The Command to fulfill the Covenant
Allah says:
وَأَوْفُواْ بِعَهْدِ اللّهِ إِذَا عَاهَدتُّمْ
...
And fulfill the covenants (taken in the Name of) Allah when you have taken them,
This is one of the commands of Allah, to fulfill covenants, keep promises and to fulfill oaths after confirming them.
Thus Allah says:
...
وَلاَ تَنقُضُواْ الاَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا
...
and do not break the oaths after you have confirmed them.
There is no conflict between this and the Ayat:
وَلاَ تَجْعَلُواْ اللَّهَ عُرْضَةً لاًّيْمَـنِكُمْ
And do not use Allah as an excuse in your oaths. (2:224)
ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَـنِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَيْمَـنَكُمْ
That is the expiation for oaths when you have sworn. And protect your oaths. (5:89)
meaning, do not forgo your oaths without offering the penance.
There is also no conflict between this Ayah (16:91) and the Hadith reported in the Two Sahihs according to which the Prophet said:
إِنِّي وَاللهِ إِنْ شَاءَ اللهُ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا وَفِي رِوَايَةٍ وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي
By Allah, if Allah wills, I will not swear an oath and then realize that something else is better, but I do that which is better and find a way to free myself from the oath.
According to another report he said:
"and I offer penance for my oath."
There is no contradiction at all between all of these texts and the Ayah under discussion here, which is:
وَلاَ تَنقُضُواْ الاَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا
(and do not break the oaths after you have confirmed them), because these are the kinds of oaths that have to do with covenants and promises, not the kind that have to do with urging oneself to do something or preventing him from doing something.
Therefore Mujahid said concerning this Ayah:
وَلاَ تَنقُضُواْ الاَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا
(and do not break the oaths after you have confirmed them),
"The oath here refers to oaths made during Jahiliyyah."
This supports the Hadith recorded by Imam Ahmad from Jubayr bin Mut`im, who said that the Messenger of Allah said:
لاَا حِلْفَ فِي الاْاِسْلَامِ وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّهُ لاَا يَزِيدُهُ الاْاِسْلَامُ إِلاَّ شِدَّة
There is no oath in Islam, and any oath made during the Jahiliyyah is only reinforced by Islam.
This was also reported by Muslim.
The meaning is that Islam does not need oaths as they were used by the people of the Jahiliyyah; adherence to Islam is sufficient to do away with any need for what they used to customarily give oaths for.
In the Two Sahihs it was reported that Anas said:
"The Messenger of Allah swore the treaty of allegiance between the Muhajirin (emigrants) and the Ansar (helpers) in our house."
This means that he established brotherhood between them, and they used to inherit from one another, until Allah abrogated that. And Allah knows best.
...
وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلً
...
- and indeed you have appointed Allah as your guarantor.
...
إِنَّ اللّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ
Verily, Allah knows what you do.
This is a warning and a threat to those who break their oaths after confirming them.
Allah says:
عہد و پیمان کی حفاظت
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عہد و پیمان کی حفاظت کریں قسموں کو پورا کریں ۔ توڑیں نہیں ۔ قسموں کو نہ توڑنے کی تاکید کی اور آیت میں فرمایا کہ اپنی قسموں کا نشانہ اللہ کو نہ بناؤ ۔ اس سے بھی قسموں کی حفاظت کرنے کی تاکید مقصود ہے اور آیت میں ہے کہ قسم توڑنے کا کفارہ ہے قسموں کی پوری حفاظت کرو ۔ پس ان آیتوں میں یہ حکم ہے ۔ اور بخاری و مسلم کی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں واللہ میں جس چیز پر قسم کھا لوں اور پھر اس کے خلاف میں بہتری دیکھوں تو انشاء اللہ تعالیٰ ضرور اس نیک کام کو کروں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا ۔ تو مندرجہ بالا آیتوں اور احادیث میں کچھ فرق نہ سمجھا جائے وہ قسمیں اور عہد و پیمان جو آپس کے معاہدے اور وعدے کے طور پر ہوں ان کا پورا کرنا تو بیشک بیحد ضروری ہے اور جو قسمیں رغبت دلانے یا روکنے کے لئے زبان سے نکل جائیں ، وہ بیشک کفارہ دے کر ٹوٹ سکتی ہیں ۔ پس اس آیت میں مراد جاہلیت کے زمانے جیسی قسمیں ہیں ۔ چنانچہ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اسلام میں دو جماعتوں کی اپس میں ایک کی قسم کوئی چیز نہیں ہاں جاہلیت میں ایسی امداد و اعانت کی جو قسمیں آ پس میں ہو چکی ہیں اسلام ان کو اور مضبوط کرتا ہے ۔ اس حدیث کے پہلے جملے کے یہ معنی ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں کہ ایک برادری والے دوسری برادری کر دیتا ہے ۔ مشرق مغرب کے مسلمان ایک دوسرے کے ہمدرد و غم خوار ہیں ۔ بخاری مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں رسول کریم علیہ افضل التسلیم نے انصار و مہاجرین میں باہم قسمیں اٹھوائیں ۔ اس سے یہ ممنوع بھائی بندی مراد نہیں یہ تو بھائی چارہ تھا جس کی بنا پر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے ۔ آخر میں یہ حکم منسوخ ہو گیا اور ورثہ قریبی رشتے داروں سے مخصوص ہو گیا ۔ کہتے ہیں اس فرمان الٰہی سے مطلب ان مسلمانوں کو اسلام پر جمع رہنے کا حکم دینا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر کے مسلمانوں کی جماعت کی کمی اور مشرکوں کی جماعت کی کثرت دیکھ کر تم اسے توڑ دو ۔ مسند احمد میں ہے کہ جب یزید بن معاویہ کی بیعت لوگ توڑنے لگے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے تمام گھرانے کے لوگوں کو جمع کیا اور اللہ کی تعریف کر کے اما بعد کہہ کر فرمایا ہم نے یزید کی بیعت اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت پر کی ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر غدار کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ یہ غدار ہے فلاں بن فلاں کا ۔ اللہ کے ساتھ شریک کرنے کے بعد سب سے بڑا اور سب سے برا غدر یہ ہے کہ اللہ اور رسول کی بیعت کسی کے ہاتھ پر کر کے پھر توڑ دینا یاد رکھو تم میں سے کوئی یہ برا کام نہ کرے اور اس بارے میں حد سے نہ بڑھے ورنہ مجھ میں اور اس میں جدائی ہے ۔ مسند احمد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص کسی مسلمان بھائی سے کوئی شرط کرے اور اسے پورا کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ مثل اس شخص کے ہے جو اپنے پڑوسی کو امن دینے کے بعد بےپناہ چھوڑ دے پھر انہیں دھمکاتا ہے جو عہد وپیم ان کی حفاظت نہ کریں کہ ان کے اس فعل سے اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے ۔
مکہ میں ایک عورت تھی جس کی عقل میں فتور تھا سوت کاتنے کے بعد ، ٹھیک ٹھاک اور مضبوط ہو جانے کے بعد بےوجہ توڑ تاڑ کر پھر ٹکڑے کر دیتی ۔ یہ تو اس کی مثال ہے جو عہد کو مضبوط کر کے پھر توڑ دے ۔ یہی بات ٹھیک ہے اب اسے جانے دیجئے کہ واقعہ میں کوئی ایسی عورت تھی بھی یا نہیں جو یہ کرتی ہو نہ کرتی ہو یہاں تو صرف مثال مقصود ہے ۔ انکاثا کے معنی ٹکڑے ٹکڑے ہے ۔ ممکن ہے کہ یہ نقضت غزلھا کا اسم مصدر ہو ۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بدل ہو کان کی کبر کا یعنی انکاث نہ ہو جمع مکث کی ناکث سے ۔ پھر فرماتا ہے کہ قسموں کو مکر و فریب کا ذریعہ نہ بناؤ کہ اپنے سے بڑوں کو اپنی قسموں سے اطمینان دلاؤ اور اپنی ایمانداری اور نیک نیتی کا سکہ بٹھا کر پھر غداری اور بے ایمانی کر جاؤ ان کی کثرت دیکھ کر جھوٹے وعدے کر کے صلح کر لو اور پھر موقع پا کر لڑائی شروع کر دو ایسا نہ کرو ۔ پس جب کہ اس حالت میں بھی عہد شکنی حرام کر دی تو اپنے جمعیت اور کثرت کے وقت تو بطور اولی حرام ہوئی ۔ بحمد اللہ ہم سورہ انفال میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قصہ لکھ آئے ہیں کہ ان میں اور شاہ روم میں ایک مدت تک کے لئے صلح نامہ ہو گیا تھا اس مدت کے خاتمے کے قریب آپ نے مجاہدین کو سرحد روم کی طرف روانہ کیا کہ وہ سرحد پر پڑاؤ ڈالیں اور مدت کے ختم ہوتے ہی دھاوا بول دیں تاکہ رومیوں کو تیاری کا موقعہ نہ ملے ۔ جب حضرت عمرو بن عتبہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ہوئی تو آپ امیر المومنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اللہ اکبر!اے معاویہ عہد پورا کر غدر اور بد عہدی سے بچ ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جس قوم سے عہد معاہدہ ہو جائے تو جب تک کہ مدت صلح ختم نہ ہو جائے کوئی گرہ کھولنے کی بھی اجازت نہیں ۔ یہ سنتے ہی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکروں کو واپس بلوا لیا ۔ ازبی سے مراد اکثر ہے ۔ اس جملے کا یہ بھی مطلب ہے کہ دیکھا کہ دشمن قوی اور زیادہ ہے صلح کر لی اور اس صلح کو ذریعہ فریب بنا کر انہیں غافل کر کے چڑھ دوڑے اور یہ بھی مطلب ہے کہ ایک قوم سے معاہدہ کر لیا پھر دیکھا کہ دوسری قوم ان سے زیادہ قوی ہے ، اس سے معاملہ کر لیا اور اگلے معاہدے کو توڑ دیا یہ سب منع ہے ۔ اس کثرت سے اللہ تمہیں آزماتا ہے ۔ یا یہ کہ اپنے حکم سے یعنی پابندی وعدہ کے حکم سے اللہ تمہاری آزمائش کرتا ہے اور تم میں صحیح فیصلے قیامت کے دن وہ خود کر دے گا ۔ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک ، بدوں کو بد ۔