Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 111

سورة بنی اسراءیل

وَ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ لَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ کَبِّرۡہُ تَکۡبِیۡرًا ﴿۱۱۱﴾٪  12

And say, "Praise to Allah , who has not taken a son and has had no partner in [His] dominion and has no [need of a] protector out of weakness; and glorify Him with [great] glorification."

اور یہ کہہ دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے نہ اپنی بادشاہت میں کسی کو شریک ساجھی رکھتا ہے اور نہ وہ کمزور ہے کہ اسے کسی حمایتی کی ضرورت ہو اور تو اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتا رہ ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا ... And say: "All the praises and thanks be to Allah, Who has not begotten a son..." because Allah has stated that the Most Beautiful Names belong to Him, and has declared Himself to be above having any faults or defects. وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَم يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ ... And say: "All the praises and thanks be to Allah, Who has not begotten a son, and Who has no partner in (His) dominion..." indeed, He is Allah, (the) One, the Self-Sufficient Master, Who begets not, nor was He begotten, and there is none co-equal or comparable unto Him. ... وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلَّ ... nor He is low to have a supporter. means, He is not so humble or weak that He needs to have a helper or supporter or adviser, rather He Alone, with no partner or associate, may He be exalted, is the Creator of all things and is the One Who is running and controlling them by His will, with no partner or associate. Mujahid said: He does not form an alliance with anyone, nor does He seek the support or help of anyone. ... وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا And magnify Him with all magnificence. means, glorify and extol Him far above whatever the transgressors and aggressors say. Ibn Jarir recorded that Al-Qurazi used to say about this Ayah, وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا (And say: "All the praises and thanks be to Allah, Who has not begotten a son...") that the Jews and Christians said that Allah has taken a son; the Arabs said, "At Your service, You have no partner except the partner You have, and You possess him and whatever he owns;" and the Sabians and Magians said, "If it were not for the supporters of Allah, He would be weak." Then Allah revealed this Ayah: وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَم يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلَّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا And say: "All the praises and thanks be to Allah, Who has not begotten a son, and Who has no partner in (His) dominion, nor is He low to have a supporter. And magnify Him with all magnificence." This is the end of the Tafsir of Surah Al-Isra'. All praise is due to Allah, He is for us, the most excellent Trustee.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣٠] کیا اللہ کو کسی اور مددگار کی ضرورت ہے ؟ اس آیت میں مشرکین کے اس بنیادی عقیدے کی تردید کی گئی ہے جس کی بنا پر کئی قسم کا شرک رائج ہوگیا ہے۔ اور پھر عقیدہ یہ ہے کہ جس طرح ایک بادشاہ کو اپنا انتظام سلطنت چلانے کے لئے امیروں وزیروں اور کئی طرح کے مددگاران کی احتیاج ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح اللہ کو اتنی بڑی سلطنت کا کاروبار چلانے کے لئے کارکنوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اور ہماری یہ دیویاں اور دیوتا & غوث & قطب & ابدال وغیرہ سب اس انتظام کے مختلف شعبے سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ ہے وہ بنیادی گمراہی جس نے بیشمار قسموں کے شرک کو جنم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بےہودہ عقیدہ کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ نہ اسے اس وقت کسی شریک کی احتیاج ہے اور نہ آئندہ ہوگی کہ وہ کسی کو بیٹا بنالے جو ناتوانی میں اس کا معاون ثابت ہو۔ اسے تخلیق کائنات کے وقت بھی کسی کو مددگار بنانے کی ضرورت پیش نہیں آئی نہ ہی اس کائنات کا انتظام چلانے کے لئے ضرورت ہے اور نہ ہی ایسی ضرورت آئندہ کبھی پیش آسکتی ہے۔ وہ ہر ایک کی فریاد پکار براہ راست سنتا ہے & ان کا جواب دیتا اور شرف قبولیت بخشتا ہے۔ اسے درمیانی واسطوں کی قطعا ضرورت نہیں ہے۔ اس کے پاس ہر چیز کے لاتعداد اور غیر محدود خزانے ہیں۔ جن سے وہ ہر وقت اپنی مخلوق کو نوازتا ہے اور جو کچھ بھی اس سے مانگا جائے وہ عطا کرتا ہے۔ بشرطیکہ دعا کے آداب کو ملحوظ رکھا جائے۔ گویا اس آیت میں اہل کتاب & مشرکین مکہ موجودہ دور کے مشرکوں سب کا رد موجود ہے اور جس معبود میں مندرجہ بالا صفات پائی جائیں وہ معبود حقیقی ہوسکتا ہے لہذا ہر طرح کی تعریف اسی ذات کو لائق ہے۔ آپ اس کی تعریف کیا کیجئے اور اسی کی بڑائی بیان کیا کیجئے۔ اس سورة بنی اسرائیل کی ابتدا سبحان الذی سے ہوئی اور تسبیح سے مراد اللہ کی تمام عیوب اور نقائص یعنی صفات سلبیہ سے تنزیہہ بیان کرنا ہے۔ پھر اس سورة کا خاتمہ بھی اس بیان پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ اولاد & شرکاء اور حمائتیوں کی کسی طرح کی بھی مدد کا محتاج نہیں۔ اور یہ فصاحت و بلاغت کے انتہائی کمال کی دلیل ہوتی ہے کہ مضمون کو جس عنوان سے شروع کیا جائے۔ درمیان میں اس کی جملہ تفصیلات بیان کرنے کے بعد اس کا خاتمہ بھی اسی بیان پر کیا جائے جس سے اس کی ابتدا کی گئی تھی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا ۔۔ : یعنی ہر خوبی جس کی تعریف ہوسکتی ہے، خواہ وہ صفت جمال ہو یا جلال یا کمال، صرف اللہ کے لیے ہے۔ اس کے سوا کسی اور میں کوئی خوبی ہے تو اسی کی عطا کردہ ہے، اس لیے وہ بھی اسی کی خوبی ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس کے سوا کوئی خواہ کتنا ہی بڑا ہے یا تو اولاد کا محتاج ہے، کیونکہ اسے بوڑھا ہونا اور فوت ہونا ہے، اس لیے زندگی میں اسے مدد کے لیے اور مرنے کے بعد وارث کے طور پر اولاد کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا، وہی سب کا وارث ہے، وہ اولاد کی محتاجی سے پاک ہے۔ پھر والد اور اولاد ایک جنس سے ہوتے ہیں، اگر اس کی اولاد ہو تو اس کا ” وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ “ ہونا باقی نہیں رہتا۔ پھر ایک جیسے دو یا کئی الٰہ ماننا پڑیں گے، جس کا نتیجہ سورة انبیاء (٢٢) میں مذکور ہے۔ ” لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا “ میں یہود و نصاریٰ کا رد ہوگیا جو عزیر یا مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا مانتے تھے اور مشرکین عرب کا بھی جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور اسلام کے پردے میں چھپے ہوئے ان لوگوں کا بھی جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یا علی، فاطمہ اور حسن و حسین (رض) کو اللہ کے ذاتی نور کا ٹکڑا سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں ؂ خدا کے نور سے پیدا ہوئے پانچوں تن محمد است و علی، فاطمہ، حسن و حسین یا پھر اللہ کے سوا جو بھی ہے وہ اکیلا ہر کام سرانجام نہیں دے سکتا، اس لیے بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی اپنے ولی عہد یا وزیر و مشیر کو حکومت میں شریک کرنا پڑتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اکیلا ہی پوری کائنات کا ایسا بادشاہ ہے جسے کسی شریک کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح اس کے سوا ہر ایک کی زندگی میں ایسا مرحلہ آتا ہے جب اسے اپنی کمزوری یا عاجزی کی وجہ سے کسی مددگار اور حمایتی کی ضرورت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ عزیز ہے، سب پر غالب ہے، نہ اسے کوئی کمزوری یا بےبسی لاحق ہوتی ہے، نہ کوئی ایسا ہے جو اس کی بےبسی اور عاجزی میں اس کا پشت پناہ بنے۔ اللہ نے فرمایا کہ اے نبی ! اور اے ہر مخاطب ! تو اللہ تعالیٰ کے ہر خوبی اور ہر تعریف کے مالک ہونے کا اعلان کر دے، کیونکہ اس میں یہ تینوں کمزوریاں نہیں ہیں اور اس کی بڑائی جتنی ہوسکتی ہے زیادہ سے زیادہ بیان کر۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت جامع آیت ہے، جس میں اللہ کی حمد، تسبیح، تہلیل اور تکبیر تمام چیزیں دلیل کے ساتھ ذکر ہوئی ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

And Sayyidna Anas (رض) has said that a child from the tribe of Bani ` Abd al-Muttalib, when able to say meaningful words, was taught to recite this verse by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Then he recited the verse: وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِ‌يكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْ‌هُ تَكْبِيرً‌ا And say, |"Praise belongs to Allah who has neither taken to Him a son, nor is there any partner to Him in His kingdom, nor is anyone [ needed ] to protect Him because of [ any ] weak-ness. And proclaim His greatness, an open proclamation|" - 111). (Mazhari) And Sayyidna Abu Hurairah (رض) has said that once he went out with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، in a manner that his hand was in Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) &s hands. He passed by a person who was disheveled and worried. He asked, &what brought you to this condition?& That person said, &sickness and poverty have done this to me.& He said, &I am going to tell you a few words. If you recite these, your sickness and poverty will go away. The words were: وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِ‌يكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْ‌هُ تَكْبِيرً‌ا I place my trust in the Ever Living who is not to die. Praise be-longs to Allah who has neither taken to Him a son, nor is there any partner to Him in His kingdom, nor is anyone (needed) to protect Him because of (any) weakness. And proclaim His greatness, an open proclamation. (17:111) After the passage of some time, when he went that way, he found his condition good and showed his pleasure about it. That person told him, &since the time you taught me these words, I recite them punctually.