کو بھی منکر نہ کہا جائے گا ، تیسری بات ہے ، بغی “۔ (بغی) ایسے فعل کو کہا جائے جس کا اثر متعدی ہو ، یعنی دوسروں کے حقوق اس سے متاچر ہوتے ہوں اور عالم میں خرابی پیدا ہوتی ہو ، فساد کی آگ بھڑکتی ہو ، ایسے گناہ بغاوت شمار ہوتے ہیں غرض انسانی معاشرے کے لیے بہترین اصول اس میں سمو دیئے کہ تین کام کرنے کے ہیں اور تین کاموں سے رکنے کا حکم ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو جس میں ساری انسانیت کی بہتری اور انسان کی ذاتی فلاح ہے ۔ اور اللہ جل جلالہ کے وعدے یعنی جن وعدوں کو پورا کرنے کا اللہ جل جلالہ نے حکم دیا ہے ان کو پورا کرو یعنی ایسے وعدے یا قسمیں جو خلاف شریعت بات پر کئے جائیں نہ صرف پورے نہ کئے جائیں گے بلکہ ان سے توبہ کرنا ضروری ہوگا اور قسموں کو پورا کرنے کا پورا اہتمام کرو کہ جس بات پر تم نے اللہ جل جلالہ کی قسم کھا کر اسے پختہ کردیا تو اس پر تم اللہ جل جلالہ کو ضامن بنا چکے ، اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے لہذا ایسی قسموں کو جو جائز امور پر ہوں پوری محنت اور کوشش سے نبا ہو ، اور اس بدنصیب خاتون کی طرف مت بنو جو دن بھر سوت کاتنے کے بعد اسے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دے کہ نہ وہ روئی باقی رہی نہ تاگا اور محنت الگ سے برباد ، وعدہ خلافی کرنے سے یا قسم توڑنے سے اعمال کا یہی حال ہوتا ہے اور نہ ہی قسموں کو بہانہ بازی کا ذریعہ بناؤ کہ ایک گروہ سے معاہدہ ہوگیا تو اب دوسرا گروہ طاقتور نظرآیا تو پہلے سے وعدہ خلافی کرکے دوسرے کی طرف بھاگ اٹھو کہ ایسی حالتوں سے تمہیں واسطہ پڑتا رہے گا اور یہی امتحان ہے کہ انسان اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتا ہے یا اللہ جل جلالہ کی اطاعت ہر حال کرتا ہے خواہ خواہشات قربان بھی کرنا پڑیں کہ ان تمام اعمال کی حقیقت اور نتائج روز قیامت تمہارے روبرو کردیئے جائینگے ۔ اگر اللہ جل جلالہ چاہتے تو سب کو ایک ہی فرقہ بنا دیتے اور سب لوگوں کو ایک سا طرز فکر عطا کرتے مگر اس نے اس کا مدار انسانی عمل پہ رکھا کہ جس سے خفا ہو اسے ہدایت سے محروم کردیتا ہے اور وہ گمراہ ہوجاتا ہے اور جسے چاہے یعنی جس پر راضی ہو اسے ہدایت نصیب فرماتا ہے اور انسانی اعمال ہی تو سب نتائج کا سبب بنتے ہیں لہذا جو کچھ بھی کرتے ہو اس کے بارے تم سے پرسش ہوگی ،۔ (عہد شکنی نہ صرف بہت بڑا جرم ہے اس میں ایمان ضائع ہونے تک کا خطرہ ہے) اور اپنے وعدوں اور قسموں کو دھوکا دینے کا سبب نہ بناؤ کہ عہد کرکے توڑ دو یا قسم اٹھا کر دھوکا دو تو یہ صورت حال دوسروں کے لیے بھی گمراہی کا باعث بنے گی اور ان کے قدم بھی پھسلنے لگیں گے ، یوں بدعہدی ایک بہت بڑے فساد کا باعث بن کر اللہ جل جلالہ کی راہ سے روکنے کا موجب ہوگی جس کی پاداش میں بہت بڑا عذاب مرتب ہوگا کہ ایسے اعمال جو نہ صرف خود گناہ ہوں بلکہ دوسروں کی گمراہی کا سبب بن جائیں وہ بہت بڑے عذاب کا باعث بنتے ہیں اور کسی کے کردار کو دیکھ کر اگر لوگ گمراہ ہونے جائیں وہ بہت بڑے عذاب کا باعث بنتے ہیں اور کسی کے کردار کو دیکھ کر اگر لوگ گمراہ ہونے لگیں تو ایسا شخص خود بھی ایمان ضائع کر بیٹھتا ہے کہ عذاب عظیم ایمان ہی کے ضائع ہونے کا نام ہے اس میں جاہل اور محض نام کے صوفیوں کے لیے بھی بہت بڑی تنبیہ ہے جہاں عام مسلمان کی بدعہدی یا برا عمل دوسروں کو اسلام سے بدظن کرتا ہے وہاں نام نہاد صوفیوں کا کردار خود مسلمانوں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور یہی جرم خود اس کے ایمان کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے ، (العیاذ باللہ) (رشوت بھی نہ صرف بدعہدی ہے بلکہ عہد فروشی ہے اور وہ بھی اتنی ہی سخت سزا کی موجب بنتی ہے) اور اللہ جل جلالہ کو یعنی اپنی ذمہ داریوں کو چند سکوں کے عوض مت بیچو علماء تفسیر کے مطابق جس کام کا پورا کرنا کسی کے ذمہ ہو وہ اللہ کا عہد ہے اس پر اپنی طے شدہ اجرت یا تنخواہ سے زائد کسی سے حاصل کرنا یا کچھ لیے بغیر کام نہ کرنا یہ ہی اللہ جل جلالہ کا عہد توڑنا اور اسے فروخت کرنا ہے کم قیمت سے مراد دنیا کا فائدہ ہے ، کہ کتنا بڑا بھی تب بھی اللہ جل جلالہ کے عہد کی عظمت کے سامنے فانی دنیا کی حیثیت بہت کم ہی ہے ، لہذا رشوت کی لعنت نہ صرف یہ کہ مومن کو زیب نہیں دیتی ، بلکہ حق یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا ایمان سلب ہوجانے کا خطرہ ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ ایسے چیز یا عہدہ یا فائدہ کچھ دے دلا کر حاصل کرنا جو اس کا حق نہ بنتا ہو یعنی رشوت دینا بھی اتنا ہی جرم ہے کہ حدیث شریف کا مفہوم ہے رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔ ہاں جو کسی کا حق بنتا ہو مگر دینے والا بغیر رشوت کے نہ دے تو یہ نہ صرف رشوت ہے بلکہ ڈاکہ ہے اور لینے والا ڈاکو ہے اور اس صورت میں دینے والا مظلوم ہے یاد رکھو جو بھی تمہارے پاس ہے سب فانی ہے ، مال و دولت ہو یا دوستی ودشمنی ‘ جاہ و جلال ہو یا شان و شوکت سب کچھ ہی فنا ہونے والا ہے مگر اس کے اثرات اور نتائج یعنی وہ شئے جو اللہ جل جلالہ کے پاس ہے باقی رہنے والے ہیں ، اب محض فانی اعمال کی طلب میں عمر ضائع کرنا اور باقی رہنے والے نتائج کی فکر نہ کرنا تو دنشمندی نہ ہوگی ۔ (صبر) اور جن لوگوں نے صبر کیا ہوگا یعنی خواہشات کے مقابلے میں اللہ جل جلالہ کی اطاعت اختیار کی ہوگی کہ صبر کی تعریف خود کو اللہ جل جلالہ کو نافرمانی سے روکنا ہے ، انہیں ان کے اس عمل کا بدلہ بہترین اور کئی گنا زیادہ عطا کیا جائے گا ، کیا یہ حقیقت بھی اس بات ہی کی دلیل نہیں کہ مرد ہو یا عورت جسے بھی ایمان نصیب ہو اور اس کے اعمال نیک ہوں تو اسے حیات طیبہ یعنی بہترین پرسکون زندگی نصیب ہوتی ہے پرسکون زندگی سے یہ مراد نہیں کہ اسے کوئی بیماری یا غربت و افلاس یا دنیا کی مصیبت پیش نہیں آتی بلکہ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ صحت و دولت و فراغت سکون کا سبب ہے کہ سکون دل کی حالت کا نام ہے جس کے حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کی جاتی ہے ، عہدہ ، حکومت ، مال و دولت اور گھر بار ، دوست احباب سب اسی غرض سے اختیار کیے جاتے ہیں ، مگر کتنے امیر پرسکون ہیں یا کتنے بااثر افراد سکون سے جی رہے ہیں ، ذرا یورپ ومغرب کے کافر معاشرہ کو دیکھیں جہاں دولت کی فراوانی ہے ، خوبصورت گھر ، اچھی غذا اور بہترین وسائل ہیں وہاں سکون نام کو نہیں اور خود کشی ، طلاق اور آپس میں لاتعلقی کی کوئی حد نہیں کہ دلوں میں سکون نہیں ہے لیکن جہاں نور ایمان ہو اور اتباع سنت نصیب ہو فاقہ کشی یابیماری تو کیا موت تک میں سکون نصیب رہتا ہے کہ یہی اللہ جل جلالہ کا قانون ہے ، اور جب دنیا میں یہ صورت حال ظاہر ہے تو آخرت کا اجر انہیں عمل کے اعتبار سے بہت بڑھ چڑھ کر نصیب ہوگا ، عمل صالح اور اطاعت الہی میں سب سے بڑی رکاوٹ شیطان ہی پیدا کرتا ہے جو مختلف وساوس پیدا کرتا ہے اور شیطانوں کی ایک قسم انسانوں میں سے ہے جو ابلیس کا اثر قبول کرکے نیکی میں مانع ہوتے ہیں تو جہاں ان سے جہاد کا حکم ہے کہ ان کا دفعیہ ہو سکے وہاں ابلیس اور اس کی اولاد سے اللہ جل جلالہ کی پناہ مانگنا ضروری ہے ، لہذا جب بھی کوئی کام کرنے لگیں وہ کتنا اچھا بھی ہو خواہ تلاوت کلام اللہ ہی کرنے لگیں تو اے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شیطان سے اللہ جل جلالہ کی پناہ طلب کریں ، گویا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وساطت سے ساری انسانیت کو خطاب فرمایا گیا ہے ۔ (تعوذ پڑھنا سنت ہے) لہذا تلاوت قرآن سے پہلے ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “۔ پڑھنا سنت ہے ، اسے جمہور علماء نے فرض نہیں لکھا کہ بعض مواقع پر نہ پڑھنا بھی ثابت ہے ، اس موقع پر بحث تفسیر ابن کثیر میں موجود ہے تلاوت قرآن نماز میں ہو تو بھی تعوذ پڑھا جائے گا ، اور حنفیوں کے نزدیک صرف پہلی رکعت میں کافی ہے ایسے ہی ہر کام سے پہلے شیطان سے اللہ جل جلالہ کی پناہ مانگنا چاہئے جس کے لیے حدیث شریف میں مختلف دعائیں موجود ہیں کہ اللہ جل جلالہ پر بھروسہ کرنے والوں پر اور مضبوط ایمان رکھنے والے لوگوں پر شیطان کا بس نہیں چلتا ، اس کا زور بھی انہی پر چلتا ہے جو اسی کی دوستی کا دم بھرتے ہیں اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی کرکے اللہ جل جلالہ کی حفاظت سے محروم ہوجاتے ہیں یا عقیدہ کے اعتبار سے شرک میں مبتلا ہو کر اللہ جل جلالہ کی تائید کھو دیتے ہیں ، لہذا گناہ کی بہت بڑی سزا یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں ہی انسان گمراہی کا شکار ہو کر آخرت کی تباہی کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 92 یا مر وہ حکم دیتا ہے۔ العدل انصاف۔ الاحسان نیکی کرنا۔ ایتاء دینا۔ ذی القربی رشتہ دار۔ ینھی وہ روکتا ہے۔ الفحشاء (فحش) بےحیائی۔ المنکر ناشائستہ کام۔ البغی سرکشی۔ یعظ وہ نصیحت کرتا ہے۔ افو وا پورا کرو۔ عھدتم تم نے وعدہ کیا، عہد کیا۔ لاتنقضوا تم نہ تو ڈرو۔ الایمان قسمیں۔ تو کیں۔ پکا کرنا۔ کفیل ذمہ دار۔ نقضت جس نے توڑا۔ غزل کا تا ہوا سوت۔ انکات ٹکڑے ٹکڑے۔ دخلابینکم آس میں مداخلت کا بہانہ کرنا۔ امۃ ایک جماعت۔ اربی زیادہ بڑھا ہوا۔ یبلو وہ آزماتا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 90 تا 92 گزشتہ آیات میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول حضرت مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جس قرآن کریم کو نازل فرمایا ہے وہ ہدایت ، رحمت اور بشارت و خوش خبری ہے۔ اسی طرح یہ بھی فرمایا گیا کہ قرآن کریم اپنے معنی اور مفہوم کے لحاظ سے بہت واضح اور صاف صاف احکامات پر مشتمل ہے۔ اب فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ اپنے ان بندوں کو جنہوں نے اللہ و رسول کی اطاعت کرلی ہے اور وہ اس کے پابند ہیں حکم دیتا ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں عدل و انصاف، احسان و کرم اور صلہ رحمی کا پوری طرح خیال رکھیں اور ہر بےحیائی اور ہر گناہ کی بات سے بچتے ہوئے ہر طرح کی بےاعتدالی اور ظلم کی راہ سے دور رہیں جب وہ اپنے کسی عہد اور معاہدہ پر اللہ کو ضامن اور گواہ بنا لیں تو نتائج سے بےپرواہ ہو کر سچائی کا پیکر بن جائیں اور ان معاہدات کی پابندی کریں جو انہوں نے اللہ سے یا اللہ کے بندوں سے کئے ہیں۔ فرمایا کہ اپنی قسموں اور معاہدوں کو فساد ڈالنے یا ایک دوسرے پر غالب آنے کا ذریعہ نہ بنائیں اور یہ اس عورت کی طرح نہ ہوجائیں جو دن بھر سوت کاتنے میں محنت کرتی رہی اور شام کو اس نے اپنی محنت کو اپنے ہاتھوں سے برباد کر ڈالا ہو۔ ان تین آیات میں شریعت اسلامیہ کی وہ مضبوط بنیادیں سامنے آتی ہیں جن پر انسانی معاشرہ قائم کرلیا جائے تو دنیا کی ہزاروں خرابیاں دور ہو سکتی ہیں بلکہ انسانوں کو جینے کا سچا راستہ مل سکتا ہے۔ ان آیات کی اہمیت کا اس بات سے اندازہ لگیا ا جاسکتا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ سے جمعہ اور عیدین کے خطبے میں اس آیت کو پڑھنا امت کا متفقہ فیصلہ رہا ہے تاکہ حق و صداقت کی اس آواز سے دنیا کے تمام مسلمانوں کے کان آشنا ہوجائیں۔ ان آیات میں سات باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ جن کی تفصیل یہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ عدل، احسان اور صلہ رحمی کا راستہ اختیار کیا جائے اور بےحیائی ، گناہوں کی ہر بات اور زیادتی و سرکشی سے بچتے ہوئے انسانی حقوق پر دست درازی نہ کی جائے۔ عہد و معاہدوں کی پابندی، اپنے اعمال کی حفاظت اور نامعقول روئیے سے باز رہا جائے۔ عدل : بنیادی عقیدوں، عبادتوں، اخلاق و معاملات، جذبات و احساسات اور امن و جنگ ہر حالت میں اعتدال، تو ازن اور انصاف کا خیال رکھا جائے۔ یہی چیز انسان کو خیر و برکت اور فتح و نصرت سے ہمکنار کرنے والی ہے۔ زندی کے ہر معاملہ میں اعتدال کی بہترین مثال اور نمونہ زندگی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی ہے۔ آپ نے اپنی سیرت و کردار کی بلندی سے زندگی کے ہر شعبہ کی نہ صرف تکمیل فرمائی ہے بلکہ تمام معاملات میں اعتدال ، عدل و انصاف اور تو ازن کی بہترین ترجمانی فرمائی ہے۔ آپ راتوں کو اللہ کی عبادت و بندگی کے لئے اگر مصلے پر بیٹھے ہیں تو دن میں آپ ایک عظیم مجاہد کی طرح گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو کر میدان جہاد میں بھی رہنمائی فرما رہے ہیں۔ اگر آپ اپنی گھریلو زندگی کو پرسکون بنانے کے لئے اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین حسن سلوک کا معاملہ فرما رہے ہیں تو دوسری طرف اہل ایمان کے ہر گھر میں محبت اور باہمی ہمدردی اور بہترین سلوک کی شمع روشن رکھنے کے لئے تاکید فرما رہے ہیں۔ اگر صحابہ کرام جذبہ جہاد سے سرشار ہو کر اپنے پیٹ پر ایک پتھر باندھے ہوئے ہیں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ تم نے اپنے پیٹ پر ایک پتھر باندھا ہوا ہے تو میں نے دو پتھر باندھے ہوئے ہیں۔ صحابہ کرام خندق کی کھدائی فرما رہے ہیں تو آپ بھ یکسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ مسجد نبوی کی تعمیر ہو رہی ہے تو آپ صحابہ کرام کیس اتھ مل کر مٹی، گار اور پتھر ڈھو رہے ہیں۔ غرضیکہ گھریلو زندگی آپ ہر جگہ اعتدال و تو ازن کو قائم کئے ہوئے ہیں۔ اسی طرح آپ عدل و انصاف میں بھی ساری دنیا کے انسانوں کو یکساں سمجھتے ہیں اور فیصلے فرماتے ہیں۔ یہی وہ اسوہ حسنہ ہے جو ساری دنیا کے انسانوں کے لئے مشعل راہ اور نور ہدایت ہے۔ الاحسان : احسان کے معنی نیکی بھلائی اور اخلاق کریمانہ کے آتے ہیں۔ حکم ہے کہ انسان بہترین اخلاق، کردار اور نیکیوں کا ایسا پیکر بن جائے جس میں اپنی ذات کے علاوہ ہر آن دوسروں کی بھلائی اور بہتری کے لئے سوچتا رہے۔ تاکہ نیک نامی، عزت اور سر بلندی اس کا مقصدر بن جائے۔ دوسروں کیلئے ہمدردانہ رویہ، روا داری، برداشت، خوش خلقی ، دوسروں کو معاف کردینے کا جذبہ اور ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کا لحاظ کرنے والا بنا جائے۔ اخلاق کریمانہ یہ ہے کہ انیان دوسروں کو ان کے حق سے بھی زیادہ دینے والا بن جائے اور اس کے صلے میں کسی سے کوئی توقع نہ رکھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ ” تم اس سے ملو جو تم سے ملنا نہیں چاہتا اور جو شخص قطع تعلق کرنا چاہتا ہے اور تم اس شخص کو معاف کر دو جو تم پر ظلم اور زیادتی کرنے والا ہے تو یہ بہت بڑی نیکی ہے اس حدیث میں ان ہی اخلاق کریمانہ کو اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے جو اعلیٰ ترین نیکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے احسان کو ایک بڑی نعمت بھی قرار دیا ہے۔ سورة رحمٰن میں ارشاد ہے کہ نیکی اور بھلائی کا بدلہ نیکی اور بھلائی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایتاء ذی القربیٰ : یعنی رشتہ داروں کے ساتھ بہترین سلوک کرنا جس کو صلہ رحمی کہتے ہیں۔ صلہ رحمی خود اپنی جگہ ایک بہت بڑی نیکی ہے جس کے لئے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر حکم دیا گیا ہے اور احادیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلہ رحمی کرنے کو ایسی نیکی قرار دیا ہے جس سے خیر و برکت اور اللہ کی رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں جس سے باہمی انسیت و محبت، ہمدردی اور مروت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں قرابت داروں کے جو حقوق رکھ دیئے ہیں ان کا ہر حال میں لحاظ رکھنا شرف انسانیت ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ عدل و احسان اور رشتے ناتوں کا پاس ولحاظ کر کے اپنے لئے جنت کی ابدی راحتیں اور سعادتیں حاصل کرل ینا ہے۔ ان تین اعلیٰ ترین اخلاقی صفات کے بعد تین ایسی برائیوں کے متعلق ارشاد فرمایا جا رہا ہے جو انسانی اخلاق، معاشرہ ، فرد اور قوم کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہیں۔ بےحیائی ، ہر برائی کا کام اور اپنی حدوں سے آگے بڑھنا ان تین باتوں سے منع کیا گیا ہے جس کی تفصیل یہ ہے۔ فحشاء : فحش کی جمع ہے یعنی تمام شرمناک مکروہ اور بےہودہ کام جن سے ہر مومن کو بچنا چاہئے۔ کیونکہ اس کا نتیجہ دنیا اور آخرت کی خرابی اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہے، زنا، بدکاری، شراب نوشی، عریانیت، گانا بجانا، بدکلامی، بد زبانی اور کھلم کھلا بےحیائی کا ہر وہ کام جس سے جھوٹ فریب، تہمت اور دوسروں پر ناحق الزام تراشی پھیلنے کا اندیشہ ہو۔ اسی طرح بدکاریوں پر ابھارنے والے وہ تمام کام جو آج فیشن کے طور پر رائج ہوچکے ہیں۔ افسانے، ڈرامے، فل میں وغیرہ، یہ سب بھی شریعت کی نظر میں فحش اور برے کام ہیں۔ ان تمام کاموں سے بچنا ضروری ہے۔ منکر : اس سے مراد ہر وہ برائی اور کام ہے جس کو ساری دنیا برا سمجھتی ہے اور ہمیشہ سے ہر قوم نے اس سے بچنے کی تاکید بھی کی ہے مثلاً جھوٹ ، دھوکہ ، فریب بداخلاقی بد لحاظی وغیرہ۔ اس سے دنیا کا وہ کونسا مذہب ہے جو اس کو برا نہیں کہتا۔ لیکن اس آیت میں فحش اور منکر کو ایک ساتھ بیان کرنے سے یہ بھی سمجھانا ہے کہ دنیا بھر کے لوگ منکر کو تو برا سمجھتے ہیں لیکن بےحیائیوں کے کاموں کو برا نہیں سمجھتے۔ شریعت اسلامیہ نے فرمایا ہے کہ صرف برائی کو برا نہ سمجھا جائے بلکہ ہر برائی کے ساتھ ہر بےحیائی اور بےغیرتی کے کاموں کو بھی برا سمجھنا ضروری ہے۔ یہ دونوں ایسی برائیاں ہیں جن سے صرف نماز روک سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ” ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء و المنکر “ یعنی نماز بےحیائی اور منکرات سے روکتی ہے۔ اگر ایک نماز پڑھنے والا نماز بھی پڑھتا ہے اور بےحیائی اور منکرات کے کام بھی کرتا ہے تو اس کو اپنی عبادت کا جائزہ لینا چاہئے کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ بےحیائی اور منکرات نماز کے ساتھ جمع ہوجائیں۔ ایسا شخص یقینا نماز کی روح تک نہیں پہنچا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نمازوں کو صحیح کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ہر طرح کے فحش اور منکرات سے محفوظ فرمائے ۔ آمین البغی : اللہ نے جو حدیں مقرر کی ہیں ان سے باہر نکلنا، سرکشی کرنا اور دورسوں کے حقوق مارنے کی کوشش کرن کو ” بغی “ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان پر بندوں کے حقوق ہوں یا اللہ کے ان کو پورے طور پر ادا نہ کرنا گناہ ہے۔ ان ہی میں سے بہ بڑے گناہ کی بات یہ ہے کہ کوئی شخص دوسروں کے حقوق مارنے اور دست درازی کرنے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہ کرے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ عدل و احسان اور صلہ رحمی کا خیال کریں اور بےحیائی، برائی اور حد سے گذر جانے والی باتوں سے پرہیز کریں۔ ایفائے عہد : وعدوں اور معاہدوں کو پورا کرنا ” ایفائے عہد “ کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کے عہد اور معاہدوں کو پورا کرنے پر زور دیا ہے اور ہر مومن کی یہ ذمہ داری قرار دی گئی ہے کہ اس نے (1) اللہ تعالیٰ سے جو بھی عہد اور عدہ کیا ہو۔ (2) ایک انسان نے دوسرے انسان سے وعدہ اور عہد کیا ہے۔ ہر ایک عہد و معاہدے کو پورا کرنا ضروری ہے اگر ان معاہدوں پر قسم کھا کر اللہ کو گواہ بنا لیا ہو تب تو اس پر دوہری ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے ایک تو وعدہ کو پورا کرنے کی اور ایک اس قسم کی جس میں اللہ کو گواہ اور ضامن بنا لیا گیا ہو۔ دنیاوی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو وہی شخص اور افراد قوم عزت و احترام کا مقام حاصل کرتے ہیں جن کی زبان پر دوسروں کو اعتماد اور بھروسہ ہو۔ جس کی زبان ، عہد اور معاہدے کا اعتبار نہ ہو اس کی کوئی عزت نہیں کی جاتی۔ عربوں میں علاوہ اور بہت سی خرابیوں کے ایک بڑی خرابی اپنے وعدوں، معاہدوں اور قسموں سے پھرجانے کی عادت تھی مثلاً ایک شخص سے معاہدہ کرلیا۔ وہ شخص مطمئن ہوگیا۔ ادھر اس نے اطمینان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسرے سے اسی قسم کا وعدہ کرلیا۔ اس طرح چند پیسوں کی خاطر وہ اپنے عہد ومعاہدہ کو قربان کردیتے تھے اور مکاری، فریب اور دغا بازی کرنے کو اپنی ہوشیاری سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے عہد و معاہدوں کی پابندی کا بھی حکم دیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہر اس طریقے کو آخرت کی ناکامی اور روسائی قرار دیا ہے جس میں دوسرے شخص کو کسی طرح کا بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے کہ اے مومنو ! جب تم کسی سے عہد و معاہدہ کرلو تو اس کو پورا کرو اور اپنی ان قسموں کو جن پر تم نے اللہ کو گواہ بنا اپنی ہو ان کو ہرگز نہ توڑو۔ فرمایا کہ اپنے دلی فریب اور معاہدے کی خلاف ورزی کو تم ساری دنیا سے چھپا سکتے ہو لیکن اس اللہ سے نہیں چھپا سکتے جس کو تمہاری ایک ایک بات کا علم ہے فرمایا کہ تم اس عورت کی طرح مت ہوجانا جو دن بھر سوت کات کر شام کو اپنے ہاتھوں سے برباد کر ڈالتی تھی۔ فرمایا کہ تم اپنی قسموں اور معاہدوں کو باہمی فساد ڈالنے کا بہانہ اور ایک دوسرے پر غالب آنے کا ذریعہ نہ بناؤ۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک بڑی آزمائش ہے۔ دنیا میں انسان وقتی طور پر بد عہدی کو چھپا سکتا ہے لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ ایک ایک بات کو کھول کر رکھ دے گا، فریب کار، بد کار اور معاہدوں کو توڑنے والے اللہ کے سامنے قیامت کے دن ذلیل و رسوا ہو کر رہ جائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ مامورات میں اعتدال عام ہے قوت علمیہ و عملیہ کو اس میں سارے عقائد و اعمال ظاہرہ و باطنہ غرض تمام شرائع داخل ہوگئے پھر ان میں سے احسان بوجہ اس کے کہ اس کا نفع متعدی الی الغیر ہے ذکر کے ساتھ خاص کیا گیا پھر احسان میں سے احسان الی ذوالقربی اور زیادہ فضیلت و اہمیت رکھتا ہے اس لیے اس کے بعد اس کو لائے اسی طرح منہیات میں منکر عام ہے تمام امور خلاف شریعت کو پھر اس میں فحشاء کو بوجہ زیادہ قباحت کے مخصوص بالذکر فرمایا اور اشدیت کی وجہ سے مقدم فرمایا اسی طرح ان امورہ منکرہ میں سے یعنی بوجہ اس کے کہ اس کا ضرر متعدی الی الغیر ہے مخصوص بالذکر کیا گیا پس اس طرح سے اس میں تمام امور حسنہ وقبیحہ داخل ہوگئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ، اللہ کی رحمت اور ایمان لانے والوں کے لیے خوشخبری ہے ان لوگوں کے لیے جو درج ذیل ہدایات پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کی یہ آیات مبارکہ ان آیات میں شامل ہے جو انتہائی جامع احکامات کی حامل ہیں۔ اس کی جامعیت کے پیش نظر خلیفۃ المسلمین حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے اپنے دور حکومت میں خطباء کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسے ہر خطبۂ جمعہ میں پڑھا کریں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے تین باتوں کا حکم فرمایا اور تین کاموں سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تمہیں نصیحت کی جاتی ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔ اب نصائح کا مختصر مفہوم پیش کیا جاتا ہے۔ عدل : ١۔ پہلا حکم عدل کے بارے میں دیا گیا ہے جس کا صحیح اور حقیقی معنٰی یہ ہے کہ ہر کسی کو اس کا اصولی حق دیا جائے۔ یہ عدل کا بنیادی اصول ہے۔ ہمارے ہاں عدل کے لیے انصاف کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جو شریعت کا منشا پورا نہیں کرتی۔ کیونکہ انصاف کا معنٰی ہے کسی چیز کو دو برابر حصوں میں تقسیم کرنا۔ گویا کہ کسی چیز کو نصف نصف کردینے کا نام انصاف ہے۔ اسلام کا عدالتی نظام یہ ہے کہ حقدار کو اس کا پورا پوراحق دیاجائے۔ جس کے بارے میں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہاں تک فرمایا ہے : ” حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں انسان ہوں اور تم میرے پاس فیصلے لاتے ہو۔ شاید تم میں سے کچھ لوگ دوسروں کی نسبت اپنا مؤقف بیان کرنے میں زیادہ فصیح ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ میں اس کی بات سن کر اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔ جس شخص کو اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ دوں تو وہ اسے ہرگز قبول نہ کرے۔ بلا شبہ میں اسے دوزخ کا ایک ٹکڑادے رہا ہوں۔ “ [ رواہ البخاری : باب موعظۃ الامام للخصوم ] الاحسان : حدیث کی مقدس دستاویزات میں احسان کے دو مفہوم بیان ہوئے ہیں۔ ” انسان اللہ کی عبادت اس طرح کرے جیسے وہ خود اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔ یہ ممکن نہیں تو اسے یہ یقین ضرور ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الایمان ] حقوق العباد میں احسان کا مفہوم یہ ہے کہ انسان دوسرے کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے عدل کے بجائے شفقت اور نرمی کا مظاہرہ کرے ایتائے ذی القربیٰ : اس آیت مبارکہ میں پہلے عدل کا حکم دیا گیا پھر احسان کرنے کی تلقین فرمائی اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ احسان کے حقدار سب سے پہلے انسان کے قریبی رشتہ دار ہیں اگر احسان کرنے کے بارے میں قرآن مجید کی متعین کردہ فہرست کا خیال رکھا جائے تو دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جس کا قریبی یا قدرے دور کا کوئی رشتہ دار موجود نہ ہو گویا کہ قرآن مجید ایک نظم کے تحت احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ تاکہ اسلامی معاشرے میں کوئی شخص محرومیت کا شکار نہ ہونے پائے۔ اگر کسی کا قریبی رشتہ دار نہ ہو تو اس کا دور کا رشتہ دار ہی اقرب قرار پائے گا۔ کسی سے تعاون کرنے کی ترتیب : ” حضرت بہز بن حکیم اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا اے اللہ کے رسول ! نیکی کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تیری ماں۔ پھر تیری ماں۔ پھر تیری ماں۔ پھر تیرا باپ۔ پھر قریب والا پھر اس کے قریب والا۔ “ [ رواہ أبودا ؤد : کتاب الأدب، باب فی بر الوالدین ] محرمات : مذکورہ بالا فرمان میں تین کاموں کا حکم دینے کے بعد تین برائیوں سے منع کیا گیا ہے۔ جس میں پہلی برائی فحش اور بےحیائی ہے۔ محرمات میں سب سے پہلے چھوٹی برائی سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ جب کوئی چھوٹی برائی سے بچنے کی کوشش کرے گا تو اس کے لیے بڑی برائی سے بچنا آسان ہوگا۔ اس لیے پہلے ہر قسم کی بےحیائی سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ بےحیائی سے مراد ہر وہ حرکت ہے جسے شریف لوگ برا سمجھتے ہوں۔ بے شک شریعت میں اس کے بارے میں واضح حکم نہ پایا جاتا ہو۔ ایسے کاموں کی ہر معاشرے میں مثالیں پائی جاتی ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں اور آج بھی کچھ عربوں کے ہاں یہ رواج ہے کہ جس شخص کو رشتہ درکار ہو وہ لڑکی کے والد سے براہ راست رشتے کا سوال کرتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں اسے بےحیائی سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ایسی حرکت سے اجتناب کرنا چاہیے۔ بہر حال شریعت کے معیار کے علاوہ ہر معاشرے میں بےحیائی کا ایک معیار خود بخود مقرر ہوجاتا ہے۔ لہٰذا شریعت کی وضع کردہ بےحیائی سے بچنا فرض ہے۔ اور معاشرے کی ناپسندیدہ باتوں سے اجتناب کرنا شرافت اور عقلمندی کی دلیل ہے۔ المنکر : منکر سے مراد ہر وہ گناہ ہے جس سے شریعت نے منع کیا ہے بیشک وہ چھوٹا گناہ ہو یا بڑا گناہ۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ لوگو ! کھلی اور پوشیدہ برائی کے قریب نہ جاؤ۔ ( الانعام : ١٥) البغی : بغی سے مراد ایسا گناہ جس میں زیادتی کا عنصر بھی شامل ہو۔ اس میں ہر قسم کی زیادتی اور گناہ شمار ہوگا۔ منکر سے رک جانے کا حکم دے کر مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ معاشی، معاشرتی اور اخلاقی زیادتیوں سے روک دیا گیا ہے۔ یہ ہے اسلامی معاشرے کے حسن و جمال کا ایک خاکہ۔ اس لیے خلیفۂ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے حکم دیا تھا کہ ہر خطیب اپنے خطبہ میں اس آیت کی تلاوت کا اہتمام کیا کرے۔ تاکہ لوگوں کے ذہن میں ہر وقت اسلامی معاشرے کا تصور تازہ رہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ عدل کا حکم دیتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ احسان کا حکم فرماتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ تعاون کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ بےحیائی اور برائی اور ظلم و سرکشی سے روکتا ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کی نصیحت کو قبول کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں عدل کا حکم اور بےحیائی کی حرمت : ١۔ یقیناً اللہ تمہیں عدل اور احسان اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ تعاون کا حکم دیتا ہے، بےحیائی اور برائی سے روکتا ہے۔ (النحل : ٩٠) ٢۔ نبی اکرم کو حکم دیا گیا کہ آپ لوگوں کے درمیان عدل قائم کریں۔ (الشوریٰ : ١٥) ٣۔ عدل کرو یہ تقویٰ کے قریب تر ہے۔ (المائدۃ : ٨) ٦۔ بےحیائی والے کاموں کے قریب نہ جاؤ۔ (الانعام : ١٥١) ٤۔ جب بات کرو تو عدل و انصاف کی کرو اگرچہ اپنے قریبی رشتہ دار ہی کے خلاف کیوں نہ ہوں۔ (الانعام : ١٥٢) ٥۔ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کا کرو۔ (النساء : ٥٨) ٧۔ اللہ نے یقیناً بےحیائی کو حرام قرار دیا ہے۔ (الاعراف : ٣٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قرآن مجید کے نزول کا اصل مقصد یہ ہے اس نظریہ کے مطابق ایک امت کو میدان میں لایا جائے ایک ایسی سوسائٹی تشکیل دی جائے جو ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔ ایک نیا جہاں پیدا کیا جائے اور ایک نیا نظام تشکیل دیا جائے۔ ایک ایسی عالمی دعوت اور تحریک برپا کی جائے جو کسی گروہ ، قبیلے اور کسی نسل کی طرفدار نہ ہو۔ اس دعوت میں اجتماعی رابطے اور تعلق کی بنیاد کسی عصبیت اور قومیت پر نہ ہو۔ چناچہ اس کتاب کی تعلیمات ان اصولوں پر مبنی ہیں جن کے اوپر سوسائٹی اور امت کی تشکیل ممکن ہے۔ ان تعلیمات اور اصولوں پر افراد اقوام اور امم کو پورا اطمینان حاصل ہو ، اور باہم معاملات و تعلقات ، وعدوں اور معاہدوں پر پورا بھروسہ ہو۔ اس کتاب کی تعلیمات میں سے پہلی تعلیم عدل سے متعلق ہے۔ ایسا عادالانہ نظام جس میں ایک فرد ، ایک جماعت ، ایک قوم اور اقوام سب کے حقوق محفوظ ہوں۔ یہ عدل کسی کی خواہش سے متاثر نہ ہو۔ محبت اور بغض سے متاثر نہ ہو۔ رشتہ داری اور اقربا پروری کا اس میں نام و نشان نہ ہو۔ امیر و غریب کے لئے یکساں ہو ، قوی اور ضعیب کے حقوق اس میں برابر ہوں۔ یہ عدل اپنی راہ میں سیدھا چلے اور اس میں سب کے لئے ایک ہی معیار اور ایک ہی پیمانہ ہو۔ اس عدل کے ساتھ ساتھ اس کتاب کی تعلیمات ایک دوسرے اہم اصول ، احسان پر مبنی ہیں۔ جہاں تک عدل کا تعلق ہے ، اس کی تلوار نہایت ہی تیز ، مضبوط اور بےلچک ہوتی ہے اور سیدھا کاٹتی چلی جاتی ہے۔ لیکن اسلامی تعلیمات نے عدل کے ساتھ ساتھ دلوں کو جیتنے کے لئے احسان کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے۔ یہ لازم نہیں کیا کہ بےلچک عدل کے مطابق اپنے حقوق بہرحال لئے جائیں ، اگر کوئی اپنے حقوق سے دست کش ہونا چاہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے۔ اس سے دلوں کی دشمنی دور ہوجاتی ہے اس سے زخم مند مل ہوجاتے ہیں۔ نیز فضائل اخلاق اور کریمانہ طرز عمل کا اظہار ہوتا ہے۔ احسان کا مفہوم بہت ہی وسیع ہے۔ ہر چھا کام احسان ہے۔ احسان کے حکم میں ہر عمل اور ہر معاملہ آتا ہے۔ انسان کا اپنے رب کے ساتھ تعلق ، انسان کا اپنے خاندان کے ساتھ تعلق ، انسان کا جماعت کے ساتھ تعلق اور انسان کا پوری انسانیت کے ساتھ تعلق۔ بعض مفسرین نے محض اس لئے کہ یہ آیت مکی ہے ، عدل کو عبادات واجبیہ اور احسان کو عبادات نفلی پر محمول کیا ہے کیونکہ مکہ میں اسلامی قوانین نازل نہ ہوئے تھے۔ لیکن عدل و احسان میں قانون کے علاوہ اخلاقی معاملات اور انفرادی طرز عمل بھی آتے ہیں اس لئے ان کو عبادات کے ساتھ مخصوص کرنا درست نہیں ہے۔ احسان کی ایک قسم رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور ان پر خرچ ہے اور اس کا خصوصی حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اسلام میں اس کی بہت بڑی اہمیت اور عظمت ہے اور اس کی بہت بڑی تاکید ہے۔ اس میں پائے جانے والی بنیادی سوچ خاندان کی عصبیت نہیں ہے بلکہ اس سے غرض وغایت خاندانی نظام اور خاندانی نظام کے اوپر تعمیر کردہ اسلامی نظام تکافل اجتماعی ہے۔ اسلام نے اپنے اجتماعی نظام کا پہلا یونٹ خاندان کو قرار دیا ہے اور اس کے بعد وہ اسے بتدریج سوسائٹی تک عام کرتا ہے کیونکہ اجتماعی تکافل (Security) کے بارے میں اسلام کی اپنی سوچ ہے۔ وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی (٦١ : ٠٩) ” اور بدی اور بےحیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے “۔ فحشاء ہر اس بات کو کہتے ہیں جو حد سے تجاوز کرے۔ یہ زیادہ تر اس تجاوز کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کسی کی ذاتی عزت کے خلاف ہو کیونکہ جنسی بےراہ روی بھی ایک ایسا فعل ہے جو اپنی حدود سے آگے بڑھ کر کیا جاتا ہے۔ اس میں بھی زیادتی اور حدود سے تجاوز پایا جاتا ہے۔ بالعموم یہ لفظ جنسی بےراہ روی کے ساتھ مخصوص ہوگیا ہے۔ المنکر وہ فعل ہے جس کا فطرت سلیمہ انکار کرے اور شریعت بھی اسے اسی وجہ سے منکر سمجھتی ہے کیونکہ اسلامی شریعت اور اسلامی نظام ایک فطری نظام ہے۔ شرعیت اور قانون تو اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ اور فطرت انسانی بسا اوقات بگڑ جاتی ہے۔ فطرت کے بگاڑ کے وقت پھر شریعت معیار بن جاتی ہے۔ البغی سے مراد ظلم اور لوگوں کے حقوق پر دست درازی ہے۔ دنیا میں کوئی معاشرہ بھی فحاشی ، منکرات اور ظلم پر قائم نہیں رہ سکتا۔ ایسا معاشرہ کبھی بھی قائم نہیں رہ سکتا جس میں فحاشی وسیع پیمانے پر رائج ہو ، نیز ایسی سوسائٹی بھی کبھی پنپ نہیں سکتی ، جس میں منکرات نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہو۔ ایسا کوئی ملکی نظام قائم نہیں رہ سکتا جس کی اساس ظلم پر ہو۔ کوئی بھی معاشرہ ایسے اجتماعی نظام کو بہت ہی کم عرصہ تک برداشت کرتا ہے ، جلد ہی اس نظام کے خلاف لوگ احتجاج شروع کردیتے ہیں۔ اگرچہ ایسا کوئی ظالمانہ اور جابرانہ معاشرہ پر قوت اور پر شوکت ہو۔ اگرچہ ایسے اجتماعی نظام کے بااختیار لوگ ایسے نظام کی حمایت اور بچائو کے لئے لا انتہاء وسائل استعمال کریں۔ انسانی تاریخ کا اگر تفصیلی مطالعہ کیا جائے تو یہ تاریخ در حقیقت فحاشی ، منکرات اور ظلم کے خلاف مسلسل احتجاج سے عبارت ہے لہٰذا اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ تاریخ میں کچھ عرصے تک کوئی اجتماعی نظام فحاشی ، منکرات اور ظلم پر قائم رہا ہے۔ ایسے نظاموں کے خلاف چونکہ ہمیشہ احتجاج اور رد عمل ہوتا رہا ہے اس لئے تاریخ سے یہی سبق ملتا ہے۔ ایسے نظام میں اسلامی سوسائٹی کے جسم کے لئے فارن باڈی رہے ہیں اور انسانی سوسائٹی نے ہمیشہ ایسے نظاموں کو جھاڑ کر پھینک دیا ہے جس طرح ہر جسم اپنے اندر فارن باڈی کے آنے کے خلاف رد عمل کرتا ہے۔ چناچہ اللہ کی طرف سے عدل و احسان کا حکم دینا اور فحاشی ، منکرات اور ظلم سے منع کرنا فطرت سلیمہ کے عین مطابق ہے۔ اسلام اس فطری رد عمل کو اسلامی جدوجہد قرار دے کر اسے قوت عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حکم پر سبق آموز تبصرہ یوں آتا ہے۔ یعظکم لعلکم تذکرن (٦١ : ٠٩) ” وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو “۔ یہ نصیحت اس لئے ہے کہ تم اپنی اصل فطرت کی طرف رجوع کرو اور اسے یاد کرو “۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

چند اوصاف حمیدہ کا حکم، اور منکرات و فواحش سے بچنے کی تاکید یہ آیت بہت جامع ہے تمام مامورات (فرائض واجبات، مندوبات و مستحباب) کے حکم کو اور تمام منکرات (منہیات اور معاصی) کی ممانعت کو شامل ہے، اولاً یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں عدل کا حکم فرماتا ہے، عدل عربی میں انصاف کو کہا جاتا ہے جیسا کہ سورة مائدہ میں فرمایا (اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقْرَبُ للتَّقْوٰی) اپنے پرائے چھوٹے بڑے سب کے بارے میں انصاف کرنا لازم ہے جو شخص دشمنی کرے اس کی دشمنی کے جواب میں بھی عدل ہی کیا جائے دشمنی کی وجہ سے عدل کو ہاتھ سے جانے نہ دیں اگر کسی زیادتی کرنے والے سے بدلہ لے لینا ہو تو زیادتی کے بقدر ہی بدلہ لیا جاسکتا ہے اور معاف کردینا افضل ہے، عدل کا دوسرا معنی توسط یعنی افراط وتفریط کو چھوڑ کر میانہ روی اختیار کرنے کا بھی ہے اسی لیے بعض اکابر نے عدل کا ترجمہ اعتدال سے کیا ہے اس اعتبار سے عدل کا وہی مصداق ہوگا جو سورة بقرہ کی آیت (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا) کی تفسیر میں حضرات اکابر نے بیان فرمایا اور وہاں ہم بھی اس کی تشریح لکھ چکے ہیں۔ صاحب روح المعانی نے بھی عدل کی تفسیر کرتے ہوئے اولاً اسی معنی کو بیان کیا ہے اور فرمایا ہے (ای بمراعاۃ التوسط بین طرفی الافراط والتفریط پھر کچھ تفصیل کے بعد ابن ابی حاتم سے محمد بن کعب قرظی کا بیان نقل کیا ہے کہ مجھے حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) نے بلایا اور فرمایا کہ بتاؤں عدل کیا چیز ہے ؟ میں نے کہا واہ کیا خوب آپ نے تو بہت بڑی بات پوچھی، اس کے بعد عدل کا معنی بیان کرتے ہوئے کہا کہ تو چھوٹے کا باپ بن جائے اور بڑے کا بیٹا بن جائے اور برابر والے کا بھائی بن جائے اور لوگوں کے گناہوں کے بقدر اور ان کے جسموں کے برداشت کے بقدر سزا دے اور اپنے غصے کی وجہ سے ایک کوڑا بھی نہ مارو ورنہ تو ظلم کرنے والوں میں سے ہوجائے گا۔ حضرت سفیان بن عینیہ سے نقل کیا ہے۔ ان العدل استواء السریرۃ والعلانیۃ فی العمل (یعنی عدل یہ ہے کہ تنہائی میں ہو یا سب کے سامنے ایک طرح کا عمل ہو۔ ) ثانیاً احسان کا حکم فرمایا لفظ احسان حسن سے ماخوذ ہے اور باب افعال کا مصدر ہے، حسن خوبی اور اچھائی کو کہتے ہیں اور کسی کام کو اچھے طریقے پر انجام دینے کو احسان کہا جاتا ہے، عبادات میں احسان کی صفت ہو اور معاملات میں بھی، رشتہ داروں کے ساتھ بھی اور دوسرے انسانوں کے ساتھ بھی، اس اجمال کی تفصیل کے لیے آیت کریمہ (وَ اَحْسِنُوْا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ) کی تفسیر ملاحظہ کرلی جائے۔ ثالثاً اپنے رشتہ داروں اور دوسرے انسانوں پر مال خرچ کرنا، یہ بھی بڑے ثواب کی چیز ہے اور صفت احسان میں یہ بھی داخل ہے لیکن مستقل طریقے پر اس کو علیحدہ بھی ذکر فرمایا کیونکہ اس میں دوہرا ثواب ہے صلہ رحمی کا بھی اور صدقہ کا بھی، اور ان لوگوں کو بھی تنبیہ ہے جو دنیا بھر سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اپنوں سے بگاڑ رکھتے ہیں اور اپنوں پر ایک پیسہ بھی خرچ کرنا گوارا نہیں کرتے، باپ کی طرف سے رشتہ دار ہوں یا ماں کی طرف سے ہوں لفظ قُرْبیٰ سب کو شامل ہے ماں باپ اولاد بہن بھائی چچا پھوپھی، خالہ ماموں اور ان کی اولاد سب ذوی القربی ہیں بعض حالات میں ذوی القربی پر مال خرچ کرنا واجب ہوتا ہے اور بعض حالات میں مستحب ہوتا ہے، تفصیلات کے لیے کتب فقہ کی طرف مراجعت کی جائے۔ مامورات کے بعد منہیات کا ذکر فرمایا (وَ یَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْکَرِ وَ الْبَغْیِ ) اس میں بھی تین چیزیں تمام ممنوعات و محظورات اور معاصی اور منکرات کو شامل ہیں شریعت کی اصطلاح میں ہر گناہ پر لفظ منکر کا اطلاق ہوتا ہے فحشاء اور بغی بھی اس کے عموم میں داخل ہیں، لیکن الگ سے ان دونوں کو بھی ذکر فرمایا ایک مرتبہ عمومی طور پر اور ایک مرتبہ خصوصی طور پر ان کی ممانعت فرما دی فحشاء اس قول و فعل کو شامل ہے جس میں بےشرمی اور بےحیائی ہوزنا اور قضائے شہوت کے لیے جو بھی ممنوع فعل کیا جائے اور ایسے افعال کے اسباب اور دواعی سب کو لفظ فحشاء شامل ہے، علامہ قرطبی لکھتے ہیں ھو کل قبیح من قول او فعل اور بغی ظلم اور زیادتی کے معنی میں آتا ہے ظلم کی جتنی بھی صورتیں ہیں آیت کریمہ نے ان سب کو ممنوع قرار دیا ہے۔ امیر المومنین کی بغاوت کرنا، مال چھین لینا، چوری کرنا، ڈاکہ ڈالنا، جن کے حقوق واجب ہیں ان کو روک لینا، ماں باپ کو تکلیف دینا، ان کی نافرمانی کرنا یہ سب بغی میں داخل ہے۔ سورۂ حجرات میں فرمایا (وَاِِنْ طَاءِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا فَاِِنْ بَغَتْ اِِحْدَاھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیْٓءَ اِِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ فَاِِنْ فَاءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ) (اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرادو پھر اگر ان میں سے زیادتی کرے ایک فریق دوسرے پر تو تم سب لڑو اس سے جو زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرے پھر اگر وہ رجوع کرے تو ان میں برابری کے ساتھ صلح کرا دو ، اور انصاف کرو، بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے) حضرت ابوبکر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جتنے بھی گناہ ہیں ان میں سے بغی، ظلم و زیادتی اور قطع رحمی ایسی چیزیں ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کے کرنے والے کو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی جلدی ہی عذاب دیدے اور آخرت میں بھی اس کے لیے عذاب باقی رکھ لے۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد کما فی المشکوٰۃ ص ٤٢٠) حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) نے ارشاد فرمایا کہ قرآن مجید کی یہ آیت دیگر تمام آیات کی بنسبت خیر و شر کے تذکرہ کے لیے سب سے زیادہ جامع ہے کیونکہ اس میں ہر خیر کا حکم ہے اور ہر برائی سے روک دیا گیا ہے مامورات اور منہیات کا ذکر فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ) (اللہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو) اس میں عمل کرنے کی طرف توجہ دلائی اور یہ فرمایا کہ یہ بات سن کر اور پڑھ کر اپنے کو فارغ نہ سمجھ لو بلکہ عمل بھی کرو۔ خطبوں میں اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَان پڑھنے کی ابتداء عام طور پر جمعہ کے خطبوں میں خطیب حضرات آیت بالا کو پڑھتے ہیں اس کی ابتداء حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) سے ہوئی، علامہ سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں لکھا ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) سے پہلے امرائے بنو امیہ اپنے خطبوں میں حضرت علی (رض) کو برا بھلا کہتے تھے جب حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) خلیفہ ہوئے تو اس طریقہ کو ختم فرما دیا اپنے گورنروں کو بھی لکھ دیا کہ ایسا نہ کریں اور اس کی جگہ آیت بالا کو پڑھنا شروع فرما دیا اس وقت سے آج تک یہ طریقہ جاری ہے، تقریباً پورے عالم میں اس پر عمل کیا جاتا ہے، البتہ کبھی کبھی چھوڑ دینا چاہیے تاکہ عامۃ الناس اس کو خطبہ کا جزو لازم نہ سمجھ لیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

73:۔ دلائل توحید اور تخویفات دنیویہ و اخرویہ کے بعد عذاب سے بچنے کا علاج بتایا کہ شرک نہ کرو انصاف کو اپنی زندگی کا دستور بناؤ، ظلم وعدوان سے اجتناب کرو، احسان و تفضل سے کام لو، بےحیائی اور برے کاموں سے باز آجاؤ۔ اگر تم ان امور پر عمل کرو گے تمہارے دلوں میں نیکی سے محبت اور برائی سے نفرت پیدا ہوگی جو آخرتمہاری استقامت کا باعث ہوگی۔ العدل سے مراد توحید ہے۔ العدل التوحید قالہ ابن عباس قرآن مجید کی یہ آیت اس قدر جامع ہے کہ اس میں تمام ابواب خیر اور تمام ابواب شر کو جمع کردیا گیا ہے۔ قال ابن مسعود ھذہ اجمع ایۃ فی القران لخیر یتمچل و لشر یجتنب (قرطبی ج 10 ص 165) ۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں عذاب دینے کا ذکر ہو وہاں دفع عذاب کے لیے تین امور بیان کیے جاتے ہیں۔ یعنی شرک نہ کرو، احسان کرو اور ظلم نہ کرو۔ اس سورت میں اہل مکہ کے لیے عذاب کی دھمکی تھی اس لیے امور ثلاثہ کو ذکر کیا گیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

90 ۔ آگے قرآن کریم کے بعض احکام بیان فرماتے ہیں ارشاد ہوتا ہے بلا شبہ اللہ تعالیٰ اعتدال اور انصاف کا اور نیکی اور بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کا باتوں اور نا معقول کاموں کو اور ظلم و زیادتی اور سرکشی وتعدی کو منع کرتا ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم نصیحت پکڑو اور نصیحت کو قبول کرو۔ یہ آیت تمام اوامرو نواہی کی ایک جامع آیت ہے ۔ اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ تمام عقائد و اعمال بلکہ معاملات میں میانہ روی کا وہ راستہ اختیار کرنا چاہئے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو ہر ایک شخص کے ساتھ بھلائی اور احسانات کا برتائو کرنا چاہئے اور بالخصوص قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور ان کی مال سے خدمت کرتے رہنا جن چیزوں کے ارتکاب کو منع کیا وہ فحشا ، منکر ، بغی۔ فحشا سے مراد ہے بڑی بےحیائی کے کام اور منکر سے مراد ہے ہر قسم کی برائی اور نا معقول کام بغی سے مراد ہے کسی پر ظلم اور زیادتی کرنا ، اجمالی طور پر تمام دین کے اوامرا نواہی کو اس آیت میں جمع کردیا گیا ہے جس کی شرح کے لئے ایک مستقل تصنیف کی ضرورت ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں غیر کے مقدمہ میں انصاف چاہئے یعنی برابر رکھنا اور اپنی طرف سے بھلائی ۔ 12