Surat Marium

Surah: 19

Verse: 58

سورة مريم

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنۡ ذُرِّیَّۃِ اٰدَمَ ٭ وَ مِمَّنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ ۫ وَّ مِنۡ ذُرِّیَّۃِ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡرَآءِیۡلَ ۫ وَ مِمَّنۡ ہَدَیۡنَا وَ اجۡتَبَیۡنَا ؕ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُ الرَّحۡمٰنِ خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّ بُکِیًّا ﴿ٛ۵۸﴾

Those were the ones upon whom Allah bestowed favor from among the prophets of the descendants of Adam and of those We carried [in the ship] with Noah, and of the descendants of Abraham and Israel, and of those whom We guided and chose. When the verses of the Most Merciful were recited to them, they fell in prostration and weeping.

یہی وہ انبیا ءہیں جن پر اللہ تعالٰی نے فضل وکرم کیا جو اولادِ آدم میں سے ہیں اور ان لوگوں کی نسل سے ہیں جنہیں ہم نے نوح ( علیہ السلام ) کے ساتھ کشتی میں چڑھا لیا تھا ، اور اولاد ابراہیم و یعقوب سے اور ہماری طرف سے راہ یافتہ اور ہمارے پسندیدہ لوگوں میں سے ۔ ان کے سامنے جب اللہ رحمان کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی تھی یہ سجدہ کرتے اورروتے گڑ گڑاتے گر پڑتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

These Prophets are the Chosen Ones Allah says; أُوْلَيِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ مِن ذُرِّيَّةِ ادَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَايِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا ... Those were they unto whom Allah bestowed His grace from among the Prophets, of the offspring of Adam, and of those whom We carried (in the ship) with Nuh, and of the offspring of Ibrahim and Israel, and from among those whom We guided and chose. Allah, the Exalted, says that these Prophets (were favored), but this does not mean only these Prophets who were mentioned in this Surah. Rather, it is referring to all of those who were Prophets. Allah merely changes the implication of the discussion from specific individuals to the entire group of Prophets. ... الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ مِن ذُرِّيَّةِ ادَمَ ... they unto whom Allah bestowed His grace from among the Prophets, of the offspring of Adam. As-Suddi and Ibn Jarir both said, "That which is meant by the offspring of Adam is Idris, and what is meant by the offspring of those `whom We carried with Nuh' is Ibrahim, and what is meant by the offspring of Ibrahim is Ishaq, Yaqub and Ismail, and what is meant by the offspring of Ismail is Musa, Harun, Zakariyya, Yahya and `Isa bin Maryam." Ibn Jarir said, "And that is the distinction of their genealogies, even though Adam gathers all of them (as their original father). This is because among them is he who was not a descendant of those who were on the ship with Nuh, and he that is Idris. For verily, he was the grandfather of Nuh." I say that this is the most apparent meaning, which concludes that Idris is amongst the pillars of Nuh's ancestral lineage. The view that this Ayah refers to the ancestral lineage of the Prophets, is the fact that it is similar to Allah's statement in Surah Al-An`am, وَتِلْكَ حُجَّتُنَأ ءَاتَيْنَـهَأ إِبْرَهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ نَرْفَعُ دَرَجَـتٍ مَّن نَّشَأءُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ كُلًّ هَدَيْنَا وَنُوحاً هَدَيْنَا مِن قَبْلُ وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَى وَهَـرُونَ وَكَذَلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى وَإِلْيَاسَ كُلٌّ مِّنَ الصَّـلِحِينَ وَإِسْمَـعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطاً وَكُلًّ فَضَّلْنَا عَلَى الْعَـلَمِينَ وَمِنْ ءابَايِهِمْ وَذُرِّيَّـتِهِمْ وَإِخْوَنِهِمْ وَاجْتَبَيْنَـهُمْ وَهَدَيْنَـهُمْ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ And that was our proof which We gave Ibrahim against his people. We raise whom We will in degrees. Certainly your Lord is All-Wise, All-Knowing. And We bestowed upon him Ishaq and Yaqub, each of them We guided; and before him We guided Nuh, and among his progeny Dawud, Suleiman, Ayub, Yusuf, Musa and Harun. Thus do We reward the doers of good. And Zakariyya, and Yahya, and `Isa and Ilyas, each one of them was of the righteous. And Ismail and Al-Yasa` and Yunus and Lut and each one of them We preferred above the `Alamin. And also some of their fathers and their progeny and their brethren, We chose them, and We guided them to the straight path. (6:83-87) Until Allah's statement, أُوْلَـيِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ They are those whom Allah had guided. So follow their guidance. (6: 90) Allah, the Exalted, says, مِنْهُم مَّن قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَّن لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ Of some of them We have related to you their story. And of some We have not related to you their story. (40:78) In Sahih Al-Bukhari it is reported from Mujahid that he asked Ibn Abbas, "Is there a prostration in Surah Sad" Ibn Abbas replied, "Yes." Then he recited, أُوْلَـيِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ They are those whom Allah had guided. So follow their guidance. (6:90) Ibn Abbas then said, "So your Prophet is one of those who have been commanded to follow them. And he is of those who should be followed." -- referring to Dawud. Allah, the Exalted, said in this noble Ayah, ... إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ايَاتُ الرَّحْمَن خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا When the Ayah of the Most Gracious were recited unto them, they fell down prostrate and weeping. This means that when they heard the Words of Allah, mentioning His proofs and evidences, they prostrated to their Lord in humility, humbleness, praise and thanks for the great favors they were blessed with. The word Bukiyan at the end of the Ayah means those who are crying, and it is the plural of Baki. Due to this the scholars agree that it is legislated to prostrate upon reading this Ayah, in following them and adhering to their manner of worship.

انبیاء کی جماعت کا ذکر ۔ فرمان الہٰی ہے کہ یہ ہے جماعت انبیاء یعنی جن کا ذکر اس سورت میں ہے یا پہلے گزرا ہے یا بعد میں آئے گا یہ لوگ اللہ کے انعام یافتہ ہیں ۔ پس یہاں شخصیت سے جنس کی طرف استطراد ہے ۔ یہ ہیں اولاد آدم سے یعنی حضرت ادریس صلوات اللہ وسلامہ علیہ اور اولاد سے ان کی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کرا دئے گئے تھے اس سے مراد حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ ہیں ۔ اور ذریت ابراہیم علیہ السلام سے مراد حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب حضرت اسماعیل ہیں اور ذریت اسرائیل سے مراد حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون ، حضرت زکریا ، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ہیں علیہم السلام ۔ یہی قول ہے حضرت سدی رحمۃاللہ علیہ اور ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ کا ۔ اسی لئے ان کے نسب جداگانہ بیان فرمائے گئے کہ گو اولاد آدم میں سب ہیں مگر ان میں بعض وہ بھی ہیں جو ان بزرگوں کی نسل سے نہیں جو حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھی تھے کیونکہ حضرت ادریس تو حضرت نوح علیہ السلام کے دادا تھے ۔ میں کہتا ہوں بظاہر یہی ٹھیک ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے اوپر کے نسب میں اللہ کے پیغمبر حضرت ادریس علیہ السلام ہیں ۔ ہاں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت ادریس بنی اسرائیلی نبی ہیں ۔ یہ کہتے ہیں کہ معراج والی حدیث میں حضرت ادریس کا بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہنا مروی ہے کہ مرحبا ہو بنی صالح اور بھائی صالح کو مرحبا ہو ۔ تو بھائی صالح کہا نہ کہ صالح ولد جیسے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت آدم علیہما السلام نے کہا تھا ۔ مروی ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام سے پہلے کے ہیں ۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ لا الہ الا اللہ کے قائل اور معتقدین بن جاؤ پھر جو چاہو کرو لیکن انہوں نے اس کا انکار کیا اللہ عزوجل نے ان سب کو ہلاک کر دیا ۔ ہم نے اس آیت کو جنس انبیاء کے لئے قرار دیا ہے اس کی دلیل سورہ انعام کی وہ آیتیں ہیں جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت اسحاق علیہ السلام ، حضرت یعقوب علیہ السلام ، حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت داؤد علیہ السلام ، حضرت سیلمان علیہ السلام ، حضرت ایوب علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت ہارون علیہ السلام ، حضرت زکریا علیہ السلام ، حضرت یحییٰ علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، حضرت الیاس علیہ السلام ، حضرت اسماعیل علیہ السلام ، حضرت یونس علیہ السلام ، وغیرہ کا ذکر ہے اور تعریف کرنے کے بعد فرمایا ( اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ ۭ قُلْ لَّآ اَسْــــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا ۭاِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰي لِلْعٰلَمِيْنَ 90؀ۧ ) 6- الانعام:90 ) یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی تو ابھی ان کی ہدایت کی اقتدا کر اور یہ بھی فرمایا ہے کہ نبیوں میں سے بعض کے واقعات ہم نے بیان کر دیے ہیں اور بعض کے واقعات تم تک پہنچے ہی نہیں ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت مجاہد رحمۃاللہ علیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا کہ کیا سورہ ص میں سجدہ ہے آپ نے فرمایا ہاں پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اقتدا کا حکم کیا گیا ہے اور حضرت داؤد علیہ السلام بھی مقتدا نبیوں میں سے ہیں ۔ فرمان ہے کہ ان پیغمبروں کے سامنے جب کلام اللہ شریف کی آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تو اس کے دلائل وبراہین پر خشوع وخضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر واحسان مانتے ہوئے روتے گڑگڑاتے سجدے میں گر پڑتے تھے اسی لئے اس آیت پر سجدہ کرنے کا حکم علماء کا متفق علیہ مسئلہ ہے تاکہ ان پیغمبروں کی اتباع اور اقتدا ہو جائے ۔ امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورہ مریم کی تلاوت کی اور جب اس آیت پر پہنچے تو سجدہ کیا پھر فرمایا سجدہ تو کیا لیکن وہ رونا کہاں سے لائیں ؟ ( ابن ابی حاتم اور ابن جریر )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

