Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 68

سورة بنی اسراءیل

اَفَاَمِنۡتُمۡ اَنۡ یَّخۡسِفَ بِکُمۡ جَانِبَ الۡبَرِّ اَوۡ یُرۡسِلَ عَلَیۡکُمۡ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَکُمۡ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۶۸﴾

Then do you feel secure that [instead] He will not cause a part of the land to swallow you or send against you a storm of stones? Then you would not find for yourselves an advocate.

تو کیا تم اس سے بے خوف ہوگئے ہو کہ تمہیں خشکی کی طرف ( لے جا کر زمین ) میں دھنسا دے یا تم پر پتھروں کی آندھی بھیج دے پھر تم اپنے لئے کسی نگہبان کو نہ پا سکو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Does not the Punishment of Allah come on Land too Allah says, أَفَأَمِنتُمْ أَن يَخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ أَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ... Do you then feel secure that He will not cause a side of the land to swallow you up, or that He will not send against you a Hasib! Allah says, do you think that by emerging onto dry land you will be safe from His vengeance and punishment, that a side of the land will not swallow you up or He will not send against you a Hasib - which is a kind of rain that carries stones. This was the view of Mujahid and others. As Allah says: إِنَّأ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَـصِباً إِلاَّ الَ لُوطٍ نَّجَّيْنَـهُم بِسَحَرٍ نِّعْمَةً مِّنْ عِندِنَا Verily, We sent against them, except the family of Lut, them We saved in the last hour of the night, As a favor from Us. (54:34-35) Elsewhere, Allah says: وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنْضُودٍ and We rained on them stones of Sijjil, in a well-arranged manner one after another. أَءَمِنتُمْ مَّن فِى السَّمَأءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الاٌّرْضَ فَإِذَا هِىَ تَمُورُ أَمْ أَمِنتُمْ مِّن فِى السَّمَأءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَـصِباً فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ Do you feel secure that He, Who is over the heaven (Allah), will not cause the earth to sink with you, and then it should quake Or do you feel secure that He, Who is over the heaven (Allah), will not send against you a Hasib! Then you shall know how (terrible) has been My warning. (67: 16-17) ... ثُمَّ لاَ تَجِدُواْ لَكُمْ وَكِيلً Then, you shall find no guardian. no helper to turn the punishment away from you and save you.

اظہار قدرت و اختیار رب العالمین لوگوں کو ڈرا رہا ہے کہ جو تری میں تمہیں ڈبو سکتا تھا ، وہ خشکی میں دھنسانے کی قدرت بھی رکھتا ہے پھر وہاں تو صرف اسی کو پکارنا اور یہاں اس کے ساتھ اوروں کو شریک کرنا یہ کس قدر ناانصافی ہے ؟ وہ تو تم پر پتھروں کی بارش بھی برسا کر ہلاک کر سکتا ہے جیسے لوطیوں پر ہوئی تھے ۔ جس کا بیان خود قرآن میں کئی جگہ ہے ۔ سورہ تبارک میں فرمایا کہ کیا تمہیں اس اللہ کا ڈر نہیں جو آسمانوں میں ہے کہ کہیں وہ تمہیں زمین میں نہ دھنسا دے کہ یکایک زمین جنبش کرنے لگے ۔ کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ کا خوف نہیں کہ کہیں وہ تم پر پتھر نہ برسا دے پھر جان لو کہ ڈرانے کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ اس وقت تم نہ اپنا مددگار پاؤ گے ، نہ دستگیر ، نہ وکیل نہ کار ساز ، نہ نگہبان ، نہ پاسبان ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

