Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 242

سورة البقرة

کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲۴۲﴾٪  15

Thus does Allah make clear to you His verses that you might use reason.

اللہ تعالٰی اسی طرح اپنی آیتیں تم پر ظاہر فرما رہا ہے تاکہ تم سمجھو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ ايَاتِهِ ... Thus Allah makes clear His Ayat (Laws) to you, meaning, what He allows, forbids, requires, His set limits, His commandments and His prohibitions are all explained and made plain and clear for you. He did not leave any matter in general terms if you needed the specifics. ... لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ in order that you may understand. meaning, understand and comprehend.

پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنی آیتیں حلال و حرام اور فرائض و حدود اور امرونہی کے بارے میں واضح اور مفسر بیان کرتا ہے تا کہ کسی قسم کا ابہام اور اجمال باقی نہ رہے کہ ضرورت کے وقت اٹک بیٹھو بلکہ اس قدر صاف بیان ہوتا ہے کہ ہر شخص سمجھ سکے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٣٩] یہاں نکاح، طلاق، عدت رضاعت وغیرہ عائلی زندگی سے متعلق احکام دینے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ احکام وضاحت سے بیان کردیئے گئے ہیں۔ لہذا انہیں اچھی طرح سمجھ کر ان پر عمل کیا کرو اور ان سے جو کچھ اللہ تعالیٰ کی منشا معلوم ہوتی ہے۔ اسی کے مطابق عمل کرو۔ اپنے لیے گنجائشیں نکالنے کی کوشش نہ کرو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یہاں نکاح و طلاق کے مسائل ختم ہوئے اب جہاد کا ذکر شروع ہوتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللہُ لَكُمْ اٰيٰتِہٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۝ ٢٤٢ ۧ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:242) کذلک۔ ک تشبیہ کا ہے۔ ذلک کا اشارہ ان احکام کی طرف ہے جو طلاق، عدت اور متعہ کے متعلق اوپر بیان ہوچکے ہیں۔ اسی طرح۔ یبین۔ مضارع واحد مذکر غائب تبیین (تفعیل) مصدر۔ کھول کر بیان کرنا۔ لعلکم تعقلون۔ عقل الشی ادر کہ علی حقیقتہ کسی شی کی حقیقت کو سمجھ لینا (معجم الوسیط) تدبر کرنا (المنجد) مطلب یہ کہ کسی شے پر غور و فکر اور تدبر کرکے اس کی حقیقت سمجھ لینا۔ آیت کا مطلب یہ ہوگا۔ کہ جس طرح اللہ نے متذکرہ بالا احکام کھول کھول کر بیان کر دئیے ہیں اسی طرح وہ اپنے تمام احکام کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم ان پر غور وفکر کرو۔ اور ان کی حقیقت کو سمجھ پاؤ۔ ایتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اپنی آیات۔ اپنی نشانیاں۔ اپنے احکام۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب تیسری آیت اس میں ان تمام عائلی احکام پر تبصرہ ہے جو اس پورے سبق میں بیان کئے گئے ہیں ۔ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ” اس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے ، امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام کروگے۔ “ اسی طرح اس بیان کی طرح جو اس پورے سبق میں بیان احکام کے سلسلے میں تمہاری نظروں سے گزرا ، جو محکم ، دقیق ، الہامی اور اثر انگیز بیان ہے ۔ اس طرح ، اللہ صاف صاف اپنے احکام بیان کرتا ہے ، اس امید پر کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لوگے ، تمہیں عقل آجائے اور تم ان احکام میں تدبر کروگے ، غور وفکر سے کام لوگے ، ان کی تہہ میں جو حکمت کارفرما ہے اسے پانے کی کوشش کروگے ۔ ان میں اللہ کی شان رحمت جو جھلک ہے اسے دیکھ سکوگے ، ان میں تمہارے لئے جو انعامات پوشیدہ ہیں انہیں جان سکوگے ۔ سہولت اور تیسیر کی نعمت ، سادگی اور صفائی کی نعمت ، پختگی اور قطعیت کی نعمت اور پھر ان کی وجہ سے پوری زندگی پر امن وسلامتی کی موسلا دھار بارش کی نعمت ۔ اے کاش ! لوگ اسلامی نظام کو سمجھتے ۔ کاش ! وہ اس پر غور کرتے ۔ اگر وہ اسے صحیح طرح سمجھتے تو ان لوگوں کا اسلامی نظام سے وہ تعلق نہ ہوتا جو آج ہے ، بلکہ وہ اسلامی نظام کے مطیع ہوجاتے ، اس کے ہر حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے ، ان کے دل قبولیت کے لیے ہر وقت تیار ہوتے ، ان کے دل اس کی ہر ہدایت پر راضی ہوتے اور ان کے قلوب اور ان کی روح ، امن وسلامتی اور یقین اطمینان سے بھر جاتے ۔ کاش ! کہ وہ سوچتے کاش کہ وہ سمجھتے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور سب مطلقہ عورتوں کے لئے دستور کے مطابق متاع یعنی فائدہ پہنچانا اور سلوک کرنا ہے اور یہ متاع ان لوگوں پر ایک حق ہے جو کفر و شرک سے بچنے والے ہیں یعنی مسلمان ہیں ۔ خواہ یہ حق و جو بی ہو یا اس کا پورا کرنا مستحب ہو۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے تا کہ تم عقل سے کام لو اور ان احکام کو سمجھو اور عمل کرو۔ ( تیسیر) ہم نے اوپر متعلقہ عورتوں کی چار قسمیں بیان کی تھیں ۔ دو کا حکم بیان ہوچکا۔ باقی دو کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے چونکہ اس آیت کا مضمون اوپر والی آیتوں کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے اس لئے ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں اور سب مطلقہ عورتیں کہا ہے کیونکہ پہلی آیتوں سے صرف اس عورت کے لئے جوڑے کا وجوب معلوم ہوا تھا جس کا مہر مقرر نہ ہوا ہو اور ہم بستری سے پہلے ہی اس کو طلاق دے دی ہو تو ایسی عورت کو کپڑوں کا ایک جوڑا دینا واجب تھا۔ باقی تین قسموں کا حکم اس آیت میں بیان فرمایا کہ ان کو بھی ایک ایک جوڑا دے دو تو اچھا ہے یعنی اگرچہ ان کو مہر مثل یا مہر مقرر یا مقرر کا نصف ملتا ہے پھر بھی ان کو ایک ایک جوڑا دے دو تو یہ مستحق ہے۔ قرآن کریم میں جو حقا ً لفظ آیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ استحبابی حق ہے وجوبی نہیں اور متاع سے مراد کپڑوں کا ایک جوڑا ہے اور معروف سے مراد وہی ایک کرتہ ایک لمبی چادر اور ایک سر بند اور اگر لفظ متاع ہے مراد مہر ہو تو اب معنی یہ ہوں گے کہ جس عورت کا مہر مقرر نہ تھا اور اس کو ہم بستری سے پہلے طلاق دی گئی اس کو تو صرف ایک جوڑا دینا واجب ہے باقی مطلقہ عورتوں کو مہردینا واجب ہے ۔ کسی کو پورا کسی کو نصف کسی کو مہر مثل کا پورا یہ سب صورتیں اوپر عرض کی جا چکی ہیں اور حضر ت شاہ صاحب (رح) نے بھی اپنے حاشیہ میں فرما دی ہیں ہاں اس تقریر پر جبکہ متاع کے معنی مہر کے ہوں تو حقا ً کے معنی وجوب کے ہوں گے اور یہ مطلب ہوگا کہ یہ مہر ادا کرنا مسلمانوں پر واجب ہے ، اب رہا جوڑے کا استحباب تو وہ دوسرے دلائل سے ثابت ہوگا ، ہم نے تیسیر میں دونوں معنی کا لحاظ رکھا ہے ، حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے خرچ فرمایا تھا یعنی جوڑا اس اطلاق پر کہ مہر نہ ٹھہرا ہوا اور ہاتھ نہ لگایا ہو ، یہاں سب پر حکم فرمایا ، سب طلاق والیوں کو جوڑا دینا بہتر ہے اور اس پہلی کو ضرور ہے ، حضرت شاہ صاحب (رح) نفقوں پر فرماتے ہیں ، یہاں حکم نکاح اور طلاق کے تمام ہوئے ( موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) نے جس پہلی کو ضرور فرمایا ہے وہ وہی ہے جس کا مہر نکاح کے وقت مقرر نہ کیا جائے اور ہم بستری سے قبل اس کو طلاق دے دی جائے ، باقی تین قسمیں وہی ہیں جو ہم اوپر عرض کرچکے ہیں یعنی مہر مقرر اور ہم بستری سے قبل طلاق ، اس صورت میں نصف مہر، مہر مقرر اور ہم بستری کے بعد اس صورت میں پورا مہر ، مہر مقرر نہیں اور ہم بستری کے بعد طلاق اس صورت میں مہر مثل کا پورا ، ان تینوں صورتوں میں مہر کے ساتھ جوڑا دینا مستحب ہے اور پہلی صورت میں واجب ہے یہاں تک طلاق اور نکاح وغیرہ کا حکم ختم ہوگیا۔ اب آگے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے اور خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب ہے جو اعمال خیر اور بر کی بہت اہم قسم ہے اور جس کی فرضیت کا اوپر ذکر بھی آچکا ہے اور اس ترغیب کے ساتھ امم سابقہ کی امتوں میں سے کسی گروہ کا ذکر بھی بطور تمہید فرمایا ہے۔ یہ تمہید بھی ہے اور ترغیب کے لئے معاون بھی ہے اسی طرح جہاد اور انفاق کی ترغیب کے بعد بھی طالوت اور جالوت کی جنگ کا ذکر فرمایا ہے ، جس سے ثابت قدمی اور میدان جنگ میں صبر کی ترغیب اور توکل علی اللہ کی تائید ہوتی ہے پھر جنگ کا تذکرہ کرنے کے بعد جنگ کا فلسفہ بیان فرمایا ہے۔ غرض دوسرے پارے کے ختم تک تمام مضامین ایسے باہم مربوط ہیں جن میں کسی ربط بیا ن کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ( تسہیل)