Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 60

سورة بنی اسراءیل

وَ اِذۡ قُلۡنَا لَکَ اِنَّ رَبَّکَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ؕ وَ مَا جَعَلۡنَا الرُّءۡیَا الَّتِیۡۤ اَرَیۡنٰکَ اِلَّا فِتۡنَۃً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَۃَ الۡمَلۡعُوۡنَۃَ فِی الۡقُرۡاٰنِ ؕ وَ نُخَوِّفُہُمۡ ۙ فَمَا یَزِیۡدُہُمۡ اِلَّا طُغۡیَانًا کَبِیۡرًا ﴿٪۶۰﴾  6

And [remember, O Muhammad], when We told you, "Indeed, your Lord has encompassed the people." And We did not make the sight which We showed you except as a trial for the people, as was the accursed tree [mentioned] in the Qur'an. And We threaten them, but it increases them not except in great transgression.

اور یاد کرو جب کہ ہم نے آپ سے فرما دیا کے آپ کے رب نے لوگوں کو گھیر لیا ہے ۔ جو رویا ( عینی روئیت ) ہم نے آپ کو دکھا دی تھی وہ لوگوں کے لئے صاف آزمائش ہی تھی اور اسی طرح وہ درخت بھی جس سے قرآن میں اظہار نفرت کیا گیا ہے ہم انہیں ڈرا رہے ہیں لیکن یہ انہیں اور بڑی سرکشی میں بڑھا رہا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah has encompassed Mankind and made the Vision of His Prophet a Trial for Them Allah says to His Messenger, encouraging him to convey the Message and informing him that He is protecting him from the people, that He is able to deal with them and that they are in His grasp and under His domination and control. وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ ... And (remember) when We told you: "Verily, your Lord has encompassed mankind.." Mujahid, Urwah bin Az-Az-Zubayr, Al-Hasan, Qatadah and others said, "This means, He protected you from them." ... وَمَا جَعَلْنَا الرُّويَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِّلنَّاسِ ... And We made not the vision which We showed you but a trial for mankind, Al-Bukhari recorded that Ibn Abbas said: "This is the vision which the Messenger of Allah saw with his own eyes on the night when he was taken on the Night Journey (Al-Isra'). ... وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي القُرْانِ ... and (likewise) the accursed tree in the Quran. refers to the Tree of Zaqqum." This was also recorded by Ahmad, Abdur-Razzaq and others. It was also reported by Al-Awfi from Ibn Abbas. It was also interpreted as referring to the Night of the Isra' by Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, Masruq, Ibrahim, Qatadah, Abdur-Rahman bin Zayd and several others. We have already quoted at length a comprehensive collection of Hadith about the Isra' at the beginning of this Surah, praise be to Allah. We have also already stated that some people gave up their Islam after they had been following the truth, because their hearts and minds could not comprehend that, and they denied what their knowledge could not grasp, but Allah caused it to increase and strengthen the faith of others, and so He says: إِلاَّ فِتْنَةً (but a trial), meaning a test. As for the cursed tree, this is the Tree of Zaqqum. When the Messenger of Allah told them that he had seen Paradise and Hell, and seen the Tree of Zaqqum, they did not believe that, and Abu Jahl, upon whom be the curses of Allah, even said, "Bring us some dates and butter," and he started eating them and saying, "Let us have some Zaqqum, we don't know any other Zaqqum but this." This was narrated by Ibn Abbas, Masruq, Abu Malik, Al-Hasan Al-Basri and others. Everyone who interpreted the Ayah to refer to the Night of the Isra', also interpreted it to refer to the Tree of Zaqqum. ... وَنُخَوِّفُهُمْ ... (We) make them afraid, meaning, `We make the disbelievers afraid with Our warnings and punishments and torment.' ... فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلاَّ طُغْيَانًا كَبِيرًا but it only increases them in naught save great disbelief, oppression and disobedience to Allah. means, it only pushes them further into their disbelief and misguidance, and this is because Allah has forsaken them.

مقصد معراج اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے رسول علیہ السلام کو تبلیغ دین کی رغبت دلا رہا ہے اور آپ کے بچاؤ کی ذمہ داری لے رہا ہے کہ سب لوگ اسی کی قدرت تلے ہیں ، وہ سب پر غالب ہے ، سب اس کے ماتحت ہیں ، وہ ان سب سے تجھے بچاتا رہے گا ۔ جو ہم نے تجھے دکھایا وہ لوگوں کے لیے ایک صریح آزمائش ہے ۔ یہ دکھانا معراج والی رات تھا ، جو آپ کی آنکھوں نے دیکھا ۔ نفرتی درخت سے مراد زقوم کا درخت ہے ۔ بہت سے تابعین اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ یہ دکھانا آنکھ کا دکھانا ، مشاہدہ تھا جو شب معراج میں کرایا گیا تھا ۔ معراج کی حدیثیں بہت پوری تفصیل کے ساتھ اس سورت کے شروع میں بیان ہو چکی ہیں ۔ یہ بھی گزر چکا ہے کہ معراج کے واقعہ کو سن کے بہت سے مسلمان مرتد ہو گئے اور حق سے پھر گئے کیونکہ ان کی عقل میں یہ نہ آیا تو اپنی جہالت سے اسے جھوٹا جانا اور دین کو چھوڑ کر بیٹھے ۔ ان کے برخلاف کامل ایمان والے اپنے یقین میں اور بڑھ گئے اور ان کے ایمان اور مضبوط ہو گئے ۔ ثابت قدمی اور استقلال میں زیادہ ہو گئے ۔ پس اس واقعہ کو لوگوں کی آزمائش اور ان کے امتحان کا ذریعہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کر دیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خبر دی اور قرآن میں آیت اتری کہ دزخیوں کو زقوم کا درخت کھلایا جائے گا اور آپ نے اسے دیکھا بھی تو کافروں نے اسے سچ نہ مانا اور ابو جہل ملعون مذاق اڑاتے ہوئے کہنے لگا لاؤ کجھور اور مکھن لاؤ اور اس کا زقوم کرو یعنی دونوں کو ملا دو اور خب شوق سے کھاؤ بس یہی زقوم ہے ، پھر اس خوراک سے گھبرانے کے کیا معنی ؟ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد بنو امیہ ہیں لیکن یہ قول بالکل ضعیف اور غریب ہے ۔ پہلے قول کے قائل وہ تمام مفسر ہیں جو اس آیت کو معراج کے بارے میں مانتے ہیں ۔ جیسے ابن عباس مسروق ، ابو مالک ، حسن بصری وغیرہ ۔ سہل بن سعید کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں قبیلے والوں کو اپنے منبر پر بندروں کی طرح ناچتے ہوئے دیکھا اور آپ کو اس سے بہت رنج ہوا پھر انتقال تک آپ پوری ہنسی سے ہنستے ہوئے نہیں دکھائی دئے اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے ۔ ( ابن جریر ) لیکن یہ سند بالکل ضعیف ہے ۔ محمد بن حسن بن زبالہ متروک ہے اور ان کے استاد بھی بالکل ضعیف ہیں ۔ خود امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ کا پسندید قول بھی یہی ہے کہ مراد اس سے شب معراج ہے اور شجرۃالزقوم ہے کیونکہ مفسرین کا اس پر اتفاق ہے ۔ ہم کافروں کو اپنے عذابوں وغیرہ سے ڈرا رہے ہیں لیکن وہ اپنی ضد ، تکبر ، ہٹ دھرمی اور بے ایمانی میں اور بڑھ رہے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

60۔ 1 یعنی لوگ اللہ کے غلبہ و تصرف میں ہیں اور جو اللہ چاہے گا وہی ہوگا نہ کہ جو وہ چاہیں گے، یا مراد اہل مکہ ہیں کہ وہ اللہ کے زیر اقتدار ہیں، آپ بےخوفی سے تبلیغ رسالت کیجئے، وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، ہم ان سے آپ کی حفاظت فرمائیں گے۔ یا جنگ بدر اور فتح مکہ کے موقع پر جس طرح اللہ نے کفار مکہ کو عبرت ناک شکست سے دو چار کیا، اس کو واضح کیا جارہا ہے۔ 60۔ 2 صحابہ وتابعین نے اس رویا کی تفسیر عینی رویت سے کی ہے اور مراد اس سے معراج کا واقعہ ہے، جو بہت سے کمزور لوگوں کے لئے فتنے کا باعث بن گیا اور وہ مرتد ہوگئے۔ اور درخت سے مراد (تھوہر) کا درخت ہے، جس کا مشاہدہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شب معراج، جہنم میں کیا۔ اَ لْمَلْعُونَۃَسے مراد، کھانے والوں پر یعنی جہنمیوں پر لعنت۔ جیسے دوسرے مقام پر ہے کہ۔ ان شجرۃ الزقوم۔ طعام الاثیم۔ زقوم کا درخت، گناہ گاروں کا کھانا ہے 60۔ 3 یعنی کافروں کے دلوں میں جو خبث وعناد ہے، اس کی وجہ سے، نشانیاں دیکھ کر ایمان لانے کی بجائے، ان کی سرکشی و طغیانی میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٥] اس سے مراد سورة بروج کی آیت نمبر ١٩ اور ٢٠ ہیں، یعنی کافر تو آپ کو اور اس دعوت قرآن کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں جبکہ اللہ انھیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے اور سورة بروج اس سورة بنی اسرائیل سے بہت پہلے نازل ہوچکی تھی۔ اور اس سے مراد یہ ہے کہ یہ کفار مکہ اپنی معاندانہ سرگرمیوں میں جتنی بھی کوشش چاہے کرلیں۔ یہ ایک حد سے آگے نہ جاسکیں گے اور ان کی ان کوششوں کے علی الرغم دعوت اسلام پھیل کر رہے گی۔ [٧٦] کافر حسی معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے :۔ واقعہ معراج ایک خرق عادت واقعہ اور معجزہ تھا۔ کفار نے اس معجزہ کا اتنا مذاق اڑایا کہ بعض ضعیف الاعتقاد مسلمان بھی شک میں پڑگئے۔ پھر کافر جنہوں نے پہلے بیت المقدس دیکھا ہوا تھا وہ آپ سے سوالات پوچھنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے سامنے سے سب پردے ہٹادیئے اور آپ ان کافروں کے تمام سوالوں کے جوابات دیتے گئے۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ کسی حسی معجزہ کے طالب کفار ایمان لے آتے۔ لیکن وہ ان کے لیے آزمائش بن گیا جس میں یہ ناکام ہوئے اور پہلے سے بھی زیادہ سرکشی کی راہ اختیار کرنے لگے۔ [٧٧] ملعون درخت اور معراج دونوں سے کفار مکہ کی آزمائش :۔ اسی طرح سورة صافات میں ایک اور خرق عادت بات کی اطلاع دی گئی تھی جو یہ تھی کہ && جہنم کی تہہ سے تھوہر کا درخت اگے گا۔ یہی اہل جہنم کا کھانا ہوگا جس کے علاوہ انھیں کوئی کھانے کی چیز نہ ملے گی && (٣٧: ٦٢ تا ٦٦) اس بات پر بھی کافروں نے بہت لے دے کی کہ آگ میں بھلا یہ درخت کیسے اگ سکتا ہے ؟ یہ بھی دراصل اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا انکار ہے کہ اپنی عقل کے پیمانے سے اسے ناپنے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ آگ میں درخت یا پودے تو درکنار جاندار بھی پیدا ہوتے اور زندہ رہتے ہیں۔ آگ کا کیڑا سمندری آگ ہی سے پیدا ہوتا اور اسی میں زندہ رہتا ہے۔ پھر کئی پودے ایسے بھی ہیں جن سے آگ نکلتی ہے۔ یہ تو اس دنیا کا حال ہے اور اخروی عالم اور دوزخ کی کیفیت جب ہم پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکتے اور نہ کوئی چیز تجربہ میں آسکتی ہے تو انکار کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟ انکار تو اس صورت میں معقول ہوسکتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کی باقی سب قدرتوں کو پوری طرح سمجھ چکا ہو اور بس یہی ایک بات باقی رہ گئی ہو۔ انسان کا علم تو اتنا ناقص ہے کہ وہ اپنے جسم کے اندر کی چیزوں کی کیفیت بھی نہیں سمجھ سکتا تو پھر دوسرے عجائبات سے انکار کرنے یا ان کا مذاق اڑانے کا کیا حق ہے یہ دوسری بات تھی جو ان کفار کی سرکشی بڑھانے کا سبب بن گئی تھی۔ اور یہ درخت ملعون اس لحاظ سے ہے کہ اس میں غذائیت تو نام کو نہیں ہوتی۔ کانٹے بڑے سخت اور تیز ہوتے ہیں جو اہل دوزخ کی اذیت میں مزید اضافہ ہی کریں گے۔ واقعہ معراج کی طرح، تھوہر کے درخت کی آگ میں پیدائش بھی کافروں کے لیے فتنہ بن گئی تھی۔ اور واقعہ معراج کے فتنہ بننے سے بھی یہ بات از خود ثابت ہوجاتی ہے کہ یہ سفر جسمانی تھا، روحانی یا کشفی نہیں تھا کیونکہ خواب میں تو ہر انسان ایسے یا اس سے عجیب تر واقعات دیکھ سکتا ہے لیکن کبھی کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاط بالنَّاسِ : لوگوں سے مراد کفار مکہ ہیں اور ان کا احاطہ کرلینے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنا پورا زور لگانے کے باوجود محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے اور نہ آپ کی دعوت کو پھیلنے سے روک سکے۔ اس سے مقصود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حوصلہ دلانا ہے کہ آپ بےخوف و خطر اپنی دعوت پیش کرتے رہیے، ان لوگوں کی مخالفت کی کوئی پروا نہ کیجیے، یہ آپ کا بال تک بیکا نہیں کرسکتے، کیونکہ یہ سب پوری طرح ہماری گرفت میں ہیں۔ ۭ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ : ” اَلرُّویَا “ ” رَأَی یَرَی “ (ف) کا مصدر ہے، آیت میں مذکور ” لاتی ارینک “ سے مراد زمین اور آسمانوں کی وہ عجیب و غریب چیزیں ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسراء و معراج کی رات اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ نے اسراء و معراج کی رات جو کچھ دیکھا ہم نے اسے لوگوں کے لیے فتنہ اور آزمائش ہی بنایا، تاکہ آزمائش ہوجائے کہ کون قوی ایمان والا اور سلیم القلب ہے اور کون ضعیف ایمان والا اور مریض القلب۔ سو مضبوط ایمان والوں کو اسے ماننے میں کوئی تردد نہیں ہوا، چناچہ وہ امتحان میں کامیاب ہوگئے اور کمزور ایمان والے اور ایمان سے محروم لوگ کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہی رات میں مکہ سے بیت المقدس اور ساتوں آسمانوں کے عجائبات دیکھ کر واپس بھی آجائیں ؟ یہ ناممکن ہے۔ سو وہ امتحان میں ناکام ہوگئے۔ ” اَلرُّویَا “ کا لفظ اکثر خواب میں دیکھنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ یہاں بیداری میں آنکھوں سے دیکھنا مراد ہے اور اس کی دلیل خود یہ آیت ہے۔ کیونکہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہتے کہ میں نے یہ سب کچھ خواب میں دیکھا ہے تو نہ کسی کو تعجب ہوتا اور نہ کوئی فتنہ و امتحان ہوتا، کیونکہ خواب میں ہر شخص کو ناممکن و محال چیزیں دکھائی دے سکتی ہیں۔ امتحان یہی تھا کہ صرف مضبوط اہل ایمان تسلیم کرسکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو یہ سب کچھ رات کے ایک تھوڑے سے حصے میں دکھانے پر قادر ہے۔ ابن عباس (رض) نے تصریح فرمائی : ( ھِيَ رُؤْیَا عَیْنٍ أُرِیَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃَ أُسْرِيَ بِہِ إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ ) [ بخاری، المناقب، باب المعراج۔۔ : ٣٨٨٨ ] ” یہ آنکھوں سے دیکھا ہوا منظر تھا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس رات دکھایا گیا جب آپ کو راتوں رات بیت المقدس لے جایا گیا۔ “ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ : ابن عباس (رض) کی روایت جو اس سے پہلے فائدے میں بیان ہوئی اس میں انھوں نے اس کی تفسیر زقوم کے درخت سے کی ہے۔ قرآن مجید میں ” شَجَرَتَ الزَّقُّوْم “ کا ذکر دو مقامات پر آیا ہے، سورة صافات (٦٢ تا ٦٦) اور سورة دخان (٤٣ تا ٤٦) میں۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر لوگوں کے لیے آزمائش کے طور پر کیا گیا، کیونکہ ایمان سے محروم لوگ مان ہی نہیں سکتے کہ بھڑکتی ہوئی آگ کی تہ میں کوئی درخت اگ سکتا ہے، اس کے برعکس اہل ایمان کو اسے ماننے میں کوئی تردد نہیں ہوتا، کیونکہ ان کا ایمان ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، جبریل امین اور رب العالمین کبھی غلط بیانی نہیں کرتے اور آگ میں درخت پیدا کرنا، یا ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے آگ کو ٹھنڈی اور سلامتی والی بنادینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔ یہاں زقوم کو شجرۂ ملعونہ کہا گیا ہے، اس کا معنی شجرۂ مذمومہ ہے، یعنی قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے۔ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ ۔۔ : یعنی ہم کفار کو مختلف طریقوں سے ڈراتے ہیں، مگر اس سے انھیں بہت بڑی سرکشی میں اضافے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The word fitnah& (فِتنَہ) appearing in verse 60: وَمَا جَعَلْنَا الرُّ‌ؤْيَا الَّتِي أَرَ‌يْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ (And We showed you the scene [ in the Night of Ascent - al-Mi` raj ] only to make it a test for the people) is used in the Arabic language to convey many different meanings. It could mean falling into error and going astray, or trial or test or some disorder or upheaval as well. At this place, the probability of all these meanings exists. Early Tafsir author¬ities - Sayyidah ` A&ishah, Sayyidna Mu` awiyah, Hasan, Mujahid and oth¬ers - have taken fitnah& as carrying the last sense given above. They have said that this fitnah& was that of apostasy (Irtidad) which relates to the time when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) told people about Mi` raj, how he went on his nocturnal journey to Baitul-Maqdis, to the heavens from there and his return to Makkah al-Mukarramah before dawn. There were many neo-Muslims who had yet to become staunch in their faith fell into the error of belying his statement and turned apostates. (Qurtubi) It also stands proved from this event that the word رُّ‌ؤْيَا (ru&ya) is though also used in the Arabic language in the sense of dream but, at this place, what is being recounted is no matter of some dream. Had that been the case, there was no reason why people would become apos¬tates. Dreams are dreams. Everyone can see such dreams. In fact, the purpose of employing the word: رُّ‌ؤْيَا (ru&ya) at this place is to show that the marvel was witnessed while awake. While commenting on this verse, some commentators have interpreted it to be referring to other events too besides the event of Mi` raj. But, they do not apply here as a whole. Therefore, the majority of commentators have declared the event of Mi` raj alone as the relevant subject of this verse. (As described in detail by al-Qurtubi)

معارف و مسائل : (آیت) وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ (یعنی شب معراج میں جو تماشا ہم نے آپ کو دکھلایا تھا وہ لوگوں کے لئے ایک فتنہ تھا) لفظ فتنہ عربی زبان میں بہت سے معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے اس کے ایک معنی وہ ہیں جو خلاصہ تفسیر میں لئے گئے یعنی گمراہی۔ ایک معنی آزمائش کے بھی آتے ہیں ایک معنی کسی ہنگامہ و فساد کے برپا ہونے کے بھی آتے ہیں یہاں ان سب معانی کا احتمال ہے حضرت عائشہ (رض) اور معاویہ (رض) اور حسن اور مجاہد وغیرہ ائمہ تفسیر نے اس جگہ فتنہ سے مراد یہی آخری معنی لئے ہیں اور فرمایا کہ یہ فتنہ ارتداد کا تھا کہ جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شب معراج میں بیت المقدس اور وہاں سے آسمانوں پر جانے اور صبح سے پہلے واپس آنے کا ذکر کیا تو بہت سے نومسلم لوگ جن میں ایمان راسخ نہ ہوا تھا اس کلام کی تکذیب کر کے مرتد ہوگئے (قرطبی) اسی واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ لفظ رءیا عربی زبان میں اگرچہ خواب کے معنی میں بھی آتا ہے لیکن اس جگہ مراد خواب کا قصہ نہیں کیونکہ ایسا ہوتا تو لوگوں کے مرتد ہوجانے کی کوئی وجہ نہیں تھی خواب تو ہر شخص ایسے دیکھ سکتا ہے بلکہ اس جگہ مراد رءیا سے ایک واقعہ عجیبہ کا بحالت بیداری دکھلانا ہے آیت مذکورہ کی تفسیر میں بعض حضرات نے اس کو واقعہ معراج کے سوا دوسرے واقعات پر بھی محمول کیا ہے مگر مجموعی اعتبار سے یہاں منطبق نہیں ہوتے اس لئے جمہور نے واقعہ معراج ہی کو اس آیت کا محمل قرار دیا ہے (کما فصلہ القرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ۭ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا 60۝ۧ حيط الحائط : الجدار الذي يَحُوط بالمکان، والإحاطة تقال علی وجهين : أحدهما : في الأجسام نحو : أَحَطْتُ بمکان کذا، أو تستعمل في الحفظ نحو : إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ [ فصلت/ 54] ، والثاني : في العلم نحو قوله : أَحاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً [ الطلاق/ 12] ( ح و ط ) الحائط ۔ دیوار جو کسی چیز کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہو اور احاطۃ ( افعال ) کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) اجسام کے متعلق جیسے ۔ احطت بمکان کذا یہ کبھی بمعنی حفاظت کے آتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ [ فصلت/ 54] سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ یعنی وہ ہر جانب سے ان کی حفاظت کرتا ہے ۔ (2) دوم احاطہ بالعلم ہے جیسے فرمایا :۔ أَحاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً [ الطلاق/ 12] اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ فتن أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] ( ف ت ن ) الفتن دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔ لعن اللَّعْنُ : الطّرد والإبعاد علی سبیل السّخط، وذلک من اللہ تعالیٰ في الآخرة عقوبة، وفي الدّنيا انقطاع من قبول رحمته وتوفیقه، ومن الإنسان دعاء علی غيره . قال تعالی: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] ( ل ع ن ) اللعن ۔ کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا ۔ خدا کی طرف سے کسی شخص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق سے اثر پذیر ہونے محروم ہوجائے اور آخرت عقوبت کا مستحق قرار پائے اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنی بد دعا کے ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے ۔ قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ؂[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ زاد الزِّيادَةُ : أن ينضمّ إلى ما عليه الشیء في نفسه شيء آخر، يقال : زِدْتُهُ فَازْدَادَ ، وقوله وَنَزْداد كَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] ( زی د ) الزیادۃ اس اضافہ کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے پورا کرنے کے بعد بڑھا جائے چناچہ کہاجاتا ہے ۔ زدتہ میں نے اسے بڑھا یا چناچہ وہ بڑھ گیا اور آیت :۔ وَنَزْدادُكَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] اور ( اس کے حصہ کا ) ایک بار شتر غلہ اور لیں گے ۔ طغی طَغَوْتُ وطَغَيْتُ «2» طَغَوَاناً وطُغْيَاناً ، وأَطْغَاهُ كذا : حمله علی الطُّغْيَانِ ، وذلک تجاوز الحدّ في العصیان . قال تعالی: اذْهَبْ إِلى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] ( ط غ ی) طغوت وطغیت طغوانا وطغیانا کے معنی طغیان اور سرکشی کرنے کے ہیں اور أَطْغَاهُ ( افعال) کے معنی ہیں اسے طغیان سرکشی پر ابھارا اور طغیان کے معنی نافرمانی میں حد سے تجاوز کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] وہ بےحد سرکش ہوچکا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

اس رئویا سے کیا مراد ہے۔ قول باری ہے (وما جعلنا الرویا التی اریناک الا فتنۃ للناس اور یہ جو کچھ ابھی ہم نے تمہیں دکھایا ہے اس کو ہم نے ان لوگوں کے لئے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا) حضرت ابن عباس سے سعید بن جبیر کی روایت کے مطابق ، نیز قتادہ حسن، ابراہیم، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ یہ رئویا بیت المقدس تک رات کے سفر یعنی سفر معراج کے علاوہ ہے۔ جب آپ نے مشرکین سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے آپ کو جھٹلایا ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس رئویا سے مراد ہے کہ آپ کو یہ دکھلایا گیا تھا کہ آپ بہت جلد مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوں گے۔ شجرئہ ملعونہ کیا ہے قول باری ہے (والشجرۃ الملعونتہ فی القران۔ اور اس درخت کو (ان لوگوں کے لئے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا) جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے) حضرت ابن عباس، حسن بصری، سدی، ابراہیم نخعی ، سعید بن جبیر، مجاہد، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ اس سے زقوم کا درخت ماد ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے (ان شجرۃ الزقوم طعام الاثیم بیشک زقوم کا درخت گنہگاروں کی خوراک ہے) قول باری (الملعونۃ) سے مراد سے کھانا قابل لعنت ہے۔ یہ درخت ان مشرکین کے لئے فتنہ اس لئے بن گیا تھا کہ ابوجہل نے یہ اعتراض کیا تھا کہ آگ تو درختوں کو جلا ڈالتی ہے پھر جہنم کی آگ میں یہ درخت کیسے اگا ہوگا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٠) اور آپ وہ وقت یاد کیجیے، جب کہ ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کا رب تمام مکہ والوں سے بخوبی واقف ہے کہ کون ان میں سے ایمان لایا اور کون ایمان نہیں لائے گا۔ اور ہم نے واقعہ معراج میں جو تماشا حالت بیداری میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دکھا دیا تھا، اور شجرۃ زقوم جس کی قرآن کریم میں مذمت کی گئی ہے، ان دونوں چیزوں کو ان مکہ والوں کے لیے موجب گمراہی کردیا۔ اور ہم ان کو شجرۃ زقوم سے جو کہ طعام کفار ہے ڈراتے رہتے ہیں مگر اس وعید سے ان کی بڑی سرکشی بڑھی چلی جاتی ہے۔ شان نزول : (آیت ) ”۔ واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس “۔ (الخ) ابویعلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ام ہانی (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب رات کے وقت معراج کرائی گئی تو آپ نے صبح کو معراج کا واقعہ کفار کی ایک جماعت کے سامنے بیان کیا تو وہ مذاق اڑانے لگے اور آپ سے نشانیاں پوچھنے لگے چناچہ آپ نے ان سے بیت المقدس کی کیفیت بیان کی اور عیر پہاڑ کا واقعہ بیان کیا، اس پر ولید بن مغیرہ نے کہا نعوذ باللہ یہ جادوگر ہیں، تب اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل فرمائی کہ ہم نے جو تماشہ آپ کو دکھایا تھا اور جس درخت کا قرآن کریم میں مذمت کی گئی ہے ہم نے تو ان دونوں چیزوں کو ان لوگوں کے لیے موجب گمراہی کردیا اور ابن منذر نے حسن (رض) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ اور ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت حسین بن علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کو متفکر تھے تو آپ سے کہا گیا یا رسول اللہ آپ کیوں فکر فرما رہے ہیں یہ معراج کا واقعہ جو آپ کو دکھایا گیا یہ تو ان کے لیے موجب گمراہی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، نیز ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سہل بن سعد (رض) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ اور ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حدیث عمرو بن العاص اور حدیث یعلی بن مرہ اور مرسل سعید بن المسیب سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر ان سب کی سندیں ضعیف ہیں۔ شان نزول : (آیت ) ”۔ والشجرۃ الملعونۃ فی القرآن “۔ (الخ) ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اور امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کتاب بعث میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے شجرۃ زقوم کا ذکر فرمایا تو اس سے قریش کا یہ قبیلہ ڈرا تو ابوجہل بدبخت کہنے لگا کہ تمہیں معلوم ہے کہ وہ شجر و زقوم جس سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں ڈرا رہے ہیں کیا ہے، قریش نے کہا نہیں، ابوجہل نے کہا کہ وہ ثرید پر مکھن لگا ہوا ہے کہ جس سے ہم اپنے پیٹ بھریں گے اور اس کو چبا چبا کر کھائیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٠ (وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاط بالنَّاسِ ) قرآن حکیم کی بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ لوگوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے ‘ مثلاً : (وَّاللّٰہُ مِنْ وَّرَآءِہِمْ مُّحِیْطٌ ) (البروج) ” اور اللہ ان کا ہر طرف سے احاطہ کیے ہوئے ہے “۔ یہ لوگ جب ایسی آیات سنتے ہیں تو ڈرنے کی بجائے فضول بحث پر اتر آتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے ؟ کہاں ہے اللہ ؟ ہمارا احاطہ کیوں کر ہوا ہے ؟ اگر فلسفیانہ پہلو سے دیکھا جائے تو اس آیت میں ” حقیقت و ماہیت وجود “ کے موضوع سے متعلق اشارہ پایا جاتا ہے جو فلسفے کا مشکل ترین مسئلہ ہے اور آسانی سے سمجھ میں آنے والا نہیں ہے یعنی ایک وجود خالق کا ہے وہ ہر جگہ ہر آن موجود ہے اور ایک وجود مخلوق یعنی اس کائنات کا ہے۔ اب خالق و مخلوق کے مابین ربط کیا ہے ؟ اس سلسلے میں کچھ لوگ ” ہمہ اوست “ (Pantheism) کے قائل ہوگئے۔ ان کے خیال کے مطابق یہ کائنات ہی خدا ہے خدا نے ہی کائنات کا روپ دھار لیا ہے جیسے خدا خود ہی انسانوں کا روپ دھار کر ” اوتار “ کی صورت میں زمین پر آجاتا ہے۔ یہ بہت بڑا کفر اور شرک ہے۔ دوسری طرف اگر یہ سمجھیں کہ اللہ کا وجود اس کائنات میں نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کا وجود کہیں الگ ہے اور وہ نعوذ باللہ کہیں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ بہرحال یہ مسئلہ آسانی سے سمجھ میں نہیں آتا۔ ہمیں بس اس قدر سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ کا وجودمطلق (Absolute) ہے۔ وہ حدود وقیود زمان و مکان کسی سمت یا جہت کے تصور سے ماوراء وراء الوراء ثم وراء الوراء ہے۔ (وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ ) یہاں پر لفظ ” رؤیا “ خواب کے معنی میں نہیں آیا بلکہ اس سے رُؤیت بصری مراد ہے۔ انسان اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھتا ہے اس پر بھی ” رؤیا “ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شب معراج میں حضور کو جو مشاہدات کرائے تھے اور جو نشانیاں آپ کو دکھائی تھیں ان کی تفصیل جب کفار مکہ نے سنی تو یہ معاملہ ان کے لیے ایک فتنہ بن گیا۔ وہ نہ صرف خود اس کے منکر ہوئے ‘ بلکہ اس کی بنیاد پر وہ مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔ اس واقعہ کو بنیاد بنا کر انہوں نے پوری شد و مد سے یہ پرچار شروع کردیا کہ محمد پر جنون کے اثرات ہوچکے ہیں (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ) ۔ اس زمانے میں جب مکہ سے بیت المقدس پہنچنے میں پندرہ دن لگتے تھے یہ دعویٰ انتہائی ناقابل یقین معلوم ہوتا تھا کہ کوئی شخص راتوں رات نہ صرف بیت المقدس سے ہو آیا ہے بلکہ آسمانوں کی سیر بھی کر آیا ہے۔ چناچہ انہوں نے موقع غنیمت سمجھ کر اس موضوع کو خوب اچھالا اور مسلمانوں سے بڑھ چڑھ کر بحث مباحثے کیے۔ اس طرح نہ صرف یہ بات کفار کے لیے فتنہ بن گئی بلکہ مسلمانوں کے لیے بھی ایک آزمائش قرار پائی۔ جب یہی ناقابل یقین بات ان لوگوں نے حضرت ابوبکر سے کی اور آپ سے تبصرہ چاہا تو آپ نے بلا توقف جواب دیا کہ اگر واقعی حضور نے ایسا فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے کیونکہ جب میں یہ مانتا ہوں کہ آپ کے پاس آسمانوں سے ہر روز فرشتہ آتا ہے تو مجھے آپ کا یہ دعویٰ تسلیم کرنے میں آخر کیونکر تامل ہوگا کہ آپ راتوں رات آسمانوں کی سیر کر آئے ہیں ! اسی بلا تامل تصدیق کی بنا پر اس دن سے حضرت ابوبکر کا لقب ” صدیق اکبر “ قرار پایا۔ (وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ) اسی طرح جب قرآن میں زقوم کے درخت کا ذکر آیا اور اس کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ اس درخت کی جڑیں جہنم کی تہہ میں ہوں گی ( الصافات : ٦٤) اور وہاں سے یہ جہنم کی آگ میں پروان چڑھے گا تو یہ بات بھی ان لوگوں کے لیے فتنے کا باعث بن گئی۔ بجائے اس کے کہ وہ لوگ اسے اللہ کی قدرت سمجھ کر تسلیم کرلیتے الٹے اس بات پر تمسخر اور استہزا کرنے لگے کہ آگ کے اندر بھلا درخت کیسے پیدا ہوسکتے ہیں ؟ انہیں کیا معلوم کہ یہ اس عالم کی بات ہے جس کے طبعی قوانین اس دنیا کے طبعی قوانین سے مختلف ہوں گے اور جہنم کی آگ کی نوعیت اور کیفیت بھی ہماری دنیا کی آگ سے مختلف ہوگی۔ (وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا) قرآن میں یہ سب باتیں انہیں خبردار کرنے کے لیے نازل ہوئی ہیں مگر یہ ان لوگوں کی بد بختی ہے کہ اللہ کی آیات سن کر ڈرنے اور ایمان لانے کی بجائے وہ مزید سرکش ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی سرکشی میں روز بروز مزید اضافہ ہوتاجا رہا ہے ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

