Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 41

سورة بنی اسراءیل

وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لِیَذَّکَّرُوۡا ؕ وَ مَا یَزِیۡدُہُمۡ اِلَّا نُفُوۡرًا ﴿۴۱﴾

And We have certainly diversified [the contents] in this Qur'an that mankind may be reminded, but it does not increase the disbelievers except in aversion.

ہم نے تو اس قرآن میں ہر ہر طرح بیان فرما دیا کہ لوگ سمجھ جائیں لیکن اس سے انہیں تو نفرت ہی بڑھتی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says: وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَـذَا الْقُرْانِ ... And surely, We have explained in this Qur'an, meaning, `We have explained Our warnings so that they may remember the proof, evidence and exhortations contained therein, and be prevented from Shirk, wrongdoing and scandal.' ... لِيَذَّكَّرُواْ ... that they may take heed, ... وَمَا يَزِيدُهُمْ ... but it increases them in naught, the wrong- doers among them. ... إِلاَّ نُفُورًا save aversion. aversion towards the truth; they go further away from it.

دلائل کے ساتھ ہدایت اس پاک کتاب میں ہم نے تمام مثالیں کھول کھول کر بیان فرما دی ہیں ۔ وعدے وعید صاف طور پر مذکور ہیں تاکہ لوگ برائیوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچیں ۔ لیکن تاہم ظالم لوگ تو حق سے نفرت رکھتے اور اس سے دور بھاگنے میں ہی بڑھ رہے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

41۔ 1 ہر ہر طرح کا مطلب ہے، وعظ و نصیحت، دلائل و بینات اور مثالیں و واقعات، ہر طریقے سے بار بار سمجھایا گیا ہے تاکہ وہ سمجھ جائیں، لیکن وہ کفر شرک کی تاریکیوں میں اس طرح پھنسے ہوئے ہیں کہ وہ حق کے قریب ہونے کی بجائے، اور زیادہ دور ہوگئے ہیں۔ اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ قرآن جادو، کہانیاں اور شاعری ہے، پھر وہ اس قرآن سے کس طرح راہ یاب ہوں ؟ کیونکہ قرآن کی مثال بارش کی ہے کہ اچھی زمین پر پڑے تو وہ بارش سے شاداب ہوجاتی ہے اور اگر وہ گندی ہے تو بارش سے بدبو میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥١] کافروں کو قرآن کی نصیحتیں کیوں راس نہیں آتیں ؟:۔ کیونکہ جب طبیعت میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو صحت بخش اور عمدہ غذائیں بھی راس نہیں آتیں۔ بلکہ جب تک مرض کا پوری طرح علاج نہ کرلیا جائے۔ عمدہ سے عمدہ غذائیں بھی مزید بدہضمی کا سبب بن جاتی ہیں۔ یہی حال ان کافروں کا ہے کہ قرآن کریم کے اعلیٰ سے اعلیٰ دلائل سن کر نصیحت قبول کرنے کے بجائے یہ بدبخت اور زیادہ بدکتے اور وحشت کھا کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ۧوَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ ۔۔ : ” نُفُوْرًا “ کا معنی نفرت، بدکنا، دور بھاگنا ہے۔ اس قرآن میں پھیر پھیر کر بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر ضروری بات کو تکرار کے ساتھ مختلف طریقوں سے بار بار بیان کیا ہے، تاکہ ان لوگوں کو نصیحت ہو، مگر نصیحت تو سننے سے ہوتی ہے، جب کہ یہ لوگ جس قدر سنانے کی کوشش کی جائے اسی قدر دور بھاگتے ہیں، سننا ہی نہیں چاہتے، پھر مانیں گے کیسے ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْا ۭ وَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا 41؀ صرف الصَّرْفُ : ردّ الشیء من حالة إلى حالة، أو إبداله بغیره، يقال : صَرَفْتُهُ فَانْصَرَفَ. قال تعالی: ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152] ( ص ر ف ) الصرف کے معنی ہیں کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیر دینا یا کسی اور چیز سے بدل دینا ۔ محاور ہ ہے ۔ صرفتہ فانصرف میں نے اسے پھیر دیا چناچہ وہ پھر گیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152] پھر خدا نے تم کو ان کے مقابلے سے پھیر کر بھگادیا ۔ قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ؂[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ تَّذْكِرَةُ : ما يتذكّر به الشیء، وهو أعمّ من الدّلالة والأمارة، قال تعالی: فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ، كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] ، أي : القرآن . وذَكَّرْتُهُ التذکرۃ جس کے ذریعہ کسی چیز کو یاد لایا جائے اور یہ دلالت اور امارت سے اعم ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ان کو کیا ہوا کہ نصیحت سے روگرداں ہورہے ہیں ۔ كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] دیکھو یہ ( قرآن ) نصیحت ہے ۔ مراد قرآن پاک ہے ۔ ذَكَّرْتُهُ كذا زاد الزِّيادَةُ : أن ينضمّ إلى ما عليه الشیء في نفسه شيء آخر، يقال : زِدْتُهُ فَازْدَادَ ، وقوله وَنَزْداد كَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] ( زی د ) الزیادۃ اس اضافہ کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے پورا کرنے کے بعد بڑھا جائے چناچہ کہاجاتا ہے ۔ زدتہ میں نے اسے بڑھا یا چناچہ وہ بڑھ گیا اور آیت :۔ وَنَزْدادُكَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] اور ( اس کے حصہ کا ) ایک بار شتر غلہ اور لیں گے ۔ نفر النَّفْرُ : الانْزِعَاجُ عن الشیءِ وإلى الشیء، کالفَزَعِ إلى الشیء وعن الشیء . يقال : نَفَرَ عن الشیء نُفُوراً. قال تعالی: ما زادَهُمْ إِلَّا نُفُوراً [ فاطر/ 42] ، وَما يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُوراً [ الإسراء/ 41] ونَفَرَ إلى الحربِ يَنْفُرُ ويَنْفِرُ نَفْراً ، ومنه : يَوْمُ النَّفْرِ. قال تعالی: انْفِرُوا خِفافاً وَثِقالًا [ التوبة/ 41] ، إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذاباً أَلِيماً [ التوبة/ 39] ، ما لَكُمْ إِذا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ التوبة/ 38] ، وَما کانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ [ التوبة/ 122] . ( ن ف ر ) النفر ( عن کے معی کسی چیز سے رو گردانی کرنے اور ( الی کے ساتھ ) کسی کی طرف دوڑنے کے ہیں جیسا کہ نزع کا لفظ الیٰ اور عن دونوں کے ساتھ استعمال ہوتا ہے محاورہ ہے نفر عن الشئی نفورا کسی چیز سے دور بھاگنا ۔ قرآن میں ہے ما زادَهُمْ إِلَّا نُفُوراً [ فاطر/ 42] تو اس سے ان کی نفرت ہی بڑھی ۔ وَما يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُوراً [ الإسراء/ 41] مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں ۔ نفر الی الحرب ( ض ن ) نفر لڑائی کیلئے نکلنا اور اسی سی ذی الحجہ کی بار ھویں تاریخ کو یوم النفر کہا جاتا ہے کیوں کہ اس روز حجاج منیٰ سے مکہ معظمہ کو واپس ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے انْفِرُوا خِفافاً وَثِقالًا[ التوبة/ 41] تم سبکسار ہو یا گراں بار ( یعنی مال واسباب تھوڑا رکھتے ہو یا بہت گھروں سے نکل آؤ ۔ إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذاباً أَلِيماً [ التوبة/ 39] اگر نہ نکلو گے تو خدا تم کو بڑی تکلیف کا عذاب دے گا ۔ ما لَكُمْ إِذا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ التوبة/ 38] تمہیں کیا ہوا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں جہاد کے لئے نکلو وما کان الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ [ التوبة/ 122] اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب سب نکل آئیں تو یوں کیوں نہیں کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤١) اور ہم نے اس قرآن میں وعدے اور وعید سب کو بیان کیا ہے تاکہ اچھی طرح نصیحت حاصل کرلیں، باقی قرآن کریم کی وعیدیں سن کر وہ تو ایمان سے دور ہی بھاگ رہے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤١ (وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْا) ان کی نصیحت کے لیے ہم نے قرآن میں اسلوب بدل بدل کر حق کو واضح کیا ہے۔ اس سورة مبارکہ کے بارے میں ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں قرآن کا لفظ اور ذکر بار بار آیا ہے۔ گویا اس سورت کے مضامین کا تانا بانا قرآن سے متعلق ہے۔ اس سے پہلے آیت ٩ میں فرمایا گیا : (اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ ) ۔ آیت زیر نظر میں بھی قرآن کا ذکر ہے اور یہ ذکر اس انداز میں آئندہ آیات میں بھی بار بار آئے گا۔ (وَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا) یہ ان لوگوں کی بد بختی ہے کہ قرآن میں گوناگوں اسلوبوں میں حق واضح ہوجانے کے باوجود ان کی بیزاری اور نفرت ہی میں اضافہ ہورہا ہے اور وہ حق سے اور زیادہ دور بھاگے جا رہے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤١:۔ اللہ پاک نے اس آیت میں یہ بیان کیا کہ ہم نے اس قرآن پاک میں جابجا مثالیں اور حکم اور نصیحت اور قصے یہ سب کچھ بیان کیا ہے تاکہ یہ اسے پڑھ کر اور سن کر عبرت پکڑیں اور نصیحت اختیار کریں اور اپنے قول وفعل سے باز آئیں لیکن جن کی طینت میں کفر ونفاق ہے وہ ان باتوں کو سن کر اور بھی دین حق سے نفرت کرتے ہیں اور بھاگتے ہیں اور قرآن پاک کی نسبت یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ انسان کا کلام ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے ١ ؎، کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص جنت میں جانے کے قابل۔ اسی طرح صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث بھی گز رچ کی ہے ٢ ؎، جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے۔ ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ جو لوگ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پاچکے ہیں وہی لوگ قرآن کے سننے سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ ان کے حق میں قرآن کی نصیحت ایسی ہی رائیگاں ہے جیسے بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے۔ ١ ؎ تفسیر ہذاص ٩٤ ج ٣۔ ٢ ؎ تفسیر مذاص ٣٠ ج ٣۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:41) صرفنا۔ ماضی جمع متکلم تصریف (تفعیل) مصدر۔ ہم نے پھیر پھیر کر سمجھایا۔ ہم نے طرح سے بیان کیا۔ ہم نے اس کو طرح طرح سے بانٹا یا تقسیم کیا۔ کسی شے کے ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف اور ایک امر سے دوسرے امر کی طرف پلٹنے اور تبدیل کرنے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے تصریف الریاح ہوائوں کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف لوٹانا۔ وصرفنا الایات (46:127) اور ہم نے آیات کو لوٹا لوٹا کر بیان کیا۔ اور صرفنا فیہ من الوعید (20:113) اور ہم نے اس میں طرح کے وعید بیان کر دئیے ہیں۔ لیذکرو۔ لام تعلیل یذکروا مضارع منصوب (نصب بوجہ عمل لام) جمع مذکر غائب تذکر (تفعیل) سے کہ وہ نصیحت پکڑیں۔ یذیدہم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ضمیر فاعل ۔ تصریف کے لئے ہے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ نفورا۔ مصدر منصوب (نصر۔ ضرب) دور ہونا۔ بھاگنا۔ ما یزیدہم الا نفورا۔ (لیکن) اس بار بار اور پھیر پھیر کر سمجھانے نے ان میں نفرت کو ہی بڑھایا یعنی وہ اور زیادہ اس سے بدکے اور دور بھاگے۔ تفر (عن) کسی چیز سے روگردانی کرنا۔ نفر (الی) کسی کی طرف دوڑ کر آنا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 حق کی بات سنسنی بھی نہیں چاہیے۔ ماننا کیسا ؟

