Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 31

سورة بنی اسراءیل

وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ خَشۡیَۃَ اِمۡلَاقٍ ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُہُمۡ وَ اِیَّاکُمۡ ؕ اِنَّ قَتۡلَہُمۡ کَانَ خِطۡاً کَبِیۡرًا ﴿۳۱﴾

And do not kill your children for fear of poverty. We provide for them and for you. Indeed, their killing is ever a great sin.

اور مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کو نہ مار ڈالو ان کو اور تم کو ہم ہی روزی دیتے ہیں ۔ یقیناً ان کا قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Prohibition of killing Children This Ayah indicates that Allah is more compassionate towards His servants than a father to his child, because He forbids killing children just as He enjoins parents to take care of their children in matters of inheritance. The people of Jahiliyyah would not allow their daughters to inherit from them, and some would even kill their daughters lest they make them more poor. Allah forbade that and said: وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلقٍ ... And kill not your children for fear of poverty. meaning, lest they may make you poor in the future. This is why Allah mentions the children's provision first: ... نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُم ... We shall provide for them as well as for you. In Surah Al-An`am, Allah says: وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلَـدَكُمْ مِّنْ إمْلَـقٍ kill not your children because of poverty. (6:151) نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُم We provide sustenance for you and for them. (6:151) and, ... إنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْءًا كَبِيرًا Surely, the killing of them is a great sin. means, a major sin. In Two Sahihs it is recorded that Abdullah bin Mas`ud said: "I said, `O Messenger of Allah, which sin is the worst?' He said, أَنْ تَجْعَلَ لِلّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ To appoint rivals of Allah when He has created you. I asked, `Then what?' He said, قَالَ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ To kill your child lest he should eat with you. I asked, `Then what?' He said, قَالَ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِك To commit adultery with your neighbor's wife."

قتل اولاد کی مذمت دیکھو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہ نسبت ان کے ماں باپ کے بھی زیادہ مہربان ہے ۔ ایک طرف ماں باپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنا مال اپنے بچوں کو بطور ورثے کے دو اور دوسری جانب فرماتا ہے کہ انہیں مار نہ ڈالا کرو ۔ جاہلیت کے لوگ نہ تو لڑکیوں کو ورثہ دیتے تھے نہ ان کا زندہ رکھنا پسند کرتے تھے بلکہ دختر کشی ان کی قوم کا ایک عام رواج تھا ۔ قرآن اس نافرجام رواج کی تردید کرتا ہے کہ یہ خیال کس قدر بودا ہے کہ انہیں کھلائیں گے کہاں سے ؟ کسی کی روزی کسی کے ذمہ نہیں سب کا روزی رساں اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ سورہ انعام میں فرمایا آیت ( وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ ۭ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا 31؀ ) 17- الإسراء:31 ) فقیری اور تنگ دستی کے خوف سے اپنی اولاد کی جان نہ لیا کرو ۔ تمہیں اور انہیں روزیاں دینے والے ہم ہیں ۔ ان کا قتل جرم عظیم اور گناہ کبیرہ ہے ۔ خطا کی دوسری قرأت خطا ہے دونوں کے معنی ایک ہی ہیں ۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ تو کسی کو اللہ کا شریک ٹھیرائے حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے ۔ میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ فرمایا یہ کہ تو اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالے کہ وہ تیرے ساتھ کھائیں گے ۔ میں نے کہا اس کے بعد ؟ فرمایا یہ کہ تو اپنی پڑوسن سے زنا کاری کرے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

31۔ 1 یہ آیت سورة الا نعام، 151 میں بھی گزر چکی ہے، حدیث میں آتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شرک کے بعد جس گناہ کو سب سے بڑا قرار دیا وہ یہی ہے کہ ان تقتل ولدک خشیۃ ان یطعم معک۔ (صحیح بخاری) ' کہ تو اپنی اولاد اس ڈر سے قتل کردے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی ' آجکل قتل اولاد کا گناہ عظیم طریقے سے خاندانی منصوبہ بندی کے حسین عنوان سے پوری دنیا میں ہو رہا ہے اور مرد حضرات ' بہتر تعلیم و تربیت ' کے نام پر اور خواتین اپنے ' حسن ' کو برقرار رکھنے کے لئے اس جرم کا عام ارتکاب کر رہی ہیں۔ اعاذنا اللہ منہ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٦] مفلسی کے ڈر سے قتل اولاد اور منصوبہ بندی :۔ مفلسی کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کی صفت رزاقیت پر عدم توکل یا براہ راست حملہ کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ تمہیں بھی تو ہم رزق دے ہی رہے ہیں اور جیسے تمہیں دے رہے ہیں ویسے تمہاری اولاد کو بھی ضرور دیں گے اور اگر تمہیں مفلسی کا اتنا ہی ڈر ہے تو پہلے تمہیں خود مرجانا چاہیے۔ اولاد کو کیوں مارتے ہو ؟ تاکہ تمہاری یہ فکر ہی ختم ہوجائے اور آخر میں یہ فرما دیا کہ تمہارا یہ کام بہت بڑا گناہ کا کام ہے۔ عرب میں تو قتل اولاد کا سلسلہ انفرادی طور پر ہوتا تھا مگر آج کل ایسے ہی کام اجتماعی طور پر اور حکومتوں کی طرف سے ہو رہے ہیں اور حکومت کے ان محکموں کے لیے بڑے اچھے اچھے نام تجویز کیے جاتے ہیں جیسے محکمہ خاندانی منصوبہ بندی یا محکمہ بہبود آبادی۔ اور اس کام کا جذبہ محرکہ وہی && مفلسی کا ڈر && ہے۔ نیز اس سلسلہ میں سورة انعام آیت ١٣٧ اور ١٥١ کے حواشی بھی ملاحظہ فرما لیجئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ۧوَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۔۔ : اگرچہ اولاد میں لڑکے لڑکیاں دونوں شامل ہیں، مگر عرب کی تاریخ میں اکثر لڑکیوں ہی کو قتل کرنے کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ ) [ التکویر : ٨ ] ” اور جب زندہ دفن کی گئی سے پوچھا جائے گا۔ “ ” الْمَوْءٗدَةُ “ مؤنث لانے سے ظاہر یہی ہے کہ زندہ درگور لڑکی ہی ہوتی تھی، لیکن اگر اسے ” نفس موء ودہ “ کہا جائے تو پھر لڑکا لڑکی دونوں مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ ” نفس “ کا لفظ زبان عرب میں مؤنث ہے، سو معنی ہوگا : ” اور جب زندہ درگور کی ہوئی جان سے سوال کیا جائے گا۔ “ اور اگرچہ عام طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ وہ لڑکی کو غیرت کی وجہ سے قتل کرتے تھے، مگر اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی سچا نہیں ہوسکتا۔ اس نے مطلق اولاد لڑکے لڑکی دونوں کا ذکر فرمایا ہے اور قتل کا سبب موجودہ فقر یا آئندہ فقر کا خوف بیان فرمایا ہے، ہاں یہ درست ہے کہ اولاد کو قتل کا باعث فقر کے علاوہ بےجا غیرت بھی تھا۔ ”ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ “ اور ”ۭ نَحْنُ نَرْزُقُکُم وَاِيَّاھُمْ “ میں تقدیم و تاخیر کی حکمت اور دوسرے فوائد کے لیے دیکھیے سورة انعام (١٥١) ” خِطْاً “ اور ” اِثْمٌ“ کا وزن اور معنی ایک ہی ہے، یعنی دانستہ گناہ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Previous verses carried a series of instructions regarding human rights. The sixth injunction appearing here is to correct a cruel custom prevailing among the people of Arabs of Jahiliyyah. During that period of time, some people used to kill their children, particularly daughters, at birth in fear of having to face the expenses on their maintenance. In the verse cited above, Allah Ta` ala has admonished them for their ignor¬ance in assuming the responsibility of providing sustenance - who are you to do that?& This is the exclusive domain of Allah Ta’ ala. He is the One who gives you your sustenance. Now, He who gives it to you shall be the One who would give it to them as well. Why then, do you have to take the onus of killing children on yourselves because of this concern? In fact, by making the children precede as recipients of sustenance at this place, Allah Ta` ala has subtly indicated that He shall give to the children first, then give it to the parents. It really means that Allah Ta’ ala, when He sees His servant supporting his family or helping others poor and weak, He gives him liberally in proportion to enable him to meet his needs as well as help others. In a Hadith, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been reported to have said, اِنَّمَا تُنصِرُونَ وَ تُرزَقُونَ بضُعفَایٔکُم which means: &It is because of the poor and weak among you that you are provided by Allah with your sustenance.& This tells us that parents who support their family get, whatever they do, for the sake of weak women and children alone. Ruling This statement of the Qur&an also sheds light on an issue which holds the modern world in its grip. Its movers and shakers are so scared of what they call &population explosion& that they are frantically promot¬ing birth control and planned parent-hood. This is also based on the same false assumption that they are the ones responsible for suste¬nance. May be, this approach is not a sin equal in gravity to that of the killing of children, but there is no doubt about its being blameworthy.

