Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 200

سورة البقرة

فَاِذَا قَضَیۡتُمۡ مَّنَاسِکَکُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ کَذِکۡرِکُمۡ اٰبَآءَکُمۡ اَوۡ اَشَدَّ ذِکۡرًا ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا وَ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ خَلَاقٍ ﴿۲۰۰﴾

And when you have completed your rites, remember Allah like your [previous] remembrance of your fathers or with [much] greater remembrance. And among the people is he who says, "Our Lord, give us in this world," and he will have in the Hereafter no share.

پھر جب تم ارکان حج ادا کر چکو تو اللہ تعالٰی کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے باپ دادوں کا ذکر کیا کرتے تھے ، بلکہ اس سے بھی زیادہ بعض لوگ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب !ہمیں دنیا میں دے ۔ ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Order for Remembrance of Allah and seeking Good in this Life and the Hereafter upon completing the Rites of Hajj Allah says; فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُواْ اللّهَ كَذِكْرِكُمْ ابَاءكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا ... So when you have accomplished your Manasik, remember Allah as you remember your forefathers or with far more remembrance. Allah commands that He be remembered after the rituals are performed. كَذِكْرِكُمْ ابَاءكُمْ (...as you remember your forefathers), Sa`id bin Jubayr said that Ibn Abbas said, "During the time of Jahiliyyah, people used to stand during the (Hajj) season, and one of them would say, `My father used to feed (the poor), help others (end their disputes, with his money), pay the Diyah (i.e., blood money),' and so forth. The only Dhikr that they had was that they would remember the deeds of their fathers. Allah then revealed to Muhammad: فَاذْكُرُواْ اللّهَ كَذِكْرِكُمْ ابَاءكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا (Remember Allah as you remember your forefathers or with far more remembrance)." Therefore, remembering Allah the Exalted and Ever High is always encouraged. We should mention that when Allah used "or" in the Ayah, He meant to encourage the people to remember Him more than they remember their forefathers, not that the word entails a doubt (as to which is larger or bigger). This statement is similar to the Ayat: فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً ...as stones or even worse in hardness. (2:74) and, يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً ...fear men as they fear Allah or even more, (4:77) and, وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْيَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ And We sent him to a hundred thousand (people) or even more. (37:147) and, فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى And was at a distance of two bows' length or (even) nearer. (53:9) Allah encourages calling Him in supplication after remembering Him, because this will make it more likely that the supplication will be accepted. Allah also criticizes those who only supplicate to Him about the affairs of this life, while ignoring the affairs of the Hereafter. Allah said: ... فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الاخِرَةِ مِنْ خَلَقٍ But of mankind there are some who say: "Our Lord! Give us (Your bounties) in this world!" and for such there will be no portion in the Hereafter. meaning, they have no share in the Hereafter. This criticism serves to discourage other people from imitating those mentioned. Sa`id bin Jubayr said that Ibn Abbas said, "Some Bedouins used to come to the standing area (Arafat) and supplicate saying, `O Allah! Make it a rainy year, a fertile year and a year of good child bearing.' They would not mention any of the affairs of the Hereafter. Thus, Allah revealed about them: ... فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الاخِرَةِ مِنْ خَلَقٍ But of mankind there are some who say: "Our Lord! Give us (Your bounties) in this world!" and for such there will be no portion in the Hereafter." Next, Allah tells:

تکمیل حج کے بعد یہاں اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے کہ فراغت حج کے بعد اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو ، اگلے جملے کے ایک معنی تو یہ بیان کیے گئے ہیں کہ اس طرح اللہ کا ذکر کرو جس طرح بچہ اپنے ماں باپ کو یاد کرتا رہتا ہے ، دوسرے معنی یہ ہیں کہ اہل جاہلیت حج کے موقع پر ٹھہرتے وقت کوئی کہتا تھا میرا باپ بڑا مہمان نواز تھا کوئی کہتا تھاوہ لوگوں کے کام کاج کر دیا کرتا تھا سخاوت وشجاعت میں یکتا تھا وغیرہ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ فضول باتیں چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ کی بزرگیاں بڑائیاں عظمتیں اور عزتیں بیان کرو ، اکثر مفسرین نے یہی بیان کیا ہے ، غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت کرو ، اسی لئے او اشد پر زبر تمہیز کی بنا پر لائی گئی ہے ، یعنی اس طرح اللہ کی یاد کرو جس طرح اپنے بڑوں پر فخر کیا کرتے تھے ۔ او سے یہاں خبر کی مثلیت کی تحقیق ہے جیسے ( او اشد قسوۃ ) میں اور ( او اشد خشیۃ ) میں اور ( او یزیدون ) میں اور ( او ادنیٰ ) میں ، ان تمام مقامات میں لفظ او ہرگز ہرگز شک کے لئے نہیں ہے بلکہ فجر عنہ کی تحقیق کے لئے ہے ، یعنی وہ ذکر اتنا ہی ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ کا ذکر بکثرت کر کے دعائیں مانگو کیونکہ یہ موقعہ قبولیت کا ہے ، ساتھ ہی ان لوگوں کی برائی بھی بیان ہو رہی ہے جو اللہ سے سوال کرتے ہوئے صرف دنیا طلبی کرتے ہیں اور آخرت کی طرف نظریں نہیں اٹھاتے فرمایا ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ بعض اعراب یہاں ٹھہر کر صرف یہی دعائیں مانگتے ہیں کہ الہ اس سال بارشیں اچھی برسا تاکہ غلے اچھے پیدا ہوں اولادیں بکثرت ہوں وغیرہ ۔ لیکن مومنوں کی دعائیں دونوں جہان کی بھلائیوں کی ہوتی تھیں اس لئے ان کی تعریفیں کی گئیں ، اس دعا میں تمام بھلائیاں دین و دنیا کی جمع کر دی ہیں اور تمام برائیوں سے بچاؤ ہے ، اس لئے کہ دنیا کی بھلائی میں عافیت ، راحت ، آسانی ، تندرستی ، گھر بار ، بیوی بچے ، روزی ، علم ، عمل ، اچھی سواریاں ، نوکر چاکر ، لونڈی ، غلام ، عزت و آبرو وغیرہ تمام چیزیں آگئیں اور آخر تکی بھلائی میں حساب کا آسان ہونا گھبراہٹ سے نجات پانا نامہ اعمال کا دائیں ہاتھ میں ملنا سرخ رو ہونا بالآخر عزت کے ساتھ جنت میں داخل ہونا سب آگیا ، پھر اس کے بعد عذاب جہنم سے نجات چاہنا اس سے یہ مطلب ہے کہ ایسے اسباب اللہ تعالیٰ مہیا کر دے مثلا حرام کاریوں سے اجتناب گناہ اور بدیوں کا ترک وغیرہ ، قاسم فرماتے ہیں جسے شکر گزاروں اور ذکر کرنے والی زبان اور صبر کرنے والا جسم مل گیا اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی مل گئی اور عذاب سے نجات پا گیا ، بخاری میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دعا کو بکثرت پڑھا کرتے تھے اس حدیث میں ہے ربنا سے پہلے اللہم بھی ہے ، حضرت قتادہ نے حضرت انس سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ تر کس دعا کو پڑھتے تھے تو آپ نے جواب میں یہی دعا بتائی ( احمد ) حضرت انس رضی اللہ عنہ جب خود بھی کبھی دعا مانگتے اس دعا کو نہ چھوڑتے ، چنانچہ حضرت ثابت نے ایک مرتبہ کہا کہ حضرت آپ کے یہ بھائی چاہتے ہیں کہ آپ ان کے لئے دعا کریں آپ نے یہی دعا ( اللہم اٰتنا فی الدنیا ) الخ پڑھی پھر کچھ دیر بیٹھے اور بات چیت کرنے کے بعد جب وہ جانے لگے تو پھر دعا کی درخواست کی آپ نے فرمایا کیا تم ٹکڑے کرانا چاہتے ہو اس دعا میں تو تمام بھلائیاں آگئیں ( ابن ابی حاتم ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مسلمان بیمار کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے دیکھا کہ وہ بالکل دبلا پتلا ہو رہا ہے صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا ہے آپ نے پوچھا کیا تم کوئی دعا بھی اللہ تعالیٰ سے مانگا کرتے تھے؟ اس نے کہا ہاں میری یہ دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ جو عذاب تو مجھے آخرت میں کرنا چاہتا ہے وہ دنیا میں ہی کر ڈال آپ نے فرمایا سبحان اللہ کسی میں ان کے برداشت کی طاقت بھی ہے ؟ تو نے یہ دعا ربنا اتنا ( آخرتک ) کیوں نہ پڑھی؟ چنانچہ بیمار نے اب سے اسی دعا کو پڑھنا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس شفا دے دی ( احمد ) رکن نبی حج اور رکن اسود کے درمیان حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دعا کو پڑھا کرتے تھے ( ابن ماجہ وغیرہ ) لیکن اس کی سند میں ضعف ہے واللہ اعلم ، آپ فرماتے ہیں کہ میں جب کبھی رکن کے پاس سے گزرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہاں فرشتہ ہے اور وہ آمین کہہ رہا ہے تم جب کبھی یہاں سے کزرو تو دعا آیت ( ربنا اتنا ) الخ پڑھا کرو ( ابن مردویہ ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے آکر پوچھا کہ میں نے ایک قافلہ کی ملازمت کر لی ہے اس اجرت پر وہ مجھے اپنے ساتھ سواری پر سوار کرلیں اور حج کے موقعہ پر مجھے وہ رخصت دے دیں کہ میں حج ادا کر لوں ویسے اور دنوں میں میں ان کی خدمت میں لگا رہوں تو فرمائیے کیا اس طرح میرا حج ادا ہو جائے گا آپ نے فرمایا ہاں بلکہ تو تو ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں فرمان ہے آیت ( اولئک لہم نصیب ) ( مستدرک حاکم )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

