Surat ul Kaahaf

Surah: 18

Verse: 48

سورة الكهف

وَ عُرِضُوۡا عَلٰی رَبِّکَ صَفًّا ؕ لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا کَمَا خَلَقۡنٰکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍۭ ۫ بَلۡ زَعَمۡتُمۡ اَلَّنۡ نَّجۡعَلَ لَکُمۡ مَّوۡعِدًا ﴿۴۸﴾

And they will be presented before your Lord in rows, [and He will say], "You have certainly come to Us just as We created you the first time. But you claimed that We would never make for you an appointment."

اور سب کے سب تیرے رب کے سامنے صف بستہ حاضر کیے جائیں گے ۔ یقیناً تم ہمارے پاس اسی طرح آئے جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا لیکن تم تو اسی خیال میں رہے کہ ہم ہرگز تمہارے لئے کوئی وعدے کا وقت مقرر کریں گے بھی نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَعُرِضُوا عَلَى رَبِّكَ صَفًّا ... And they will be set before your Lord, aligned. This may mean that all of creation will stand before Allah in one row, as Allah says: يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَـيِكَةُ صَفّاً لاَّ يَتَكَلَّمُونَ إِلاَّ مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـنُ وَقَالَ صَوَاباً The Day that Ar-Ruh (Jibril) and the angels will stand aligned, they will not speak except him whom the Most Gracious (Allah) allows, and he will speak what is right); (78:38) or it may mean that they will stand in rows, as Allah says: وَجَأءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفّاً صَفّاً And your Lord comes with the angels in rows. (89:22) ... لَّقَدْ جِيْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ... Now indeed, you have come to Us as We created you the first time. This is a rebuke to those who denied the Hereafter, a reprimand before all creation. This is why Allah says to them: ... بَلْ زَعَمْتُمْ أَلَّن نَّجْعَلَ لَكُم مَّوْعِدًا Nay, but you thought that We had appointed no meeting for you (with Us)., meaning, you did not think that this would happen to you or that it would come to pass.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

48۔ 1 اس کے معنی ہیں کہ ایک ہی صف میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے، یا صفوں کی شکل میں بارگاہ الٰہی میں حاضر ہونگے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٤] ننگے بدن حشر :۔ جس طرح پہلی بار اکیلے پیدا ہوئے تھے صحیح وسالم پیدا ہوئے تھے بالکل برہنہ پیدا ہوئے اسی طرح ان کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا چناچہ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ نے فرمایا : && قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن بن ختنہ اکٹھے کیے جائیں گے && میں نے عرض کیا : && یارسول اللہ ! اس طرح تو مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے && آپ نے فرمایا : && وہ وقت اتنا سخت ہوگا کہ ان باتوں کی کسی کو ہوش ہی نہ ہوگی && (بخاری، کتاب الرقاق، باب کیف الحشر) [٤٥] اس وقت آخرت کے منکروں سے یہ کہا جائے گا کہ جس بات کا تم انکار کرتے رہے تھے۔ کیا اب وہ بات حقیقت بن کر تمہارے سامنے نہیں آگئی ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۢ ۡ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ ان سے یہ بات فرمائے گا۔ دیکھیے سورة انعام (٩٤) یہ خطاب آخرت کے منکروں سے ہوگا، جیسا کہ اس آیت کے آخر میں ہے : (بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا ) ” بلکہ تم نے گمان کیا تھا کہ ہم تمہارے لیے کبھی وعدے کا کوئی وقت مقرر نہیں کریں گے۔ “ ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( تُحْشَرُوْنَ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلاً قَالَتْ عَاءِشَۃُ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ إِلٰی بَعْضٍ ؟ فَقَالَ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ یُھِمَّھُمْ ذَاکِ ) [ بخاری، الرقاق، باب الحشر : ٦٥٢٧ ] ” تم قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنے کے اکٹھے کیے جاؤ گے۔ “ عائشہ (رض) فرماتی ہیں، میں نے کہا : ” یا رسول اللہ ! مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے ؟ “ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” معاملہ اس سے کہیں سخت ہوگا کہ انھیں اس بات کی سوچ آئے۔ “ ابن عباس (رض) سے بھی یہ حدیث آئی ہے، اس میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی : (كَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهٗ ۭ وَعْدًا عَلَيْنَا ۭ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيْنَ ) [ الأنبیاء : ١٠٤ ] ” جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کی ابتدا کی (اسی طرح) ہم اسے لوٹائیں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، یقیناً ہم ہمیشہ (پورا) کرنے والے ہیں۔ “ اس حدیث میں یہ بھی ہے : ( ثُمَّ إِنَّ أَوَّلَ الْخَلاَءِقِ یُکْسٰی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِبْرَاھِیْمُ ) [ بخاری، التفسیر، سورة الأنبیاء، باب : (کما بدأنا أول خلق نعیدہ وعداً علینا) : ٤٧٤٠، ٦٥٢٦ ] ” پھر سب سے پہلے جسے لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ مسلسل بےلباس کفار ہی رہیں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Visualize the Day of Resurrection The address to everyone on that fateful Day of Qiyamah shall be: جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّ‌ةٍ (Lo! You have come to Us [ empty-handed, without any of those things you proudly possessed ] just as We had created you at first - 48). A1-Bukhari, Muslim and Tirmidhi report on the authority of Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) once gave a Khutbah in which he said, |"0 people! On the Day of Qiyamah, you will come walking bare-footed, bare-bodied, before your Lord and the one to be donned with a dress first shall be Ibrahim, peace be on him.|" Hearing this, Sayyi¬dah ` A&ishah (رض) asked, &Ya Rasulallah, is it that all men and women shall be naked, and seeing each other?& He said, |"That day, everyone will be gripped by such preoccupation and anxiety that no one will have any occasion to cast a look towards any one - all eyes shall be raised upwards.|" According to al-Qurtubi, the statement appearing in a Hadith that the dead will meet each other in Barzakh dressed in their shrouds is not contradictory of this Hadith, because that is the case of Grave and Bar¬zakh (post-death - pre-resurrection state) while the present one con¬cerns the plains of Resurrection. And there are some Hadith reports to the effect that the deceased person will rise on the Day of Resurrection in the dress he or she was buried. Sayyidna ` Umar (رض) said, &Give good kafn (shroud) to the deceased among you because they will rise on the Last Day dressed in these.& Some commentators have interpreted the report as relating to Shahids (martyrs who are buried in their dress). Then, there are others who have said that it is possible that some people rise dressed on the Day of Resurrection and some others, without it. In this way, both kinds of reports conjoin. (Mazhari)