خلاصہ تفسیر : اور اپنی اولاد کو مفلسی کے اندیشہ سے قتل نہ کرو (کیونکہ سب کے رازق ہم ہیں) ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی (اگر رازق تم ہوتے تو ایسی باتیں سوچتے) بیشک ان کا قتل کرنا بڑا بھاری گناہ ہے۔ معارف و مسائل : سابقہ آیات میں انسانی حقوق کے متعلق ہدایات کا ایک سلسلہ ہے یہ چھٹا حکم اہل جاہلیت کی ایک ظالمانہ عادت کی اصلاح کے لئے ہے زمانہ جاہلیت میں بعض لوگ ابتداء ولادت کے وقت اپنی اولاد خصوصا بیٹیوں کو اس خوف سے قتل کر ڈالتے تھے کہ ان کے مصارف کا بار ہم پر پڑے گا آیت مذکورہ میں حق تعالیٰ نے ان کی جہالت کو واضح کیا ہے کہ رزق دینے والے تم کون یہ تو خالص اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے تمہیں بھی تو وہی رزق دیتا ہے جو تمہیں دیتا ہے وہی ان کو بھی دے گا تم کیوں اس فکر میں قتل اولاد کے مجرم بنتے ہو بلکہ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے رزق دینے میں اولاد کا ذکر مقدم کر کے اس طرف اشارہ فرما دیا ہے ہم پہلے ان کو پھر تمہیں دیں گے جس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس بندہ کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے اہل و عیال کا تکفل یا دوسرے غریبوں ضعیفوں کی امداد کرتا ہے تو اس کو اسی حساب سے دیتے ہیں کہ وہ ضروریات بھی پوری کرسکے اور دوسروں کی امداد بھی کرسکے ایک حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے انما تنصرون وترزقون بضعفائکم یعنی تمہارے ضعیف و کمزور طبقہ ہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری امداد ہوتی ہے اور تمہیں رزق دیا جاتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اہل و عیال کے متکفل والدین کو جو کچھ ملتا ہے وہ کمزور عورتوں بچوں کی خاطر ہی ملتا ہے۔ مسئلہ : قرآن کریم کے اس ارشاد سے اس معاملے پر بھی روشنی پڑتی ہے جس میں آج کی دنیا گرفتار ہے کہ کثرت آبادی کے خوف سے ضبط تولید اور منصوبہ بندی کو رواج دے رہی ہے اس کی بنیاد بھی اسی جاہلانہ فلسفہ پر ہے کہ رزق کا ذمہ دار اپنے آپ کو سمجھ لیا گیا ہے یہ معاملہ قتل اولاد کی برابر گناہ نہ سہی مگر اس کے مذموم ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ ۭ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا 31؀ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ولد الوَلَدُ : المَوْلُودُ. يقال للواحد والجمع والصّغير والکبير . قال اللہ تعالی: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] ( و ل د ) الولد ۔ جو جنا گیا ہو یہ لفظ واحد جمع مذکر مونث چھوٹے بڑے سب پر بولاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] اور اگر اولاد نہ ہو ۔ خشی الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ( خ ش ی ) الخشیۃ ۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص کیا ہے ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو خطأ الخَطَأ : العدول عن الجهة، وذلک أضرب : أحدها : أن ترید غير ما تحسن إرادته فتفعله، وهذا هو الخطأ التامّ المأخوذ به الإنسان، يقال : خَطِئَ يَخْطَأُ ، خِطْأً ، وخِطْأَةً ، قال تعالی: إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] ، وقال : وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] . والثاني : أن يريد ما يحسن فعله، ولکن يقع منه خلاف ما يريد فيقال : أَخْطَأَ إِخْطَاءً فهو مُخْطِئٌ ، وهذا قد أصاب في الإرادة وأخطأ في الفعل، وهذا المعنيّ بقوله عليه السلام : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» «3» وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» «4» ، وقوله عزّ وجلّ : وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ [ النساء/ 92] . والثّالث : أن يريد ما لا يحسن فعله ويتّفق منه خلافه، فهذا مخطئ في الإرادة ومصیب في الفعل، فهو مذموم بقصده وغیر محمود علی فعله، والخَطِيئَةُ والسّيّئة يتقاربان، لکن الخطيئة أكثر ما تقال فيما لا يكون مقصودا إليه في نفسه، بل يكون القصد سببا لتولّد ذلک الفعل منه ( خ ط ء ) الخطاء والخطاء ۃ کے معنی صحیح جہت سے عدول کرنے کے ہیں اس کی مختلف صورتیں ہیں ۔ ( 1 ) کوئی ایسا کام بالا رادہ کرے جس کا ارادہ بھی مناسب نہ ہو ۔ یہ خطا تام ہے جس پر مواخزہ ہوگا ا س معنی میں فعل خطئی یخطاء خطاء وخطاء بولا جا تا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت جرم ہے ۔ وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] اور بلا شبہ ہم خطا کار تھے ۔ ( 2 ) ارادہ تو اچھا کام کرنے کا ہو لیکن غلطی سے برا کام سرزد ہوجائے ۔ کہا جاتا ہے : ۔ اس میں اس کا ارادہ وہ تو درست ہوتا ہے مگر اس کا فعل غلط ہوتا ہے اسی قسم کی خطا کے متعلق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» میری امت سے خطا سے خطا اور نسیان اٹھائے گئے ہیں ۔ نیز فرمایا : وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» جس نے اجتہاد کیا ۔ لیکن اس سے غلطی ہوگئی اسے پھر بھی اجر ملے گا قرآن میں ہے : ۔ اور جو غلطی سے مومن کو مار ڈالے تو ایک تو غلام کو ازاد کردے ۔ ( 3 ) غیر مستحن فعل کا ارادہ کرے لیکن اتفاق سے مستحن فعل سرزد ہوجائے ۔ اس صورت میں اس کا فعل تو درست ہے مگر ارادہ غلط ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل بھی قابل ستائس نہیں ہوگا ۔ الخطیتۃ یہ قریب قریب سیئۃ کے ہم معنی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَحاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ [ البقرة/ 81] اور اسکے گناہ ہر طرف سے اس کو گھیر لیں گے ۔ لیکن زیادہ تر خطئۃ کا استعمال اس فعل کے متعلق ہوتا ہے جو بزات خود مقصود نہ ہو بلکہ کسی دوسری چیز کا ارادہ اس کے صدر کا سبب بن جائے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قتل اولاد کی ممانعت قول باری ہے (ولا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاق۔ اور اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو) اس کلام میں اس سبب کا بھی ذکر موجود ہے جو اس کے نزول کا پس منظر ہے۔ وہ اس طرح کہ عرب کے اندر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو افلاس کے اندیشے سے اپنی بیٹیوں کو قتل کردیتے تھے تاکہ ان کے اخراجات کا بوجھ ان پر نہ پڑے اور اس طرح بچ رہنے والی رقم ان کی ذات اور اہل و عیال کے کام آ جائے۔ عربوں میں اس کا عام رواج تھا اور اس بری رسم کا دائرہ بڑا وسیع تھا۔ ایسی لڑکیاں موئودۃ کہلاتی تھیں۔ جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے (واذا الموودۃ سئلت بای ذنب قتلت اور جب زندہ درگور کی جانے والی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس جرم کی بنا پر قتل کردیا گیا تھا) موئودہ اس لڑکی کو کہتے ہیں جسے زندہ دفن کردیا جاتا تھا عرب کے لوگ اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے۔ حضرت ابن مسعود نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک مرتبہ دریافت کیا تھا کہ بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں ارشاد فرمایا تھا (ان تجعل للہ ندا وھو خلقک وان تقتل ولدک خشیۃ ان تاکل معک وان تزنی بحلیلۃ جارک یہ کہ تم کسی کو اللہ کا مدمقابل ٹھہرائو۔ حالانکہ اس نے ہی تمہیں پیدا کیا، نیز یہ کہ اس اندیشے کی بنا پر اپنی لڑکی کو قتل کر دو کہ کہیں وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک نہ ہوجائے اور یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرو) قول باری ہے (نحن نرزقھم و ایاکم ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی) اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ تمام مخلوقات کے رزق کی ذمہ داری اللہ پر ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایسے اسباب پید اکر دے گا جن کی بنا پر وہ اپنی ذات اور اولاد کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو جاندار بھی پیدا کیا ہے اسے اس کی زندگی بھر رزق مہیا کرتا رہے گا۔ اس کے رزق کا سلسلہ صرف اس کی موت کے ساتھ منقطع ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لئے بیان کردیا تاکہ حصول رزق کے سلسلے میں کوئی شخص کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرے نہ ہی کسی کال مال ہتھیائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے رزق کے ایسے اسباب پیدا کردیئے ہیں جن کی بنا پر اسے دوسروں کے مال پر ہاتھ ڈالنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣١) یہ آیت قبیلہ خزاعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ وہ اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے، اس کی اللہ تعالیٰ نے ممانعت فرمائی کہ ناداری اور ذلت کے اندیشہ سے اپنی لڑکیوں کو زندہ مت دفن کیا کرو ہم ان لڑکیوں کو اور تم کو بھی رزق دیتے ہیں کردینا سزا کے اعتبار سے بہت بڑا بھاری گناہ ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣١ (وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ) قدیم زمانے میں قتل اولاد کا محرک افلاس کا خوف ہوا کرتا تھا۔ آج کل ہمارے ہاں برتھ کنڑول اور آبادی کی منصوبہ بندی کے بارے میں جو اجتماعی سوچ پائی جاتی ہے اور اس سوچ کے مطابق انفرادی اور اجتماعی سطح پر جو کوششیں ہو رہی ہیں ان کی کئی صورتیں بھی اس آیت کے حکم میں آتی ہیں۔ اس سلسلے میں مجموعی طور پر کوئی ایک حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ اس کی تمام صورتیں حرام مطلق نہیں بلکہ بعض صورتیں جائز بھی ہیں جبکہ بعض مکروہ اور بعض حرام۔ مگر ایسی سوچ کو ایک اجتماعی تحریک کی صورت میں منظم کرنا بہر حال ایمان اور توکل علی اللہ کی نفی ہے۔ اس کوشش کا سیدھا اور صاف مطلب یہ ہے کہ انسان کو اللہ کے رازق ہونے پر ایمان و یقین نہیں اور وہ خود اپنی جمع تفریق سے حساب پورا کرنے کی کوششیں کرنا چاہتا ہے۔ دراصل انسان اللہ کے خزانوں اور وسائل کی وسعتوں کا کچھ اندازہ نہیں کرسکتا اور اسے اپنی اس کوتاہی اور معذوری کا ادراک ہونا چاہیے۔ مثلاً کچھ عرصہ پہلے تک انسان کو اندازہ نہیں تھا کہ سمندر کے اندر انسانی غذا کے کس قدر وسیع خزانے پوشیدہ ہیں اور اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ سمندری گوشت (لَحْمًا طَرِیًّا) (النحل : ١٤ اور فاطر : ١٢) کی افادیت انسانی صحت کے لیے red meat کے مقابلے میں کس قدر زیادہ ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم بات یہ جاننے کی ہے کہ مختلف مانع حمل طریقوں اور کوششوں پر ” قتل اولاد “ کے حکم کا اطلاق نہیں ہوتا لیکن باقاعدہ حمل ٹھہر جانے کے بعد اسے ضائع کرنا بہر حال قتل کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ (نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ ) تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں جو رزق مل رہا ہے وہ تمہاری اپنی محنت اور منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں تمہارے حقیقی رازق ہم ہیں اور جیسے ہم تمہیں رزق دے رہے ہیں اسی طرح تمہاری اولاد کے رزق کا بندوبست بھی ہمارے ذمہ ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

