Surat ul Kaahaf

Surah: 18

Verse: 51

سورة الكهف

مَاۤ اَشۡہَدۡتُّہُمۡ خَلۡقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لَا خَلۡقَ اَنۡفُسِہِمۡ ۪ وَ مَا کُنۡتُ مُتَّخِذَ الۡمُضِلِّیۡنَ عَضُدًا ﴿۵۱﴾

I did not make them witness to the creation of the heavens and the earth or to the creation of themselves, and I would not have taken the misguiders as assistants.

میں نے انہیں آسمانوں و زمین کی پیدائش کے وقت موجود نہیں رکھا تھا اور نہ خود ان کی اپنی پیدائش میں اور میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بنانے والا بھی نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The gods of the Idolators did not witness the Creation of anything, not even Themselves Allah says: مَا أَشْهَدتُّهُمْ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ وَالاْاَرْضِ وَلاَا خَلْقَ أَنفُسِهِمْ ... They did not witness the creation of the heavens and the earth nor their own creation, Allah says that these whom you take as helpers instead of Me are creatures just like you. They do not possess anything and did not witness the creation of heaven and earth, because they did not exist at that time.' Allah says, `I am the One Who independently and exclusively creates and controls all things, and I have no partner, associate or advisor in that.' As Allah says: قُلِ ادْعُواْ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ لاَ يَمْلِكُونَ مِثُقَالَ ذَرَّةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَلاَ فِى الاٌّرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُمْ مِّن ظَهِيرٍ وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ Say: "Call upon those you claim besides Allah, they possess not even a speck of dust in the heavens or on the earth, nor have they any share in either, nor is there for Him any assistant among them. Intercession with Him profits not except for him whom He permits. (34:22-23) Similarly Allah says here: ... وَمَا كُنتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّينَ عَضُدًا nor did I take those who mislead as `Adudan. Malik said: "Assistants."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

