Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 149

سورة البقرة

وَ مِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَ اِنَّہٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴۹﴾

So from wherever you go out [for prayer, O Muhammad] turn your face toward al- Masjid al-Haram, and indeed, it is the truth from your Lord. And Allah is not unaware of what you do.

آپ جہاں سے نکلیں اپنا منہ ( نماز کے لئے ) مسجد حرام کی طرف کرلیا کریں ، یہی حق ہے آپ کے رب کی طرف سے جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ تعالٰی بےخبر نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Why was changing the Qiblah mentioned thrice Allah said; وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَمَا اللّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ And from wheresoever you start forth (for prayers), turn your face in the direction of Al-Masjid Al-Haram (at Makkah), that is indeed the truth from your Lord. And Allah is not unaware of what you do. This is a third command from Allah to face Al-Masjid Al-Haram (the Sacred Mosque) from every part of the world (during prayer). It was said that Allah mentioned this ruling again here because it is connected to whatever is before and whatever is after it. Hence, Allah first said: قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاء فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا Verily, We have seen the turning of your (Muhammad's) face towards the heaven. Surely, We shall turn you to a Qiblah (prayer direction) that shall please you, (2:144), until: وَإِنَّ الَّذِينَ أُوْتُواْ الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَمَا اللّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ Certainly, the people who were given the Scripture (i.e., Jews and the Christians) know well that, that (your turning towards the direction of the Ka`bah at Makkah in prayers) is the truth from their Lord. And Allah is not unaware of what they do. (2:144) Allah mentioned in these Ayat His fulfillment of the Prophet's wish and ordered him to face the Qiblah that he liked and is pleased with. In the second command, Allah said: وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَمَا اللّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ And from wheresoever you start forth (for prayers), turn your face in the direction of Al-Masjid Al-Haram that is indeed the truth from your Lord. And Allah is not unaware of what you do. Therefore, Allah states here that changing the Qiblah is also the truth from Him, thus upgrading the subject more than in the first Ayah, in which Allah agreed to what His Prophet had wished for. Thus Allah states that this is also the truth from Him that He likes and is pleased with. In the third command, Allah refutes the Jewish assertion that the Prophet faced their Qiblah, as they knew in their Books that the Prophet will later on be commanded to face the Qiblah of Ibrahim, the Ka`bah.