& (Abu Ya&la and Ibn al-Sunni, as quoted by Mazhari) The Tafslr of Surah Bani Isra’ i1 ends here With the help of Allah After al-` Isha, Jumada I, 1390 Hijrah Praised be Allah, from the beginning to the end. A personal postscript by the author While writing these lines, this humble servant of Allah has com¬pleted full seventy five years of his age on 21 Sha` ban, 1390 Hijrah. Year seventy-six opens amidst diseases of different kinds including the natu¬ral weakness that sets in at this age. Then there is the mass of things to do and problems to resolve. Who can look forward to the task of writing beyond this point for it would be hoping against hope. But, when it comes to the service of the Qur&an things become different. When some-one does something in the name of the Qur’ an, no matter how insignifi¬cant, it becomes for a servant of Allah a matter of good fortune and hon¬our. This thought led me to begin the Tafsir of Surah al-Kahf with the name of Allah. The idea was to take whatever it was possible to do dur¬ing the years of life left as sufficient and good enough, because the pur¬pose is not to finish the Qur&an, the purpose is to consume one&s years and energy into the Qur&an. And Allah is the Over of ability and the help¬er of the effort made in His way. (Abridged from the detailed note)

اور حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ بنی عبد المطلب میں جب کوئی بچہ زبان کھولنے کے قابل ہوجاتا تو اس کو آپ یہ آیت سکھا دیتے تھے (آیت) وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا (مظہری) اور حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں ایک روز میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ باہر نکلا اس طرح کہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا آپ کا گذر ایک ایسے شخص پر ہوا جو بہت شکستہ حال اور پریشان تھا آپ نے پوچھا کہ تمہارا یہ حال کیسے ہوگیا اس شخص نے عرض کیا کہ بیماری اور تنگدستی نے یہ حال کردیا آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں چند کلمات بتلاتا ہوں وہ پڑھو گے تو تمہاری بیماری اور تنگدسی جاتی رہے گی وہ کلمات یہ تھے۔ (توکلت علی الحی الذی لا یموت الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا الآیۃ) اس کے کچھ عرصہ بعد پھر آپ اس طرف تشریف لے گئے تو اس کو اچھے حال میں پایا آپ نے خوشی کا اظہار فرمایا اس نے عرض کیا کہ جب سے آپ نے مجھے یہ کلمات بتلائے تھے میں پابندی سے ان کو پڑھتا ہوں (ابویعلی و ابن سنی از مظہری) تم تفسیر سورة بنی اسرائیل بعون اللہ وحمدہ بعد العشاء لعاشر جمادی الاولی ١٩٩٠ ھ فالحمد اللہ اولہ واخرہ۔ عرض حال از مؤ لف : آج ٢٩ شعبان ١٣٩٠ ھ یوم السبت میں بحمد اللہ معارف القرآن کے مسودہ پر نظر ثانی بھی مکمل ہوگئی ہے اب یہ نصف قرآن کریم کی تفسیر حق تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے پوری کرا دی جس کی بظاہر اسباب کوئی امید نہیں تھی کیونکہ رمضان ١٣٨٨ ھ کے آخر میں یہ ناکارہ ایسے مختلف امراض میں مبتلا ہوا کہ تقریبا ایک سال تو بستر ہی پر موت وحیات کی کشمکس میں گذرا اس وقت مجبوری و معذوری کے عالم میں بار بار یہ حسرت ہوتی تھی کہ بعض تصانیف کے مسودات جو قریب تکمیل تھے کاش ان کی تکمیل ہوجاتی معارف القرآن کے نام سے جو درس قرآن عرصہ دراز تک ریڈیو پاکستان سے نشر ہوتا رہا بہت سے دوستوں کے تقاضہ سے اس پر نظر ثانی اور درمیان سے باقی رہی ہوئی آیات کی تفسیر تکمیل کا جو سلسلہ چل رہا تھا کسی طرح اس کی تکمیل ہوجاتی اسی طرح سیدی حضرت حکیم الامت تھانوی قدس سرہ نے قرآن کریم کی دو منزلیں پانچویں اور چھٹی کے احکام القرآن بزبان عربی لکھنے کے لئے احقر کو مامور فرمایا تھا اس کا بھی آخری حصہ لکھنے سے باقی رہ گیا تھا موت وحیات کی کشمکش اٹھنے بیٹھنے سے معذوری ہی کے عالم میں شاید اس حسرت نایافت کی شنوائی بارگاہ رب العزت میں ہوگئی اور یہ خیال غالب آیا کہ جو کچھ جتنا بن پڑے وہ کام کرلیا جائے یہ فکر چھوڑ دی جائے کہ جو رہ جائے گا اس کا کیا ہوگا اس خیال نے ایک عزم کی صورت اختیار کرلی بستر پر لیٹے ہوئے ہی تفسیر پر نظر ثانی اور احکام القرآن کی تکممیل کا کام شروع کردیا۔ عجائب قدرت سے ہے کہ اس بیماری کے زمانے میں کام اتنی سرعت سے چلا کہ تندرستی میں بھی یہ رفتار نہ تھی اور پھر شاید اسی کی برکت سے حق تعالیٰ نے ان معذور و مجبور کو دینے والے امراض سے شفاء بھی فرما دی اور ایک حد تک تندرستی کی صورت حاصل ہوگئی تو اب وقت کی قدر پہچانی اور ان کاموں پر بقدر استطاعت وقت صرف کیا یہ محض حق تعالیٰ کا فضل و انعام ہی تھا کہ احکام القرآن کی دونوں منزلوں کی تکمیل بھی ہوگئی اور اسی عرصہ میں یہ دونوں جلدیں چھپ کر شائع بھی ہوگئی اور تفسیر معارف القرآن کی دو جلدیں سورة نساء تک چھپ کر شائع ہوگئی ہیں تیسری جلد سورة اعراف تک زیر طباعت ہے اور آج نصف قرآن کے مسودہ تفسیر پر نظر ثانی کی بھی تکمیل ہوگئی (فللہ الحمد اولہ وآخرہ) اس وقت جبکہ یہ سطور زیر تحریر ہیں احقر ناکارہ کی عمر کے ٧٥ سال پورے ہو کر ٢١ شعبان ١٣٩٠ ھ کو عمر کی چھیترویں منزل شروع ہوگئی مختلف امراض میں ابتلاء ضعف طبعی اس پر مشاغل و افکار کا ہجوم ہے اب آگے کسی تصنیف و تالیف کی توقع رکھنا امید موہوم سے زائد کچھ نہیں ہوسکتا لیکن خدمت قرآن کے نام پر خامہ فرسائی کتنی ہی ناقص در ناقص خدمت ہو لکھنے والے کے لئے سعادت ہی سعادت ہے اس خیال نے اس پر آمادہ کردیا کہ سورة کہف کی تفسیر بھی بنام خدا تعالیٰ شروع کردی جائے اور بقیہ عمر میں جو کچھ ہو سکے اس کو غنیمت سمجھا جائے کیونکہ مقصد قرآن ختم کرنا نہیں قرآن میں اپنی عمر و توانائی ختم کرنا ہے واللہ الموفق و المعین۔ سورة بنی اسرائیل ختم شد