51۔ 1 یعنی آسمان اور زمین کی پیدائش اور اس کی تدبیر میں، بلکہ خود شیاطین کی پیدائش میں ہم نے ان سے یا ان میں سے کسی ایک سے کوئی مدد حاصل نہیں کی، یہ تو اسوقت موجود بھی نہ تھے۔ پھر تم اس شیطان اور اس کے نسل کی پوجا یا ان کی اطاعت کیوں کرتے ہو ؟ اور میری عبادت و اطاعت سے تمہیں گریز کیوں ہے ؟ جب کہ یہ مخلوق ہیں اور میں ان سب کا خالق ہوں۔ 51۔ 2 اور بفرض محال اگر میں کسی کو مددگار بناتا بھی تو ان کو کیسے بناتا، جبکہ یہ میرے بندوں کو گمراہ کرکے میری جنت اور میری رضا سے روکتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٠] یعنی جب میں نے زمین و آسمان پیدا کیے تھے تو اس وقت میں نے نہ تمہارے معبودوں سے کوئی مشورہ لیا تھا نہ اس وقت موجود تھے بلکہ ان کو پیدا ہی بڑی مدت بعد کیا گیا تھا۔ پھر جب انھیں پیدا کیا تو اس وقت بھی ان سے یہ مشورہ نہیں لیا تھا کہ تمہیں کس طرح کا بنایا جائے۔ پھر یہ میرے شریک کیسے بن گئے ؟ اور اگر بالفرض محال میں نے کسی کو اپنا مددگار بنانا بھی ہوتا تو ان بدبختوں کو بناتا جو لوگوں کی گمراہی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مَآ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اپنے معبود برحق ہونے کی سب سے بڑی دلیل جو قرآن میں بیان فرمائی ہے اور بار بار بیان فرمائی ہے، وہ یہ ہے کہ ہر چیز کا خالق میں ہوں، میرے سوا کوئی مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتا تو پھر میری بندگی اور دوستی چھوڑ کر مخلوق کی بندگی اور دوستی کیوں ؟ مثلاً دیکھیے سورة نحل (١٧) ، رعد (١٦) ، لقمان (١١) ، فاطر (٤٠) اور احقاف (٤) وغیرہ۔ اس آیت میں فرمایا کہ جب میں نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تو ان شیاطین کا کوئی وجود نہ تھا کہ وہ ان کے بنانے میں میرے شریک ہوتے اور نہ میں نے انھیں ان کی اپنی پیدائش میں شریک کیا۔ مطلب یہ کہ یہ خود میرے پیدا کردہ ہیں، پھر یہ میرے شریک اور تمہاری بندگی اور اطاعت کے مستحق کیسے بن گئے ؟ اور مخلوق خالق کی ہمسر کیسے بن گئی ؟ وَمَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّيْنَ عَضُدًا : یعنی نہ میں نے کسی بھی مخلوق سے پیدا کرنے میں کوئی مشورہ یا مدد لی اور نہ میں کبھی اس طرح کے شریروں اور نافرمانوں کو، جن کا کام دوسروں کو گمراہ کرنا اور شرارت پھیلانا ہے، اپنا بازو، یعنی مددگار بنانے والا تھا۔ میں نے کسی کی بھی مدد یا مشورے کے بغیر اپنی مرضی کے مطابق ساری مخلوق پیدا کی۔ گویا ” الْمُضِلِّيْنَ “ پر الف لام عہد کا ہے، مراد شیطان اور اس کی اولاد ہے۔ اس کی ہم معنی آیت کے لیے دیکھیے سورة سبا (٢٢، ٢٣) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَآ اَشْہَدْتُّہُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَا خَلْقَ اَنْفُسِہِمْ۝ ٠۠ وَمَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّيْنَ عَضُدًا۝ ٥١ شهد وشَهِدْتُ يقال علی ضربین : أحدهما جار مجری العلم، وبلفظه تقام الشّهادة، ويقال : أَشْهَدُ بکذا، ولا يرضی من الشّاهد أن يقول : أعلم، بل يحتاج أن يقول : أشهد . والثاني يجري مجری القسم، فيقول : أشهد بالله أنّ زيدا منطلق، فيكون قسما، ومنهم من يقول : إن قال : أشهد، ولم يقل : بالله يكون قسما، ( ش ھ د ) المشھود والشھادۃ شھدت کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1) علم کی جگہ آتا ہے اور اسی سے شہادت ادا ہوتی ہے مگر اشھد بکذا کی بجائے اگر اعلم کہا جائے تو شہادت قبول ہوگی بلکہ اشھد ہی کہنا ضروری ہے ۔ ( 2) قسم کی جگہ پر آتا ہے چناچہ اشھد باللہ ان زید ا منطلق میں اشھد بمعنی اقسم ہے خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ عضد العَضُد : ما بين المرفق إلى الکتف، وعَضَدْتُهُ : أصبت عضده، وعنه استعیر : عَضَدْتُ الشّجر بالمِعْضَد، وجمل عاضد : يأخذ عضد النّاقة فيتنوّخها، ويقال : عَضَدْتُهُ : أخذت عضده وقوّيته، ويستعار العضد للمعین کالید قال تعالی: وَما كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّينَ عَضُداً [ الكهف/ 51] . ورجل أَعْضَدُ : دقیق العضد، وعَضِدٌ: مشتک من العضد، وهو داء يناله في عضده، ومُعَضَّدٌ: موسوم في عضده ويقال لسمته عِضَادٌ ، والمِعْضَد : دملجة، وأَعْضَاد الحوض : جو انبه تشبيها بالعضد . ( ع ض د ) العضد ( بازو ) ہاتھ کا کہنی سے لیگر کندھے تک کا حصہ عضدتہ میں نے اس کے بازو پر مارا اسی سے استعارہ کے طور پر کہا جاتا ہے : ۔ عضدت الشجر بالمعضد میں نے اہنسیا سے درخت کو کاٹا جمل عاضد نر شتر جو مادہ کے بازو کو پکڑ کر جفتی کرنے کے لئے اسے بٹھا لیتا ہے اور عضدتہ کے معنی کسی کا باز ۔ وپکڑنے اور اسے سہارا دینے کے ہیں اور ید کی طرح بطور استعارہ عضدہ کا لفظ بھی مدد گار کے معنی میں آجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَما كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّينَ عَضُداً [ الكهف/ 51] اور میں ایسا نہیں تھا کہ گمراہ کرنیوالوں کو مددد گار بناتا ۔ رجل اعضد پتلے بازو کا آدمی جس کے بازو پر نشان ہوا ایسے نشان کو عضاد کہا جاتا ہے اور م (علیہ السلام) ضد کے معنی بازو بند کے ہیں ۔ اعضاد الحوض حوض کے جوانب ( میں جو پشتہ اس کی حفاظت کے لئے بنا دیا جاتا ہے جو اس کے لئے بازو کا کام دیتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥١) حالانکہ ان فرشتوں اور شیطان کو میں نے نہ تو آسمان و زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا، یا یہ کہ نہ تو میں نے زمین و آسمان کی پیدایش کے وقت ان سے مدد طلب کی اور نہ خود ان ہی کے پیدا کرنے کے موقع پر ان سے مدد چاہی اور میں ایسا عاجز نہیں کہ ان کافروں اور ان یہود و نصاری اور ان بتوں کے پجاریوں کو اپنا دست وبازو بناتا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَمَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّيْنَ عَضُدًا) یہ جو تم شیطان اور اس کے گروہ کو میرے برابر لا رہے ہو اور مجھے چھوڑ کر انہیں اپنا دوست بنا رہے ہو تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ زمین و آسمان کی تخلیق اور خود اپنی تخلیق کے موقع کے گواہ نہیں ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

49. This thing has been asserted to impress on the disbelievers that the satans were not entitled to their submission and worship, for they had no share at all in the creation of the heavens and the earth, nay, they themselves were the creation of Allah: therefore Allah alone was worthy of worship.

سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :49 مطلب یہ ہے کہ یہ شیاطین آخر تمہاری طاعت و بندگی کے مستحق کیسے بن گئے ؟ بندگی کا مستحق تو صرف خالق ہی ہو سکتا ہے ۔ اور ان شیاطین کا حال یہ ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق میں شریک ہونا تو درکنار ، یہ تو خود مخلوق ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

31: یعنی جن شیاطین کو ان کافروں نے اپنا سر پرست بنا رکھا ہے، ان کو میں نے تخلیق کائنات کا منظر دکھانے کے لیے یا ان سے مدد لینے کے لیے نہیں بلایا تھا کہ وہ تخلیق کے اسرار سے واقف ہوتے۔ لیکن کافروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یہ شیاطین تمام حقائق کو جانتے ہیں، چنانچہ ان کے بہکائے میں آکر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کو یا جن کو وہ کہیں، خدائی کا شریک قرار دیتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(18:51) ما اشھدتہم ما نفی کے لئے ہے۔ اشھدت ماضی واحد متکلم میں نے شاہد بنایا۔ میں نے دکھلایا۔ اشھاد (افعال) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ابلیس اور اس کی ذریت کے لئے ہے۔ میں نے ان کو شاہد نہیں بنایا۔ یعنی وہ موجود نہ تھے نہ دیکھنے کے لئے میں نے ان کو بلایا تھا۔ اس صورت میں خلق السموت والارض اور خلق انفسہم ہر دو فعل اشھدت کے مفعول ہوں گے۔ اور اسی وجہ سے خلق منصوب آیا ہے۔ متخذ۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر منصوب۔ مضاف المضلین مضاف الیہ اتخاذ مصدر۔ (باب افتعال) اخذ مادہ۔ بنانے والا۔ اختیار کرنے والا۔ اخذ کا مفہوم ہے کسی چیز کو اپنے تصرف اور تسلط میں داخل کرنا۔ باب افتعال میں اس کا مطلب بنانا اور اختیار کرنا ہے۔ یہاں دو مفعول ہوں گے۔ مثلاً لا تتخذوا الیھود والنصاری اولیائ۔ (5:51) یہود اور نصاریٰ کو دوست مت بنائو۔ المضلین۔ مضل کی جمع۔ گمراہ کرنے والے، متخذ کا مضاف الیہ ہے، اختیار کرنے والا گمراہ کرنے والوں کو۔ عضدا۔ مددگار۔ قوت بازو۔ بازو۔ عضد کہنی سے لے کر کندھے تک کا درمیانی حصہ ہے۔ لیکن بطور استعارہ معین ومدد گار کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں عضد (واحد) بمعنی اعضاء (جمع ) استعمال ہوا ہے۔ وما کنت متخذ المضلین عضدا اور میں ایسا نہیں تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا۔ اپنا معین بناتا ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی جب میں نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ان شیاطین کا کوئی وجود نہ تھا کہ وہ ان کے بنانے میں میرے شریک ہوتے اور نہ میں نے ان کی اپنی پیدائش میں انہیں شریک کیا۔ پھر یہ میرے شریک اور تمہاری بندگی و اطاعت کے مستحق کیسے سمجھے جاسکتے ہیں ؟3 یعنی میں اس سے پاک ہوں کہ اس طرح کے شریروں اور نافرمانوں کو جن کا کام دوسروں کو گمراہ کرنا اور شرارت پھیلانا ہے اپنا مددگار بنائوں گا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی معین تو وہ ڈھونڈے جو قادر نہ ہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اللہ تو بےنیاز ہے۔ وہ ذوالقوۃ المتین ہے ، اس کو کسی مددگار کی ضرورت نہیں ہے۔ خواہ وہ مضل ہو اغیر مضل یہاں یہ جو کہا یا کہ اللہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار نہیں بناتا تو یہ دراصل مشرکین کے اوہام کی بیخ کنی کے لئے یہ انداز بیان اختیار کیا گیا ہے کہ اللہ نے کیا ایسے لوگوں کو اپنا شریک بنا لیا ہے جو ہدایت کی بجائے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ جو لوگ شیطان کو اللہ کا شریک سمجھتے تھے وہ یہ حرکت اس لئے کرتے تھے کہ شیطان کے پاس کوئی خفیہ علم ہے اور کوئی فوق الفطری قوت ہے۔ اس لئے لوگ شیطان کے ساتھ دوستی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان لوگوں کی اس حماقت کو اس طرح فرماتا ہے کہ اگر بطور فرض محال میں نے کسی کو اپنا مددگار بنانا ہی تھا تو کیا اسے ضال اور مضل کو بنانا تھا۔ یہ ایک الزامی انداز تعبیر ہے۔ چناچہ قیامت کا ایک منظر پیش کیا جاتا ہے کہ لوگ دیکھ لیں کہ ان شریکوں اور شریک کرنے والے بحرمین کی حالت وہاں کیا ہوگی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(مَآ اَشْھَدْتُّھُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) اس آیت میں ابلیس اور اس کی ذریت کا اتباع کرنے والوں اور شرک کرنے والوں کی جہالت اور ضلالت پر تنبیہ فرمائی ہے، اللہ تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے جب آسمان و زمین کو پیدا کیا اور جب ان لوگوں کو پیدا کیا تو ان کو اپنی مدد یا مشورے کے لیے نہیں بلایا تھا جب آسمان و زمین کی تخلیق اور خود ان کی تخلیق میں میرا کوئی شریک نہیں تو پھر ابلیس اور اس کی ذریت سے دوستی کیوں کرتے ہیں، اور ان کے ورغلانے سے غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک کیوں ٹھہراتے ہیں یہ تو سراسر حماقت اور سفاہت اور ضلالت ہے۔ مزید فرمایا (وَ مَا کُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا) (اور میں گمراہ کرنے والوں کو مددگار بنانے والا نہیں) مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے لیے شریک ٹھہرائے ہیں ایک حماقت اور ضلالت تو یہ ہے اور دوسری ضلالت اور حماقت یہ ہے کہ جن کا مشغلہ گمراہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے ہٹانے اور اس کے لیے شریک ٹھہرانے کا ہے ان کے بارے میں یہ عقیدہ بنالیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مددگار ہیں۔ (العیاذ باللہ) سورة سبا میں فرمایا (قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَمَا لَھُمْ فِیْھِمَا مِنْ شِرْکٍ وَّ مَا لَہٗ مِنْھُمْ مِّنْ ظَھِیْرٍ ) (آپ فرما دیجیے کہ جن کو تم اللہ کے سوا معبود سمجھ رہے ہو ان کو پکارو وہ ذرہ برابر اختیار نہیں رکھتے نہ آسمانوں اور زمین میں اور نہ ان کی ان دونوں میں کوئی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