200۔ 1 عرب کے لوگ فراغت کے بعد منٰی میں میلا لگاتے اور اپنے آباوجداد کے کارناموں کا ذکر کرتے مسلمانوں کو کہا جا رہا ہے جب تم 10 ذوی الحجہ کو کنکریاں مارنے قربانی کرنے، سر منڈانے، طواف کعبہ اور سعی صفا مروہ سے فارغ ہوجاؤ تو اس کے بعد جو تین دن منٰی میں قیام کرنا ہے وہاں خوب اللہ کا ذکر کرو کیونکہ جاہلیت میں تم اپنے آباوجداد کا تذکرہ کیا کرتے تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اسلام سے پہلے عرب حج سے فارغ ہوتے تو منیٰ میں میلہ لگاتے اور اپنے آباء و اجداد کا خوب تذکرہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسی طرح ذکر الٰہی کیا کرو، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ (فتح القدیر) ذکر الٰہی کا حکم دینے کے بعد دعا کی کیفیت بیان فرمائی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو صرف دنیا کے طالب ہوتے ہیں ایسے لوگ آخرت کی نعمتوں سے یکسر محروم رہیں گے (دیکھیے الشوریٰ : ٢٠) اور دوسرے وہ جو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرتے ہیں، اصل کامیابی انھی لوگوں کی ہے۔ (رازی، شوکانی) دنیا کی بھلائی (حسنہ) میں نیک بیوی، دنیا میں غلبہ، خلافت اسلامی کا قیام، وسعت رزق، دین و دنیا کا علم اور اللہ کے احکام کے مطابق چلنے کی توفیق، الغرض سب نیک اعمال شامل ہیں اور آخرت کی بھلائی میں دوزخ سے نجات، جنت، رضائے الٰہی کا حصول، حساب میں آسانی اور اللہ تعالیٰ کا دیدار وغیرہ شامل ہیں۔ انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اکثر دعا یہ تھی : (اَللَّہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَ قِنَا عَذَاب النَّارِ )” اے اللہ ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ “ [ بخاری، الدعوات، باب قول النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ربنا آتنا۔۔ : ٦٣٨٩۔ مسلم : ٢٦٩٠ ] صحیح مسلم میں ہے : ” انس (رض) جب بھی کوئی دعا کرنا چاہتے تو یہ (مذکورہ بالا) دعا کرتے اور جب کوئی اور دعا کرنا چاہتے تو اس میں یہ دعا بھی کرتے۔ “ خلاصہ یہ کہ یہ ایک نہایت جامع دعا ہے، کئی ایک احادیث میں اس کی ترغیب آئی ہے۔ طواف کے وقت رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان بھی یہ دعا مسنون ہے۔ [ أبو داوٗد، المناسک، باب الدعاء فی الطواف، ١٨٩٢ و قال الألبانی حسن ] اللہ تعالیٰ نے یہاں دو قسم کے لوگ ذکر فرمائے ہیں، صرف دنیا کی بھلائی طلب کرنے والے اور دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرنے والے، تیسری قسم کے لوگ یعنی صرف آخرت کی بھلائی طلب کرنے والے، جو دنیا کی بھلائی نہ مانگتے ہوں، وہ ذکر نہیں فرمائے، کیونکہ اسلام ایسا دین ہے جو اپنے ماننے والوں کے لیے دنیا ترک کرنا پسند نہیں کرتا، نہ دنیا کی نعمتوں سے کنارہ کشی کی اجازت دیتا ہے۔ جب سے مسلمانوں میں ہندو سادھوؤں اور نصرانی راہبوں کی تقلید میں دنیا کے ترک کا رجحان پیدا ہوا تو انھوں نے جہاد چھوڑا، دنیاوی علوم سے کنارہ کش ہوئے اور ہر چیز میں غیروں کے غلام بن گئے۔ کفار کو ان کے تصوف کے سلسلوں سے کوئی تکلیف ہے، نہ تصور شیخ سے اور نہ خانقاہی نظام سے، کیونکہ اس سے غلامی کی خو مزید پختہ ہوتی ہے، بلکہ وہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انھیں اپنے ملکوں میں آمد و رفت کی ہر سہولت مہیا کرتے ہیں، مگر اسلام اور مسلمانوں کی عزت کے ضامن جہاد یا خلافت کا نام لینے والوں پر آخری حد تک دنیا تنگ کردینے میں کمی نہیں کرتے۔ پھر کیا حال ہوگا جب کہا جائے ؂ دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے ؟ اگر کہا جائے شاعر کی مراد فقط رضائے الٰہی کا حصول ہے تو اللہ کی رضا تو دنیا اور آخرت دونوں کی طلب اور ان کے لیے محنت ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ مسلمانوں کی ان دونوں کی طلب بلکہ ان کا ہر عمل ہی رضائے الٰہی کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ (وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ ) یہ اس لیے فرمایا کہ آخرت میں بھلائی آگ کے کچھ عذاب کے بعد بھی ہوسکتی ہے، اس لیے اس سے بچنے کی الگ دعا مانگی۔ ( ابن عاشور )

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The prohibition of Jahili customs at Mina In the verses 199 to 201, some Jahili جاھلی customs have been corrected. One of these was that the Arabs of the Jahiliyyah جاھلیہ would, once they had finished their rites at ` Arafat and Muzdalifah and performed their tawaf طواف and sacrifice and stay in Mina منٰی ، hold gatherings to recite poetry and to eulogize the achievements of their forefathers. Such gatherings were obviously devoid of the remembrance of Allah. It was strange that they elected to waste such blessed days in activities which were of no consequence in relation to what they were supposed to do there. Therefore, they were told that, as soon as they have completed their Ihram احرام rites and come to stay at Mina منٰی ، they should dedicate their stay to the remembrance of Allah and leave out the practice of indulging in the reminiscences of their forefathers, specially the boastful claims about their achievements. Better still was to remember Allah, not them, and that too with greater attachment and fervor. There was nothing like being engaged in the dhikr ذکر of Allah. So, the Holy Qur an guides Muslims to shun the customs coming from the age of ignorance, especially in the great days of Hajj they have been blessed with, which are exclusively reserved for ` ibadah عبادہ and dhikr ذکر and have merits and blessings of their own, a gift from Allah which may not be available again if lost through carelessness. In addition to that, the Hajj is a special act of worship which one gets to perform only after a long and generally exacting journey, separation from family and business and great expense of money and time. That unforeseen circumstances prevail is not a far-out prospect. It is quite possible that one fails to achieve the long-cherished objective of Hajj, in spite of all efforts and expenses. Now, if Allah Almighty has, in His infinite grace, removed all impediments and one has accomplished his Hajj obligation by successfully performing all required rites, then, the occasion calls for gratitude which further demands that one should keep busy in remembering Allah, avoid wasteful gatherings, engagements or conversations. Compared with the time spent by the people of Jahiliyyah in forefather tale-telling which brought them no benefit here, or there, the thing to do here is the dhikr of Allah which is all radiance and benefit for this world, and for the Hereafter. No doubt, contemporary Muslims do not follow the custom of Jahiliyyah any more by holding poetic recitals to eulogize their family trees, but there are thousands of Muslims from all over the world who still spend out these precious days of Hajj in wasteful gatherings, entertainments, amusements, shoppings and similar other pursuits of personal satisfaction. This verse is enough to warn them. Some commentators have explained this verse by dwelling upon the analogy of &father& used here, in some detail. They say that one should remember Allah as one remembered his father during his childhood when he was dependant on his father for everything. If man were to think when he is young, adult and rational, is he not far more dependent on Allah Almighty at all times and under all conditions, certainly much more than a child was on his father? As for the boastful claims about the honour of their fathers, something the people of Jdhiliyyah used to make, this verse eliminates that too by saying that real honour comes through the dhikr of Allah. (Ruh; at-Bayan) Moderation in religious and worldly pursuits Besides what the people of Jahiliyyah used to do during their stay at Mina, some of them had another habit during the Hajj. Normally, they would be engaged in acts of devotion to Allah, yet when it came to making a prayer, they would focus all their attention to praying for worldly needs, such as, comfort, wealth, honour and their likes, showing no concern for the life to come. It was to correct this sort of approach in supplication that it was said that there are people who would use the great occasion of Hajj to pray for the insignificant gains of the present life and forget the Hereafter. For such people the Hereafter holds nothing because their conduct shows that they have gone through the obligation of Hajj merely in a formal manner, or have done it to earn prestige in their society. To please Allah and to earn salvation in the Hereafter are objectives alien to them.