58۔ 1 گویا اللہ کی آیات کو سن کر وجد کی کیفیت کا طاری ہوجانا اور عظمت الٰہی کے آگے سجدہ ریز ہوجانا، بندگان الٰہی کی خاص علامت ہے۔ سجدہ تلاوت کی مسنوں دعا یہ ہے (وَ سَجَدَ وَ جْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَہُ ، وَصَوَّرَہُ ، وَ شَقَّ سَمْعَہُ وَ بَصَرَہَ بِحَوْلِہِ وَ قُوَّتِہِ ) (ابو داؤد، ترمذی، نسائی۔ بحالہ مشکوۃ، باب سجود القرآن) بعض روایات میں اضافہ ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٤] سلسلہ نبوت کا اختصاص :۔ مذکورہ بالا انبیاء میں سے صرف سیدنا ادریس ہیں جو نوح (علیہ السلام) سے پہلے مبعوث ہوئے لہذا آپ صرف اولاد آدم سے ہوئے، باقی سب انبیاء یا تو نوح (علیہ السلام) کی اولاد سے تھے یا ان لوگوں کی اولاد سے جو نوح (علیہ السلام) کے ہمراہ کشتی میں سوار ہوئے تھے اور سلسلہ نبوت یوں چلتا ہے کہ آدم کی پیدائش سے پیشتر یہ سلسلہ نبوت جنوں میں تھا پھر چونکہ آدم اشرف المخلوقات تھے تو سلسلہ نبوت سیدنا آدم اور ان کی اولاد کی طرف منتقل ہوگیا۔ پھر یہ سلسلہ نوح اور اولاد نوح سے مختص ہوا پھر سیدنا ابراہیم اور ان کی اولاد سے، پھر اس کے بعد یہ سلسلہ اسرائیل (یعقوب) کی اولاد سے مختص ہوا۔ صرف نبی آخر الزمان سیدنا اسماعیل کی اولاد سے تھے اور ان انبیاء پر یہ انعام اس لئے ہوا کہ یہی لوگ اپنے اپنے دور کی بہترین شخصیات تھے اور ان لوگوں کا یہ حال تھا کہ جب انھیں اللہ کی آیات سنائی جاتیں تو ان کے دلوں پر رقت طاری ہوجاتی، اللہ کے انعامات کو یاد کر کر کے ان کے سر جھکے جاتے تھے۔ پھر وہ اللہ سے ہر وقت ڈرتے بھی رہتے تھے اور اللہ کی آیات سنتے تو ان کے ڈر میں مزید اضافہ ہوجاتا اور وہ روتے ہوئے اللہ کے سامنے سربسجود ہوجاتے تھے۔ علماء کا اجماع ہے کہ اس آیت پر سجدہ کرنا چاہئے تاکہ ان مقربین کے طرز عمل کو یاد کرکے ان سے ایک طرح کی مشابہت حاصل ہوجائے اور حدیث میں ہے کہ قرآن کی تلاوت کرو تو رؤو اور اگر رونا نہ آئے تو (کم ازکم) رونے کی صورت بنا لو، (شرح السنۃ بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب الفتن، باب صفۃ النار و اھلہا۔ الفصل الثانی)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ۔۔ : مراد وہ انبیاء ہیں جن کا اس سورت میں ذکر ہے۔ یہ دس ہیں جن میں پہلے زکریا اور آخری ادریس (علیہ السلام) ہیں۔ ابن کثیر نے فرمایا، سدی اور ابن جریر اور قرطبی (s) نے فرمایا : ” یہاں آدم کی اولاد سے مراد ادریس ہیں اور نوح کے ساتھ سوار ہونے والوں کی اولاد سے مراد ابراہیم ہیں اور ابراہیم کی اولاد سے مراد اسحاق، یعقوب اور اسماعیل ہیں اور اسرائیل کی اولاد سے مراد موسیٰ ، ہارون، زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ ابن مریم ہیں۔ “ ابن جریر فرماتے ہیں : ” اسی لیے ان کے نسب الگ الگ ذکر فرمائے ہیں، ورنہ آدم کی اولاد تو سب ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان میں وہ بھی ہیں جو ان لوگوں کی اولاد میں سے نہیں جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں تھے اور وہ ادریس ہیں جو نوح (علیہ السلام) کے دادا ہیں۔ “ ابن کثیر نے فرمایا : ” یہی بات زیادہ ظاہر ہے کہ ادریس (علیہ السلام) نوح (علیہ السلام) کے آبائی نسب میں شامل ہیں۔ “ رہا ادریس (علیہ السلام) کا ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیٹے کے بجائے بھائی کہنا، تو یہ تواضع سے بھی ہوسکتا ہے اور امام بخاری کا حدیث معراج کو لانا ”ڎوَّرَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا “ کی تفسیر کے طور پر بھی ہوسکتا ہے اور جو ادریس اور الیاس ( علیہ السلام) کو ایک قرار دینا ہے تو صحابہ کرام اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کریں تو وہ بات یقینی ہے، ورنہ وحی الٰہی کے بغیر ہزاروں سال پہلے کے متعلق ان کی بات یقینی کیسے ہوسکتی ہے ؟ خصوصاً جب یہ بھی امکان ہو کہ وہ بات اہل کتاب میں سے کسی سے سن کر بیان ہوئی ہے۔ اس لیے امام بخاری کا ادریس (علیہ السلام) کو جزم کے ساتھ نوح (علیہ السلام) کے والد کا دادا قرار دینا ہی راجح معلوم ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم) وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا۔۔ : چند انبیاء ( علیہ السلام) کے نام ذکر کرنے کے بعد ان الفاظ کے ساتھ تمام انبیاء کو بھی شامل فرما دیا، جیسا کہ سورة انعام کی آیت (٨٧) میں ہے۔ اس آیت میں جو فرمایا : (ۭاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّبُكِيًّا) اس میں صراحت فرمائی کہ ان انبیاء کے سامنے جب رحمٰن کی آیات پڑھی جاتیں تو وہ روتے ہوئے سجدے میں گرجاتے۔ ” ّبُكِيًّا “ ” بَکَی یَبْکِیْ بُکَاءً “ (ض) سے اسم فاعل ” بَاکٍ “ کی جمع ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ اہل علم کا اجماع ہے کہ انبیاء کی اقتدا میں یہاں سجدہ کرنا مشروع ہے۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے ذکر فرمایا : ( قَرَأَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سُوْرَۃَ مَرْیَمَ فَسَجَدَ وَقَالَ ھٰذَا السُّجُوْدُ فَأَیْنَ الْبُکِیُّ ؟ ) ” عمر بن خطاب (رض) نے سورة مریم پڑھی تو سجدہ کیا اور فرمایا : ” یہ تو سجدہ ہوا مگر رونے والے کہاں ہیں ؟ “ حکمت بن بشیر نے اسے صحیح کہا ہے۔ آیات الٰہی سن کر رونا، دل کا ڈر جانا، رونگٹے کھڑے ہونا اور روتے ہوئے سجدے میں گر جانا، یہ صفات اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی اور نیک بندوں کی بیان کی ہیں۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (١٠٧ تا ١٠٩) ، مائدہ (٨٣) ، انفال (٢) اور زمر (٢٣) وغیرہ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ مِن ذُرِّ‌يَّةِ آدَمَ |"Those are the people whom Allah has blessed with bounties, the prophets from the progeny of Adam.|" - 19.58. This relates only to Sayyidna Idris (علیہ السلام) . وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ |"And from those whom We boarded (the Ark) along with Nuh.|" - 19:58. This relates to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) only, وَمِن ذُرِّ‌يَّةِ إِبْرَ‌اهِيمَ |"and from the progeny of Ibrahim|" - 19:58. This relates to Ismail, Ishaq and Ya` qub (علیہ السلام) . وَإِسْرَ‌ائِيلَ |"and Isra&il|" - 19:58. This points out to Sayyidna Musa, Haran, Zakariyya and Yahya and ` Isa (علیہم السلام) . إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّ‌حْمَـٰنِ خَرُّ‌وا سُجَّدًا وَبُكِيًّا |"When the verses of The Rahman (All-Merciful) are recited before them they fall down in Sajdah (prostration), weeping.|" -19:58. Some very prominent prophets have been mentioned in the preceding verses as also their exalted status. Thus, there was a real danger that people might raise them to an exaggerated and high position as was the case with Jews who treated Sayyidna ` Uzair (علیہ السلام) as God, or the Christians who elevated Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) to a level where they called him the son of God. Therefore, after the mention of all those prophets it was made very clear in the very next verse that they were all very God-fearing and used to prostrate (سَجدَہ) themselves before Allah in extreme reverence. It is to avoid any possibility of crossing the limits of reverence for them (Bayan ul-Qur&an). Weeping during the recitation of Qur&an / Divine Book was the Practice of the Prophets (علیہ السلام) Weeping while reciting Qur&an is a commendable act and was also an attribute of the prophets. It has been reported that The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، his companions, their followers and the God-fearing people followed this practice. Qurtubi has reported that religious scholars consider it desirable that when going into Sajdah after reciting a verse of Sajdah (آیَت سجدہ) one should recite a prayer which is appropriate to the verse of Sajdah (آیَتِ سجدہ). For instance in Surah Sajdah (surah # 32) the following prayer be recited. اللَّھُم اجعَلنِی مِنَ السَّاجِدِینَ لِوَجھِکَ المُسَبِّحِینَ بِحَمدِکَ وَاَعُوذُ بِک اَن اَکُونَ مِنَ المُستَکبِرِینَ عَن اَمرِکَ (0 Allah, make me of those who prostrate to You alone, and who glorify You along with proclaiming Your praise. And I seek refuge with You from being of those who turn their faces, in arrogance, against Your command.) While in the case of Sajdah at verse # 109 of (Surah Bani Isra&il) one should recite. اللَّھُمَّ اَجعَلنِی مِنَ البَاکِینَ اِلَیکَ الخَاشِعِینَ لَکَ (0 Allah, make me of those who weep before You and who are humble in heart before You.) And for the verse of Sajdah under reference the following should be recited. اللَّھُمَّ اجعَلنِی مِن عِبَادِکَ المُنعِمِ عَلَیھِمُ المَھدِیِّینَ السَّاجِدِینَ لِکِ البَاکِینَ عِندَ تِلَاوَۃِ آیَاتِکَ ( O Allah make me of those among Your slaves upon whom You bestowed Your bounties, who prostrate before You, who weep while reciting Your verses.) (Qurtubi)