31. This verse cuts at the very root of the movement of birth control, which has been going on from ancient times to our present age. It was the fear of want that induced people to kill their children or resort to abortion. In our age another plan has been added to these, i.e. contraception. This article of the Islamic manifesto prohibits the people from reducing the number of mouths by artificial means but exhorts them to increase the means of production according to the natural methods enjoined by Allah. According to this article, it is one of the biggest mistakes of man to check birth rate as a solution to the want and scarcity of provisions. Therefore, it warns him, as if to say: O man, it is not you who make arrangement for food, but Allah, Who settled you in the land and has been providing for you and will provide for those who will come after you. History tells us that the food resources have always expanded in proportion to the number of inhabitants of a country. Nay, often they have exceeded far more than the needs of the inhabitants. Thus it is a folly on the part of man to interfere with the arrangements of Allah. It is very significant that as a result of this teaching, no movement has ever been started to control birth nor has there been any inclination to infanticide among the Muslims ever since the revelation of the Quran.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :31 یہ آیت ان معاشی بنیادوں کو قطعی منہدم کر دیتی ہے جن پر قدیم زمانے سے آج تک مختلف ادوار میں ضبط ولادت کی تحریک اٹھتی رہی ہے ۔ افلاس کا خوف قدیم زمانے میں قتل اطفال اور اسقاط حمل کا محرک ہوا کرتا تھا ، اور آج وہ ایک تیسری تدبیر ، یعنی منع حمل کی طرف دنیا کو دھکیل رہا ہے ۔ لیکن منشور اسلامی کی یہ دفعہ انسان کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ کھانے والوں کو گھٹانے کی تخریبی کوشش چھوڑ کر ان تعمیری مساعی میں اپنی قوتیں اور قابلیتیں صرف کرے جن سے اللہ کے بنائے ہوئے قانون فطرت کے مطابق رزق میں افزائش ہوا کرتی ہے ۔ اس دفعہ کی رو سے یہ بات انسان کی بڑی غلطیوں میں سے ایک ہے کہ وہ بار بار معاشی ذرائع کی تنگی کے اندیشے سے افزائش نسل کا سلسلہ روک دینے پر آمادہ ہو جاتا ہے ۔ یہ انسان کو متنبہ کرتی ہے کہ رزق رسانی کا انتظام تیرے ہاتھ میں نہیں ہے ، بلکہ اس خدا کے ہاتھ میں ہے جس نے تجھے زمین میں بسایا ہے ۔ جس طرح وہ پہلے آنے والوں کو روزی دیتا رہا ہے ، بعد کے آنے والوں کو بھی دے گا ۔ تاریخ کا تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں کھانے والی آبادی جتنی بڑھتی گئی ہے ، اتنے ہی ، بلکہ بارہا اس سے بہت زیادہ معاشی ذائع وسیع ہوتے چلے گئے ہیں ۔ لہٰذا خدا کے تخلیقی انتظامات میں انسان کی بے جا دخل اندازیاں حماقت کے سوا کچھ نہیں ہیں ۔ یہ اسی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ نزول قرآن کے دور سے لے کر آج تک کسی دور میں بھی مسلمانوں کے اندر نسل کشی کا کوئی عام میلان پیدا نہیں ہونے پایا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

16: مشرکینِ عرب بعض اوقات تو لڑکیوں کو اس لئے زِندہ دفن کردیتے تھے کہ اپنے گھر میں لڑکی کے وجود ہی کو وہ باعث شرم سمجھتے تھے۔ اس کے علاوہ بعض مرتبہ اولاد کو اس لئے قتل کردیتے تھے کہ اُن کو کھلانے سے مفلس ہوجانے کا احتمال تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣١۔ : اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کو ماں باپ کا حق ادا کرنے کی تاکید فرمائی تھی اب اس آیت میں ماں باپ کو اولاد کی شفقت کی تاکید ہے سورة الخل میں گذر چکا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نبی ہونے سے پہلے عرب میں یہ رسم تھی کہ لڑکیوں کی آیت سے یہ بات نکالی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ماں باپ سے زیادہ شفیق ہے کیونکہ اہل عرب کے ان ماں باپ کی سختی کو جو لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے اللہ کی شفقت نے گوارا نہیں رکھا۔ اصل بات یہ ہے کہ علماء نے اس آیت سے وہ بات نکالی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شفقت ماں باپ کی شفقت سے بڑھی ہوئی ہے یہ مثال کے طور پر ایک کہنے کی بات ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو مخلوق کی شفقت کے ساتھ کوئی نسبت نہیں۔ چناچہ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحمت اور شفقت کے سو درجے خود اللہ تعالیٰ کے برتاؤ میں ہیں ١ ؎۔ اسی واسطے صحیحین میں انہیں حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت سے ہے کہ بڑے سے بڑا کافر بھی اگر اللہ کی رحمت کا حال جان لیوے تو جنت سے کبھی نامید نہ ہو ٢ ؎ اور انہی ابوہریرہ (رض) کی روایت سے صحیحین میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا تو یہ ایک نوشتہ لکھ کر عرش معلے پر اپنے پاس رکھ لیا ہے کہ اللہ کے غصہ پر اس کی رحمت غالب ہے ٣ ؎۔ ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ (رض) بن عمر (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک عورت تنور جھونکتے جھونکتے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اس کی گود میں ایک بچہ بھی تھا اور وہ عورت آن کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہنے لگی کہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ نہیں کہتے کہ اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہے اور جس قدر ماں اپنے بچہ سے الفت کرتی ہے اس سے زیادہ اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہاں اس عورت نے کہا کہ میں تو اپنے بچہ کو تنور کی آگ کی لپٹ سے بھی بچا لیتی ہوں پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دوزخ کی آگ میں کیوں کر ڈال دیوے گا۔ حضرت عبداللہ (رض) بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ اس عورت کی یہ بات سن کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس قدر روئے کہ پریشان ہوگئے اور پھر آپ نے فرمایا کہ سچ تو یہ ہے کہ اللہ انہی سرکشوں کو آگ میں ڈالے گا جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں اور اس کو وحدہ لاشریک نہیں جانتے ٤ ؎۔ ابن ماجہ کی سند میں ایک راوی اسمعیل بن یحییٰ اگرچہ ضعیف ہے لیکن صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے معاذ بن جبل (رض) کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے ٥ ؎۔ کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اس حق کے ادا کرنے کے بعد بندوں کا حق اللہ پر یہ ہوگا کہ وہ ان کو دوزخ کے عذاب سے بچائے۔ اس صحیح حدیث سے ابن ماجہ کی روایت کی پوری تقویب ہوجاتی ہے کیونکہ مضمون دونوں روایتوں کا ایک ہی ہے۔ خطا کا ایک لفظ تو سزا وجزا کے وزن پر بھول چوک کے معنوں میں ہے۔ عرب لوگ جیتی لڑکیوں کو بھول چوک سے نہیں دفن کیا کرتے تھے بلکہ لڑکیوں کے بیاہ شادی کے خرچ سے ڈر کر ان لڑکیوں کو جان بوجھ کر جیتا دفن کیا کرتے تھے اس لیے اکثر سلف نے اس آیت میں خطا کے لفظ کو صدق وکذب کے وزن پر پڑھا ہے جس کے معنے گناہ کے ہیں حاصل یہ ہے کہ ترجمہ میں چوک کا لفظ گناہ کے معنوں میں ہے بھول چوک کے معنوں میں نہیں ہے کیونکہ عرب کی جس رسم کی ممانعت میں یہ آیت نازل ہوئی ہے وہ رسم عرب میں بھول چوک کے طور پر جاری نہیں تھی اذا الشمس کورت میں آوے گا کہ قیامت کے دن جیتی لڑکیوں کو دفن کردینے کے جرم کی دریافت ہو کر قاتلوں کو خون ناحق کی سزادی جائے گی۔ ١ ؎ صحیح مسلم ص ٣٥٦ ج ٢ باب سعتہ رحمتہ اللہ تعالیٰ الخ۔ ٢ ؎ صحیح مسلم ص ٣٥٦ ج ٢ باب سعتہ رحمتہ اللہ تعالیٰ الخ۔ ٣ ؎ ایضا۔ ٤ ؎ ابن ماجہ ص ٣٢٨ باب مایرجی من رحمتہ اللہ تعالیٰ الخ۔ ٥ ؎ تفسیر ہذاص ٢٠ ج ٣۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:31) خشیۃ۔ خوف۔ ڈر۔ ہیبت۔ خشیۃ اس خوف کو کہتے ہیں جس میں تعظیم شامل ہو۔ اسی بناء پر آیۃ شریفہ انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤ(35:28) اللہ کے بندوں میں سے اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو عالم ہیں۔ اس میں علماء کو خشیت سے مخصوص کیا گیا ہے املاق۔ مصدر (افعال) سے مفلس اور تنگ دست ہونا۔ فقروفاقہ۔ خشیۃ املاق مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول لہٗ ہے لا تقتلواکا۔ خطا۔ گناہ ۔ چوک۔ جرم۔ خطائ۔ خطیٔ یخطأ (سمع) کا مصدر ہے بمعنی گناہ کرنا کے آتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 13 چاہے نہیں زندہ دفن کر کے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں بعض عرب قبائل کیا کرتے تھے اور چاہے ایسے مصنوعی طریقہ اختیار کر کے ان کی پیدائش کو ہی روک دیا جائے جیسا کہ منصوبہ بندی اور برتھ کنٹرول کو یہ بھی خشیتہ املا کے پیش نظر وادخفی کی ایک صورت ہے۔