تین بار نزول حکم یہ تیسری مرتبہ حکم ہو رہا ہے کہ روئے زمین کے مسلمانوں کو نماز کے وقت مسجد حرام کی طرف منہ کرنا چاہئے ۔ تین مرتبہ تاکید اس لئے کی گئی کہ یہ تبدیلی کا حکم پہلی بار واقع ہوا تھا ۔ فخرالدین رازی نے اس کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ پہلا حکم تو ان کے لیے ہے جو کعبہ کو دیکھ رہے ہیں ۔ دوسرا حکم ان کے لیے ہے جو مکہ میں ہیں لیکن کعبہ ان کے سامنے نہیں ۔ تیسری بار انہیں حکم دیا جو مکہ کے باہر روئے زمین پر ہیں ۔ قرطبی نے ایک توجیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ پہلا حکم مکہ والوں کو ہے دوسرا اور شہر والوں کو تیسرا مسافروں کو بعض کہتے ہیں تینوں حکموں کا تعلق اگلی پچھلی عبارت سے ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یعنی فرض نماز میں قبلہ کی طرف رخ کرنا ایسا حکم ہے کہ سفر میں بھی اس کا اہتمام ضروری ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ سفر کی مشقت کی بنا پر یہاں تخفیف ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان : (ۭ وَاِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ) اس حکم کی تاکید کے لیے ہے اور ( وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ) اس کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ہے، تاکہ اسے معمولی سمجھ کر کوئی نظر انداز نہ کرے۔ ( ابن عاشور)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۝ ٠ ۭ وَاِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ۝ ٠ ۭ وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۝ ١٤٩ حيث حيث عبارة عن مکان مبهم يشرح بالجملة التي بعده، نحو قوله تعالی: وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/ 144] ، وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ [ البقرة/ 149] . ( ح ی ث ) حیث ( یہ ظرف مکان مبنی برضم ہے ) اور ) مکان مبہم کے لئے آتا ہے جس کی مابعد کے جملہ سے تشریح ہوتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/ 144] اور تم جہاں ہوا کرو خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ شطر شَطْرُ الشیء : نصفه ووسطه . قال تعالی: فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ [ البقرة/ 144] ، أي : جهته ونحوه، وقال : وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ [ البقرة/ 150] ، ويقال : شَاطَرْتُهُ شِطَاراً ، أي : ناصفته، وقیل : شَطَرَ بصره، أي : نصّفه، وذلک إذا أخذ ينظر إليك وإلى آخر، وحلب فلان الدّهر أَشْطُرَهُ وأصله في الناقة أن يحلب خلفین، ويترک خلفین، وناقة شَطُورٌ: يبس خلفان من أخلافها، وشاة شَطُورٌ: أحد ضرعيها أكبر من الآخر، وشَطَرَ : إذا أخذ شَطْراً ، أي : ناحية، وصار يعبّر بِالشَّاطِرِ عن البعید، وجمعه : شُطُرٌ ، نحو : أشاقک بين الخلیط الشّطر والشَّاطِرُ أيضا لمن يتباعد عن الحقّ ، وجمعه : شُطَّارٌ. ( ش ط ر ) شطر الشیئ کے اصل معنی نصف یا وسط شے کے ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ [ البقرة/ 144] اور اپنا منہ مسجد حرام یعنی خانہ کعبہ کیطرف پھیر لو ۔ یہاں شطر بمعنی سمت ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ [ البقرة/ 150] نماز کے وقت ) اس مسجد کی طرف منہ کرلیا کرو ۔ شاطرتہ شطارا : آدھا آدھا تقسیم کرلینا ۔ شطر بصرہ اس طرح دیکھنا کہ تمہاری طرف بھی نظر رہے اور دوسرے کی طرف بھی ۔ حلب فلان الدھر اشطرہ اس نے زمانہ کے خیر و شر کو پہچان لیا اصل میں یہ لفظ اونٹنی کے متعلق استعمال ہوتا ہے چناچہ جب کوئی شخص اونٹنی کے اگلی طرف کے تھنوں سے دودھ نکال لے اور پچھلی طرف کے چھوڑ دے تو اس کے متعلق حلب اشطرہ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ اور شطور اس اونٹنی کو کہا جاتا ہے جس کے ایک جانب کے تھن خشک ہوگئے ہوں اور شطور اس بکری کو بھی کہا جاتا ہے جس کا ایک تھن دوسرے سے لمبا ہو ۔ شطر کے معنی ایک جانب ہوجانے کے ہیں ۔ اور شاطر سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جو دور رہتا ہو اس کی جمع شطر آتی ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ۔ ( المتقارب ) ( 261 ) اشاقک بین الخلیط الشطر دوستوں میں تجھے رہنے والوں نے اپنا مشتاق بنا لیا ہے ۔ اور شاطر بعید عن الحق کو بھی کہتے ہیں ۔ اور اس کی جمع شطار آتی ہے ۔ مَسْجِدُ : موضع الصلاة اعتبارا بالسجود، وقوله : وَأَنَّ الْمَساجِدَ لِلَّهِ [ الجن/ 18] ، قيل : عني به الأرض، إذ قد جعلت الأرض کلّها مسجدا وطهورا کما روي في الخبر وقیل : الْمَسَاجِدَ : مواضع السّجود : الجبهة والأنف والیدان والرّکبتان والرّجلان، وقوله : أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّهِ [ النمل/ 25] أي : يا قوم اسجدوا، وقوله : وَخَرُّوا لَهُ سُجَّداً [يوسف/ 100] ، أي : متذلّلين، وقیل : کان السّجود علی سبیل الخدمة في ذلک الوقت سائغا، وقول الشاعر : وافی بها لدراهم الْإِسْجَادِعنی بها دراهم عليها صورة ملک سجدوا له . المسجد ( ظرف ) کے معنی جائے نماز کے ہیں اور آیت وَأَنَّ الْمَساجِدَ لِلَّهِ [ الجن/ 18] اور مسجدیں تو خدا ہی ( کی عبادت کے لئے ہیں ) میں بعض نے کہا ہے کہ مساجد سے روئے زمین مراد ہے کیونکہ آنحضرت کے لئے تمام زمین کو مسجد اور طھور بنایا گیا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں مروی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ مساجد سے اعضاء سجود یعنی پیشانی ناک دونوں ہاتھ دونوں زانوں اور دونوں پاؤں مراد ہیں اور آیت : ۔ أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّهِ [ النمل/ 25]( اور نہیں سمجھتے ) کہ اللہ کو ۔۔۔۔۔۔۔ سجدہ کیوں نہ کریں ۔ میں لا زائدہ ہے اور معنی یہ ہیں کہ میری قوم اللہ ہی کو سجدہ کرو ۔ اور آیت : ۔ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّداً [يوسف/ 100] اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے ۔ میں اظہار عاجزی مراد ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ مراد سجدہ خدمت ہے جو اس وقت جائز تھا اور شعر ( الکامل ) وافی بها لدراهم الْإِسْجَادِمیں شاعر نے وہ دراھم مراد لئے ہیں جن پر بادشاہ کی تصویر ہوتی تھی اور لوگ ان کے سامنے سجدہ کرتے تھے ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ غفل الغَفْلَةُ : سهو يعتري الإنسان من قلّة التّحفّظ والتّيقّظ، قال تعالی: لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] ( غ ف ل ) الغفلتہ ۔ اس سہو کو کہتے ہیں جو قلت تحفظ اور احتیاط کی بنا پر انسان کو عارض ہوجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] بیشک تو اس سے غافل ہو رہا تھا عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٤٩) خواہ تم خشکی کے علاقہ میں ہو یا دریائی علاقہ میں اللہ تعالیٰ تم سب کو لے آئے گا اور سب کو جمع کرے گا اور پھر تمہیں تمہارے نیک اعمال کا بدلہ دے گا اللہ تعالیٰ تمہارے جمع کرنے اور بدلہ دینے پر قادر ہے، تو تم نماز میں حرم محترم کی طرف چہرہ کرلو، یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قبلہ کے بارے میں جو کچھ تم خفیہ رکھتے ہو یعنی چھپاتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے لاعلم نہیں ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤٩ (وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ط) (وَاِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ ط) (وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ) جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ‘ یہاں کلام بظاہر آنحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے ‘ مگر اصل میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وساطت سے تمام مسلمانوں سے خطاب ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