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ مِنْ ذُرِّيَّةِ اٰدَمَ ، اس سے مراد صرف حضرت ادریس (علیہ السلام) ہیں، وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ اس سے مراد صرف ابراہیم (علیہ السلام) ہیں، وَّمِنْ ذُرِّيَّةِ اِبْرٰهِيْمَ ، اس سے مراد اسماعیل و اسحٰق و یعقوب (علیہم السلام) ہیں، وَاِسْرَاۗءِيْلَ ۡ اس سے مراد حضرت موسیٰ و ہارون و حضرت زکریا و یحییٰ و عیسیٰ (علیہم السلام) ہیں۔ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّبُكِيًّا، سابقہ آیات میں چند اکابر انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے جس میں ان کی عظمت شان کو بیان کیا گیا ہے، چونکہ انبیاء کی عظمت میں عوام سے غلو کرنے کا خطرہ تھا جیسے یہود نے حضرت عزیر کو اور نصارٰی نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا ہی بنادیا اس لئے اس مجموعہ کے بعد ان سب کا اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ گزار اور خوف و خشیت سے بھرپور ہونا اس آیت میں ذکر فرما دیا گیا تاکہ افراط وتفریط کے درمیان رہیں۔ (بیان القرآن) تلاوت قرآن کے وقت بکاء یعنی آب دیدہ ہونا صفت انبیاء ہے : اس سے معلوم ہوا کہ آیات قرآن کی تلاوت کے وقت بکاء (رونے) کی کیفیت پیدا ہونا محمود اور انبیاء (علیہم السلام) کا وصف ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور صحابہ وتابعین اور اولیاء اللہ سے بکثرت اس کے واقعات منقول ہیں۔ قرطبی نے فرمایا کہ علماء نے اس بات کو مستحب قرار دیا ہے کہ قرآن کریم میں جو آیت سجدہ تلاوت کی جائے اس کے سجدے میں اس کے مناسب دعا کی جائے، مثلاً سورة سجدہ میں یہ دعا کریں اللھم اجعلنی من الساجدین لوجھک المسبحین بحمدک واعوذ بک ان اکون من المستکبرین عن امرک اور سبحان الذی کے سجدہ میں یہ دعا کریں اللھم اجعلنی من الباکین الیک الخاشعین لک اور آیت مذکورہ خَرُّوْا سُجَّدًا کے وجدہ میں یہ دعا کریں اللھم اجعلنی من عبادک المنعم علیہم المھدیین الساجدین لک الباکین عند تلاوة ایاتک (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ مِنْ ذُرِّيَّۃِ اٰدَمَ۝ ٠ۤ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ۝ ٠ۡوَّمِنْ ذُرِّيَّۃِ اِبْرٰہِيْمَ وَاِسْرَاۗءِيْلَ۝ ٠ۡوَمِمَّنْ ہَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا۝ ٠ۭ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْہِمْ اٰيٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّبُكِيًّا۝ ٥٨۞ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ ذر الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] ( ذ ر ر) الذریۃ ۔ نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی آدم آدم أبو البشر، قيل : سمّي بذلک لکون جسده من أديم الأرض، وقیل : لسمرةٍ في لونه . يقال : رجل آدم نحو أسمر، وقیل : سمّي بذلک لکونه من عناصر مختلفة وقوی متفرقة، كما قال تعالی: مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشاجٍ نَبْتَلِيهِ [ الإنسان/ 2] . ويقال : جعلت فلاناً أَدَمَة أهلي، أي : خلطته بهم وقیل : سمّي بذلک لما طيّب به من الروح المنفوخ فيه المذکور في قوله تعالی: وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ، وجعل له العقل والفهم والرّوية التي فضّل بها علی غيره، كما قال تعالی: وَفَضَّلْناهُمْ عَلى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنا تَفْضِيلًا [ الإسراء/ 70] ، وذلک من قولهم : الإدام، وهو ما يطيّب به الطعام وفي الحدیث : «لو نظرت إليها فإنّه أحری أن يؤدم بينكما» أي : يؤلّف ويطيب . ( ادم ) ادم ۔ ابوالبشیر آدم (علیہ السلام) بعض نے کہا ہے ۔ کہ یہ ادیم لارض سے مشتق ہے اور ان کا نام آدم اس لئے رکھا گیا ہے کہ ان کے جسم کو بھی ادیم ارض یعنی روئے زمین کی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ادمۃ سے مشتق ہے جس کے معنی گندمی رنگ کے ہیں ۔ چونکہ آدم (علیہ السلام) بھی گندمی رنگ کے تھے اس لئے انہیں اس نام سے مسوسوم کیا گیا ہے چناچہ رجل آدم کے معنی گندمی رنگ مرد کے ہیں ۔ اور بعض آدم کی وجہ تسمیہ بیان ہے کہ وہ مختلف عناصر اور متفرق قویٰ کے امتزاج سے پیدا کئے گئے تھے ۔ جیسا کہ آیت { أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ } ( سورة الإِنْسان 2) مخلوط عناصر سے ۔۔۔۔ کہ اسے آزماتے ہیں ۔ سے معلوم ہوتا ہے۔ چناچہ محاورہ ہے جعلت فلانا ادمہ اھلی میں فلاں کو اپنے اہل و عیال میں ملالیا مخلوط کرلیا ۔ بعض نے کہا ہے کہ آدم ادام سے مشتق ہے اور ادام ( سالن وغیرہ ہر چیز کو کہتے ہیں جس سے طعام لو لذیز اور خوشگوار محسوس ہو اور آدم میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی روح ڈال کر اسے پاکیزہ بنا دیا تھا جیسے کہ آیت و نفخت فیہ من روحی (38 ۔ 72) اور اس میں اپنی روح پھونک دوں ۔ میں مذکور ہے اور پھر اسے عقل و فہم اور فکر عطا کرکے دوسری مخلوق پر فضیلت بھی دی ہے جیسے فرمایا : { وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا } ( سورة الإسراء 70) اور ہم نے انہیں اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ اس بناء پر ان کا نام آدم رکھا گیا ہے اور حدیث میں ہے (8) لو نظرت الیھا فانہ احری ان یودم بینکما اگر تو اسے اپنی منگیرکو ایک نظر دیکھ لے تو اس سے تمہارے درمیان الفت اور خوشگواری پیدا ہوجانے کا زیادہ امکان ہے ۔ حمل الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل . وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی: وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] ، ( ح م ل ) الحمل ( ض ) کے معنی بوجھ اٹھانے یا لادنے کے ہیں اس کا استعمال بہت سی چیزوں کے متعلق ہوتا ہے اس لئے گو صیغہ فعل یکساں رہتا ہے مگر بہت سے استعمالات میں بلحاظ مصاد رکے فرق کیا جاتا ہے ۔ چناچہ وہ بوجھ جو حسی طور پر اٹھائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ کوئی چیز پیٹھ لادی جائے اس پر حمل ( بکسرالحا) کا لفظ بولا جاتا ہے اور جو بوجھ باطن یعنی کوئی چیز اپنے اندر اٹھا ہے ہوئے ہوتی ہے اس پر حمل کا لفظ بولا جاتا ہے جیسے پیٹ میں بچہ ۔ بادل میں پانی اور عورت کے حمل کے ساتھ تشبیہ دے کر درخت کے پھل کو بھی حمل کہہ دیاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا پنا بوجھ ہٹانے کو کسی کو بلائے تو اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا ۔ نوح نوح اسم نبيّ ، والنَّوْح : مصدر ناح أي : صاح بعویل، يقال : ناحت الحمامة نَوْحاً وأصل النَّوْح : اجتماع النّساء في المَنَاحَة، وهو من التّناوح . أي : التّقابل، يقال : جبلان يتناوحان، وریحان يتناوحان، وهذه الرّيح نَيْحَة تلك . أي : مقابلتها، والنَّوَائِح : النّساء، والمَنُوح : المجلس . ( ن و ح ) نوح ۔ یہ ایک نبی کا نام ہے دراصل یہ ناح ینوح کا مصدر ہے جس کے معنی بلند آواز کے ساتھ گریہ کرنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ناحت الحمامۃ نوحا فاختہ کا نوحہ کرنا نوح کے اصل معنی عورتوں کے ماتم کدہ میں جمع ہونے کے ہیں اور یہ تناوح سے مشتق ہے جس کے معنی ثقابل کے ہیں جیسے بجلان متنا وحان دو متقابل پہاڑ ۔ ریحان یتنا وحان وہ متقابل ہوائیں ۔ النوائع نوحہ گر عورتیں ۔ المنوح ۔ مجلس گریہ ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ اجتباء : الجمع علی طریق الاصطفاء . قال عزّ وجل : فَاجْتَباهُ رَبُّهُ [ القلم/ 50] ، وقال تعالی: وَإِذا لَمْ تَأْتِهِمْ بِآيَةٍ قالُوا : لَوْلا اجْتَبَيْتَها [ الأعراف/ 203] ، أي : يقولون : هلّا جمعتها، تعریضا منهم بأنک تخترع هذه الآیات ولیست من اللہ . واجتباء اللہ العبد : تخصیصه إياه بفیض إلهيّ يتحصل له منه أنواع من النعم بلا سعي من العبد، وذلک للأنبیاء وبعض من يقاربهم من الصدیقین والشهداء، كما قال تعالی: وَكَذلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ [يوسف/ 6] ، فَاجْتَباهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصَّالِحِينَ [ القلم/ 50] ، وَاجْتَبَيْناهُمْ وَهَدَيْناهُمْ إِلى صِراطٍ مُسْتَقِيمٍ [ الأنعام/ 87] ، وقوله تعالی: ثُمَّ اجْتَباهُ رَبُّهُ فَتابَ عَلَيْهِ وَهَدى [ طه/ 122] ، وقال عزّ وجل : يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ [ الشوری/ 13] ، وذلک نحو قوله تعالی: إِنَّا أَخْلَصْناهُمْ بِخالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ [ ص/ 46] . الاجتباء ( افتعال ) کے معنی انتخاب کے طور پر کسی چیز کو جمع کرنے کے ہیں لہذا آیت کریمہ : ۔ وَإِذا لَمْ تَأْتِهِمْ بِآيَةٍ قالُوا : لَوْلا اجْتَبَيْتَها [ الأعراف/ 203] اور جب تم ان کے پاس ( کچھ دنوں تک ) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے ( اپنی طرف سے ) کیوں نہیں بنائی ہیں کے معنی یہ ہوں گے کہ تم خد ہی ان کو تالیف کیوں نہیں کرلیتے دراصل کفار یہ جملہ طنزا کہتے تھے کہ یہ آیات اللہ کی طرف سے نہیں ہیں بلکہ تم کود ہی اپنے طور بنالیتے ہو ۔ اور اللہ تعالیٰ کا کسی بندہ کو جن لینا کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ اسے اپنے فیض کے لئے برگزیدہ کرلیتا ہے جسے گونا گون نعمتیں جدو جہد کے بغیر حاصل ہوجاتی ہیں یہ انبیاء کے ساتھ خاص ہے اور صدیقوں اور شہدوں کے لئے جوان کئ قریب درجہ حاصل کرلیتے ہیں ۔ جیسا کہ یوسف کے متعلق فرمایا : ۔ وَكَذلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ [يوسف/ 6] اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ ( ممتاز ) کرے گا ۔ فَاجْتَباهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصَّالِحِينَ [ القلم/ 50] پھر پروردگار نے ان کو برگزیدہ کر کے نیکو کاروں میں کرلیا ۔ وَاجْتَبَيْناهُمْ وَهَدَيْناهُمْ إِلى صِراطٍ مُسْتَقِيمٍ [ الأنعام/ 87] ان کو برگزیدہ بھی کیا تھا اور سیدھا رستہ بھی دکھا یا تھا ۔ ثُمَّ اجْتَباهُ رَبُّهُ فَتابَ عَلَيْهِ وَهَدى [ طه/ 122] پھر ان کے پروردگار نے ان کو نواز اتو ان پر مہر بانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی ۔ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ [ الشوری/ 13] جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگزیدہ کرلیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف رستہ دکھا دیتا ہے اس احتیاء کو دوسرے مقام پر اخلاص سے تعبیر فرمایا ہے ۔ إِنَّا أَخْلَصْناهُمْ بِخالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ [ ص/ 46] ہم نے ان کو ایک ( صفت ) خاص ( اخرت ) کے گھر کی یا سے ممتاز کیا تھا ۔ تلو تَلَاهُ : تبعه متابعة ليس بينهم ما ليس منها، وذلک يكون تارة بالجسم وتارة بالاقتداء في الحکم، ومصدره : تُلُوٌّ وتُلْوٌ ، وتارة بالقراءة وتدبّر المعنی، ومصدره : تِلَاوَة وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2] ( ت ل و ) تلاہ ( ن ) کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنا کے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی اجنبی کو چیز حائل نہ ہو یہ کہیں تو جسمانی طور ہوتا ہے اور کہیں اس کے احکام کا اتباع کرنے سے اس معنی میں اس کا مصدر تلو اور تلو آتا ہے اور کبھی یہ متا بعت کسی کتاب کی قراءت ( پڑھنے ) ۔ اور اس کے معانی سمجھنے کے لئے غور وفکر کرنے کی صورت میں ہوتی ہے اس معنی کے لئے اس کا مصدر تلاوۃ آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2] اور چاند کی قسم جب وہ سورج کا اتباع کرتا ہے ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ خر فَكَأَنَّما خَرَّ مِنَ السَّماءِ [ الحج/ 31] ، وقال تعالی: فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ [ سبأ/ 14] ، وقال تعالی: فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ [ النحل/ 26] ، فمعنی خَرَّ سقط سقوطا يسمع منه خریر، والخَرِير يقال لصوت الماء والرّيح وغیر ذلک ممّا يسقط من علوّ. وقوله تعالی: خَرُّوا سُجَّداً [ السجدة/ 15] ( خ ر ر ) خر ( ن ) خر یر ا کے معنی کسی چیز کے آواز کے ساتھ نیچے گرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَكَأَنَّما خَرَّ مِنَ السَّماءِ [ الحج/ 31] جب عصا گر پرا تب جنوں کو معلوم ہوا ۔ تو وہ گویا ایسا ہے جیسے آسمان سے گر پڑے ۔ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ [ النحل/ 26] اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی الخریر پانی وغیرہ کی آواز کو کہتے ہیں جو اوپر سے گر رہاہو اور آیت کریمہ : ۔ خَرُّوا سُجَّداً [ السجدة/ 15] تو سجدے میں گر پڑتے میں خرو ا کا لفظ دو معنوں پر دلالت کرتا ہے یعنی ( 1) گرنا اور ( 2 ) ان سے تسبیح کی آواز کا آنا ۔ اور اس کے بعد آیت سے تنبیہ کی ہے کہ ان کا سجدہ ریز ہونا اللہ تعالیٰ کی تسبیح کے ساتھ تھا نہ کہ کسی اور امر کے ساتھ ۔ سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی عبادت کرنے کو سجود کہا جاتا ہے اور یہ انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ( کیونکہ ) سجود کی دو قسمیں ہیں ۔ سجود اختیاری جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور اسی سے وہ ثواب الہی کا مستحق ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی ) عبادت کرو ۔ سجود تسخیر ی جو انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] اور فرشتے ) جو آسمانوں میں ہیں اور جو ( انسان ) زمین میں ہیں ۔ چار ونا چار اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں ) بكي بَكَى يَبْكِي بُكًا وبُكَاءً ، فالبکاء بالمدّ : سيلان الدمع عن حزن وعویل، يقال إذا کان الصوت أغلب کالرّغاء والثغاء وسائر هذه الأبنية الموضوعة للصوت، وبالقصر يقال إذا کان الحزن أغلب، وجمع البَاكِي بَاكُون وبُكِيّ ، قال اللہ تعالی: خَرُّوا سُجَّداً وَبُكِيًّا [ مریم/ 58] ( ب ک ی ) بکی یبکی کا مصدر بکی وبکاء یعنی ممدود اور مقصور دونوں طرح آتا ہے اور اس کے معنی غم کے ساتھ آنسو بہانے اور رونے کے ہیں اگر آواز غالب ہو تو اسے بکاء ( ممدود ) کہا جاتا ہے جیسے ؎ رغاء وثغاء اور اس نوع کے دیگر اوزاں جو صوت کے لئے وضع کئے گئے ہیں اور اگر غم غالب ہو تو اسے بکی ( بالقصر ) کہا جاتا ہے الباکی رونے والا غم اور اندوہ سے آنسو بہانے والا اس کی جمع باکون وب کی آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ خَرُّوا سُجَّداً وَبُكِيًّا [ مریم/ 58] تو سجدے میں کر پڑتے اور روتے رہتے تھے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

