The prohibition of Jahili customs at Mina In the verses 199 to 201, some Jahili جاھلی customs have been corrected. One of these was that the Arabs of the Jahiliyyah جاھلیہ would, once they had finished their rites at ` Arafat and Muzdalifah and performed their tawaf طواف and sacrifice and stay in Mina منٰی ، hold gatherings to recite poetry and to eulogize the achievements of their forefathers. Such gatherings were obviously devoid of the remembrance of Allah. It was strange that they elected to waste such blessed days in activities which were of no consequence in relation to what they were supposed to do there. Therefore, they were told that, as soon as they have completed their Ihram احرام rites and come to stay at Mina منٰی ، they should dedicate their stay to the remembrance of Allah and leave out the practice of indulging in the reminiscences of their forefathers, specially the boastful claims about their achievements. Better still was to remember Allah, not them, and that too with greater attachment and fervor. There was nothing like being engaged in the dhikr ذکر of Allah. So, the Holy Qur an guides Muslims to shun the customs coming from the age of ignorance, especially in the great days of Hajj they have been blessed with, which are exclusively reserved for ` ibadah عبادہ and dhikr ذکر and have merits and blessings of their own, a gift from Allah which may not be available again if lost through carelessness. In addition to that, the Hajj is a special act of worship which one gets to perform only after a long and generally exacting journey, separation from family and business and great expense of money and time. That unforeseen circumstances prevail is not a far-out prospect. It is quite possible that one fails to achieve the long-cherished objective of Hajj, in spite of all efforts and expenses. Now, if Allah Almighty has, in His infinite grace, removed all impediments and one has accomplished his Hajj obligation by successfully performing all required rites, then, the occasion calls for gratitude which further demands that one should keep busy in remembering Allah, avoid wasteful gatherings, engagements or conversations. Compared with the time spent by the people of Jahiliyyah in forefather tale-telling which brought them no benefit here, or there, the thing to do here is the dhikr of Allah which is all radiance and benefit for this world, and for the Hereafter. No doubt, contemporary Muslims do not follow the custom of Jahiliyyah any more by holding poetic recitals to eulogize their family trees, but there are thousands of Muslims from all over the world who still spend out these precious days of Hajj in wasteful gatherings, entertainments, amusements, shoppings and similar other pursuits of personal satisfaction. This verse is enough to warn them. Some commentators have explained this verse by dwelling upon the analogy of &father& used here, in some detail. They say that one should remember Allah as one remembered his father during his childhood when he was dependant on his father for everything. If man were to think when he is young, adult and rational, is he not far more dependent on Allah Almighty at all times and under all conditions, certainly much more than