98: اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام کی طرف رخ کرنے کا حکم ان آیتوں میں تین مرتبہ دہرایا ہے، اس سے ایک تو حکم کی اہمیت اور تاکید جتلانی مقصود ہے، دوسرے یہ بھی بتانا ہے کہ قبلے کارخ کرناصرف اس حالت میں نہیں ہے جب کوئی شخص بیت اللہ کے سامنے موجود ہو ؛ بلکہ جب مکہ مکرمہ سے نکلا ہو اہو تب بھی یہی حکم ہے اور کہیں دور چلا جائے تب بھی یہ فریضہ ختم نہیں ہوتا، البتہ یہاں اللہ تعالیٰ نے سمت کا لفظ استعمال فرماکر اس طرف بھی اشارہ کردیا ہے کہ کعبے کارخ کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان کعبے کی سوفیصد سیدھ میں ہو بلکہ اگر سمت وہی ہے تو کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم پورا ہوجائے گا اور انسان اس معاملے میں اتنا ہی مکلف ہے کہ وہ اپنے بہترین ذرائع استعمال کرکے سمت صحیح متعین کرلے ایسا کرلینے کے بعد اس کی نماز ہوجائے گی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(149 ۔ 150) ۔ قرآن شریف میں یہ پہلا حکم ناسخ ہے جس سے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم منسوخ ہوا ہے۔ یہ اوپر گذر چکا ہے کہ یہود میں جہاں اور غلط باتیں رواج پکڑ گئی تھیں ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ احکام الٰہی میں سے کوئی حکم کبھی منسوخ نہیں ہوتا اپنے اس غلط اعتقاد کی وجہ سے تبدیل قبلہ کے باب میں وہ لوگ طرح طرح سے مسلمانوں کو بہکاتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے نازل فرمانے میں یہ اہتمام فرمایا کہ تمہید کے طور پر پہلے آیت { سَیَقُوْلُ السُّفَہَآ ئُ } نازل فرما کر مسلمانوں کو ہوشیار کردیا اور اب حکم تبدیل قبلہ کو بھی تاکید کے طور پر وہ دفعہ فرمایا تورات میں جہاں نبی آخر الزمان کی اور علامتوں اور نشانیوں کا ذکر تھا وہاں ایک علامت تبدیل قبلہ کی بھی تھی اس واسطے فرمایا کہ تبدیل قبلہ کے بعد ناانصافی سے اہل کتاب کو باتیں بنانے کے سوا تورات کے حوالہ سے کچھ بحث کرنے کا موقع باقی نہیں رہا پھر فرمایا اگر ان میں سے کوئی شخص کچھ غلط حجت کرے بھی تو اس کا کچھ خوف نہیں کرنا چاہیے بلکہ خوف تو ہر مسلمان کو اس بات کا چاہیے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی مخالفت نہ ہوجاوے۔ کہ اس کا عذاب بھگتنا پڑے حالانکہ اس کا عذاب انسان کی برداشت سے باہر اور بہت سخت ہے ترمذی وغیرہ کی روایت سے حضرت ابوذر کی حدیث مشہور ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے فرمایا کہ عذاب الٰہی کا جو حال مجھ کو معلوم ہے اگر وہ حال تم لوگوں کو معلوم ہوجاوے تو تمہاری ہنسی بالکل کم ہوجائے اور تم اپنے گھروں اور اہل و عیال کو چھوڑ کر جنگل کو نکل جاؤ۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے ١۔ جو لائق عمل ہے اس لئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان کو بہ نسبت اور کسی کی مخالفت کے خوف کے اللہ کے حکم کی مخالفت سے اس کے عذاب کا بڑا خوف کرنا چاہیے۔ نعمت الٰہی کے پورا کرنے کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح سے تم لوگ ملت ابراہیمی کی نعمت پر تھے جو شرک سے بالکل پاک و صاف ہے اسی طرح قبلہ ابراہیمی کا حکم نازل ہوجانے سے وہ نعمت اب پوری ہوگئی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:149) حیث۔ جہاں۔ جس جگہ۔ ظرف مکان ہے۔ مبنی برضمہ ہے۔ من حیط خرجت۔ جس جگہ سے آپ نکلیں۔ بطور مجاز کے اس کے معنی یہ ہوں گے۔ آپ جہاں کہیں ہوں یہ معنی شرط کو شامل و متضمن ہے اسی لئے اگلے جملہ میں فول پر فاء (بطور جواب شرط) لائے ہیں۔ فول وجھک ۔ ای فول وجھک اذا نملیت۔ جب نماز پڑھو تو اپنا منہ پھیرلیا کرو۔ ول فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تولیہ (تفعیل) مصدر۔ تو پھیر لے۔ انہ۔ ای التولیۃ الی القبلۃ۔ قبلہ کی طرف منہ کرنا۔ للحق۔ میں لام زائدہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