55:۔ یہ ماقبل کی دلیل اور علت ہے یعنی ابلیس اور اس کی ذریت کو جو تم میری عبادت اور اطاعت میں شریک بناتے ہو تو کیا زمین و آسمان کے پیدا کرنے میں یا خود ان کی اپنی پیدائش میں میں نے ان کو شریک کیا تھا ؟ یا اس کے بارے میں ان سے کوئی مشورہ لیا تھا ؟ ہرگز نہیں، میں نے ایسا نہیں کیا۔ اول تو مجھے کسی معاون یا مشیر کی ضرورت ہی نہیں اور اگر بالفرض ہوتی بھی تو میں ان ناپاک فطرت شیطانوں کو جن کا کام ہی میری مخلوق کو سیدھی راہ سے بھٹکانا ہے کبھی اپنا معاون و مددگار نہ بناتا۔ جب یہ شیاطین میرے کاموں میں اور میرے اختیارات و تصرفات میں میرے شریک نہیں تو میری عبادت اور اطاعت میں میرے شریک کس طرح بن سکتے ہیں ؟ بلکہ جس طرح تم میری عاجز مخلوق اسی طرح یہ بھی میری عاجز و بےبس مخلوق ہیں اور ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ ھؤلاء الذین اتخذتموھم اولیاء من دونی عبید امثالکم (ابن کثیر ج 3 ص 89) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

51 میں نے ان شیاطین کو نہ تو آسمان و زمین کو پیدا کرتے وقت بلایا اور نہ خود ان کو پیدا کرتے وقت میں نے ان کو بلایا اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنیوالوں کو اپنا بازو اور مددگار بناتا۔ بلانا ہوتا ہے مدد کے لئے یا مشورے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کسی کی مدد کا محتاج ہے اور نہ کسی کے مشورے کا آسمان و زمین کی ایجاد کے وقت نہ کسی کے بلانے کی ضرورت محسوس ہوئی نہ خود ان کے پیدا کرتے وقت ان شرکاء سے مشاورت کی ضرورت پڑی اور میں کچھ ایسا گیا گذرا تو نہ تھا کہ بلا ضروتر و احتیاج کسی کو مددگار بناتا اور خاص کر ان شیاطین اور گمراہ کرنیوالوں کو اپنا دست وبازو بنانا میری شان سے بالکل بعید تھا۔