a child was on his father? As for the boastful claims about the honour of their fathers, something the people of Jdhiliyyah used to make, this verse eliminates that too by saying that real honour comes through the dhikr of Allah. (Ruh; at-Bayan) Moderation in religious and worldly pursuits Besides what the people of Jahiliyyah used to do during their stay at Mina, some of them had another habit during the Hajj. Normally, they would be engaged in acts of devotion to Allah, yet when it came to making a prayer, they would focus all their attention to praying for worldly needs, such as, comfort, wealth, honour and their likes, showing no concern for the life to come. It was to correct this sort of approach in supplication that it was said that there are people who would use the great occasion of Hajj to pray for the insignificant gains of the present life and forget the Hereafter. For such people the Hereafter holds nothing because their conduct shows that they have gone through the obligation of Hajj merely in a formal manner, or have done it to earn prestige in their society. To please Allah and to earn salvation in the Hereafter are objectives alien to them.
رسوم جاہلیت کی اصلاح منیٰ میں فضول اجتماعات کی ممانعت : چوتھی پانچویں اور چھٹی آیات میں چند رسوم جاہلیت کی اصلاح کی گئی ہے، ایک تو یہ کہ عرب زمانہ جاہلیت میں عرفات ومزدلفہ اور طواف و قربانی سے فارغ ہو کر جب منیٰ میں قیام کرتے تھے تو ان کی مجلسیں صرف اس کام کے لئے ہوتی تھیں کہ مشاعرے منعقد کریں اور ان میں اپنے مفاخر اور اپنے آباء و اجداد کے مفاخر اور کارناموں کا بیان کریں ان کی مجلسیں ذکر اللہ سے یکسر خالی ہوتی تھیں ان مبارک ایام کو ایسی لغو اور فضول چیزوں میں ضائع کرتے تھے اس لئے ارشاد ہوا کہ جب تم اپنے افعال احرام کو پورا کرچکو اور منیٰ میں قیام کرو تو وہاں رہ کر اللہ تعالیٰ کو یاد کرو اپنے آباء و اجداد کو یاد کرنا اور خصوصاً ان کے جھوٹے سچے مفاخر اور کارناموں کو بیان کرنا چھوڑو جتنا تم ان کو یاد کرتے ہو اس کی جگہ بلکہ اس سے زیادہ خدا تعالیٰ کو یاد کرو اور ذکر اللہ میں مشغول رہو قرآن کی اس آیت نے عرب کی ایک جاہلانہ رسم کو مٹا کر مسلمانوں کو یہ ہدایت کی کہ یہ ایام اور یہ مقام عبادت اور ذکر اللہ کے لئے مخصوص ہیں ان میں ذکر اللہ و عبادت کے جو فضائل و برکات ہیں وہ پھر ہاتھ نہ آئیں گے ان کو غنیمت جاننا چاہئے۔ علاوہ ازیں حج ایک ایسی عبادت ہے جو عموماً سفر طویل کی مشقت اہل و عیال کی مفارقت کاروبار کو ترک کرنے اور ہزاروں روپے اور بہت سا وقت خرچ کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے اس میں حوادث کا پیش آجانا کچھ بعید نہیں کہ آدمی باوجود کوشش کے اپنے مقصد حج میں کامیاب نہ ہوسکے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمام موانع ہٹا کر آپ کے مقصد میں کامیاب فرمایا اور فرائض حج پورے ہوگئے تو یہ مقام شکر ہے جس کا اقتضاء یہ ہے کہ اور زیادہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہو ان اوقات کو فضول اجتماعات اور فضول کام یا کلام میں ضائع نہ کرو اہل جاہلیت ان اوقات میں اپنے آباء و اجداد کے تذکرے کرتے تھے جن کا کوئی نفع دین و دنیا میں نہ تھا، تم اس کی جگہ اللہ کا ذکر کرو جو نور ہی نور اور نفع ہی نفع ہے دنیا کے لئے بھی آخرت کے لئے بھی، آجکل اگرچہ مسلمانوں میں وہ رسم جاہلیت تو نہیں رہی کہ مشاعرے قائم کریں اور آباء و اجداد کے تذکرے کریں لیکن آج بھی ہزاروں مسلمان ہیں جو ان ایام کو فضول اجتماعات میں فضول دعوتوں اور تفریحات میں صرف کرتے ہیں یہ آیت ان کی تنبیہ کے لئے کافی ہے۔ بعض حضرات مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کو ایسا یاد کرو جیسے بچپن میں اپنے باپ کو یاد کرتے ہیں کہ ان کا سب سے پہلا اور سب سے زیادہ کلام یَا اَب یَا اَب ہوتا ہے تم اب بالغ ہو جوان ہو عاقل ہو یَا اَب یَا اَب کی جگہ یَا رَب یَارَب کو اختیار کرو اور اس پر نظر ڈالو کہ بچہ اپنے باپ کو اس لئے پکارتا ہے کہ وہ اپنے تمام کاموں میں اپنے آپ کو باپ کا محتاج سمجھتا ہے انسان اگر ذرا غور کرے تو وہ ہر وقت ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا محتاج اس سے زیادہ ہے جیسا بچہ اپنے باپ کا محتاج ہے نیز بعض اوقات کچھ لوگ اپنے باپ کا ذکر فخراً بھی کیا کرتے ہیں جیسے اہل جاہلیت کرتے تھے تو اس آیت نے یہ بھی ہدایت کردی کہ فخر وعزت کے لئے بھی ذکر اللہ سے زیادہ کوئی چیز مؤ ثر نہیں (روح البیان) ایک اور رسم جاہلیت کی اصلاح دین و دنیا کی طلب میں اسلامی اعتدال : جس طرح جاہلیت کی یہ رسم بیہودہ تھی کہ ان مبارک ایام کو اپنے باپ دادوں کے تذکروں اور مشاعروں میں گذاریں اسی طرح کچھ لوگوں کی یہ عادت تھی کہ اگرچہ ایام حج میں شغل تو ذکر اللہ اور دعاؤں ہی کا رکھتے تھے مگر ان کی تمام تر دعائیں صرف دنیوں حاجات اور دنیا کی راحت وعزت یا دولت کے لئے ہوتی تھیں آخرت کی طرف کوئی دھیان نہ ہوتا تھا ان کی اصلاح کے لئے اس آیت کے آخر میں فرمایا کہ بعض لوگ وہ ہیں جو حج میں دعاء بھی مانگتے ہیں تو صرف دنیا کی بھلائی مانگتے ہیں آخرت کی فکر نہیں کرتے ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں کیونکہ ان کے اس طرز عمل سے معلوم ہوا کہ فریضہ حج بھی انہوں نے محض رسماً ادا کیا ہے یا دنیا میں فخر و وجاہت حاصل کرنے کے لئے کیا ہے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا اور آخرت میں نجات حاصل کرنا ان کے پیش نظر ہے ہی نہیں۔ اس جگہ یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ صرف دنیاوی دعاء مانگنے والوں کا ذکر اس آیت میں اس طرح کیا گیا ہے کہ وہ کہتے رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا اس کے ساتھ حَسَنَةً کا لفظ مذکور نہیں جس میں اشارہ اس کی طرف ہے کہ وہ دنیا کے لئے بھی حسنہ کے طلبگار نہیں بلکہ اغراض دنیویہ میں ایسے مست و سرشار ہیں کہ ان کی طلب یہ رہ گئی ہے کہ اپنی خواہش کسی طرح پوری ہو خواہ وہ اچھی ہو یا بری اور اچھے طریقہ سے حاصل ہو یا برے راستہ سے لوگ ان کو اچھا کہیں یا براُ ، اس آیت میں ان مسلمانوں کے لئے بھی بڑی تنبیہ ہے جو موسم حج اور مقامات مقدسہ میں بھی دعاؤں میں اپنی اغراض دنیویہ ہی کو ترجیح دیتے ہیں اور بیشتر اوقات انہیں کے لئے صرف کرتے ہیں اور اگر ہمارے حالات کا جائزہ لیا جائے تو ثابت ہوگا کہ بہت سے دولتمند لوگ یہاں بھی جو وظائف اور دعائیں کرتے ہیں یا بزرگوں سے کراتے ہیں ان میں بکثرت لوگ ایسے ہیں کہ ان کی غرض ان تمام وظائف و دعاؤں سے بھی صرف دولت کی ترقی تجارت میں برکت اغراض دنیویہ میں کامیابی ہوتی ہے وہ بہت سے وظائف اور نوافل پڑھ کر یہ بھی سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم بہت عبادت گذار ہیں لیکن وہ حقیقت میں ایک طرح کی دنیا پرستی ہوتی ہے بہت سے حضرات زندہ بزرگوں سے اور وفات یافتہ اولیاء اللہ سے بڑا تعلق رکھتے ہیں لیکن اس تعلق کا بھی بڑا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان کی دعاء یا تعویذ سے ہمارے کام نکلیں گے دنیا کی آفات دور ہوں گی مال میں برکت ہوگی ایسے لوگوں کے لئے بھی اس آیت میں خاص ہدایت ہے معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے جو علیم وخبیر ہے ہر شخص کو اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہئے کہ وظائف ونوافل اور دعاء و درود سے اور حج وزیارت سے اس کی نیت کیا ہے اس آیت کے آخری حصہ میں کم نصیب محروم القسمۃ لوگوں کا تذکرہ کرنے کے بعد حق تعالیٰ نے نیک اور مقبول بندوں کا ذکر اس طرح فرمایا ہے۔