پھر تحویل قبلہ کی بات دھرائی جاتی ہے ، تاکیدا حکم دیا جاتا ہے کہ جدید قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھاکرو ، جسے اللہ تعالیٰ نے منتخب کیا ہے ، اس موقع پر کچھ نئی تعریفات مرتب ہوئی ہیں اور کچھ نتائج نکالے جاتے ہیں ۔ وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ” تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہیں سے اپنا رخ (نماز کے وقت ) مسجد حرام کی طرف پھیردو ، کیونکہ یہ تمہارے رب کا بالکل برحق فیصلہ ہے اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے۔ “ اس تاکیدی حکم میں یہودیوں کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی قبلے کے سلسلے میں ان کے موقف کا ذکر ہے ۔ کہا گیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہاں بھی ہوں اور ان کا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہ نماز کے وقت بیت اللہ کی طرف پھیردیں ۔ کیونکہ یہ ان کے رب کا برحق فیصلہ ہے ۔ اشارۃً یہ بھی کہہ دیا گیا کہ کہیں تمہیں اس سچائی سے روگردانی نہ کردو ۔ قرآن مجید کے الفاظ :” اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے “ واضح طور پر اس طرف اشارہ ہوتا ہے ۔ ان الفاظ سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ واقعی بعض مسلمانوں کے دلوں میں خلجان تھا اور ایسی صورت حال موجود تھی کہ اللہ تعالیٰ کو باربار تاکید کرنی پڑی اور شدید وعید بھی فرمائی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

