And Sayyidna Anas (رض) has said that a child from the tribe of Bani ` Abd al-Muttalib, when able to say meaningful words, was taught to recite this verse by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Then he recited the verse: وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا And say, |"Praise belongs to Allah who has neither taken to Him a son, nor is there any partner to Him in His kingdom, nor is anyone [ needed ] to protect Him because of [ any ] weak-ness. And proclaim His greatness, an open proclamation|" - 111). (Mazhari) And Sayyidna Abu Hurairah (رض) has said that once he went out with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، in a manner that his hand was in Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) &s hands. He passed by a person who was disheveled and worried. He asked, &what brought you to this condition?& That person said, &sickness and poverty have done this to me.& He said, &I am going to tell you a few words. If you recite these, your sickness and poverty will go away. The words were: وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا I place my trust in the Ever Living who is not to die. Praise be-longs to Allah who has neither taken to Him a son, nor is there any partner to Him in His kingdom, nor is anyone (needed) to protect Him because of (any) weakness. And proclaim His greatness, an open proclamation. (17:111) After the passage of some time, when he went that way, he found his condition good and showed his pleasure about it. That person told him, &since the time you taught me these words, I recite them punctually.& (Abu Ya&la and Ibn al-Sunni, as quoted by Mazhari) The Tafslr of Surah Bani Isra’ i1 ends here With the help of Allah After al-` Isha, Jumada I, 1390 Hijrah Praised be Allah, from the beginning to the end. A personal postscript by the author While writing these lines, this humble servant of Allah has com¬pleted full seventy five years of his age on 21 Sha` ban, 1390 Hijrah. Year seventy-six opens amidst diseases of different kinds including the natu¬ral weakness that sets in at this age. Then there is the mass of things to do and problems to resolve. Who can look forward to the task of writing beyond this point for it would be hoping against hope. But, when it comes to the service of the Qur&an things become different. When some-one does something in the name of the Qur’ an, no matter how insignifi¬cant, it becomes for a servant of Allah a matter of good fortune and hon¬our. This thought led me to begin the Tafsir of Surah al-Kahf with the name of Allah. The idea was to take whatever it was possible to do dur¬ing the years of life left as sufficient and good enough, because the pur¬pose is not to finish the Qur&an, the purpose is to consume one&s years and energy into the Qur&an. And Allah is the Over of ability and the help¬er of the effort made in His way. (Abridged from the detailed note)