رسوم جاہلیت کی اصلاح منیٰ میں فضول اجتماعات کی ممانعت : چوتھی پانچویں اور چھٹی آیات میں چند رسوم جاہلیت کی اصلاح کی گئی ہے، ایک تو یہ کہ عرب زمانہ جاہلیت میں عرفات ومزدلفہ اور طواف و قربانی سے فارغ ہو کر جب منیٰ میں قیام کرتے تھے تو ان کی مجلسیں صرف اس کام کے لئے ہوتی تھیں کہ مشاعرے منعقد کریں اور ان میں اپنے مفاخر اور اپنے آباء و اجداد کے مفاخر اور کارناموں کا بیان کریں ان کی مجلسیں ذکر اللہ سے یکسر خالی ہوتی تھیں ان مبارک ایام کو ایسی لغو اور فضول چیزوں میں ضائع کرتے تھے اس لئے ارشاد ہوا کہ جب تم اپنے افعال احرام کو پورا کرچکو اور منیٰ میں قیام کرو تو وہاں رہ کر اللہ تعالیٰ کو یاد کرو اپنے آباء و اجداد کو یاد کرنا اور خصوصاً ان کے جھوٹے سچے مفاخر اور کارناموں کو بیان کرنا چھوڑو جتنا تم ان کو یاد کرتے ہو اس کی جگہ بلکہ اس سے زیادہ خدا تعالیٰ کو یاد کرو اور ذکر اللہ میں مشغول رہو قرآن کی اس آیت نے عرب کی ایک جاہلانہ رسم کو مٹا کر مسلمانوں کو یہ ہدایت کی کہ یہ ایام اور یہ مقام عبادت اور ذکر اللہ کے لئے مخصوص ہیں ان میں ذکر اللہ و عبادت کے جو فضائل و برکات ہیں وہ پھر ہاتھ نہ آئیں گے ان کو غنیمت جاننا چاہئے۔ علاوہ ازیں حج ایک ایسی عبادت ہے جو عموماً سفر طویل کی مشقت اہل و عیال کی مفارقت کاروبار کو ترک کرنے اور ہزاروں روپے اور بہت سا وقت خرچ کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے اس میں حوادث کا پیش آجانا کچھ بعید نہیں کہ آدمی باوجود کوشش کے اپنے مقصد حج میں کامیاب نہ ہوسکے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمام موانع ہٹا کر آپ کے مقصد میں کامیاب فرمایا اور فرائض حج پورے ہوگئے تو یہ مقام شکر ہے جس کا اقتضاء یہ ہے کہ اور زیادہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہو ان اوقات کو فضول اجتماعات اور فضول کام یا کلام میں ضائع نہ کرو اہل جاہلیت ان اوقات میں اپنے آباء و اجداد کے تذکرے کرتے تھے جن کا کوئی نفع دین و دنیا میں نہ تھا، تم اس کی جگہ اللہ کا ذکر کرو جو نور ہی نور اور نفع ہی نفع ہے دنیا کے لئے بھی آخرت کے لئے بھی، آجکل اگرچہ مسلمانوں میں وہ رسم جاہلیت تو نہیں رہی کہ مشاعرے قائم کریں اور آباء و اجداد کے تذکرے کریں لیکن آج بھی ہزاروں مسلمان ہیں جو ان ایام کو فضول اجتماعات میں فضول دعوتوں اور تفریحات میں صرف کرتے ہیں یہ آیت ان کی تنبیہ کے لئے کافی ہے۔ بعض حضرات مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کو ایسا یاد کرو جیسے بچپن میں اپنے باپ کو یاد کرتے ہیں کہ ان کا سب سے پہلا اور سب سے زیادہ کلام یَا اَب یَا اَب ہوتا ہے تم اب بالغ ہو جوان ہو عاقل ہو یَا اَب یَا اَب کی جگہ یَا رَب یَارَب کو اختیار کرو اور اس پر نظر ڈالو کہ بچہ اپنے باپ کو اس لئے پکارتا ہے کہ وہ اپنے تمام کاموں میں اپنے آپ کو باپ کا محتاج سمجھتا ہے انسان اگر ذرا غور کرے تو وہ ہر وقت ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا محتاج اس سے زیادہ ہے جیسا بچہ اپنے باپ کا محتاج ہے نیز بعض اوقات کچھ لوگ اپنے باپ کا ذکر فخراً بھی کیا کرتے ہیں جیسے اہل جاہلیت کرتے تھے تو اس آیت نے یہ بھی ہدایت کردی کہ فخر وعزت کے لئے بھی ذکر اللہ سے زیادہ کوئی چیز مؤ ثر نہیں (روح البیان) ایک اور رسم جاہلیت کی اصلاح دین و دنیا کی طلب میں اسلامی اعتدال : جس طرح جاہلیت کی یہ رسم بیہودہ تھی کہ ان مبارک ایام کو اپنے باپ دادوں کے تذکروں اور مشاعروں میں گذاریں اسی طرح کچھ لوگوں کی یہ عادت تھی کہ اگرچہ ایام حج میں شغل تو ذکر اللہ اور دعاؤں ہی کا رکھتے تھے مگر ان کی تمام تر دعائیں صرف دنیوں حاجات اور دنیا کی راحت وعزت یا دولت کے لئے ہوتی تھیں آخرت کی طرف کوئی دھیان نہ ہوتا تھا ان کی اصلاح کے لئے اس آیت کے آخر میں فرمایا کہ بعض لوگ وہ ہیں جو حج میں دعاء بھی مانگتے ہیں تو صرف دنیا کی بھلائی مانگتے ہیں آخرت کی فکر نہیں کرتے ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں کیونکہ ان کے اس طرز عمل سے معلوم ہوا کہ فریضہ حج بھی انہوں نے محض رسماً ادا کیا ہے یا دنیا میں فخر و وجاہت حاصل کرنے کے لئے کیا ہے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا اور آخرت میں نجات حاصل کرنا ان کے پیش نظر ہے ہی نہیں۔ اس جگہ یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ صرف دنیاوی دعاء مانگنے والوں کا ذکر اس آیت میں اس طرح کیا گیا ہے کہ وہ کہتے رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا اس کے ساتھ حَسَنَةً کا لفظ مذکور نہیں جس میں اشارہ اس کی طرف ہے کہ وہ دنیا کے لئے بھی حسنہ کے طلبگار نہیں بلکہ اغراض دنیویہ میں ایسے مست و سرشار ہیں کہ ان کی طلب یہ رہ گئی ہے کہ اپنی خواہش کسی طرح پوری ہو خواہ وہ اچھی ہو یا بری اور اچھے طریقہ سے حاصل ہو یا برے راستہ سے لوگ ان کو اچھا کہیں یا براُ ، اس آیت میں ان مسلمانوں کے لئے بھی بڑی تنبیہ ہے جو موسم حج اور مقامات مقدسہ میں بھی دعاؤں میں اپنی اغراض دنیویہ ہی کو ترجیح دیتے ہیں اور بیشتر اوقات انہیں کے لئے صرف کرتے ہیں اور اگر ہمارے حالات کا جائزہ لیا جائے تو ثابت ہوگا کہ بہت سے دولتمند لوگ یہاں بھی جو وظائف اور دعائیں کرتے ہیں یا بزرگوں سے کراتے ہیں ان میں بکثرت لوگ ایسے ہیں کہ ان کی غرض ان تمام وظائف و دعاؤں سے بھی صرف دولت کی ترقی تجارت میں برکت اغراض دنیویہ میں کامیابی ہوتی ہے وہ بہت سے وظائف اور نوافل پڑھ کر یہ بھی سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم بہت عبادت گذار ہیں لیکن وہ حقیقت میں ایک طرح کی دنیا پرستی ہوتی ہے بہت سے حضرات زندہ بزرگوں سے اور وفات یافتہ اولیاء اللہ سے بڑا تعلق رکھتے ہیں لیکن اس تعلق کا بھی بڑا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان کی دعاء یا تعویذ سے ہمارے کام نکلیں گے دنیا کی آفات دور ہوں گی مال میں برکت ہوگی ایسے لوگوں کے لئے بھی اس آیت میں خاص ہدایت ہے معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے جو علیم وخبیر ہے ہر شخص کو اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہئے کہ وظائف ونوافل اور دعاء و درود سے اور حج وزیارت سے اس کی نیت کیا ہے اس آیت کے آخری حصہ میں کم نصیب محروم القسمۃ لوگوں کا تذکرہ کرنے کے بعد حق تعالیٰ نے نیک اور مقبول بندوں کا ذکر اس طرح فرمایا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللہَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَاۗءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا۝ ٠ ۭ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَہٗ فِي الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ۝ ٢٠٠ قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ نسك النُّسُكُ : العبادةُ ، والنَّاسِكُ : العابدُ واختُصَّ بأَعمالِ الحجِّ ، والمَنَاسِكُ : مواقفُ النُّسُك وأعمالُها، والنَّسِيكَةُ : مُخْتَصَّةٌ بِالذَّبِيحَةِ ، قال : فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ [ البقرة/ 196] ، فَإِذا قَضَيْتُمْ مَناسِكَكُمْ [ البقرة/ 200] ، مَنْسَكاً هُمْ ناسِكُوهُ [ الحج/ 67] . ( ن س ک ) النسک کے معنی عبادک کے ہیں اور ناسک عابد کو کہا جاتا ہے ، مگر یہ لفظ ارکان حج کے ادا کرنے کے ساتھ مخصوص ہوچکا ہے ۔ المنا سک اعمال حج ادا کرنے کے مقامات النسیکۃ خاص کر ذبیحہ یعنی قربانی کو کہتے ہیں ۔ قرآن میں سے : ۔ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ [ البقرة/ 196] تو اس کے بدلے روزے رکھے یا صد قے دے یا قر بانی کرے ۔ فَإِذا قَضَيْتُمْ مَناسِكَكُمْ [ البقرة/ 200] پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کر چکو ۔ مَنْسَكاً هُمْ ناسِكُوهُ [ الحج/ 67] ایک شریعت مقرر کردی جس پر وہ چلتے ہیں ۔ ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، وقوله تعالی: وَهذا ذِكْرٌ مُبارَكٌ أَنْزَلْناهُ [ الأنبیاء/ 50] ، وقوله : هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي [ الأنبیاء/ 24] ، وقوله : أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] ، أي : القرآن، وقوله تعالی: ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ [ ص/ 1] ، وقوله : وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ [ الزخرف/ 44] ، أي : شرف لک ولقومک، وقوله : فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ [ النحل/ 43] ، أي : الکتب المتقدّمة . وقوله قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْراً رَسُولًا [ الطلاق/ 10- 11] ، فقد قيل : الذکر هاهنا وصف للنبيّ صلّى اللہ عليه وسلم «2» ، كما أنّ الکلمة وصف لعیسی عليه السلام من حيث إنه بشّر به في الکتب المتقدّمة، فيكون قوله : ( رسولا) بدلا منه . وقیل : ( رسولا) منتصب بقوله ( ذکرا) «3» كأنه قال : قد أنزلنا إليكم کتابا ذکرا رسولا يتلو، نحو قوله : أَوْ إِطْعامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ يَتِيماً [ البلد/ 14- 15] ، ف (يتيما) نصب بقوله (إطعام) . ومن الذّكر عن النسیان قوله : فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ أَنْ أَذْكُرَهُ [ الكهف/ 63] ، ومن الذّكر بالقلب واللّسان معا قوله تعالی: فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آباءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْراً [ البقرة/ 200] ، وقوله : فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ وَاذْكُرُوهُ كَما هَداكُمْ [ البقرة/ 198] ، وقوله : وَلَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ [ الأنبیاء/ 105] ، أي : من بعد الکتاب المتقدم . وقوله هَلْ أَتى عَلَى الْإِنْسانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئاً مَذْكُوراً [ الدهر/ 1] ، أي : لم يكن شيئا موجودا بذاته، ( ذک ر ) الذکر ۔ یہ کبھی تو اس ہیت نفسانیہ پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے علم کو محفوظ رکھتا ہے ۔ یہ قریبا حفظ کے ہم معنی ہے مگر حفظ کا لفظ احراز کے لحاظ سے بولا جاتا ہے اور ذکر کا لفظ استحضار کے لحاظ سے اور کبھی ، ، ذکر، ، کا لفظ دل یاز بان پر کسی چیز کے حاضر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس بنا پر بعض نے کہا ہے کہ ، ، ذکر ، ، دو قسم پر ہے ۔ ذکر قلبی اور ذکر لسانی ۔ پھر ان میں کسے ہر ایک دو قسم پر ہے لسیان کے بعد کسی چیز کو یاد کرنا یا بغیر نسیان کے کسی کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ہر قول کو ذکر کر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ ذکر لسانی کے بارے میں فرمایا۔ لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔ وَهذا ذِكْرٌ مُبارَكٌ أَنْزَلْناهُ [ الأنبیاء/ 50] اور یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ؛هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي [ الأنبیاء/ 24] یہ میری اور میرے ساتھ والوں کی کتاب ہے اور مجھ سے پہلے ( پیغمبر ) ہوئے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت ( کی کتاب ) اتری ہے ۔ میں ذکر سے مراد قرآن پاک ہے ۔ نیز فرمایا :۔ ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ [ ص/ 1] اور ایت کریمہ :۔ وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ [ الزخرف/ 44] اور یہ ( قرآن ) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے ۔ میں ذکر بمعنی شرف ہے یعنی یہ قرآن تیرے اور تیرے قوم کیلئے باعث شرف ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ [ النحل/ 43] تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ میں اہل ذکر سے اہل کتاب مراد ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْراً رَسُولًا [ الطلاق/ 10- 11] خدا نے تمہارے پاس نصیحت ( کی کتاب ) اور اپنے پیغمبر ( بھی بھیجے ) ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں الذکر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وصف ہے ۔ جیسا کہ عیسیٰ کی وصف میں کلمۃ قسم ہے اس قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے ۔ کا لفظ وارد ہوا ہے ۔ اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو الذکر اس لحاظ سے کہا گیا ہے ۔ کہ کتب سابقہ میں آپ کے متعلق خوش خبردی پائی جاتی تھی ۔ اس قول کی بنا پر رسولا ذکرا سے بدل واقع ہوگا ۔ بعض کے نزدیک رسولا پر نصب ذکر کی وجہ سے ہے گویا آیت یوں ہے ۔ قد أنزلنا إليكم کتابا ذکرا رسولا يتلوجیسا کہ آیت کریمہ ؛ أَوْ إِطْعامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ يَتِيماً [ البلد/ 14- 15] میں کی وجہ سے منصوب ہے اور نسیان کے بعد ذکر کے متعلق فرمایا :َفَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ أَنْ أَذْكُرَهُ [ الكهف/ 63] قو میں مچھلی ( وہیں ) بھول گیا اور مجھے ( آپ سے ) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا ۔ اور ذکر قلبی اور لسانی دونوں کے متعلق فرمایا :۔ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آباءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْراً [ البقرة/ 200] تو ( مبی میں ) خدا کو یاد کرو جسطرح اپنے پاب دادا کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ وَاذْكُرُوهُ كَما هَداكُمْ [ البقرة/ 198] تو مشعر حرام ( یعنی مزدلفہ ) میں خدا کا ذکر کرو اور اسطرح ذکر کرو جس طرح تم کو سکھایا ۔ اور آیت کریمہ :۔ لَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ [ الأنبیاء/ 105] اور ہم نے نصیحت ( کی کتاب یعنی تورات ) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا ۔ میں الذکر سے کتب سابقہ مراد ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛هَلْ أَتى عَلَى الْإِنْسانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئاً مَذْكُوراً [ الدهر/ 1] انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی ۔ أب الأب : الوالد، ويسمّى كلّ من کان سببا في إيجاد شيءٍ أو صلاحه أو ظهوره أبا، ولذلک يسمّى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أبا المؤمنین، قال اللہ تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6] ( اب و ) الاب ۔ اس کے اصل معنی تو والد کے ہیں ( مجازا) ہر اس شخص کو جو کسی شے کی ایجاد ، ظہور یا اصلاح کا سبب ہوا سے ابوہ کہہ دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ۔ { النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ } [ الأحزاب : 6] میں آنحضرت کو مومنین کا باپ قرار دیا گیا ہے ۔ شد الشَّدُّ : العقد القويّ. يقال : شَدَدْتُ الشّيء : قوّيت عقده، قال اللہ : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] ، ( ش دد ) الشد یہ شدد ت الشئی ( ن ) کا مصدر ہے جس کے معنی مضبوط گرہ لگانے کے ہیں ۔ قرآں میں ہے : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] اور ان کے مفاصل کو مضبوط بنایا ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] دنا ( دن و ) الدنو ( ن) کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا هے۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ اور کبھی بمعنی اول ( نشاۃ اولٰی ) استعمال ہوتا ہے اور الآخر ( نشاۃ ثانیہ) کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ کہ اگر اس کے پاس ایک دینا بھی امانت رکھو ۔ خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا[يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ خَلَاقُ : ما اکتسبه الإنسان من الفضیلة بخلقه، قال تعالی: ما لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ [ البقرة/ 102] ، وفلان خلیق بکذا، أي : كأنّه مخلوق فيه، ذلک کقولک : مجبول علی كذا، أو مدعوّ إليه من جهة الخلق . وخَلَقَ الثوبُ وأَخْلَقَ ، وثوب خَلَقٌ ومُخْلَق وأخلاق، نحو حبل أرمام وأرمات، وتصوّر من خَلُوقَة الثوب الملامسة، فقیل : جبل أَخْلَق، وصخرة خَلْقَاء، وخَلَقْتُ الثوب : ملّسته، واخلولق السحاب منه، أو من قولهم : هو خلیق بکذا، والخلوق : ضرب من الطّيب . الخلاق ۔ وہ فضیلت جو انسان اپنے اخلاق سے حاصل کرتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ما لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ [ البقرة/ 102] ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ۔ فلان خلیق بکذا ۔ فلاں اس کا اہل ہے گویا وہ خوبی اس میں پیدا کی گئی ہے جیسا کہ فلاں مجبول علیٰ کذا ومدعو الیہ من جھۃ الخلق کا محاورہ ہے ۔ خلق الثوب واخلق کپڑے کا پرانا ہوجانا اور پرانے کپڑے کو خلق ومخلق اخلاق کہاجاتا ہے جیسا کہ حبل ارمام وارمات کا محاور ہ ہے اور کپڑے کے پرانا پونے سے ملائم اور چکنا ہونے کا معنی لیا جاتا ہے چناچہ کہا جاتا ہے :۔ جبل اخلق و صخرۃ خلقاء ( چکنا پہاڑ یا چکنا پتھر ) خلقت الثوب ۔ میں نے کپڑے کو پرانا کیا اخلولق السحاب ( ان تمطن امید ہے کہ بارش ہوگئی ۔ یہ یا تو خلقت الثوب سے ماخوذ ہے اور یا ھوخلیق بکذا کے محاورہ سے لیا گیا ہے ۔ الخلوق ۔ ایک قسم کا خوشبو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

