Surat ul Kaahaf

Surah: 18

Verse: 44

سورة الكهف

ہُنَالِکَ الۡوَلَایَۃُ لِلّٰہِ الۡحَقِّ ؕ ہُوَ خَیۡرٌ ثَوَابًا وَّ خَیۡرٌ عُقۡبًا ﴿۴۴﴾٪  17

There the authority is [completely] for Allah , the Truth. He is best in reward and best in outcome.

یہیں سے ( ثابت ہے ) کہ اختیارات اللہ برحق کے لئے ہیں وہ ثواب دینے اور انجام کے اعتبار سے بہت ہی بہتر ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

هُنَالِكَ الْوَلاَيَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ ... to help him against Allah, nor could he defend himself. There, Al-Walayah will be for Allah, the True God. Here there are differences in recitation. Some of the reciters pause at the word there, وَمَا كَانَ مُنتَصِرًا هُنَالِكَ (nor could he defend himself there), i.e., at that time, when Allah sends the punishment upon him, there will be no one to save him. Then they start the next phrase with Al-Walayah; (Al-Walayah will be for Allah, the True God). Some of them pause at the phrase وَمَا كَانَ مُنتَصِرًا (nor could he defend himself) and start the next phrase; هُنَالِكَ الْوَلاَيَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ (There, Al-Walayah will be for Allah, the True God). There is a further difference in the recitation of the word Al-Walayah. Some read it as Al-Walayah, which gives the meaning that all allegiance will be to Allah, i.e., on that Day everyone, believer or disbeliever, will return to Allah, for allegiance and submission to Him when the punishment comes to pass. This is like the Ayah: فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَـفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ So when they saw Our punishment, they said: "We believe in Allah Alone and reject (all) that we used to associate with Him as partners." (40:84) and Allah says concerning the Fir`awn; وَجَاوَزْنَا بِبَنِى إِسْرَءِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِى ءَامَنَتْ بِهِ بَنواْ إِسْرَءِيلَ وَأَنَاْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ءَالَنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ Till when drowning overtook him, he said: "I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe, and I am one of the Muslims." Now! While you refused to believe before and you were one of the mischief-makers. (10:90-91) Some others read it as Al-Wilayah, meaning that on that Day the rule will belong to Allah, the True God. Some read Haqqu (True) referring to Al-Wilayah, as in the Ayah; الْمُلْكُ يَوْمَيِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـنِ وَكَانَ يَوْماً عَلَى الْكَـفِرِينَ عَسِيراً The sovereignty on that Day will be the true (sovereignty), belonging to the Most Gracious (Allah), and it will be a hard Day for the disbelievers. (25:26) Others it read Haqqi referring to Allah, may He be glorified, as in the Ayah: ثُمَّ رُدُّواْ إِلَى اللَّهِ مَوْلَـهُمُ الْحَقِّ Then they are returned to Allah, their True Protector. (6:62) So Allah says: هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَخَيْرٌ عُقْبًا He (Allah) is the best to reward and the best for the final end for deeds that were done for the sake of Allah, their reward is good and their consequences are all good.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