آیت سجدہ قاری اور سامع دونوں کے لئے یکساں حکم رکھتی ہے قول باری ہے (اذا یتلی علیھم ایات الرحمٰن خروا سجداً ویکیاً ۔ ان کا حال یہ تھا کہ جب رحمان کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے روتے سجدے میں گرجاتے تھے) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ آیت سجدہ کو سننے والا اور اسے پڑھنے والا دونوں کی حیثیت یکساں ہے نیز یہ کہ سب پر سجدہ کرنا لازم ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت سجدہ سن کر سجدہ کرنے والوں کی تعریف کی ہے ۔ نیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ جمعہ کے خطبہ کے دوران منبر پر سجدے کی آیت تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد آپ منبر سے نیچے اترے اور سجدہ کیا نیز تمام حاضرین نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا۔ عطیہ نے حضرت ابن عمر سے نیز سعید بن جبیر اور سعید بن المسیب سے روایت کی ہے کہ ان حضرات نے فرمایا ہے کہ جو لوگ آیت سجدہ سن لیں ان پر سجدہ فرض ہوتا ہے۔ ابو اسحاق نے سلیما ن بن حنظلہ شیبانی سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں۔” میں نے ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس سجدے کی آیت تلاوت کی۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا۔” سجدے اس شخص پر فرض ہے جو سجدے کے لئے بیٹھا ہو۔ “ سعید بن المسیب نے حضرت عثمان سے بھی اسی طرح کی روایت ک ی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عثمان نے اس شخص پر سجدہ واجب کردیا جو اس کے لئے بیٹھا ہو، اگر کوئی شخص سجدے کی آیت سن کر سجدہ کرنے کے لئے بیٹھا رہے تو اس سے حکم میں کوئی فرق نہیں پڑے گا اس لئے کہ سجدے کو واجب کرنے والا سبب تو آیت سجدہ کا سننا ہے۔ اس کے بعد نیت کی بن اپر اس کے وجوب کے حکم میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ خشیت اللہ کی بنا پر رونے سے نما ز فاسد نہیں ہوتی اس آیت میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ اللہ کے خوف سے نماز کے اندر رونے کی بنا پر نماز فاسد نہیں ہوتی۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٧) اور جن حضرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسمعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت ہارون (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت یحییٰ (علیہ السلام) ، حضرت ادریس (علیہ السلام) ، اسی طرح دیگر تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت اور اسلام کے ساتھ خاص انعام فرمایا ہے یہ سب حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل میں سے تھے اور کچھ ان میں سے ان لوگوں کی نسل میں سے تھے جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی اولاد میں سے کشتی میں سوار کیا تھا اور بعض ان میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد یعنی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) و حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے اور بعض ان میں سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی نسل یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کی اولاد میں سے تھے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ایمان کے ساتھ سرفرازی عطا فرمائی اور اسلام اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کی توفیق کی بناء پر منتخب کیا وغیرہ جیسا کہ حضرت عبدالسلام وغیرہ جب ان حضرات کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات جن میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بھی ذکر ہوتا ہے تو سجدہ کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے روتے ہوئے گر جاتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٨ (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ ) ” سورۃ النساء کی آیت ٦٩ میں مُنْعَمْ عَلَیھِم لوگوں کے جن چار طبقات کا بیان ہے ‘ ان میں سے اعلیٰ ترین طبقہ کے افراد یعنی انبیاء کرام (علیہ السلام) کا یہاں اللہ کے انعامات کے حوالے سے تذکرہ فرمایا جا رہا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

