Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 104

سورة بنی اسراءیل

وَّ قُلۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ لِبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اسۡکُنُوا الۡاَرۡضَ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ جِئۡنَا بِکُمۡ لَفِیۡفًا ﴿۱۰۴﴾ؕ

And We said after Pharaoh to the Children of Israel, "Dwell in the land, and when there comes the promise of the Hereafter, We will bring you forth in [one] gathering."

اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرما دیا کہ اس سرزمین پر تم رہو سہو ۔ ہاں جب آخرت کا وعدہ آئے گا ہم تم سب کو سمیٹ لپیٹ کر لے آئیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Here Allah says: وَقُلْنَا مِن بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَايِيلَ اسْكُنُواْ الاَرْضَ فَإِذَا جَاء وَعْدُ الاخِرَةِ جِيْنَا بِكُمْ لَفِيفًا And We said to the Children of Israel after him: "Dwell in the land, then, when the final and the last promise comes near, We shall bring you altogether as mixed crowd." meaning, all of you, you and your enemies. Ibn Abbas, Qatadah and Ad-Dahhak said, "It means all together."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

104۔ 1 بظاہر اس سرزمین جس سے فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو نکالنے کا ارادہ کیا تھا۔ مگر تاریخ بنی اسرائیل کی شہادت یہ ہے کہ مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے، بلکہ چالیس سال میدان تیہ میں گزار کر فلسطین میں داخل ہوئے۔ اس کی شہادت سورة اعراف وغیرہ میں قرآن کے بیان سے ملتی ہے۔ اس لئے صحیح یہی ہے کہ اس سے مراد فلسطین کی سرزمین ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٣] کفار مکہ اور فرعون کی کرتوتوں اور انجام میں مماثلت :۔ اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم ہوا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے جاکر شام کا علاقہ فتح کریں اور اس میں آباد ہوں اور کچھ عرصہ بعد ایسا ہوا بھی تھا۔ تاہم اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اور فرعونیوں کی تباہی کے بعد بنی اسرائیل ہی کے کچھ لوگ مصر کے علاقے پر بھی قابض ہوگئے تھے اور اس مقام پر اس واقعہ کو مختصراً بیان کرنے کا مقصودیہ ہے کہ کفار مکہ بھی مسلمانوں پر ایسے ہی سختیاں کر رہے تھے جیسے آل فرعون بنی اسرائیل پر کرتے تھے لیکن انجام کار ہوا یہ کہ آل فرعون تو تباہ ہوگئے اور بنی اسرائیل ملک پر قابض ہوگئے تھے۔ اور اب چونکہ ان لوگوں نے بھی اپنے عزو جاہ کی خاطر اسلام کا نام و نشان مٹا دینے کا تہیہ کر رکھا ہے تو ان کا وہی حشر ہونے والا ہے جو آل فرعون کا ہوا تھا۔ یہ تو سزا دنیا میں ملے گی اور آخرت میں بھی ایسے لوگ ہمارے عذاب سے بچ کر نہیں جاسکتے۔ ہم ان سب کو اکٹھے کرکے اپنے حضور حاضر کرلیں گے پھر ان کے کرتوتوں کی انھیں پوری پوری سزا دیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَّقُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ : ” الْاَرْضَ “ سے مراد ارض شام بیان کی جاتی ہے، مگر سورة شعراء کی آیت (٥٩) سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر کار بنی اسرائیل کی حکومت فلسطین و شام کے بعد مصر پر بھی قائم ہوگئی تھی، فرمایا : (كَذٰلِكَ ۭ وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ) [ الشعراء : ٥٩ ] ” ایسا ہی ہوا اور ہم نے اس (مصر) کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا۔ “ اگرچہ یہ سب فتوحات موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں نہ ہو سکیں۔ دیکھیے سورة مائدہ (٢٠ تا ٢٦) ۔ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا :” لَفِيْفًا “ ” لَفُّ الشَّیْءِ بالشَّیْءِ أَیْ ضَمُّہُ اِلَیْہِ وَ وَصْلُہُ بِہِ ۔ “ ” جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا “ ” أَيْ مُجْتَمِعِیْنَ ، مُخْتَلِطِیْنَ مِنْ کُلِّ قَبِیْلَۃٍ “ (قاموس) یعنی ہم اچھے و برے، مومن و کافر سب کو حشر کے میدان میں جمع کریں گے، تاکہ ان کا ہمیشہ کے لیے فیصلہ کردیا جائے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّقُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا ١٠٤؀ۭ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ سكن السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ، ( س ک ن ) السکون ( ن ) حرکت کے بعد ٹھہر جانے کو سکون کہتے ہیں اور کسی جگہ رہائش اختیار کرلینے پر بھی یہ لفط بولا جاتا ہے اور سکن فلان مکان کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں جگہ رہائش اختیار کرلی ۔ اسی اعتبار سے جائے رہائش کو مسکن کہا جاتا ہے اس کی جمع مساکن آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خرٰا و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ لفف قال تعالی: فَإِذا جاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنا بِكُمْ لَفِيفاً [ الإسراء/ 104] أي : منضمّا بعضکم إلى بعض . يقال : لَفَفْتُ الشیء لَفّاً ، وجاء وا ومن لَفَّ لِفَّهُمْ ، أي : من انضمّ إليهم، وقوله : وَجَنَّاتٍ أَلْفافاً [ النبأ/ 16] أي : التفّ بعضها ببعض لکثرة الشّجر . قال : وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ [ القیامة/ 29] والْأَلَفُّ : الذي يتدانی فخذاه من سمنه، والْأَلَفُّ أيضا : السّمين الثقیل البطیء من الناس، ولَفَّ رأسه في ثيابه، والطّائر رأسه تحت جناحه، واللَّفِيفُ من الناس : المجتمعون من قبائل شتّى، وسمّى الخلیل کلّ كلمة اعتلّ منها حرفان أصليّان لفیفا . ( ل ف ف ) الففت الشئی لفا کے معنی ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملا دینے اور مدغم کردینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : جِئْنا بِكُمْ لَفِيفاً [ الإسراء/ 104] اور ہم تم سب کو جمع کرکے لے آئیں گے ۔ اور محاورہ ہے : جآء وا من لف لفھم یعنی وہ اور ان کے سب متعلقین آئے ۔ اور آیت کریمہ : وَجَنَّاتٍ أَلْفافاً [ النبأ/ 16] اور گھنے گھنے باغ میں الفاف سے مراد ایک دوسرے سے متصل گھنے اور گنجان درختوں والے باغیچے مراد ہیں ۔ التف ایک چیز کا دوسری سے لپٹ جانا ۔ قرآن میں ہے : وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ [ القیامة/ 29] اور پنڈلی سے پندلی لپٹ جائے گی ۔ الالف۔ وہ آدمی جس کی رانیں موٹاپے کی وجہ سے باہم ملی ہوئی ہوں اور بہت زیادہ بھاری جسم اور سست آدمی کو بھی الف کہاجاتا ہے ۔ لف راسہ ۔ اس نے اپنے سر کو ( کپڑوں ) ۔۔۔ میں ) چھپالیا ۔ اللفیف۔ مختلف قبائل کے ایک جگہ جمع ہونے والے لوگ اور خلیل نے ہر اس کلمے کا نام لفیف رکھا ہے جس کے حروف اصل میں سے دو حرف علت ہوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٤) اور اس کی ہلاکت کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہہ دیا کہ تم سرزمین اردن یا فلسطین میں رہو سہو، پھر جس وقت قبروں سے مردوں کو زندہ کرکے اٹھایا جائے گا یا یہ کہ نزول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوچکا ہوگا تو ہم سب کو جمع کریں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا) اکثر وبیشتر مفسرین نے وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ سے آخرت یعنی قیامت مراد لی ہے۔ یعنی جب قیامت آئے گی تو تم لوگ جہاں کہیں بھی ہو گے سب کو اکٹھا کر کے ہم میدان حشر میں لے آئیں گے۔ لیکن میرے خیال میں ان الفاظ میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ جب آخرت کا وقت قریب آئے گا تو بنی اسرائیل کو ہر کہیں سے اکٹھا کر کے ایک جگہ جمع کرلیا جائے گا۔ یہ لوگ حضرت عیسیٰ کی تکذیب کر کے بہت بڑے جرم کے مرتکب ہوچکے تھے۔ اس کے بعد نبی آخر الزماں کی رسالت کو جھٹلا کر انہوں نے اپنے اس جرم کی مزید توثیق بھی کردی۔ چناچہ اب اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس قوم کی حیثیت اس قیدی کی سی ہے جس کو اس کے جرم کی سزا سنائی جا چکی ہو مگر اس سزا کی تعمیل (execution) ابھی باقی ہو۔ اس سورت کے نزول کے وقت بنی اسرائیل کے دور انتشار (Diaspora) یعنی فلسطین سے بےدخل ہوئے ساڑھے پانچ سو سال ہوچکے تھے۔ پچھلی صدی تک بھی ان کی کیفیت یہ تھی کہ یہ لوگ پوری دنیا میں بکھرے ہوئے تھے۔ چونکہ کسی اجتماعی سزا یا عذاب کے لیے ان کا ایک جگہ اکٹھے ہونا ضروری تھا اس لیے قدرت کی طرف سے اسرائیل کی ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا اور آیت زیر نظر کے الفاظ کے عین مطابق دنیا کے کونے کونے سے تمام یہودیوں کو اکٹھا کر کے یہاں آباد کیا گیا۔ اب اپنے زعم میں تو ان لوگوں نے عظیم تر اسرائیل (Greater Israel) کا منصوبہ اور نقشہ تیار کر رکھا ہے اور عین ممکن ہے ان کا یہ منصوبہ پورا بھی ہوجائے مگر بالآخر یہ عظیم تر اسرائیل ان کے لیے عظیم تر قبرستان ثابت ہوگا (واللہ اعلم ! ) آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور آپ ہی کے ہاتھوں اس قوم کی ہلاکت ہوگی ۔ اب آخری آیات میں پھر سے قرآن مجید کا ذکر بڑے عظیم الشان انداز میں آ رہا ہے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