44۔ 1 ولایۃ۔ کے معنی موالات اور نصرت کے ہیں یعنی اس مقام پر ہر مومن و کافر کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی کسی کی مدد کرنے پر اور اس کے عذاب سے بچانے پر قادر نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ پھر اس موقع پر بڑے بڑے سرکش اور جبار بھی اظہار ایمان پر مجبور ہوجاتے ہیں، گو اس وقت کا ایمان نافع اور مقبول نہیں۔ جس طرح قرآن نے فرعون کی بابت نقل کیا ہے کہ جب وہ غرق ہونے لگا تو کہنے لگا۔ امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوا اسرائیل وانا من المسلمین۔ سورة یونس۔ میں اس اللہ پر ایمان لایا جس پر بنو اسرائیل ایمان رکھتے ہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ دوسرے کفار کی بابت فرمایا گیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو کہا ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جن کو ہم اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے ان کا انکار کرتے ہیں سورة المومن۔ اگر ولایت واو کے کسرے کے ساتھ ہو تو پھر اس کے معنی حکم اور اختیارات کے ہیں جیسا کہ ترجمے میں یہی معنی اختیار کیے گئے ہیں۔ ابن کثیر۔ 44۔ 2 یعنی وہی اپنے دوستوں کو بہتر بدلہ دینے والا اور حسن عاقبت سے مشرف کرنے والا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ : ”؀ۭهُنَالِكَ “ کا معنی اس وقت بھی ہے اور اس جگہ بھی، اس لیے دونوں کو ملحوظ رکھ کر ترجمہ اس موقع پر کیا گیا ہے۔ ” الْوَلَايَةُ “ واؤ کے فتح کے ساتھ معنی ہے ” مدد “ اور واؤ کے کسرہ کے ساتھ معنی ہے ” حکومت، اختیار “ یعنی اس موقع پر صرف اللہ سچے ہی کی مدد کار آمد ہوسکتی ہے، جیسا کہ پچھلی آیت کی تفسیر میں گزرا۔ هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَّخَيْرٌ عُقْبًا : اہل علم متفق ہیں کہ ” خَیْرٌ“ اور ” شَرٌّ“ دونوں اسم تفضیل ہیں، یعنی اصل میں ” اَخْیَرُ “ اور ” اَشَرُّ “ تھے، تخفیف کے لیے انھیں ” خَیْرٌ“ اور ” شَرٌّ“ کردیا گیا۔ یعنی بدلہ دینے میں اللہ سب سے بہت رہے، اس جیسا یا اس سے اچھا بدلہ کسی کے پاس نہیں اور اچھے انجام کے لحاظ سے بھی وہی سب سے بہتر ہے۔ اس کے عطا کردہ انجام جیسا انجام بھی کسی کے پاس نہیں۔ ” خَیْرٌ“ کا لفظ دوبارہ تاکید اور مبالغہ کے لیے ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ہُنَالِكَ الْوَلَايَۃُ لِلہِ الْحَقِّ۝ ٠ۭ ہُوَخَيْرٌ ثَوَابًا وَّخَيْرٌ عُقْبًا۝ ٤٤ۧ ولي والوَلَايَةُ : تَوَلِّي الأمرِ ، وقیل : الوِلَايَةُ والوَلَايَةُ نحو : الدِّلَالة والدَّلَالة، وحقیقته : تَوَلِّي الأمرِ. والوَلِيُّ والمَوْلَى يستعملان في ذلك كلُّ واحدٍ منهما يقال في معنی الفاعل . أي : المُوَالِي، وفي معنی المفعول . أي : المُوَالَى، يقال للمؤمن : هو وَلِيُّ اللهِ عزّ وجلّ ولم يرد مَوْلَاهُ ، وقد يقال : اللهُ تعالیٰ وَلِيُّ المؤمنین ومَوْلَاهُمْ ، فمِنَ الأوَّل قال اللہ تعالی: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] ( و ل ی ) الولاء والتوالی الوالایتہ ( بکسر الواؤ ) کے معنی نصرت اور والایتہ ( بفتح الواؤ ) کے معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دلالتہ ودلالتہ کی طرح ہے یعنی اس میں دولغت ہیں ۔ اور اس کے اصل معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ الوالی ولمولی ۔ یہ دونوں کبھی اسم فاعل یعنی موال کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی اسم مفعول یعنی موالی کے معنی میں آتے ہیں اور مومن کو ولی اللہ تو کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن مولی اللہ کہنا ثابت نہیں ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰٰ کے متعلق ولی المومنین ومولاھم دونوں طرح بول سکتے ہیں ۔ چناچہ معنی اول یعنی اسم فاعل کے متعلق فرمایا : ۔ اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] جو لوگ ایمان لائے ان کا دوست خدا ہے الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ ثوب أصل الثَّوْب : رجوع الشیء إلى حالته الأولی التي کان عليها، أو إلى الحالة المقدّرة المقصودة بالفکرة، وهي الحالة المشار إليها بقولهم : أوّل الفکرة آخر العمل «2» . فمن الرجوع إلى الحالة الأولی قولهم : ثَابَ فلان إلى داره، وثَابَتْ إِلَيَّ نفسي، وسمّي مکان المستسقي علی فم البئر مَثَابَة، ومن الرجوع إلى الحالة المقدرة المقصود بالفکرة الثوب، سمّي بذلک لرجوع الغزل إلى الحالة التي قدّرت له، وکذا ثواب العمل، وجمع الثوب أَثْوَاب وثِيَاب، وقوله تعالی: وَثِيابَكَ فَطَهِّرْ [ المدثر/ 4] ( ث و ب ) ثوب کا اصل معنی کسی چیز کے اپنی اصلی جو حالت مقدمہ اور مقصود ہوتی ہے اس تک پہنچ جانا کے ہیں ۔ چناچہ حکماء کے اس قول اول الفکرۃ اٰخرالعمل میں اسی حالت کی طرف اشارہ ہے یعنی آغاز فکر ہی انجام عمل بنتا ہے ۔ چناچہ اول معنی کے لحاظ سے کہا جاتا ہے ۔ شاب فلان الی درہ ۔ فلاں اپنے گھر کو لوٹ آیا ثابت الی نفسی میری سانس میری طرف ہوئی ۔ اور کنوئیں کے منہ پر جو پانی پلانے کی جگہ بنائی جاتی ہے اسے مثابۃ کہا جاتا ہے اور غور و فکر سے حالت مقدرہ مقصود تک پہنچ جانے کے اعتبار سے کپڑے کو ثوب کہاجاتا ہے کیونکہ سوت کاتنے سے عرض کپڑا بننا ہوتا ہے لہذا کپڑا بن جانے پر گویا سوت اپنی حالت مقصود ہ کی طرف لوٹ آتا ہے یہی معنی ثواب العمل کا ہے ۔ اور ثوب کی جمع اثواب وثیاب آتی ہے اور آیت کریمہ ؛۔ وَثِيابَكَ فَطَهِّرْ [ المدثر/ 4] اپنے کپڑوں کو پاک رکھو ۔ عقبي والعُقْبُ والعُقْبَى يختصّان بالثّواب نحو : خَيْرٌ ثَواباً وَخَيْرٌ عُقْباً [ الكهف/ 44] ، وقال تعالی: أُولئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ [ الرعد/ 22] ، والعاقِبةَ إطلاقها يختصّ بالثّواب نحو : وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] ، وبالإضافة قد تستعمل في العقوبة نحو : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] ( ع ق ب ) العقب والعقیب العقب والعقبی خاص کر ثواب یعنی اچھے بدلے پر بولے جاتے ہیں ۔ جیسے فرمایا : ۔ خَيْرٌ ثَواباً وَخَيْرٌ عُقْباً [ الكهف/ 44] اس کا صلہ بہتر اور ( اس کا ) بدلہ اچھا ہے ۔ أُولئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ [ الرعد/ 22] یہی لوگ ہیں جن کے لئے عافیت کا گھر ہے ۔ ۔ اور عاقبتہ کا لفظ بھی ثواب کے لئے مخصوص ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] اور انجام نیک تو پرہیز گاروں ہی کا ہے ۔ مگر یہ اضافت کی صورت میں کبھی آجاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٤) قیامت کے دن تمام بادشاہت اور سلطنت اللہ برحق ہی کے لیے ہوگی اور اس کا ثواب سب سے اچھا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٤ (هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ ) ولایت کے معنی یہاں حکومت اور اقتدار کے ہیں۔ ” والی “ کسی ملک یا علاقے کے مالک یا حکمران کو کہتے ہیں اور اسی سے یہ لفظ ولایت (واؤ کی زبر کے ساتھ) بنا ہے۔ اس لحاظ سے آیت کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ کل کا کل اقتدار و اختیار اللہ کے لیے ہے جو ” الحق “ ہے۔ اسی مادہ سے لفظ ” ولی “ بھی ہے جس کے معنی دوست اور پشت پناہ کے ہیں۔ اسی مادے سے ولایت (واؤ کی زیر کے ساتھ) بنا ہے اور یہ دوستی اور محبت کے معنی دیتا ہے۔ درج ذیل آیات میں اسی ولایت کا ذکر ہے : (اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ) (البقرۃ : ٢٥٧) اور (اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ) ( یونس ) ۔ (هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَّخَيْرٌ عُقْبًا) انعام وہی بہتر ہے جو وہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(18:44) ھنالک۔ ایسے موقعہ پر۔ ایسے وقت میں ای فی ذلک المقام اوفی تلک الحال (یعنی جب کوئی مصیبت آپڑے) الولایۃ۔ نصرت، مدد ۔ ولی یلی۔ حسب یحسب (لفیف مفروق) ولایۃ ولایۃ مدد کرنا المفردات میں ہے۔ الولایۃ (بفتح الواد) بمعنی نصرت اور الولایۃ (بکسر الواد) بمعنی کسی کام کا متولی ہونا ہے۔ آیۃ ہذا میں بمعنی نصرت ومدد ہی ہے۔ للہ الحق۔ لام حرف جار اللہ۔ الحق۔ موصوف وصفت ہوکر مجرور۔ ھنالک الولایۃ للہ الحق۔ ایسے وقت میں مدد و کارسازی اللہ برحق ہی کا کام ہے۔ خیر۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ اصل میں اخیر تھا۔ ہمزہ کو کثرت استعمال کی وجہ سے تخفیفاً حذف کردیا گیا۔ ثوابا وعقبا۔ بطور ثواب دینے جزا دینے کے۔ عقبا بطور جزا و ثواب کے یا بطور انجام کے۔ ہر دو منصوب بوجہ تمیز ہونے کے ہیں

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ یعنی اگر اس کے مقبولین کا کوئی نقصان ہوجاتا ہے تو دونوں جہان میں ثمرہ نیک ملتا ہے، بخلاف کافر کے کہ بالکل خسارہ میں رہ گیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

44 ایسے موقع پر مدد کرنا اللہ برحق ہی کا کام ہے اسی کا انعام سب سے اچھا ہے اور اسی کی اطاعت و فرمانبرداری کا انجام اور نتیجہ اچھا ہے۔ یعنی اس کا دیا ہوا ثواب اور بدلہ بھی سب سے بہتر اور اسی کی اطاعت کا نتیجہ اور انجام بھی سب سے بہتر۔