29: یہ سجدے کی آیت ہے۔ جو کوئی شخص عربی میں یہ آیت پڑھے۔ یا سنے اس پر سجدہ تلاوت واجب ہے۔ْ

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥٨:۔ یوں تو سب اولاد آدم (علیہ السلام) ہیں مگر شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے دس پیغمبروں کا ذکر جو فرمایا ہے نوح کے سلسلہ میں ہیں جیسے حضرت ابراہیم بعضے پھر حضرت ابراہیم کے سلسلہ میں ہیں جیسے حضرت موسیٰ اور ہارون اور زکریا و یحییٰ عیسیٰ اس سلسلہ کا ذکر اس آیت میں ہے اوپر ذکر ہوچکا ہے کہ صحیح بخاری میں معلق اور پھر حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اور عبداللہ بن عباس (رض) کے قول کی پوری سند تفسیر جو یلبہ میں ضحاک کے سلسلہ سے ہے جو بالکل ضعیف ہے ١ ؎۔ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) کے قول کی پوری سند تفسیر ابن ابی حاتم اور مسند عبد بن حمید میں ہے یہ سند بھی قوی نہیں ہے ٢ ؎۔ اس واسطے جس طرح اکثر مفسرین نے حضرت ادریس ( علیہ السلام) کی حضرت آدم ( علیہ السلام) کے سلسلہ میں رکھ کر ان کو حضرت نوح (علیہ السلام) کا دادا بتلایا ہے یہی قول قوی معلوم ہوتا ہے اسی واسطے امام بخاری نے حضرت عبداللہ بن مسعود اور عبد اللہ بن عباس (رض) کے قول کو معلق طور پر بیان کیا ہے یعنی طور پر بیان نہیں کیا حاصل مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جن انبیاء کا ذکر اس سورة میں کیا گیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنا نائب بنانے کے لیے پسند کیا ہے اور ان کو نبوت کی نعمت دی ہے مکہ کے مشرک یہ جو کہتے ہیں کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا یہ ان کی نادانی ہے کیونکہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے صحیفوں اور کتابوں میں جب یہ لوگ عذاب کی آیتیں سنتے ہیں تو عذاب سے ڈر کر سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور رونے لگتے ہیں یہ سب سن کر اس کان سے اڑا دیتے ہیں جس کا خمیازہ ایک دن ان کو بھگتنا پڑے گا۔ مسند امام احمد وغیرہ کے حوالہ سے ابوذر (رض) کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کل نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں جن میں تین سو تیرہ اور بعضی روایتوں کے موافق تین سو پندرہ رسول ہیں ٣ ؎۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ٤ ؎۔ سورة الانعام میں یہ بھی گزر چکا نبی کتنے اور ان میں رسول کتنے ہیں اور قرآن شریف میں کتنے نبیوں کا ذکر آیا ہے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پہلا رسول کہتے ہیں چناچہ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوسعید خدری (رض) کی روایت اس باب میں کئی جگہ گزر چکی ہے ٥ ؎۔ (وممن ھدینا واجتبینا) میں انبیاء کی امتوں کے وہ لوگ بھی داخل ہیں جنہوں نے انبیاء کی نصیحت کو مان کر ہدایت پائی اور اللہ تعالیٰ کی پسند کے موافق کام کیے چناچہ سورة النساء کی آیت ومن یطع اللہ والرسول سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ ١ ؎ فتح الباری ص ٢٢٤ باب وان الیاس لمن المرسلین (کتاب الانبیاء) ٢ ؎ فتح الباری ص ٢٢٤ ج ٣ میں اس کی سند کو حسن بتایا ہے۔ (ع ‘ ح ) ٣ ؎ تفسیر ہذاص ٣٩٧ اور ١٥٩ ج ٢۔ ٤ ؎ فتح البیان ص ٦٦١ ج ١۔ ٥ ؎ مثلا جلد ٢ ص ٢٦٩ میں بروایت حضرت انس (رض) ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(19:58) اولئک۔ یہ اشارہ ہے ان تمام انبیاء کی جانب جن کا ذکر حضرت زکریا سے لے کر۔ حضرت ادریس (علیہم السلام) تک اوپر اس سورت میں آچکا ہے۔ سجدا وب کیا۔ دونوں خروا کی ضمیر فاعل کے حال ہیں۔ اور بدیں وجہ منصوب ہیں۔ سجدا جمع ہے ساجد کی۔ اور بکی جمع ہے با کی کی۔ (رونے والا۔ غم و اندوہ سے آنسو بہانے والا) اصل میں بروزن فعول جیسے ساجد سے سجود۔ راکع سے رکوع اور قاعد سے قعود، بکی بھی بکوی تھا۔ وائو اور یاء کے اجتماع کے سبب وائو کو یاء سے بدلا۔ یاء کو یا میں مدغم کیا۔ اور یا کی مناسبت سے کاف کو کسرہ کی حرکت دی۔ بکی ہوگیا۔ اذا تتلی علیہم۔۔ سجدا او ب کیا۔ جب ان کے سامنے خدائے رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو وہ سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے زمین پر گرپڑتے تھے۔ اولئک الذین انعم اللہ علیہم من النبین من ذریۃ ادم ومن حملنا مع نوح ومن ذریۃ ابراہیم واسرائیل وممن ھدینا واجتبینا اذا تتلی علیہم ایت الرحمن خروا سجدا و ب کیا۔ اولئک۔ اسم اشارہ من النبیین میں من بیانیہ ہے۔ کیونکہ جملہ انبیاء (علیہم السلام) منعم علیہم تھے۔ اس لئے من تبعیضیہ نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے وعد اللہ الذین امنوا وعملوا الصلحت منہم مغفرۃ واجرا عظیما (48:29) اور اللہ تعالیٰ نے ان سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک کام کئے ہیں مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔ (یعنی ان سب سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے) اسی طرح من النبیین سے مراد سارے نبی ہیں۔ من ذریۃ ادم میں من تبعیضیہ ہے یعنی ذریتہ آدم میں سے بعض۔ ان بعض میں سے صرف حضرت ادریس (علیہ السلام) یہاں مذکور ہوئے ہیں۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) حضرت نوح کے جد امجد تھے۔ اور ان سے بہت قبل ہوئے ہیں۔ ممن حملنا مع نوح۔ اس میں بھی من تبعیض کے لئے ہے اور ان بعض میں سے حضرت اسماعیل حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) یہاں مذکور ہوئے ہیں۔ واسرائیل۔ اس کا عطف ابراہیم پر ہے۔ ای ومن ذریۃ اسرائیل اور اس ذریۃ اسرائیل (یعقوب) میں سے حضرت موسیٰ ۔ حضرت ہارون ۔ حضرت زکریا۔ حضرت یحییٰ وحضرت عیسیٰ (علیہم السلام) (کیونکہ حضرت مریم آل یعقوب میں سے تھیں) مذکور ہوئے ہیں۔ وممن ھدینا واجتبینا میں بھی من برائے تبعیض ہے (ای من جملۃ من ھدینا والی الحق واخترناہم للنبوۃ والکرامۃ) اس کا عطف ذریۃ ادم پر ہے یعنی اور تمام وہ جن کو ہم صراط حق پر گامزن کیا اور جن کو ہم نے نبوت کے لئے منتخب کیا۔ یہ تمام انبیاء (علیہم السلام) جو اولئک کے مشار الیہم ہیں۔ اولئک مبتداء ہے اور (1) الذین۔۔ اجتبینا خبر ہے۔ اس صورت میں اذا تتلی علیہم۔۔ ب کیا تک جملہ مستانفہ ہے بعض کے نزدیک پہلا کلام اسرائیل پر ختم ہے۔ اس صورت میں ممن ھدینا واجتبینا خبر ہے اور اس کا مبتدا محذوف ہے ۔ اور جملہ اذا تتلی علیہم۔۔ ب کیا تک اس مبتدا محذوف کی صفت ہے۔ کلام یوں ہے وممن ھدینا واجتبینا قوم اذا تتلی علیہم ایت الرحمن خروا سجدا وب کیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی جن کا ذکر شروع سورت سے یہاں تک ہوا یعنی زکر یا (علیہ السلام) سے ادریس (علیہ السلام) تک۔ 4۔ یعنی باوجود اس مقبولیت و اختصاص کے ان سب حضرات موصوفین کی عبدیت کی یہ کیفیت تھی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس خطاب کے اختتام پر انبیاء اور ان کی صالح اولاد کی خاص الخاص خوبی کا ذکر۔ چند انبیاء اور ان کی اولادوں میں ممتاز اور پسندیدہ شخصیات کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ یہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ لوگ تھے۔ جو آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور آدم (علیہ السلام) کے بعد ان کا نسب حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ کشتی میں نجات پانے والوں کے ساتھ ملتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا اور اپنی جناب میں برگزیدہ بنایا۔ یہ ایسے باوفا اور صاحب تقویٰ لوگ تھے۔ جب ان کے سامنے ان کے رب کے ارشادات پڑھے جاتے تو وہ خوف اور شکر کے جذبات میں سجدہ ریز ہوجاتے تھے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ طوفان نوح کے وقت نسل انسانی بہت محدود تھی اور جو عرب کے علاقہ تک محدود تھی۔ جب نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں طوفان آیا تو صرف وہی لوگ بچ سکے تھے جو کشتی میں سوار تھے اور اسی سے نسل انسانی کی افزائش ہوئی تھی۔ (أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ أَخْبَرَہُمَا أَنَّ النَّاسَ قَالُوا یَا رَسُول اللَّہِ ، ہَلْ نَرَی رَبَّنَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ ہَلْ تُمَارُونَ فِی الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ لَیْسَ دُونَہُ سَحَابٌقَالُوا لاَ یَا رَسُول اللَّہ قَالَ فَہَلْ تُمَارُونَ فِی الشَّمْسِ لَیْسَ دُونَہَا سَحَابٌقَالُوا لاَقَالَ فَإِنَّکُمْ تَرَوْنَہُ کَذَلِکَ ۔۔ حَتَّی إِذَا أَرَاد اللَّہُ رَحْمَۃَ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَہْلِ النَّارِ ، أَمَرَ اللَّہُ الْمَلاَءِکَۃَ أَنْ یُخْرِجُوا مَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللَّہَ ، فَیُخْرِجُونَہُمْ وَیَعْرِفُونَہُمْ بآثَار السُّجُودِ ، وَحَرَّمَ اللَّہُ عَلَی النَّارِ أَنْ تَأْکُلَ أَثَرَ السُّجُودِ فَیَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ ، فَکُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْکُلُہُ النَّارُ إِلاَّ أَثَرَ السُّجُودِ ) [ رواہ البخاری : باب فَضْلِ السُّجُودِ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نے بتلایا کہ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم چودھویں رات کے چاند کے بارے میں شک کرسکتے ہو جب بادل نہ ہوں انہوں نے عرض کی نہیں اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا کیا تم سورج کو دیکھنے میں شک کرسکتے ہو جب بادل نہ ہوں انہوں نے عرض کی نہیں اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا اسی طرح اللہ کی رویت میں کوئی شک نہیں۔۔ یہاں تک کہ جب اللہ جہنمیوں کے ساتھ رحمت کا ارادہ فرمائیں گے اللہ فرشتوں کو حکم دیں گے ہر اس بندے کو جہنم سے نکال دو جو اللہ کی عبادت کیا کرتا تھا فرشتے انہیں سجدوں کے نشانات سے پہنچانیں گے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سجدوں کے نشانات کو جلانا آگ پر حرام قرار دیا ہے۔ انہیں فرشتے آگ سے نکالیں گے۔ آدم کے بیٹے کو آگ کھائے گی مگر سجدے والے نشانات محفوظ رہیں گے۔ یہ وہ لوگ ہونگے جو عقیدۂ توحید پر قائم تھے مگر بڑے بڑے گناہ کرتے تھے۔ “ (حَدَّثَنِی مَعْدَانُ بْنُ أَبِی طَلْحَۃَ الْیَعْمَرِیُّ قَالَ لَقِیتُ ثَوْبَان َ مَوْلَی رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقُلْتُ أَخْبِرْنِی بِعَمَلٍ أَعْمَلُہُ یُدْخِلُنِی اللَّہُ بِہِ الْجَنَّۃَأَوْ قَالَ قُلْتُ بِأَحَبِّ الأَعْمَالِ إِلَی اللَّہِ فَسَکَتَ ثُمَّ سَأَلْتُہُ فَسَکَتَ ثُمَّ سَأَلْتُہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ سَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ عَلَیْکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُودِ لِلَّہِ فَإِنَّکَ لاَ تَسْجُدُ لِلَّہِ سَجْدَۃً إِلاَّ رَفَعَکَ اللَّہُ بِہَا دَرَجَۃً وَحَطَّ عَنْکَ بِہَا خَطِیءَۃً قَالَ مَعْدَانُ ثُمَّ لَقِیتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ لِی مِثْلَ مَا قَالَ لِی ثَوْبَانُ ) [ رواہ مسلم : باب فَضْلِ السُّجُودِ وَالْحَثِّ عَلَیْہِ ] ” حضرت معدان بن طلحہ (رض) کہتے ہیں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام ثوبان (رض) سے ملا اور عرض کی کہ مجھے ایسا عمل بتلائیے جو اللہ کو بہت پسند ہو۔ جس سے مجھے اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمادے وہ خاموش ہوگئے۔ میں نے پھر سوال کیا تب بھی انہوں نے خاموشی اختیار فرمائی۔ تیسری دفعہ میرے عرض کرنے پر فرمایا تجھے کثرت کے ساتھ اللہ کے حضور سجدے کرنے چاہییں۔ جب تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے سجدے کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ تیرے درجات کو بلند اور تیرے گناہوں کو معاف فرمائے گا۔ جناب معدان (رض) کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے ابودرداء (رض) سے ملاقات کی اور ان سے یہی سوال عرض کیا۔ اور انہوں نے بھی مجھے وہی جواب دیا جو حضرت ثوبان (رض) نے دیا تھا۔ “ (حَدَّثَنِی رَبِیعَۃُ بْنُ کَعْبٍ الأَسْلَمِیُّ قَالَ کُنْتُ أَبِیتُ مَعَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَأَتَیْتُہُ بِوَضُوءِہِ وَحَاجَتِہِ فَقَالَ لِی سَلْ فَقُلْتُ أَسْأَلُکَ مُرَافَقَتَکَ فِی الْجَنَّۃِ قَالَ أَوَغَیْرَ ذَلِکَ قُلْتُ ہُوَ ذَاکَ قَالَ فَأَعِنِّی عَلَی نَفْسِکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُودِ ) [ رواہ مسلم : باب فَضْلِ السُّجُودِ وَالْحَثِّ عَلَیْہِ ] ” حضرت ربیعہ بن کعب (رض) بیان کرتے ہیں میں رات کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے وضو کا پانی لے کر حاضر ہوا کرتا تھا۔ ایک دن ارشاد ہوا ربیعہ کچھ مانگنا چاہوتو مانگ لو۔ میں نے عرض کیا کہ میں جنت میں آپ کی رفاقت کا خواہش مندہوں فرمایا کچھ اور مانگنا چاہو ؟ میں نے عرض کیا پھر بھی یہی خواہش ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر کثرت سجود سے میری معاونت کرو۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء (علیہ السلام) کی اولاد میں بھی سلسلہ نبوت جاری فرمایا۔ ٢۔ صلحاء کی خوبی ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن مجید کی آیات پڑھی جائیں تو وہ اپنے رب کے حضور روتے ہوئے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن جن انبیاء (علیہ السلام) کی اولاد کو نبی بنایا گیا : ١۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے پیغمبروں میں سے فضل و کرم فرمایا یہ اولاد آدم میں سے ہیں۔ (مریم : ٥٨) ٢۔ ہم نے نوح اور پیغمبر بھیجے ہم نے ان کی اولاد کو نبوت عطا کی۔ (الحدید : ٢٦) ٣۔ ہم نے ابراہیم کو اسحاق و یعقوب عطا کیے اور ہم نے ان کو نبوت عطا کی۔ (العنکبوت : ٢٧) ٤۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بعد ان کے بیٹے حضرت یوسف کو نبی بنایا گیا۔ ( یوسف : ٢٢) ٥۔ فرشتوں نے زکریا (علیہ السلام) سے کہا اللہ تجھے یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو نیکو کار اور پیغمبروں میں سے ہوں گے۔ (آل عمران : ٣٩) ٦۔ حضرت داؤد کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نبی بنایا۔ ( النمل : ١٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انسانی تاریخ کے باب نبوت میں ‘ قرآن کریم نے یہاں ممتاز ترین لوگوں پر اکتفاء کیا ہے۔ یہ من ذریۃ ادم (٩١ : ٨٥) ” اولاد آدم سے “ ہیں۔ وممن حملنا مع نوح (٩١ : ٨٥) ” اور ان لوگوں میں سے ہیں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا “۔ اور ومن ذریۃ ابرھیم واسرائیل (٩١ : ٨٥) ” اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے “۔ آدم تو سب کے جد امجد ہیں ‘ نوح بھی آدم ثانی ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) نبوت کی دو مشہور شاخوں کے باپ ہیں اور یعقوب بنی اسرائیل کے جد امجد ہیں جن میں بیشمار رسول اور نبی آئے اور اسماعیل کی طرف عربوں کی نسبت ہے جن کی اولاد میں نبی آخرالزمان مبعوث ہیں۔ یہ نبی اور انکا اتباع کرنے والے صالح اور برگزیدہ لوگ اور ان کی اولاد ‘ یہ کون لوگ ہیں ؟ ان کی ممتاز صفت یہ ہے۔ اذا تتلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وب کیا (٩١ : ٨٥ السجدۃ) ” جب رحمن کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گرجاتے تھے “۔ یہ ایسے پرہیز گار لوگ تھے جو ذات باری کے بارے میں بہت ہی حساس تھے۔ جب اللہ کی آیات ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے وجدان میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ ان پر اس قدر اثر ہوتا ہے کہ اس کے اظہار کے لئے ان کو موزوں کلمات نہیں ملتے جن کے ذریعے وہ اپنے احساسات کا اظہار کرسکیں۔ ان احساسات کا اظہار وہ آنسوئوں سے کرتے ہیں اور معاً سجدے میں گر کر اور رو کر وہ اپنے جذبات اندرونی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان حساس ‘ متقی آیات الہی سن کر رونے والوں کے بعد پھر کون آیا ؟ ان کے بعد ایسے اخلاف آئے جو اللہ سے دور ہوگئے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے باہمی رشتے اور ان کے منتسبین کے دو گروہ ابتدائے سورت سے یہاں تک متعدد انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے اب آیت بالا میں فرمایا کہ یہ سب وہ حضرات ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ان کو نبوت سے سرفراز کیا اور یہ تمام حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل سے تھے اور ان میں سے بعض وہ حضرات تھے جو ان لوگوں کی نسل سے تھے جنھیں ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا۔ عموماً حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد دنیا میں جو بھی آبادی ہے انھیں کی نسل سے ہے۔ لہٰذا اس کے بعد آنے والے انبیاء کرام (علیہ السلام) انھیں کی نسل سے ہوئے البتہ ادریس (علیہ السلام) ان سے پہلے تھے ان کے اجداد میں سے تھے اس لیے وہ اس وصف میں شریک نہیں ہیں اور حضرت ابراہیم اور حضرت اسرائیل یعنی یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ تھے اور حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) بلاواسطہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے ان حضرات کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے ان کو ہدایت دی اور ان کو چن لیا ان کا یہ حال تھا کہ جب ان پر رحمن کی آیات تلاوت کی جاتی تھیں تو روتے ہوئے سجدہ میں گرجاتے تھے۔ ان کے بعد ان لوگوں کا تذکرہ فرمایا جو ان کی طرف منسوب ہوتے تھے جن میں پہلے ان لوگوں کا تذکرہ کیا جو ناخلف تھے پھر مومنین اور متبعین اور صالحین کا تذکرہ فرمایا (فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِھِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃ) (ان حضرات کے بعد ایسے ناخلف آگئے جنھوں نے نماز کو ضائع کردیا) نماز کو بالکل نہ پڑھنا وقت سے ٹال کر پڑھنا اور بری طرح پڑھنا یہ سب نماز کو ضائع کرنے میں شامل ہے سورة ماعون میں فرمایا (فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلٰوتِھِمْ سَاھُوْنَ ) (سو خرابی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نمازوں سے غفلت برتتے ہیں) حضرت مصعب بن سعد (رض) نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) سے اللہ تعالیٰ کے فرمان (اَلَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلٰوتِھِمْ سَاھُوْنَ ) کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ساھُوْنَ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نماز میں ادھر ادھر کا خیال نہ آئے بلکہ آیت میں ساھُوْنَ سے یہ مراد ہے کہ نماز کے وقت کو ضائع کر دے ادھر ادھر کے کاموں میں لگا رہے اور نماز کا دھیان نہ رہے۔ (رواہ ابو یعلی باسناد حسن کما فی الترغیب والترہیب ص ٣٨٧ ج ١)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

41:۔ یہ اشارہ مذکورہ چھ پیغمبروں کی طرف ہے۔ یعنی ان تمام پیغمبروں کو اللہ تعالیٰ نے انعام و اکرام سے نوازا۔ حضرت آدم کی اولاد سے جیسا کہ ادریس (علیہ السلام) اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کے آباء و اجداد کو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ طوفان سے بچایا جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور کچھ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے یعنی اسمعیل (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد سے یعنی حضرت زکریا، عیسیٰ اور موسیٰ علیہم السلام، اس آیت میں چھ طریقوں سے ان انبیاء (علیہم السلام) سے الوہیت کی نفی کی گئی ہے۔ اول ” اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْھِمْ “ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے انعامات سے نوازا۔ دوم ” مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ الخ “ یہ سب اولاد آدم ہیں۔ سوم ” ھَدَیْنَا “ ہم نے ان کی صراط مستقیم (راہ توحید) کی طرف راہنمائی کی۔ چہارم ” وَ اجْتَبَیْنَا “ ہم نے ان کو دوسروں پر فوقیت دی اور بلند مراتب عطا کیے۔ پنجم و ششم ” وَ اِذَا تُتْلیٰ عَلَیْھِمْ الخ “ جب ہماری آیتیں پڑھی جاتیں تو وہ اظہار عجز کے طور پر سجدے میں گر جاتے اور ہمارے خوف سے روتے رہتے۔ حاصل یہ ہوا کہ یہ سب ہمارے برگزیدہ بندے تھے۔ ہم نے ان کو سیدھی راہ دکھائی جب ان کے سامنے اللہ کی آیتیں پڑھی جاتیں۔ تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے اور وہ اللہ کے آگے سجدے میں گر پڑتے اور اسی کو پکارتے اور اسی سے سب کچھ مانگتے تھے۔ تو جو لوگ اپنے ماں باپ کی اولاد ہوں۔ اور اپنے وجود میں دوسروں کے محتاج ہوں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کی ہو۔ اور جن کو دوسروں سے بلند شان عطا کی ہو۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور زاری کر رہے ہوں وہ کسی طرح بھی متصرف و کارساز نہیں ہوسکتے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