اور حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ بنی عبد المطلب میں جب کوئی بچہ زبان کھولنے کے قابل ہوجاتا تو اس کو آپ یہ آیت سکھا دیتے تھے (آیت) وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا (مظہری) اور حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں ایک روز میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ باہر نکلا اس طرح کہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا آپ کا گذر ایک ایسے شخص پر ہوا جو بہت شکستہ حال اور پریشان تھا آپ نے پوچھا کہ تمہارا یہ حال کیسے ہوگیا اس شخص نے عرض کیا کہ بیماری اور تنگدستی نے یہ حال کردیا آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں چند کلمات بتلاتا ہوں وہ پڑھو گے تو تمہاری بیماری اور تنگدسی جاتی رہے گی وہ کلمات یہ تھے۔ (توکلت علی الحی الذی لا یموت الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا الآیۃ) اس کے کچھ عرصہ بعد پھر آپ اس طرف تشریف لے گئے تو اس کو اچھے حال میں پایا آپ نے خوشی کا اظہار فرمایا اس نے عرض کیا کہ جب سے آپ نے مجھے یہ کلمات بتلائے تھے میں پابندی سے ان کو پڑھتا ہوں (ابویعلی و ابن سنی از مظہری) تم تفسیر سورة بنی اسرائیل بعون اللہ وحمدہ بعد العشاء لعاشر جمادی الاولی ١٩٩٠ ھ فالحمد اللہ اولہ واخرہ۔ عرض حال از مؤ لف : آج ٢٩ شعبان ١٣٩٠ ھ یوم السبت میں بحمد اللہ معارف القرآن کے مسودہ پر نظر ثانی بھی مکمل ہوگئی ہے اب یہ نصف قرآن کریم کی تفسیر حق تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے پوری کرا دی جس کی بظاہر اسباب کوئی امید نہیں تھی کیونکہ رمضان ١٣٨٨ ھ کے آخر میں یہ ناکارہ ایسے مختلف امراض میں مبتلا ہوا کہ تقریبا ایک سال تو بستر ہی پر موت وحیات کی کشمکس میں گذرا اس وقت مجبوری و معذوری کے عالم میں بار بار یہ حسرت ہوتی تھی کہ بعض تصانیف کے مسودات جو قریب تکمیل تھے کاش ان کی تکمیل ہوجاتی معارف القرآن کے نام سے جو درس قرآن عرصہ دراز تک ریڈیو پاکستان سے نشر ہوتا رہا بہت سے دوستوں کے تقاضہ سے اس پر نظر ثانی اور درمیان سے باقی رہی ہوئی آیات کی تفسیر تکمیل کا جو سلسلہ چل رہا تھا کسی طرح اس کی تکمیل ہوجاتی اسی طرح سیدی حضرت حکیم الامت تھانوی قدس سرہ نے قرآن کریم کی دو منزلیں پانچویں اور چھٹی کے احکام القرآن بزبان عربی لکھنے کے لئے احقر کو مامور فرمایا تھا اس کا بھی آخری حصہ لکھنے سے باقی رہ گیا تھا موت وحیات کی کشمکش اٹھنے بیٹھنے سے معذوری ہی کے عالم میں شاید اس حسرت نایافت کی شنوائی بارگاہ رب العزت میں ہوگئی اور یہ خیال غالب آیا کہ جو کچھ جتنا بن پڑے وہ کام کرلیا جائے یہ فکر چھوڑ دی جائے کہ جو رہ جائے گا اس کا کیا ہوگا اس خیال نے ایک عزم کی صورت اختیار کرلی بستر پر لیٹے ہوئے ہی تفسیر پر نظر ثانی اور احکام القرآن کی تکممیل کا کام شروع کردیا۔ عجائب قدرت سے ہے کہ اس بیماری کے زمانے میں کام اتنی سرعت سے چلا کہ تندرستی میں بھی یہ رفتار نہ تھی اور پھر شاید اسی کی برکت سے حق تعالیٰ نے ان معذور و مجبور کو دینے والے امراض سے شفاء بھی فرما دی اور ایک حد تک تندرستی کی صورت حاصل ہوگئی تو اب وقت کی قدر پہچانی اور ان کاموں پر بقدر استطاعت وقت صرف کیا یہ محض حق تعالیٰ کا فضل و انعام ہی تھا کہ احکام القرآن کی دونوں منزلوں کی تکمیل بھی ہوگئی اور اسی عرصہ میں یہ دونوں جلدیں چھپ کر شائع بھی ہوگئی اور تفسیر معارف القرآن کی دو جلدیں سورة نساء تک چھپ کر شائع ہوگئی ہیں تیسری جلد سورة اعراف تک زیر طباعت ہے اور آج نصف قرآن کے مسودہ تفسیر پر نظر ثانی کی بھی تکمیل ہوگئی (فللہ الحمد اولہ وآخرہ) اس وقت جبکہ یہ سطور زیر تحریر ہیں احقر ناکارہ کی عمر کے ٧٥ سال پورے ہو کر ٢١ شعبان ١٣٩٠ ھ کو عمر کی چھیترویں منزل شروع ہوگئی مختلف امراض میں ابتلاء ضعف طبعی اس پر مشاغل و افکار کا ہجوم ہے اب آگے کسی تصنیف و تالیف کی توقع رکھنا امید موہوم سے زائد کچھ نہیں ہوسکتا لیکن خدمت قرآن کے نام پر خامہ فرسائی کتنی ہی ناقص در ناقص خدمت ہو لکھنے والے کے لئے سعادت ہی سعادت ہے اس خیال نے اس پر آمادہ کردیا کہ سورة کہف کی تفسیر بھی بنام خدا تعالیٰ شروع کردی جائے اور بقیہ عمر میں جو کچھ ہو سکے اس کو غنیمت سمجھا جائے کیونکہ مقصد قرآن ختم کرنا نہیں قرآن میں اپنی عمر و توانائی ختم کرنا ہے واللہ الموفق و المعین۔ سورة بنی اسرائیل ختم شد