دنیا میں جہاں بھی ہوں مسجد حرام کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ جس جگہ سے بھی کہیں سفر میں باہر نکلیں۔ نماز میں اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کیا کریں اور فرمایا کہ یہ حکم حق ہے آپ کے رب کی طرف سے ہے۔ اللہ سب کاموں کو دیکھتا ہے کسی کے عمل سے غافل نہیں۔ پھر مذکورہ بالا حکم کا دوبارہ اعادہ فرمایا اور ساتھ ہی عامۃ المسلمین کو بھی خطاب فرمایا کہ تم جہاں کہیں بھی ہو نمازوں میں اپنے چہرے مسجد حرام کی طرف کرلیا کرو۔ (قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآءِ ) سے لے کر (لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ) تک (فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ) تین مرتبہ اور (وَ حَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْ ھَکُمْ شَطْرَہٗ ) دو بار ہے۔ تحویل قبلہ کا مسئلہ چونکہ بہت اہم بن گیا تھا۔ مخالفوں کے اعتراض اور شورو شغب کی وجہ سے بعض کچے مسلمان بھی متاثر ہوگئے تھے اور ان میں سے بعض مرتد بھی ہوگئے تھے۔ جیسا کہ پہلے گزرا۔ اس لیے تاکید کے طور پر بار بار مسجد حرام کی طرف استقبال کرنے کا حکم فرمایا گیا اور درمیان میں (اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِکَ اور لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ ) لایا گیا۔ اور بعض حضرات نے یوں بھی کہا ہے کہ پہلے حالت حضر کا پھر حالت سفر کا حکم بیان فرمایا کہ سفر میں بھی مسجد حرام ہی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں اور (مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ ) دو بار ذکر فرمایا تاکہ خوب اچھی طرح واضح ہوجائے کہ سفر قریب کا ہو یا بعید کا مشرق کا ہو یا مغرب کا جنوب کا ہو یا شمال کا۔ ہر حالت میں مسجد حرام ہی کی طرف نماز پڑھنا ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

285 تحویل قبلہ سے متعلق پہلا حکم بھی اگرچہ عام تھا لیکن یہاں اس بات کی صراحت فرما دی کہ یہاں حکم قیام مدینہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام احوال سفر وحضر کو شامل ہے۔ وَاِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ۔ اور یہ استقبال کعبہ کا حکم اللہ کی طرف سے ہے اور قیامت تک کے لیے ہے۔ اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ استقبال ھذہ القبلۃ ھو الحق ای الثابت الذی لا یعرض لہ نسخ ولا تبدیل (بحر ص 639 ج 1) ای الثابت الموافق للحکمۃ (روح ص 16 ج 2) وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ تمہارے تمام اعمال اس کی نگاہ میں ہیں اور وہ تمہارے نیک وبد اعمال کے مطابق تمہیں جزا دے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور آپ جس جگہ سے بھی کہیں باہر سفر میں تشریف لے جائیں تو اپنا چہرہ نماز میں مسجد حرام کی طرف رکھا کیجئے اور یقینا یہ حکم حق اور امر واقعی ہے اور آپ کے رب کی جانب سے نازل شدہ ہے اور تم جو کام کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان سے غافل اور بیخبر نہیں ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ خواہ آپ مقیم ہوں یا مسافر آپ کا قبلہ کعبہ ہی ہوگا البتہ جہاد کے موقعہ پر اگر کوئی خطرہ پیش ہو یا سفر میں سواری پرنوافل پڑھنے ہوں تو اس کے احکام جدا ہیں اور ان کا مبنیٰ مجبوری یا رعایت ہے اگرچہ آیت میں حضر کا ذکر نہیں ہے لیکن اول تو سفر سے ہی حضر کا حکم سمجھا جاتا ہے نیز جب آپ کو ابتداء بیت المقدس سے کعبہ کی جانب پھرجانے کا حکم دیا گیا تو آپ مقیم تھے اس لئے اقامت کا حکم متعین ہے اور یہ سفر کا حکم اگرچہ وحیث ماکنتم سے بھی سمجھاجاتا ہے لیکن یہاں اس کو واضح کرکے بیان فرمایا اور آگے پھر تاکید کے طور پر فرماتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مسجد الحرام کہتے ہیں مکہ کی مسجد کو حرام کے معنی جس جگہ بند رہنا چاہئے اس مکان میں کئی باتیں منع ہیں آدمی کو مارنا اور جانور کو ستانا اور درخت اور گھاس اکھاڑنا اور پڑا مال اٹھانا۔ (موضح القرآن) (تسہیل)