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا ١١١۝ۧ حمد الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود : إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] ، يصحّ أن يكون في معنی المحمود، وأن يكون في معنی الحامد، وحُمَادَاكَ أن تفعل کذا «3» ، أي : غایتک المحمودة، وقوله عزّ وجل : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] ، فأحمد إشارة إلى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم باسمه وفعله، تنبيها أنه كما وجد اسمه أحمد يوجد وهو محمود في أخلاقه وأحواله، وخصّ لفظة أحمد فيما بشّر به عيسى صلّى اللہ عليه وسلم تنبيها أنه أحمد منه ومن الذین قبله، وقوله تعالی: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ [ الفتح/ 29] ، فمحمد هاهنا وإن کان من وجه اسما له علما۔ ففيه إشارة إلى وصفه بذلک وتخصیصه بمعناه كما مضی ذلک في قوله تعالی: إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] ، أنه علی معنی الحیاة كما بيّن في بابه «4» إن شاء اللہ . ( ح م د ) الحمدللہ ( تعالیٰ ) کے معنی اللہ تعالے کی فضیلت کے ساتھ اس کی ثنا بیان کرنے کے ہیں ۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے کیونکہ مدح ان افعال پر بھی ہوتی ہے جو انسان سے اختیاری طور پر سرزد ہوتے ہیں اور ان اوصاف پر بھی جو پیدا کشی طور پر اس میں پائے جاتے ہیں چناچہ جس طرح خرچ کرنے اور علم وسخا پر انسان کی مدح ہوتی ہے اس طرح اسکی درازی قدو قامت اور چہرہ کی خوبصورتی پر بھی تعریف کی جاتی ہے ۔ لیکن حمد صرف افعال اختیار یہ پر ہوتی ہے ۔ نہ کہ اوصاف اضطرار ہپ پر اور شکر تو صرف کسی کے احسان کی وجہ سے اس کی تعریف کو کہتے ہیں ۔ لہذا ہر شکر حمد ہے ۔ مگر ہر شکر نہیں ہے اور ہر حمد مدح ہے مگر ہر مدح حمد نہیں ہے ۔ اور جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہا جاتا ہے ۔ مگر محمد صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو کثرت قابل ستائش خصلتیں رکھتا ہو نیز جب کوئی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے ۔ میں حمید بمعنی محمود بھی ہوسکتا ہے اور حامد بھی حماد اک ان تفعل کذا یعنی ایسا کرنے میں تمہارا انجام بخیر ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتاہوں ۔ میں لفظ احمد سے آنحضرت کی ذات کی طرف اشارہ ہے اور اس میں تنبیہ ہے کہ جس طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام احمد ہوگا اسی طرح آپ اپنے اخلاق واطوار کے اعتبار سے بھی محمود ہوں گے اور عیٰسی (علیہ السلام) کا اپنی بشارت میں لفظ احمد ( صیغہ تفضیل ) بولنے سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کے بیشتر وجملہ انبیاء سے افضل ہیں اور آیت کریمہ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ [ الفتح/ 29] محمد خدا کے پیغمبر ہیں ۔ میں لفظ محمد گومن وجہ آنحضرت کا نام ہے لیکن اس میں آنجناب کے اوصاف حمیدہ کی طرف بھی اشنار پایا جاتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ : إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] میں بیان ہوچکا ہے کہ ان کا یہ نام معنی حیات پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ اس کے مقام پرند کو ہے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ ولد الوَلَدُ : المَوْلُودُ. يقال للواحد والجمع والصّغير والکبير . قال اللہ تعالی: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] ( و ل د ) الولد ۔ جو جنا گیا ہو یہ لفظ واحد جمع مذکر مونث چھوٹے بڑے سب پر بولاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] اور اگر اولاد نہ ہو ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔ ملك المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور، وذلک يختصّ بسیاسة الناطقین، ولهذا يقال : مَلِكُ الناسِ ، ولا يقال : مَلِك الأشياءِ ، وقوله : مَلِكِ يومِ الدّين [ الفاتحة/ 3] فتقدیره : الملک في يوم الدین، ( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے یہی وجہ ہے کہ ملک امن اس تو کہا جاتا ہے لیکن ملک الاشیاء کہنا صحیح نہیں ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ مَلِكِ يومِ الدّين [ الفاتحة/ 3] انصاف کے دن کا حاکم ۔ میں ملک کی اضافت یوم کی طرف نہیں ہے بلکہ یہ اسل میں ملک الملک فی یوم دین ہے ۔ یعنی قیامت کے دن اسی کی بادشاہت ہوگی ۔ ذُّلُّ متی کان من جهة الإنسان نفسه لنفسه فمحمود، نحو قوله تعالی: أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ [ المائدة/ 54] ، وقال : وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ [ آل عمران/ 123] ، وقال : فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا [ النحل/ 69] ، أي : منقادة غير متصعّبة، قال تعالی: وَذُلِّلَتْ قُطُوفُها تَذْلِيلًا[ الإنسان/ 14] ، أي : سهّلت، وقیل : الأمور تجري علی أذلالها «1» ، أي : مسالکها وطرقها . ذل پھر اگر انسان کی ذلت خود اس کے اپنے اختیار وار اور سے ہو تو وہ محمود سمجھی جاتی ہے جیسا کہ قرآن نے مومنین کی مدح کرتے ہوئے فرمایا : : أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ [ المائدة/ 54] جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں ۔ وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ [ آل عمران/ 123] اور خدا نے جنگ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تو تم بےسرو سامان تھے ۔ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا[ النحل/ 69] یعنی بغیر کسی قسم سر کشی کے نہایت مطیع اور منقاد ہوکر اپنے پر وردگاڑ کے صرف راستوں پر چلی جا اور آیت کریمہ : وَذُلِّلَتْ قُطُوفُها تَذْلِيلًا[ الإنسان/ 14] کے معنی یہ ہیں کہ وہ گچھے اس طرح جھکے ہوئے ہوں گے کہ ان کو نہایت آسانی سے توڑ سکیں گے محاورہ ہے ۔ ( مثل ) کہ تمام امور اپنے راستوں پر اور حسب مواقع جاری ہیں ۔ ( کبر) تَّكْبِيرُ والتَّكْبِيرُ يقال لذلک، ولتعظیم اللہ تعالیٰ بقولهم : اللہ أَكْبَرُ ، ولعبادته واستشعار تعظیمه، وعلی ذلك : وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلى ما هَداكُمْ [ البقرة/ 185] ، وَكَبِّرْهُ تَكْبِيراً [ الإسراء/ 111] ، وقوله : لَخَلْقُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ [ غافر/ 57] فهي إشارة إلى ما خصّهما اللہ تعالیٰ به من عجائب صنعه، وحکمته التي لا يعلمها إلّا قلیل ممّن وصفهم بقوله : وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ آل عمران/ 191] فأمّا عظم جثّتهما فأكثرهم يعلمونه . وقوله : يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرى[ الدخان/ 16] فتنبيه أنّ كلّ ما ينال الکافر من العذاب قبل ذلک في الدّنيا وفي البرزخ صغیر في جنب عذاب ذلک الیوم . التکبیر ( تفعیل ) اس کے ) ایک معنی تو کسی کو بڑا سمجھنے کے ہیں ۔ اور دوم اللہ اکبر کہہ کر اللہ تعالیٰ کی عظمت کو ظاہر کرنے پر بولاجاتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی عظمت کا احساس ر کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلى ما هَداكُمْ [ البقرة/ 185] اور اس احسان کے بدلے کو خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کرو ۔۔ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيراً [ الإسراء/ 111] اور اس کو بڑا جان کر اس کی بڑائی کرتے رہو ۔ اور آیت : لَخَلْقُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ [ غافر/ 57] آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کر نا لوگوں کے پیدا کرنے کی نسبت بڑا کام ہے ۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ میں اکبر کا لفظ سے قدرت الہی کی کاریگری اور حکمت کے ان عجائب کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ جو آسمان اور زمین کی خلق میں پائے جاتے ہیں ۔ اور جن کو کہ وہ خاص لوگ ہی جان سکتے ہیں ۔ جن کی وصف میں فرمایا ۔ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ آل عمران/ 191] اور آسمان اور زمین پیدا ئش میں غور کرتے ہیں ۔ ور نہ ان کی ظاہری عظمت کو تو عوام الناس بھی سمجھتے ہیں ( اس لئے یہ معنی یہاں مراد نہیں ہیں ) اور آیت : يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرى[ الدخان/ 16] جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ روز قیامت سے پہلے دنیا یا علم برزخ میں کافر کو جس قد ر بھی عذاب ہوتا ہے عذاب آخرت کے مقابلہ میں ہیچ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١١) اور فرما دیجیے کہ تمام خوبیاں اور شکر اور خدائی اسی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے کہ جو نہ فرشتوں اور نہ انسانوں میں سے کوئی اولاد رکھتا ہے کہ اس کی بادشاہت کا نعوذ باللہ وہ مالک بنے اور نہ اس کا سلطنت میں کوئی شریک ہے کہ اس کی معاذ باللہ مخالفت کرسکے اور نہ ان ذلیلوں یعنی یہود و نصاری میں سے کوئی اس کا مددگار ہے کیوں کہ یہ ذلیل ترین لوگ ہیں یا یہ کہ نہ کمزوری کی وجہ سے اب یہود نصاری اور مشرکین وغیرہ میں سے کوئی اس کا مددگار ہے اور یہود و نصاری اور مشرکین وغیرہ کی جو کہ احکم الحاکمین کے شریک اور اس کے دربار میں سفارشی تجویز کرتے ہیں، علیحدگی اختیار کیجیے اور اس ذات کی خوب بڑائیاں بیان کیجیے۔ شان نزول : ( آیت ) ”۔ وقل الحمدللہ الذی “۔ (الخ) ابن جریررحمۃ اللہ علیہ نے محمد بن کعب قرظی (رض) سے سے روایت کیا ہے کہ یہود اور عیسائی اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے عرب حج میں یہ کہتے تھے۔ لبیک لا شریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وما ملک “۔ (الخ) یعنی نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کا ایک شریک ٹھہراتے تھے اور ستاروں کے بچاری اور آتش پرست کہتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے مددگار نہ ہوتے تو معاذ باللہ اللہ تعالیٰ کمزور ہوجاتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی اور کہہ دیجیے کہ تمام خوبیاں اسی اللہ کے لیے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے اور نہ اس کا کوئی سلطنت میں شریک ہے اور نہ کمزوری کی وجہ سے کوئی اس کا مددگار ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١١ (وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ ) یہ آیت اپنے مضمون کے اعتبار سے سورة الاخلاص کی ہم وزن ہے۔ اس میں پانچ مختلف انداز میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور توحید کا بیان ہے۔ اس ضمن میں یہ پہلی بات ہے یعنی حضور کی زبان مبارک سے یہ اعلان کہ تمام تعریفیں اور ہر قسم کا شکر اللہ ہی کے لیے ہے۔ (الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا) یہ دوسری بات ہے جسے سورة الاخلاص میں (لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ ) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ (وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ ) تیسری بات اقتدار و اختیار سے متعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ تنہا ہرچیز کا مالک و مختار اور مالک الملک ہے۔ اس کے علاوہ کسی کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں۔ (وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ ) یہ چوتھی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دوستی کو اپنی دوستیوں پر قیاس مت کرو۔ تم تو دوستیاں اس لیے پالتے ہو کہ تم اپنے دوستوں کے محتاج ہوتے ہو۔ انسان دوست اس لیے بناتا ہے کہ وہ ضرورت کے وقت کام آئے گا۔ بعض دفعہ انسان اپنے کسی دوست کی انتہائی ناجائز بات صرف اس لیے ماننے پر مجبور ہوتا ہے کہ کل وہ میری بھی کوئی ضرورت پوری کرے گا۔ انسان کی یہی کمزوری اسے دوست بنانے اور دوستانہ تعلق نبھانے پر مجبور کرتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی تمام کمزوریوں سے پاک ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ سب اس کے محتاج ہیں۔ چناچہ اللہ کی دوستی کسی ضرورت کی بنیاد پر نہیں ہوتی اور نہ ہی اللہ کا کوئی دوست اس سے اپنی کوئی بات زبردستی منوا سکتا ہے۔ پانچویں اور آخری بات بہت اہم ہے : (وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا) یہ ترجمہ ( تکبیر کرو) بہت اہم اور توجہ طلب ہے۔ صرف زبان سے ” اللہ اکبر “ کہہ دینے سے اللہ کی تکبیر نہیں ہوجاتی اس کے لیے عملی طور پر بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ زبان سے اللہ اکبر کہنا تو تکبیر کا پہلا درجہ ہے کہ کسی نے زبان سے اقرار کرلیا کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اس کے بعد اہم اور کٹھن مرحلہ اپنے تمام انفرادی اور اجتماعی معاملات میں اللہ کو عملی طور پر بڑا کرنے کا ہے۔ یہ مرحلہ تب طے ہوگا جب ہمارے گھر میں بھی اللہ کو بڑا تسلیم کیا جائے گا اور گھر کے تمام معاملات میں اسی کی بات مانی جائے گی جب ہماری پارلیمنٹ میں بھی اس کی بڑائی کو تسلیم کیا جائے گا اور کوئی قانون اس کی شریعت کے خلاف نہیں بن سکے گا جب ہماری عدالتوں میں بھی اس کی بڑائی کا ڈنکا بجے گا اور تمام فیصلے اسی کے احکامات کی روشنی میں کیے جائیں گے۔ غرض جب تک ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اور ہر کہیں اس کا حکم آخری حکم کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا اللہ کی تکبیر کا حق ادا نہیں ہوگا۔ اللہ کے احکام کو عملی طور پر نافذ نہ کرنے والوں کے لیے سورة المائدۃ کا یہ حکم بہت واضح ہے : (ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ ۔ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ) ۔ آج ہم نے اللہ کو (نعوذ باللہ) اپنے تئیں مسجدوں میں بند کردیا ہے کہ اے اللہ آپ یہیں رہیں ہم یہیں پر آکر آپ کی تکبیر کے ترانے گائیں گے آپ کی تسبیح وتحمید کریں گے۔ لیکن مسجد سے باہر ہماری مجبوریاں ہیں۔ کیا کریں مارکیٹ میں مالی مفادات کے ہاتھوں مجبور ہیں گھر میں بیوی بڑی ہے کسی اور جگہ کوئی اور بڑا ہے۔ ایسے حالات میں ہمارے ہاں اللہ کی تکبیر کا مفہوم ہی بدل کر رہ گیا ہے اور اب تکبیر فقط دو الفاظ (اللہ اکبر) پر مشتمل ایک کلمہ ہے جسے زبان سے ادا کردیں تو گویا اللہ کی بڑائی کا حق ادا ہوجاتا ہے۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

125. A subtle sarcasm is implied in the sentence. The mushriks believed that Allah had appointed assistants and deputies for the administration of His kingdom. Obviously this meant that Allah was helpless and powerless to carry out the administration of His kingdom. Therefore, He needed supporters to help Him in the work of His Godhead. This sentence negates their false creeds, saying: He does not stand in need of any gods and saints in order to delegate to them the different departments of His Godhead or make them governors in different parts of His kingdom.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :125 اس فقرے میں ایک لطیف طنز ہے ان مشرکین کے عقائد پر جو مختلف دیوتاؤں اور بزرگ انسانوں کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ میاں نے اپنی خدائی کے مختلف شعبے یا اپنی سلطنت کے مختلف علاقے ان کے انتظام میں دے رکھے ہیں ۔ اس بیہودہ عقیدے کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی خود اپنی خدائی کا بار سنبھالنے سے عاجز ہے اس لیے وہ اپنے پشتیباں تلاش کر رہا ہے ۔ اسی بنا پر فرمایا گیا کہ اللہ عاجز نہیں ہے کہ اسے کچھ ڈپٹیوں اور مددگاروں کی حاجت ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

58:: بہت سے کافروں کا یہ خیال تھا کہ جس ذات کا نہ کوئی بیٹا ہو اور نہ اس کی سلطنت میں کوئی شریک ہو، وہ تو بڑی کمزور ذات ہوگی، اس آیت نے واضح فرمادیا کہ اولاد اور مددگاروں کی حاجت اس کو ہوتی ہے جو کمزور ہو، اور اللہ تعالیٰ کی ذات اتنی قوی ہے کہ اسے کمزوری دور کرنے کے لئے نہ کسی اولاد کی ضرورت ہے نہ کسی مددگار کی حاجت۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:111) من الذل اس میں من تعلیلیہ ہے۔ یعنی بوجہ ۔ بسبب۔ الذل۔ عاجزی کمزوری، تواضع۔ ذلت۔ جب دوسرے کے دبائو اور قہر کی بنا پر عاجزی ہو تو اس کو ذل کہتے ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ۔ (17:24) یعنی ان کے سامنے مقہورو مجبور ہو کر رہو۔ اور اگر بغیر کسی قہر وجبر کے خود اپنی سرکشی اور سخت گیری کے بعد جو ذلت حاصل ہو وہ ذل کہلاتی ہے کہتے ہیں۔ ذلت الدابۃ ذلا۔ منہ زوری کے بعد سواری کا مطیع ہونا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس زمانے میں نازل ہوئی جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں چھپ کر رہے تھے چناچہ جب آپ اپنی صحابہ کو نماز پڑھتے تو مشرکین قرآن کو اس کے اتارنے اور اس کے لانے والے کو گلیاں دیتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ بیچ کا لہجہ اختیار کیجیے تاکہ آپ کے ساتھی سن بھی سکیں اور مشرکین کو گالیاں دینے کا موقع نہ مل سکے۔ (بخاری مسلم) حضرت عائشہ نے اس آیت میں ’ دصلاۃ “ مراد دعا ہے۔ (بخاری)112 اس میں مشریکن کے اس بہبود عقیدہ کی تردید ہے کہ جس طرح دنیا کے بادشاہوں کو وزیروں، گورنروں اور مصاحبوں کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ ان کی سلطنت برقرار نہیں رہ سکتی اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی سلطنت کو برقرار رکھئے اور خود ذلت سے محفوظ رہنے کے لئے (فرشتوں، دیوتائوں اور اوتاروں کا محتاج ہے۔ (ولیعاذ باللہ)13 اس کو آیت ” عزہ “ کہا جاتا ہے اور صدر اول میں یہ آیت چھوٹے بچوں کو یاد کرائی جاتی تھی سوتے وقت اس کا پڑھنا آفتوں سے حافظت کا موجب بنتا ہے۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ سورت کو تسبیح سے شروع کیا اور تمجید اور تکبیر پر ختم کیا۔ پس سبحان اللہ والحمدللہ واللہ اکبر کے معانی پر فاتحہ اور خاتمہ ہوا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس سورة مبارکہ کی ابتداء ” سُبْحَانَ الَّذِیْ “ کے الفاظ سے ہوئی۔ جس کا معنیٰ ہے وہ ذات جو ہر قسم کے عیب، کمزوری اور شرک سے پاک ہے۔ سورة کا اختتام بھی اسی بات پر ہورہا ہے کہ اللہ وہ ہے جو ہر قسم کے شرک اور کمزوری سے پاک ہے۔ عربی گرائمر سے واقف حضرات جانتے ہیں کہ لفظ ” حمد “ کے ساتھ ” ال “ شامل ہو تو یہ استغراق کا فائدہ دیتا ہے۔ جس کا معنیٰ ہے کہ تمام قسم کی تعریفات اللہ کے لیے ہیں۔” حمد “ میں دوسرے کی ذات کی بڑائی اور اس کے احسانات کا احساس اور اعتراف پایا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی ابتداء میں انسان کو یہ تعلیم دی گئی ہے۔ کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے رب کی تعریف اور حمدو شکر کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اے انسان ! اشرف المخلوقات ہونے کے حوالے سے تجھے بھی ہر حال میں اپنے رب کا شکر گزار رہنا چاہیے۔ شکر گزار لوگ ہی اللہ کے تابع فرماں ہوتے ہیں۔ حمد کی فضلیت اور فرضیت کے پیش نظر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد ہوا ہے۔ کہ آپ دنیا والوں کو بتلائیں کہ ہر قسم کی حمدوستائش اللہ کے لیے ہے۔ جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ ہی اسکی بادشاہی میں کوئی شریک ہے۔ نہ اس میں کسی قسم کا ضعف اور کمزوری ہے۔ کہ جس بناء پر اسے کسی مددگار کی مدد کی ضرورت پیش آئے۔ وہ اپنی ذات اور صفات میں بڑا ہی بلندوبالا ہے۔ اس لیے اس کی بڑائی کا اعتراف اور تذکرہ کرتے رہیے۔ یہاں ہر قسم کے شرک کی نفی کرنے کے ساتھ ” اللہ “ کی کبریائی کے بیان اور اعتراف کا حکم دیا گیا ہے۔ یہی حکم سورة المدثر کی ابتدائی آیات میں ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہونے والی دوسری وحی ہے، اس کی تیسری آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنے رب کی کبریائی کا ذکر کیجیے۔ یاد رہے کہ انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا احساس پید اہوجائے۔ تو بیک وقت اس کے تین فائدے ہوتے ہیں۔ ١۔ انسان میں فخرو غرور کی بجائے انکساری اور عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ جس کی بناء پر آدمی کا اخلاق اور دوسروں کے ساتھ اس کا رویہ بہتر ہوتا ہے۔ ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ٢۔ انسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کی بجائے اسکی بارگاہ میں جھکتا ہے۔ ٣۔ مسلمان کے دل میں اللہ کی کبریائی کا تصور مضبوط ہوجائے تو مسلمان دشمن کے مقابلے میں بہادر ثابت ہوتا ہے۔ حمد وثناء کی فضیلت : (قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَفْضَلُ الْکَلاَمِ أَرْبَعٌ سُبْحَان اللَّہِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَاللَّہُ أَکْبَرُ ) [ رواہ البخاری : باب إِذَا قَالَ وَاللَّہِ لاَ أَتَکَلَّمُ الْیَوْمَ ] ” نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بہترین کلمات چار ہیں۔ ١۔ سبحان اللہ۔ ٢۔ الحمداللہ۔ ٣۔ لا الٰہ الا اللہ۔ ٤۔ اللہ اکبر “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کی ہر حال میں تعریف کرنی چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے ٤۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعتراف اور اس کی بڑائی بیان کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی تعریف اور بڑائی : ١۔ کہہ دیجئے تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کا شریک ہے۔ (بنی اسرائیل : ١١١) ٢۔ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ (الفاتحہ : ١) ٣۔ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ (الانعام : ١) ٤۔ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ہدایت سے نوازا۔ (الاعراف : ٤٣) ٥۔ تمام تعر یفات اس ذات کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔ (المومنون : ٢٨) ٦۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ سچ فرمایا۔ (الزمر : ٨٤) ٧۔ ہر چیز اپنے رب کو سجدہ کرتی ہے۔ (النحل : ٤٩) ٨۔ کائنات کی ہر چیز اپنے رب کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الحشر : ١) ٩۔ ہر چیز کا سایہ اپنے رب کو سجدہ کرتا ہے۔ (النحل : ٤٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ کی حمد بیان کیجیے جس کا کوئی شریک اور معاون نہیں ہے اور اس کی بڑائی بیان کیجیے در منثور ص ٢٠٨ ج ٤ میں حضرت محمد بن کعب قرظی سے نقل کیا ہے کہ یہود و نصاریٰ اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے اور مشرکین عرب اللہ کے لیے یوں شریک تجویز کرتے تھے کہ حج میں جو تلبیہ پڑھا جاتا ہے اس میں لا شریک لک کے ساتھ الا شریک ھو لک تملکہ وما ملک بھی جوڑ دیتے تھے اور صابئین اور مجوس یوں کہتے تھے کہ اگر اللہ کی مدد کرنے والے نہ ہوتے تو وہ عاجز ہو کر رہ جاتا ان سب کی تردید میں اللہ تعالیٰ شانہ نے آیت بالا (وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا) آخر تک نازل فرمائی (رواہ البخاری) جس میں یہ بتادیا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا نہ اس کی اولاد ہے نہ اولاد ہوسکتی ہے کیونکہ اولاد ہونا اس بےعیب کے لیے عیب ہے حدیث قدسی میں ہے۔ (وَسُبْحَانِیْ اَنْ صَاحِبَۃً اَوْ وَلَدًا) (اور میں اس سے پاک ہوں کہ میرے کوئی بیوی ہو یا اولاد ہو) نہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے نہ ملک میں اس کا کوئی شریک ہے سارا ملک اسی کا ہے وہ ملک الملوک ہے اس کی سلطنت میں اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ اسے کسی شریک کی ضرورت ہے اور نہ کسی مددگار کی جسے امور مملکت پر پوری قدرت نہیں ہوتی اسے ولی یعنی مددگار کی ضرورت پڑتی ہے اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے قوی و عزیز ہے وہ کسی چیز سے عاجز نہیں لہٰذا اسے کسی ولی یعنی مددگار کی ضرورت نہیں نہ کوئی اس کا مددگار ہے اور نہ ہوگا اور نہ ہوسکتا ہے سورة سباء میں فرمایا (قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ وَمَا لَھُمْ فِیْھِمَا مِنْ شِرْکٍ وَّ مَا لَہٗ مِنْھُمْ مِّنْ ظَھِیْرٍ ) (آپ فرما دیجیے کہ ان لوگوں کو بلالو جن کو تم خدا کے سوا نافع اور معبود سمجھ رہے ہو، وہ ذرہ برابر اختیار نہیں رکھتے نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کی ان دونوں میں کوئی شرکت ہے، اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔ ) اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ شانہ کی حمد بیان کرنے کا بھی حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ بیان فرمائی ہیں تکبر یعنی اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان فرمانے کا بھی حکم دیا۔ تفسیر ابن کثیر میں مرسلاً روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ آیت اپنے گھر کے ہر چھوٹے بڑے فرد کو سکھایا کرتے تھے نیز بعض آثار سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ جس کسی رات کو گھر میں یہ آیت پڑھ لی جائے تو چوری کا یا دوسری کسی مصیبت کا حادثہ پیش نہ آئے گا۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اَفْضَلُ الذِّکْرِ لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاَفْضَلُ الدُّعَاءِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سب سے زیادہ افضل ذکر لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ ہے اور سب سے افضل دعا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ہے۔ (رواہ الترمذی) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جنت کی طرف وہ لوگ بلائے جائیں گے جو خوشی میں اور دکھ تکلیف میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے تھے اور حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ حمد اصل شکر ہے اس بندہ نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا جو اس کی حمد بیان نہیں کرتا۔ (رواھما البیہقی فی شعب الایمان) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں ایک مرتبہ سُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُکہہ دوں تو یہ مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج نکلتا ہے۔ (رواہ مسلم) وھذا اخر سورة الاسراء بفضل اللّٰہ ذی المجد والکبریاء والحمد للّٰہ خالق الارض والسماء والصلوۃ علی صفوۃ الانبیاء وعلی الہ وصحبہ البررۃ الاتقیاء

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

1 1 1 اور یوں کہئے تمام تعریفیں اور سب خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے اور نہ سلطنت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ وہ ایسا کمزور اور حقیر ہے کہ اس کا کوئی مددگار ہے اور آپ اس کی پوری پوری بڑائی بیان کیا کیجیے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کوئی مددگار نہیں ذلت کے وقت یعنی اس پر کبھی ذلت ہی نہیں کہ مددگار چاہئے بادشاہوں کے ہاں امیر اس سے زیر پڑجاتے ہیں کہ برے وقت میں ان کی رفاقت ضرور ہوتی ہے وہاں یہ مذکور ہی نہیں یہاں جس سے تقویت حاصل ہوتی ہے وہ یا تو اولاد ہے یا کوئی برابر کا ساجھی اور شریک یا کوئی بڑا جو قوت میں زیادہ ہوا اور وہ حمایتی اور مددگار ہو ۔ اللہ تعالیٰ کو ان تینوں قسموں میں سے کسی کی بھی ضرورت نہیں نہ وہاں اولاد نہ شریک نہ کوئی طاقت میں زیادہ جو حمایتی اور مددگار ہو پریشانی اور حملہ آوروں کے حملے اور شکست اور ذلت کے خوف سے انسان کو حمایتیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور چونکہ حضرت حق جل مجدہ، کے ہاں نہ کوئی ذلت اور شکست کا اندیشہ نہ کوئی ان پر حملہ آور اور نہ کسی کا خطرہ۔ اس لئے ان کو نہ کسی حمایتی کی ضرورت اور نہ وہ کسی مددگار کے محتاج اور نہ ان کا کوئی مددگار، سورة بنی اسرائیل کو تسبیح سے شروع کیا اور تحمید و تکبیر پر ختم ۔” سبحان اللہ والحمد للہ واللہ اکبر “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر کے تمام بڑوں چھوٹوں کو یہ آیت سکھایا کرتے تھے اور اس آیت کو آپ آیت العزینی عزت والی آیت فرمایا کرتے تھے۔ بعضے آثار میں ہے کہ جس گھر میں یہ آیت پڑھی جائے وہ گھر آفت اور چوری وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر دکھ بیماری دور ہونے کے لئے فرمایا یوں کہا کر۔ توکلت علی الحی الذی لا یموت والحمد للہ الذی لم یتخذ ولداً ولم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل و کبرہ تکبیراً “