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٥) اسرارومعارف قرآن حکیم میں ہم نے مختلف انداز سے بات کے ہر پہلو کو واضح کیا ہے کہ لوگ سمجھیں مگر کفر ایسی بیماری ہے جو غذا سے بڑھتی ہے یہی حال ان کا ہے کہ ان کے دلوں میں مزید نفرت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے ۔ ان سے کہئے کہ اگر کوئی بھی ہستی الوہیت میں اس کی شریک ہوتی یا صفات میں اس کے برابر ہوتی تو وہ عرش پر چڑھ نہ دوڑتی اور نظام کائنات تباہ ہوچکا ہوتا ، یہ بلا چوں وچرا اسی لیے چل رہا ہے کہ ایک حاکم کے تابع ہے جو اپنی ذات اور اپنی صفات میں ہر طرح کے شرک سے پاک اور بہت بلند ہے ، تمہاری باتوں کی رسائی سے اس کی عظمت بہت زیادہ بلند ہے ۔ (ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے) نہ صرف یہ کہ اس کے سوا کائنات کا ہر ذرہ اس کی مخلوق اور اسی کی صنعت ہے ، بلکہ ساتوں آسمان زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اس کا ذکر کرتے ہیں یہ الگ بات کہ انسان معمول کے حواس سے ان کی تسبیح سن اور سمجھ نہیں سکتا ، بیشک وہ بہت بڑا تحمل والا اور بخشنے والا ہے کہ جنوں اور انسانوں میں ذکر نہ کرنے والوں کو بھی وقت مقررہ تک مہلت دیتا ہے یہ اس کی شان حلم ہے اور اگر توبہ کریں تو اس کی بخشش قبول کرتی ہے ارض وسما کی حیات ہی اللہ جل جلالہ کا ذکر ہے اور جو شے ذکر سے غافل ہوتی ہے ، اس کا وجود باقی نہیں رہتا ، دریا ہو تو خشک ہوجاتا ہے ، نباتات ذکر چھوڑ دے تو ختم ہوجاتی ہے جو جانور ذکر چھوڑتا ہے مر جاتا ہے یا دوسرے کا لقمہ بن جاتا ہے ، پہاڑ ذکر چھوڑ دے تو گر جاتا ہے یا پھٹ جاتا ہے سوائے کفار کے وہ انسانوں میں ہوں یا جنات میں سے اور وہ اس لیے کہ انہیں شریعت پر عمل کرنے کا مکلف بنایا گیا اور عمل کرنے یا نہ کرنے کا اختیار بخشا گیا ، اب اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو اللہ کا حلم انہیں وقت مقررہ تک مہلت دیتا ہے لیکن اگر ان کی موت بھی کفر ہی پر واقع ہوجائے تو ہمیشہ کے لیے جہنم ان کا ٹھکانہ ہے ، علاوہ ازیں دنیا کی ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہر شے زبان حال سے ذکر کرتی ہے وہ اس آیت کا مفہوم نہیں کہ شے کہ حالت جو اپنے خالق کی عظمت کی دلیل بنتی ہے اسے تو انسانی فہم سمجھ لیتی ہے یہ ذکر حقیقی مراد ہے جسے عام انسانی عقل سمجھنے سے قاصر ہے ہاں دل کے کان کھل جائیں تو اللہ جل جلالہ کی اس عطا سے ہر شے کا ذکر سنائی دیتا ہے جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سنتے تھے پہاڑوں کا ذکر کرنا حدیث میں ارشاد فرمایا یا فرمایا کہ میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو مجھ پر سلام بھیجا کرتا تھا ، ایسے ہی حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی روایت کہ ہم کھانے سے تسبیح سنا کرتے تھے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک ہاتھوں میں کنکریوں کا تسبیح پڑھنا کہ آدمی نے سنی ظاہر ہے جس پر علامہ جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کنکروں کا تسبیح پڑھنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معجزہ نہیں وہ تو ہر آن پڑھتے ہیں ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معجزہ تو اس سے بڑا ہے کہ عام انسانی سماعت کو اسے سننا نصیب ہوگیا ، نہ صرف صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین نے کفار نے بھی سنی ورنہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین تو نور قلب سے ان اشیاء کی تسبیح سن بھی لیا کرتے تھے ، ایسے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں اور جانوروں کا مل کر ذکر کرنا کتاب اللہ میں موجود ہے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مسجد کے ستون حنانہ کا واقع بھی اس سلسلے کی کڑی ہے جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دور ہونے پر انسانوں کی طرح طرح چلا چلا کر رونا شروع کردیا تھا جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر سے اتر کر گلے لگایا تو چپ ہوا یہ اور اس طرح کی بیشمار مثالیں موجود ہیں ، لہذا یہ تسبیح حالی مراد نہیں بلکہ ہر چیز واقعی اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے اور مکلف مخلوق میں سے انسان یا جن اگر ذکر نہیں کرتے تو وہ بھی اپنی عظمت کھو بیٹھتے ہیں اور تباہی کی نذر ہوتے ہیں کہ دوزخ میں جانے سے بڑی تباہی تصور تک نہیں کیا جاسکتا ۔ (کفار کو آواز تو سنائی دیتی تھی مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کیفیات سے ان کے دل محروم تھے) نہ صرف یہ کہ ان لوگوں کو چیزوں کا ذکر کرنا سنائی نہیں دیتا بلکہ ان کے کفر اور گناہوں کے باعث انہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاوت کی اثر آفرینی سے بھی محروم کردیا گیا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے ، اور متکلم کی کیفیات کلام میں ہوتی ہیں پھر تلاوت کریں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جمال کا عکس بھی اس میں ہو تو حد ہے کہ کوئی نہ مانے یا اس پر فدا نہ ہو فرمایا اس کی دنیا کے بعد قیام قیامت وجہ یہ ہے کہ ان کے گناہوں اور کفر نے ان سے کیفیات کو پانے کی استعداد ختم کردی ہے اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن پڑھتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور کفار کے درمیان پردہ حائل کردیا جاتا ہے یعنی ان کے قلوب اس کی لذت آفرینی سے اور اذہان وعقول اس کی نکتہ سنجی سے مستفید نہیں ہو سکتے بلکہ ان کے دلوں پر بھی پردہ ڈال دیا جاتا ہے اور کانوں میں ایسا بوجھ جو حق سننے کی صلاحیت ختم کردیتا ہے اور جب آپ اپنے رب کی وحدانیت کا ذکر فرماتے ہیں تو ان کو اس سے نفرت ہوتی ہے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں ، rnّ (کیفیات قلبی سے محرومی بہت بڑی سزا ہے اور فیض کیا ہے) اس سے ثابت ہوا کہ کیفیات قلبی سے محرومی بہت بڑی سزا ہے جو گناہ اور کفر پر دی جاتی ہے اور نور ایمان سے قلب میں کیفیات پیدا ہوتی ہیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برکات سے بڑھتی ہیں ، ایسے ہی ان لوگوں سے فائدہ حاصل ہوتا ہے ، جو بزرگوں سے یہ کیفیات حاصل کرچکے ہوتے ہیں ، دراصل یہی حصول کیفیات ہی فیض کہلانے کا مستحق ہے کہ فلاں نے فلاں بزرگ سے فیض حاصل کیا ورنہ دنیا کے معاملات کو فیض کہنا نادانی ہے ، چونکہ الفاظ قرآن تو سنتے ہیں آواز تو سنتے ہیں محرومی تو کیفیات سے ہے لہذا جب کبھی کان لگاتے ہیں اور کچھ باتیں سن لیتے ہیں تو آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ ان کی بات ماننا تو ایسے ہے جیسے کسی ایسے شخص کی بات مانی جائے جس پر جادو کردیا گیا ہو اور وہ اپنے بھلے برے کو نہ جانتا ہو کہ ان کی کافرانہ رائے میں تو بتوں سے سب کچھ ملتا ہے جبکہ آپ بتوں کی پرزور تردید فرماتے ہیں تو ان کے خیال میں یہ بڑا پاگل پن ہے اور کوئی جادو زدہ شخص ہی ایسا کرسکتا ہے آج کل بھی یہ مرض بڑھ گیا ہے کہ اسلام اور قرآن کے احکام ظالمانہ اور پاگلوں جیسی باتیں ہیں جو ناقابل عمل ہیں ظاہر ہے ایسا وہی لوگ کہہ سکتے ہیں جو مشرکین عرب کی طرح کیفیات قلبی کے ادنی درجے سے بھی محروم ہیں ۔ (جادو اور اس کا انبیاء پہ اثر) جادو بھی ثابت ہے اور اس کا اثر ہوتا ہے نیک انسانو پر بھی ہو سکتا ہے حتی کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) پر بھی اس کا اثر ہونا ممکن ہے کہ وہ بھی بشری خصوصیات سے الگ تو نہیں ہوئے جیسے نبی کو زخم لگ سکتا ہے یا بیماری اثر دکھا سکتی ہے ویسے جادو بھی مگر عام آدمی کی طرح نہیں کہ جتنا طیب اور طاہر وجود ہو اتنا جادو کم اثر کرتا ہے یا جلدی زائل ہوجاتا ہے تو اے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اندازہ فرمائیں ان کے قلوب کی تباہی کا کہ آپ کے لیے کیسی باتیں تجویز کرتے ہیں یہ حال ظاہر کر رہا ہے کہ یہ گمراہی کی اس دلدل میں گر چکے ہیں جس سے واپسی کی امید نہیں لہذا یہ کبھی ہدایت نہیں پا سکتے ، (نبی کی توہین کرنے والا ہدایت نہیں پاسکتا) تو یہ ظاہر ہوا کہ نبی کو نہ ماننے والا تو کبھی توبہ بھی کرسکتا ہے مگر نبی کی توہین کرنے والا اور ایسی باتیں کرنے والا جو نبی کی شان میں گستاخی ہوں توبہ کی توفیق سے محروم ہوجاتا ہے ۔ ان جاہلوں نے دوبارہ حیات کو ناممکن تصور کر رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر گل سڑ جائیں گے ہڈیاں رہ جائیں گی بلکہ ہڈیاں بھی ٹوٹ پھوٹ کر چورہ بن جائیں گی تو کیا پھر نئے سرے سے زندہ کئے جائیں گے تو فرما دیجئے کہ ہڈیاں یا ان کا چورہ یا وجود کی مٹی تو پہلے وجود کی عمارت کا حصہ تھی اور اس میں حیات رہ چکی اگر تم لوہا یا پتھر بن جاؤ یا اس سے بھی کوئی سخت شے تمہارے ذہن میں ہے تو اس میں بدل سکو تو بھی تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو کہتے بھلا ہمیں کون زندہ کرے گا اور ایسا کون کرسکتا ہے تو فرمائیے کہ جس نے تمہیں پہلے پیدا کیا کہ ایک قطرے سے سارا وجود تعمیر فرمایا ، گوشت پوست ، ہڈیاں ، ناک ، کان ، آنکھیں ، دل ، گردے ، جگر ، معدہ ، اعضاء اور ان میں قوت کار جس ہستی نے پیدا فرمائی وہی ہستی تمہاری مٹی اور گلے سڑے وجودوں سے پھر تمہیں زندہ کر دے گی تو لاجواب ہو کر سر مٹکائیں گے اور کہیں گے تو بھلا یہ کب ہوگا ، اب تک تو کوئی مرنے والا زندہ ہو نہیں سکا تو کہہ دیجئے کہ شاید یہ بہت قریب ہی ہو کہ جس دن دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے تو تم سب بھی اس کی عظمت کا انکار نہ کرسکو گے بلکہ تعریف کرتے ہوئے اٹھو گے اور خود تمہارا اپنا اندازہ ہوگا کہ اس میں کوئی دیر نہیں لگی کوئی زیادہ وقت نہیں گزرا کفار کے حمد وثنا کرنے سے مراد ہے کہ اٹھیں گے تو ایک بار تو اللہ جل جلالہ کی عظمت سے مہبوت ہو کر کہہ اٹھیں گے کہ اللہ جل جلالہ بہت بڑا اور ہر شے پر قادر ہے ، پھر واویلا مچائیں گے مگر اس وقت کا یہ کہنا بھی ایمان تو شمار نہ ہوگا کہ دار عمل تو گذر چکا اور حجابات ہٹ گئے آخرت سامنے ہے تو اب انکار کی گنجائش کہاں ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کسی کو اللہ تعالیٰ کی اولاد ٹھہرانا اس کی ذات کے ساتھ شریک بنانے کے مترادف ہے۔ اس بات کی تردید کے لیے یہ بتلایا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہوتا تو وہ ضرور اس کے خلاف کوئی راستہ تلاش کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید سمجھانے کے لیے قرآن مجید میں بڑی تفصیل کے ساتھ ہر قسم کے دلائل دیئے ہیں۔ لیکن مشرک نے اپنی فطرت کو اس طرح مسخ کرلیا ہوتا ہے کہ وہ توحید خالص کو سننا گورا نہیں کرتا۔ مشرک کی طبیعت اور فطرت کا ذکر کرتے ہوئے قرآن مجید نے بتلایا ہے کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق، حاجت روا اور مشکل کشا نہیں تو یہ سن کر مشرک تکبر کا اظہار کرتے ہیں۔ ( الصٰفٰت : ٣٥) دوسرے مقام پر مشرک کی فطرت کا یوں ذکر کیا ہے کہ جب انہیں ایک اللہ کی طرف بلایا جاتا ہے تو انکار کرتے ہیں اور اگر اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کیا جائے تو فوراً مان جاتے ہیں۔ حالانکہ حکم تو صرف اللہ عالی مرتبت کا چلتا ہے۔ (المومن : ١٢) سورۃ الزمر آیت ٤٥ میں مشرک کی حالت یوں بیان کی ہے کہ جب ایک اللہ وحدہ لا شریک کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے چہرے بگڑ جاتے ہیں اور جب اس کے سوا دوسروں کا تذکرہ ہوتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں۔ قرآن مجید کا توحید ہی سب سے بڑا اور مرکزی مضمون ہے۔ اس لیے جب عقیدہ توحید کا بیان ہوتا ہے تو مشرک قرآن مجید سے مزید نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ انہیں سمجھانے کے لیے یہ انداز اختیار کیا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور اِلٰہ ہوتا جس کا یہ دعویٰ کرتے ہیں تو وہ ضرور اللہ تعالیٰ سے کچھ اختیار لینے کی کوشش کرتا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی اولاد ہوتی تو وہ اس سے کچھ نہ کچھ اختیار مانگتی اگر کوئی اس کا شریک ہوتا تو ہر صورت اختیارات کا مطالبہ کرتا۔ ایک الٰہ ایک فیصلہ کرتا دوسرا خدا کوئی اور حکم دیتا۔ جس سے زمین و آسمان کے نظام میں خلل واقع ہوتا۔ کائنات کے نظام کا مربوط اور یکسوئی کے ساتھ چلنا اس بات کا ثبوت ہے۔ ایک ہی ذات وحدہ لاشریک ہے۔ جو پورے نظام کو سنبھالے اور چلائے جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اولاد اور ہر قسم کے شریک سے پاک ہے اور وہ مشرکوں کی بیہودہ اور فرسودہ باتوں، پراگندہ خیالات اور گندے عقیدے سے بہت ہی بلند وبالا ہے۔ مسائل ١۔ قرآن مجید کی نصیحت آموز باتیں سن کر کفار کی نفرت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور الٰہ نہیں ہے۔ ٣۔ اگر اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی الٰہ ہوتا تو یہ اللہ تعالیٰ کے عرش تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کفار کی باتوں سے پاک اور بلند وبالا ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید باعث نصیحت ہے : ١۔ ہم نے قرآن میں طرح طرح کے دلائل دیے ہیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (بنی اسرائیل : ٤١) ٢۔ یہ کتاب برحق ہے کیا اس کا علم رکھنے والا شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو اندھا ہے ؟ عقلمند ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ (الرعد : ١٩) ٣۔ ہم نے بابرکت کتاب نازل کی تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور نصیحت حاصل کریں۔ (ص : ٢٩) ٤۔ ہم نے قرآن میں ہر قسم کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ کفار نصیحت حاصل کریں۔ (الزمر : ٢٧) ٥۔ اللہ تعالیٰ اپنی آیات لوگوں کے لیے بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (البقرۃ : ٢٤٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قرآن کریم عقیدہ توحید لے کر آیا۔ اس عقیدے کو قرآن نے مختلف اسالیب سے بیان کیا اور اس پر بیشمار دلائل دئیے۔ اور کئی طریقے اختیار کیے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور فطری دلائل اور فطری اور منطقی طرز استدلال کو سمجھیں اور توحید کا فطری عقیدہ قبول کرلیں اور اس کائنا ت میں اللہ وحدہ لاشیرک کی ذات پر جو آثار و دلائل موجود ہیں ان پر غور کریں مگر ان لوگوں نے اس کے سوا کچھ نہ کیا کہ انہوں نے قرآن سے نفرت کی۔ کیونکہ انہیں ڈر یہ تھا کہ اگر انہوں نے قرآن کو سنا اور پڑھا تو وہ ان عقائد باطلہ پر قائم نہ رہ سکیں گے ، جن کو وہ مضبوطی سے پکڑے رہنا چاہتے ہیں ، کیونکہ ان کے عقائد شرکیہ ، اوہام اور خرافات پر مبنی تھے ور قرآن کے فطری اور منطقی استدلال کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتے تھے۔ جس طرح اس سے قبل لڑکیوں کی نسبت الی اللہ کے معامل میں قرآن کریم نے ان کے خیالات کے مطابق بات کی تھی کہ خود اپنے لئے تو لڑکیوں کو پسند نہیں کرتے مگر اللہ کے لئے ثابت کرتے ہیں ، اب یہاں ان کے عقیدہ شرکیہ کو فرض کرکے یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی دوسرے خدا بھی ہوتے تو وہ اللہ کی ذات تک پہنچے کی کوء نہ کوئی سبیل نکالتے۔ وہ اللہ کا قرب حاصل کرتے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ وحدہ لاشرک ہے، شرک کرنے والوں کی باتوں سے پاک ہے ساتوں آسمان اور زمین اور ہر چیز اس کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہے ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے قرآن مجید میں جو باتیں بیان کی ہیں (جن میں توحید کی دعوت ہے اور اس کے دلائل میں شرک کی مذمت اور آخرت کی یقین دہانی ہے اور افعال خیر کی ترغیب ہے اور برے اعمال کی وعیدیں ہیں) ان کو طرح طرح سے بیان فرمایا تاکہ مخاطبین غور کریں سوچیں اور سمجھیں، پھر فرمایا (وَ مَا یَزِیْدُھُمْ اِلَّا نُفُوْرًا) اور حال یہ ہے کہ اس قرآن کے بیان سے متاثر نہیں ہوتے وہ تو اور زیادہ متنفر ہوتے جاتے ہیں، یہی قرآن جو غور و فکر اور تدبر والوں کے لیے ذریعہ ہدایت بن گیا معاندین کے لیے بعد اور نفرت کا ذریعہ بن رہا ہے، جن لوگوں کو حق سے بیر ہے وہ قرآن حکیم کو سنتے ہیں لیکن اس کے بیان سے اثر نہیں لیتے حالانکہ مختلف وجوہ سے ان کو سمجھایا جاتا اور طرح طرح سے راہ حق کی دعوت دی جاتی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

41:۔ زجر ہے۔ مسئلہ توحید اور نفی شرک کو ہم قرآن میں مختلف پیرایوں میں بیان کرچکے ہیں تاکہ وہ اس سے نصیحت حاصل کریں مگر الٹا ان کی نفرت میں اضافہ ہوا کیونکہ ضد وعناد کی وجہ سے وہ قرآن کو جادو، شعر اور کہانت کہتے تھے اس لیے قرآنی تعلیمات ان کے دلوں میں نہ اتر سکیں۔ وذلک لانھم اعتقدوا فی القران انہ حیلۃ و سحرو کھانۃ و شعر (قرطبی ج 10 ص 365) اس لیے جب ان کے سامنے مسئلہ توحید کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں جن میں حکم ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو کارساز اور شفیع غالب نہ سمجھو اور اللہ کے سوا حاجات میں کسی کو نہ پکارو تو وہ اس سے دور بھاگتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

4 1 اور یقینا ہم نے اس قرآن کریم میں لوگوں کو ہر پرایہ سے بار بار سمجھایا اور طرح سے طرح بیان کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور سوچیں مگر ان کی حالت یہ ہے کہ ان کو ہمارے بیان کرنے اور سمجھانے سے اور نفرت کرنا اور ان کا بدکنا بڑھتا جاتا ہے۔ یعنی ہم نے توحید کے دائل اور شرک کی مذمت نئے نئے پیرایہ اور مختلف دلائل اور شواہد ان کے روبرو بیان کئے تاکہ یہ لوگ کفر و عصیان سے باز آجائیں اور دین حق کو قبول کریں لیکن ان بدبختوں کو اس سمجھانے سے نفرت و وحشت ہی بڑھی او بدک بدک کر بھاگتے ہی رہے۔ جیسے کسی مریض کو دوا اور غذا الٹا اثر کرتی ہے وہی ان کے روحانی مرض کی حالت ہے اور یہی وہ حالت ہے کہ جس کو مریض کی آخری حالت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