70. That is, at the very beginning of your Prophethood, when the disbelievers of the Quraish had started opposition to your message, We declared that We are encircling them. They might try their best to obstruct your message, but they will inevitably fail in this and your mission will succeed regardless of opposition. Can’t they see that this declaration has come out true as a miracle, for their opposition has failed to hinder your message, and they have not been able to do any harm to you at all. This was a clear sign of the fact that the mission of the Prophet (peace be upon him) was being supported by the Almighty God. As regards to the declaration that Allah is encircling the disbelievers and helping the mission of the Prophet, it occurs in several Surahs of the first stage of Prophethood at Makkah. For instance, in (Ayats 17-20 of Surah Al-Burooj), Allah says: These disbelievers do not learn a lesson from the stories of the people of the Pharaoh and Thamud but are rejecting the message here as Allah is encircling them on all sides. 71. This refers to Miraj (Ascension) for here word ruya does not mean “seeing things in a dream” but seeing things actually with physical eyes. It is quite obvious that if it had been a mere dream and the Prophet (peace be upon him) had presented it as a dream to the disbelievers, there was no reason why it should have become a trial for them. Everyday people see strange dreams and relate them to the people but these dreams never become such a curious thing as to make people scoff at the dreamer and accuse him of making a false claim or of being a mad person. 72. This cursed tree, Az-zaqqum which has been mentioned in (Ayat 43-44 of Surah Ad-Dukhan), grows at the bottom of Hell and its dwellers shall have to eat from it. This has been called a cursed tree because it is not given to people to eat as a mercy from Allah but as a symbol of His curse so that the accursed people should eat it and get more sore, for this will, so to speak, burn in their bellies like the boiling water.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :70 یعنی تمہاری دعوت پیغمبرانہ کے ابتدائی دور میں ہی ، جبکہ قریش کے ان کافروں نے تمہاری مخالفت و مزاحمت شروع کی تھی ، ہم نے صاف صاف یہ اعلان کر دیا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کو گھیرے میں لے رکھا ہے ، یہ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر دیکھ لیں ، یہ کسی طرح تیری دعوت کا راستہ نہ روک سکیں گے ، اور یہ کام جو تونے اپنے ہاتھ میں لیا ہے ، ان کی ہر مزاحمت کے باوجود ہو کر رہے گا ۔ اب اگر ان لوگوں کو معجزہ دیکھ کر ہی خبردار ہونا ہے ، تو انہیں یہ معجزہ دکھایا جا چکا ہے کہ جو کچھ ابتدا میں کہہ دیا گیا تھا وہ پورا ہو کر رہا ، ان کی کوئی مخالفت بھی دعوت اسلامی کو پھیلنے سے نہ روک سکی ، اور یہ تیرا بال تک بھیگا نہ کر سکے ۔ ان کے پاس آنکھیں ہوں تو یہ اس امر واقعہ کو دیکھ کر خود سمجھ سکتے ہیں کہ نبی کی اس دعوت کے پیچھے اللہ کا ہاتھ کام کر رہا ہے ۔ یہ بات کہ اللہ نے مخالفین کو گھیرے میں لے رکھا ہے ، اور نبی کی دعوت اللہ کی حفاظت میں ہے ، مکے کے ابتدائی دور کی سورتوں میں متعدد جگہ ارشاد ہوا ہے ۔ مثلاً سورہ بروج میں فرمایا: بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ ا فِیْ تَکْذِیْبٍ وَّاللہُ مِنْ وَّرَآءِھِمْ مُّحِیطٌ ( مگر یہ کافر جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں ، اور اللہ نے ان کو ہر طرف سے گھیرے میں لے رکھا ہے ) ۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :71 اشارہ ہے معراج کی طرف ۔ اس کے لیے یہاں لفظ ”رؤیا“ جو استعمال ہوا ہے یہ ”خواب“ کے معنی میں نہیں ہے بلکہ آنکھوں دیکھنے کے معنی میں ہے ۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ محض خواب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خواب ہی کی حیثیت سے کفار کے سامنے بیان کیا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ ان کے لیے فتنہ بن جاتا ۔ خواب ایک اسے ایک عجیب دیکھا جاتا ہے ، اور لوگوں سے بیان بھی کیا جاتا ہے ، مگر وہ کسی کے لیے بھی ایسے اچنھبے کی چیز نہیں ہوتا کہ لوگ اس کی وجہ سے خواب دیکھنے والے کا مذاق اڑائیں اور اس پر جھوٹے دعوے یا جنون کا الزام لگانے لگیں ۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :72 یعنی زقوم ، جس کے متعلق قرآن میں خبر دی گئی ہے کہ وہ دوزخ کی تہ میں پیدا ہوگا اور دوزخیوں کو اسے کھانا پڑے گا اس پر لعنت کرنے سے مراد اس کا اللہ کی رحمت سے دور ہونا ہے ۔ یعنی وہ اللہ کی رحمت کا نشان نہیں ہے کہ اسے اپنی مہربانی کی وجہ سے اللہ نے لوگوں کی غذا کے لیے پیدا فرمایا ہو ، بلکہ وہ اللہ کی لعنت کا نشان ہے جسے ملعون لوگوں کے لیے اس نے پیدا کیا ہے تا کہ وہ بھوک سے تڑپ کر اس پر منہ ماریں اور مزید تکلیف اٹھائیں ۔ سورہ دخان ( آیات ٤۳ ۔ ٤٦ ) میں اس درخت کی جو تشریح کی گئی ہے وہ یہی ہے کہ دوذخی جب اس کو کھائیں گے تو وہ ان کے پیٹ میں ایسی آگ لگائے گا جیسے ان کے پیٹ میں پانی کھول رہا ہو ۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :73 یعنی ہم نے ان کی بھلائی کے لیے تم کو معراج کے مشاہدات کرائے ، تاکہ تم جیسے صادق و امین انسان کے ذریعہ سے ان لوگوں کو حقیقت نفس الامری کا علم حاصل ہو اور یہ متنبہ ہو کر راہ راست پر آجائیں ، مگر ان لوگوں نے الٹا اس پر تمہارا مذاق اڑایا ہم نے تمہارے ذریعہ سے ان کو خبردار کیا کہ یہاں کی حرام خوریاں آخرکار تمہں زقوم کے نوالے کھلوا کر رہیں گی ، مگر انہوں نے اس پر ایک ٹھٹھا لگایا اور کہنے لگے ، ذرا اس شخص کو دیکھو ، ایک طرف کہتا ہے کہ دوزخ میں بلا کی آگ بھڑک رہی ہوگی ، اور دوسری طرف خبر دیتا ہے کہ وہاں درخت اگیں گے!

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

32: یعنی اﷲ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو بتادیا تھا کہ اﷲ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ یہ ہٹ دھرم لوگ کسی صورت میں ایمان نہیں لائیں گے۔ چنانچہ ان کی ہٹ دھرمی کی دو مثالیں دی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو معراج کے موقع پر جو نظارہ دِکھایا، وہ آپ کے پیغمبر ہونے کی کھلی ہوئی دلیل تھی۔ کافروں نے آپ سے بیت المقدس کے بارے میں مختلف سوالات کئے، اور آپ نے سب کے ٹھیک ٹھیک جوابات دے دئیے، جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ واقعی آپ نے راتوں رات یہ سفر کیا ہے۔ لیکن اتنی کھلی ہوئی بات سامنے آجانے کے بعد بھی یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹے رہے۔ دوسری مثال یہ ہے کہ قرآنِ کریم نے فرمایا تھا کہ زَقوم کا درخت دوزخیوں کی غذا ہوگی، اور یہ بھی فرمایا تھا کہ یہ درخت جہنم ہی میں پیدا ہوتا ہے، اس پر کافروں نے ایمان لانے کے بجائے مذاق اُڑانا شروع کیا کہ بھلا آگ میں درخت کیسے پیدا ہوسکتا ہے، اور یہ نہ سوچا کہ جس ذات نے آگ پیدا کی ہے، اگر وہ اسی آگ میں کوئی درخت بھی پیدا کردے جس کی خاصیت عام درختوں سے مختلف ہو تو بھلا اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ 33: یعنی اُس سے ہدایت حاصل کرنے کے بجائے یہ اور گمراہی میں پڑگئے، جس کی تفصیل اُوپر کے حاشیہ میں گذری۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٠:۔ مسند ابویعلی موصلی تفسیر ابراہیم بن مندر ابن جریر ابن ابی حاتم ابن مردویہ میں جو شان نزول اس آیت کی کئی صحابہ سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس رات آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معراج ہوتی اس کی صبح کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے معراج کا حال بیان کیا تاکہ لوگ ان کو سچا نبی جان کر ایمان لاویں مشرکوں نے بیت المقدس کے پنے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھے اور کئی قافلے عرب کے ملک شام کو گئے ہوئے تھے ان قافلوں کا حال بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت بیت المقدس اور ان قافلوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے کردیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت المقدس کی سب نشانیاں اور ان قافلوں کا سب حال معراج اور دوزخ میں زقوم کا درخت لوگوں کے آزمانے کی نشانیاں ہیں بہت لوگ غیب کی باتوں پر ایمان لاکر نجات کے سب اچھے برے لوگ اللہ کے قبضہ وقدرت میں ہیں اس لیے کوئی مخالف تم کو اے نبی اللہ کے کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ زبان سے جھٹلاتے ہیں تو ان کو جھٹلانے دو ۔ تم اپنا کام بےخوف وخطر کرو اللہ کی حکمت میں وہم و قیاس لانا شیطانی عادت ہے۔ اسی مشابہت کی غرض سے اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے شیطان کی نافرمانی کے قصہ کا ذکر فرمایا ہے۔ مشرکوں نے بیت المقدس کی چند باتیں جو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھیں اور ان باتوں کے صحیح جواب دینے کے لیے اللہ کے حکم سے بیت المقدس اللہ کے رسول کے سامنے لایا گیا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے جابر بن عبداللہ کی حدیث اس بات میں اوپر گزر چکی ہے ١ ؎ جس سے اس شان نزول کی روایت کو تقویت ہوجاتی ہے۔ اس زقوم کے درخت کو سنیڈہ کہتے ہیں۔ سورة والصافات میں اس کا ذکر تفصیل سے آوے گا مشرکین مکہ اس درخت کو یوں جھٹلاتے تھے کہ دوزخ کی آگ میں یہ درخت کیوں کر پیدا ہوگا۔ یہ وہی درخت ہے جو دوزخ میں ہوگا اور اس کا پھل دوزخیوں کو کھلایا جائے گا۔ اس درخت کے باب میں ترمذی نسائی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے صحیح روایت ہے کہ اس درخت کے عرق کا ایک قطرہ اگر زمین پر آن پڑے تو اس کی بدبو سے تمام دنیا کے لوگوں کی گندگی میں خلل پڑجاوے ٢ ؎۔ ١ ؎ ملاحظہ ہو ص ١٩ جلد ہذا۔ ٢ ؎ ترمذی ص ٨٢ ج ٢ باب صفتہ شراب اہل النار۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:60) واذ قلنا۔ واذکر زمان قولنا بواسطۃ الوحی۔ یاد کرو وہ وقت جب ہم نے بواسطہ وحی کہا تھا۔ احاط۔ اس نے گھیر لیا۔ اس نے احاطہ کرلیا۔ اس نے قابو میں کرلیا۔ احاطۃ مصدر جس کے معنی کسی شے پر اس طرح چھا جانے کے ہیں (علمی طور پر، نفسیاتی طور پر، یا جسمانی طور پر) کہ اس سے فرار ممکن نہ ہو۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک یہاں احاطہ علمی مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو انسانوں کے ماضی ۔ حال۔ مستقبل۔ ظاہروباطن سب کا دقیق عمیق علم کامل ہے۔ الرء یا۔ خواب ۔ قرآن مجید میں یہ لفظ بغیر وائو کے صرف ہمزہ کے ساتھ بغیر مرکز ہمزہ (یبغیر نقطہ کے) لکھا جاتا ہے۔ یہ رأی یری کا مصدر ہے اور بروزن فعلی اسم بھی ہے بمعنی خواب ۔ بیضاوی (رح) لکھتے ہیں رؤیا رویۃ ہی کی طرح ہے مگر وہ خواب میں دیکھنے کے لئے مخصوص ہے اور یہی قول حریری کا ہے۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں :۔ کہ رؤیا کبھی بمعنی رویت بھی آتا ہے (یعنی بیداری میں دیکھنا) اور اس کی سند میں اسی آیت کو لاتے ہیں۔ متبنی نے بھی رؤیا کا استعمال حالت بیداری میں دیکھنے کے معنی میں کیا ہے۔ اسی سے ہے ورؤیاک احلی فی العیون من الغمض (نیم باز آنکھوں کی نسبت تو تیرا (نگاہ بھر کر) دیکھنا آنکھوں کو زیادہ بھلا معلوم ہوتا ہے) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) آیۃ ہذا کی تفسیر میں فرماتے ہیں :۔ ھی رؤیا عین اریھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لیلۃ اسری بہ (یہ آنکھ کا دیکھنا تھا جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دکھایا گیا۔ یہاں رؤیا کا اشارہ معراج کی طرف ہے۔ فتنۃ۔ آزمائش،” آزمائش کا سبب “۔ الشجرۃ الملعونۃ۔ موصوف، صفت، وہ درخت جس کی لعنت کی گئی ہے۔ الشجرۃ الملعونۃ فی القران۔ ای الشجرۃ الملعونۃ مذکورۃ فی القران۔ وہ ملعون درخت جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ قرآن میں یہ ذکر ان آیات میں آیا ہے۔ اذلک خیر نزلا ام شجرۃ الزقوم۔ انا جعلناھا فتنۃ للظالمین۔ انھا شجرۃ تخرج فی اصل الجحیم۔ طلعھا کانہ رؤس الشیطن۔ (کیا یہ دعوت بہتر ہے یا زقوم کا درخت۔ ہم نے اس کو کافروں کے لئے (موجب) آزمائش بنایا ہے وہ ایک درخت ہے جو قعر دوزخ میں سے نکلتا ہے ۔ اس کے پھل ایسے ہیں جیسے کہ شیاطین کے سر۔ الشجرۃ الملعونۃ کا عطف الرٔیا پر ہے۔ جملہ یوں ہوگا : ۔ وما جعلنا الرء یا التی ارینک والشجرۃ الملعونۃ مذکورۃ فی القران الا فتنۃ للناس۔ اور ہم نے جو منظر آپ کو دکھلایا تھا اسے اور اس ملعون درخت کو جو قرآن میں مذکور ہے لوگوں کے لئے آزمائش کا سبب بنادیا۔ نخوفہم۔ نخوف مضارع جمع متکلم تخویف (تفعیل) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب، ہم ان کو ڈراتے ہیں۔ ہم ان کو ڈراتے رہتے ہیں۔ یزیدہم۔ یزید کی ضمیر فاعل کا مرجع التخویف (ان کو ڈرانا ) ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 لوگوں سے مراد کفار مکہ ہیں اور ان کا احاطہ کرلینے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنا پورا زور لگانے کے باوجود محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے اور نہ آپ کی دعوت کو پھیلنے سے روک سکے۔ اس سے مقصود آنحضرت کو حوصلہ دلانا ہے کہ آپ بےخطر اپنی دعوت پیش کرتے رہئے ان لوگوں کی مخالفت کی کوئی پروا نہ کیجیے۔ یہ آپ کا بال تک بیکا نہیں کرسکتے۔8 کہ کون اسے سچا مان کر اپنے ایمان کا ثبوت دیتا ہے اور کون سا یجھٹلا کر کفر کی دلدل میں پڑا رہتا ہے یا کفر کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ مراد معراج کا واقعہ ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے واپسی کے عبد اسے لوگوں سے بیان فرمایا تو قریش نے اس کی سخت تکذیب کی اور آپ کا حد سے زیادہ مذاق اڑایا بلکہ خود مسلمانوں میں سے بعض ل وگ اسلام سے پھرگئے۔ ” رئویا “ کا لفظ خواب کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے مگر یہاں اس سے مراد ” آنکھ کا دکھاوا “ ہے کیونکہ اگر یہ محض خواب ہوتا تو لوگوں کے امتحان کی یہ صورت پیدا نہ ہوسکتی تھی حضرت ابن عباس اور دوسرے اکثر مفسرین نے اس کی یہی تفسیر کی ہے۔ (ابن کثیر و شوکانی)9 اسے بھی لوگوں کے لئے آزمائش بنایا۔ مراد زقوم کا درخت ہے یعنی تھوہر یا ناگ پھنی (دیکھیے سورة خان 43) اور اس پر لعنت ہے مراد اس کے کھانے والے پر لعنت ہے اور آزمائش یہ ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو بتایا کہ آپ نے جنت اور دوزخ دیکھی اور دوزخ میں زقوم کا درخت دیکھا تو منکرین نے مذاق اڑایا اور کہا کہ دوزخ کی آگ میں سبز درخت کیسے ہوسکتا ہے۔ (ابن کثیر)10 اسی لئے جب قرآن میں زقوم کا بیان ہوا تو ابوجہل نے کھجور اور مکھن منگوایا اور دونوں کو ملا کر کھانے لگا اور بولا ” یہ ہے زقوم “ اسی کو نوش جان کرو ہم اس کے علاوہ کسی زقوم کو نہیں جانتے۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نیا خطاب۔ اس آیت مبارکہ میں جس خواب کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ کہ ہم نے آپ کو پہلے ہی بتلادیا تھا کہ آپ کا رب لوگوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھلایا ہے وہ لوگوں کے لیے آزمائش ہے۔ اس آیت مبارکہ میں جس خواب کا تذکرہ کیا گیا ہے اس کے بارے میں صحابہ کرام (رض) کی دو آراء ہیں۔ ١۔ صحابہ کرام (رض) کی ایک جماعت کا موقف یہ ہے کہ یہ خواب غزوہ بدر سے پہلے آپ کو دکھلایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس معرکہ میں کامیاب ہوں گے اور آپ کا دشمن ناکام ہوگا۔ یہ خواب مشرکین کے لیے کڑی آزمائش ثابت ہوا۔ جسے کفار اور مشرکین نے مذاق کا نشانہ بنایا۔ ٢۔ مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ْکا فرمان ہے۔ یہاں ” رؤیا “ سے مراد آنکھوں سے دیکھنا ہے۔ اس سے مراد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معراج ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب معراج سے واپس تشریف لائے تو کفار نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کردیا۔ جو لوگ لفظ رؤیا سے یہ استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جسمانی معراج کی بجائے خواب میں معراج کروایا گیا ہے۔ ان کا نقطہ نظر اس لیے درست نہیں کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار سے خواب میں مسجد اقصیٰ اور آسمانوں کی سیر کا ذکر کرتے۔ تو اس میں کفار کے لیے کون سی آزمائش اور اعتراض کی بات ہوسکتی تھی۔ کیونکہ خواب میں تو انسان بڑی سے بڑی چیز دیکھنے کا تصور کرسکتا ہے۔ جس طرح معراج کفار کے لیے آزمائش بنایا گیا۔ اسی طرح ہی وہ درخت بھی ان کے لیے آزمائش ثابت ہوا۔ جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔ (أَذٰلِکَ خَیْرٌ نُزُلًا أَمْ شَجَرَۃُ الزَّقُّومِ ۔إِنَّا جَعَلْنَاہَا فِتْنَۃً للظَّالِمِیْنَ إِنَّہَا شَجَرَۃٌ تَخْرُجُ فِی أَصْلِ الْجَحِیْمِ ۔ طَلْعُہَا کَأَنَّہُ رُءُ وْسُ الشَّیَاطِیْنِ )[ الصٰفٰت : ٦٢ تا ٦٥] ” کیا یہ اچھی ہے یا تھور کا درخت ہم نے اسے ظالموں کے لیے آزمائش بنایا ہے۔ وہ ایک ایسا درخت ہے جو جہنم کی تہہ سے نکلتا ہے۔ اس کے خوشے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔ “ کفار نے یہ کہہ کر اس حقیقت کا مذاق اڑایا کہ کبھی آگ میں بھی درخت اگا کرتے ہیں۔ یہ کفار کی جہالت اور ہٹ دھرمی تھی ورنہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں ان کا بھی عقیدہ تھا کہ انہیں آگ میں پھینکا گیا۔ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آگ سے صحیح سالم باہر آئے۔ نمرود کی آگ انہیں کوئی گزند نہ پہنچا سکی۔ کفار یہ بھی جانتے تھے کہ عرب کے علاقے میں ایک ایسا بھی درخت ہے جس سے آگ نکلتی ہے۔ لیکن جس تھوہر کے درخت کا قرآن مجید نے ذکر کیا ہے کہ وہ جہنم میں ہوگا۔ یہ کہہ کر اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے کہ کبھی آگ میں بھی درخت اگا کرتے ہیں۔ انہیں کیا خبر تھی کہ آنے والے وقت میں سائنس ہمارا مذاق اڑائے گی۔ جس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ سمندر کے پانی کے نیچے بھی آگ کے الاؤ بھڑک رہے ہیں۔ جبکہ قرآن نے یہ حقیقت آج سے چودہ سو سال پہلے آشکارا کردی تھی۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ہُرَیْرَۃَ (وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی أَرَیْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَۃً للنَّاسِ ) قَالَ ہِیَ رُؤْیَا عَیْنٍ أُرِیَہَا رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِہِ (وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُونَۃَ ) شَجَرَۃُ الزَّقُّومِ ) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب (وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی أَرَیْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَۃً للنَّاسِ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے (وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی أَرَیْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَۃً للنَّاسِوہ آنکھ کا خواب ہے جو نبی کریم کو دکھائی گئی۔ اس رات جب آپ کو سیر کرائی گئی اور (وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُونَۃَ ) سے مراد زقوم کا درخت ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کا ہر طرف سے احاطہ کرنے والا ہے۔ ٢۔ بعض چیزیں اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے لیے پیدا کی ہیں۔ تفسیر بالقرآن شجر ملعونہ سے مراد ؟ ١۔ تھوہر کے درخت پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے۔ (بنی اسرائیل : ٦٠) ٢۔ ہم نے تھوہر کے درخت کو ظالموں کے لیے عذاب بنایا ہے۔ (الصٰفٰت : ٦٢۔ ٦٣) ٣۔ تھوہر کا درخت جہنم کی تہہ سے اگے گا۔ (الصٰفٰت : ٦٤) ٤۔ یقیناً تھوہر کا درخت مجرموں کا کھانا ہوگا۔ (الدخان : ٤٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

واقعہ اسرا کے بعد بعض وہ لوگ جو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاچکے تھے ، مرتد ہوگئے اور دوسرے اہل ایمان اس واقعہ کع سن کر مزید ثابت قد ہوگئے اور ان کے یقین میں ضافہ ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس رات اللہ نے اپنے بندے کو جو کچھ دکھایا ، وہ لوگوں کے لئے فتنے کا موجب بنا اور یہ اہل ایمان کے لئے آزمائش تھی۔ ” اللہ نے لوگوں کا احاطہ کر رکھا ہے “ کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اللہ کا یہ وعدہ تھا کہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور ان کی رسائی آپ تک نہ ہوسکے گی۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو بتا دیا تھا کہ ان کی رسائی ان تک نہیں ہوسکتی کیونکہ آپ کو سچے خواب میں یہ بات من عند اللہ بتا دی گئی تھی اور سفرا سرا میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو باتیں بتائی گئیں ان میں سے ایک درخت زقوم کے بارے میں تھی کہ یہ جہنمیوں کی خوراک ہوگی اور ابو جہل اور دوسرے مشرکین نے اس کی بھی تکذیب کی اور ابوجہل نے مذاق کے طور پر کہا مجھے کچھ اور مکھن دے دو ، جب دیا گیا تو وہ کھجور کے ساھت مکھن ملا کر کھاتا اور کہنا جاتا۔ “ کھائو اس زقوم کو کہ میں اس کے سوا کسی اور زقوم کو نہیں جانتا “۔ اگر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خارق عادت معجزات بھی دے دئیے جاتے تو بھی وہ اس قوم پر اثر انداز نہ ہوتے ، جس طرح انبیائے سابقین کے حق میں آنے والے معجزات اور آیات لوگوں کے لئے موجب ہدایت نہ ہوئے۔ جس طرح معجزہ اسرا ومعراج اور زقوم کے درخت سے ڈراوے نے ان کو ہدایت نہ بخشی اور وہ مزید سرکشی اختیار کرتے رہے اسی طرح دوسرے معجزات اگر صاد ربھی ہوجاتے تو لوگوں پر ان کا کوئی اثر نہ ہوتا۔ اللہ نے عذاب الٰہی کے ذریعہ امت محمدیہ کی ہلاکت لکھی ہوئی نہ تھی ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کو ایسا خارق عادت معجزہ نہیں دیا ، کیونکہ اللہ کا اصول یہ تھا کہ اگر پھر بھی کوئی تکذیب کرے تو اسے ہلاک کردیا جائے۔ رہے قریش تو ان کو اللہ نے مہلت دی اور ان کو قوم نوح ، قوم ہود ، قوم صالح ، قوم لوط اور قوم شعیب (علیہم السلام) کی طرح جڑ سے اکھاڑ کر نہ پھینا ، کیونکہ قریش کے مکذبین میں سے پیش تر لوگ بعد میں ایمان لائے اور وہ اسلام کے نامور سپای بنے۔ اور ان ہی میں سے بعض لوگ نہایت ہی سچے مسلمانوں میں شمار ہوئے اور قرآن کریم ، ایک کھلی کتاب کے طور پر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ایک معجزہ ہے۔ اور آج بھی اس پر بیشمار ایسے لوگ ایمان لاتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عہد دیکھا ہی نہیں۔ ہزار ہا افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے جنہوں نے قرآن مجید کو پڑھایا ایسے لوگوں کے شاگرد اور ساتھی اور رفیق بنے جنہوں نے قرآن مجید پڑھا اور سمجھا۔ آنے والی نسلوں کے لئے بھی ، قیامت تک ، یہ ایک کھلی کتاب ہوگا اور مستقبل کے پردہ غیب کے پیچھے ہزار ہو لوگ ایسے ہیں جو اس کو پڑھ کر ہدایت لیں گے اور ان میں ایسے لوگ بھی آئیں گے جو نہایت ہی پختہ مومن ، نہایت ہی صالح ، اسلام کے لئے نہایت ہی مفید اور متقی ہوں گے۔ وہ سچا خواب جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دکھایا گیا اور اس خواب کے ذریعے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو علوم عطا ہوئے اور جو ملعون درخت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دکھایا گیا جو شیاطین کے متبعین کی خوراک ہوگا۔ اس کے بعد اسی مناسبت سے ابلیس معلون کی بحث آتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اس شیطان نے بنی آدمی کو کس طرح چیلنج دیا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آپ کے رب کا علم سب کو محیط ہے، آپ کی رؤیا اور شجرہ ملعونہ لوگوں کے لیے فتنہ میں پڑنے کا سبب ہیں اس آیت میں اول تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرکے یوں فرمایا کہ آپ وہ وقت یاد کریں جب ہم نے آپ کو یہ بتایا کہ آپ کا رب اپنے علم کے اعتبار سے سب لوگوں کو احاطہ کیے ہوئے ہے اسے سب احوال ظاہرہ و باطنہ، گزشتہ موجودہ اور آئندہ سب کا علم ہے انہیں احوال میں سے یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ ایمان نہ لائیں گے اور بہت سے لوگ ایمان لاکر بعض آزمائشوں کی باتوں میں مبتلا ہو کر ایمان پر جمنے کی بجائے ایمان سے پھرجائیں گے۔ اس کے بعد یوں فرمایا کہ ہم نے جو کچھ آپ کو عجیب چیزیں دکھائیں اور قرآن میں جو ایک ملعون درخت کا ذکر کیا یہ دونوں چیزیں لوگوں کی آزمائش کے لیے ہیں کہ ان کو سن کر کون ایمان قبول کرتا ہے اور کون کفر ہی پر جما رہتا ہے اور کون ایمان قبول کرنے کے بعد کفر میں واپس چلا جاتا ہے۔ لفظ رؤیا عربی زبان میں رأی یریٰ سے فُعْلٰی کا وزن ہے یہ صیغہ عام طور سے خواب کے لیے استعمال ہوتا ہے اور بعض مرتبہ بیداری میں دیکھنے کے لیے بھی مستعمل ہوا ہے۔ آیت بالا میں جو لفظ رؤیا آیا ہے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اس سے بیداری میں آنکھوں سے دیکھنا مراد ہے اور (وَ الشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَ ) سے زقوم کا درخت مراد ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢) جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیداری میں معراج ہوئی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک پہنچے وہاں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو نماز پڑھائی پھر آسمانوں پر تشریف لے گئے وہاں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے ملاقاتیں ہوئیں البیت المعمور کو ملاحظہ فرمایا سدرۃ کو دیکھا وغیرہ وغیرہ پھر اسی رات میں واپس مکہ معظمہ تشریف لے آئے راستے میں قریش کا ایک قافلہ بھی ملا جب آپ نے صبح کو اپنے سفر کا تذکرہ فرمایا اور سفر کے مرئیات اور مشاہدات بیان فرمائے تو بعض وہ لوگ جو ایمان قبول کرچکے تھے مرتد ہوگئے اور قریش مکہ کو بڑا تحیر ہوا کہ ایک رات میں کوئی شخص اتنی دور جاکر کیسے واپس آسکتا ہے لہٰذا انہوں نے تکذیب کردی پھر بیت المقدس کی نشانیاں آپ سے معلوم کرنے اور شافی جواب ملنے اور تجارتی قافلہ کے واپس پہنچنے سے جس کے آنے کی آپ نے خبر دی تھی قریش کا منہ بند ہوگیا لیکن جن کی قسمت میں ایمان چھوڑنا تھا انہوں نے ایمان چھوڑ دیا معراج کی رات کی جو باتیں آپ نے بیان فرمائیں بلاشبہ وہ فتنہ تھیں یعنی ان میں آزمائش تھی جو بعض لوگوں کے گمراہ ہونے کا سبب بھی بن گئی (بعض افراد نے لفظ فتنہ کو یہاں گمراہی کے معنی میں لیا ہے) اور (وَ الشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَ ) سے زقوم کا درخت مراد ہے جو دوزخیوں کی غذا ہوگی جس کا ذکر سورة صف میں بھی ہے اور سورة واقعہ میں بھی سورة صٰفّٰت میں فرمایا ہے کہ (اِِنَّا جَعَلْنَاھَا فِتْنَۃً لِّلظّٰلِمِیْنَ ) (بےشک ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لیے سبب امتحان بنایا) یہ درخت دوزخیوں کو کھانے کو ملے گا اور بھوک کی وجہ سے باوجود ناگواری کے پیٹ بھر کر کھائیں گے پھر اوپر سے کھولتا ہوا گرم پانی پئیں گے جیسا کہ سورة واقعہ میں بیان فرمایا ہے۔ یہ درخت صورت میں سانپوں کے پھنوں کی طرح ہوگا اور دوزخ کی تہہ سے نکلے گا کما فی سورة الصّٰفّٰت اور بد مزہ اس قدر ہوگا کہ اگر اس کا ایک قطرہ دنیا میں ڈال دیا جائے تو تمام دنیا والوں کی روزی بگاڑ کر رکھ دے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٥٠٣) جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس درخت کا تذکرہ فرمایا تو قریش مکہ مذاق اڑانے لگے ابو جہل نے کہا کہ ان کو دیکھو یہ کہتے ہیں کہ تم دوزخ میں ڈالے جاؤ گے اور کہتے ہیں کہ اس میں ایسی آگ ہوگی جو پتھروں کو جلا دے گی پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ اس میں سے درخت بھی نکلے گا درخت کو تو آگ جلا دیتی ہے وہاں درخت کیسے ہوگا ؟ وہاں عبد اللہ بن زبعری بھی تھا جو اس وقت مشرک تھا اس نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں زقوم سے ڈراتے ہیں ہمارے نزدیک تو زقوم یہی مکھن اور کھجور ہے، ابوجہل کہنے لگا کہ اے لونڈی ہمیں زقوم کھلا دے وہ مکھن اور کھجوریں لے آئی تو کہنے لگا آؤ لوگو ! زقوم کھالو جس سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم کو ڈرا رہے ہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زقوم کی کیفیت سورة صافات میں بیان فرمائی۔ (ذکرہ البغوی فی معالم التنزیل ج ٣/١٢٢) زقوم کے درخت کو جس کا ذکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوزخیوں کے عذاب کے ذیل میں فرمایا تھا اسے مشرکین نے کھجور اور مکھن پر محمول کرلیا اور مذاق بنایا۔ جس سے مزید کفر میں ترقی کر گئے لہٰذا واقعہ معراج کی طرح زقوم کا تذکرہ بھی لوگوں کے لیے موجب فتنہ بن گیا۔ درخت زقوم کو جو ملعونہ فرمایا اس کے بارے میں علامہ بغوی لکھتے ہیں کہ اہل عرب کھانے کی ہر مکروہ چیز کو طعام ملعون کہتے تھے لہٰذا زقوم کو شجر ملعونہ فرما دیا۔ آخر میں فرمایا (وَ نُخَوِّفُھُمْ فَمَا یَزِیْدُھُمْ اِلَّا طُغْیَانًا کَبِیْرًا) (یعنی ہم ان کو ڈراتے ہیں آخرت کے عذاب کی خبریں سناتے ہیں لیکن وہ الٹا اثر لیتے ہیں اور ان کی سرکشی اور زیادہ بڑھتی چلتی جاتی ہے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

58:۔ ہم نے آپ سے کہہ دیا اب ان مشرکین پر عذاب آنے کو ہے کیونکہ وہ ایک عظیم الشان معجزہ اسراء دیکھ کر بھی ایمان لانے پر تیار نہیں ہوئے اس لیے ان کی ہلاکت کا وقت اب بہت قریب ہے۔ الرویا سے واقعہ معراج مراد ہے۔ واقعہ معراج چونکہ عالم بالا سے تعلق رکھتا ہے جو اس عالم دنیا کے اعتبار سے خواب اور رویا ہے اس لیے اسے رویا کہا گیا لہذا اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ معراج جسمانی نہیں تھا بلکہ روحانی تھا۔ محاورات عرب میں یہ استعمال موجود ہے کہ جو کچھ عالم بیداری میں آنکھوں سے دیکھا جائے اس پر رویا کا اطلاق کردیا جائے۔ عن ابن عباس قالھی رویا عین اریھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لیلۃ اسری بہ الی بیت المقدس (قرطبی ج 10 ص 282) والعراب تقول رایت بعینی رویۃ و رویا (خازن) والمراد بالرویا ما عاینہ (علیہ الصلوۃ والسلام) لیلۃ المعراج من عجائب الارض والسماء جسما ذکر فی فاتحۃ السورۃ الکریمۃ والتعبیر عن ذلک بالرویا اما لانہ لا فرق بینھا و بین الرویۃ اولانھا وقعت باللیل الخ (ابو السعود ج 5 ص 607) ۔ یعنی معجزہ معراج ایک آزمائش تھی تاکہ ظاہر ہوجائے کہ کون مانتا ہے اور کون نہیں مانتا۔ ” الشجرۃ الملعونۃ “ یعنی تھوہر کا درخت جس کا ذکر قرآن مجید میں دوسری جگہ موجود ہے۔ ” ان شجرۃ الزقوم طعام الاثیم کالمھل یغلی فی البطون “ (رکوع 2) ۔ وہ بھی لوگوں کیلئے ایک آزمائش ہے مومنین اس کے موجود ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اور کفار معاندین کہتے ہیں کہ دوزخ میں درخت کس طرح پیدا ہوسکتا ہے جبکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود کہتا ہے کہ دوزخ کی آگ پتھروں کو بھی جلا دے گی۔ جعلوھا سخریۃ وقالوا ان محمد یزعم ان الجحیم تحرق الحجارۃ لم یقول ثبت فیہ الشجرۃ (مدارک ج 2 ص 247) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

60 اور وہ وقت یاد کیجیے جب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کے پروردگار کی قدرت اور اس کے علم نے تمام لوگوں کو احاطہ میں لے رکھا ہے اور سب کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور وہ دکھاوا جو ہم نے آپ کو دکھایا تھا یعنی معراج کی شب میں جو عجائبات قدرت آپ کو دکھائے تھے اس دکھاوے کو اور اس درخت کو جس کی مذمت قرآن کریم میں کی گئی ہے یعنی زقوم کا درخت جو دوزخی کھائیں گے۔ ان دونوں چیزوں کو ہم نے محض لوگوں کی آزمائش و ابتلاء کا ذریعہ بنایا اور ان کو خوف دلاتے اور ڈراتے رہتے ہیں مگر ہمارا ڈرانا ان کی سرکشی اور طغیانی کو بہت بڑھاتا ہے اور ان کی حد سے بڑھی ہوئی سرکشی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یعنی جو چیز ہدایت میں دخل رکھتی ہے اس سے ان کو ہدایت نہیں ہوتی تو نشانیاں جن کو ہایت میں دخل نہیں ان کے دکھانے سے ان کو کیا ہدایت ہوسکتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی جب کہ دیا کہ رب نے گھیر لئے ہیں لوگ تو آخر سب مسلمان ہوں گے پھر تو نشانی کیوں مانگی اور وہ دکھاوا معراج ہے کہ لوگ جانچے گئے سچوں نے مانا اور کچوں نے جھوٹ جانا اور درخت پھٹکارا ہو یعنی درخت زقوم قرآن کریم میں ہے کہ دوزخ والے کھائیں گے ایمان والے یقین لائے اور منکروں نے کہا دوزخ کی آگ میں سبز درخت کیونکر ہوگا یہ بھی جانچنا تھا۔ 12