مناسک حج ادا کرنے کے بعد کیفیت ذکر قول باری ہے (فاذا قضیتم مناسکم فاذاکروا اللہ کذکرکم اباء کم اواشد ذکراً پھر جب تم اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو تو جس طرح پہلے اپنے آبائو اجداد کا ذکر کرتے تھے اسی طرح اب اللہ کا ذکر کرو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر) قضا مناسک کا معنی علی وجہ التمام ان کی ادائیگی ہے۔ اس معنی میں قول باری ہے (فاذا قضیتم الصلوۃ فاذکروا اللہ قیا ما وقعوداً جب تم نماز ادا کرلو تو قیام وعقود کی حالت میں اللہ کو یاد کرو ) اسی طرح (فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروافی الارض جب نماز پڑھ لی جائے تو تم زمین میں پھیل جائو) اس معنی میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول ہے (فما ادرکتم فصلوا وما فاتکم فاقضوا ، نماز با جماعت کی صورت میں تمہیں امام کے ساتھ جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لو اور جتنی نہ ملے اسے ادا کرلو) یعنی جتنی نہ ملے اسے پوری طرح ادا کرلو۔ اس قول باری (فاذکروا اللہ کذکر کم) کے دو معانی بیان کئے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے وہ تمام اذکار مراد ہیں جو مناسب کی ادائیگی کے دوران پڑھے جاتے ہیں جس طرح کہ قول باری ہے (اذا طلقتم النسآء فطلقوھن بعد تھن واحصوالعدۃ جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دو تو انہیں عدت پر طلاق دو اور عدت کو شمار کرلو) جب کہ اسے طلاق دینے پہلے عدت کو شمار کرنے کا حکم ہے۔ یہ طرز بیان عربی کے ان محاوروں کے مطابق ہے مثلاً آپ کہیں ” اذا حججت فطف بالبیت “ (جب حج کرو تو بیت اللہ کا طواف کرو) یا اذا احرمت فاغتسل “ (جب تم احرام باندھو تو غسل کرلو ) یا ” اذا صلیت فتوضا “ (جب تم نماز پڑھنے لگو تو وضو کرلو) ان تمام فقروں میں جن افعال کے کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے وہ دراصل فقروں میں بیان کردہ امور سے پہلے ادا کئے جانے چاہئیں۔ قول باری ہے (اذا قمتم الی الصلوۃ فاغسلوا وجوھکم جب تم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو جائو تو اپنے چہرے دھو لو) حالانکہ چہرے کا دھونا نماز سے پہلے عمل میں آتا ہے۔ اسی طرح قول باری ہے (فاذا قضیتم مناسککم فاذکروا اللہ) اس میں یہ جائز ہے کہ اس سے مراد وہ اذکار منسونہ ہوں جو عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کے وقت اور رمی جمار اور طواف کے وقت پڑھے جاتے ہیں۔ اس آیت کا دوسرا معنی یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ مناسک ادا کرتے ہوئے ٹھہر اتے اور ٹھہر کر اپنی خاندانی روایات اور اپنے آبائو اجداد کے مفاخر بیان کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے ان غلط باتوں کے ذکر کی بجائے اپنے ذکر، نعمتوں پر شکر اور حمد و ثنا کا حکم دیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدان عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا۔ (ان اللہ قد اذھب عنکم نخوۃ الجاھلیۃ ولعظمھا بالآ باء ۔ الناس من ادم و ادم من تواب۔ لافضل لعوبی علیٰ عجمی الا بالتقویٰ ۔ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے فخر و غرور اور آبائو اجداد کے نام پر جھوٹے وقار اور بڑائی کو ختم کردیا ہے ۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے ہیں۔ سکی عربی کو سکی عجمی یعنی غریب عرب پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ اگر فضیلت ہے تو صرف تقویٰ کی بنا پر ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی (یایھا الناس انا خلقنکم من ذکروا انثی و جعلنکم شعرباً و قبائل لتعارفوا۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم اے لوگو ! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت کے ملاپ سے پیدا کیا اور تمہیں مختلف قومیں اور خاندان بنادیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم سے سب سے معزز شخص وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔ ) اس بنا پر درج بالا آیت میں زمانہ جاہلیت کی اس صورت کو پیش نظر رکھ کر وہ اپنے آبائو اجداد کے مئوثر و مفاخر بیان کیا کرتے تھے، اللہ کے ذکر کا حکم دیا گیا، اس طرح آیت کو زمانہ جاہلیت کی صورت حال کی روشنی میں دیکھا جائے۔ واللہ اعلم۔ ایام منیٰ اور ان میں کوچ قول باری ہے (واذکرواللہ فی ایام معدودات فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ یہ گنتی کے چند روز ہیں جو تمہیں اللہ کی یاد میں بسر کرنے چاہئیں۔ پھر کوئی جلدی کر کے دو ہی دن میں واپس ہوگیا تو کوئی حرج نہیں۔ ) ابوبکر جصاص کہتے ہیں سفیان اور شعبہ نے بکیر بن عطاء سے، انہوں نے حضرت عبدالرحمحٰن بن یعمر الدیلی سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ایام منی ثلثۃ ایام التشریق فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ ومن تاخر فلا اثم علیہ ایام منی ایام تشریق کے تین دن ہیں۔ پھر جو کوئی جلدی کر کے دو دن میں واپس ہوگیا تو کوئی حرج نہیں اور جو کوئی تاخیر کر کے پلٹا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد (ایام معدودات) کے سلسلے میں دراصل آیت کی مراد کا بیان ہے۔ اہل علم کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ایام معدودات، ایام تشریق ہیں۔ یہ بات حضرت علی ، حضرت ابن عباس ، حضرت عمر، حضرت ابن عمر اور ان کے علاوہ دوسرے صحابہ کرام سے مروی ہے۔ البتہ ایک چیز ہے جس کی روایت ابن ابی لیلیٰ نے منہال سے، انہوں نے زر سے اور انہوں نے حضرت علی سے کی ہے کہ المعدودات، سے مراد یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن ہیں۔ ان میں سے جس دن بھی تم قربانی کرنا چاہو کرسکتے ہو۔ اس روایت کے متعلق ایک قول ہے کہ یہ وہم ہے۔ حضرت علی سے جو صحیح روایت ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے یہ بات المعلومات، یعنی قول باری (فی ایام معلومات علی ما رزقھم …) کے متعلق فرمائی ہے۔ ظاہر آیت بھی اس کی نفی کرتا ہے کیونکہ قول باری ہے (فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ) اب ان دونوں کا تعلق نحر یعنی قربانی کے ساتھ نہیں ہے بلکہ رمی جمار کے ساتھ ہے جو ایام تشریق میں ہوتی ہے۔ رہی یہ بات کہ ” المعومات “ کو کون سے ایام ہیں تو حضرت علی اور حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن ہیں۔ ان میں سے جس دن بھی قربانی کا جانور ذبح کرنا چاہو کرسکتے ہو۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا المعدودات، ایام تشریق ہیں۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ ” المعلومات “ ایام عشر ہیں اور ” المعدودات “ ایام تشریق ہیں۔ ابن ابی لیلیٰ نے الحکم سے، انہوں نے مقسم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ ” المعومات، یوم النحر اور اس کے بعد کے تین دن ہیں۔ یہ ایام تشریق بھی ہیں۔ اور ” المعدودات “ یوم النحر اور اس کے بعد کے تین دن ہیں، عبداللہ بن موسیٰ نے کہا، ہمیں عمارہ بن ذکو ان نے مجاہد سے، انہوں نے حضرت ابن عباس سے یہ روایت کی ہے کہ المعدودات ایام عشر اور المعلومات، ایام نحر ہیں۔ لیکن آپ کا المعدودات کے متعلق یہ قول بلاشبہ غلط ہے۔ کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے۔ نیز یہ کتاب اللہ کے بھی خلاف ہے۔ اللہ کے بھی خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ) ایام عشر میں کوئی ایسا حکم نہیں ہے جو دو دنوں سے متعلق ہو اور تین دنوں سے نہ ہو۔ حضرت ابن عباس سے صحیح سند کے ساتھ یہ منقول ہے کہ المعلومات ایام عشر اور المعدودات، ایام تشریق ہیں۔ یہی جمہور تابعین کا قول ہے جن میں حسن بصری، مجاہد، عطاء، ضحاک اور ابراہیم نخعی وغیرہم شامل ہیں۔ امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد سے مروی ہے کہ ” المعومات ، ایام عشر اور المعدودات، ایام تشریق ہیں۔ طحاوی نے اپنے شیخ احمد بن ابی عمران سے، انہوں نے بشر بن الولید سے نقل کیا ہے کہ ابو العباس طوسی نے امام ابو یوسف کو لکھا کہ ایام معلومات کیا ہیں ؟ امام یوسف نے مجھے جواب املاء کرایا کہ صحابہ کرام کے درمیان ان کے متعلق رائے ہے۔ حضرت علی اور حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ یہ ایام النحر ہیں۔ میرا بھی یہی مسلک ہے اس لئے کہ قول باری ہے (علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام … اور چند مقررہ دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں۔ ہمارے شیخ ابوالحسن کرخی نے احمد القادری سے، انہوں نے محمد سے اور انہوں نے امام ابوحنیفہ سے بیان کیا ہے کہ ایام معلومات، ایام عشر ہیں، اور امام محمد سے بیان کیا کہ یہ ایام نحر کے تین دن ہیں، یوم الاضحیٰ یا یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن ہیں۔ امام ابوحنیفہ سے مروی متفقہ روایات میں یہ ہے کہ المعلومات، ایام الشعر اور المعدودات ایام تشریق ہیں۔ یہی حضرت ابن عباس کا مشہور قول بھی ہے۔ قول باری (علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام) میں کوئی ایسی دلالت نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ یہاں ایام نحر مراد ہیں۔ اس لئے کہ اس میں یہ احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہو ’ لما رزقھم من بھیمۃ الانعام (انہیں جانور عطا کرنے کی وجہ سے) جیسا کہ قول باری ہے (ولتکبروا اللہ علی ما ھداکم اور تاکہ تم اللہ کی بڑائی اس بنا پر بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی) اس میں معنی ہیں ” لما ھدا کم (تمہیں ہدایت دینے کی وجہ سے) اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ نے اس سے ایام عشر مراد لئے ہوں اس لئے کہ ایام عشر میں یوم النحر بھی شامل ہے جس میں قربانی ہوتی ہے اور اس کے کئی دن ہوتے ہیں۔ اہل لغت نے ذکر کیا ہے کہ المعدودات، کا مفوہم المعومات کے مفوہم سے جدا ہے۔ اس لئے کہ نفطاً اس پر دلالت ہو رہی ہے کہ عدد کے لحاظ سے ان دونوں کا مفہوم جدا ہے۔ وہ اسی طرح کہ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کی صفت المعدودات بیان کی ہے یہ صفت ان کی تقلیل پر دلالت کرتی ہے جس طرح کہ قول باری ہے (دراھم معدودۃ “ گنتی کے چند درہم اور کسی چیز کو عدد کے ساتھ اسی وقت موصوف کیا جاتا ہے جب اس کی تقلیل کا ارادہ ہو کیونکہ وہ کثرت کی ضد ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کہیں ” قلیل اور کثیر “ گنتی کے چند درہم اور کسی چیز کو عدد کے ساتھ اسی وقت موصوف کیا جاتا ہے جب اس کی تقلیل کا ارادہ ہو کیونکہ وہ کثرت کی ضد ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کہیں ” قلیل اور کثیر “ اس لئے المعدودات، میں قلت کے معنی پائے جاتے ہیں اور دوسرے ایام کو المعلومات کہا گیا اس لئے کہ ان کی شہرت تھی اور وہ تعداد میں دس ہیں۔ اہل علم کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ایام منی یو م النحر کے بعد کے تین دن ہیں۔ اور حاجی کو اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ دوسرے دن واپسی میں تعجیل کرے بشرطیکہ اس نے رمی کرلی ہو۔ اس کے لئے یہ بھی گنجائش ہے کہ تیسرے دن تک تاخیر کرے یہاں تک کہ اس دن رمی جمار کرنے کے بعد کوچ کر جائے اس شخص کے متعلق اختلاف ہے جس نے دوسرے دن سورج غروب ہونے تک کوچ نہیں کیا۔ حضرت عمر، حضرت ابن عمر، حضرت جابر، حسن بصری اور ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ دوسرے دن کوچ کرنے سے پہلے اگر سورج غروب ہوجائے تو اب وہ کوچ نہیں کرسکتا، تیسرے دن رمی جمار سے فارغ ہونے کے بعد وہ کوچ کرسکے گا۔ حسن بصری سے یہ بھی مروی ہے کہ اسے دوسرے دن کوچ کر جانے کی اجازت ہے، بشرطیکہ اس نے ظہر کا سارا وقت رمی جمار میں لگایا ہو۔ اگر منیٰ میں عصر کا وقت ہوجائے تو اب اسے تیسرے دن تک کوچ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تیسرے دن کی رمی اس پر اسی وقت لازم ہوگی اگر وہ منیٰ میں صبح کرے گا اور صورت میں رمی جمار کا ترک اس کے لئے جائز نہیں ہوگا۔ فقہاء کے درمیان اس بارے میں ہمیں کسی اختلاف کا علم نہیں ہے کہ جس شخص نے منیٰ میں قیام کرلیا اور تین دن وہیں رہا تو اس کے لئے رمی جمار کئے بغیر کوچ جائز نہیں ہے۔ فقہاء کا یہ کہنا کہ اگر کوئی شخص دوسرے دن شام تک منیٰ میں قیام پذیر رہے تو اس پر تیسرے دن کے رمی جمار کا لزوم نہیں ہوگا وہ صرف اس بنا پر ہے کہ دوسرے دن سے متصل رات دوسرے دن کے تابع ہے یعنی اس رات کا حکم وہی ہے جو دوسرے دن کا ہے۔ اس کا حکم وہ نہیں ہے جو اس کے بعد آنے والے دن کا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی شخص پہلے دن رمی نہیں کرتا تو آنے والی رات میں وہ رمی کرے گا اور اس صورت میں یہ رمی اپنے وقت سے موخر ہوگی۔ اس لئے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چرواہں کو رات کے وقت رمی جمار کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ اس بنا پر اس رات کا حکم وہی ہوگا جو اس سے پہلے کے دن کے کا ہے لکین اس رات کم وہ نہیں ہوگا جو اس کے بعد آنے اولے دن کا ہے۔ اسی بنا پر فقہاء نے یہ کہا ہے کہ دوسرے دن شام تک منیٰ میں اس کی اقامت، دن کے وقت اقامت کی طرح ہے۔ لیکن اگر وہ وہیں قیام پذیر رہے یہاں تک کہ تیسرے دن کی صبح ہوجائے تو اس پر رمی جمار لازم ہوجائے گی۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ وہ بات ہے جس سے امام ابوحنیفہ کے اس قول کی صحت پر استدلال کیا جاتا ہے کہ آپ نے تیسرے دن زوال سے پہلے تک رمی جمار کو جائز قرار دیا ہے اس لئے کہ تیسرا دن لزوم رمی کے لئے وقت ہے اور یہ بات محال ہے کہ تیسرا دن وجوب رمی کے لئے وقت ہو لیکن پھر اس میں رمی کا فعل درست نہ ہو۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٠١۔ ٢٠٠) اور جب تم اپنے اعمال حج سے فارغ ہوجاؤ، تو اللہ تعالیٰ کو اس طرح یاد کرو جیسا کہ اپنے آباؤ اجداد کو یاد کرتے ہو اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تم پر احسانات کیے ہیں ان احسانات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو اس طرح سے یاد کرو جیسا زمانہ جاہلیت میں اپنے آباؤاجداد کے احسانات کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اپنے آباء کے تذکرہ سے بھی کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ کا تذکرہ کرو، وقوف کی جگہ میں بعض لوگ دعا مانگتے ہیں کہ پروردگار ہمیں اونٹ، گائے، بکریاں، غلام اور باندیاں اور بہت سامال دے مگر بہشت میں ایسے لوگوں کے حج کا کوئی حصہ نہیں۔ شان نزول : فاذا قضیتم ”۔ (الخ) ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت والے ایام حج میں کھڑے ہوتے تھے، ان میں سے ہر ایک شخص کہتا تھا کہ میرے باپ کھانا کھلاتا تھا، لوگوں کو سوار کراتا تھا اور دوسروں کے خون بہا کو ادا کرتا تھا یعنی اپنے آباؤ اجداد کے ذکر کے علاوہ ان کے پاس کوئی ذکر نہیں تھا، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ اتاری کہ جب تم اپنے اعمال حج پورے کرچکو تو اللہ تعالیٰ کا اچھی طرح ذکر کیا کرو۔ اور ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ عرب جب ارکان حج سے فارغ ہوجاتے تھے تو حجر اسود کے پاس کھڑے ہوجاتے اور زمانہ جاہلیت میں کیے گئے اپنے آباؤ اجداد کے کارناموں کو بیان کیا کرتے تھے، اس پر یہ آیت اتری۔ اور ابن ابی حاتم (رح) نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ عربوں کی ایک جماعت وقوف کی جگہ آتی اور کہتی، اے اللہ، سال بارش اور سبز وشادابی اور خوبصورتیوں والا کردے لیکن امور آخرت میں سے کسی بھی چیز کا تذکرہ نہیں کرتی تھی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت اتاری کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار بس ہمیں دنیا ہی میں دے دے، ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اس جماعت کے بعد دوسری جماعت مومنوں کی آتی ہے اور یہ دعا مانگتی، (آیت) ” ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ (الخ) کہ اے اللہ ہماری دنیا کے ساتھ آخرت بھی اچھی کردے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠٠ (فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ ) (فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَآءَ ‘ کُمْ ) ( اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًا ط) یعنی دسویں ذوالحجہ کو جب افعالِ حج سے فراغت پا چکو تو قیام منیٰ کے دوران اللہ کا خوب ذکر کرو جیس ئزمانہ جاہلیت میں اپنے آباء و اَجداد کا ذکر کیا کرتے تھے ‘ بلکہ اس سے بھی بڑھ چڑھ کر اللہ کا ذکر کرو۔ ان کا قدیم دستور تھا کہ حج سے فارغ ہو کر تین دن منیٰ میں قیام کرتے اور بازار لگاتے۔ وہاں میلے کا سا سماں ہوتا جہاں مختلف قبائل کے شعراء اپنے قبیلوں کی مدح سرائی کرتے تھے اور اپنے اسلاف کی عظمت بیان کرتے تھے۔ اللہ کا ذکر ختم ہوچکا تھا۔ فرمایا کہ جس شدو مدّ کے ساتھ تم اپنے آباء و اَجداد کا ذکر کرتے رہے ہو اب اسی انداز سے ‘ بلکہ اس سے بھی زیادہ شدومدّ کے ساتھ ‘ اللہ کا ذکر کرو۔ (فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَمَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلاَقٍ ) یعنی ارض حرم میں پہنچ کر دورانِ حج بھی ان کی ساری دعائیں دنیوی چیزوں ہی کے لیے ہیں۔ چناچہ وہ مال کے لیے ‘ اولاد کے لیے ‘ ترقی کے لیے ‘ دنیوی ضروریات کے لیے اور اپنی مشکلات کے حل کے لیے دعا کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے دلوں میں دنیا رچی بسی ہوئی ہے۔ جیسے بنی اسرائیل کے دلوں میں بچھڑے کا تقدس اور اس کی محبت جاگزیں کردی گئی تھی اسی طرح ہمارے دلوں میں دنیا کی محبت گھر کرچکی ہے ‘ لہٰذا وہاں جا کر بھی دنیا ہی کی دعائیں مانگتے ہیں۔ یہاں واضح فرما دیا گیا کہ ایسے لوگوں کے لیے پھر آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

221. After the Hajj the Arabs used to hold rallies at Mind. At these rallies people from different tribes proudly narrated the achievements of their forefathers and indulged in much extravagant self-praise. Here they are asked to renounce all such things and devote the time which they formerly spent on trivialities to remembering and celebrating God. Dhikr refers to the remembrance of God at Mina.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :221 اہل عرب حج سے فارغ ہو کر منیٰ میں جلسے کرتے تھے ، جن میں ہر قبیلے کے لوگ اپنے باپ دادا کے کارنامے فخر کے ساتھ بیان کرتے اور اپنی بڑائی کی ڈینگیں مارتے تھے ۔ اس پر فرمایا جارہا ہے کہ ان جاہلانہ باتوں کو چھوڑو ، پہلے جو وقت فضولیات میں صرف کرتے تھے اب اسے اللہ کی یاد اور اس کے ذکر میں صرف کرو ۔ اس ذکر سے مراد زمانہ قیام منیٰ کا ذکر ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

134: جاہلیت میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ حج کے بنیادی ارکان سے فارغ ہو کر جب منی میں جمع ہوتے تو بعض لوگ ایک پورا دن اپنے آبا واجداد کی تعریفیں کرنے اور ان کے کارنامے بیان کرنے میں گزارا کرتے تھے، یہ اشارہ اس رسم کی طرف ہے اور بعض لوگ دعائیں تو مانگتے مگر چونکہ وہ آخرت کے قائل نہیں تھے اس لئے ان کی دعا صرف دنیا کی بہتری تک محدود ہوتی تھی اگلے جملے میں بتایا گیا ہے کہ ایک مومن کو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگنی چاہئے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:200) قضیتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ قضاء مصدر (باب ضرب) قضی مادہ۔ جب تم نے ادا کرلیا۔ جب تم پورے کر چکو۔ مناسککم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اپنے (حج کے) ارکان منسک واحد۔ کذکرکم اباء کم۔ کاف حرف تشبیہ ہے ذکر کم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف۔ اباء کم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ۔ تمہارے اپنے آباء اجداد کے ذکر کی طرح یعنی جس طرح تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو اسی طرح اللہ کا ذکر کرو۔ او۔ یہاں اختیار کے معنی میں نہیں۔ بلکہ ترقی کے لئے ہے اور بل کا ہم معنی ہے یعنی بلکہ ان کو ذکر سے بھی بڑھ کر اللہ کو یاد کرو۔ اشد کرا۔ صاحب تفسیر حقانی فرماتے ہیں : اشدذکرا میں اگرچہ لوگوں نے بہت قیل وقال کی ہے مگر صاف قول یہ ہے کہ اشد منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے اور یہ حال ذکرا سے ہے۔ اور ممکن ہے کہ اس کی صفت ہو۔ اور ذکرا تمیز ہے اشد کی۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ خلاق۔ حصہ۔ اپنے خلق اور عادت سے جو فضیلت انسان حاصل کرے اس کا نام خلاق ہے۔ حسنۃ۔ بھلائی یہ نیکی۔ نعمت جو مسرت کا سبب ہو۔ سیئۃ کی ضد ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 اسلام سے پہلے اہل عرب لوگ حج سے فارغ ہوتے تو منی میں میلہ لگاتے اور اپنے آباؤ اجداد کا خوب تذکرہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس طرح ذکر الہی کیا کرو۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ آیت میں جو حکم یاد کا فرمایا اس میں نمازیں بھی داخل ہیں پس یہ ذکر تو واجب ہے باقی ذکر جو کچھ کرے مستحب ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حج کو عام اجتماع اور میلہ کا رنگ دینے کے بجائے اس میں عبادت اور ذکر و اذکار کا ماحول ہونا چاہیے۔ کفار اور مشرکین نے حج کے مقدس اجتماع کو دنیا کے فائدے اور خود غرضی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔ یہاں تک کہ دعا کرتے ہوئے رب کے حضور دنیا ہی کے طلبگار ہوتے تھے۔ گویا کہ دین اور عبادت بھی ان کی نظروں میں دنیا کا ہی مقصود ٹھہری تھی۔ جیسے آج کل بعض لوگ کسی کو کھانا کھلائیں تو فقط دعا اور نمائش کی خاطر ‘ مسجد میں اعتکاف کریں تو صرف دنیا کے مصائب سے چھٹکارا پانے کے لیے ‘ مساجد ومدارس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں تو نمائش اور شہرت کے لیے ‘ حج دنیاوی مشکلات سے نجات پانے اور دولت کی نمائش کے لیے کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جب مصائب سے نجات پاتے ہیں تو نہ وہ زہد وتقو ٰی رہتا ہے اور نہ ہی علماء کا احترام واکرام بلکہ نماز اور روزے سے بھی غافل ہوجاتے ہیں۔ ان کے بارے میں سورة حج آیت ١١ میں فرمایا گیا ہے کہ کچھ لوگ تو بس کنارے پر بیٹھ کر ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اگر انہیں فائدہ پہنچے تو مطمئن ہوجاتے ہیں۔ اگر آزمائش میں مبتلا ہوں تو پیٹھ پھیر جاتے ہیں۔ ان کو دنیا اور آخرت میں بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یہاں بنیادی طور پر دو قسم کی سوچ بیان کی جارہی ہے ایک ان لوگوں کی جن کے صبح وشام اور لیل ونہار دنیا ہی کے حصول کے لیے وقف ہیں۔ دنیا کے علاوہ ان کے احاطۂ خیال میں کوئی چیز نہیں آتی۔ انہیں دنیا تو اپنے حصہ کے مطابق مل جائے گی مگر آخرت میں وہ یکسر طور پر تہی دامن ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے آخرت کے لیے کچھ نہیں کیا ہوگا اور نہ ہی وہ آخرت کے طلب گار تھے۔ ان کے مقابلے میں ان لوگوں کی تعریف کی جارہی ہے جو دنیا میں رہ کر آخرت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مومن اور دنیا دار کی سوچ کا فرق سمجھنے کے لیے حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص (رض) کے فرمان سے بہتر کسی امتی کا اس بات کے حوالے سے ارشاد نہیں ہوسکتا : (إِحْرِزْلِدُنْیَاکَ کَأَنَّکَ تَعِیْشُ أَبَدًا وَاعْمَلْ لآخِرَتِکَ کَأَنَّکَ تَمُوْتُ غَدًا) [ مسند الحارث ] ” دنیا اس طرح کماؤ گویا تو نے دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے اور آخرت کے لیے ایسے اعمال کرو جیسے تو نے کل فوت ہوجانا ہے۔ “ یہی فرق ہے ایک کافر اور دنیا دار مومن کی جدوجہد کے درمیان۔ کیونکہ بیشمار کام ایسے ہیں جو کافر اور مومن کو فطری طور پر ایک جیسے کرنے پڑتے ہیں۔ جن کو سمجھنے کے لیے معمولی درجے کی چند مثالیں ذہن میں تازہ فرمائیں۔ کافر بھی کھانا کھاتا ہے اور مومن بھی کھانے کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ دنیا دار بھی کپڑے پہنتا ہے اور مسلمان کا بھی لباس کے بغیر گزارہ نہیں۔ ایمان سے تہی دامن انسان بھی سوتا ہے جب کہ ایمان دار کو بھی نیند پوری کرنا ہوتی ہے۔ لیکن ان کے کرنے کے انداز اور ان کے پیچھے کار فرما جذبات کا زمین و آسمان سے زیادہ فرق ہے۔ مومن کا سونا بھی عبادت ہے جب کہ کافر کی عبادت بھی خدا کے ہاں عبادت کا درجہ نہیں رکھتی۔ کیونکہ اس کے پیچھے نہ ایمان کا تصور ہے اور نہ کرنے کا انداز سنت نبوی کے مطابق ہے۔ یہاں دونوں قسم کے لوگوں کو بتلایا گیا ہے کہ جو کمائے گا وہی پائے گا۔ اللہ تعالیٰ عنقریب ایک ایک لمحہ کا حساب لے گا۔ لہٰذا دعا کی صورت میں یہ فکر دی جارہی ہے کہ کامل اور بہتر سوچ یہ ہے کہ دنیا اور آخرت کو سنوارنے کے لیے نہ صرف بیک وقت بھر پور کوشش کی جائے بلکہ رب کے حضور دعا بھی ہونی چاہیے کہ ” اے ہمارے رب ! ہماری دنیا بھی بہتر فرما اور آخرت بھی اور ہمیں جہنم کی ہولناکیوں سے محفوظ فرما۔ “ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر یہ دعامانگتے اور طواف کے دوران رکن یمانی سے لے کر حجر اسود تک اس دعا کا التزام کرتے تھے۔ (رواہ البخاری، کتاب الحج) مسائل ١۔ مناسک حج پورے کرنے کے بعد منٰی میں اللہ کا ذکر کثرت سے کرنا چاہیے۔ ٢۔ دنیا دار لوگ آخرت کے بجائے صرف دنیا ہی کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ٣۔ صرف دنیا کے طلب کرنے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرنا چاہیے۔ ٥۔ ہمیشہ جہنم کے عذاب سے پناہ مانگنا چاہیے۔ ٧۔ اللہ سے بڑھ کر کوئی جلد حساب لینے والا نہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ، اختتام حج کے بعد عرب سوق عکاظ ، مجنہ اور ذوالمجاز نامی بازاروں کو جاتے ۔ یہ بازار صرف خروید وفروخت ہی کے بازار نہ تھے ۔ بلکہ ان میں تقریروں ، اشعار اور آباء اجداد کی نفرتوں کا بھی مقابلہ ہوتا ۔ ان بازاروں میں ہر شخص اپنا نسب نامہ بیان کرتا ۔ اس وقت عربوں کی حالت یہ تھی کہ ان نفرتوں اور کارہائے نمایاں کے بیان و اظہار کے علاوہ عربوں کے پاس کوئی پروگرام ہی نہ تھا ۔ ان کے پاس کوئی انسانی مشن نہ تھا ، جس کی راہ میں وہ اپنی عظیم قوت گویائی اور بلاغت اور عظیم عملی قوتوں کو کام میں لاتے ۔ عربوں کو بلند ترانسانی مشن تو صرف اسلام نے دیا ہے ۔ اسلام سے پہلے ان کی حالت یہ تھی کہ نہ زمین پر ان کا کوئی پروگرام ہے اور نہ آسمانوں پر ان کا کوئی ذکر یا مقام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حج سے فارغ ہوکر لوگ ان میلوں اور بازاروں میں اپنے قیمتی اوقات اور اپنی قیمتی طاقتوں کو ان لغو اور بےکار باتوں میں صرف کرتے ۔ اپنے حسب ونسب بیان کرتے ، اپنے آجاؤ اجداد کے کارنامے یاد کرتے ۔ اور فخر ومباہات کے ساتھ ........ لیکن جب اسلام آیا اور انہیں ایک عظیم نصب العین دیا گیا ، انہیں زندگی کا ایک جدید تصور دیا گیا ، بلکہ انہیں ایک نیا جنم دیا گیا تو وہ بامقصد اور بامراد قوم بن گئے ۔ قرآن کریم انہیں صرف وہ تعلیم دیتا ہے جس میں ان کی بھلائی ہے۔ مناسک حج ادا کرچکنے کے بعد ، اب اسلامی تعلیم پر کھئے کہ آباء و اجداد کے تذکروں کی بجائے اللہ تعالیٰ کو یاد کرو فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا ” پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کرچکو ۔ تو جس طرح پہلے اپنے آباء اجداد کا ذکر کرتے تھے ، اس طرح اب اللہ کا ذکر کرو ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ “........” جس طرح پہلے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کرتے تھے ۔ “ ان الفاظ سے معلوم ہوتا نہیں کہ اللہ کے ذکر کے ساتھ اب بھی آباء و اجداد کا تذکرہ جائز ہے ۔ اس تمثیل میں تنقیدی پہلو ہے اور مقصد یہ ہے کہ اس کام سے بہتر کام میں اپنے اوقات صرف کرو یعنی جس طرح تم پہلے اپنے آباء اجداد کا تذکرہ کرتے تھے جو ایک فضول حرکت تھی ۔ جو کوئی جائز یا مستحسن کام نہیں تھا ، اس کو بدل دو ۔ اب اللہ کو یاد کرو بلکہ اس سے بھی زیادہ یاد کرو بالخصوص موسم حج میں جبکہ تم نے عام لباس بھی اتار کر ایک خاص لباس پہن لیا ہے ۔ اسی طرح آباء اجداد پر تکابر وتخافر کے لباس کو اتار پھینکو۔ صرف اللہ کے ذکر ہی سے انسان کا رتبہ بلند ہوتا ہے ۔ آباء اجداد کے جائز وناجائز تفاخر کے ذریعے نہیں ۔ اب زندگی کی جدید قدروں کا میزان ومعیار تقویٰ ہے ۔ اللہ کا خوف ہے اور تعلق باللہ ہے ۔ اس کا ذکر اور اس کی خشیت ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ایام منیٰ میں ذکر اللہ میں مشغول ہونے کا حکم دسویں ذوالحجہ کو مزدلفہ سے واپس آ کر جمرہ کبریٰ کو کنکریاں ماری جاتی ہیں اور پھر حلق اور قصر کر کے احرام سے نکل جاتے ہیں اس کے بعد طواف زیارت اور دو یا تین دن کی رمی یعنی کنکریاں مارنا باقی رہ جاتا ہے۔ زمانہ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ حج سے فارغ ہو کر اپنے باپ دادوں کا تذکر کیا کرتے تھے اور مقابلہ میں اشعار پڑھتے تھے اور اپنے قبیلوں کی بڑائی بیان کرتے تھے۔ اللہ جل شانہ، نے فرمایا کہ حج کے کاموں سے فارغ ہو کر اللہ کو یاد کرو جیسا کہ تم اپنے باپ دادوں کو یاد کرتے رہے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھ کر اللہ کو یاد کرو۔ (روح المعانی ص ٨٩ ج ٢) صاحب معالم التنزیل نے مناسککم کا ترجمہ نسائککم کیا ہے اور آیت کا مطلب یہ بتایا ہے کہ جب تم حج سے فارغ ہوجاؤ اور قربانی کے جانور ذبح کرلو تو اللہ کے ذکر میں مشغول ہوجاؤ۔ و ذلک بعد رمی جمرۃ العقبۃ والاستقرار بمنی۔ (ص ١٧٨۔ ج ١) پھر دعا کرنے والوں کا تذکرہ فرمایا کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے صرف دنیا ہی طلب کرتے ہیں یہ لوگ حج میں بکریاں، اونٹ، گائیں، اور غلام مانگا کرتے تھے۔ صرف طالب دنیا تھے۔ آخرت کا انہیں کچھ بھی دھیان نہ تھا یہ لوگ یوں دعا کرتے تھے۔ اے اللہ میرے باپ کا عظیم قبہ تھا، بڑا پیالہ تھا اور وہ کثیر المال تھا مجھے بھی اسی قدر مال عطا فرما جتنا اس کو دیا تھا۔ (معالم التنزیل ص ١٧٦ ج ١)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

386 زمانہ جاہلیت میں مشرکین عرب حج سے فارغ ہو کر مل کر بیٹھتے اور اپنے آباء و اجداد کی تعریفیں کرتے اور اپنی خاندانی بڑائی بیان کرتے اور اپنے بڑوں کے کارناموں پر فخر کرتے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس طرح پہلے تم لوگ اپنے آباء کی بڑائی بیان کرتے تھے اس طرح اب اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کیا کرو بلکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر تو تم اپنے باپ دادا سے بھی بڑھ کر کیا کرو۔ اب آگے حاجیوں کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔387 پہلی قسم کے حاجی تو وہ ہیں کہ جس طرح ان کی زندگی کی ساری تگ ودو کا مطلب صرف حصول دنیا ہوتا ہے اسی طرح حج بھی وہ دنیوی اغراض ہی کے لیے کرتے ہیں جیسا کہ مشرکین عرب۔ یہ لوگ حج اس لیے کرتے تھے کہ حج کے موقع پر اور حج سے فارغ ہو کر اپنے آبائی مفاخر بیان کریں اور اپنی عظمت اور بڑائی کا اظہار کریں۔ نیز ان مقامات مقدسہ میں اللہ تعالیٰ سے دولت، مال مویشی اور دشمنوں پر فتح مندی کے لیے دعا کریں۔ چناچہ یہ لوگ وقوف عرفہ اور وقوف مزدلفہ کے وقت اللہ تعالیٰ سے اونٹ گائے اور بھیڑ بکری کے لیے دعائیں کرتے مگر اللہ سے بخشش اور انعام اخروی کی دعا کبھی نہ کرتے۔ عن ابن عباس (رض) ان المشرکین کانوا یقولون اذا وقفوا اللھم ارزقنا ابلا وبقراً وغنیماً وعبیداً واماءً او ما کانوا یطلبون التوبۃ والمغفرۃ (کبیر ص 229 ج 2) کانوا یسئلون الابل والغنم والظفر بالعدو و لا یطلبون الاخرۃ (قرطبی ص 433 ج 2) تو ایسے لوگوں کے متعلق ارشاد فرمایا کہ بس جو کچھ ہم نے دینا تھا، دنیا میں دے دیا۔ آخرت میں ان کے لیے کچھ نہیں البتہ جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi