Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 138

سورة البقرة

صِبۡغَۃَ اللّٰہِ ۚ وَ مَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبۡغَۃً ۫ وَّ نَحۡنُ لَہٗ عٰبِدُوۡنَ ﴿۱۳۸﴾

[And say, "Ours is] the religion of Allah . And who is better than Allah in [ordaining] religion? And we are worshippers of Him."

اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالٰی سے اچھا رنگ کس کا ہوگا ؟ہم تو اسی کی عبادت کرنے والے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Our Sibghah (religion) is) the Sibghah of Allah (Islam) and which Sibghah can be better than Allah's. And we are His worshippers. Ad-Dahhak said that Ibn Abbas commented on Allah's statement, صِبْغَةَ اللّهِ (The Sibghah of Allah), "The religion of Allah." This Tafsir was also reported of Mujahid, Abu Al-`Aliyah, Ikrimah, Ibrahim, Al-Hasan, Qatadah, Ad-Dahhak, Abdullah bin Kathir, Atiyah Al-Awfi, Ar-Rabi bin Anas, As-Suddi and other scholars. The Ayah, فِطْرَةَ اللَّهِ (Allah's Fitrah (i.e. Allah's Islamic Monotheism), (30:30) directs Muslims to, "Hold to it."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

138۔ 1 عیسائیوں نے ایک زرد رنگ کا پانی مقرر کر رکھا ہے جو ہر عیسائی بچے کو بھی اور ہر اس شخص کو بھی دیا جاتا ہے جسکو عیسائی بنانا مقصود ہوتا ہے اس رسم کا نام ان کے ہاں پبتسمہ ہے۔ یہ ان کے نزدیک بہت ضروری ہے، اس کے بغیر وہ کسی کو پاک تصور نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور کہا اصل رنگ تو اللہ کا رنگ ہے۔ اس سے بہتر کوئی رنگ نہیں اور اللہ کے رنگ سے مراد وہ دین فطرت یعنی دین اسلام ہے۔ جس کی طرف ہر نبی نے اپنے اپنے دور میں اپنی اپنی امتوں کو دعوت دی۔ یعنی دعوت توحید۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧٠] جب کوئی شخص یہودی مذہب میں داخل ہوتا تو وہ اسے غسل دیتے اور کہتے کہ اس کے سب سابقہ گناہ دھل گئے اور عیسائی اس غسل کے پانی میں زرد رنگ بھی ملا لیا کرتے۔ اور یہ غسل صرف مذہب میں نئے داخل ہونے والوں کو ہی نہیں بلکہ نومولود بچوں کو بھی دیا جاتا اور اس رسم کو وہ اصطباغ یا بپتسمہ کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان رسمی رنگوں میں کیا رکھا ہے۔ رنگ تو صرف اللہ کا ہے جو اس کی بندگی سے چڑھتا ہے اور ان اہل کتاب سے کہہ دو کہ ہم اس کی بندگی کرتے اور اسی کا رنگ اختیار کرتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ ) اس پر نصب فعل امر ” اِلْزَمُوْا “ کے ساتھ بھی ہوسکتی ہے، یعنی اللہ کا رنگ اختیار کرو اور مضارع ” نَلْتَزِمُ “ کے ساتھ بھی، یعنی ہم اللہ کا رنگ اختیار کرتے ہیں۔ اس آیت میں ” اللہ کے رنگ “ سے مراد دین اسلام یا وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اس کو ” صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ“ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ نصاریٰ نے نصرانیت کے لیے ایک زرد رنگ کا پانی مقرر کر رکھا تھا، جب کوئی بچہ پیدا ہوتا یا کوئی شخص ان کے دین میں داخل ہوتا تو اس کو اس پانی سے غسل دیتے اور کہتے کہ یہ اب پاک اور صحیح معنوں میں نصرانی ہوا ہے۔ اس رسم کا نام ان کے ہاں معمودیہ یا بپتسما دینا ہے۔ چناچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور فرمایا کہ سب سے بہتر رنگ ” اللہ کا رنگ “ یعنی دین اسلام ہے، جسے نوح (علیہ السلام) سے لے کر تمام انبیاء ( علیہ السلام) لے کر مبعوث ہوئے ہیں، تمہیں چاہیے کہ اس کی پابندی کرو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Colour of Allah Verse 138 delineates Islam as the |"colouring of Allah|", and explains this |"colouring|" as the unalloyed worship of Allah and total submission to Him. Verse 135 has identified Islam with |"the religion of Ibrahim.|" If we put Verse 135 and 138 together, it becomes clear that essentially Islam - or any authentic religion, for that matter – is the religion of Allah, and that the association of a religion with the name of a prophet can only be symbolised. Verse 138 presents religion as |"colouring|" صبغہ (Sibghah). The expression carries within itself several levels of meaning. But the immediate allusion is to a certain ceremony of the Christians. On the seventh day of its birth, they used to bathe an infant in coloured (probably yellow) water, which was supposed to be a substitute for circumcision, and a sufficient guarantee for the external and internal purification of the infant - the fast and indelible |"colouring|" of Christian faith, so to say. The verse suggests that this colour is wasted away with the water, without leaving a trace outside or inside, nor does this kind of baptism serve the purpose of circumcision and cleanse a man of physical impurity. And the verse declares that the only colouring worth the name is the colouring of a genuine and unabrogated religion - that is, Islam اسلام۔ the only colouring which can guarantee physical and spiritual purification, and the only one which shall remain. Then, the word Sibghah صِبْغَةَ or |"colouring|" has a deeper meaning too. Just as a certain colour is openly and clearly visible to the beholder, the signs of genuine and pure &Iman ایمان should shine through the face, the movements, the habits and the behaviour of a Muslim. In this sense, the verse is a commandment, asking Muslims |"to dye|" themselves in the |"colouring of Allah|", outwardly and inwardly by offering unalloyed worship to Him alone, by submitting themselves totally to His commandments, and by gladly accepting His will.

دین و ایمان ایک گہرا رنگ ہے جو انسان کے چہرہ بشرہ سے نظر آنا چاہئے : صِبْغَةَ اللّٰهِ اس سے پہلی آیت میں دین اسلام کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف منسوب کیا گیا تھا مِلَّةَ اِبْرٰھٖمَ حَنِيْفًا اس جگہ اس کو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے بتلا دیا کہ دین درحقیقت اللہ تعالیٰ کا ہے کسی پیغمبر کی طرف اس کی نسبت مجازی کردی جاتی ہے اور اس جگہ ملت کو صبغت کے لفظ سے تعبیر کرکے دو باتوں کی طرف اشارہ ہوگیا اول تو نصاریٰ کی ایک رسم کی تردید ہوگئی ان کی عادت یہ تھی کہ جو بچہ پیدا ہو اس کو ساتویں روز ایک رنگین پانی میں نہلاتے تھے اور بجائے ختنہ کے اسی نہلانے کو بچہ کی طہارت اور دین نصرانیت کا پختہ رنگ سمجھتے تھے اس آیت نے بتلایا کہ یہ پانی کا رنگ تو دھل کر ختم ہوجاتا ہے اس کا بعد میں کوئی اثر نہیں رہتا نیز ختنہ نہ کرنے کی وجہ سے جو گندگی اور ناپاکی جسم میں رہتی ہے اس سے بھی یہ رنگ نجات نہیں دیتا اصل رنگ دین و ایمان کا رنگ ہے جو ظاہری اور باطنی پاکی کی ضمانت بھی ہے اور باقی رہنے والا بھی، دوسرے دین و ایمان کو رنگ فرما کر اس کی طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ جس طرح رنگ آنکھوں سے محسوس ہوتا ہے مومن کے ایمان کی علامات اس کے چہرہ بشرہ اور تمام حرکات و سکنات معاملات و عادات میں ظاہر ہونا چاہئیں۔ واللہ اعلم،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

صِبْغَۃَ اللہِ۝ ٠ ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ صِبْغَۃً۝ ٠ ۡوَّنَحْنُ لَہٗ عٰبِدُوْنَ۝ ١٣٨ صبغ الصَّبْغُ : مصدر صَبَغْتُ ، والصِّبْغُ : الْمَصْبُوغُ ، وقوله تعالی: صِبْغَةَ اللَّهِ [ البقرة/ 138] ، إشارة إلى ما أوجده اللہ تعالیٰ في الناس من العقل المتميّز به عن البهائم کالفطرة، وکانت النّصاری إذا ولد لهم ولد غمسوه بعد السّابع في ماء عموديّة يزعمون أنّ ذلک صِبْغَةٌ ، فقال تعالیٰ له ذلك، وقال : وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً [ البقرة/ 138] ، وقال : وَصِبْغٍ لِلْآكِلِينَ [ المؤمنون/ 20] ، أي : أدم لهم، وذلک من قولهم : اصْطَبَغْتُ بالخلّ «1» . ( ص ب غ ) الصبغ یہ صبغت ( ص) کا مصدر ہے اور صبغ بمعنی مصبوغ آتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ صِبْغَةَ اللَّهِ [ البقرة/ 138] ( کہدو کہ ہم نے ) خدا کا رنگ اختیار کرلیا ہے ۔ میں اس عقل کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر پیدا کی ہے اور وہ اس کے ذریعے بہائم سے ممتاز ہوتا ہے ۔ جیسا کہ فطرت انسانیہ : ۔ نصارٰی کے ہاں دستور یہ تھا کہ جب بچہ پیدا ہوتا تو وہ ساتویں روز اسے عمود یہ ( زردرنگ کے پانی ) میں غوطہ دیتے اور اس کا نام صبغۃ یعنی دین رکھتے اس لئے اللہ تعالیٰ نے دین کو صبغۃ اللہ کہا اور فرمایا ۔ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً [ البقرة/ 138] اور خدا سے بہتر رنگ یعنی دین کس کا ہوسکتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَصِبْغٍ لِلْآكِلِينَ [ المؤمنون/ 20] اور کھانے والے کے لئے سالن ۔ میں صبغ کے معنی سالن کے ہیں اور یہ اصبغت بالخل کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی سر کہ میں روٹی ڈبو کر کھانے کے ہیں ۔ احسان الإحسان فوق العدل، وذاک أنّ العدل هو أن يعطي ما عليه، ويأخذ أقلّ مما له، والإحسان أن يعطي أكثر مما عليه، ويأخذ أقلّ ممّا له «3» . فالإحسان زائد علی العدل، فتحرّي العدل واجب، وتحرّي الإحسان ندب وتطوّع، وعلی هذا قوله تعالی: وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] ، وقوله عزّ وجلّ : وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] ، ولذلک عظّم اللہ تعالیٰ ثواب المحسنین، فقال تعالی: وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] ، وقال تعالی:إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] ، وقال تعالی: ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] ، لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] . ( ح س ن ) الحسن الاحسان ( افعال ) احسان عدل سے بڑھ کر چیز ہے کیونکہ دوسرے کا حق پورا دا کرنا اور اپنا حق پورا لے لینے کا نام عدل ہے لیکن احسان یہ ہے کہ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیا جائے اور اپنے حق سے کم لیا جائے لہذا احسان کا درجہ عدل سے بڑھ کر ہے ۔ اور انسان پر عدل و انصاف سے کام لینا تو واجب اور فرض ہے مگر احسان مندوب ہے ۔ اسی بنا پر فرمایا :۔ وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا قبول کیا اور وہ نیکو کا ر بھی ہے ۔ اور فرمایا ؛ وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] اور پسندیدہ طریق سے ( قرار داد کی ) پیروی ( یعنی مطالبہ خونہار ) کرنا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محسنین کے لئے بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] بیشک خدا نیکی کرنیوالوں کو دوست رکھتا ہے ۔ ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے ۔ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے ۔ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣٨) اللہ تعالیٰ ہی کے دین کی اتباع کرو، اس سے بہتر اور کون سا دین ہوسکتا ہے اور زبان حال سے کہو کہ ہم اس ذات کی توحید بیان کرنے والے اور اسی کی عبادت و توحید کا اقرار کرنے والے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣٨ ( صِبْغَۃَ اللّٰہِ ج) مِلَّۃَ اِبْرَاھِیْمَ کی طرح صِبْغَۃَ اللّٰہِ میں بھی مضاف کی نصب بتارہی ہے کہ یہ مرکب اضافی مفعول ہے اور اس کا فعل محذوف ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

137. This verse can be translated in two ways. One of these is: 'We have taken on Allah's colour.' The other is: 'Take on Allah's colour.' On the eve of the advent of Christianity the Jews followed the practice of bathing everyone who embraced their religion. This ritual bath signified that all his previous sins had been washed away and that he had adopted a different colour for his life. This practice was subsequently taken over by the Christians and is termed 'baptism'. Not only converts but even new-born babies were baptized. The Qur'anic remarks here refer to this institution. The Qur'an says in effect: 'Of what use is this formal baptism? What really is worth doing is to adopt the colour of God, and it is not water that gives one this colour but actual service and devotion to God.'

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :137 اس آیت کے دو ترجمے ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ”ہم نے اللہ کا رنگ اختیار کر لیا“ ، دوسرے یہ کہ ”اللہ کا رنگ اختیار کرو“ ۔ مسیحیّت کے ظہُور سے پہلے یہُودیوں کے ہاں یہ رسم تھی کہ جو شخص ان کے مذہب میں داخل ہوتا ، اسے غُسل دیتے تھے اور اس غُسل کے معنی ان کے ہاں یہ تھے کہ گویا اس کے گناہ دُھل گئے اور اس نے زندگی کا ایک نیا رنگ اختیار کر لیا ۔ یہی چیز بعد میں مسیحیوں نے اختیار کر لی ۔ اس کا اصطلاحی نام ان کے ہاں اِسطباغ ( بپتسمہ ) ہے اور یہ اصطباغ نہ صرف ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو ان کے مذہب میں داخل ہوتے ہیں ، بلکہ بچّوں کو بھی دیا جاتا ہے ۔ اسی کے متعلق قرآن کہتا ہے ، اس رسمی اصطباغ میں کیا رکھا ہے؟ اللہ کا رنگ اختیار کرو ، جو کسی پانی سے نہیں چڑھتا ، بلکہ اس کی بندگی کا طریقہ اختیار کرنے سے چڑھتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

87: اس میں عیسائیوں کی رسم بپتسمہ (Baptisma) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جسے اصطباغ (رنگ چڑھانا) بھی کہا جاتا ہے، کسی شخص کو عیسائی بنتے وقت وہ اسے غسل دیتے ہیں جو بعض اوقات رنگا ہوا پانی ہوتا ہے، ان کے خیال میں اس طرح اس پر عیسائی مذہب کا رنگ چڑھ جاتا ہے، یہ بپتسمہ پیدا ہونے والے بچوں کو بھی دیاجاتا ہے کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق ہر بچہ ماں کے پیٹ سے گنہگار پیدا ہوتا ہے اور جب تک وہ بپتسمہ نہ لے گا گنہگار رہتا ہے اور یسوع مسیح کے کفارے کا حق دار نہیں ہوتا، قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ اس بے سر وپا خیال کی کوئی حقیقت نہیں، رنگ چڑھانا ہے تو اللہ کا رنگ چڑھاؤ جو توحید خالص کارنگ ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

صبغۃ اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کا رنگ۔ صبغۃ اسم مصدر ہے۔ رنگ کی ہیئت اور کیفیت کو صبغۃ کہتے ہیں۔ صبغۃ اللہ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔ (1) یہ امنا (آیت 136 متذکرہ بالا) کا مفعول مطلق من غیر لفظ ہے اور مدیں وجہ منصوب ہے اور صبغۃ اللہ سے اللہ کا دین مراد لیا ہے۔ اور ہم ایمان لائے اللہ کے دین پر۔ (2) یہ ملۃ ابراہیم سے بدل ہے اور بدیں وجہ منصوب ہے ملت ابراہیم سے مراد اللہ کا دین لیا ہے۔ (3) اس سے قبل عبارت مقدرہ ہے۔ مثلاً تقدیر کلام ہے (1) علیکم صبغۃ اللہ اللہ کے رنگ کو اپنے اوپر لازم پکڑو۔ (2) صبغنا اللہ صبغتہ۔ اللہ نے ہمیں اپنے رنگ میں رنگ دیا۔ مصدر کو تاکید کے لیے بطور مفعول مطلق لایا گیا ہے۔ (4) بعض نے کہا ہے کہ صبغۃ اللہ سے ختنہ مراد ہے ۔ کیونکہ اس سے مختون خون آلود ہوجاتا ہے۔ (5) تفہیم القرآن میں ہے کہ مسیحیت کے ظہور سے پہلے یہودیوں کے ہاں یہ رسم تھی کہ جو شخص ان کے مذہب میں داخل ہوتا تو اسے غسل دیتے تھے اور اس غسل کے معنی ان کے ہاں یہ تھے کہ گویا اس کے گنا دھل گئے اور اس نے زندگی کا ایک نیا رنگ اختیار کرلیا، یہی چیز بعد میں مسیحیوں نے اختیار کرلی۔ اس کا اصطلاحی نام ان کے ہاں اصطباغ (بپتسمہ) ہے ۔۔ اسی کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ اس رسمی اصطباغ میں کیا رکھا ہے۔ اللہ کا رنگ اختیار کرو۔ جو کسی پانی سے نہیں چڑھتا بلکہ اس کی بندگی کا طریقہ اختیار کرنے سے چڑھتا ہے۔ ومن احسن افعل التفضیل صیغہ ہے۔ ضمیر اس میں ھو راجع طرف من کے ہے جو ممیز ہے اور صبغۃ تمیز (اور بدیں وجہ یہ منصوب ہے) ۔ ونحن لہ عبدون ۔ جملہ حالیہ ہے۔ لہ میں ضمیر ہ اللہ کی طرف راجع ہے عبدون اسم فاعل جمع مذکر۔ عبادت کرنے والے۔ بندگی کرنے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے رنگ سے مراد اسلام یا وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ (وحیدی) اور اس کو صبغتہ اللہ سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ نصاری نے عیسایت کے لیے ایک زرد رنگ کا پانی مقرر کر رکھا تھا جب کوئی بچہ پیدا ہوتا یا کوئی شخص ان کے دین میں داخل ہوتا تو اس کو اس پانی سے غسل دیتے اور کہتے کہ اب پاک اور صحیح معنوں میں نصرانی ہوا ہے۔ اس رسم کا نام ان کے ہاں معمودیہ یعنی بتبسمہ دینا ہ۔ (قرطبی) چناچہ اس آیت میں ان کی تردید فرمائی کہ سب سے بہتر رنگ اللہ کا رنگ ہے یعنی دین اسلام ہے جسے حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر تمام انبیاء لیکر مبعوث ہوئے ہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ اس کی پابندی کرویہاں صبغتہ اللہ منصوب علی الا غراء ہے (ابن کثیر۔ شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ہم کو اللہ تعالیٰ نے رنگ دیا ہے علامہ واحدی نے اسباب النزول میں حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ نصاری کا یہ طریقہ تھا کہ جب ان کا کوئی بچہ سات دن کا ہوجاتا تھا تو اسے پانی میں رنگ دیتے تھے اور اس پانی کو معمودی کہتے تھے۔ مقصد ان کا یہ تھا کہ اس طرح سے اسے پاک کردیں۔ اور (چونکہ ختنہ نہیں کرتے تھے) اس لیے کہتے تھے کہ یہ عمل ختنہ کی جگہ ہے جس سے طہارت حاصل ہوگئی جب یہ کام کرلیتے تھے تو یہ سمجھتے تھے کہ اب پکا نصرانی ہوگیا۔ اللہ جل شانہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور بتادیا کہ صحیح رنگ وہی ہے جس رنگ میں اللہ نے اپنے مومن بندوں کو رنگ دیا۔ اصل رنگ ١ ؂ ترجمہ علی ان ” مثل “ زائدۃ کما فی تفسیر الجلالین ١٢ قال صاحب معالم التنزیل ای بما أمنتم بہ و کذلک کان یقرء ھا ابن عباس و المثل صلۃ قولہ تعالیٰ لیس کمثلہ شیء ای لیس ھو کشیء و قیل معناہ فان اٰمنوا بجمیع ما آمنتم بہ أی اتوا بایمان کا یمانکم و توحید کتوحید کم، وقیل معناہ فان امنوا مثل ما آمنتم والباء زائدہ۔ ایمان کا رنگ ہے اور اعمال صالحہ کا رنگ ہے۔ اور اللہ کے علاوہ وہ کون ہے جس کے رنگ دینے کی حالت اللہ تعالیٰ کے رنگ دینے کی حالت سے اچھی ہو۔ حاصل یہ ہے کہ مومن بندے اعلان کردیں کہ ہمارے دل میں اللہ تعالیٰ نے ایمان رچا دیا اور اعمال صالحہ سے ہم کو آراستہ فرما دیا، ایمان اور اعمال صالحہ پر ہم کو جو استقامت بخشی ہے ہمارا رنگ یہی ہے اور اسی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ ہم ایمان اور اعمال صالحہ کے رنگ کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں اس سے اچھا کوئی رنگ نہیں اللہ نے ہمیں رنگ دیا ہے اور ہم اس رنگ میں خوش ہیں۔ ہم اللہ کی توحید پر جیتے اور مرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی کے فرمانبر دار اور مطیع ہیں۔ صاحب تفسیر جلا لین فرماتے ہیں۔ صبغۃ اللّٰہ مصدر مؤکد بامنا و نصبہ بفعل مقدر أی صبغنا اللہ والمراد بھا دینہ الذی فطر الناس علیھا لظھور اثرہ علی صاحبہ کالصبغ۔ نصرانی معمودی نام کے پانی میں رنگنے سے اپنے بچوں کو اپنے باطل خیال میں پاک کرتے تھے اور اب بھی جس کو نصرانی بناتے ہیں بپتسمہ دیتے ہیں اور خاص پانی میں نہلاتے ہیں، کفر کے ساتھ باطن پاک ہو ہی نہیں سکتا، ظاہری پانی تطہیر باطن کا کام دینے والا نہیں ہے۔ آیت شریفہ میں مومنین کو ایمان پر استقامت کا حکم بھی ہوگیا اور نصاری کو تردید بھی ہوگئی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

262 یہ منصوب ہے اور اس کا عامل محذوف ہے۔ قُولُوْا اٰمَنا کی مناسبت سے یہاں قَبِلْنَا کو حذف ماننا زیادہ موزوں ہے۔ ای قبلنا صِبْغۃَ اللہِ اور صِبْغَۃَ اللہِ سے سے مراد دین توحید اور ملت حصہ ہے۔ نصرانی اپنے بچوں اور ان کے مذہب میں داخل ہونے والوں کو ایک خاص قسم کے زرد رنگ میں نہلایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اب یہ پاکیزہ اور پکا نصرانی بن گیا ہے اور گناہوں سے پاک ہوگیا ہے اس فعل کو وہ ھمیسھ کہتے ہیں تو اس کے جواب میں مسلمانوں کو ارشاد ہوا کہ تم کہو کہ ہم نے تو اللہ کے دین اور اس کی توحید کا رنگ قبول کرلیا ہے۔ جس سے ہر قسم کی نجاست دور ہوجاتی ہے۔263 یہاں استفہام انکار کے لیے ہے یعنی اللہ کے رنگ سے کسی کا رنگ اچھا نہیں اللہ کا رنگ تو اسلام اور توحید کا رنگ ہے۔ جسے قبول کرلینے سے ظاہر و باطن طاہر وطیب ہوجاتا ہے۔ اور اس مصنوعی اور بناوٹی رنگ میں یہ خوبی کہاں ؟ وَنَحْنُ لَہُ عَابِدُوْنَ ۔ ہم نے اللہ کے دین اور توحید کے رنگ کو قبول کرلیا ہے۔ اس لیے ہم تو ہر قسم کی عبادت صرف اللہ ہی کے لیے بجا لائیں گے۔ تمام مالی، بدنی اور زبانی عبادتیں اسی کے ساتھ مخصوص کریں گے۔ اسی کی تہذیبیں منتیں دیں گے۔ اسی کے سامنے سجدہ کریں گے۔ اور اسی کو پکاریں گے۔ یہ جملہ ماقبل کا خلاصہ اور مقصود ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 سو اگر وہ یہود و نصاریٰ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو بلا شبہ وہ بھی ہدایت یافتہ اور راہ یاب ہوجائیں گے اور صحیح راستہ سے لگ جائیں گے اور اگر وہ دعوت حق کو قبول کرنے سے اعراض کریں اور منہ پھیریں تو جائے تعجب نہیں ہے کیونکہ وہ تو بس مخالفت ہی میں مبتلا ہیں اور وہ تو ہیں ہی برسر پیکار اب عنقریب اللہ تعالیٰ ان کی شرارت کے مقابلہ میں آپکی مدد کرنے کے لئے کفایت فرمائیگا اور ان کے مقابلہ میں آپ کے لئے کافی ہوگا اور وہ سب باتیں سنتا اور سب کے حال کو جاننے والا ہے ہم پر تو اللہ تعالیٰ نے دین فطرت کا رنگ چڑھا دیا ہے اور اللہ سے بہتر رنگ چڑھانے میں دوسرا کون ہوسکتا ہے اور ہم اسی کے عبادت گزار اور اسی کے غلام ہیں۔ (تیسیر) شقاق وفاق کا مقابل ہے وفاق کے معنی موافقت اور شقاق کے معنی مخالفت چونکہ ایک مخالف سے دوسرا مخالف پہلو پھیرتا اور بچاتا ہے اس کی مخالفت اور ضد اور ہٹ دھرمی کے موقعہ پر شقاق کا استعمال کرتے ہیں۔ کفایت کا ترجمہ اب اردو میں متروک ہوگیا اس لئے نمٹ لینا سلٹ لینا وغیرہ ترجمہ کرتے ہیں اصل مقصود یہ ہے کہ ان کے مقابلہ میں کسی اور کی ضرورت نہیں۔ اے پیغمبر ان کے لئے بس میں ہی تیری اس طرف سے کفایت کرونگا اور میں ہی ان سے نمٹنے کو کافی ہوں اور ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کا ضامن ہے۔ یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے فرمایا کہ ان کی شرارتوں سے آپ متاثر نہ ہوں ہم ان کے لئے کافی ہیں یہ تسلی کے ساتھ پیش گوئی بھی ہے جو پوری ہوئی۔ جس طرح کپڑے کو رنگتے ہیں اور کپڑے پر رنگ چڑھاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہم کو دین فطرت اور دین حق میں رنگ دیا ہے اور قلب کا کوئی گوشہ ایسا باقی نہیں رہا جس میں اللہ تعالیٰ کا رنگ سیرایت نہ کر گیا ہو جب اللہ تعالیٰ کے رنگ دینے کی حالت یہ ہو تو بھلا اب اس رنگ کو کون اتار سکتا ہے اور وہ رنگ کس طرح دور ہوسکتا ہے اور پکے اور پختہ رنگ پر کس کا رنگ چڑھ سکتا ہے اور ہم اپنے رنگنے والے کو چھوڑ کر کہاں جاسکتے ہیں ہم تو اسی کے عابد اور اسی کے غلام رہیں گے یہاں تک مسلمانوں کا وہ جواب ہے جو اہل کتاب کو دیا گیا۔ بعض لوگوں نے صبغۃ اللہ کا یہ مطلب بیان کیا کہ ہم کو دین فطرت پر پیدا کیا ہے اور ہم کو استعداد قبولیت عطا فرمائی اور ہم نے اسی استعداد کی وجہ سے ایمان قبول کیا ہے اس تقدیر پر اس آیت کی جانب اشارہ ہوگا جو سورة روم میں آئیگی فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا بعض حضرات نے فرمایا ہے مراد رنگ چڑھانے سے تطہیر ہے چونکہ ایمان نفوس انسانی کو جملہ آلائشوں سے اور ہر قسم کی نجاستوں سے پاک کردیتا ہے اس لئے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو پاک کردیا ہے اور اب ہمارے دل میں ایمان کے خلاف کسی چیز کا داہمہ اور شبہ بھی نہیں گزر سکتا۔ بہرحال کوئی معنی کئے جائیں اصل مقصد ہم نے عرض کردیا کہ اہل ایمان کی پختگی اور مضبوطی اور ثبات قدمی کا اظہار ہے اور یہ کہنا ہے کہ ہم کو اب کسی باطل کی دعوت دینا اور تبلیغ کرنا بیکار ہے۔ ہر مسلمان اللہ کے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ اہل کتاب کے بپتسہ کا جواب ہے جس کا نام نصاریٰ کی اصطلاح میں معمودیہ ہے وہ ساتویں دن بچہ کو زرد رنگ کے پانی میں غوطہ دیا کرتے ہیں یا جب کوئی شخص عیسائی ہوتا ہے تو اس کو ایک خاص رنگ کے ساتھ بپتسہ دیتے ہیں۔ حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہود نے ایک دفعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دریافت کیا اے موسیٰ ! کیا تیرا ربرنگ بھی چڑھاتا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا خدا سے ڈرو اللہ کے متعلق کیسا سوال کرتے ہو۔ حضرت حق کی طرف اشارہ ہوا اے موسیٰ (علیہ السلام) ان سے کہہ دو ہاں میں سرخ اور زرد اور سیاہ اور سب قسم کے رنگوں میں رنگ دیا کرتا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نصاریٰ کے پاس دستور تھا جس کو اپنے دین میں داخل کرتے ایک زرد رنگ بناتے اور اس کے کپڑے بھی رنگ دیتے اور اس پر ڈال بھی دیتے یہ ان کے مقابل فرمایا۔ (موضح القرآن) بہر حال ! ملت ابراہیمی اور شریعت محمدیہ پر قائم رہنے اور دین حق پر پختہ رہنے کو خدائی رنگ اور خدا کی رنگت سے تعبیر کرنا بہترین تعبیر ہے۔ (تسہیل)