14 یعنی قطع نظر اس سے کہ رازق سب کا اللہ تعالیٰ ہے یہ فعل بذات خود بہت بڑا گناہ بھی ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٤) اسرارومعارف اب اگلا حکم اولاد کے ساتھ تعلق کا ارشاد ہوا کہ لوگ اولاد کو قتل کردیتے خصوصا بیٹیوں کو اور یہ رواج عہد جاہلیت میں بڑے فخر کی بات سمجھا جاتا تھا اس پر ارشاد ہوا کہ اللہ جل جلالہ سب کا رازق ہے ، اولاد دیتا ہے تو اسے بغیر رزق کے دنیا میں پیدا نہیں کرتا بلکہ انہیں بھی رزق دیتا جیسے خود تمہیں دیتا ہے اور ان کا قتل تو بہت بڑا گناہ ہے ۔ (ضبط تولید) آج کے دور کا یہ مسئلہ کہ آبادی میں اضافہ روکنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر ضبط تولید کو رواج دیا جا رہا ہے بھی بہت ہی گناہ اگرچہ یہ قتل اولاد نہ بھی ہو تو گناہ تو بہت بڑا ہے کہ اس کا سبب بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ ضروریات زندگی مہیا نہ ہو سکیں گی ، ہاں قتل کا اطلاق اس پر ہوگا جب بچے میں جان پڑجائے جو حمل کے ایک سوبیس دن بعد پڑتی ہے ، لہذا اس سے پہلے ایسا کرنا قتل نہ ہوگا مگر سخت گناہ ہے اور کسی دوسری وجہ مثلا عورت کی صحت کے سبب یا اس کی زندگی کو خطرہ ہو تو جائز ہے ، ہاں پھر بھی ایسا عارضی علاج جو مانع حمل ہو درست ہوگا مستقل اپریشن وغیرہ کرانا جائز نہیں کہ تخلیق باری میں تبدیلی حرام ہے بجز اس کے کہ کوئی معقول وجہ جواز ہو ۔ اگلا حکم زنا کے متعلق ہے جو ایک ایسی لعنت ہے کہ نہ صرف بہت بڑی بےحیائی ہے بلکہ تباہی کا راستہ بھی ہے کہ عموما قتل انسانی کا باعث بنتا ہے اور افراد سے لے کر اقوام وممالک تک میں قتل و غارت گری شروع کرا دیتا ہے ، پھر اس سے پیدا ہونے والا انسانی بچہ ایک طرح سے معاشرے میں کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ہوتا ہے جس کی کوئی اصل نہ ہو اس کا رد عمل اس کی ذات میں اتنا شدید ہوتا ہے کہ انتقاما معاشرے کو برائی میں دھکیلنے میں پوری کوشش کرتا ہے ، اسی لیے ارشاد ہوا کہ اس کے قریب بھی مت جاؤ یعنی ایسے امور سے بچنا بھی ضروری ہے جو زنا کا سبب بن سکتے ہوں اور قتل اولاد کے ساتھ اس کا ذکر اس لیے بھی ہے کہ ایک طرح سے زانی بھی اپنی نسل قطع کرتا ہے اور اگر اولاد بھی ہوجائے تو اس کا والد نہیں کہلا سکتا ، اسی لیے اس فعل پر اسلام میں سخت ترین یعنی سنگسار کی سزا ہے ۔ اگلا حکم دوسروں کے قتل سے متعلق ہے یہ اپنی اولاد کے قتل سے ممانعت تھی تو دوسرے بھی کسی کی اولاد ہیں اور انہیں حیات ان کے رب نے دی ہے ، لہذا ان سے چھیننا ہرگز درست نہیں بلکہ بہت بڑا جرم ہے ، سوائے اس کے کہ اللہ جل جلالہ ہی کسی کے قتل کا حکم دے یعنی قصاص میں قتل ہو یا جہاد میں مقابل کو قتل کیا جائے اور اگر کسی کو ناحق قتل کر ہی دیا جائے تو اللہ جل جلالہ نے اس کے وارثوں کو حق دیا ہے کہ وہ اس کا قصاص لے یا اگر وارث نہ ہو تو ریاست وارث ہوگی اور حکومت قصاص لے گی جس کا اپنا طریقہ ہے کہ ثبوت ہو پھر وارث کی پسند کہ دیت لے کر معاف کرے یا بدلے میں قتل کرے کہ اس کا اسے حق دیا گیا ہے مگر یہ یاد رہے کہ وہ بھی زیادتی نہ کرے اور ظلم کا مرتکب نہ ہو ، ورنہ جو تائید اسے حاصل تھی وہ بحیثیت مظلوم تھی ، اب اگر وہ خود ظالم بن گیا تو ظاہر ہے تائید باری تو مظلوم کا ساتھ دے گی ، کہ اگر کسی نے ظلم کیا ہے تو بدلہ لینا تو درست ہے مگر انصاف شرط ہے کہ ظلم کا جواب بھی ظلم سے دیا گیا تو معاشرے میں ظلم پھیلے گا حالانکہ بدلہ اور انصاف کا تقاضا تو ظلم کی راہ روکنا ہے اور قیام امن ہے ۔ اور یتیم کے مال کے قریب مت پھٹکو یعنی ایسے طریقے نہ اپناؤ کہ اس کا مال ہتھیا سکو ، ہاں احسن طریقے سے جس میں اس کی بہتری پر جائز طور پر خرچ کیا جاسکے ضرور خرچ کرو ، تاآنکہ وہ خود جوان ہو کر اپنا کام سنبھال لے ، مال تو کسی کا بھی ناجائز نہیں مگر دوسرے مطالبہ تو کرسکتے ہیں یتیم ایک ایسا بچہ ہوتا ہے جو نہ اپنے مال کی حفاظت کا اہل ہوتا ہے اور نہ کوئی مطالبہ کرسکتا ہے ۔ (معاہدات) نیز جو عہد بھی کرو وہ ضرور پورا کرو کہ سب سے پہلا عہد رب العالمین کے ساتھ اطاعت کا ہے جو ازل میں کیا گیا پھر اگر کسی نے کلمہ پڑھا تو ایک نیا عہد کرلیا جو نبی کے ذریعہ سے اللہ کی مکمل اطاعت کا تقاضا کرتا ہے ، نیز معاملات اور کاروبار حیات میں مختلف معاہدے کرنا پڑتے ہیں جن کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے اور بغیر شرعی عذر کے انہیں توڑا نہیں جاسکتا ، بشرطیکہ وہ شرعا بھی جائز ہوں اگر کوئی ایسا وعدہ کردیا گیا جس کے بارے بعد میں علم ہوا کہ شرعا جائز نہیں تو اسے پورا نہ کیا جائے گا بلکہ فریق ثانی کو بھی اطلاع کر کے ختم کردیا جائے گا اور یاد رکھو جیسے دیگر فرائض وواجبات کی پرسش ہوگی ، اسی طرح عہد کی پرسش بھی کی جائے گی یعنی اس کی اہمیت کسی طرح کم نہیں ہے ۔ (ناپ تول) اور جب ناپ تول کرنے لگو تو پورا پورا ناپ کرو اور صحیح ترازو سے تولو کہ یہ کام فی نفسہ بہترین بھی ہے ، اور اس کا نتیجہ بہت اچھا ہے ، انسانی رشتے اور تعلقات جوڑنے میں بھی اور لین دین میں کمی نہ کرنا تجارتی ترقی اور کثرت مال کا سبب بھی ہے ۔ علماء کے مطابق ملازم تنخواہ کے مقابلے میں اور مزدور اجرت کے مقابل اپنا کام پورا اور دیانتداری سے کرے کہ یہ بھی ناپ تول میں داخل ہے ۔ اور جن باتوں کی کوئی صحیح خبر نہ ہو ان کے پیچھے مت پڑو یعنی بلا تحقیق بات کو مت بڑھاؤ ، یہ کلیہ زندگی کے تمام امور میں کامیابی کا ضامن اور سکون کا باعث ہے کہ معاشرے میں فسادات اور بدامنی کا ایک بہت بڑا سبب سنی سنائی باتوں پہ لوگوں کا رد عمل ہے ، ” فقیر کا دوست ایک جج تھا ، ایک بار اس نے پرسکون رہنے کے لیے کوئی وظیفہ پوچھا تو عرض کیا کہ میری ایک عادت ہے گھر یا باہر وہ بات نہیں سنا کرتا جو میرے متعلق نہ ہو یا جس میں میری کوئی ذمہ داری نہ ہو اگر ہو سکے تو یہی طریقہ اپنا لو اور وظیفے اللہ جل جلالہ کی رضا کے لیے پڑھا کرو جو احادیث میں دیئے گئے ہیں ، بعد میں ملاقات پر بتانے لگے کہ بیشتر پریشانی سے جان چھوٹ گئی ہے “۔ تو اکثر فساد اور خرابی بلاتحقیق باتوں کی پیدا کردہ ہوتی ہے ، لہذا ایسی باتوں کو ترک کردینا ضروری ہے ، نیز سماعت و بصارت کی کوئی فضول نعمت نہیں کہ اسے فضول کاموں میں لگایا جائے یہ تو اللہ جل جلالہ کی بہت بڑی عطا ہے اور اس کے بارے میں پرسش ہوگی کہ اسے کہاں کہاں خرچ کیا ۔ (فواد یا دل بہت قیمتی دولت ہے) انسانی دل یا فواد دل کا وہ اندرونی حصہ یا کیفیت جس میں خواہش پیدا ہوتی ہے وہ تو انسان کو اس لیے عطا ہوا تھا کہ اس میں اللہ جل جلالہ کی طلب پیدا ہو ، اس سے محبت پیدا ہو اور اس کے عشق کا شعلہ بھڑکے مگر انسان نے خرافات اور فضول باتیں سن کرنا روا اور فضول مناظر دیکھ کر اسے برباد کردیا ، گویا یہ ثابت ہوا کہ سماعت و بصارت تک کے اثرات دل پہ مرتب ہوتے ہیں تو صالحین کو سننا ، دیکھنا اور اس غرض کے لیے ان کی مجالس میں جانا ضروری ٹھہرا کہ دل کی نعمت کا بھی محاسبہ کیا جائے گا ، اور زمین پر اکڑ اکڑ کر مت چلو یعنی اپنی چال ڈھال متکبرانہ نہ بناؤ کہ تمہارا چلنا زمین کو پھاڑنے سے تو رہا اور بلندی میں پہاڑ تک تم سے اونچے ہیں ، لہذا نہ صرف اعمال وکردار میں بلکہ لباس ، چال ڈھال ، اور بول چال میں بھی اپنے بندہ ہونے کا اور اللہ جل جلالہ کی بڑائی کا احساس وجذبہ کار فرما رہنا چاہئے کہ انسان بہرحال محتاج ہے اور بڑائی صرف اللہ جل جلالہ کو سزاوار ہے ۔ یہ جس قدر احکام ارشاد ہوئے اللہ جل جلالہ کی تو حید صرف اسی کی عبادت ، والدین سے حسن سلوک قرابتداروں ، مسافروں ، اور مساکین سے حسن سلوک ، زنا اور بدکاری سے اجتناب ، ناپ تول میں کمی نہ کرنا ، محض سنی سنائی پر بات نہ بڑھانا اور تکبر کی چال تک سے بچنا یہ اتنے واضح اور ضروری ہیں کہ ان کے خلاف عمل کی برائی ظاہر بھی ہے ، اور اللہ جل جلالہ کو سخت ناپسند بھی ، سبحان اللہ اسلام کیا خوبصورت طرز حیات ہے اور کس قدر بہترین اخلاق کے مجموعے کا نام ہے ۔ یہ کس قدر اللہ جل جلالہ کا احسان عظیم ہے کہ اے مخاطب بذریعہ وحی تجھے یہ سب حکیمانہ باتیں تعلیم فرمائی ہیں اور اللہ جل جلالہ کے نبی نے نہ صرف پیغام پہنچایا بلکہ چشم عالم کو کر کے دکھایا اور انہیں بنیادوں پر ایک معاشرہ ، ایک ملک اور ایک سلطنت تعمیر فرمائی ، لہذا ایسے کریم اور معبود برحق کے ساتھ کبھی بھی اور کسی کو بھی شریک عبادت نہ ٹھہرا اور نہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم کا ایندھن بنے گا اللہ جل جلالہ کے احسانات کو دیکھ اور اے انسان ذرا اپنی بات کا خیال کر کہ تو اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتا ہے اور بیٹی ہو تو قتل کرنے تک جاتا ہے اور تیرا یہ بھی خیال ہے کہ تجھے اولاد اللہ جل جلالہ ہی دیتا ہے ، تو پھر کیا تجھے بیٹے دے کر اس نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کرلیں کہ تو فرشتوں کو اس کی بیٹیاں کہتا ہے یعنی ایک طرف تعلیم نبوت پہ اعتراض ہے تو دوسری جانب ایسی غیر معقول باتوں پہ اعتقاد ہے جو خود تیرے پیمانے سے بھی بالکل نامناسب ہیں ، لہذا تو یہ بہت سخت بات کہتا ہے اور بہت بڑا جرم کرتا ہے کہ عموما مشرکین کے عقائد شرعا تو خراب ہوتے ہی ہیں ، انسانی عقل بھی انہیں رد کردیتی ہے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 31 تا 35 املاق غربت، آرام و آسائش۔ خطہ کبیر بڑی خطا، گناہ عظیم۔ لاتقربوا تم قریب نہ پھٹکو۔ ولی سرپرست، وارث۔ سلطان صاحب اختیار۔ لایسرف حد سے نہ بڑھو۔ منصور مدد کیا گیا۔ احسن بہترین۔ اشدہ اپنی طاقت، اپنی جوانی ۔ اوفوا پورا کرو، وفا کرو۔ الکیل تول۔ قسطاس ترازو۔ تاویل انجام۔ تشریح آیت نمبر 31 تا 35 سورۃ الاسراء میں چھ بنیادی اصولوں کو بیان کیا گیا ہے۔ 1- غربت و افلاس کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل کرنا۔ 2- زنا اور بدکاری کے ذریعہ بدترین راستوں کو کھولنا۔ 3- ناحق کسی انسان جان کو لینا اور قتل کرنا۔ 4- یتیم ( بےباپ کے بچوں) کے مال کو ہڑپ کر جانا۔ 5- وعدہ خلافی کرنا۔ 6- ماپ تول میں کمی کرنا۔ فرمایا کہ یہ سب کے سب بدترین گناہ اور معاشرہ کی خرابیوں کے بنیادی اسباب ہیں۔ ان سے ہر حال میں بچنا ایک مومن کی ذمہ داری ہے۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی اور کامیابی کا صرف یہی ذریعہ ہے کہ ان میں سے ہر گناہ سے ہر حال میں بچا جائے۔ اس سے انسانی معاشرہ اور زندگی کو سدھارنے میں بڑی مدد ملے گی۔ چونکہ یہ سب باتیں نہایت اہم ہیں اس لئے ان میں سے ہر بات کی تفصیل اور وضاحت پیش خدمت ہے۔ 1- بچوں کو قتل کرنا عربت کے بعض قبیلے اور خاندان اپنی اولاد کو یہ کہہ کر مار ڈالتے یا زندہ دفن کردیا کرتے تھے کہ ہمارا گذارا ہی مشکل سے ہوتا ہے ۔ اگر اولاد زندہ رہی تو ہم ان کو کہاں سے کھلائیں گے ؟ اسی طرح بعض قبائل اپنی لڑکیوں کو پیدائش کے بعد یہ کہہ کر قتل کر دیتے یا زندہ زمین میں گاڑ دیا کرتے تھے کہ یہ لڑکیاں اگر زندہ رہیں تو جوان ہو کر شادیاں کریں گی اور گھر میں داماد آئے گا جس کے سامنے اپنی لڑکی کی وجہ سے جھکنا پڑے گا اور اس کی ہر زیادتی اور ظلم کو برداشت کرنا پڑے گا اس طرح اس کی توہین ہوگی جسے وہ برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے لہٰذا لڑکیوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اسی غلط سوچ کی وجہ سے وہ قتل اولاد میں درندگی کی حد تک پہنچ چکے تھے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بالکل واضح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ اس کائنات میں جتنے بھی جان دار ہیں ان کے رزق کی ذمہ داری نہ تو افراد پر ہے نہ کسی حکومت پر بلکہ اللہ ہی سب کو رزق پہنچاتا ہے اور وہ کسی کو بھوکا نہیں سلاتا خواہ وہ انسان ہوں یا صحراؤں کے جانور، ہوا میں اڑنے والے پرندے ہوں یا جنگلوں کے درندے، سمندر کی مچھلیاں ہوں یا چیونٹی جیسے ننھے جانور۔ وہ ہر ایک کا رازق ہے۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس دنیا میں قدم رکھنے والوں کا وہ خود ذمہ دار ہے تو اس کی صریح بھول اور غلطی ہے۔ فرمایا کہ ہم ان آنے والوں کے رزق کا پہلے سے انتظام کردیتے ہیں۔ کوئی انسان اس دنیا میں قدم نہیں رکھتا جس کا پہلے سے اس کی ماں کے سینے میں رزق پیدا نہیں کردیا جاتا۔ حقیقتاً اگر دیکھا جائے تو یہ بات بالکل صاف اور واضح ہے کہ جب سے انسان اس غلط فہمی میں مبتلا ہوا ہے کہ رزق اور اس کے تمام وسائل پیدا کرنا اس کا اپنا کام ہے اس وقت سے انسان رزق اور اس کی برکتوں سے ہی محروم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ذرائع پیداوار کے لئے محنت، مناسب تدابیر اور منصوبہ بندی کرنا کوئی گناہ ہے بلکہ قرآن کی روشنی میں ایسا کرنا لازمی اور ضروری ہے اس کی شریعت میں کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن اللہ کی شان رزاقیت کو نظر انداز کر کے یہ سمجھنا کہ انسانوں کے رازق ہم ہیں یہ تصور غلط ہے۔ قرآن کریم اس غلط تصور اور سوچ کی تردید کرتا ہے کہ کچھ لوگ محنت، ذرائع و وسائل اختیار کرنے کے بجائے ایک خاص منصوبہ بندی کرتے ہیں اور کہتے ہیں اپنے بچوں کو اس لئے ہم دنیا میں آنے سے روکتے ہیں کہ ہمارے پاس کھانے کے لئے نہیں ہے تو ہم نئے پیدا ہونے والوں کو کہاں سے کھلائیں گے ؟ ان سے کہا جا رہا ہے کہ ایسے لوگ اپنی آسائشوں، سہولتوں اور غربت و افلاس کا نام لے کر جو بچوں کو قتل کردیتے ہیں ان کو اس حرکت سے باز آجانا چاہئے۔ چناچہ موجودہ دور میں خاندانی منصوبہ بندی اور بچوں کو پیدا ہونے سے روکنے کے لئے یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں انسانوں کی تعداد اس قدر بھیانک انداز میں بڑھ رہی ہے کہ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو تمام ذرائع ختم ہوجائیں گے اور پھر انسان انسان کو کھائے گا لہٰذا بچوں کو یا تو پیدا نہ کیا جائے۔ اگر وجود اختیار کرلیں تو ان کو ضائع کرا دیا جائے۔ میرے نزدیک کفار مکہ اور موجودہ دور کے لوگوں کی سوچ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بس فرق ہے تو اتنا کہ پہلے جہالت کے نام پر یہ سب کچھ کیا جاتا تھا اور موجودہ دور میں فیشن اور ترقی کے نام پر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسی زمین میں اتنے وسائل پیداوار رکھ دیئے ہیں کہ وہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے کافی ہیں کیونکہ اس رازق نے اس زمین پر انسانوں کے قدم آنے سے پہلے ہی تمام وسائل جمع کردیئے ہیں۔ وسائل کی جیشی ضرورت ہوتی ہے وہ زمین سے نکلتے آتے ہیں مثلاً آج سے ایک سو سال پہلے تیل اور گیس کا کوئی تصور موجود نہ تھا حالانکہ تیل اور گیس کروڑوں سال سے زمین کے اندر موجود تھا اور رہے گا۔ جب ضرورت ہوئی تو یہ وسائل خود بخود نکل آئے۔ میرا خیال ہے کہ اگر دو چار سو سال میں تیل اور گیس کے ذخائر ختم ہوگئے تو یقینا اس کی جگہ قدرت نے دوسری کسی طاقتور تیار کر رکھا ہے جب انسانی ضرورت ہوگی و ذرائع خود بخود زمین کی سطح پر آجائیں گے۔ اس لئے انسانوں کو اس دنیا میں آنے سے روکنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صبر و قناعت ، عدل و انصاف اور محنت کے ذرائع بڑھانے کی ضرورت ہے اس ہوس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جس نے نوع انسان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیئے ہیں اس عالمی عدل و انصاف کی ضرورت ہے جس کے ذریعہ ہر شخص امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گذار سکے۔ لیکن اس ہوس پرست دنیا میں یہ سب کچھ کب اور کس طرح ہوگا۔ ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کی فلاح و بہبود دین اسلام کے سچے اصولوں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کامل اتباع و محبت میں پوشیدہ ہے۔ دنیا کو امن و سکون اور آخرت کی کامیابی صرف اتباع محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ مل سکتی ہے۔ 2- زنا اور بد کاری زنا اور بدکاری اتنا بڑا جرم ہے اور اللہ کے عذاب کو دعوت دینے والی چیز ہے جس کے متعلق مومنوں سے فرمایا جا رہا ہے کہ تم اس ” فعل بد “ کے قریب بھی نہ جانا کیونکہ یہ بےحیائی اور بدترین راستوں کو کھولنے کا ذریعہ ہے جس سے قومیں برباد ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس آیت کا دلچسپ انداز یہ ہے کہ زنا اور بد کاری کے ہر اس انداز کو چھوڑنے کا حکم ہے جس سے کوئی شخص اس گناہ عظیم کے قریب بھی پہنچ سکتا ہو، مثلاً چند باتیں ایسی ہیں جن کے اختیار کرنے سے آدمی زنا اور بد کاری سے بچ ہی نہیں سکتا ان میں تمام باتوں سے بڑھ کر رزق حرام، سود خوری، جوئے بازی، بےپردگی، بےحیائی اور بےشرمی کے وہ مناظر ہیں جن سے انسان زنا اور بد کاری کے قریب پہنچ سکتا ہے ان سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے زنا کرنے والا زنا کے وقت مومن نہیں ہوتا، چوری کرنے والا چوری کے وقت مومن نہیں ہوتا، شراب پینے والا شراب پیتے وقت مومن نہیں ہوتا (بخاری و مسلم) مراد یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص صاحب ایمان بھی ہو اور وہ زنا، چوری اور شراب نوشی میں بھی مبتلا ہو یہ سب چیزیں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں۔ اسی لئے ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ جس وقت ایک مومن زنا کرتا ہے تو اس کا ایمان اس کے اندر سے نکل جاتا ہے اور جب وہ اس فعل بد سے فارغ ہوجاتا ہے تو ایمان دوبارہ اس کے جسم میں واپس آجاتا ہے (ابو داؤد) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا، ساتوں آسمان اور زمین اس شخص پر لعنت بھیجتے ہیں جو بیوی رکھنے کے باوجود زنا اور بدکاری کرتا ہے۔ جہنم میں ایسے بدکاروں کی شرم گاہوں سے اس قدر شدید بدبو پھیلے گی کہ جہنم والے بھی اس سے سخت پریشان ہوجائیں گے۔ (رواہ البزاز) خلاصہ یہ ہے کہ زنا اور بدکاری ہی سے نہیں بلکہ ان تمام باتوں کے قریب جانے کی بھی ممانعت کی گئی ہے جن سے ایک صاحب ایمان شخص بد کاری میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ زنا وہ بدترین فعل ہے جو آخر کار کسی بھی معاشرہ کو روحانی اور جسمانی اعتبار سے تباہی کے کنارے پہنچا دیتا ہے جو اللہ کے عذاب آنے کا سبب بن جاتا ہے۔ باہمی اعتماد اور رشتوں کا احترام اٹھ جاتا ہے اور یہ بےاعتمادی باہمی اختلافات اور جھگڑوں کی بنیاد بن جاتی ہے اسی لئے فرمایا کہ تم اس کے قریب بھی نہ جاؤ کیونکہ زنا صرف بےحیائی اور بےغیرتی ہی نہیں ہے بلکہ بہت سے برے راستوں کو کھولنے کا سبب اور بنیاد بھی ہے۔ 3- انسانی جان کا احترام شرعی حق کے بغیر کسی انسان کی جان لینا یا اس کو قتل کرنا حرام ہے۔ اگر کسی کو ناحق قتل کردیا جائے تو شریعت نے مقتول کے وارثوں کو اس بات کا حق دیا ہے کہ وہ عدالت کے ذریعے ” قصاص “ لے سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عقل و سمجھ رکھنے والوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ” اے عقل والو ! قصاص ہی میں (تمہارے معاشرہ کی) زندگی ہے۔ اگر قاتلوں کو آزاد چھوڑ دیا جائے گا تو وہ معاشرہ جنگل کا معاشرہ بن جائے گا اور احترام انسانیت اٹھ جائے گا۔ دنیا کے قوانین سے الگ اللہ نے قصاص (برابری) کا طریقہ یہ رکھا ہے کہ مقتول کے وارث (1) یا تو جان کے بدلے جان کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ (2) یا خون بہا (جو آپس میں طے پا جائے ) لے کر قاتل کو چھوڑ سکتے ہیں (3) یا چاہیں تو قاتل کو معاف کرسکتے ہیں۔ یہ ایک شرعی حق ہے جس میں کسی عدلات یا حکومت کو مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔ صرف مقتول کے وارثوں کو قصاص لینے یا معاف کردینے کا اختیار دیا گیا ہے۔ کسی بھی عدلات یا حکومت کا کام صرف یہ ہے کہ وہ انصاف دلانے میں مقتول کے وارثوں کی مدد کرے تاکہ ایسا نہ ہو کہ مقتول کے وارث جوش انتقام میں کوئی ایسی زیادتی کر بیٹھیں جس سے وہ خود ہی ظالموں کی صف میں جا کھڑے ہوں مثلاً قاتل کے ساتھ یا اس کے متعلقین کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ کر بیٹھیں یا قاتل کے ناک کان اور دیگر اعضاء کو کاٹ ڈالیں۔ شریعت نے اس کی کسی حالت میں اجازت نہیں دی ہے کیونکہ اگر اس طرح انتقام کا سلسلہ شروع ہوگیا تو وہ کسی حد پر جا کر ختم نہ ہوگا۔ اور وہ معاشرہ تہذیب و قانون کی دھجیاں بکھیرنے والا بن جائے گا۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت پورا عرب اسی جہالت و درندگی میں مبتلا تھا اور ہر قبیلہ دوسرے قبیلے کے قاتلوں سے جوش انتقام میں بےچین و بےقرار رہا کرتا تھا اور اپنے انتقام کیا آگ بجھانے میں لگا ہوا تھا اور یہ سلسلہ برسوں اور صدیوں تک پھیل چکا تھا۔ اس معاشرہ میں کسی کی جان محفوظ نہ تھی قتل و غارت گری اور جنگ وجدال کا ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری تھا۔ قرآن کریم نے بالکل واضح الفاظ میں اعلان کردیا کہ ہر شخص قانون کے مطابق مقتول کا قصاص لے سکتا ہے مگر خود نہیں بلکہ کسی عدالت کے ذریعہ قاتل اور ظالم کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ انسانی جان کا احترام اور انصاف دلانے میں مدد کرنا ہر عدالت، حکومت اور معاشرہ کے افراد کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر اس بات کی وضاحت مناسب ہوگی کہ دین اسلام صرف انسانی جان ہی کا احترام نہیں سکھاتا بلکہ بلا وجہ کسی بھی جان دار کی جان لینے یا اس پر زیادتی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ البتہ اگر کسی جان دار جانور سے جان جانے کا خطرہ اور اندیشہ ہو تب تو اس کی جان لی جاسکتی ہے لیکن بلا وجہ کسی جانور کی جان لینے یا ستانے کی بھی اجازت نہیں ہے ۔ شریعت نے بعض حلال جانوروں کو ذبح کرنے کی اس شرط کے ساتھ اجازت دی ہے کہ ان حلال جانوروں کو ذبح کرتے وقت ” اللہ کا نام لیا جائے “ اللہ کے نام کی بڑائی بیان کی جائے جو اس بات کی علامت اور ثبوت ہوگا۔ کہ ہم جس جانور کی جان لے رہے ہیں اس کی اجازت ہمیں اللہ نے عطا کی ہے۔ اگر اللہ کی اجازت نہ ہوتی تو ہم اس جانور کی جان لینے کے بھی حق دار نہ تھے چونکہ اللہ نے اجازت دی ہے تو ہم اس جانور کو ذبح کر رہے ہیں۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھ کر غور کیجیے کہ جس دین نے جانوروں کی جان لینے یا ان کو بلا وجہ ستانے کی بھی اجازت نہ دی ہو وہ شریعت بلا وجہ کسی انسان کو جان لینے کی کیسے اجازت دے سکتی ہے یا اس دین و شریعت کے ماننے والے بلا وجہ ناحق کسی انسان کی جان کیسے لے سکتے ہیں۔ 4- یتیم بچوں کے حقوق کی حفاظت ٭… بعثت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وقب عرب میں جنگ وجدال اور قتل و غارت گری کی وجہ سے جہاں بدامنی اور جہالت عام تھی وہیں ان جہالتوں کی وجہ سے ہر خاندان میں ایسے یتیم بچوں کی تعداد بڑی تیزی سے بڑھ رہی تھی جو باپ کے سایہ محبت سے محروم اور معاشرہ کے ظلم و ستم کا شکار ہو رہے تھے۔ یہ حال تھا کہ ٭… بچے اور بچیوں کو ماں باپ کی میرثا سے محروم رکھتے تھے۔ یتیم بچوں کو دھکے دے کر نکالنا اور ان کو ذلیل و رسوا کرنا ایک عام بات تھی۔ ٭… بچیوں کی جائیداد اور مال و دولت پر قبضہ کرنے کے لئے نگراں خود ہی ان سے نکاح کرلیتے تھے تاکہ گھر کی جائیداد باہر نہ جائے۔ ٭… خاندان کے لوگوں میں سے جو شخص یتیم بچوں کے مال کا نگران ہوتا تھا وہ یتیم کے مال و دولت کو فضول خرچیوں میں اس طرح اڑانے کی کوشش کرتا تھا کہ بچے جوان ہو کر ان سے مال و جائیداد کا حساب کتاب نہ پوچھ لیں۔ ٭… وہ یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کا قطعاً خیال نہ کرتے تھے۔ ٭… اپنی اولاد کے مقابلے میں یتیم بچوں کے ساتھ طرز عمل میں سنگ دلی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ غرضیکہ بدسلوکی، بد دیانتی، بد اخلاقی، ذلیل و رسوا کرنے اور اچھے مال کو خراب مال میں تبدیل کرنے میں وہ یتیم بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے تھے۔ دنیا میں دین اسلام وہ پہلا دین ہے جس نے بےباپ کے بچوں کے لئے ایسے اصول ارشاد فرمائے جس سے کسی یتیم پر ظلم و زیادتی نہ کی جاسکے۔ قرآن کریم کی سورة بقرہ، سورة النساء ، سورة انفال اور سورة حشر میں بار بار یتیموں کی پرورش ، دیکھ بھال، بہترین سلوک اور نیکی و احسان کا خاص طور پر حکم دیا گیا ہے اور عموماً قرآن کریم کے لاتعداد مقامات پر یتیموں کی دل داری اور ان کے ساتھ انصاف اور محبت کا معاملہ کرنے کا نہ صرف حکم دیا گیا ہے بلکہ یتیموں کے ساتھ نیکی کو معاشرہ کے تمام افراد کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ضرورت ہو تو صدقات و خیرات سے ان کی مدد کی جائے اور اگر ان بچوں کے ماں باپ نہ ہوں تو ان کے مال اور جائیداد کی پوری دیانت و امانت کے ساتھ حفاظت کی جائے نیز ان بچوں کو کسی طرح باپ کی چھوڑی ہوئی میراث سے محروم نہ کیا جائے۔ قرآن کریم اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات نے ان لوگوں کی دنیا بدل کر رکھ دی تھی جو یتیموں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ کرتے تھے جن کے پتھروں کبھی یتیموں کے لئے نرم گوشہ نہ رکھتے تھے وہ یتیموں پر بےانتہا مہربان ہوگئے۔ ہر یتیم کی پرورش، نگہبانی اور نرمی و محبت کیلئے کئی کئی ہاتھ بڑھنے لگے اور ہر ایک دل کی یہ خواہش بن گئی کہ وہ کسی نہ کسی یتیم بچے کی پر وشر کرسکے۔ ٭… اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یتیموں کو ان کے وارثوں کا چھوڑا ہوا مال دے دو ۔ ان کے اچھے مال کو خراب مال سے تبدیل نہ کرو اور نہ اپنے مال کے ساتھ ملا کر ان (یتیموں کا) مال کھا جاؤ یہ بڑے گناہ کی بات ہے۔ (سورۃ النسائ) ٭… فرمایا گیا کہ جو لوگ یتیموں کا مال ہضم کر جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرتے ہیں فرمایا کہ وہ لوگ یتیموں کے جوان ہوجانے کے خوف سے ان کے باپ کی چھوڑی ہوئی وراثت کو جلد از جلد کھا کر ہضم کرنے کے چکر میں لگے رہتے تھے اور ان کو بےعزت کرتے تھے۔ (سورۃ البلد) ٭… فرمایا کہ وہ مال جس کو اللہ نے تمہارے کھڑا رہنے کا ذریعہ بنایا ہے اس مال کو نادانوں کے سپرد نہ کرو۔ ان (یتیم) بچوں کو کھلاؤ پہناؤ اور ان سے قاعدے طریقے کی بات کرو اور ان کو آزماتے رہو جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں اور پھر تم ان میں سمجھ اور شعور کو محسوس کرلو تو ان کا مال ان کے سپرد کر دو ۔ غرضیکہ یتیم کے مال کی حفاظت اور ان کے اخلاق کی نگرانی کو ہر مسلمان کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی یتیموں کی خبر گیری کے احکامات ارشاد فرمائے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو کسی یتیم بچے کو اپنے گھر بلا کر اس کو کھلائے پلائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت عطا فرمائے گا بشرطیکہ اس نے کوئی ایسا گناہ نہ کیا ہو جو ناقابل معافی ہو۔ (ترغیب و ترھیب) فرمایا کہ مسلمانوں کا سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم بچے کیس اتھ محبت و مہربانی کا معاملہ کیا جا رہا ہو اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہو (ابن ماجہ) قرآن کریم اور ارشاد نبوی کی وجہ سے صحابہ کرام نے بھی یتیموں کے معاملے میں بہت احتیاط کی ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا۔ چناچہ حضرت عبداللہ ابن عمر کا یہ حال تھا کہ وہ اس وقت تک کھانا پسند نہ فرماتے تھے جب تک ان کے دستر خوان پر کوئی یتیم موجود نہ ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ بےباپ کے بچے پورے معاشرے اور خاندان کے ہر فرد کی ذمہ داری ہیں کہ ان کی اور ان کے مال و جائیداد کی حفاظت کریں تاکہ وہ بڑے ہو کر اسلامی معاشرے کے مفید اور بہترین فرد بن سکیں اور الحمد اللہ اہل ایمان نے اس تقاضے کو ہر دور میں احسن طریقے پر پورا کرنے کی سعادت حاصل کی ہے اور یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھا ہے۔ 5- وعدہ پور کرنا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایسے لوگوں کو گم راہ اور فاسق قرار دیا ہے جو عہد و پیمان کرنے کے بعد ان کو توڑ دیتے ہیں۔ فرمایا کہ قرآن کریم پڑھنے کے باوجود وہ لوگ گم راہ ہوجاتے ہیں جو فاسق ( گناہ گار نافرمان) ہیں۔ وہ لوگ جو عہد کو پختہ کرنے کے بعد اس کو توڑ دیتے ہیں (بقرہ) اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وعدے کی پابندی کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے وہ عہد و پیمان بندوں نے بندوں سے کیا ہو یا بندوں نے اللہ سے کیا ہو۔ اپنے عہد اور وعدوں کو پورا کرنے والوں کو اللہ پسند فرماتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت گواہ ہے کہ آپ نے جنگ و امن اور عام زندگی میں ایفائے عہد کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے۔ یہاں تک فرمایا کہ منافق کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ وہ جب بھی وعدہ کرتا ہے تو اس کو پورا نہیں کرتا۔ قرآن کریم کی سورة المومنون میں اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں کامیاب و بامراد ہونے والوں کی ایک صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ جب وہ کسی سے وعدہ کرتے ہیں تو اس کو ہر حال میں پورا کرتے ہیں۔ کوئی حال بھی ہو وعدہ خلافی اور عہد شکنی کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر اس معاہدہ کو جو شریعت کے احکامات کے مطابق ہو اس کی پابندی کو لازمی قرار دیا ہے۔ اصل میں وہ انسان ہمیشہ عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جو اپنی زبان کا پابند ہو۔ تجارتی لین دین کا وقت ہو یا گھریلو خاندانی معاملات ہوں ان میں سے اسی شخص کو پسند کیا جاتا ہے جو زبان کا پکا ہو اور اس پر وہ عمل کرتا ہو خواہ اس کی وجہ سے اس کو کتنا بڑا نقصان ہی کیوں نہ اٹھاناپ ڑے۔ لیکن وہ شخص جو زبان کا پکا اور پابند نہ ہو اس کا اعتماد اور بھروسہ زندگی کے کسی معاملے میں بھی نہیں کیا جاتا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ اے مومنو ! تم اپنے عہد و پیمان کو پورا کرو کیونکہ کل قیامت کے دن اس کے متعلق تم سے سوال کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن نہایت ذمہ دار شخص ہوتا ہے۔ وہ جس بات کا عہد کرتا ہے اس کو پورا کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہتا۔ 6- ماپ تول میں کمی جس معاشرہ میں تجارتی دیانت و امانت کا چلن ہوتا ہے وہ ایک کامیاب، بہترین، پر اعتماد اور خوش حال معاشرہ کہلاتا ہے۔ اس کا ہر طرف ایک بھرم اور وقار ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف جس معاشرہ میں بد دیانتی، بد نیتی، دھوکہ، فریب عام ہوجائے جس میں لینے کے پیمانے اور دینے کے پیمانے الگ الگ ہوجائیں وہ معاشرہ نہ صرف بد نام ہوجاتا ہے بلکہ وہ اپنے ہی کرتوتوں میں ڈوب جاتا ہے اور اس کا نقصان ہر شخص کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ماپ تول میں کمی کرن کو تجارتی بد دیانتی کہا جاتا ہے اس بددیانتی اور بد معاملگی کی شریعت نے سخت ممانتع فرمائی ہے۔ فرمایا گیا کہ لوگو ! تم ہمیشہ سیدھی ترازو سے تولا کرو اس میں کمی نہ کرو، ڈنڈی نہ مارو (ورنہ تمہاری زندگی کی برکتیں اٹھ جائیں گی) جو لوگ دیانت و امانت کو رواج دیں گے بہترین انجام ان ہی لوگوں کا مقدر ہوگا۔ لیکن اگر بد دیانتی عام ہوگئی تو نہ صرف دنیا کین ظروں میں بےوقعت اور بےوزن ہوجائیں گے بلکہ اس معاشرہ کا انجام بھی بڑا بھیانک ہوگا ۔ ماپ تول میں کمی نہ کرنے والی قوموں کو باعزت مقام عطا کیا جاتا ہے اور ماپ تول میں بد دیانتی معاشرہ کو لے ڈوبتی ہے۔ ماپ تول میں کمی کتنا بڑا جرم ہے اس کا اندازہ حضرت شعیب کے واقعات زندگی سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ قوم جو تجارتی اور معاشرتی اعتبار سے نہایت مضبوط اور خوش حال تھی ہر طرف سے مال و دولت کی ریل پیل تھی، خوبصورت و حسین شہر، سرسبز و شاداب باغات ، لہلہاتی کھیتیاں اور وہ بلند وبالا عمارتوں کے مالک تھے لیکن ان میں دنیا کے حرص، لالچ اور دولت پیدا کرنے کی تمنا اور لوٹ کھسوٹ اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ وہ جائز و ناجائز کی پرواہ نہ کرتے تھے۔ ایک اللہ کو بھول کر انہوں نے اپنی تمناؤں کے سینکڑوں بت بنا رکھے تھے تجارتی بد دیاتنی، لالچ، حرص اور کفر و شرک کی جب انتہاء ہوگئی تو اللہ نے اس قوم کی اصلاح کے لئے حضرت شعیب کو بھیاج۔ حضرت شعیب نے اس قوم کو ہر طرح سمجھایا ہر اونچ نیچ سے آگاہ کیا مگر وہ قوم اپنی بدمستیوں، دنیا کے لالچ اور کفر و شرک میں اس طرح مگن تھی کہ انہوں نے حضرت شعیب کی ایک بات بھی تسلیم نہ کی بالآخر وہ قوم اپنے انجام سے دوچار ہوئی اور پانی کے وہ بند جوان کی زندگی کا سامان تھے ان کو اللہ نے اس طرح توڑ کر رکھ دیا کہ اسی پانی کے سیلاب میں ان کی دولت ، گھر بار، تہیذب و ترقیاں سب ڈوب گئیں اور اس قوم کا نام و نشان مٹ گیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہاں تجارتی بد دیانتیوں کی سخت مذمت فرمائی ہے وہیں آپ نے ان تاجروں کی عظمت بھی بیان فرمائی ہے جو نہایت سچے، دیانت دار اور امانت دار ہو کر تجارت کرتے ہیں۔ فرمایا کہ سچے اور دیانت و امانت کے پیکر ایک تاجر کا یہ مقام ہے کہ وہ قیامت کے دن جب اٹھے گا تو انبیاء کرام، صدقین، صلحا اور نیک انسانوں کی صف میں کھڑا ہوگا۔ ( اور جنت کا ہر دروازہ اس کو اپنی طرف آنے کی دعوت دے گا) اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کو بھی ہر طرح کی بد دیانتی، لوٹ کھسوٹ، ظلم و زیادتی حرص، لالچ اور کفر و شرک سے محفوظ فرمائے۔ (آمین) ۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ جاہلیت میں بعضے آدمی بیٹیوں کو خوف فقر سے مار ڈالتے تھے، پس اولاد سے مراد بنات ہوں گی۔ اور اولاد کے عنوان سے تعبیر کرنا اظہار وتعلق و اختصاص کے لئے ہے کہ جوش ترحم ہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ضبط اولاد کے مصنوعی اور غیر شرعی طریقوں سے بدکاری کو رواج ملتا ہے۔ لہٰذا زنا کے راستوں اور طریقوں سے منع کیا گیا ہے۔ زنا کے نتیجہ میں حمل ٹھہر جائے تو بچہ ضائع کردیا جاتا ہے۔ اس لیے قتل اولاد سے منع کرنے کے بعد زنا سے بھی منع کیا گیا ہے۔ دین اسلام نہ صرف زنا سے منع کرتا ہے بلکہ وہ زنا کی قربتوں اور راستوں سے بھی روکتا ہے اور زنا کو بےحیائی اور برا راستہ قرار دیتا ہے۔ اس لیے جن راستوں اور واسطوں کے ذریعے آدمی زنا کا مرتکب ہوتا ہے۔ ان سے اجتناب کرنے کا سختی کے ساتھ حکم دیا گیا ہے۔ زنا ایسا برا عمل ہے جو آدمی سے یکدم سرزد نہیں ہوتا بلکہ پہلے کچھ اقدامات اور حرکات کرنا پڑتی ہیں۔ پہلے ایک دوسرے کو دیکھا دیکھی ہوتی ہے، پھر قربت کے راستے تلاش کیے جاتے ہیں۔ بسا اوقات ایک دوسرے کو دیکھے بغیر صرف آواز کے جادو سے متاثر ہو کر مرد عورت کا گرویدہ ہوجاتا ہے۔ دین نے اس لیے غیر محرم مرد اور عورت کو ایک دوسرے کو ارادتًا دیکھنے سے منع کیا ہے حتیٰ کہ عورتوں کو حکم دیا کہ وہ بازار میں نکلیں تو ان کا چلنے کا انداز شریفانہ ہونا چاہیے۔ اگر کسی غیر محرم سے بات کرنا ناگزیرہو تو عورت کی آواز میں لوچ نہیں ہونی چاہیے۔ (الاحزاب : ٣٢) گانا بجانا اور موسیقی کی آواز بھی آدمی کے دل میں بےحیائی پیدا کرتی ہے اس لیے ایسی تمام چیزوں کے استعمال اور ان کے قریب جانے سے روک دیا گیا ہے تاکہ مسلمان معاشرہ شرم و حیا کا پیکر بن جائے۔ اسی بنا پر حکم دیا ہے کہ زنا کے قریب تک نہ جانا کیونکہ یہ بےحیائی کے ساتھ بدترین راستہ ہے۔ اس راستہ پر چل کر آدمی کا مال، عزت، یہاں تک کہ قتل کے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں۔ یہ ایسا برا راستہ ہے کہ آدمی کے کردار پر ہمیشہ کے لیے بد نما دھبہ لگ جاتا ہے بالخصوص بدکاری کرنے والی عورت نہ صرف اپنے والدین، بہن بھائیوں، خاندان کے لیے عار کا سبب بنتی ہے بلکہ شادی کے بعد بھی یہ حرکت اس کی اولاد کے لیے مستقل طعنہ بنا رہتا ہے۔ غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں اگر اس فعل کے نتیجہ میں حمل ٹھہر جائے تو بچہ ضائع کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہوتا جو واضح طور پر ایک جان کا قتل ہے۔ کئی مرتبہ ایسے بچوں کو گندگی کے ڈھیر پر پھینک دیا جاتا ہے۔ اس طرح زنا ہر قسم کی زیادتی اور بےحیائی کو فروغ دیتا ہے۔ ان برائیوں کی وجہ سے حکم دیا ہے کہ زنا کے قریب نہ پھٹکنا کیونکہ یہ سراسر بےحیائی اور برائی کا راستہ ہے۔ بدکاری سے بچنے کے احکام : (وَلَا تَقْرَبُوْا الزِّنَا إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَاءَ سَبِیْلاً )[ الاسراء : ٣٢] ” اور تم زنا کے قریب نہ جاؤیقیناً یہ فحاشی اور بری راہ ہے۔ “ ” مومنوں کو فرما دیجیے اپنی نظروں کو جھکا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔ “ [ النور : ٣٠] ” اے پیغمبر ! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے اوپر لٹکا لیں۔ یہ امر ان کے لیے موجب شناخت ہوگا تو کوئی ان کو ایذاء نہ دے گا اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ “ [ الاحزاب : ٥٩] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کے بیٹے پر اس کے حصّے کا زنا لکھ دیا ہے وہ ضرور اس کو پائے گا۔ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے اور انسان کے نفس میں بری خواہش پیدا ہوتی ہے۔ وہ شہوت پر آمادہ ہوتا ہے۔ شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ (بخاری ومسلم) مسلم کی روایت میں ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آدم کے بیٹے پر اس کے زنا کا حصہ ثبت ہے وہ ضرور اس کو پانے والا ہے۔ آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے اور زبان کا زنا کلام کرنا ہے۔ ہاتھ کا زناپکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چل کر جانا ہے۔ دل خواہشات اور آرزوئیں پیدا کرتا ہے۔ شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ “ یعنی زنا کرنے سے اس کی تصدیق ہوجائے گی۔ زنا کرنے سے دل کی خواہش کی نفی ہوگی۔ [ رواہ مسلم : کتاب القدر، باب قدر علی ابن آدم حظہ من الزنا وغیرہ ] زانی کی سزا : (عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ وَ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ (رض) اَنَّ رَجُلَیْنِ اخْتَصَمَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ اَحَدُھُمَا اقْضِ بَیْنَنَا بِکِتَاب اللّٰہِ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اَجَلْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَاقْضِ بَیْنَنَا بِکِتَاب اللّٰہِ وَ أءْذَنْ لِیْ اَنْ اَتَکَلَّمَ قَالَ تَکَلَّمْ قَالَ اِنَّ ابْنِیْ کَانَ عَسِیْفًا عَلٰی ھٰذَا فَزَنٰی بامْرَاَتِہٖ فَاَخْبَرُوْنِیْ اَنَّ عَلٰی ابْنِیَ الرَّجْمَ فَافْتَدَیْتُ مِنْہُ بِمِاءَۃِ شَاۃٍ وَ بِجَارِیَۃٍ لِیْ ثُمَّ اِنِّی سَاَلْتُ اَھْلَ الْعِلْمِ فَاَخْبَرُوْنِی اَنَّ عَلَی ابْنِی جَلْدَ مِا ءَۃٍ وَ تَغْرِیْبَ عَامٍ وَ اِنَّمَا الْرَّجْمُ عَلَی امْرَاَتِہٖ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اَمَا وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہٖ لَاَ قْضِیَنَّ بَیْنَکُمَا بِکِتَاب اللّٰہِ اَمَّا غَنَمُکَ وَ جَارِیَتُکَ فَرَدٌّ عَلَیْکَ وَاَمَّا ابْنُکَ فَعَلَیْہِ جَلْدُ ماءَۃٍ وَ تَغْرَیْبُ عَامٍ وَاَمَّا اَنْتَ یَا اُنَیْسُ فَاغْدُ اِلَی امْرَاَۃِ ھٰذَا فَاِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْھَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَھَا) [ رواہ البخاری : باب إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَی صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) اور زید بن خالد (رض) بیان کرتے ہیں کہ دو شخص رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مقدمہ لے کر آئے۔ ایک نے کہا ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے موافق فیصلہ فرمائیں۔ دوسرے نے اس کی تائید کرتے ہوئے کہا ‘ کہ اللہ کے رسول ! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بات کرو۔ اس نے کہا میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا ‘ اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کیا۔ مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے کی سزا رجم ہے۔ میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں اور ایک لونڈی بطور فدیہ دی۔ بعد ازاں میں نے علماء (یہود) سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے بطور حد لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے اسے جلا وطن کردیا جائے گا۔ البتہ اس کی بیوی کو رجم کیا جائے گا۔ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یاد رکھو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ بکریاں اور لونڈی تجھے واپس کی جائیں۔ تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے جلا وطن کردیا جائے گا۔ اے انیس ! صبح اس کی بیوی کے پاس جائیں اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے رجم کردیں۔ اس عورت نے زنا کا اقرار کیا لہٰذا اسے رجم کردیا گیا۔ “ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ لَمَّا اَتٰی مَاعِزُ ابْنُ مَالِکٍ (رض) النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ لَہٗ لَعَلَّکَ قَبَّلْتَ اَوْ غَمَزْتَ اَوْ نَظَرْتَ قَالَ لَا یَا رَسُوْلَ ا للّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ اَنِکْتَھَا لَا یَکْنِیْ قَالَ نَعَمْ فَعِنْدَ ذٰلِکَ اَمَرَ بِرَجْمِہٖ ) [ رواہ البخاری : باب ہَلْ یَقُولُ الإِمَامُ لِلْمُقِرِّ لَعَلَّکَ لَمَسْتَ أَوْ غَمَزْتَ ] ” حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب ماعز بن مالک (رض) نبی گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا ‘ شاید تو نے بوس و کنار اور ملاپ کیا ہو یا اسے دیکھا ہو۔ اس نے کہا نہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا ‘ کیا تو نے اس سے جماع کیا ہے ؟ آپ کنایہ نہیں کر رہے تھے۔ اس نے کہا ‘ جی ہاں ! تو آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ “ مسائل ١۔ زنا کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے۔ ٢۔ زنا بےحیائی اور بری راہ ہے۔ تفسیر بالقرآن زنا کی برائیاں : ١۔ زنا کے قریب نہ جاؤ یقیناً یہ بےحیائی اور برا راستہ ہے۔ (بنی اسرائیل : ٣٢) ٢۔ نیک لوگ کسی کو ناحق قتل نہیں کرتے اور نہ زنا کرتے ہیں۔ (الفرقان : ٦٨) ٣۔ زانی مرد اور عورت کو سو کوڑے لگائیں۔ (النور : ٢) ٤۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، چوری نہ کریں اور زنا نہ کریں۔ (الممتحنۃ : ١٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حقیقت یہ ہے کہ نظریاتی گمراہی کے نتیجے میں کسی بھی سوسائٹی کے اندر عملی خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔ نظریاتی بےراہ روی کی وجہ سے صرف نظریہ ہی خراب نہیں ہوتا یا اس کے نتیجے میں محض مذہبی مراسم میں کمزوری نہیں آتی بلکہ سوسائٹی کا اجتماعی نظام بھی خراب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کا نظریہ درست ہو تو صرف اس کی عبادت ہی درست نہیں ہوجاتیں بلکہ اس سوسائٹی کا عملی نظام ، اس کے اجتماعی ادارے بھی صحیح و سلامت ہوجاتے ہیں اور درست سمت میں کام کرتے ہیں۔ اور لڑکیوں کے زندہ درگور کرنے کی یہ رسم محض غلط عقیدے پر قائم کی تھی کہ لڑکیوں کی وجہ سے غربت آتی ہے ، جب یہ عقیدہ پیدا ہوا کہ رزاق صرف اللہ ہے تو اس کے بعد قتل اولاد خود بخود موقوف ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی نظریہ زندگی پر عملاً اثر انداز ہوتا ہے۔ نظریہ محض خلا میں نہیں ہوتا یا محض کسی شخص کے دماغ تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ کہ وہ عمل کی دنیا تک اترتا ہے۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ قرآن کے انداز تعبیر کی ایک نہایت ہی گہری مثال پر قدرے غور کریں۔ یہ عجیب لطیف مثال ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کے رزق کو آباء کے رزق پر مقدم رکھا۔ نحن نرقھم وایاکم (٧١ : ١٣) ” ہم تمہاری اولاد کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی “۔ لیکن سورت انعام میں اولاد کے رزق پر آبا کے رزق کو مقدم رکھا گیا ، وہاں کہا گیا۔ نحن نرزقکم وایاھم (٦ : ١٥١) ” ہم تمہیں اولاد کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی “۔ لیکن سورت انعام میں اولاد کے رزق پر آبا کے رزق کو مقدم رکھا گیا ، وہاں کہا گیا۔ نحن نرزقکم وایاھم (٦ : ١٥١) ” ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہاری اولاد کو بھی “۔ کیونکہ دونوں آیات کے مفہوم میں ایک دوسرا اختلاف ہے۔ پوری آیات یوں ہیں : ولا تقتلوا اولاد کم خشیۃ املاق نحن نرزقھم وایاکم (٧١ : ١٣) اور انعام میں یوں تھی : ولا تقتلوا اولادکم من املاق نحن نرزقکم ویاھم (٦ : ١٥١) یہاں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اولاد کو اس لئے قتل نہ کرو کہ تم غریب ہوجائو گے۔ خشیۃ املاق (٧١ : ١٣) اس لئے اللہ نے فرمایا کہ اولاد کا رزق ہم پر ہے۔ اور انعام یہ تھا من املاق یعنی فقر اور تنگی رزق پہلے سے موجود تھے ، اس لئے والدین کے رزق کو پہلے لایا گیا۔ یہ ایک لطیف فرق ہے اور اسی وجہ سے تقدیم و تاخیر کا یہ عمل ہوا۔ قتل اولاد کی ممانعت کی نسبت ہی سے ممانعت زنا کا حکم آتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، زنا کے قریب نہ جاؤ، کسی جان کو بلاشرعی حکم کے قتل نہ کرو، یتیموں کا مال نہ کھاؤ ان آیات میں متعدد احکام ذکر فرمائے ہیں، پہلا حکم یہ فرمایا کہ اپنی اولاد کو تنگدستی کے ڈر سے قتل نہ کرو اہل عرب اولاد کو اس وجہ سے قتل کردیتے تھے کہ ہم اولاد کو کہاں سے کھلائیں گے جو لوگ تنگدستی میں ایسا کرتے تھے ان کے بارے میں فرمایا (وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ ) یہ الفاظ سورة انعام میں ہیں اور کچھ لوگ اس لیے قتل کردیتے تھے کہ ممکن ہے آئندہ تنگدست ہوجائیں۔ ان کے لیے فرمایا (وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ ) تم تنگدستی کے ڈر سے اولاد کو قتل نہ کرو، یہ سورة الاسراء کے الفاظ ہیں نیز اہل عرب لڑکیوں کو قتل کردیتے تھے تاکہ کسی کو داماد نہ بنانا پڑے یہ سب جاہلانہ رسمیں تھیں، زمانہ جاہلیت میں شیطان نے اہل عرب کو ان چیزوں پر ڈالا تھا اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا (اِنَّہٗ کَانَ خِطْاً کَبِیْرًا) ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے۔ پرانی جاہلیت اب پھر عود کر آئی ہے دشمنان اسلام نے یہ بات اٹھائی ہے کہ اتنے سال کے بعد تک اگر بچوں کی پیداوار کی شرح اسی طرح رہی جو پورے عالم میں ہے تو زمین چھوٹی پڑجائے گی اور کھانے پینے کی چیزوں کی کفایت نہ ہوگی لہٰذا ایسی کوششیں جاری کردی گئی ہیں جو ان کے خیال میں بچوں کی پیدائش روکنے والی ہیں اس کے لیے کئی کئی طرح سے پروپیگنڈا ہو رہا ہے۔ بھاری بھاری رقمیں خرچ کی جا رہی ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ دشمنان اسلام جو کچھ کہہ دیتے ہیں مسلمان صاحب اقتدار اسے تسلیم کرلیتے ہیں قرآن و حدیث کی تصریحات کو بالکل نہیں دیکھتے قرآن نے اس جہالت کا پہلے ہی جواب دیدیا اور فرما دیا (نَحْنُ نَرْزُقُھُمْ وَ اِیَّاکُمْ ) (ہم تمہیں بھی رزق دیں گے اور انہیں بھی رزق دیں گے) تمہیں کس نے روزی رساں بنایا ہے اور کس نے اللہ کی مخلوق کو رزق دینے کا ٹھیکہ دیا ہے، درحقیقت جتنے بھی طریقے تقلیل اولاد کے لیے جاری کیے ہیں یہ سب اللہ کی قضاء و قدر کے سامنے ناکام ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے ما من نسمۃ کائنۃ الی یوم القیمۃ الاوھی کائنۃ (یعنی اللہ کے علم میں قیامت کے دن تک جتنی بھی جانیں پیدا ہونے والی ہیں وہ ضرور پیدا ہو کر رہیں گی) اور ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ما من کل الماء یکون الولد و اذا اراد اللّٰہ خلق شئ لم یمنعہ شئ ہر نطفے سے اولاد نہیں ہوتی اور جب اللہ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسے کوئی چیز روکنے والی نہیں (مشکوٰۃ المصابیح ص ٢٧٥) دیکھا جاتا ہے کہ مرد و عورت ولادت کو روکنے کے لیے کئی طرح کی چیزیں استعمال کرتے ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ کو تخلیق منظور ہوتی ہے تو ان سب چیزوں کے باوجود استقرار ہوجاتا ہے اور اولاد پیدا ہوتی ہے۔ آنے والے انسانوں کے یہی خیر خواہ جو ان کی آمد اور پیدائش کو روکنے کے لیے زور لگا رہے ہیں انہیں وقت سے پہلے آنے والوں کی روزی کی تو فکر ہے لیکن موجودہ انسانوں کی جانوں کا فکر نہیں انہیں جگہ جگہ قتل کرتے ہیں اور قتل کرواتے ہیں اور ایسے ایسے آلات حرب تیار کر رکھے ہیں جو دو چار منٹ میں ہی پورے عالم کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

31:۔ دفع عذاب کے لیے امر سوم کا ذکر یعنی مخلوق خدا پر ظلم نہ کرو یہاں چھ امور ظلم ذکر کیے گئے ہیں۔ یہ پہلا ظلم ہے یعنی تنگدستی اور تنگی رزق کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو اولاد کو قتل کرنا بہت بڑا کبیر گناہ ہے۔ آخر تم بھی رزق کھا کر ہی جی رہے ہو تمہیں روزی کون دیتا ہے جب میں تمہیں روزی دے رہا ہوں تو انہیں بھی دوں گا اس لیے تنگی رزق کا اندیشہ نہ کرو۔ عرب کے لوگ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ عورت چونکہ روزی نہیں کما سکتی اور والدین پر اس کی پرورش بوجھ بن جاتی ہے اس لیے وہ شروع ہی میں اسے ٹھکانے لگا دیتے تو اللہ تعالیٰ نے اس ظالمانہ حرکت سے منع فرمایا۔ خاندانی منصوبہ بندی بھی ایک معنی میں قتل اولاد کے تحت داخل ہے اس لیے یہ آیت اس کو بھی شامل ہے اور یہ بھی ظلم ہے۔ علی ہذا جس طرح اولاد کا جسمانی قتل ظلم ہے اسی طرح روحانی قتل بھی ظلم ہے۔ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کو موجودہ اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم دلوانا اسلامی علوم و فنون سے بےبہرہ رکھ کر ان کو غیر اسلامی فنون اور غیر اسلامی تہذیب سکھانا اور انہیں بےحیائی اور فواحش کی تعلیم دینا اولاد کا روحانی قتل ہے جو بہت بڑا ظلم ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

3 1 اور اپنی اولاد کو ناداری اور افلاس کے خوف سے قتل مت کیا کرو ہم ہی ان کو بھی روزی دیتے ہیں اور تم کو بھی رزق دیتے ہیں بلاشبہ ان کا قتل کردینا بڑا گناہ اور بڑی بھاری چوک ہے۔ دور جاہلیت میں غربت اور افلاس کی وجہ سے اولاد کو قتل کردیا کرتے تھے بیٹیوں کو تو عام طور سے زندہ درگور کردینے کی رسم تھی کوئی بیٹوں کو بھی قتل کردیتا ہوگا یا اولاد کا لفظ محض ترحم اور شفقت کی وجہ سے فرمایا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کافر بیٹیوں کو مار ڈالتے تھے کہ اس کا خرچ کہاں سے لائیں گے۔ 13