58 یہ لوگ جن کا ذکر ہوا یعنی حضرت زکریا سے لیکر حضرت ادریس تک یہ وہ لوگ ہیں جن پر منجملہ دیگر انبیاء کے اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل و انعام فرمایا یہ سب مذکورین آدم (علیہ السلام) کی نسل سے تھے اور کچھ ان میں سے ان لوگوں کی نسل سے تھے جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا اور کچھ ان میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسرائیل یعنی یعقوب (علیہ السلام) کی ذریت اور نسل سے تھے۔ یہ سب حضرات ان لوگوں میں سے تھے جن کی رہنمائیہم نیف رمائی تھی اور جن کو ہم نے منتخب فرمایا تھا اور جن کو مقبولیت کے لئے چن لیا تھا ان حضرات کا حال باوجود اس بزرگی اور مقبولیت کے یہ تھا کہ جب ان کے سامنے رحمان کی آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تو یہ حضرات روتے اور سجدہ کرتے ہوئے گرجاتے تھے۔ یعنی شروع سورت سے لیکر حضرت ادریس (علیہ السلام) تک جن پیغمبروں کا ذکر ہوا یہ منجملہ دیگر پیغمبروں کے وہ حضرات ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام یعنی نبوت عطا فرمائی تھی۔ یہ آدم (علیہ السلام) کی ذریت تھے یعنی نسل آدم (علیہ السلام) میں سب کی شرکت ہے اور حضرت ادریس کے علاوہ بعض ان لوگوں کی اولاد سے ہیں جن کو ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا اس میں حضرت ادریس کے علاوہ سب شریک ہیں اور بعضے ان میں سے حضرت یعقوب اور حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے ہیں۔ یہ سب ان لوگوں میں سے ہیں جن کو ہم نے ہدایت عطا فرمائی تھی اور جن کو نبوت اور قبولیت کے لئے منتخب فرمایا تھا اور ان تمام مراتب عالیہ کے باوجود ان کی حالت یہ تھی کہ جب ان کے روبرو رحمان کی آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تو یہ روتے ہوئے اور سجدہ کرتے ہوئے زمین پر گرپڑتے تھے یعنی انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ اپنی عاجزی اور بندگی کا اظہار کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سام بن نوح کی اولاد میں ہیں باقی حضرت موسیٰ اور ہارون زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ یہ سب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