117. This part of the story of Pharaoh has been related here because it applied exactly to the mushriks of Makkah who were doing their best to uproot the Prophet (peace be upon him) and the believers from the land of Arabia. This story, so to say, tells them: Pharaoh resolved to uproot Moses (peace be upon him) and the Israelites but was himself completely annihilated along with his followers. But Moses (peace be upon him) and his followers settled down in the land. Likewise, if you persist on the same way, you will surely meet with the same end.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :117 یہ ہے اصل غرض اس قصے کو بیان کرنے کی ۔ مشرکین مکہ اس فکر میں تھے کہ مسلمانوں کو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سر زمین عرب سے ناپید کر دیں ۔ اس پر انہیں یہ سنایا جا رہا ہے کہ یہی کچھ فرعون نے موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے ساتھ کرنا چاہا تھا ۔ مگر ہوا یہ کہ فرعون اور اس کے ساتھی ناپید کر دیے گئے اور زمین پر موسی علیہ السلام اور پیروان موسی علیہ السلام ہی بسائے گئے ۔ اب اگر اسی روش پر تم چلو گے تو تمہارا انجام اس سے کچھ بھی مختلف نہ ہوگا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:104) من بعدہ۔ یعنی غرقابیٔ فرعون کے بعد۔ اسکنوا الارض۔ یعنی اب تم فرعون کی غلامی سے آزاد ہو۔ جہاں چاہو رہو بسو۔ یا ال عہد کے لئے ہے۔ اور الارض سے مراد وہی وادیٔ سیناء ہے جس کا وعدہ ان سے کیا گیا تھا۔ لفیفا۔ صفت مشبہ، آدمیوں کا وہ بڑا گروہ جس میں مختلف قبائل کے آدمی جمع ہوں۔ طعام لفیف دو یا زیادہ اقسام سے ملا ہوا کھان۔ لفافۃ لپیٹ کا کپڑا۔ لف الثوب اس نے کپڑا لپیٹ دیا۔ لف والفاف (جمع) وہ باغ جن کے درخت گھنے ہوں اور درختوں کی شاخیں پیچ در پیچ باہم گتھی ہوئی ہوں۔ قرآن مجید میں آیا ہے وجنت الفافا۔ (78:16) اور گھنے گھنے گنجان اور باہم ملے ہوئے باغ ہیں۔ جئنا بکم لفیفا۔ ہم تم سب کو جمع کر کے لے آئیں گے۔ لفیفا ضمیر کم سے حال ہے۔ وعد الاخرۃ۔ ای قیام الساعۃ۔ قیامت۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی اچھے برے مومن کافر سب کو حشر کے میدان میں جمع کریں گے تاکہ ان کا دائمی فیصلہ کردیا جائے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس کے ساتھیوں کی غرقابی کے بعد اللہ تعالیٰ کا بنی اسرائیل کو حکم۔ اللہ تعالیٰ نے اسی سورة میں فرمایا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عنایت کی اور اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کا سرچشمہ قرار دیا۔ جس میں پہلا حکم یہ تھا کہ میرے سوا کسی کو اپنا کارساز اور مشکل کشا نہ سمجھنا۔ سورة البقرۃ آیت ٨٣، ٨٤ میں اس فرمان کی تفصیل ہے ” ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کی خیر خواہی کرنا، لوگوں کو اچھی بات کہنا، نماز قائم کرنا اور زکٰو ۃ ادا کرنا۔ لیکن تھوڑے لوگوں کے سوابنی اسرائیل کی اکثریت نے اس عہد سے منہ پھیرلیا “ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم بھی دیا تھا کہ آپس میں کشت وخون کرنے سے بچنا اور کمزور لوگوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالنا۔ بنی اسرائیل نے وعدہ کیا اور وہ اس پر گواہ ہیں۔ اس فرمان کے بعد انہیں یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ تم ضرور پہلے کی طرح ملک میں فساد اور انتہا درجے کی سرکشی کرو گے۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق پہلی مرتبہ تم پر اپنے سخت گیر بندے مسلط کرے گا۔ جو اس قدر سخت گیر ہوں گے کہ تمہیں قتل کرنے کے لیے تمہارے گھروں میں گھس جائیں گے۔ دوسری مرتبہ اپنے ایسے بندے تم پر غالب کرے گا کہ جو مار مار کر تمہارے چہرے بگاڑ دیں گے۔ یہاں تک کہ مسجد اقصیٰ کی بےحرمتی کریں گے۔ تفصیل جاننے کے لیے اسی سورة کی آیت ٢ تا ٨ اور بنی اسرائیل کی آیت ٥ تا ٧ کی تلاوت کریں۔ دنیا کی اس سز ا کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آخرت میں جمع کرے گا جس میں ہر کسی کا پورا پور احساب چکادیا جائے گا۔ مسائل ١۔ فرعون اور اس کے لشکر کی ہلاکت کے بعد بنی اسرائیل کو ان کی زمین کا وارث بنایا گیا۔ ٢۔ قیامت کے دن سبھی لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا۔ فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کو ان کی عزت رفتہ کا حوالہ دیتے ہوئے آخرت کا خوف دلاکر قرآن مجید کی دعوت، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور منصب کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل کے آغاز میں معراج کا ذکر فرماکر اہل مکہ کو بین السطور یہ سمجھایا گیا کہ تم جس قد رچاہو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرلو۔ لیکن غور کرو کہ واقعہ معراج میں تمہارے لیے یہ سبق ہے کہ پیغمبر اور اس کی امت کا مستقبل روشن ہے یہ دنیا اور آخرت میں اس قدر ترقی پائیں گے کہ اے نبی کے مخالفو ! تم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کا ذکر کیا اور بنی اسرئیل کو ان کا ماضی یادد لانے کے بعد مسلسل ایسی ہدایات اور احکام نازل فرمائے۔ جن میں کفار کے ساتھ گاہے بگاہے اہل کتاب کو بھی مخاطب کیا ہے۔ اب سورة کا اختتام کرنے سے پہلے کفار اور بنی اسرائیل دونوں کو بیک وقت مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ قرآن جو حق کا ترجمان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے یعنی اس کتاب اور اس کے نزول کے کسی مرحلہ میں باطل کی آمیزش کی رتی برابر گنجائش نہیں ہے۔ اے رسول ! جو لوگ اس حق کو مانتے ہیں۔ آپ ان کو خوشخبری کا پیغام سنائیں اور جو حق کو نہیں مانتے آپ ان کو ان کے انجام سے ڈرائیں یہی آپ کے منصب کا تقاضا اور آپ کی تبلیغ کا خلاصہ ہے۔ اسی خاطر قرآن مجید کو ہم نے یکبارگی نازل کرنے کی بجائے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ہے تاکہ آپ لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور سمجھائیں۔ مسائل ١۔ قرآن مجید کو حق کے ساتھ نازل کیا گیا۔ ٢۔ آپ کو خوشخبری دینے اور ڈرانے کے لیے بھیجا گیا۔ ٣۔ قرآن مجیدکو بتدریج نازل کیا گیا۔ ٤۔ قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

104 اور فرعون کے غرق ہونے کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو کہا کہ اب تم زمین مصر میں مالاکنہ حیثیت سے رہو سہو اور سکونت اختیار کرو پھر جب آخرت آئے گی اور آخرت کے وعدے کا ظہور ہوگا تو ہم تم سب کو جمع کر کے لا حاضر کریں گے۔ یعنی سر زمین مصر کا مالک بنی اسرائیل کو کردیا خواہ وہ اس میں ابھی آباد ہوجائیں یا کچھ عرصہ کے بعد آئیں۔ باقی یہ مالکیت یاداشت بنانا دنیا کی زندی میں ہے جب قیامت آئے گی تو ہم تم سب کو میدان حشر میں لاکھڑا کریں گے اور وہاں سب بحیثیت مملوک کے حاضر ہوں گے۔