68۔ 1 یعنی سمندر سے نکلنے کے بعد تم جو اللہ کو بھول جاتے ہو تو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ وہ خشکی میں بھی تمہاری گرفت کرسکتا ہے، تمہیں وہ زمین میں دھنسا سکتا ہے یا پتھروں کی بارش کر کے تمہیں ہلاک کرسکتا ہے، جس طرح بعض گزشتہ قوموں کو اس نے اس طرح ہلاک کیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ ۔۔ : ” خَسْفٌ“ کا معنی زمین میں دھنسا دینا ہے۔ ” جَانِبَ الْبَرِّ “ خشکی کا کنارا، یہ اس لیے فرمایا کہ زمین میں پانی کا کنارا خشکی اور خشکی کا کنارا پانی ہے۔ ” حَاصِبًا “ سنگریزے اڑانے والی آندھی، یا وہ بادل جس سے اولے برسیں۔ ” قَاصِفًا “ ” ضَرَبَ “ سے اسم فاعل ہے، درختوں، کشتیوں اور ہر چیز کو توڑ دینے والی آندھی۔ ” تَبِيْعًا “ قرض یا انتقام کا مطالبہ کرنے والا جو پیچھا نہ چھوڑے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی نادانی اور کم عقلی بیان فرمائی ہے کہ تم جب خشکی پر پہنچ جاتے ہو تو اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے بےخوف ہو کر دوبارہ کفر و شرک میں مبتلا ہوجاتے ہو، کیا تمہیں اس بات کا کوئی خوف نہیں آ رہا کہ تمہیں اللہ تعالیٰ پانی میں ڈبو سکتا ہے تو خشک زمین میں بھی دھنسا سکتا ہے ؟ اس کا حکم ہو تو پانی کی طرح زمین تمہیں نگل لے، یا وہ پتھر اڑا کر لانے والی تند و تیز آندھی بھیج کر تمہیں ہلاک کر دے، پھر تمہیں کوئی مددگار نہیں ملے گا۔ یا تمہیں یہ بھی خوف نہیں رہا کہ تمہیں اللہ کی طرف سے پھر کبھی سمندری سفر پیش آجائے اور وہ تمہاری ناشکری کی سزا کے لیے ہر چیز کو توڑ دینے والی طوفانی ہوا کے ذریعے سے تمہیں غرق کر دے ؟ پھر تمہیں کوئی ایسی ہستی نہیں ملے گی جو اللہ تعالیٰ سے انتقام کا مطالبہ اور پیچھا کرے۔ معلوم ہوا کہ انسان کو کسی آزمائش سے نجات کے بعد دوبارہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر اور دوبارہ گرفت سے بےپروا ہرگز نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ سراسر خسارے کی بات ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ ۚ فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ ) [ الأعراف : ٩٩ ] ” پھر کیا وہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بےخوف ہوگئے ہیں، تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے بےخوف نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ “ ان آیات میں مذکور معنی اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر واضح فرمایا ہے، دیکھیے سبا (٩) ، انعام (٦٥) اور سورة ملک (١٦، ١٧) ” ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهٖ تَبِيْعًا “ کی ہم معنی آیت سورة شمس (١٤، ١٥) میں دیکھیے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا 68؀ۙ أمن أصل الأَمْن : طمأنينة النفس وزوال الخوف، والأَمْنُ والأَمَانَةُ والأَمَانُ في الأصل مصادر، ويجعل الأمان تارة اسما للحالة التي يكون عليها الإنسان في الأمن، وتارة اسما لما يؤمن عليه الإنسان، نحو قوله تعالی: وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] ، أي : ما ائتمنتم عليه، ( ا م ن ) امانت ۔ اصل میں امن کا معنی نفس کے مطمئن ہونا کے ہیں ۔ امن ، امانۃ اور امان یہ سب اصل میں مصدر ہیں اور امان کے معنی کبھی حالت امن کے آتے ہیں اور کبھی اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی کے پاس بطور امانت رکھی جائے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ } ( سورة الأَنْفال 27) یعنی وہ چیزیں جن پر تم امین مقرر کئے گئے ہو ان میں خیانت نہ کرو ۔ خسف الخُسُوف للقمر، والکسوف للشمس «1» ، وقال بعضهم : الکسوف فيهما إذا زال بعض ضوئهما، والخسوف : إذا ذهب كلّه . ويقال خَسَفَهُ اللہ وخسف هو، قال تعالی: فَخَسَفْنا بِهِ وَبِدارِهِ الْأَرْضَ [ القصص/ 81] ، وقال : لَوْلا أَنْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا لَخَسَفَ بِنا [ القصص/ 82] ، وفي الحدیث : «إنّ الشّمس والقمر آيتان من آيات اللہ لا يُخْسَفَانِ لموت أحد ولا لحیاته» «2» ، وعین خَاسِفَة : إذا غابت حدقتها، فمنقول من خسف القمر، وبئر مَخْسُوفَة : إذا غاب ماؤها ونزف، منقول من خسف اللہ القمر . وتصوّر من خسف القمر مهانة تلحقه، فاستعیر الخسف للذّلّ ، فقیل : تحمّل فلان خسفا . ( خ س ف ) الخسوف کا لفظ چاند کے بےنور ہونے اور کسوف کا لفظ سورج کے بےنور ہونے پر بولا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ خسوف قدر ہے بےنور ہونے کو کہاجاتا ہے اور کسوف پوری طرح بےنور ہوجانے کو کہتے ہیں ، عام اس سے کہ وہ سورج ہو یا چاند کہاجاتا ہے خسفہ اللہ اللہ نے اسے زمین میں دھنسادیا ( متعدی ) خسف ھو ( لازمی ) زمین میں دھنس جانا ۔ قرآن میں ہے :۔ فَخَسَفْنا بِهِ وَبِدارِهِ الْأَرْضَ [ القصص/ 81] پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا ۔ لَوْلا أَنْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا لَخَسَفَ بِنا [ القصص/ 82] اگر خدا ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا ۔ حدیث میں ہے ( ا اا) ان الشمس والقمر ایتان من ایات اللہ لایخسفان لموت احد ولا لحیاتہ کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو کسی کی موت پاپیدائش کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے ۔ اور عین خاسفہ ( اندر دھنسی ہوئی آنکھ ) کا محاورہ خسف القمر سے منقول ہے بئر مخسوفۃ وہ کنواں جس کا پانی غائب ہوگیا ہو اور چاند گہن لگنے سے چونکہ ماند پڑجاتا ہے اس لیے بطور استعارہ خسیف بمعنی ذلت ورسوائی بھی آجاتا ہے چناچہ کہا جاتا ہے ۔ تحمل فلان خسفا ۔ فلاں شخص ذلیل ہوگیا ۔ وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] . ( و ج د ) الو جود ( ض) کے معنی کسی چیز کو پالینا کے ہیں اور یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے حواس خمسہ میں سے کسی ایک حاسہ کے ساتھ اور اک کرنا جیسے وجدت طعمہ ( حاسہ ذوق ) وجدت سمعہ ( حاسہ سمع ) وجدت خثومتہ حاسہ لمس ) قوی باطنہ کے ساتھ کسی چیز کا ادراک کرنا ۔ جیسے وجدت الشبع ( میں نے سیری کو پایا کہ اس کا تعلق قوت شہو یہ کے ساتھ ہے ۔ وجدت الحزن وا لسخط میں نے غصہ یا غم کو پایا اس کا تعلق قوت غضبہ کے ساتھ ہے ۔ اور بذریعہ عقل کے کسی چیز کو پالیتا جیسے اللہ تعالیٰ یا نبوت کی معرفت کہ اسے بھی وجدان کہا جاتا ہے ۔ جب وجود پالینا ) کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس کے معنی محض کسی چیز کا علم حاصل کرلینا کے ہوتے ہیں کیونکہ ذات باری تعالیٰ جوارح اور آلات کے ذریعہ کسی چیز کو حاصل کرنے سے منزہ اور پاک ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا اور ان میں اکثروں کو ( دیکھا تو ) بد عہد دیکھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٨) مکہ والو تو کیا تم اس بات سے مطمئن بیٹھے ہو کہ وہ تمہیں قارون کی طرح خشکی کی طرف لا کر دھنسا دے یا تم پر قوم لوط (علیہ السلام) کی طرح پتھر برسا دیے جائیں پھر تم کسی کو اپنا مددگار نہ پاؤ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٨ (اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ ) جب تم جان بچا کر سمند رسے خشکی پر آتے ہو تو پھر اللہ کی نا شکری کرتے ہوئے اس سے منہ موڑ لیتے۔ کیا تمہیں اس بات سے خوف نہیں آتا کہ اگر اللہ چاہے تو تمہیں خشک زمین ہی کے اندر دھنسا دے ؟ کیا خشکی پر لوگوں کو موت نہیں آتی ؟ آسودۂ ساحل توُ ہے مگر شاید یہ تجھے معلوم نہیں ساحل سے بھی موجیں اٹھتی ہیں خاموش بھی طوفاں ہوتے ہیں ! (اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا) تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ چاہے تو سنگریزوں والی خوفناک آندھی سے بھی تمہیں ہلاک کرسکتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٨۔ اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے بیان فرمایا تھا کہ انسان جب دریا میں کشتی پر سوار ہوتا ہے اور تیز ہوا میں کشتی تہ وبالا ہونے لگتی ہے تو صرف خدا ہی کو لوگ یاد کرنے لگتے ہیں اس وقت کسی اور اپنے جھوٹے معبود کو نہیں پکارتے پھر جب اللہ پاک ان کی فریاد سن کر ان پر رحم کرتا ہے اور صحیح و سلامت خشکی پر ان کو پہنچاتا ہے تو پھر یہ لوگ خدا کو بھول جاتے ہیں ذرا بھی خیال نہیں رہتا کہ خدا کو کبھی یاد کیا تھا بالکل بےخوف ہوجاتے ہیں خدا کے عذاب کا ذرا بھی ڈر ان کے دل میں نہیں ہوتا یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ جو دریا میں غرق کرنے پر قادر ہے وہ کیا خشکی میں ہلاک کرنے پر قدرت نہیں رکھتا۔ غرض کہ اللہ پاک نے اسی بات کو بیان فرمایا کہ لوگ کیا بےخوف ہوگئے ہیں انہیں اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ خدا چاہے تو زمین میں انسان کو دھنسا دے اور اگر چاہے آسمان سے سنگ ساری اور برف باری کرے کہ لوگ اپنی اپنی جگہ مر کر رہ جاویں اور اس مصیبت اور عذاب سے بچانے والا انہیں کوئی میسر نہ آوے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک (رض) کی وہ روایت سورة الانفال میں گزر چکی ہے جس میں ابوجہل نے یہ کہا تھا کہ اگر یہ دین اسلام سچا ہو اور ہم لوگ اس کو نہ مانتے ہوں تو یا اللہ ہم پر پتھروں کا مینہ برسا اور کوئی سخت عذاب نازل کر ١ ؎۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی وہ حدیث بھی کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نافرمان لوگوں کو اللہ تعالیٰ ایک عرصہ تک مہلت دیتا ہے اور مہلت کے زمانہ میں جب وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ان کو سخت عذاب میں پکڑ لیتا ہے ٢ ؎۔ ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قریش کو وہ دھمکی دی جس کا ذکر آیت میں ہے اور مشرکوں نے عذاب کے نازل ہونے کی خواہش بھی کی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی عادت کے موافق ان لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور نافرمانی سے باز نہیں آئے تو بدر کی لڑائی میں ان کے بڑے بڑے سرکشوں کی ساری سرکشی خاک میں مل گئی جس کا قصہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک (رض) کی روایت کے حوالہ سے کئی جگہ گزر چکا ہے ٣ ؎۔ ١ ؎ نیز دیکھئے تفسیر ابن کثیرص ٣٠٤ ج ٢۔ ٢ ؎ مثلا تفسیر ہذاص ٥٣ ج ٣۔ ٣ ؎ مثلا تفسیر ہذاص ٣٥٢ ج ٣۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:68) افامنتم۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہے امنتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم امن میں ہوئے ۔ تم مطمئن ہوئے۔ امن سے۔ کیا تم بےفکر ہوگئے ہو۔ نڈر ہوگئے ہو۔ یخسف بکم۔ مضارع واحد مذکر غائب، منصوب بوجہ عمل ان۔ خسف مصدر ان یخسف بکم۔ وہ تم کو دھنسا دے۔ تمہارے سمیت دھنسا دے۔ جانب البر۔ مضاف مضاف الیہ۔ مل کر یخسف کا منفعول فیہ۔ خشکی کا کنارہ۔ یرسل۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ منصوب بوجہ عمل ان۔ ارسال (افعال) مصدر۔ یرسل علیکم تم پر بھیج دے۔ حاصبا۔ باد سنگ بار۔ پتھروں کا مینہ۔ سخت آندھی۔ نیز وہ پتھرائو جو تند ہوا میں ہو حاصب کہلاتا ہے۔ حصباء سے مشتق ہے۔ حصباء کنکریوں کو کہتے ہیں۔ سورة ملک میں ہے ام امنتم من فی السماء ان یرسل علیکم حاصبا۔ (67:17) کیا تم اس سے نڈر ہوگئے ہو وہ جو کہ آسمان میں ہے کہ وہ تمہارے اوپر ہوائے تند بھیج دے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کو پے درپے تین چیلنج دیئے گئے ہیں۔ پہلے مشرکین کی عادت کا ذکر ہوا ہے کہ جب دریائی سفر میں طوفان سے دوچار ہوتے ہیں تو صرف ایک اللہ کو پکارتے ہیں اور اسی کے حضور فریادیں کرتے ہیں۔ اس سے وعدے کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! اگر تو نے ہمیں اس گرداب سے نکال لیا تو ہم صرف تیرے ہی حضور جھکیں گے اور تجھ ہی سے فریاد کریں گے۔ یقیناتو ہی مشکل کشا ہے تیرے سوا کوئی بھی اس بھنور سے نہیں نکال سکتا مگر جب خشکی پر اترتے ہیں تو فوراً اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پے در پے تین چیلنج کیے گئے ہیں کہ یہ لوگ بھول گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں خشکی ہی میں دھنسا دے۔ کیا رب ذوالجلال اس بات پر قادر نہیں ؟ کہ تمہیں دوبارہ ایسے حالات اور گرداب سے دوچار کردے پھر تم اس کے سوا کوئی نہ اپنا مددگار پاؤ گے اور نہ ہی اس کی گرفت پر اس کے خلاف کوئی تعاقب نہیں کرسکتا ہے۔ جس طرح اس نے قارون کو اس کی دولت کے ساتھ زمین میں دھنسا دیا اور قوم لوط کو ان کی بستی سمیت اٹھا کر زمین پردے مارا اور اوپر سے پتھر برسائے۔ (فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَأَمْطَرْنَا عَلَیْہَا حِجَارَۃً مِنْ سِجِّیْلٍ مَنْضُوْدٍ مُسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ وَمَا ہِیَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ )[ ھود : ٨٢، ٨٣] ” پھر جب ہم نے حکم نافذ کیا، ہم نے اس بستی کو اوپر نیچے کردیا اور تابڑ توڑ پکی مٹی کے پتھر برسائے تیرے رب کی طرف سے ہر پتھر پر نشان (نام) لکھا ہوا تھا اور ظالموں سے یہ سزا دور نہیں ہے۔ “ قوم مدین کو ایک کڑک نے آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے اور ان کے گھر ایسے ویران ہوئے جیسے ان میں کوئی بسا ہی نہ ہو یاد رکھو اہل مدین پر ایسی ہی پھٹکار ہوئی جس طرح قوم ثمود پھٹکاری گئی۔ مفسرین نے لکھا ہے اللہ تعالیٰ نے ان پر سات راتیں آٹھ دن گرمی اور حبس کا ایسا عذاب مسلط کیا کہ وہ نہ تہہ خانوں میں آرام کرسکتے تھے اور نہ ہی کسی درخت کے سائے تلے ٹھہر سکتے تھے وہ انتہائی کرب کے عالم میں اپنے گھروں سے باہر نکلے تو ایک بادل ان کے اوپر سایہ فگن ہوا۔ جب سب کے سب بادل تلے جمع ہوگئے تو بادل سے آگ کے شعلے برسنے لگے اور زمین زلزلہ سے لرزنے لگی پھر ایسی دھماکہ خیز چنگھاڑ گونجی کہ ان کے کلیجے پھٹ گئے اور اوندھے منہ تڑپ تڑپ کر ذلیل ہو کر مرے۔ مسائل ا۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے عذاب مسلط کرسکتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی کارساز نہیں ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ دوبارہ بھنور میں مبتلا کرنے پر قادر ہے۔ ٤۔ اللہ کے سامنے کوئی دم نہیں مار سکتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا کارساز ہے : ١۔ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے، سو تم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (الانعام : ١٠٢) ٢۔ بیشک آپ ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہی ہر چیز پر کارساز ہے۔ (ہود : ١٢) ٣۔ اللہ ہر چیز کا پروردگار ہے اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (الزمر : ٤١) ٤۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے اور وہی کارساز کافی ہے۔ (النساء : ١٣٢) ٥۔ میرے بندوں پر شیطان کا داؤ پیچ نہیں چلے گا اللہ اپنے بندوں کے لیے کار ساز ہے۔ (بنی اسرائیل : ٦٥) ٦۔ وہ مشرق ومغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اسی کو کار سازمانو۔ (المزمل : ٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انسان جہاں ہوا اور جس دور میں ، جس لمحے میں ہو ، وہ اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ جس طرح خشکی میں وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں ، اسی طرح سمندر میں بھی وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہوں۔ تو وہ کس طرح امن میں ہوں گے۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کسی زلزلے میں ، زمین دھنس میں جائیں ، کوئی آتش فشاں پھٹ پڑے یا دوسری کوئی آفت سماوی ان پر ٹوٹ پڑے۔ اگر کوئی آتش فشاں پھٹ پڑے تو ان پر گرم لاوے ، گرم پانی ، کیچڑ اور پتھروں کا سیلاب آجائے ، اور وہ اس طرح ہلاکت کا شکار ہوجائیں کہ اللہ کے سوا کوئی ان کے لئے ناصر و مددگار نہ رہے۔ کوئی ان کی حمایت نہ کرسکے اور کوئی انہیں بچا نہ سکے۔ پھر کیا گارنٹی ہے کہ وہ دوبارہ سفر پر نہ جائیں یا اللہ انہی نہ بھیج دے۔ اور دوبارہ ان کو ناقابل کنٹرول موجوں کے حوالے کردے۔ یا ایسی ہوائیں ان پر آجائیں کہ کشتیوں اور جہازوں کو توڑ پھوڑ دیں اور ان کو ان کے کفر اور ناشکری کی وجہ سے غرق کردے اور اگر اللہ ایسا کردے تو اس سے پھر کون ہے پوچھنے والا۔ کیا یہ لوگ کوئی داد رسی کی جگہ پات ہیں ؟ خبردار ، یہ صریح غفلت ہے کہ لوگ اپنے رب سے منہ پھیر لیں اور پھر مامون ہو کر بیٹھ جائیں کہ ان پر کوئی عذاب نہ آئے گا۔ حالانکہ شدید ترین مصائب میں وہ بتقاضائے فطرت رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لیکن نارمل حالات میں وہ دوبارہ غفلت کے اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔ گویا جو شدت اور تکلیف گزری وہ آخری تھی اور دوبارہ کوئی تکلیف ان پر آنے والی نہیں ہے۔ اور پھر خدا کا کوئی عذاب آنے والا نہیں ہے۔ انسان کے یہ لچھن اس حقیقت کے ہوتے ہوئے کہ اسے اللہ نے اپنی مخلوق کے ایک بڑے حصے پر فضیلت دی ہے۔ سب سے پہلے تو اس کی تخلیق ایک بہترین ہیبت پر کی گئی۔ اس کا بڑا خمیر مٹی سے تیار کیا گیا اور اس کے اندر اللہ نے اپنی روح حیات پھونک دی۔ یوں اس مخلوق کے اندر مادی اور روحانی قوتیں ، زمنی اور آسمانی قوتیں جمع ہوگئی یعنی حضرت انسان کے اس ہیکل میں۔ پھر اللہ نے اس کے اندر عجیب عجیب فطری قوتیں ودیعت فرمائی ہیں۔ اور ان قوتوں ہی کی وجہ سے وہ خلافت فی الارض کے منصب کا اہل قرار پایا۔ وہ اس زمین میں تبدیلیاں کرتا ہے ، اس میں تصرفات کرتا ہے ، اس کو نشوونما دیتا ہے اور نئی نئی ایجادات کرتا ہے۔ اس مین دی ترکیب کرتا ہے اور مرکبات کا تجزیہ کرتا ہے اور اندگی کی نشوونما کو کمال تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے۔ پھر اس پوری کائنات نے ، اس انسان کا استقبال جس انداز میں کیا ، وہ بھی اس کی تکریم خاص ہے۔ تمام ملائکہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اسے سجدہ کریں۔ یوں ایک کائناتی محفل اور سماوی تقریب میں اسے یہ اعزاز عملاً بخشا گیا رسمی طور پر ۔ پھر اس انسان کی تکریم اور عزت افزائی کا اعلان اللہ نے اپنی اس آخری کتاب میں کیا جو اللہ کی آخری کتاب ہے اور ابدالا باد تک رہنے والی ہے ، یعنی قران کریم میں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد انسانوں کو تنبیہ فرمائی کہ سمندر کی مصیبت سے نکل کر جو تم مطمئن ہوگئے اور باطل معبودوں کے پھر سے پجاری بن گئے ہو تو کیا تم یہ سمجھ کر مطمئن ہوگئے ہو کہ خشکی میں اللہ تعالیٰ تمہیں ہلاک نہیں کرسکتا۔ سمندر سے باسلامت نکل کر پھر شرکیہ کاموں میں لگ جانے سے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ اب تم بالکل بےخوف ہوگئے تمہیں کوئی خطرہ نہیں۔ یہ تمہاری بیوقوفی ہے اللہ تعالیٰ کو جیسے سمندر میں غرق کردینے کی قدرت ہے۔ ایسے ہی یہ بھی قدرت ہے کہ وہ تمہیں خشکی میں لاکر زمین میں دھنسا دے۔ اور یہ بھی قدرت ہے کہ تم پر ایسی سخت ہوا بھیجے جو پتھر برسانے والی ہو اور اسے یہ بھی قدرت ہے کہ تمہیں دوبارہ سمندر میں واپس کردے پھر وہ وہاں تمہارے اوپر ہوا کا سخت طوفان بھیج کر تمہارے کفر کی وجہ سے تمہیں غرق کردے۔ وہ تمہیں ہلاک کرے تو تم اس کے سوا کوئی کارساز نہیں پاسکتے۔ (ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَکُمْ وَکِیْلًا) اور وہ ہلاک کردے تو کوئی بھی ایسا نہیں جو اس کا پیچھا کرے یعنی اس کی گرفت کرسکے اور اس سے بدلہ لے سکے (ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَکُمْ عَلَیْنَا بِہٖ تَبِیْعًا) لہٰذا ہمیشہ کے لیے شرک کو چھوڑ دو اور اپنے خالق سے ڈرتے رہو اور دین توحید کو اختیار کرلو۔ قولہ تعالیٰ (ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَکُمْ عَلَیْنَا بِہٖ تَبِیْعًا۔ ای نصیرا کما روی عن ابن عباس او ثائراً یطلبنا بما فعلنا انتصار امنا أو درکا اوللثأر من جھتنا فھو کقولہ تعالیٰ فَسَوَّاھَا وَلاَ یَخَافُ عُقْبَاھَا کما روی عن مجاھد) (روح المعانی)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

63:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ خشکی میں تم مصائب و بلیات سے محفوظ اور اپنے خود ساختہ کارسازوں کی پناہ میں ہو مگر یاد رکھو اگر اللہ چاہے تو نیچے سے زمین کو چیر کر تم کو اس میں دھنسا دے یا اوپر سے تم پر پتھروں کی بارش برسا کر تمہیں نیست و نابود کردے تو اس وقت بھی تمہارا کوئی خود ساختہ کار ساز ہرگز تمہاری مدد نہیں کرسکے گا۔ ” ام امنتم ان یعیدکم الخ “ وہ یوں بھی کرسکتا ہے کہ تمہیں اپنی ضرورتوں کے تحت پھر سے بحری سفر پر گامزن کردے اور عین وسط سمندر میں ایک ہولناک طوفان باد بھیج کر تمہیں غرق کردے اس وقت بھی تم کسی کو اپنا غمخوار اور ناصر و مددگار نہیں پاؤ گے۔ یعنی لا تجدو ناصرا ینصرکم و یصونکم من عذاب اللہ۔۔ ولا تجدوا من یتبعنا بانکار ما زنل بکم بان یصرفہ عنکم (کبیر ج 5 ص 617) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

68 آگے اس کا فرانہ روش پر تنبیہہ فرماتے ہیں تو کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ تم کو خشکی کے کنارے پر لا کر اور خشکی کی طرف لا کر تم کو زمین میں دھنسا دے یا تم پر کوئی کنکر پتھر برسانے والی سخت تند و تیز ہوا بھیج دے پھر تم کسی کو اپنا مددگار اور کار ساز بھی نہ پائو۔ یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمین زلزلہ سے یا کسی اور وجہ سے پھٹ جائے یا کسی دلدل میں پھنس کر زمین میں دھنس جائو یا کوئی تیز آندھی آجائے جس میں کنکر پتھر ہوں اور تم اس آندھی سے ہلاک کردیئے اور تمہارئی کوئی مدد کرنے والا بھی نہ ہو۔