(آیت) وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ قیامت کے دن سب کو خطاب ہوگا کہ آج تم اس طرح خالی ہاتھ بغیر کسی سازو سامان کے ہمارے سامنے آئے ہو، جیسا تمہیں اول پیدائش کے وقت پیدا کیا تھا، بخاری، مسلم، ترمذی میں بروایت ابن عباس (رض) منقول ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیا جس میں فرمایا کہ اے لوگو تم قیامت میں اپنے رب کے سامنے ننگے پاوں ننگے بدن پیدل چلتے ہوئے آؤ گے، اور سب سے پہلے جس کو لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے، یہ سن کر حضرت صدیقہ عائشہ نے سوال کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا سب مرد و عورت ننگے ہوں گے اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس روز ہر ایک کو ایسا شغل اور ایسی فکر گھیرے رہے گی کہ کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کا موقع ہی نہ ملے گا، سب کی نظریں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی۔ قرطبی نے فرمایا کی ایک حدیث میں جو آیا ہے کی مردے برزخ میں ایک دوسرے سے اپنے کفنوں میں ملبوس ہو کر ملاقات کریں گے، وہ اس حدیث کے منافی نہیں، کیونکہ وہ معاملہ قبر اور برزخ کا ہے یہ میدان حشر میں اٹھے گا جس میں اس کو دفن کیا گیا تھا، حضرت فاروق اعظم (رض) نے فرمایا کہ اپنے مردوں کے کفن اچھے بنایا کرو کیونکہ وہ قیامت کے روز اسی کفن میں اٹھیں گے، اس کو بعض حضرات نے شہیدوں پر محمول کیا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ محشر میں بعض لوگ ملبوس اٹھیں اور بعض ننگے، اس طرح دونوں قسم کی روایات جمع ہوجاتی ہیں (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَعُرِضُوْا عَلٰي رَبِّكَ صَفًّا ۝ ٠ۭ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَـمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍؚ۝ ٠ۡبَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا۝ ٤٨ عرض أَعْرَضَ الشیءُ : بدا عُرْضُهُ ، وعَرَضْتُ العودَ علی الإناء، واعْتَرَضَ الشیءُ في حلقه : وقف فيه بِالْعَرْضِ ، واعْتَرَضَ الفرسُ في مشيه، وفيه عُرْضِيَّةٌ. أي : اعْتِرَاضٌ في مشيه من الصّعوبة، وعَرَضْتُ الشیءَ علی البیع، وعلی فلان، ولفلان نحو : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] ، ( ع ر ض ) العرض اعرض الشئی اس کی ایک جانب ظاہر ہوگئی عرضت العود علی الاناء برتن پر لکڑی کو چوڑی جانب سے رکھا ۔ عرضت الشئی علی فلان اولفلان میں نے فلاں کے سامنے وہ چیزیں پیش کی ۔ چناچہ فرمایا : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ صف الصَّفُّ : أن تجعل الشیء علی خط مستو، کالناس والأشجار ونحو ذلك، وقد يجعل فيما قاله أبو عبیدة بمعنی الصَّافِّ «1» . قال تعالی:إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا[ الصف/ 4] ، ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا [ طه/ 64] ، يحتمل أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الصَّافِّينَ ، وقال تعالی: وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ [ الصافات/ 165] ، وَالصَّافَّاتِ صَفًّا[ الصافات/ 1] ، يعني به الملائكة . وَجاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا [ الفجر/ 22] ، وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ [ النور/ 41] ، فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْها صَوافَ [ الحج/ 36] ، أي : مُصْطَفَّةً ، وصَفَفْتُ كذا : جعلته علی صَفٍّ. قال : عَلى سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ [ الطور/ 20] ، وصَفَفْتُ اللّحمَ : قدّدته، وألقیته صفّا صفّا، والصَّفِيفُ : اللّحمُ المَصْفُوفُ ، والصَّفْصَفُ : المستوي من الأرض كأنه علی صفٍّ واحدٍ. قال : فَيَذَرُها قاعاً صَفْصَفاً لا تَرى فِيها عِوَجاً وَلا أَمْتاً [ طه/ 106] ، والصُّفَّةُ من البنیان، وصُفَّةُ السَّرج تشبيها بها في الهيئة، والصَّفُوفُ : ناقةٌ تُصَفُّ بين مَحْلَبَيْنِ فصاعدا لغزارتها، والتي تَصُفُّ رجلَيْها، والصَّفْصَافُ : شجرُ الخلاف . ( ص ف ف ) الصف ( ن ) کے اصل معنی کسی چیز کو خط مستوی پر کھڑا کرنا کے ہیں جیسے انسانوں کو ایک صف میں کھڑا کرنا یا ایک لائن میں درخت وغیرہ لگانا اور بقول ابوعبیدہ کبھی صف بمعنی صاف بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ آیات : ۔ نَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا[ الصف/ 4] جو لوگ خدا کی راہ میں ایسے طور پر ) پرے جما کر لڑتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بیشک محبوب کرو گار ہیں ۔ ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا [ طه/ 64] پھر قطار باندھ کر آؤ ۔ وَجاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا [ الفجر/ 22] اور فرشتے قطار باندھ کر آموجود ہوں گے ۔ میں صفا مصدر بھی ہوسکتا ہے اور بمعنی صافین ( اسم فاعل ) بھی اور آیات : ۔ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ [ الصافات/ 165] اور ہم صف باندھتے رہتے ہیں ۔ وَالصَّافَّاتِ صَفًّا[ الصافات/ 1] قسم ہے صف بستہ جماعتوں ن کی میں صافون اور صافات سے مراد فرشتے ہیں نیز فرمایا : ۔ وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ [ النور/ 41] اور پرند بازو پھیلائے ہوئے ۔ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْها صَوافَ [ الحج/ 36] تو ( قربانی کرنے کے وقت قطار میں کھڑے ہوئے اونٹوں پر خدا کا نام لو ۔ اور صففت کذا کے معنی کسیچیز کی صف لگانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ عَلى سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ [ الطور/ 20] صف میں لگائے تختوں پر ۔ صفقت اللحم کے معنی گوشت کے پار چوں کو بریاں کرنے کے لئے سیخ کشیدہ کرنے کے ہیں اور سیخ کشیدہکئے ہوئے پار چوں کو صفیف کہا جاتا ہے : ۔ الصفصف ہموار میدان گویا وہ ایک صف کی طرح ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَيَذَرُها قاعاً صَفْصَفاً لا تَرى فِيها عِوَجاً وَلا أَمْتاً [ طه/ 106] اور زمین کو ہموار میدان کر چھوڑے گا جس میں نہ تم کجی ( اور پستی ) دیکھو گے اور نہ ٹیلا ) اور نہ بلندی ۔ الصفۃ کے معنی سایہ دار چبوتر ہ یا بر آمدہ کے ہیں اور تشبیہ کے طور پر زین کی گدی کو صفۃ السراج کہا جاتا ہے ۔ الصفوف وہ اونٹنی جو زیادہ دودھ دینے کی وجہ سے دو یا تین برتن بھرے یا وہ جو دودھ دوہنے کے وقت اپنی ٹانگوں کو ایک قطار میں رکھ کر کھڑی ہوجائے ۔ الصفصاف بید کا درخت ۔ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے زعم الزَّعْمُ : حكاية قول يكون مظنّة للکذب، ولهذا جاء في القرآن في كلّ موضع ذمّ القائلون به، نحو : زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا[ التغابن/ 7] ، لْ زَعَمْتُمْ [ الكهف/ 48] ، كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ [ الأنعام/ 22] ، زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ [ الإسراء/ 56] ، وقیل للضّمان بالقول والرّئاسة : زَعَامَةٌ ، فقیل للمتکفّل والرّئيس : زَعِيمٌ ، للاعتقاد في قوليهما أنهما مظنّة للکذب . قال : وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ [يوسف/ 72] ، أَيُّهُمْ بِذلِكَ زَعِيمٌ [ القلم/ 40] ، إمّا من الزَّعَامَةِ أي : الکفالة، أو من الزَّعْمِ بالقول . ( ز ع م ) الزعمہ اصل میں ایسی بات نقل کرنے کو کہتے ہیں جس میں جھوٹ کا احتمال ہو اس لئے قرآن پاک میں یہ لفظ ہمیشہ اس موقع پر آیا ہے جہاں کہنے والے کی مذمت مقصود ہے چناچہ فرمایا : ۔ زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا[ التغابن/ 7] کفار یہ زعم کو کہتے ہیں ۔ لْ زَعَمْتُمْ [ الكهف/ 48] مگر تم یہ خیال کرتے ہو ۔ كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ [ الأنعام/ 22] جن کو شریک خدائی سمجھتے تھے ۔ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ [ الإسراء/ 56] جنیںُ تم نے ) اللہ کے سوا ( معبود ) خیال کیا ۔ اور زعامۃ کے معنی ذمہ داری اٹھانے اور ریاست ( سرداری ) کے ہیں اور کفیل ( ضامن اور رئیں کو زعیم کہا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں کی بات میں جھوٹ کا احتمال ہوسکتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ [يوسف/ 72] اور میں اس کا ذمہ دار ہوں ، أَيُّهُمْ بِذلِكَ زَعِيمٌ [ القلم/ 40] ان میں سے کون اس کا ذمہ دار ہے ۔ یہاں زعیم یا تو زعامہ بمعنی کفالۃ سے ہے اور یا زعم بلقول سے ہے ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خرٰا و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٨) اور سب کے سب آپ کے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا آخر تم ہمارے پاس آئے جیسا کہ پہلی مرتبہ بغیر مال واولاد کے ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا بلکہ تم دنیا میں کہتے تھے کہ ہم تمہارے دوبارہ پیدا کرنے کے لیے کوئی وقت موعود نہیں لائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٨ (وَعُرِضُوْا عَلٰي رَبِّكَ صَفًّا ۭ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۢ) یہاں ” پہلی مرتبہ “ پیدا کرنے سے مراد عالم ارواح میں انسانی ارواح کی تخلیق ہے جبکہ اس زمین پر جسم اور روح کے ملاپ سے کی جانے والی انسانی تخلیق دراصل تخلیق ثانی ہے۔ فرض کریں اس دنیا کی عمر پندرہ ہزار برس ہے تو ان پندرہ ہزار برسوں میں وہ تمام انسان اس دنیا میں آ چکے ہیں جن کی ارواح اللہ تعالیٰ نے پیدا کی تھیں۔ ان تمام انسانوں کو قیامت کے دن پھر سے اکٹھا کرلیا جائے گا۔ چناچہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تمام انسان جیسے عالم ارواح میں بیک وقت ایک جگہ اکٹھے تھے ‘ اسی طرح قیامت کے دن بھی میدان حشر میں سب کے سب بیک وقت موجود ہوں گے۔ (بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا) یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو قرآن کے الفاظ میں (اَلَّذِین لَاْ یَرْجُون لِقَاءَنَا) (وہ لوگ جنہیں ہماری ملاقات کی امید نہیں) کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایسے لوگ جب اللہ کے حضور پیش ہوں گے تو انہیں ان کا وعدۂ الست (اَلَسْتُ بِرَبِّکُم) ( الاعراف : ١٧٢) بھی یاد دلایا جائے گا کہ تم لوگوں نے مجھے اپنا رب تسلیم کیا تھا پھر تم دنیا کی زندگی میں اس حقیقت کو بالکل ہی بھول گئے کہ تم نے واپس ہمارے پاس بھی آنا ہے۔ تمہیں گمان تک نہیں تھا کہ ہم تمہارے لیے اپنے سامنے پیشی کا کوئی وقت مقرر کریں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

45. This thing will be addressed to those who denied the Hereafter, as if to say: Well, now you see that the information given by the Prophets has come out to be true. They told you that Allah would bring you to life again as He first brought you out from the wombs of your mothers but you disbelieved in it. Now say whether you have been brought to life for the second time or not.

سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :45 یعنی اس وقت منکرین آخرت سے کہا جائے گا کہ دیکھو ، انبیاء کی دی ہوئی خبر سچی ثابت ہوئی نا ۔ وہ تمہیں بتاتے تھے کہ جس طرح اللہ نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے اسی طرح دو بارہ پیدا کرے گا ، مگر تم اسے ماننے سے انکار کرتے تھے ۔ بتاؤ ، اب دوبارہ تم پیدا ہو گئے یا نہیں ؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(18:48) عرضوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ عرض مصدر۔ (باب ضرب) وہ پیش کئے گئے۔ وہ روبرو کئے گئے۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل ہے۔ وہ پیش کئے جائیں گے۔ عرض علی وہ سامنے پیش کئے جائیں گے۔ صفا۔ صفوں میں۔ صفیں باندھے ہوئے۔ لقد جئتمونا۔ سے قبل نقول لہم یا یقال لہم۔ محذوف ہے۔ ای عرضوا علی ربک صفا ویقال لہم۔ وہ تمہارے پروردگار کے سامنے صف در صف پیش کئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا لقد جئتمونا۔ تم ہمارے پاس (اسی حالت میں) آئے ہو کما۔ جیسے۔ جیسا۔ بل۔ بلکہ۔ نیز ملاحظہ ہو (2:135) بل زعمتم بلکہ تم تو خیال کر رہے تھے۔ الن۔ ان لن۔ موعدا۔ اسم ظرف زمان۔ وقت ۔ وعدہ۔ وعدہ کا وقت۔ بل زعمتم الن نجعل لکم موعدا۔ بلکہ تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ہم نے تمہارے لئے وعدہ کا کوئی وقت مقرر ہی نہیں کیا۔ وعدہ سے مراد بعث بعد الموت ہے جو انبیاء کی زبانی لوگوں کو مطلع کیا گیا تھا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یہ خطاب ان لوگوں سے ہوگا جو دنیا میں آخرت سے انکار کرتے رہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم ننگے بدن ننگے پائوں بےختنہ اور طرح سے بےبسی کے عالم میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کئے جائو گے۔ (رازی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کی حالت کا بیان جب دنیا ختم کرکے جزا سزا کا دن مقرر کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن اس لیے مقرر فرمایا ہے کہ اس دن برے لوگوں کو ان کے برے اعمال کی ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے اور نیک لوگوں کو بہترین جزا سے سرفراز کیا جائے۔ اس دن کی ابتداء شدید ترین زلزلوں اور خوفناک دھماکوں سے ہوگی۔ زلزلوں اور دھماکوں سے بالآخر پہاڑ ریت کے ذرات بن کر مٹی کے ساتھ مل جائیں گے۔ زمین کے نشیب و فراز کو ہموار اور چٹیل مید ان میں تبدیل کردیا جائے گا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو کفار نے رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ لامتناہی اور فلک بوس پہاڑوں کا کیا ہوگا ؟ جس کا یہ جواب دیا گیا کہ اے پیغمبر ! انہیں یہ بتلائیں کہ میر ارب ان پہاڑوں کو اڑا کر ریزہ ریزہ کردے گا۔ زمین کو ہموار اور چٹیل میدان بنادے گا۔ جس میں تم کسی قسم کا گڑھا اور ٹیلہ نہیں دیکھو گے۔ اس دن لوگ ایک آواز دینے والے کی آواز کے پیچھے بےچوں چراں بھاگتے آئیں گے۔ لوگ رب رحمٰن کے سامنے اس قدر عاجزی اور آہستہ آواز کے ساتھ بات کریں گے کہ گنگناہٹ کے سوا کچھ نہیں سنا جائے گا۔ (طٰہٰ : ١٠٥ تا ١٠٨) اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس طرح اکٹھا کرے گا کہ کوئی ایک شخص بھی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری سے پیچھے نہیں رہے گا۔ لوگ اپنے رب کے حضور سر جھکائے ” رب نفسی رب نفسی “ کی فریاد کرتے ہوئے قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔ تمام انسان برہنہ جسم کے ساتھ پیش ہوں گے۔ اعلان ہوگا کہ یہ ہے وہ دن جس کے بارے میں منکرخیال کرتے تھے کہ ہم نے انہیں اکٹھا کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُوْلُ یُحْشَرُالنَّا سُ یَوْمَ الْقِیاَمَۃِ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَلرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ جَمِیْعًا یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ فَقَالَ یَا عَاءِشَۃُ اَلْاَمْرُ اَشَدُّ مِنْ اَنْ یَّنْظُرَ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ ) [ رواہ مسلم : باب فَنَاء الدُّنْیَا وَبَیَانِ الْحَشْرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں ‘ ننگے بدن اور بلا ختنہ اٹھائے جائیں گے میں نے کہا اے اللہ کے رسول کیا مرد اور عورتیں اکٹھے ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی جانب نہیں دیکھیں گے ؟ آپ نے فرمایا : اس دن کا معاملہ اس کے برعکس ہوگا کہ کوئی دوسرے کی طرف دیکھے۔ “ مسائل ١۔ قیامت کے دن پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ ٢۔ قیامت کے دن زمین چٹیل میدان بنا دی جائے گی۔ ٣۔ قیامت کے دن سبھی کو اللہ کے حضور جمع کیا جائے گا۔ ٤۔ قیامت کے دن لوگ اس طرح آئیں گے جس طرح پہلی با رپیدا کیے گئے تھے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کی کیفیت : ١۔ اس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور زمین چٹیل میدان ہوگی اور ہم تمام لوگوں کو جمع کریں گے اور کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ (الکھف : ٤٧) ٢۔ اس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح ہوجائیں گے۔ (المزمّل : ١٤) ٣۔ اس دن آنکھیں چندھیا جائیں گی اور چاند گہنا دیا جائے گا اور سورج چاند کو جمع کردیا جائے گا۔ (القیامۃ : ٦ تا ٨) ٤۔ جب سورج لپیٹ لیا جائے گا۔ تارے بےنور ہوجائیں گے۔ پہاڑچلائے جائیں گے۔ (التکویر : ١ تا ٣) ٥۔ جب آسمان پھٹ جائے گا۔ جب تارے جھڑجائیں گے۔ جب دریا مل جائیں گے۔ جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی۔ (الانفطار : ١ تا ٤) ٦۔ اس دن لوگ قبروں سے نکل کر ایسے دوڑیں گے جس طرح شکاری شکار کی طرف دوڑتا ہے۔ (المعارج : ٤٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ ایک منظر ہے جس میں اس کائنات کا طبیعی ماحول ، اور اس کائنات اور انسانی دلوں پر خو و ہراس کے نقوش داع نظر آتے ہیں۔ اس منظر کے کردار بڑے بڑے پہاڑ ہیں جو دیکھتے دیکھتے دھواں بن جاتے ہیں اور یہ نہایت تیزی سے چلتے ہیں ، دلوں پر خوف طاری ہے ، زمین اچانک چٹیل میدان بن جاتی ہے۔ نہ اس میں سرسبزی اور شادابی ، نہ پہاڑ ہیں اور نہ خوبصورت وادیاں بلکہ دلوں کے حال میں اس منظر میں سامنے آجاتے ہیں اور کوئی بات خفیہ نہیں رہتی۔ یہ ہموار اور چٹیل میدان زمین ، جو کسی چیز کو نہیں چھپا سکتی اور نہ اس پر کسی کے چھپنے کی کوئی جگہ ہے ، اسی زمین سے یکدم تمام مخلوقات اک آئے گی۔ وحشرنھم فلم نغادر منھم احداً (٨١ : ٨٣) ” انسانوں کو اس طرح گھیر کر جمع کریں گے کہ ایک بھی نہ چھوٹے گا۔ “ اس جامع حشر کے بعد اگلا منظر پھر اللہ کے سامنے حاضری کا ہے۔ وعرضوا علی ربک صفاً (٨١ : ٨٣) ” سب کے سب تمہارے رب کے حضور صف در صف پیش کئے جائیں گے۔ “ یہ تمام مخلوق جس کی تعداد معلوم نہیں ہے۔ اس وقت سے لے کر جب سے انسانیت کو یہاں بسایاگ یا اور جب تک اس زمین پر انسانیت کو آہستہ آہستہ مٹایا گیا۔ یہ سب مخلوق اٹھائی جا چکی ہے ، سب جمع ہوگئی ہے ، حلقوں کی شکل میں کھڑی ہے ، کوئی آدمی بھی غیر حاضر نہیں ہے ، کیونکہ سب زمین ایک میدان ہے۔ اس میں چھپنے کی کوئی جگہ ہی نہیں۔ اب بات کا انداز ایک بیانیہ منظر سے ، طاب کی شکل اختیار کرتا ہے۔ گویا منظر سامنے موجود ہے اور ہم اسے دیکھ رہے ہیں اور اس میں جو مکالمہ ہو رہا ہے گویا ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہیں اور کانوں سے سن رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اس منظر کے وجود میں آنے کے منکر تھے ، ان کے چہروں پر شرمندگی بالکل عیاں ہے۔ لقد جئتمونا کما خلقنکم اول مرۃ بل زعمتم الن نجعل لکم موعداً (٨١ : ٨٣) ” دیکھ لو آگ یء نا تم ہمارے پاس جیسے ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ تم نے یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے کوئی وعدے کا وقت مقرر ہی نہیں کیا تھا۔ “ اس بیانیہ انداز خطاب میں یکلخت تبدیلی کر کے اسے خطابی انداز میں لانے سے منظر میں ایک طرح کی زندگی پیدا کردی جاتی ہے۔ کردار زندہ و متحرک نظر آتے ہیں اور منظر ہمارے سامنے مجسم ہوجاتا ہے۔ گویا یہ مستقبل میں آنے والا قیام قیامت کا کوئی منظر نہیں ہے۔ بلکہ موجودہ دور کا منظر ہے۔ جو لوگ قیامت کی تکذیب کرتے تھے ان کے چہروں پر شمندگی صاف صاف نظر آتی ہے اور باری تعالیٰ کی ڈانٹ ان لوگوں کی سر زنش یوں کر رہی ہے ۔ لقد جئتمونا کما خلقنکم اول مرۃ (٨١ : ٨٣) ” آگئے ناتم ہمارے سامنے اس طرح جس طر ہم نے ت میں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ “ اور تم یہ سمجھتے تھے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ بل زعمتم الن نجعل لکم موعدا (٨١ : ٨٣) ” تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے کوئی وعدے کا وقت مقرر ہی نہیں کیا تھا۔ ‘ بیانیہ انداز کلام سے خطاب کی طرف آنے کے بعد پھر قایمت کے واقعات کا بیان شروع ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَعُرِضُوْا عَلٰی رَبِّکَ صَفًّا) جمع ہونے کے بعد پیشی ہوگی صفیں بنائے ہوئے رب ذوالجلال کے حضور کھڑے ہوں گے، ارشاد ہوگا (لَقَدْ جِءْتُمُوْنَا کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) (تم ہمارے پاس اسی حالت میں آگئے جیسا ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا) سارا مال دھن و دولت وہیں دنیا میں چھوڑ آئے یہاں اس حال میں آئے ہو کہ نہ پاؤں میں جوتا ہے نہ تن پر کپڑا ہے۔ (کما فی سورة الانعام) (وَّ تَرَکْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰکُمْ وَرَآءَ ظُھُوْرِکُمْ ) (اور جو کچھ ہم نے تم کو دیا اسے تم اپنے پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے۔ ) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بلاشبہ تم اس حال میں جمع کیے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں ہوگے ننگے بدن ہوگے بغیر ختنہ کے ہوگے۔ پھر فرمایا یہ آیت پڑھ لو۔ (کَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ ) بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ (کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) میں یہ بتایا ہے کہ جس طرح آسانی سے ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اسی طرح اب تمہاری تخلیق فرما دی تم سمجھتے تھے کہ ہم دوبارہ پیدا نہ ہوں گے اور دوبارہ پیدا ہونے کو ناممکن سمجھتے تھے حالانکہ جس نے پہلی بار پیدا کیا وہ دوسری بار بآسانی پیدا فرما سکتا ہے۔ (بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَکُمْ مَّوْعِدًا) (بلکہ بات یہ ہے کہ تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم تمہارے لیے کوئی وقت موعود مقرر نہ کریں گے۔ ) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے نائبین کی تعلیم اور تبلیغ سے جو تمہیں وقوع قیامت کا کچھ دھیان آجاتا تھا تو تم اسے یوں کہہ کر دفع کردیتے تھے کہ اجی نہ دوبارہ اٹھنا ہے اور نہ حساب کتاب کا موقع آنا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

48 اور سب لوگ اپنے پروردگار کے سامنے صف بستہ اور قطار در قطار پیش کئے جائیں گے ارشاد ہوگا۔ جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اسی طرح تم ہمارے پاس آگئے بلکہ تم تو یوں سمجھتے تھے کہ ہم تمہارے لئے وعدے کا کوئی وقت ہی مقرر نہیں کریں گے۔ یعنی منکرین حشر کو کہا جائے گا کہ تم تو منکر تھے لیکن تم نے دیکھ لیا کہ جس طرح اول بار ہم نے تم کو پیدا کیا تھا اسی طرح آج بھی زندہ ہو کر ہمارے روبرو آہی گئے تم تو یہ کہا کرتے تھے کہ ہم دوبارہ پیدا کرنے کے لئے کوئی وقت موعود لائیں گے ہی نہیں یعنی قیامت آئے گی ہی نہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ ان کی تنبیہ کو فرمائے گا اور جیسا بنایا تھا پہلی بار یہ بھی ہے کہ بدن میں کچھ زخم و نقصان نہ رہے گا ختنہ بھی نہ رہے گا۔ 12